باطنی اصلاح کے تقاضے: مجاہدہ، ریاضت اور عشقِ مجازی کا علاج

انفاس عیسی: باب سوم، حصہ اول، (تہزیبات)

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

1. رذائل کی تدریجی اصلاح اور ان کا کنٹرول (اضمحلال

2. مجاہدہ، ریاضت اور رہبانیت میں فرق

3. مقاماتِ سلوک کی مسلسل اور تا حیات جدوجہد

4. دینی کاموں (تبلیغ و تدریس) کے ساتھ ذکر و اذکار کی ضرورت

5. حسنِ اخلاق کی حدود اور پیشہ ور مانگنے والوں کا تدارک

6. عشقِ ناجائز اور بدنگاہی کا روحانی و نفسیاتی علاج


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَمَّا بَعْدُ!

أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّجِيْمِ۔

آج بدھ کا دن ہے اور بدھ کے دن ہمارے ہاں بزرگوں کے ملفوظات کا درس ہوتا ہے۔ اور حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله عليه کے ملفوظات جو انفاسِ عیسیٰ کے نام سے چھپ گئے ہیں، اس میں بابِ سوم کا جو حصہِ اول ہے، جو رذائل کی اصلاح کے بارے میں ہے، وہ ان شاء اللہ بیان کیا جائے گا اور اس کی مناسب تشریح بھی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

رذیلہ کے اصلاح کی حد:

تہذیب: سالک کو چاہیے کہ رذائل کی اصلاح شیخ سے ایک ایک کی کرائے۔ جب ایک رذیلہ کی مقاومت پر پوری قدرت ہو جائے اور مادہ کا اضمحلال ہو جائے تو دوسرے رذیلہ کا علاج شروع کرے اور اس رذیلہ کے ازالہ کلی کا کبھی انتظار نہ کرے، کیونکہ یہ نا ممکن ہے، بلکہ اس مادہ کے وجود میں ہزارہا حکمتیں ہیں۔

رذائل کے فطری ہونے کی دلیل:

تہذیب: رذائل کے فطری ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بچوں کو بھی غصہ آتا ہے، اور محققّین کا قول ہے کہ ’’غضب‘‘ کبر سے پیدا ہوتا ہے، اور پھر غضب سے غیبت پیدا ہوتی ہے، جب بچوں میں غصہ ہے تو معلوم ہوا کہ ان میں کبر بھی ہے تو بچوں کے اندر ان امور کے ہونے سے معلوم ہوا کہ یہ امور فطری ہیں۔

رذیلہ کیا ہوتا ہے؟ رذیلہ، انسان کے نفس کے اندر جو دو چیزیں ہیں، کہ تقویٰ اور فجور کی طلب۔ تو تقویٰ اس کو تو پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور جو فجور کی طلب ہے اس کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ فجور کی طلب خود بخود ہوتی ہے۔ اور تقویٰ، اس کو ظاہر ہے جیسے کہ انسان کے دل کے اندر ایک تقاضا پیدا ہو جائے، ذکر اذکار سے، صحبت صالحین سے، کہ انسان پھر اللہ پاک سے ڈرنے لگے اور اللہ جل شانہٗ کی صفات میں غور کرنے لگے۔ تو وہ پھر تقویٰ کی کیفیت ہوتی ہے، اس کو پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اب حضرت اس کے بارے میں ضروری بات یہ فرماتے ہیں کہ رذیلہ کے اصلاح کی حد کیا ہے؟

تو فرمایا کہ: سالک کو چاہیے کہ رذائل کی اصلاح شیخ سے ایک ایک کی کرائے۔

مطلب یہ ہے کہ باری باری ایک ایک رذیلے کی اصلاح ہونی چاہیے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک کوئی ایک رذیلہ دب نہ جائے، اس وقت تک دوسرے رذیلے کی اصلاح کی کوشش کی جائے گی تو پہلا بھی ختم نہیں ہوگا، دوسرا بھی حاصل نہیں ہوگا۔ تو اس وجہ سے اس کی ایک ایک کر کے اصلاح کی کوشش کی جاتی ہے۔

فرمایا: جب ایک رذیلہ کی مقاومت پر پوری قدرت ہو جائے اور مادہ کا اضمحلال ہو جائے، تو پھر دوسرے رذیلہ کا علاج شروع کیا جائے۔ اور اس رذیلہ کے ازالۂ کلی کا کبھی انتظار نہ کرے کیونکہ یہ ناممکن ہے، بلکہ اس مادہ کے وجود میں ہزارہا حکمتیں ہیں۔

مادہ؛ کیا چیز ہے؟ مادہ انسان کے اندر وہ بنیادی طلب ہے اس رذیلے کی، اس کو "مادہ" کہتے ہیں۔ تو طلب کو تو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ طلب کو روکا جا سکتا ہے، دبایا جا سکتا ہے۔

مثلاً جیسے ہم لوگ بچوں میں دیکھتے ہیں چیزیں، تو وہ ان کے اندر موجود ہوتی ہیں۔ غصہ بھی ہوتا ہے، کھانے کا حرص بھی ہوتا ہے، چھیننے کا جذبہ بھی ہوتا ہے، مارنے کا، یہ سب چیزیں بچوں کے اندر ہوتی ہیں تو اس کا مطلب ہے یہ فطری چیزیں ہیں۔ لیکن اگر ان کے اوپر Control کیا جائے، ان کو دبایا جائے، تو دبنے سے یہ اس حد تک ہو جاتے ہیں کہ قابو میں آ جاتے ہیں۔ قابو میں آنے سے مراد یہ ہے کہ انسان کے Control سے وہ باہر نہیں ہوتے۔ اگر وہ Control کرنا چاہے تو Control کر سکتے ہیں۔

ہمارے انگریزی میں ایک لفظ ہے Flare۔ یعنی Flare جو ہوتا ہے مطلب یہ ہے کہ ایک چیز بالکل Control سے باہر ہو جاتا ہے مثلاً Infection ہے۔ جسم کے اندر وہ Flare کر جائے تو پھر وہ ڈاکٹر بے بس ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ پھر وہ بڑھتا جاتا ہے، جتنی دوائی اثر کرتی ہے اس سے زیادہ Infection اثر کرتا ہے۔ تو یہ Out of control والی بات ہوتی ہے۔ تو اس وجہ سے اگر خدانخواستہ Perversion سٹیج میں کوئی چلا جائے تو پھر وہ چیزیں تقریبا Control سے باہر ہو جاتی ہیں۔ تو ایسے لوگ پھر اہل حق کے پاس آتے ہی نہیں۔ اور ان سے ان کو نفرت ہوتی ہے اور ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ...

لیکن اگر ان میں خیر کا رخ موجود ہے تو اس کو استعمال کر کے ان رذائل کو نکیل ڈالی جا سکتی ہے۔ جو بھی ہے۔ چاہے وہ کسی قسم کا بھی رذیلہ ہے اس کی نکیل اس کو ڈالی جا سکتی ہے۔ تو بہرحال یہ جو بات میں عرض کر رہا تھا کہ انسان کو شیخ کے ساتھ اس کے لیے تعلق رکھنا چاہیے۔ جیسے بیماری کے لیے ڈاکٹر کے ساتھ تعلق رکھا جاتا ہے۔ شیخ ان کو بتائے گا کیا کرنا ہے۔ اور کس طریقے سے اس کام کو کرنا ہے۔ تو وہ اپنا حال بتائے گا اور یہ اس کا علاج بتائے گا۔ پھر وہ حال بتائے گا پھر علاج بتائے گا۔ ہوتے ہوتے آپس میں Interaction سے، جس وقت Control کی کنڈیشن میں آ جائے، تو پھر دوسرے رذیلے کی بھی اجازت دی جاتی ہے کہ اب اس کو شروع کر لو۔

مثال کے طور پر ایک شخص کے اندر مال کی حرص کا جذبہ ہے۔ تو مختلف طریقوں سے اس کو دبانے کی کوشش کی جائے گی۔ مثلاً؛ اس سے کہا جائے گا کہ خیرات کرو۔ اور جہاں پر وہ یعنی اس کا نفس غلط کام کرواتا ہے، اس کو روک دیا جائے گا۔ ان جگہوں میں جانے سے روکا جائے گا جہاں یہ چیزیں بڑھ سکتی ہیں۔ کچھ ذکر اذکار بھی بتائے گا، کچھ مجاہدات بتائے گا۔ اس طریقے سے ان کو روکنے کی کوشش کی جائے گی۔ جب روکنے کی کنٹرول مطلب اس میں limit میں آ جائے، تو اس کو ادھر چھوڑ کے اس کنٹرول limit میں، پھر دوسرے رذیلے کا علاج کیا جائے گا۔ جیسے انسان کے اندر ایک تو مال کی حرص ہے، اس طرح اچھے کھانوں کی حرص ہوتا ہے۔ وہ بھی Control ہو سکتا ہے۔ پھر دوسری چیزیں جو بری چیزیں ہوتی ہیں، ان سے بچنے کی بھی بات ہو سکتی ہے۔ تو اس طرح ہوتے ہوتے ایک Control کی صورت بن جائے گی اور یہی اصلاح ہوتی ہے۔ مکمل وہ چیزیں ختم ہو جائیں، یہ ناممکن ہے۔ مکمل یہ چیزیں ختم ہو جائیں یہ تو ناممکن ہے۔ کیونکہ وہ چیزیں اس کے اندر بہت حکمتیں ہیں۔ اس وجہ سے مکمل ختم ہو نہیں سکتیں۔

مثال کے طور پر شہوت کا مادہ بالکل ختم ہو گیا تو بتاؤ پھر، کیا شادی نہیں کریں گے؟ تو وہ مطلب ظاہر ہے ختم تو نہیں ہو سکتا۔ اس طریقے سے مال کی محبت بالکل ختم ہو جائے، تو مال کی حفاظت کیسے کرے گا؟ صحیح کام کے لیے بھی۔ تو ہر چیز کی اپنی ایک حد ہوتی ہے۔ تو اس حد پہ اس کو لایا جائے گا، بالکل اس چیز کو ختم نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ اس کے بالکل ختم ہونے میں کئی حکمتیں زائل ہونے کا اندیشہ ہے۔

زوالِ رذائل سے مقصود اضمحلال ہے:

مضمحل جس کو ہم کہتے ہیں نا، یعنی کمزور ہو جانا۔

تہذیب: زوال رذائل سے مقصود اضمحلال ہے اور اضمحلال کے معنی ہیں کہ مجاہدہ کے بعد ان اخلاقِ رذیلہ کی مقاومت میں پہلی جیسی مشقت نہ رہے۔ ورنہ مجاہدہ سے نہ حریص کی حرص زائل ہوتی ہے، نہ بخیل کا بخل، نہ متکبر کا کبر۔ ہاں! اضمحلال ہو جاتا ہے جس کا ثمرہ یہ ہے کہ ان کے مقتضا پر عمل نہ ہو، کیونکہ عمل اختیاری ہے۔ پس مقتضائے رذیلہ پر عمل نہ کرنا بھی بڑی کامیابی ہے اور مجاہدہ و ریاضت سے بھی سہل و آسان ہوجاتا ہے۔

سب سے بڑی بات، اگر کسی سے کوئی گناہ ہوتا ہے، اور اس گناہ پر اس کو توبہ کی توفیق ہوتی ہے، تو یہ بھی اصلاح کا ایک عظیم نظام ہے۔ کیونکہ ابتدا اس سے ہوتی ہے۔ توبہ ایک بہت بڑی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائی ہے۔ پس جب انسان توبہ کرتا ہے تو اس کے سارے گناہ ختم ہو جاتے ہیں۔ اللہ جل شانہ کے ہاں، حتی کہ ان کے اعمال نامے سے ہٹا دیے جاتے ہیں، فرشتوں کو بھلا دیے جاتے ہیں۔ اب ظاہر ہے وہ بالکل ان گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے۔

