امراضِ باطن کی اصلاح: عجب، ریا اور فریبِ بزرگی کی حقیقت و علاج
کتاب: انفاس عیسی، (عجب تا ترکِ عبادت میں تکبر اور ریا کی صورت(
- عجب کا بنیادی مطلب اپنے کسی نیک عمل کو اپنا کمال سمجھنا ہے، جبکہ حقیقت میں ہر نیکی محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور عطا ہوتی ہے۔
- اپنے اعمال پر ناز کرنے اور خود کو بزرگ سمجھنے سے انسان تکبر میں مبتلا ہوتا ہے جو سخت باطنی نقصان کا باعث ہے۔
- اعمالِ صالحہ پر استحقاقِ اجر کا دعویٰ کرنے کے بجائے نیک عمل کی توفیق ملنے پر سراپا شکر گزار ہونا چاہیے۔
- اپنے اعمال کو کمال سمجھ کر کسی گناہ گار کو حقیر جاننا خطرناک ہے، کیونکہ اللہ اسے توبہ کی توفیق دے کر بلند کر سکتا ہے۔
- لوگوں کی طرف سے کی جانے والی تعریف محض ان کا حسنِ ظن ہوتی ہے، اسے اپنی حقیقت سمجھ کر دھوکے کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
- نیک عمل کے تذکرے پر اپنی فضیلت محسوس کرنا کبر ہے، اور اسے اللہ کا احسان سمجھ کر خود کو مستحق نہ جاننا شکر ہے۔
- اپنے اعمال پر نظر رکھنے سے انسان کا اللہ پر توکل کمزور پڑتا ہے جو نسبت مع اللہ کے منافی ہے۔
- عبادت کے دوران اگر ریا کا وسوسہ پیدا ہو جائے تو عمل ترک کرنے کے بجائے اس خیال کو برا سمجھ کر اپنا معمول جاری رکھنا چاہیے۔
- ریا کی حقیقت یہ ہے کہ عبادت کا اظہار کسی دنیاوی غرض اور مخلوق کو دکھانے کے لیے کیا جائے۔
- مخلوق کے سامنے دکھاوے کو برقرار رکھنے کے لیے تنہائی میں جان بوجھ کر لمبی عبادت کرنا درحقیقت اللہ کے ساتھ ریا کاری ہے۔
- بزرگی کی طلب نفس کا ایک دھوکہ اور جال ہے، حقیقی بزرگ وہی ہے جو خود کو ہیچ اور مٹا ہوا سمجھے۔
- سالک کا اصل مقصود شہرت، واہ واہ یا بزرگی کا حصول نہیں، بلکہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا اور قرب ہونا چاہیے۔
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ: فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
آج بدھ کا دن ہے اور بدھ کے دن ہمارے ہاں ملفوظات شریف کا درس ہوتا ہے۔ آج ان شاء اللہ عجب کے بارے میں کچھ باتیں ہوں گی۔
عجب
عجب کہتے ہیں اپنے کسی عمل کو اچھا سمجھنا۔ تو ایک تو ہوتا ہے اچھا سمجھنا اس لحاظ سے کہ اللہ پاک کی طرف سے اس کو اچھا کہا گیا ہے، مثلاً: نماز ایک اچھا عمل ہے، تو اس لحاظ سے تو ہر مومن کو اس کو اچھا کہنا پڑے گا کیونکہ اللہ پاک نے اس کو اچھا کہا ہے۔ ایک میری نماز اچھی ہے، میں نے جو نماز پڑھی ہے وہ اچھی ہے۔ یہ پھر اگر میں اس کو اچھا سمجھنے لگوں گا تو پھر کیا ہے؟ یہ عجب ہے۔ کیونکہ عجب کی جو انتہا ہے وہ ناز کے ساتھ لگی ہوئی ہے، پھر انسان ناز کرنے لگتا ہے، اپنے آپ کو بزرگ سمجھنے لگتا ہے، یہ بزرگی انسان میں آ جاتی ہے، یہ اصل میں عجب کا اثر ہوتا ہے۔