لیکن توبہ کرنے کا جو یہ ارادہ ہے یہ بھی اللہ پاک نصیب فرماتے ہیں ورنہ انسان مشکل سے ہی کر سکتا ہے۔ کیونکہ انسان کو شیطان بہت ڈھیل دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ابھی پھر بعد میں کر لینا، پھر بعد میں کر لینا، پھر بعد میں کر لینا۔ اسی میں اس کا ٹائم گزروا دیتا ہے۔ جو توبہ کرنے کے لیے تیار ہو گیا تو سمجھو کہ وہ اللہ پاک کا ولی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو قریب کرنا چاہتا ہے۔ تو توبہ بذات خود بہت بڑی نعمت ہے۔ تو جس کو بھی کسی بھی رذیلے کی وجہ سے گناہ ہوئے ہیں، ان گناہوں سے توبہ ہونے کی توفیق ہو جائے تو سمجھو کہ ابھی اللہ پاک نے اس کو اپنے سے دور نہیں فرمایا۔ اس کو قریب کرنا چاہتا ہے۔ اب صرف یہ والی بات ہے کہ مجاہدہ کر کے ان گناہوں سے بچا جائے، اور اگر مجاہدے سے نہیں بچ سکتے پھر ریاضت کریں۔

مجاہدہ اور ریاضت میں کیا فرق ہے؟ مجاہدہ ریاضت میں یہ فرق ہے کہ مثال کے طور پر آپ فرض نماز میں رکاوٹ ہے، مشکل ہے جی نماز کے لیے اٹھنا۔ تو اب مجاہدہ تو یہ ہے کہ چاہے جی بالکل نہ چاہے جانے کو لیکن پھر بھی اٹھ کے جائے، یہ مجاہدہ ہے۔ یہ مجاہدہ ہے۔ لیکن ریاضت یہ ہے، کہ اس سے کچھ زیادہ اس ڈائریکشن میں کیا جائے کہ یہ مجاہدہ اس کے لیے کچھ بھی نہ رہے۔ مثلاً ایک شخص کے لیے فجر نماز کے لیے اٹھنا مشکل ہے، وہ چالیس دن کے لیے تہجد پڑھ لے۔ کیا پھر فجر کی نماز اس کے لیے مشکل رہ جائے گی؟ اس سے زیادہ کا مطلب چونکہ وہ اس کو ہو گیا نا، تو اس کے بعد پھر اس سے کم پر کیا مشکل ہے اس کو؟ یہ ہے ریاضت۔

ریاضت ضروری نہیں کہ نفلوں کی صورت میں ہو۔ مثال کے طور پر ایک شخص ہے، وہ دو بجے رات کو اٹھتا ہے۔ اور وہ جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ بیٹھ کے مطلب دین کا کام کرتا ہے۔ تو اب اس سے بھی اس کو جلدی اٹھنے کا ہو جائے گا، اس کے لیے فجر کی نماز بھی آسان ہو گیا۔ اس طرح مثال کے طور پر بھوکا رہنا کوئی سیکھ لے۔ تو روزہ رکھنا آسان ہو گیا۔ بھوکا رہنا سیکھ لے۔ اس طریقے سے اگر کوئی آدمی جس کو کہتے ہیں جتنا مال ہے اس کے پاس وہ سارے کا سارا دے دے اللہ کے راستے میں۔ تو زکوٰۃ اس کے لیے آسان ہو جائے گا۔ زکوٰۃ تو پھر کچھ بھی نہیں ہو گی۔ کیونکہ زکوٰۃ میں تو تھوڑا سا حصہ دیتے ہیں نا۔ تو ریاضت میں اس سے بھی ذرا آگے بڑھتے ہیں۔

اسی چیز کو ہے جو کہ بعض لوگ نہیں جانتے۔ جس کی وجہ سے بعض لوگ اس طرح بات کر لیتے ہیں کہ یہ تو رہبانیت ہے۔ رہبانیت اور ریاضت میں ایک فرق ہے۔ رہبانیت میں اس کام کو ثواب کر کے کیا جاتا ہے، اپنے آپ کو اذیت دینا، یہ ان کے نزدیک اللہ پاک کو پسند ہے۔ تو یہ چونکہ مذہب کے اندر مداخلت کرنا ہے، لہذا یہ غلط ہے۔ لَا رَهْبَانِيَّةَ فِي الْإِسْلَامِ۔ اسلام کے اندر رہبانیت نہیں ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ لیکن ریاضت اس کو کہتے ہیں کہ بھئی آپ نے کرنا تو وہی ہے جو اللہ نے کہا ہے۔ اس کو Change نہیں کر رہے، لیکن اس کو آسان کرنے کے لیے آپ اس سے زیادہ محنت کرتے ہیں، مشقت کرتے ہیں تاکہ آپ کے لیے یہ آسان ہو جائے۔ تو یہ ڈائریکشن تو وہی ہے لیکن چیز وہی نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں آپ اس کو مقصود نہیں سمجھتے۔ بلکہ محض اس مقصود کو حاصل کرنے کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔

میں آپ کو مثال دیتا ہوں۔ ایک قاری صاحب ہے، وہ اپنی سانس کو بہتر کرتا ہے۔ سانس کو، تاکہ وہ لمبی سانس لے کے تلاوت کو بہت رواں انداز میں پڑھ سکے۔ ٹھیک ہے نا؟ اب اس کے لیے وہ ریاضت کرتا ہے۔ میں نے مثال ذرا شریفانہ دی ہے ورنہ یہ دوسری طرف چلی جاتی۔ اب اس کی ریاضت کرنے کے لیے وہ ڈینٹیں نکالتا ہے بیٹھکیں نکالتا ہے۔ سانس کو مضبوط کرنے کے لیے۔ کوئی قاری صاحب کو دیکھے، کہے بھئی یہ ڈینٹ نکال رہا ہے بیٹھکیں نکال رہا ہے۔ قاری صاحب آپ کو کیا ہو گیا؟ بس وہ کیا کرے جی بس وہ ذرا تھوڑا سا سانس کو بہتر کر رہا ہوں، کیونکہ ذرا مجھے رکاوٹ تھی سانس میں تو میں نے کہا کہ ذرا یہ بہتر ہو جائے۔ وہ آدمی کہتا ہے، ارے قاری صاحب پاگل ہو گیا۔ اب کہاں تلاوت اور کہاں ڈنٹیں؟ ڈنٹ نکالنے کی کیا تک ہے؟ لیکن جو اس فن کے جاننے والے ہیں، ان کے لیے تو بالکل آسان ہے اس کو سمجھنا، کوئی مشکل نہیں ہے۔ وہ کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر دیکھیں، یہ جو قاری حضرات ہوتے ہیں، یہ بعض چیزیں نہیں کھاتے۔ وہ کہتے ہیں بھئی کیوں نہیں کھاتے؟ کہتے ہیں اس سے گلا خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ گلا خراب ہونے کا۔ میں نے کہا کیا یہ حرام ہے؟ کہتے نہیں حرام تو نہیں۔ میں اس کو نہیں کھاتا کیونکہ میرے لیے ذرا پھر رکاوٹ بن جاتی ہے اب کیا کریں میرا کام ہی قراءت ہے۔ تو اگر میں یہ کھاؤں گا اور گلا خراب ہو گیا تو پھر تو کام نہیں ہو سکے گا۔

تو اب اس چیز کو اس لیے نہ کھانا کہ اس کو حرام سمجھا جائے، یہ رہبانیت ہے۔ اور اس چیز کو حرام نہیں سمجھنا لیکن اپنی قراءت کے لیے اس کو مفید سمجھنا کہ میں نہیں کھاؤں گا تو بچ جاؤں گا، یہ رہبانیت نہیں ہے، یہ ریاضت ہے۔ اور یہ ریاضت لوگ کرتے ہیں۔ یہ ہم تو ریاضت کہتے ہیں، یہ Music والے جو ہیں نا اس کو ریاض کہتے ہیں۔ کہتے ہیں وہ ریاض کر رہے ہیں۔ یہ مہدی حسن کے Article میں میں نے پڑھا تھا کہ ہزار بیٹھکیں روزانہ نکالتا تھا۔ ریاض کرنے کے لیے۔ تو اب دیکھ لیں وہ تو کرتے ہیں۔ ان کی تو دنیا داری تو ہے ہی، وہ تو دین والی بات تو نہیں ہے، وہ تو جو کچھ بھی کریں کریں۔ لیکن یہاں میں نے قاری کی قراءت کے اس میں عنوان میں بات کر لی۔

کہ اگر کوئی قراءت کے لیے اپنے سانس کو بڑھانا چاہتا ہے، تو یہی تو چیزیں کرنی پڑیں گی کیونکہ وہاں بھی سانس ہے یہاں بھی سانس ہے۔ اس طرح وہ لوگ بھی کچھ نہیں کھاتے۔ ہم جرمنی میں ہم ایک میونخ میں گئے تھے وہ جو ہٹلر کے زمانے کے Torture cell تھے اس کو دیکھنے کے لیے گئے تھے۔ تو وہاں پر ایک American singer بھی ہمارے ساتھ چل رہا تھا۔ وہ بڑا بے تکلف آدمی تھا۔ تو ان کے ساتھ ہم گپ شپ لگا رہے تھے۔ تو اس نے ایک کپڑا سا لپیٹا ہوا تھا ادھر گلے کے اردگرد۔ میں نے کہا یہ کیا چیز ہے؟ کہتے ہیں

This is my instrument

کہتے ہیں گلا میرا Instrument ہے۔

And I have to protect it from cold

کہتے ہیں اس کو میں نے سردی سے بچانا ہے ورنہ میرا گلا خراب ہو جائے گا تو پھر تو میں Singing نہیں کر سکوں گا۔

اب اگر کوئی آدمی یہ کہہ دے، کہتے ہیں یار یہ گلے کے آگے یہ جو ہے نا یہ پٹا ڈالنا، یہ کیا دین کا کوئی حصہ ہے؟ اگر کوئی قراءت کے لیے کرنا چاہے۔ تو کہیں گے نہیں حصہ تو نہیں ہے۔ تو پھر آپ کیوں کرتے ہیں؟ میرا گلا خراب ہو جائے گا، گلا خراب ہو گا تو کام نہیں ہو گا۔ بس یہی مثال آپ ذہن میں رکھیں۔ تو ان شاء اللہ بہت ساری باتیں Clear ہو جائیں گی۔ پھر ریاضت اور رہبانیت کے اندر فرق واضح ہو جائے گا۔ بہت سارے لوگ بیچارے ان چیزوں میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ اور خوامخواہ ایک اچھی چیز سے رکے ہوئے ہیں۔ کیوں؟ اس کی وجہ ہے کہ ان کو ان چیزوں کی Clarification نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح علم عطا فرما رہے ہیں۔


ریاضت و مجاہدہ کا فرق:

تہذیب: ایک درجہ تو ہے تقاضائے معصیت کا، اس کی مخالفت کرنا تو مجاہدہ ہے اور ایک اس تقاضے کا منشا ہے ’’خُلقِ رذیل‘‘ اس کے ازالہ بمعنی اضمحلال کو ریاضت کہتے ہیں۔

یعنی اچھی طرح اس کی محنت کر کے اس کو اچھی طرح دبایا جائے۔


تجدیدِ معالجہ کی ضرورت:

تہذیب: مادّہ کا استیصال جب تک نہ ہو تجدیدِ معالجہ کی ضرورت رہے گی اور استیصال کی تدبیر نہیں۔ موسمی بخار کا نسخہ پینے کے بعد کیا پھر آئندہ فصل میں بخار نہ ہو گا، وہ کونسی تدبیر ہے کہ صفراء ہی پیدا نہ ہو، اور اگر ایسا کیا جائے گا تو بہت منافع جو خلطِ صفراء سے متعلق ہیں وہ فوت ہوجائیں گے، اسی طرح مادۂ شہوانی میں بہت منافع ہیں۔


جب تک یہ مادہ بالکل دب نہ جائے اس وقت تک معالجے کی ضرورت رہے گی۔ البتہ معالجے کی ضرورت ہر ایک کے لیے مختلف ہوگی۔ جس درجے میں کسی کو problem ہے اس درجے میں اس کا استیصال کیا جائے گا۔ اور اگر کوئی ٹھیک بھی ہو جائے پھر بھی اگر دوبارہ اس کو کسی وقت مرض اٹھ کے آ جائے گا تو پھر ظاہر ہے مطلب اس کو یعنی وہ کرنا پڑے گا۔ البتہ یہ والی بات ہے کہ ایک ہوتا ہے صحت کا بالکل نہ ہونا۔ اور ایک ہوتا ہے صحت کا ہو جانا لیکن پھر دوبارہ صحت کا کچھ دیر کے لیے بگڑ جانا۔ کچھ دیر کے لیے بگڑنا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہوتا کیونکہ صحت کے اندر چونکہ وہ مدافعت کی قوت ہوتی ہے انسان کے جسم میں۔ تو لہذا کچھ وہ مدافعتی نظام کام کر لیتا ہے، کچھ دوائی کام کر جاتی ہے تو جلدی ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اور اگر ایسا نہیں، بہت بیمار ہو تو ان کا سارا معاملہ دوائیوں پہ چلتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جسم تو مدافعت کر ہی نہیں رہا۔ تو ایسی صورت میں علاج زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ اور پہلے case میں جب پہلی دفعہ ٹھیک ہو چکا ہو اور اچھی طرح صحت حاصل ہو چکی ہو، اب اگر کبھی گڑبڑ ہو گئی تو بس اس گڑبڑ کو cover کرنے کے لیے کچھ کر لے گا اور ٹھیک ہو جائے گا۔ ٹھیک ہے نا۔


تمام اخلاقِ رذیله کا علاج:

تہذیب: تمام اخلاق رذیلہ کا علاج تأمّل اور تحمّل ہے یعنی جو کام کرے سوچ کر کرے، شرعاً جائز ہے یا نہیں اور جلدی نہ کرے بلکہ تحمّل سے کیا کرے۔

مطلب یہ ہے کہ جب بھی کوئی کام کرے تو ذرا سوچے کہ اس میں میرا کوئی رذیلہ تو involve نہیں ہے۔ اور اگر ہے تو تحمل کرے، اس کو روک دے۔ جب clear signal مل جائے کہ نہیں، مسئلہ نہیں ہے، تو پھر کر لے ورنہ نہ کرے۔


اصلاحِ اعمال و باطن کا طریقہ:

تہذیب: اعمال کی اصلاح اور باطن کی اصلاح کا طریقہ یہ ہے کہ نفس کے جذبات کی مخالفت کی جائے۔ اور اس کو مشقّت کا عادی بنایا جائے۔

یعنی اعمال کی اصلاح اور باطن کی اصلاح کا طریقہ یہ ہے کہ نفس کے جذبات کی مخالفت کی جائے اور اس کو مشقت کا عادی بنایا جائے۔ مشقت کا عادی بنانا۔ ظاہر ہے مشقت مختلف ہوتی ہے، مختلف چیزوں کے لیے مختلف مشقت ہوتی ہے۔ ذہنی کاموں کے لیے ذہنی مشقت ہوتی ہے۔ اور physical کاموں کے لیے physical مشقت ہوتی ہے۔

اور کام کچھ کرنے ہوتے ہیں اس سے نفس رکاوٹ ڈالتا ہے۔ اور کام کچھ نہ کرنے ہوتے ہیں اس کے لیے نفس للچاتا ہے۔ نماز میں حرکت کرنے کو جی چاہتا ہے آدمی کا، اس حرکت کو روکنا ہوتا ہے۔ اور روزے میں انسان کا کھانے کو جی چاہتا ہے، یعنی کچھ کرنے کو جی چاہتا ہے، اس، کچھ کرنے کو روکا جاتا ہے۔ یعنی وہ جو جذبات ہوتے ہیں نا اس طرح۔ اور زکوٰۃ میں انسان کا نہ دینے کو دل کرتا ہے۔ تو اس نہ دینے کو روکا جاتا ہے۔ یعنی ہر چیز کی اپنی ضد ہے۔ جس کو علاج بالضد کہتے ہیں۔ تو یہ علاج بالضد انسان کو کرنا پڑتا ہے۔ ٹھیک ہے نا۔ تو اس کے لیے یہ ہے کہ مادے کے اضمحلال تک اس کا علاج کرنا ہوتا ہے۔


مقاماتِ سلوک کی تعریف:

تہذیب: مقاماتِ سلوک سے مراد اعمال باطنیہ ہیں یعنی خوف و رجا، محبت و انس، توکل و رضا، شکر و صبر وغیرہ جن کی تحصیل کا شریعت نے امر کیا ہے اور ہر مسلمان خصوصاً سالک ہمیشہ ان کے طے کرنے میں مشغول ہے، کسی وقت توقّف نہیں ہوتا، یہ دنیا کا سفر نہیں کہ ایک حد پر ختم ہو جائے، بلکہ اس سفر کی کہیں انتہا نہیں۔ب


اعمال دو قسم کے ہیں: ظاہری، باطنی۔ اور جو اعمال کا جو repetition ہے وہ ہوتا رہتا ہے۔ مثلاً ایک نماز پڑھ لی، دوسری نماز کا وقت آ گیا، وہ فرض ہو گئی۔ اب وہ پڑھنی پڑے گی۔ ایک رمضان شریف کے روزے رکھے، دوسرا رمضان شریف آ گیا، وہ رکھنے پڑیں گے۔ ایک دفعہ زکوٰۃ دے دی، اب اگلا سال آ گیا پھر زکوٰۃ دینی پڑے گی اگر مالدار ہے۔ یہ تو ہے معاملات کی جو بات ہے۔ اب جو بھی معاملہ ہو گا اس کے اندر fair رہنا ہوگا۔ اب دل کی بات ہے، جب کبھی کوئی واقعہ ہو گیا جس میں صبر ضروری ہے، صبر کرنا پڑے گا۔ جس میں شکر ضروری ہے، شکر کرنا پڑے گا۔ جس میں تواضع ضروری ہے، تواضع اختیار کرنی پڑے گی۔ جس میں وہ اخلاص، اس میں اخلاص ہونا پڑے گا۔ یہ مسلسل اعمال تو ہمارے سامنے ہیں۔ اس میں ہمیں چھوٹ نہیں ہے۔ توقف نہیں ہے۔


کیا خیال ہے اگر انسان کسی چیز سے، بیسویں منزل سے گر رہا ہو، اور کسی چیز کو پکڑ لے، اور اس کے ذریعے سے بچ جائے، تو کتنی دیر کے لیے اپنے آپ کو آرام دے دے تاکہ مزید کچھ وہ آگے کر سکے کام؟ کتنا آرام کرنا ہوتا ہے اس میں؟ چلیں پانچ second تو آرام کر ہی لے نا۔ پانچ second آرام بھی نہیں، مسلسل اس کے اوپر اتنا tension ہے اتنا load ہے، اور وہ پانچ second بھی آرام نہ کرے؟ کیا کرے؟ ایک second بھی آرام نہیں کر سکتا۔ ٹھیک ہے نا؟ تو بس ہمارا بھی یہی معاملہ ہے۔ جب تک زندگی ہے، بے آرامی ہے۔ کام ہے، نظام ہے، چلنا ہے، کرنا ہے۔ رکنا ہے، بچنا ہے، کیا کیا کچھ ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو یہ تو چلتا رہے گا معاملہ۔ یہ تو چلتا رہے گا معاملہ۔ تھکنا نہیں ہے۔


مجھے بتاؤ دل ہمارا چل رہا ہے نا، کیا خیال ہے اس کو آرام کی ضرورت ہے؟ یار کمال ہے، ایک منٹ میں 72 دفعہ وہ چلتا ہے۔ آپ ذرا 72 دفعہ اچھل کے دکھائیں نا ایک منٹ میں۔ تو دل کو دیکھیں نا آپ، آپ دس دفعہ اچھلیں تو، آرام، اب ظاہر ہے کچھ نہ کچھ تھوڑی دیر کے لیے سستا لو پھر اس کے بعد کریں گے۔ تو دل مسلسل اچھل رہا ہے۔ اور آرام کی ضرورت ہی نہیں اس کو۔ کیا بات ہے؟ ڈاکٹر نہیں ہیں نا ورنہ آپ کو سمجھا دیتا کہ میں کیا بات کر رہا ہوں۔


حضرت دل کا جو نظام ہے، اللہ نے بنایا ایسا ہے کہ یہ اچھلتا رہتا ہے اور اس اچھلنے کے اندر ہی اس کی شکست و ریخت کا بندوبست بھی ہے۔ کہ یہ ساتھ ساتھ recover کرتا جاتا ہے۔ ظرافہ جو ہے نا ظرافہ، یہ عجیب جانور ہے۔ یہ بھی جب دوڑتا ہے نا، تو اس کے جو muscles ہیں، وہ دوڑنے کے ساتھ ساتھ set ہو رہے ہوتے ہیں۔ لہذا وہ تھکتا نہیں ہے۔ ہمارے muscles تو tension میں آ جاتے ہیں نا، لہذا وہ تھک جاتے ہیں۔ تو پھر relax کرنا پڑتا ہے۔ تو لیکن یہ ہے کہ ظرافہ کے muscles کچھ بالکل مختلف ہیں۔ تو یہ ہمارا دل، اس کا muscle بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ کہ یہ تھکتا نہیں ہے۔ بلکہ ساتھ ساتھ اس کی repair and maintenance اس کے ساتھ ساتھ ہی ہو رہی ہوتی ہے۔ یعنی یوں سمجھ لیں کہ مسلسل جو مشینیں چل رہی ہوں، تو اس کے اندر oiling ساتھ ساتھ ہی کرنی ہوتی ہے۔ اس میں آپ کو روکنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔


کیا خیال ہے، جہاز اڑ جائے وہ پنڈی سے، اور جدہ جا رہا ہو۔ تھوڑا سا راستے میں رکنا تو چاہیے نا؟ کہاں اتارے؟ کہاں روکے؟ تو اس کے لیے پھر نظام ہی ایسا بنایا ہوتا ہے۔ تو اب جو ہمارے سلوک کا مقام ہے نا، اس میں بھی اس قسم کی maintenance کا نظام ہوتا ہے۔ کہ اس میں رکنا نہیں ہوتا لیکن ساتھ ساتھ جو ہم لوگ ذکر و اذکار کرتے رہتے ہیں، صحبتِ صالحین میں جاتے ہیں، اس کی repair maintenance ہوتی رہتی ہے۔ repair اور maintenance ہوتی رہتی ہے۔