تو اگر اس کو ابتدائی سے پکڑا جائے تو پھر کافی فائدہ ہوتا ہے، آسانی ہو جاتی ہے اس سے بچنے میں۔
ہر عمل میں دو حیثیت ہیں:
تہذیب: عمل میں دو حثییت ہیں: ایک اپنا کمال، اس اعتبار سے (یعنی اپنا کمال سمجھ کر) اس پر نظر نہ کرنا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ یہ خدا کی رحمت ہے، اس اعتبار سے اس پر مسرت مامور بہ ہے: ﴿قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا...﴾ (يونس: 58)
مطلب یہ ہے کہ اس کو اللہ پاک کا عطیہ سمجھ کر، اللہ جل شأنہ کا فضل سمجھ کر اس پر شکر کرنا کہ اے اللہ میں تو اس قابل نہیں تھا لیکن تو نے اس کی ایک توفیق عطا فرمائی، تو اس لحاظ سے یہ شکر ایک اور عمل بھی اس کے ساتھ ہو گیا، اچھا عمل۔ لیکن یہ بات ہے کہ اس کو خود مطلب یہ ہے کہ اس طرح سمجھنا کہ میں نے اس کو اچھا کر لیا ہے، یعنی اپنے نفس کی طرف اس کی نسبت کر لی۔ تو پھر یہ گڑبڑ ہے، پھر مسئلہ ہے۔ جس کی وجہ سے پھر نقصان ہونے لگتا ہے۔ جب تک انسان اس کو اللہ پاک کا فضل سمجھتا ہے تو وہ ٹھیک ہے۔
آج کل یہ ایک بیماری بہت عام ہے کہ سمجھتے تو ہیں اس کو اپنا عمل، یعنی اپنا کمال سمجھتے ہیں، لیکن زبان سے کہتے ہیں بس جی اللہ کا بڑا فضل ہے جی۔ اللہ کا بڑا احسان ہے۔ اللہ کا بڑا کرم ہے۔ یہ مطلب ایسا ہوتا ہے۔ تو یہ پھر ظاہر ہے معاملہ چونکہ اللہ کے ساتھ ہے، اللہ پاک تو دلوں کے حال کو جانتا ہے۔ تو اگر اس کو اپنے اوپر نظر کر کے کہہ رہا ہے تو پھر تو بہت مصیبت ہے۔ اور اگر اس کو اللہ پاک کا واقعی فضل سمجھ رہا ہے، کیونکہ جب اس کو اللہ پاک کا فضل سمجھے گا تو بزرگی کا شائبہ بھی نہیں آئے گا۔ بزرگی کیا، جو اللہ پاک دے سکتا ہے وہ لے بھی سکتا ہے۔ اور وہ اللہ پاک کا کرم ہے تو پھر درمیان میں ہم کیا اس پر اترائیں؟ تو اس وجہ سے جب انسان اس کو اللہ پاک کا فضل سمجھتا ہے پھر مسئلہ نہیں ہوتا، پھر خطرہ نہیں ہوتا۔ خطرہ اس وقت ہے جب انسان اس کو اپنا کمال سمجھنے لگے۔
اہلیت و قابلیت کی شرط عطیۂ خداوندی ہے:
حال: بعض حضرات میرے سامنے استخلاف وغیرہ کا تذکرہ کرتے ہیں تو مجھے بالکل یہ معلوم ہوتا ہے کہ میرا مذاق کر رہے ہیں، قلب میں بجائے خوشی کے ایک رنج پیدا ہوتا ہے۔
استخلاف سے مراد ہے کسی نے ظاہر ہے کسی بزرگ نے ان کو خلیفہ بنایا ہوگا یا حضرت ہی کا ہوگا۔ تو فرمایا کہ جو میرے سامنے کہتے ہیں کہ آپ تو فلاں کے خلیفہ ہیں تو مجھے پریشانی ہو جاتی ہے۔ اور واقعتاً جس کو اللہ تعالیٰ نے کچھ دیا ہوتا ہے تو اس کو اس کے اس سے پریشانی ہوتی ہے۔ حضرت مولانا سعید احمد خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان کو جب یہ ہے کہ خلافت دی گئی تو حضرت فرماتے ہیں کہ میرے ایسے جیسے کہ میرے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی، مجھے ایسی حالت ہو گئی۔ تو یہ اصل تو یہی ہے کہ انسان اس کو اپنا کمال نہ سمجھے، اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھے۔
اور ظاہر ہے بنیادی بات تو یہ ہے کہ اس پہ نہیں ہوگا کہ کون کس کا خلیفہ ہے۔ اس پر ہوگا کہ کس نے اللہ پاک کو راضی کتنا کیا ہے۔ اگر اللہ پاک اس سے اس پر راضی ہو رہا ہے کہ یہ خلیفہ نہ ہو تو پھر یہی بات ٹھیک ہے۔ ظاہر ہے مطلب خلافت تو مقصود نہیں ہے نا۔
جیسے ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ کے پڑوسی والا واقعہ ہے۔ یہ حضرت کو کسی نے خواب میں دیکھا۔ یہ پوچھا کہ کیا حال ہے آپ کا؟ فرمایا الحمد لله اللہ پاک نے بہت کرم فرمایا، بہت فضل فرمایا، بہت نعمتیں عطا فرمائیں، بہت میرے تصور میں بھی نہیں تھا۔ لیکن میرا پڑوسی مجھ سے آگے نکل گیا۔ پوچھا آپ کا پڑوسی کیا کہتا تھا؟ فرمایا عیال دار آدمی تھا، مجھے دیکھ کر افسوس کرتا تھا، کاش میرے پاس بھی وقت ہوتا تو میں ابراہیم بن ادھم جیسا عمل کرتا۔ اس کو موقع نہیں ملتا تھا، ہر وقت لگا رہتا تھا۔ اپنے بیوی بچوں کے لیے پیسہ کچھ کمانے کی فکر میں لگا رہتا تھا۔ تو وہ جو ہے نا اس وجہ سے وہ مجھ سے آگے نکل گیا۔ اب وہ کوئی کسی کا خلیفہ بھی نہیں ہو گا لیکن مقصود خلیفہ ہونا تو نہیں ہے، مقصود تو اللہ کو راضی کرنا ہے۔ تو جس پہ یہ بات کھلی ہوتی ہے، وہ اس کو ان چیزوں کا چکر نہیں ہوتا۔ اور جن کو ان چیزوں کا چکر ہوتا ہے، فکر ہوتی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ ان کو ابھی حق راستے کی ہوا نہیں لگی۔ ابھی وہ راستے میں ہے، ابھی وہ ذرا مسئلہ ہے اس کے ساتھ۔
تہذیب: ''اَلْحَمْدُ لِلہِ'' یہ علامت ہے عدمِ عجب کی، حق تعالیٰ اس میں ترقی عطا فرماویں کہ اپنے کو کبھی اہل نہ سمجھیں، لیکن اس حالت میں یہ مزید شکر کا سبب ہونا چاہیے کہ باوجود نااہلی کے حق تعالیٰ نے یہ نعمت دی اور اس کو فال نیک سمجھنا چاہیے عطائے اہلیت کی ''وَ لَنِعْمَ مَا قِیْلَ'':
داد او را قابلیت شرط نیست
بلکہ شرط قابلیت داد اوست
ہمارے حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی جب کتاب چھپ رہی تھی سلوک سلیمانی تو اس پر پیشانی پر یہ لکھا تھا۔
داد او را شرط قابلیت نیست
بلکہ شرط قابلیت داد اوست
یعنی اس کے دینے کے لیے قابلیت شرط نہیں ہے، بلکہ قابلیت کے لیے شرط ہے کہ وہ دے دے۔
توفیق الٰہی پر شکر چاہیے:
تہذیب: کام کرنے والوں کو چاہیے کہ اپنے اعمال کو اپنا کمال نہ سمجھیں، بلکہ خدا تعالیٰ کا احسان سمجھ کر شکر کریں کہ انہوں نے ہم سے کام لے لیا ورنہ ہماری کیا طاقت تھی۔
اور یہ بات بالکل صحیح ہے۔ اللہ پاک اگر کام لے تو کام لے۔ راستے بنا دیتے ہیں، حالات بنا دیتے ہیں۔ ورنہ انسان کچھ نہیں کر سکتا۔ راستے اللہ بند کر دے تو کھول ہی نہیں سکتا۔ بہت سارے مسائل ہونے لگتے ہیں، اب ہمت ہی جواب دے جاتی ہے۔ آدمی کو سب کچھ نظر آ رہا ہوتا ہے لیکن کر کچھ نہیں سکتا۔ تو اس کا ہی فضل اور اس کا احسان ہے۔