صبح walk میں ہم آ رہے تھے نا، تو ہمارے درمیان میں بات چلی تھی۔ کہ جماعت کے ساتھیوں کو ابھی تک یہ سمجھانے میں ہم قابل نہیں ہو سکے، کہ یہ جو ذکر و اذکار ہے، اس کی ہمیں ضرورت ہے۔ بہت سارے لوگ جماعت کے جو جانتے ہیں وہ تو جانتے ہیں نا، کہ جو ذکر و اذکار ہے یہ ہماری ضرورت ہے۔ وہ سمجھتے ہیں جب ہم گشت کرتے ہیں تو گشت سے اصلاح ہو جاتی ہے نا۔ گشت اس مقصد کے لیے ہے کہ بس اس سے اصلاح ہو جاتی ہے۔ تو گشت سے اصلاح نہیں ہوتی، گشت سے تو اصلاح خراب ہوتی ہے۔


اس کی مثال ایسی ہے، مثال کے طور پر گرم چیز ہے۔ اس کو آپ رکھ لیں ٹھنڈے environment میں۔ تو تھوڑی دیر کے بعد وہ ٹھنڈے environment میں تھوڑا سا گرم ہو جائے گا اور جو گرم چیز ہے وہ ٹھنڈی ہو جائے گی۔ وہ برابر ہو جائیں گے۔ برابر ہو جائیں گے۔ گویا کہ ٹھنڈی کو گرمی نے فائدہ دیا اور گرمی کو ٹھنڈی سے اثر لے کے، ٹھنڈی ہو گئی۔ ایک دوسرے کو متاثر کر لیا۔ یہ ہوتا ہے۔


اب گشت میں ہم جاتے ہیں لوگوں کے ساتھ ملنے۔ دین کے لیے ملتے ہیں، لیکن ان کے قلب کا ایک اثر ہوتا ہے۔ اب ہمارا قلب ان کو متاثر کرتا ہے، وہ ہمارے قلب کو متاثر کرتے ہیں۔ لہذا اگر ہم ذکر و اذکار کیے ہوئے ہوتے ہیں، تو ہم نے ان کو متاثر کیا اور وہ اچھے ہو گئے۔ اور وہ جو دنیا سے اٹھ کے آئے ہوتے ہیں انہوں نے ہمیں متاثر کر کے خراب کر دیا۔ تو جب ایک خاص وقت تک یہ ہو جاتا ہے، برابر جب ہو جاتا ہے، پھر دوبارہ محنت کر کے ذکر و اذکار کر کے، تمام چیزیں کر کے پھر دوبارہ اس دل کو اس حالت پہ لانا ہوتا ہے۔ ورنہ پھر یہ ہے کہ ایک وقت میں آ کر سر برابر ہو جائے گا معاملہ۔ کام خراب ہو جائے گا۔ وہ دنیا داری ہم میں، مختلف رنگ میں آ جائے گی۔ جو ان میں دنیا داری ہے وہ دنیا داری ہمارے اندر بھی آ جائے گی۔ بے شک وہ صورت اس طرح نہیں ہوگی جس طرح ان کی ہے، ہماری اپنی دنیا داری، ان کی اپنی دنیا داری ہے۔ لیکن دنیا داری آ جائے گی۔


تو اب یہ ہے کہ یہ جو ذکر و اذکار کی جو ضرورت ہے یہ اصلاح کی، دل کی حالت کو درست کرنے کا نظام ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے آپ کسی چیز کو گرم کرتے ہیں۔ اب گرم کرنے کے بعد آ کے، لوگوں میں مل گئے۔ تو لوگوں سے ماشاء اللہ لوگوں کو اس کا فائدہ ملنے لگا۔ اور لوگوں کے اثر کی وجہ سے اس کا اثر کم ہونے لگا، بلکہ بعض دفعہ پھر ختم ہو جاتا ہے۔ پھر دوبارہ انہیں ایسے ایسے کرنا پڑتا ہے۔ یہی حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ کے اس ملفوظ کا مطلب تھا۔ جنھوں نے فرمایا کہ، میں صلحاء کی جماعت کے ساتھ جب گشت کے لیے جاتا ہوں، جاتا ہوں، اس کے باوجود میرے دل پر لوگوں کے قلوب کا اثر ہو جاتا ہے۔ اس کو دور کرنے کے لیے میں رائے پور شریف جاتا ہوں، یا سہارنپور شریف جاتا ہوں، یا مسجد میں اعتکاف کرتا ہوں۔ اب دیکھ لو! کیا فرمایا حضرت نے؟ اب گشت پہ گئے تھے نا؟ تو گشت پہ گئے تھے تو پھر وہاں رائے پور شریف جانے کی کیا ضرورت تھی؟ سہارنپور شریف جانے کی کیا ضرورت تھی؟ وہ تو خانقاہیں تھیں۔ یا مسجد میں اعتکاف کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ بھئی گشت جیسا عمل کیا، دین کا بڑا عمل کیا۔ تو اس کے بعد کیا ضرورت تھی کوئی اور کام کرنے کی؟ یہ تو چھوٹے اعمال ہیں۔ یہ تو ندی نالے ہیں، وہ تو سمندر ہے۔ اب سمندر کو چھوڑ کے، ندی نالوں میں چلے گئے؟ یہ آج کل ان لوگوں نے وہ بنائی ہوئی ہے، کیا بولتے ہیں یعنی terminology بنائی ہوئی ہے۔ یہ تو ندی نالے ہیں، یہ تو کیا کچھ بھی نہیں۔ یہ کام سمندر ہے۔


خدا کے بندو، جو بھی ہے، کام سمندر ہے جو بھی ہے، چیز تو وہی دل کا معاملہ تو اس کے اندر ہے نا۔ قلب تو نہیں نکال سکتے۔ اور نفس کو تو نہیں نکال سکتے، نفس بھی ہو گا قلب بھی ہو گا۔ لہذا اس کے اوپر کام تو اس طرح ہی ہو گا۔ جس طریقے سے ہمارے اکابر نے کام کیا، اس طرح ہی کام ہو گا۔ یہ کام ان سے مختلف نہیں ہے۔ یہ کام سارا ہے۔ اس طرح مدرسے والے اگر اس سے غافل ہو جائیں، ان کے ساتھ بھی یہی ہو جائے گا۔ اگر جہاد والے اس سے غافل ہو جائیں ان کے ساتھ بھی ایسا ہو جائے گا۔ اگر جو سیاست والے ہیں وہ اگر ایسے ہو جائیں تو ان کے ساتھ بھی ایسا ہو جائے گا۔ وجہ کیا ہے؟ سب کو ضرورت ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کی۔ اللہ کے ساتھ تعلق نہیں ہوگا تو دنیا آ جائے گی دل میں۔ پھر دنیا کے لیے کام ہوگا۔ بے شک دین کی صورت میں ہوگا لیکن ہوگا دنیا کے لیے کام۔


مجھے بتائیں اگر کسی کو شوق ہو کہ میں شیخ الحدیث بن جاؤں، تو یہ دنیا ہے یا دین ہے؟ اب بظاہر تو دین ہے۔ اس طرح اگر کسی کو شوق ہو کہ میں امیر بن جاؤں، اسلم خالد صاحب، یہ دنیا ہے یا دین ہے؟

تو بس یہی چیزیں ہوتی ہیں نا۔ اب ان چیزوں کو دل سے نکالنا، یہ آسان تو نہیں ہے۔ اس کے لیے تو محنت کی ضرورت ہے۔ اور وہ محنت یہی ہے، اپنے دل پر محنت کرنا۔ اور یہ سارے کام ایک دوسرے کو support کرتے ہیں۔ یہ صرف روحانیت والی بات نہیں ہے، میں عرض کرتا ہوں کہ ہر کام دوسرے کو فائدہ پہنچاتا ہے، اور اس کا اپنا فائدہ ہے۔ مثلاً: اتنا علم کہ جس سے میں جو کام کر رہا ہوں، وہ صحیح شریعت کے مطابق ہو، یہ ہر شخص کے اوپر فرض ہے۔ چاہے وہ مدرسے میں ہے، چاہے باہر ہے۔ چاہے وہ خانقاہ میں ہے، چاہے وہ جہاد میں ہے، چاہے تبلیغ میں ہے۔ چاہے کسی بھی جگہ پر ہے، دینی کام میں، سیاست میں۔ وہ اتنا علم تو فرض ہے، وہ تو کرنا پڑے گا۔ تو مدرسوں کا role اتنا سب میں ہے۔ اس طرح ہوگا سب چیزوں کو اخلاص کے ساتھ کرایا جائے، یہ خانقاہوں کا role ہے، اور یہ سب میں ہے۔ اب دین کو پہنچانے کا جو جذبہ ہے پورے ملک دنیا میں، یہ تبلیغ کا کام ہے۔ تو یہ سب میں ہے۔ اب خانقاہ میں کوئی بیٹھا ہوگا اور وہ کہے گا بھائی یہ جو ہے نا یہ حق کی بات امریکہ پہنچ جائے، برطانیہ پہنچ جائے، ہر جگہ پہنچ جائے، تو یہ کیا چیز ہے؟ یہ تبلیغ ہے نا۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے یہ تبلیغ کا role بھی سب جگہ پر آ گیا۔ اس طرح سیاست، آپ جو بھی مثال کے طور مدرسہ کوئی چلا رہے ہیں، لیکن اس کو اچھی طرح چلانے کے لیے جو انتظامی صلاحیت ہے وہ کیا چیز ہے؟ سیاست ہے۔ اب سیاست میں صرف یہ تو نہیں کہ MNA بننا سیاست ہے، MPA بننا سیاست ہے۔ سیاست تو ہر جگہ گھسی ہوئی ہے۔ یعنی دین کی جو سیاست ہے۔


تو اس وجہ سے میں عرض کرتا رہتا ہوں کہ جو بھی دین کے جتنے شعبے ہیں، ہر ہر شعبے کو دوسرے شعبے کی ضرورت ہے۔ اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے قلب، دماغ، پھیپھڑے، آنتیں، گردے۔ یہ سب جو ہے نا، کیا خیال ہے گردوں کو دل کی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ اور دل کو گردوں کی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ پھیپھڑوں کو مثانے کی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ دماغ کی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ تو ہر ایک کو ہر ایک کی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ تو اس طرح ہر ہر دینی کام کے لیے دوسرے دینی کاموں کی ضرورت ہے۔


اس لیے کوئی دینی کام جو یہ دعویٰ کر لے کہ ہم ہی سب کچھ ہیں، وہی غلطی پر ہے۔ چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ جو بھی دینی کام یہ دعویٰ کر لے کہ ہم ٹھیک ہیں، ہم حق پر ہیں اور باقی غلطی پر ہیں، وہ غلطی پر ہے۔ وہی غلطی پر ہے۔ یہ خوارج کا راستہ ہے۔ یہ خوارج کا راستہ ہے۔ خوارج نے یہی کہا تھا، اور تباہ و برباد ہو گئے۔ دین سے نکل گئے۔ تو کبھی بھی اپنے آپ کو مکمل نہیں سمجھنا چاہیے۔


یہاں پر ہم جوڑوں میں کچھ مسنون اعمال کو سکھاتے ہیں نا۔ یہ کیا چیز ہے؟ سیکھنا سکھانا، فرضِ عین علم ہے نا۔ ضرورت ہے نا اس کی۔ یہ جو مختلف بیانات ہم کرتے ہیں یہ کیا چیز ہے؟ تبلیغ ہے نا، کہ نہیں اس کو تبلیغ سے نکال دو گے؟ یہ تبلیغ ہے۔ اس طریقے سے ظاہر ہے مطلب ہے کہ انتظام رکھنے کے لیے ہمیں کچھ فیصلے کرنے ہوتے ہیں آگے پیچھے کہ بھئی یہ کام ایسا ہونا چاہیے، یہ کام ایسا ہونا چاہیے۔ یہ سیاست ہے۔ اور خدانخواستہ اگر اغیار کا حملہ ہو جائے اور کسی چیز کو خراب کرنے کی کوشش کر لے اور اس کے سامنے ڈٹ کر اس کو ٹھیک کرنا، یہ جہاد ہے یا نہیں ہے؟ کیا خیال ہے یہاں اس خانقاہ پر حملہ ہو جائے تو آپ لوگ کیا کریں گے؟ ذکر میں مشغول ہو جائیں گے؟ اس وقت کیا کریں گے؟ بس تو جہاد ہے نا پھر۔ تو ہر ہر دین کا شعبہ، ہر ہر جگہ پر موجود ہونا چاہیے۔ ہر ہر دین کا شعبہ ہر جگہ پر موجود ہونا چاہیے۔ تب دین کا کام ہوگا۔ ورنہ پھر دین کا کام نہیں رہے گا۔ یہ بنیادی چیز ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔


کمال یہ ہے کہ سب مَلَکات کامل ہوں:

تہذیب: بعض مَلَکات کے کامل ہونے کا نام کمال نہیں، بلکہ کمال یہ ہے کہ سب مَلَکات کامل ہوں۔

ملکہ، ملکہ؛ کس چیز کو کہتے ہیں؟ کسی چیز کی practice اور اس کے اوپر control۔ یعنی اس کو اچھی طرح کرنے کا یعنی تجربہ ہو جائے۔ Experience۔ تو اس کو "ملکہ" کہتے ہیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں کہ لکھنے کا ملکہ فلاں کو بڑا حاصل ہے۔ یعنی وہ لکھتا ہے تو بہت زبردست ستھرا لکھتا ہے۔ یہ ملکہ۔ اور اس طریقے سے کوئی بولنے کا ملکہ کسی کو حاصل ہو جائے۔ کسی کو سننے کا ملکہ حاصل ہو جائے۔ کسی کو لکھنے کا ملکہ حاصل ہو جائے۔ تو یہ ساری چیزیں جو ہیں نا ملکات ہیں۔ تو فرمایا کہ بعض ملکات کے کامل ہونے کا نام کمال نہیں، بلکہ کمال یہ ہے کہ سب ملکات کامل ہوں۔


تمکین کا نام توسّط و اعتدال ہے:

تمکین، مکان سے ہے۔ اس کو ہم لوگ انگریزی کے لفظ سے اگر ملانا چاہیں تو یہ establish کا لفظ اس کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تمکین۔ تو جب کوئی چیز establish ہو جائے، یعنی ہر چیز اپنی اپنی جگہ settle ہو جائے۔ جہاں جہاں پر پڑنی ہے۔ تو ہم کہتے ہیں تمکین حاصل ہو گئی۔ جب تک وہ establish ہو رہا ہے تو اس وقت وہ تمکین نہیں، تلوین ہے۔ مثلاً یہ خانقاہ بن رہی تھی، تو یہ تلوین تھی۔ کہیں cement آ رہا ہے، کہیں بجری آ رہی ہے، کبھی tiles آ رہے ہیں، کبھی کیا ہو رہا ہے، کبھی کیا ہو رہا ہے۔ اور shape بن رہی تھی، لیکن بہرحال وہ سب چیزیں ہو رہی تھیں، تو یہ تلوین تھی۔ جب ساری چیزیں اپنی اپنی جگہ پر ہو گئیں اور یہ چیز establish ہو گئی تو ہم نے کہا اب خانقاہ بن گئی۔ تمکین حاصل ہو گئی۔


تو اس طریقے سے جب procedure میں انسان پڑا ہوتا ہے اصلاح کے، تو یہ تلوین ہوتی ہے۔ لیکن جب وہ اپنی جگہ پر جیسے ہونا چاہیے ہو جائے، تو اس کو ہم تمکین کہتے ہیں۔ اس کو ہم کیا کہتے ہیں؟ تمکین کہتے ہیں۔ حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے ایک دن فرمایا، کچھ میں نے اپنے احوال سنائے تھے اور لکھے تھے، تو حضرت نے فرمایا: یہ تلوین ہے۔ یہ تبدیلی ہوتی رہے گی، ہوتی رہے گی، یہاں تک کہ کسی ایک حال پر تم جم جاؤ گے۔ اور تمکین تجھے حاصل ہو جائے گی۔ یہ حضرت نے فرمایا۔


تو مقصد یہ ہے کہ انسان کو اپنے جس وقت یعنی وہ progress ہے، اس progress کو continue رکھنا ہوتا ہے۔ تلوین والی condition وہ چل رہا ہوتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد۔۔۔ اگر آپ کہتے ہیں بھئی مجھے تو تمکین چاہیے۔ اور تلوین تو آپ کو نہیں چاہیے۔ تو کیا خیال ہے؟ کیسا ہے آپ کا شوق؟ اس شوق کے بارے میں میں آپ کو بتاؤں ہمارے رشتہ داروں میں ایک بچہ تھا۔ فوت ہو گئے ہیں۔ اس نے اپنی والدہ سے کہا جب وہ بچہ تھا، کہتا ہے: "امی میں school نہیں پڑھوں گا، میں college پڑھوں گا۔"وہ ہنس پڑی کہ بچہ ہے نا بچے کو کیا تو واقعتاً بات تو صحیح ہے، شوق تو انسان کو ہوتا ہے جی یونیورسٹی کالج سے اچھی ہے اور کالج سکول سے اچھا ہے۔ لیکن کیا خیال ہے، بیسویں سیڑھی تو پہلی سیڑھی سے بہت اچھی ہے۔ تو چلو بیسویں سیڑھی پہ پہلے قدم رکھ لو۔ اگر رکھ سکتے ہو تو رکھ لو۔ کوئی میرے خیال میں غبارہ ایجاد کر کے کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ طریقہ کار نبھانا پڑتا ہے۔ پہلے ایک، پھر دوسرا، پھر تیسرا، پھر چوتھا، پھر پانچواں، چھٹا، ساتواں، یہ ساری چیزیں کرنی پڑتی ہیں۔ ذکر، اذکار، پہلا ذکر، دوسرا ذکر، تیسرا ذکر، چوتھا ذکر، پانچواں ذکر، چھٹا ذکر، پھر آگے، پھر آگے، پھر آگے۔۔۔ یہ سلسلے چلتے رہتے ہیں۔ بعض حضرات کہتے ہیں، "بھئی ایک ہی وقت میں سارے کیوں نہیں دیتے؟" ایک ہی وقت میں سارا کیوں نہیں دیتے؟ تو ایک ہی وقت میں پھر کیا خیال ہے وہ جو ڈاکٹر لوگ medicine دیتے ہیں، پانچ دن کی antibiotic، وہ دیتے ہیں۔ "چلو جی اکٹھا سارا مل کے کھا لو۔" کیا ہو جائے گا؟ حبیب صاحب؟ کیا ہو جائے گا؟ (پار ہو جائے گا) پار ہو جائے گا۔ ٹھیک ہے، بس یہاں پر بھی پار ہو سکتا ہے آدمی۔ یہاں پر بھی پار ہو سکتا ہے۔

ایک دفعہ ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے کوئی foreign جا رہے تھے، باہر ملک کسی جگہ جا رہے تھے۔ تو انہوں نے کہا حضرت سے کہ، حضرت! اللہ اللہ کرنے کی اجازت ہے؟ فرمایا: کہ ہاں۔ "ہاں" تو کہہ دیا، لیکن ابھی دروازے سے باہر نکلے تھے کہ دوبارہ بلایا، "واپس آؤ"۔ فرمایا بھئی درود شریف پڑھا کرو۔ درود شریف پڑھا کرو۔ تو جب وہ چلے گئے، کہتے ہیں اگر میں اس کو نہ روکتا تو ممکن تھا کہ یہ لیونا ہو جاتا۔ لیونا پشتو میں "مجنون" کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ کہ پاگل ہو جاتا، ہر چیز کی اپنی ایک حد ہوتی ہے۔ یہ body کے ساتھ کسی چیز کو ایڈجسٹ ہونا ہوتا ہے۔ جتنا آپ کی body کو سہارنے کی طاقت ہے، اتنا بوجھ اس کے اوپر ڈالا جا سکتا ہے۔

میں نے پہلی دفعہ جب exercise کی تو 20 دفعہ میں نے، وہ جو exercise میں کرتا ہوں، 20 دفعہ کیے تو میری جو Pulse ہے وہ 130 تک پہنچ گئی، 130 تک۔ اس کے بعد خطرہ ہے، کیوں 150 سے تو خطرہ شروع ہو جاتا ہے۔ تو میں نے مطلب 20 پر ہی رکھا۔


پھر اس کے بعد، کچھ عرصے کے بعد میں نے 30 کر دیا، پھر بھی کچھ 130 کے لگ بھگ۔ پھر میں نے کچھ اور بڑھایا 40 کر دیا، پھر بھی 130 تک۔ پھر 50 کر دیا پھر بھی 130۔ پھر میں نے 60 کر دیا پھر بھی 130، اور پھر میں نے 60 سے بڑھایا نہیں۔ تو 130، 120، 110، 100، اب 90، 95۔۔۔


بتاؤ میجر صاحب! یہ تو آپ کا فیلڈ ہے، کیوں ہوا اس طرح؟ مطلب یہ ہے کہ body ایڈجسٹ ہو گئی۔ body اس کے ساتھ ایڈجسٹ ہو گئی۔ یہ اگر میں پہلے ہی دن 60 کر لیتا نا، تو بس پار ہو جاتا۔ ٹھیک ہے نا؟


تو یہ چیز ہوتی ہے مطلب، ہر چیز کا اپنا ایک۔۔۔ تو یہ جو آپ اللہ اللہ کر رہے ہیں نا، تو یہ بھی اسی طرح ہے۔ ایک ہوتا ہے صرف زبان سے اللہ، اللہ، اللہ، normal جس میں ضرب اور جہر نہ ہو۔ تو وہ تو آپ بے شک لاکھوں کر لیں، اس سے کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن ایک جو مخصوص طریقے سے ذکر کیا جاتا ہے،اَللّٰهُ،

اَللّٰهُ، اَللّٰهُ، اَللّٰهُ، اَللّٰهُ، اَللّٰهُ، اَللّٰهُ، اَللّٰهُ، اَللّٰهُ

یہ دل کے muscle کو آپ چھیڑ رہے ہیں۔ دل کا muscle اس کے اوپر، وہ پڑ رہا ہے tension پڑ رہا ہے۔ اب نہ کریں تو اصلاح نہ ہو۔ کیونکہ اصلاح ہی ذکر ہے۔ یعنی دل کو آپ نے یہ چیز پہنچانی ہے۔ تو یہ اگر نہ ہو تو آپ کی اصلاح نہ ہو۔ اور اگر کرو تو اس پر اثر پڑتا ہے۔ دل پہ اثر پڑتا ہے۔ تو اب تھوڑے سے start لینا ہوتا ہے۔ تھوڑے سے start لینا ہوتا ہے۔ تھوڑا کروا دیا، اس کے ساتھ آپ کا دل عادی ہو گیا۔ پھر تھوڑا سا زیادہ کر لیا، پھر اس کے ساتھ دل عادی ہو گیا۔ پھر تھوڑا سا زیادہ کر لیا، پھر اس کے ساتھ دل عادی ہو گیا۔ پھر تھوڑا سا زیادہ کر لیا، اس کے ساتھ۔۔۔ اور سبحان اللہ ایسے لوگ بھی ہیں جو ایک لاکھ چوبیس ہزار مرتبہ بھی کر لیتے ہیں۔ تو پھر کر لیتے ہیں نا۔ لیکن وہ ایک دن میں تو نہیں ہوتا۔ ٹھیک ہے نا؟ تو یہ چیز، مطلب یہ ہے کہ ہر چیز کا اپنا ایک طریقہ ہوتا ہے، ایک اٹھان ہوتی ہے، ایک میدان ہے ہر چیز کا۔ تو لہٰذا مطلب، اسی وجہ سے اس کے ماہرین کے پاس جانا ہوتا ہے۔ اور ان کی مرضی کے مطابق کرنا ہوتا ہے۔