منت منہ کہ خدمتِ سلطاں ہمی کنی
منت شناس ازو کہ بخدمت بداشتت
مطلب یہ ہے کہ تم اس پر خوشی کر لو کہ تجھے سلطان نے نوکری کے لیے رکھ لیا ہے، یہ نہیں کہ مطلب میں اس کی خدمت کر رہا ہوں۔ اللہ پاک کا فضل سمجھو کہ مجھے اللہ پاک نے اس کے لیے قبول فرما لیا۔ ورنہ کہاں ہم اور کہاں۔۔۔
اظہارِ عمل کب نقص ہے اور کب کمال:
تہذیب: اظہارِ عمل مطلقاً نقص نہیں اور نہ اِخفائے عمل مطلقاً کمال ہے، بلکہ نقص جب ہے کہ اپنے اوپر نظر ہو، اور کمال جب ہے کہ اپنے اوپر نظر نہ ہو، بلکہ صرف خالق جلَّ و علا پر نظر ہو۔
قرآن پاک میں آیا ہے ایک جگہ پہ ﴿وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ﴾۔ ﴿وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ﴾، اور جو اللہ پاک نے تجھے نعمت عطا فرمائی ہے، تیرے رب نے، اس پر اس کو بیان کر لے، مطلب اس کا تذکرہ کر۔ جیسے میں نے عرض کیا نا کہ دل میں ہمارا اور کچھ ہوتا ہے، زبان پر ہمارا اور کچھ ہوتا ہے۔ تو اگر انسان کی اپنے اوپر کمال پر نظر نہیں ہے اور اس کو اللہ پاک کا کمال سمجھ رہا ہے اور اللہ پاک کے کمال کو بیان کرنا چاہتا ہے یعنی اللہ پاک کی گویا کہ بڑائی بیان کر رہا ہے کہ اس نے مجھے یہ توفیق عطا فرمائی ہے، تو یہ اس حکم پر عمل ہے۔ اور اگر دل میں یہ ہے کہ لوگ سمجھیں کہ میرے پاس کیا ہے، تو یہ پھر وہی چیز ہے، یہ پھر اس پر عمل نہیں ہے۔ تو نہ ہر چیز چھپائی جا رہی ہے، وہ کمال ہے کیونکہ عین ممکن ہے کسی وقت اللہ کے حکم کے مطابق کر رہا ہو۔ اور نہ ہر چیز کا اظہار وہ مفید ہے کیونکہ عین ممکن ہے کہ اپنے نفس کے لیے اس کا اظہار کر رہا ہو۔ تو دونوں چیزوں میں دونوں خطرے ہو سکتے ہیں۔ لہذا چاہے چپ رہے، چاہے بات کرے دونوں صورتوں میں نظر اللہ پہ ہونی چاہیے۔ تو پھر دونوں صورتوں میں فائدہ ہو گا۔ پھر دونوں صورتوں میں فائدہ ہو گا۔ کیونکہ مقصود اللہ کو راضی کرنا ہے، مقصود لوگوں کو دکھانا نہیں ہے، لوگوں کو خوش نہیں کرنا بلکہ اپنے نفس کو خوش نہیں کرنا۔
شکر و کبر کا فرق:
تہذیب: ذکر کر کے جو نفس خوش ہو تو اگر اس کو اپنی فضیلت سمجھو تو کبر ہے، اور اگر عطائے حق سمجھو اور اپنے کو اس کا مستحق نہ سمجھو تو شکر ہے۔
مطلب یہ ہے کہ ذکر کر لیا تو اللہ پاک نے توفیق عطا فرما دی۔
ایک دفعہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس کوئی شخص آیا کہ حضرت میں نے سوا لاکھ مرتبہ آیتِ کریمہ پڑھ لی ہے، مجھے تو کچھ بھی نہیں حاصل ہوا۔ تو فرمایا یہ کیا کم حاصل ہوا کہ سوا لاکھ مرتبہ کی توفیق عطا فرمائی کہ تو خود کر سکتا تھا۔ اس پر تو شکر کیوں نہیں ادا کرتا؟
تو جو اس کے لیے مطلب انتظار میں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کو اپنا کمال سمجھتا ہے کہ میں نے تو اتنی بڑی محنت کی لیکن اللہ پاک اس کو دیکھ نہیں رہے۔ یعنی میں تو کچھ ہوں لیکن مجھے کچھ سمجھا نہیں جا رہا۔ تو کتنا بڑا مسئلہ ہے نفس کی قید ہے۔ تو اگر انسان کی نظر میں اپنے آپ کا ہیچ ہونا ثابت ہو جائے۔ اس کے بعد پھر وہ کہے گا کہ یہ میں نے جو کیا ہے پتا نہیں اس پر وہ جوتے نہ پڑ جائیں کہ میں نے اس کام کو خراب کیا ہے۔ اس پر وہ کسی چیز کا طالب تو نہیں ہو گا نا۔ وہ کہے گا کہ یہ تو اس کی توفیق ہے اور میں نے اس کو خراب کر دیا۔ تو واقعتاً جو اللہ والے ہوتے ہیں ان کو اپنے اوپر نظر نہیں ہوتی۔ وہ اپنے بارے میں بہت بدگمانی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ لوگ بیشک ان کے بارے میں کتنے ہی نیک گمان میں مبتلا ہوں لیکن وہ اپنے بارے میں بدگمانی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان لوگوں کو تو حسن ظن کا ثواب ملے گا اور ہمارے اندر کیا ہے ہمیں تو پتا ہے کہ ہمارے ساتھ کیا ہے۔ تو یہ ہے کہ انسان کو اللہ پاک کی عظمت پر جب نظر ہو جائے اور اپنے نفس کے مکائد پر جب نظر ہو جائے تو پھر وہ اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتا۔ جب اپنے نفس کے مکائد پر نظر نہ ہو اور اللہ پاک کی عظمت اس کے سامنے نہ ہو تو پھر اپنا نفس اس کے سامنے آتا ہے کہ میں تو کچھ ہوں میں تو کچھ ہوں میں تو کچھ ہوں۔ اپنی نمازوں کو دیکھتا ہے اپنی تہجد کو دیکھتا ہے۔ اپنے علم کو دیکھتا ہے یا یہ ہے کہ اپنے ذکر کو دیکھتا ہے کہ میں نے یہ کر دیا میں نے یہ کر دیا میں نے یہ کر دیا۔ وہ موقع تلاش کرتا ہے کسی کو بتاؤں۔ مطلب وہ اس کے لیے حالانکہ یہ چیزیں تو اللہ اور اللہ کے ساتھ بس وہ ہونی چاہییں۔ اس کا کسی اور کے ساتھ کیا تعلق؟ مطلب اس کے لیے، حالانکہ یہ چیزیں تو اللہ کے ساتھ بس وہ ہونی چاہییں۔ اس کا کسی اور کے ساتھ کیا تعلق؟
استحقاقِ اجر کے دعوٰی کا منشا عظمتِ خداوندی پر نظر نہ ہونا چاہیے:
تہذیب: ہم اپنے اعمال کو اسی وقت تک کچھ سمجھتے ہیں جب تک اپنے اوپر نظر ہو، اور جب حق تعالیٰ کی عظمت پر نظر ہو گی تو ہر شخص اقرار کرے گا کہ میں نے خدا تعالیٰ کا کچھ بھی حق ادا نہیں کیا پھر استحقاق اجر کے دعوٰی کا کیا منہ۔
بندہ ہماں بہ کہ ز تقصیر خویش
عذر بدرگاہِ خدای آورد
ورنہ سزاوار خداوندیش
کس نتواند کہ بجای آورد
بندہ تو ہر وقت تقصیر ہی کر رہا ہے، کمزوری دکھا رہا ہے جب تک کوئی چیز اس کے سامنے لا رہا ہے۔ اور وہ تو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں پوچھے نہیں۔ مطلب اگر اللہ توفیق نہ دے تو انسان کچھ بھی نہیں کر سکتا۔
اعمالِ صالحہ خود سراپا انعامات ہیں:
تہذیب: حضرت! جتنے کام حق تعالیٰ ہم سے لے رہے ہیں، یہ خود انعام ہے، پھر انعام پر طلبِ انعام کیسا؟ انعام تو عمل پر ہوا کرتا ہے اور یہاں خود یہ اعمال ہی سراپا انعامات ہیں۔ ورنہ ہم کس قابل تھے کہ حق تعالٰی کی عبادت کر سکیں۔