حسنِ اخلاق کی بھی ایک حد ہے:

تہذیب: حدیث میں ہے کہ جب تم سائل کو تین بار (عُذر سمجھا کر) جواب دے دو اور وہ پھر بھی نہ جائے، لپٹ کر جم ہی جائے (جس سے ایذا ہونے لگے) تو پھر اس کے جھڑک دینے میں کچھ ڈر نہیں، اس سے یہ معلوم ہوا کہ حسنِ اخلاق کی بھی ایک حد ہے اور بندہ اس کا مکلّف نہیں کہ اس حد سے آگے ایذا کا تحمّل کرے۔

یہ لوگ exploitation کرتے ہیں بعض دفعہ۔ exploitation سے مراد یہ ہے کہ ایک آدمی کی شرافت سے ناجائز فائدہ اٹھانا۔ اب مثال کے طور پر ایک آدمی آپ کو لپٹ ہی جائے کہ بھئی مجھے یہ چیز دو، اور وہ دینے کی نہ ہو۔ تو اب اس کو کہہ دیں بھئی خدا کے بندے یہ آپ کو دینے کی نہیں ہے۔ وہ پھر بھی نہ مانے، "نہیں جی مجھے دے دیں جی۔" پھر کہیں جی، "بھئی آپ کو نہیں دینا، دینے کی نہیں ہے یہ۔" پھر بھی وہ چڑھ جائے۔ پھر وہ اس طرح تین چار دفعہ جب آپ اس کو سمجھا دیں اور پھر بھی نہ مانے تو پھر بے شک جھڑک دیں۔ "چلے جاؤ!" اور اگر آپ کے پاس کچھ خادم وغیرہ ہوں تو کہیں "بھئی کان سے پکڑ کے نکال دو اس کو۔" اس کی وجہ یہ ہے کہ اس آدمی نے اپنا جو latitude تھا وہ ختم کر دیا۔


ایک دفعہ ایک صاحب آئے، ایک بزرگ تھے۔ اس کو لپٹ گئے۔ تو حضرت ان کو سمجھ رہے تھے کہ اب مذاق نہیں ہے۔ بعض لوگ انتظامی ذہن رکھتے ہیں۔ تو یہ تو مستحق نہیں ہے۔ تو اس نے ظاہر ہے وہی جذبہ exploit کرنے کے لیے کہا کہ: "حضرت وہ قرآن پاک میں جو ہے کہ: وہ جو ایثار کرتے ہیں، جب کہ خود وہ مطلب ہوتے ہیں، ضرورت ہوتی ہے، وہ لوگ کہاں چلے گئے؟" مطلب یہ ہے کہ آپ کیوں نہیں اس طرح، یعنی ایثار کیوں نہیں کرتے؟ تو حضرت نے جواب دیا: "وہ

لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا کے ساتھ چلے گئے۔" کہ وہ لوگوں کے ساتھ لپٹ کے مانگتے نہیں ہیں۔ قرآن میں تو اس کا بھی ذکر ہے نا۔ تو اب چونکہ تم لپٹ کے مانگ رہے ہو، تو وہ اب نہیں ہیں، مانگے والے اس طرح نہیں ہیں تو وہ دینے والے بھی چلے گئے۔ وہ جو پہلے تھے۔ تو یہ حد ہوتی ہے ہر چیز کی۔ مطلب طریقہ ہوتا ہے ہر چیز کا۔ تو اگر کوئی اس طرح صورتحال ہو جو مستحق نہ ہو، کیونکہ اگر آپ غیر مستحق کو دیں گے، تو آپ نے مستحق کا حصہ مار دیا۔ پھر وہ ظاہر ہے مستحق کے پاس نہیں جائے گا نا۔ تو آپ کو دینا ہے تو طریقے سے دینا ہے۔ اور مستحق تک پہنچانا ہے۔ اور جب مستحق تک پہنچانا ہے، تو پھر اس کی یہ بات ہے کسی سے روکیں گے، کسی کو دیں گے۔ انتظامی امر تو آئے گا۔ تو یہ والی بات ہے۔


اصل میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ یہ تقریباً، تقریباً یہ چیزیں professional ہو گئی ہیں۔ یعنی یہیں پر مسجد صدیقِ اکبر، جب ہم قریب رہتے تھے، تو ادھر ہم نے ایک گھر لے لیا تھا، چونکہ گھر ہمارا تعمیر ہو رہا تھا تو ہم نے گھر کرائے پہ لیا تھا۔ وہ ذرا مسجد صدیق اکبر سے فاصلے پہ تھا۔ تو دو آدمی آئے اور وہ ساتھ رسید book بھی ہے۔ وہ جی مسجد صدیقِ اکبر کے قاری صاحب نے کہا ہے جی پنکھوں کی ضرورت ہے، تو پیسے چاہئیں۔ اب میرا ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا۔ تو میں نے کہا، "بھئی یہ مشورے میں تو یہ بات نہیں آئی۔ یہ کس نے آپ کو بھیجا ہے؟" اب اس کو جو فوراً پتہ چلا کہ یہ تو غلط آدمی پہ چلے گئے ہم۔ کہنے لگا، "نہیں مدرسہ صدیقیہ۔" فوراً تبدیل کر دیا۔ مسجد صدیقِ اکبر سے مدرسہ صدیقیہ پہ چلے گئے۔ اب مدرسہ صدیقیہ کون سا ہے؟ وہ تو ظاہر ہے۔ بہرحال بچ گئے۔ کیونکہ میں نے تو ان کو پکڑنا تھا۔


اب ہوا یہ کہ غالباً مسجد صدیق اکبر کے قریب کسی کو کہا ہوگا۔ انہوں نے پکڑ لیا جی۔ انہوں نے پکڑ لیا، اور لے آئے جی۔ مسجد لے آئے۔ پکڑ کے لے آئے ان کو۔ کہ اس طرح پنکھوں کے لیے پیسے مانگ رہے تھے۔ قاری لطیف الرحمٰن صاحب، وہ ذرا ان چیزوں کے ماہر ہیں۔ تو ان کو کہا جی کمرے میں بٹھا دو۔ کمرے میں بٹھا کے دروازہ بند کر دیا۔ اور چٹخنی لگا دی۔ اور اس سے کہا، "اچھا! تم مسجد صدیق اکبر کے لیے چندہ مانگ رہے تھے؟" تو پھر تو منتوں پہ آ گئے۔ "معافی مانگیے۔" کہتے ہیں معافی نہیں مانگنی۔ وہ SHO فون کر دیا کہ اس طرح case ہے۔ کیا کریں؟ انہوں نے کہا جتنا مار سکتے ہو مارو۔ بس ان کو خون نہیں آنا چاہیے۔ باقی مارنے میں کمی نہ کرو۔ پھر انہوں نے مارنے کے لیے ظاہر ہے اس، کچھ لوگوں کی خدمات حاصل کر لیں۔ تو اچھی طرح ان کو مارا۔ اور پھر وہ جیسے ان کو جانے کا اذن ملا، تو اپنے جوتے بھی چھوڑ کے بھاگ گئے۔


اچھا یہ ایک واقعہ۔ دوسرا ایک صاحب ادھر مسجد میں آئے اور اعلان ہو گیا، جیسے اعلان کرتے ہیں لوگ، جیسے ابھی آج بھی ہوا۔ تو اعلان کر لیا، کہا جی، "میں اتنے عرصے کا مریض ہوں، یہ ہے، وہ ہے، فلاں، فلاں..." تو دوائیوں کی slip بھی ساتھ تھی۔ تو قاری صاحب تجربہ کار آدمی ہیں۔ تو انہوں نے کہا، "بھئی کیوں لوگوں سے مانگتے ہو؟ میں کسی ایک آدمی کو کہہ دوں، وہ سب آپ کو بہت کچھ دے دے گا۔ آپ آرام سے ادھر بیٹھ جائیں، میں پھر بات کروں گا۔" ان کو ادھر بٹھا دیا۔ جب بیٹھ گیا تو، پھر دروازے کو چٹخنی لگا دی۔ اس نے کہا، "جی حضرت کیا حال ہے آپ کا؟" اس نے فوراً کلمہ پڑھا: ایسے۔۔۔ ایسے۔۔۔ ایسے۔۔۔ ایسے۔۔۔ انہوں نے فوراً ایک گردن کے اوپر ایک زبردست زور دار لگا دی۔ کہتے ہیں، "صحیح بتاتے ہو یا نہیں بتاتے؟" تو اس نے کوئی acting کرنی تھی، جیسے مجھ پہ دورہ سا آنے لگا ہے نا۔ تو اس نے پکڑ کے زمین کے اوپر مار دیا۔ بس فوراً اس کا ختم ہو گیا۔ وہ جو دورہ تھا، وہ ختم ہو گیا۔ بس پھر اس کے بعد معافیاں۔ کہتے ہیں، "نہیں وہ ناک رگڑو۔" ناک رگڑ لیا۔ اچھا اب سارا کچھ کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ کیونکہ scheme ناکام ہو گئی تھی نا۔ تو یہ لوگ ایسے ہوتے ہیں۔


مطلب یہ ہے کہ یہ، اور اس نے کلمہ پڑھا تھا باقاعدہ، سب لوگوں کے سامنے کلمہ پڑھا: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ! میں ایسے ہی مجبور ہوں۔پھر مسجد کے اندر سب۔۔۔ اور بوڑھا آدمی تھا۔ یہ سارا کچھ اس نے کیا اور یہ ہمارے سامنے ساری صورتحال پھر ظاہر ہو گئی کہ fraud تھا سارا۔ تو آج کل یہ چیزیں بہت زیادہ ہو گئی ہیں۔ حرم میں بھی بہت مل جاتے ہیں۔ وہ عورتوں کو بھی ساتھ لیا ہوتا ہے اور پھر مانگتے ہیں جی ہم سے جیب کٹ گئی، یہ ہو گیا، وہ ہو گیا۔ جن کی واقعی جیب کٹ گئی ہوتی ہے ان کا معاملہ اور ہوتا ہے، ان کا پتہ چل جاتا ہے۔ لیکن جو اس قسم کے professional ہوتے ہیں نا تو ان کا بہت آسان test یہ ہے کہ وہ آپ کے پاس جس چہرے سے آتے ہیں نا، اور آپ اس کو انکار کر دیں۔ اور جب تک وہ دوسرے آدمی کے پاس جاتا ہے، درمیان میں اس کے چہرے کو note کر لیں۔ اگر اس کے چہرے میں فرق آ گیا تو fraud ہے۔ اور اگر اس کے چہرے میں فرق نہیں آیا، وہ اسی چہرے کے ساتھ آگے جا رہا ہے، تو پھر سمجھو کہ اس کے ساتھ مسئلہ ہے۔ کچھ میری بات سمجھ گئے یا نہیں سمجھے؟ کیونکہ جو professional ہوتے ہیں، یہ تو pose کر سکتے ہیں نا۔ بس فوراً کوئی acting مطلب وہ کر لیں گے۔ تو acting تو مسلسل نہیں ہو سکتی نا۔ acting تو تھوڑی دیر کے لیے ہوتی ہے۔ تو اب جب کسی کے سامنے آتے ہیں، acting۔ full acting۔ اور جس وقت وہ ہٹ کے دوسرے کے پاس جائے گا، تو درمیان میں relax کرتے ہیں۔ بس آپ relax، relaxing mode میں اس کو دیکھیں، پتہ چل جائے گا کہ بھائی یہ معاملہ تو یہ ہے، یہ تو fraud ہے۔تو اس وجہ سے یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے کیونکہ اگر آپ نے اہل کو پہنچانا ہے تو اہل تو..