اس کی توفیق ہے کہ اس نے ہمیں مثال کے طور پر ہم یہاں پر جو جمع ہو جاتے ہیں یہ بھی اللہ کا فضل ہے۔ ورنہ اللہ نہ چاہتے تو کون کر سکتا ہے؟
کہتے ہیں ایک دفعہ ایک غلام تھے اپنے آقا کے ساتھ جا رہے تھے۔ تو انہوں نے اس سے اجازت مانگی۔ کہ حضرت نماز کا وقت آ گیا اگر نماز پڑھوں۔ تجھے کیا دیر ہوئی؟ تو ان کے خیال میں ذرا دیر ہوئی ہوگی۔ جو باہر کھڑا ہوتا ہے اس کو زیادہ احساس ہوتا ہے نا کہ زیادہ دیر لگ گئی۔ تو اس نے اندر منہ کر کے کہا کہ کون تجھے باہر نہیں آنے دے رہا۔ تو انہوں نے کہا کہ جو آپ کو اندر نہیں آنے دے رہا۔ مطلب یہ ہے کہ واقعتاً جس وقت توفیق نہ ہو تو سب کچھ ہوتا ہے لیکن کچھ نہیں کر سکتا۔ یہ اس کی توفیق سے ہے۔ توفیق سلب ہو جائے تو کچھ نہیں کر سکتا آدمی۔
کبھی کبھی دکھا بھی دیا جاتا ہے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اپنا واقعہ بیان فرماتے ہیں۔ کسی نے مجھ سے کہا کہ آپ کا بیان ہے آج آپ کا تو اس کے لیے کچھ تیاری کی ہے؟ کہتے ہیں میں نے کہا نہیں مجھے تیاری کی ضرورت نہیں ہوتی، جب ضرورت ہوتی ہے تو اس وقت کچھ کہہ لیتا ہوں۔ کہتے ہیں یہ بات اللہ کو پسند نہیں آئی۔ تو بس کہتے ہیں منبر پر بیٹھ گیا، خطبہ مسنونہ پڑھا اور اس کے بعد مضامین ختم۔ مضامین نہیں آ رہے تھے۔ بہت غور کیا لیکن کوئی مضمون نہیں آ رہا تھا ذہن میں۔ تو کہتے ہیں کافی جب دیر گزری، لوگ بھی پریشان تھے کہ کیوں حضرت کیوں خاموش ہیں؟ تو حضرت نے سب سے کہا کہ آپ میرے لیے دعا کریں کہ اللہ پاک مضامین بھیجنا شروع کر دے، مضامین بند ہو گئے ہیں۔ پھر سب نے واقعی دعا کی حضرت کے فرمانے پر۔ اور پھر جب سب کی دعا ہو گئی تو اللہ پاک نے مضامین بھیجنے شروع کر دیے۔ اور ایسے کہ وہی دو تین گھنٹے کا بیان اسی معمول کے مطابق ہی ہوا۔ لیکن پہلے نہیں تھا۔ اب کوئی کہہ سکتا ہے آدمی، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ جیسی ہستی، سراپا علم۔ ان کے ساتھ ایسا ہو گیا، نہیں کر سکتے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جو سورۃ والضحیٰ جو آئی ہے اس کی شان نزول یہی ہے نا کہ ان شاء اللہ نہیں ہوا تھا تو بس وہ وحی آنی بند ہو گئی۔ تو یہ ہے کہ پھر بہت پریشانی رہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی، کہیں مجھے چھوڑ تو نہیں دیا گیا؟ تو اس میں یہ تسلی دی گئی ﴿وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ﴾۔ تو یہ تسلی پھر دے دی گئی۔ تو یہ ہے کہ انسان کی نظر اللہ پر ہونی چاہیے، اپنے اوپر نہیں ہونی چاہیے۔ آئے ہائے۔
کمال پر ناز کرنا دلیل ہے کمال سے عاری ہونے کی:
تہذیب: کمال پر ناز کرنا خود اس کی دلیل ہے کہ یہ شخص کمال سے عاری ہے، ورنہ اہلِ کمال ناز نہیں کیا کرتے، کیونکہ ان کو کمال کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے جس سے اپنے کو عاجز پا کر وہ کبھی ناز نہیں کر سکتے۔