ریاضت سے اصلاحِ اَخلاق کے معنی:

تہذیب: حدیث میں ہے کہ جب تم سنو کہ اپنی جگہ سے پہاڑ ٹل گیا تو تصدیق کر لو (جب کوئی دلیل مکذّب نہ ہو) اور جب تم کسی شخص کی نسبت سنو کہ اپنے اخلاق سے ہٹ گیا ہے تو تصدیق مت کرو (کیونکہ اس کا مکذّب موجود ہے اور وہ مکذّب یہ ہے کہ وہ پھر اسی حالت پر آ جائے گا جس پر پیدا کیا گیا ہے) اس سے معلوم ہوا کہ ریاضت سے اخلاقِ جبلیہ زائل نہیں ہوتے، ہاں! مضمحل ہو جاتے ہیں۔



یہ اصل میں اللہ پاک کا اپنا ایک نظام ہے۔ جو اللہ پاک نے جس condition پہ پیدا کیا اس condition کے مطابق اس کے ساتھ حساب ہوتا ہے۔ پس اگر کسی کے اندر کچھ ایسی جبلتیں ہیں جن کی وجہ سے نقصان ہوتا ہے اور وہ زیادہ ہیں۔ اور اس کو روکتا ہے، تو اس کو اجر زیادہ ملتا ہے۔ اور جس کے اندر کم ہیں، تو اس کا خطرہ کم ہے، لیکن اجر بھی کم ہے۔ اس کی مثال میں آپ کو دیتا ہوں کہ جیسے اہلِ پنجاب ہیں، اہلِ سرحد ہیں، اہلِ بلوچستان ہیں، اور اہلِ سندھ ہیں۔ ان کی اپنی اپنی عادتیں ہیں۔ موٹی موٹی۔ مطلب ویسے تو ظاہر ہے فرق ایک گھر میں دو بھائیوں کا بھی ہوتا ہے، ایک جیسے نہیں ہوتے۔ لیکن نہیں broadly speaking، جس کو ہم کہتے ہیں، کہ علاقوں کا فرق ہوتا ہے۔ خاندانوں کا فرق ہوتا ہے۔


اب ان علاقوں میں جوش ہے اور بے انتہا اپنے کاز کے لیے، پھر قربانی کا جذبہ اور یہ ساری چیزیں وہ ہیں۔ مہمان نوازی ہے۔ خلوص ہے۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ لیکن ان کے ساتھ اپنے مسائل بھی ہیں۔ ان کے مسائل بری چیزیں وہ اپنی مثلاً دشمنیاں ہیں۔ اور معمولی بات پر بہت اخیر تک چلے جانا۔ یہ باتیں بھی ہیں۔ تو اب balance اللہ پاک نے کیا ہوا ہے۔ کچھ اچھی چیزیں دی ہیں، کچھ بری چیزیں، اور اسی میں امتحان ہے۔ اس طرح پنجاب والوں میں بھی کچھ اچھی چیزیں ہیں، کچھ بری چیزیں ہیں۔ سندھ والوں میں بھی کچھ اچھی چیزیں ہیں، کچھ بری چیزیں ہیں۔ بلوچستان والوں میں بھی کچھ اچھی چیزیں ہیں، کچھ بری چیزیں ہیں۔ اور یہ ہر ایک کی اچھی اور بری چیزیں مختلف ہیں۔


مثلاً پنجاب والوں میں مصلحت زیادہ ہے۔ وہاں جوش زیادہ ہے۔ اب مصلحت کا بھی اگر صحیح استعمال کیا جائے، تو بہت فائدہ ہے۔ جوش کا بھی اگر صحیح استعمال کیا جائے تو بہت فائدہ ہے۔ جوش کو بھی غلط استعمال کیا جا سکتا ہے، مصلحت کو بھی غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تو ہر ایک کا امتحان الگ الگ ہے۔ ہر ایک کا پرچہ الگ الگ ہے۔ تو اب بے شک کسی کی کتنی ہی اصلاح کرو نا، وہ پٹھان ہی رہے گا۔ اگر پٹھان ہے۔ اور کسی کی کتنی اصلاح کرو، اگر پنجابی ہے تو پنجابی رہے گا۔ کسی کی کتنی اصلاح کرو نا وہ ہندوستانی، ہندوستانی رہے گا۔ کیوں؟ تبدیل ہو جائے گا؟


مولانا عزیر گل صاحب رحمۃ اللہ علیہ بہت بڑے بزرگ تھے، لیکن تھے پٹھان۔ ان کی طرف۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ بہت بڑے بزرگ تھے، لیکن تھے ہندوستانی۔ ٹھیک ہے؟ اس طرح اور حضرات اپنی اپنی جگہ پہ۔ بڑے بزرگ ہوں لیکن ان کی جبلتیں ختم نہیں کر سکتے آپ۔ مولانا عزیر گل صاحب رحمۃ اللہ علیہ ایک دفعہ شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ جا رہے تھے۔ ان کے خادم خاص تھے۔ ایک بہت بڑے بزرگ تھے سندھ کے۔ غالباً امروٹی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ بڑے جلالی بزرگ تھے۔ بڑے جلالی۔ شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے راستہ بھر ان کو نصیحتیں کیں، مولانا عزیر گل صاحب کو، کہ تو نے ٹھیک رہنا ہے، ہمیں خراب نہ کرو۔ مطلب یہ ہے کہ چونکہ وہ تھے نا حضرت تو وہی مزاج۔ تو پرواہ نہیں کرتے تھے کسی کی۔ تو انہوں نے کہا کہ وہ جگہ ایسی نہیں ہے، ہمیں خراب کر لو گے۔ ذرا دبا کے رہنا۔ اپنے آپ کو جلدی نہیں مچانی، یہ کرنا، وہ کرنا۔ اب عزیر گل صاحب نے کہا جی، بالکل ٹھیک، بالکل ٹھیک، بالکل ٹھیک ہے۔


اچھا ہو گئی بات۔ وہاں پہنچ گئے، تو حضرت شاہ امروٹی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا انہی کو، طالب علم! -اس وقت طالب علم تھے- -طالب علم، -مشکیزہ تھا نا- گھڑے کو بھر دو۔" تو انہوں نے گھڑا بھر دیا۔ تو انہوں نے کہا، "اور بھر دو۔" تو انہوں نے تھوڑا سا اور ڈالا۔ انہوں نے کہا، "اور بھر دو۔" تو بس دو تین دفعہ جب کہا، تو پورا مشکیزہ اس پر چھوڑ دیا۔


اب جو دیکھا، تو حضرت کا رنگ بالکل جلال سے سرخ، اور شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کا رنگ زرد، کہ جو ہونا تھا، وہ ہو گیا۔ اب کیا کیا جائے گا؟ اب پتہ نہیں کیا ہوگا۔ تھوڑی دیر کے بعد، حضرت کا جلال ٹھنڈا ہو گیا۔ بیٹھ گئے۔ سید ہو نا۔ اس لیے کرتے ہو اس طرح۔ کھل گیا حضرت کے اوپر، کشف ہو گیا جو بھی تھا، کہ سعید ہے۔ تو بس اپنا سارا جلال بیٹھ گیا۔ سید ہو نا، اس لیے اس طرح کرتے ہو۔ چلو ٹھیک ہے۔

بیٹھ گیا تو بچت ہو گئی۔ مقصد یہ ہے کہ یہ دیکھیں نا مزاج، مزاج تبدیل نہیں ہوا نا۔ مزاج وہی تھا۔ تو یہ جو ہے نا، یہ چیزیں، اس کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اور اس کو ختم کرنے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے۔ ہاں، کنٹرول کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ پٹھانیت کے اندر جو غلط باتیں ہیں، ان کو نہ ہونے دینا۔ اور جو اچھی باتیں ہیں، ان کو ختم نہ ہونے دینا۔ پنجابیت کے اندر جو اچھی باتیں ہیں، ان کو ختم نہ ہونے دینا اور جو غلط باتیں ہیں، ان کو دبانا۔ ہر ہر قوم کی اپنی اپنی اصلاح کے طریقے ہوتے ہیں۔ کیونکہ ہر ہر قوم کے مسائل اپنے اپنے ہوتے ہیں۔


لہٰذا یہ سب کو ایک لاٹھی سے ہانکنا، یہ اصلاح نہیں ہے۔ بعض school کے لڑکے ایسے ہوتے ہیں، کہ ان کے سامنے دوسرے لڑکے کو مارا جائے تو ان کو تین دن بخار ہوتا ہے۔ ایسے ہوتے ہیں۔ اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو مار مار کے مرغا بنایا جائے، school سے باہر نکلیں گے، وہ بالکل ویسے کے ویسے ہو گئے۔ کچھ بھی اثر نہیں ہوگا۔ اب کیا دونوں کو برابر کیا جا سکتا ہے؟ ہر شخص کا اپنا ایک طریقہ ہوگا نا۔ کسی کو relax کر کے آپ اس سے کام لیں گے۔ کسی کو tight کر کے اس سے کام لیں گے۔ کسی کو میٹھے بول سے، کسی کو تلخ بول سے، کسی کو تھپڑ سے، کسی کو عزت سے۔ مطلب ہر چیز، جو جس کے لیے جو مناسب ہو، اس طریقے سے کام کیا جائے گا، تو کام ہوگا۔ ورنہ نقصان ہوگا۔


جو پیار سے ٹھیک ہو سکتا ہے، اس کو دھونک سے ٹھیک نہ کرو۔ اور جو دھونک سے ٹھیک ہو سکتا ہے، اس کو پیار نہ کرو۔ یہ مختلف معاملہ ہے۔ تو اس وجہ سے یہ شعبہ جو ہے، یہ اچھا خاصا مشکل شعبہ ہے۔ اگر اللہ جل شانہ کی مدد نہ ہو اس میں، تو واقعتاً یہ کرنا بہت مشکل کام ہے، کہ ہر شخص کو اس طرح handle کرنا جس طریقے سے اس کو handle کرنا چاہیے۔ یہ آسان نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی مدد اس میں چاہیے۔


عشقِ ناجائز و بد نگاہی:

تہذیب: تحریر ذیل جواب ہے ایک مدرّس کے خط کا جس کو ایک طالب علم سے محبت ہو گئی تھی اور اس کو دیکھنے کا سخت تقاضا رہتا تھا، اور اس کے اسباق کو اپنے پاس سے الگ کرنا چاہتے تھے اور مہتممِ مدرسہ سے درخواست کرنا چاہتے ہیں کہ ضرورت بالا کی وجہ سے مدرسہ سے میرا ایک گھنٹہ کم کر دیا جائے۔

عشقِ ناجائز کا علاج:

جواب: پیشہ تو ٹھہرا تعلیم کا اور اس میں سابقہ ٹھہرا ہمیشہ اطفال سے اور اطفال غیر متناہی بمعنی ''لَا تَقِفُ عِنْدَ حَدٍّ'' سو اگر ایک کی تدبیر کر لی تو قطعٔ نظر دوسرے مفاسد کے جو اس تدبیر میں ہیں مثلاً اپنا اظہارِ حال غیر مربّی پر جس کی حدیث میں ممانعت آئی ہے کہ معاصی کے اظہار سے منع کیا گیا ہے اور مقدماتِ معاصی بھی ایسے احکام میں ملحق بالمعاصی ہیں، کیونکہ دوسرے شخص کو مقدمّات کے اعتراف سے فوراً ہی سوءِ ظن پیدا ہو جائے گا اور یہ بھی ایک حکمت ہے ’’نھی عن اظہار المعصیة‘‘ میں۔ البتہ مربّی و مُصلح اس سے مستثنیٰ ہے۔ جیسا کہ کشفِ عورت غیر طبیب کے سامنے حرام ہے اور طبیب کے سامنے جائز۔ ''وَ قُلْ مَنْ تَنَبَّہَ بِہٰذَا التَّفْصِیْلِ فِيْ مَعْنَی الْحَدِیْثِ'' اور ایقاع دوسرے کا اسی فتنہ میں، کیونکہ بہت دفعہ ایسا ہوا ہے کہ ایک شخص کسی کی محبت سے خالی الذہن ہے پھر کسی نے جب اپنی محبت کی اس کو اطلاع دی تو اس کو بھی التفات ہو گیا اس کے محاسن کی طرف۔ اور اس التفات سے وہ بھی اس فتنہ میں مبتلا ہو گیا تو یہ اظہار ہی سبب بنا دوسرے کے واقع فی الفتنہ کرنے کا، ''وَ التَّسَبُّبُ لِلْمَعْصِیَّۃِ بِدُوْنِ الضَّرُوْرَةِ مَعْصِیَّةٌ'' اور مثلاً محبوب کو رسوا کرنا کہ خود اس کی بھی ممانعت ہے، ''مَنْ عَشِقَ فَعَفَّ فَکَتَمَ فَمَاتَ فَھُوَ شَھِیْدٌ''،(احیاء علوم الدین:105/3) گو یہ حدیث متکَلّم فیہ بھی ہے، لیکن دوسرے قواعدِ شرعیہ اس ممانعت کے لیے کافی ہیں کہ کسی کو رُسوا کرنا ظاہر ہے کہ جائز نہیں۔ بہرحال اس میں اس قسم کے مفاسد ہیں، مگر ان مفاسد سے قطعٔ نظر بھی کر لی جائے تو ایک کے لیے تو یہ تدبیر کر لی اور اگر بِلا اختیار بقیّہ میں سے کسی دوسرے کے ساتھ ایسا ہی تعلّق ہو گیا، کیونکہ قلب پر تو اختیار نہیں تو اس کے لیے بھی کیا یہی تدبیر کرو گے؟ اور اگر تیسرے کے ساتھ یہی قصہ ہوا تو کیا ہو گا، کیا سارے متعلمین کو حذف کر دو گے؟ پھر تعلیم کس کو دو گے؟ ہاں! ایسے شخص کو خود پیشہ معلمی ہی کا ترک کرنا اگر ممکن ہو (بشرطیکہ اس میں کوئی مصلحتِ ضروریہ فوت نہ ہو جس کا فیصلہ اپنے مُصلح کے مشورے سے ہو سکتا ہے) تو یہ سب سے اسلم ہے، لیکن اسی سے ملابست رکھتے ہوئے تو یہ تدبیر عام نہیں ہو سکتی ہے۔ اس لیے قاعدۂ رائضین سے کام لینا چاہیے کہ گھوڑا جس چیز سے چمکتا ہو اس سے دور کرنے کا اہتمام نہیں کرتے کہ ہمیشہ کی مصیبت ہے، بلکہ اس چیز کے سامنے آنے اور دیکھنے کا خوگر کرتے ہیں یہاں تک کہ چمک نکل جاتی ہے۔ اسی طرح تم بھی پڑھاؤ اور معصیت سے بچو، مثلًا اپنی طرف سے بقصدِ التذاذ کلام کرنا۔ ہاں! عام خطاب سبق میں مُضر نہیں۔ اسی طرح اس کے سوال کا جواب بقدرِ ضرورت وہ بھی مُضر نہیں۔ اور مثلًا اس کی طرف نظر کرنا، باقی میلان و رجحان بلا اختیار اس طرف ہو تو وہ معصیت نہیں، بلکہ اس کے مقتضا پر عمل کرنے سے نفس کو روکنا ’’مجاہدہ‘‘ ہے اور اصلاحِ نفس میں مُعین اور نفس کی تمرین۔

شہوتِ دنیا مثالِ گلخن است

کہ از و حمامِ تقویٰ روشن است

سو یہ امرِ اختیاری مضر نہیں، لیکن بعض اوقات مُبتلا کی کم ہمتی ہے یہ بھی مفضی اِلَی المعصیت ہو جاتا ہے اور بعض اوقات گو مفضی اِلَی المعصیت نہیں ہوتا، مگر مفضی الی المرض الجسمانی ہو جاتا ہے اس لیے اس کا بھی تدارک کرنا اصلح ہے۔ وہ تدارک یہ ہے کہ جب اس کی طرف کیفیّتِ رُجحان کا غلبہ ہو فوراً یہ امر مستحضر کر لیا جائے کہ جب یہ شخص مرے گا، آب و تاب تو فوراً ہی سلب ہو جائے گی تو اس وقت کی آب و تاب محض عارضی و رعایتی و نا پائیدار ہے، اس قابل نہیں کہ اس کی طرف التفات کیا جائے، پھر جب قبر میں رکھیں گے دو چار روز ہی میں تمام لاش پھٹ کر اس میں پیپ اور کیڑے پڑ جائیں گے اور جب ایک حالت ہونے والی ہے اس کا اعتبار اور اس سے اثر لینا بھی ضروری ہے۔ جیسے عاقل آدمی جب کسی جرم کا ارادہ کرتا ہے تو یہ سوچ کر کہ انجام اس کا جیل خانہ ہے اور اگر وہ اس وقت نہیں، مگر ابھی سے اس کو کالواقع و الحاضر سمجھ لیتا ہے اور اس جرم سے باز آتا ہے اس بناء پر اس حالتِ کائنہ آجِلہ کو بھی پیشِ نظر کر لے۔ گویا اس کی لاش ابھی سڑ گئی، گل گئی، اس میں ابھی کیڑے پڑ گئے۔ اس نقشہ کو اس کے لیے ابھی سے تصوّر کر لیا کرے۔ ان شاء اللہ چند ہی روز میں کشش و بے تابی دور ہو جائے گی۔

دوسری طرف ذکر میں تصوّر کرے کہ یہ سب غیرُ اللہ دل سے نکل گئے، اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کی محبت دل کے اندر جا گزیں رہے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اس امرِ غیر اخیتاری سے بھی نجات ہو جائے گی، اور بی بی سے تعلّق بڑھانا اس کا مُعین ہو گا۔ ''فَعَلَیْکَ بِہٖ وَاللہُ الْمُوَفِّقُ''۔ اور یہ امر بھی قابلِ تنبیہ ہے کہ اگر بالفرض اس امرِ غیر اختیاری سے نجات میں توقّف ہو تو گھبرائیں نہیں۔ کیونکہ یہ مقصود نہیں تبرّعاً لکھ دیا۔ اصل مقصود ہی معاصی سے بتفصیلِ بالا بچنا ہے جو کہ اختیار میں ہے، گو توقّف ثمرہ مذکور سے جسم یا نفس کو تکلیف ہو تو اس تکلیف کو برداشت کرنا چاہئے۔


بڑی تفصیل سے ایک بات بیان فرمائی۔ اگر خدانخواستہ کسی کو کسی بچے کے ساتھ یا بچی کے ساتھ عشق ہو جائے اور وہ جائز نہ ہو۔ جائز نہ ہو سے مراد یہ ہے کہ بچے کے ساتھ تو ناجائز ہے ہی۔ لیکن بچی کے ساتھ ناجائز اس صورت میں کہ اس کے ساتھ شادی نہ ہو سکتی ہو۔ کیونکہ بعض دفعہ شادی ہو سکتی ہے نا جیسے تو اس صورت میں تو شادی کرنی چاہیے اگر ممکن ہو۔ لیکن اگر وہ شادی نہ ہو سکتی ہو، مثلاً وہ پہلے سے منکوحہ ہو۔ تو ایسی صورت میں پھر یہ بچے اور وہ برابر ہو جاتے ہیں۔


تو ایسی صورت میں حضرت نے فرمایا کہ اب ان کا شعبہ ہے پڑھانے کا۔ اور پڑھانے میں ان کے ساتھ واسطہ ہے۔ اور واسطہ جب ہے تو ظاہر ہے ایک کو اگر ہٹائیں گے تو دوسرا، دوسرے کو ہٹائیں گے تو تیسرا۔ یہ مسئلہ تو اس طرح حل نہیں ہوگا۔ تو اس لیے فرمایا کہ ایک طریقہ یہ ہے کہ جیسے گھوڑوں کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ گھوڑا جس چیز سے چمکتا ہے تو اس کو بار بار سامنے لایا جاتا ہے تاکہ اس کی چمک دور ہو جائے۔ پھر اس کا عادی ہو جاتا ہے۔ یہ میرے خیال میں آج کل جو ہمارے نفسیاتی ماہرین ہیں، وہ بھی اس طریقے کو استعمال کرتے ہیں۔ کہ جس چیز سے ڈرتا ہو کوئی، phobia کا مرض جیسے ہوتا ہے۔ بعض نفسیاتی امراض میں انسان کو کسی چیز سے ڈر ہوتا ہے۔ تو اس کو پھر مختلف controlled condition میں، ان چیزوں کے سامنے لایا جاتا ہے۔ تو وہ آہستہ آہستہ آہستہ وہ اس کے ساتھ اتنے used to ہو جاتے ہیں کہ ان کا ڈر نکل جاتا ہے۔


تو اس طریقے سے یہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اور فرمایا کہ اس میں بس یہی بات ہے کہ مجاہدہ ہوتا ہے۔ یعنی انسان کا بات کرنے کو جی چاہے لیکن نہ بات کرے۔ غیر ضروری بات نہ کرے۔ غیر ضروری سے مراد یہ ہے کہ اس کا study سے تعلق نہ ہو۔ اور بلا ضرورت ملنے کی بھی کوشش نہ کرے۔ تو وہ چیز سامنے ہو لیکن اس کے تقاضے پہ عمل نہ کرے۔ تو آہستہ آہستہ وہ دبتے دبتے دبتے، controlled limit میں آ جائے گا۔ پھر انسان ہوگا ادھر ہی لیکن پرواہ نہیں ہوگی کیونکہ controlled limit میں آ جائے گا۔ اور یہی اس کا علاج ہے۔ تو اس طریقے سے ان شاء اللہ العزیز کام ہو سکتا ہے۔


میرے خیال میں کافی ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔






2 مناسب عنوانات


عنوان 1: تزکیہ نفس اور اخلاقِ رذیلہ کا تدریجی و روحانی علاج

عنوان 2: باطنی اصلاح کے تقاضے: مجاہدہ، ریاضت اور عشقِ مجازی کا علاج


اہم موضوعات:


1. رذائل کی تدریجی اصلاح اور ان کا کنٹرول (اضمحلال

2. مجاہدہ، ریاضت اور رہبانیت میں فرق

3. مقاماتِ سلوک کی مسلسل اور تا حیات جدوجہد

4. دینی کاموں (تبلیغ و تدریس) کے ساتھ ذکر و اذکار کی ضرورت

5. حسنِ اخلاق کی حدود اور پیشہ ور مانگنے والوں کا تدارک

6. عشقِ ناجائز اور بدنگاہی کا روحانی و نفسیاتی علاج




باطنی اصلاح کے تقاضے: مجاہدہ، ریاضت اور عشقِ مجازی کا علاج - انفاسِ عیسیٰ - پہلا دور