اکثر میں عرض کرتا رہتا ہوں کہ جب کبھی آپ کو یہ خیال آ جائے کہ میں اچھا ہوں، تو سمجھو کہ اگر پہلے اچھے بھی تھے اب تو اچھے نہیں ہو نا۔ یہی سوچو کہ اب چونکہ میں اپنے آپ کو اچھا سمجھ رہا ہوں اور اپنے آپ کو اچھا سمجھنا اچھا نہیں ہے۔ تو لہذا اگر میں پہلے اچھا بھی تھا تو اب تو اچھا نہیں رہا نا۔ لہذا اس وقت پھر آدمی اپنے آپ کو ٹھیک کر دے۔
عملِ صالح کی توفیق محض حق تعالیٰ کے فضل سے ہے:
تہذیب: عمل صالح کی توفیق محض حق تعالیٰ کے فضل سے ہے۔ یہ جو آپ کو نماز کا شوق اور رات کو تہجد میں اٹھتے ہیں، یہ آپ کا کام نہیں بلکہ کوئی اور ہی اٹھا رہا ہے۔
بعض کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ بھی ہو جاتا ہے کہ وہ انگوٹھے سے بھی اگر کبھی دیر ہو جائے۔ ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ہر ایک کے ساتھ اپنے اپنے معاملات۔ کوئی فرشتہ یا کوئی جو بھی ہے جو اس پر مقرر ہوتا ہے وہ اس کو ہلا دیتا ہے، اٹھا دیتا ہے۔ تو پھر تو ظاہر ہے فضل ہی ہے نا۔ ورنہ آدمی خود کیا کر سکتا ہے؟
الارم۔ کسی نے کہا کہ حضرت اب تو بے حسی ایسی حالت ہے کہ الارم کے بغیر آنکھ اٹھتی نہیں ہے۔ یہ کب تک ہم ان چیزوں کے محتاج رہیں گے؟ تو حضرت نے ان کو جواب دیا کہ کس کس چیز کی محتاجی سے بچو گے؟ شکر کرو کہ الارم دے دیا ہے اور اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ اگر الارم پہ اٹھ سکتے ہو تو یہ بھی تو اس کا فضل ہے۔ یہ بھی تو وہی اٹھا رہا ہے۔ ورنہ الارم سے بھی نہ اٹھ سکو۔ اور الارم نہ دے تو پھر کیا کرے؟ تو یہ تو اس کا احسان ہے۔
عجب کا علاج:
تہذیب: اگر حق تعالیٰ ہم سے کچھ کام لے لیں، اس کو ان کی عنایت سمجھو۔ کام لینا اس لیے کہتا ہوں کہ سب باگیں ان کے ہی قبضے میں ہیں، بس اپنا کچھ کمال نہ سمجھو، نہ کسی گنہگار کو حقیر جانو۔
گنہگار کو حقیر جاننا بھی کبھی کبھی بڑا مہنگا پڑتا ہے۔ کیونکہ اللہ پاک اس پر قادر ہے کہ اس کو معاف کر دے توبہ کی توفیق دے دے اور تجھے اس کے لیول پہ لا کے کھڑا کر دے۔ اور اس میں سیکنڈ بھی نہیں لگتے۔ اللہ پاک کے لیے کچھ بھی اس میں وہ نہیں ہے۔ مشکل نہیں ہے۔ آن کی آن میں۔ کایا پلٹ۔ جو بزرگ بنا بیٹھا ہو فاسق و فاجر بن جائے جو فاسق و فاجر ہے توبہ کر کے بزرگ بن جائے۔ اس کے لیے کیا ہے؟
میں ایک واقعہ بیان کرتا ہوں نا کہ ایک ٹیکسلا میں ایک نوجوان تھے۔ بڑی مطلب بے پروا زندگی گزاری تھی۔ پتا نہیں کس طرح تنبیہ ہو گئی واللہ اعلم۔ تو ارادہ کر لیا کہ بس نماز پڑھتا ہوں۔ تو صاف کپڑے پہن لیے نہایا اور مسجد چلے گئے۔ اتنا بھی پتا نہیں تھا کہ مغرب کے اندر کتنی رکعات ہوتی ہیں۔ راستے میں ایک مائی بیٹھی ہوئی تھی اس نے کہا مائی مغرب میں کتنی رکعات ہیں مغرب کی نماز میں۔ اس نے کہا تین ہوتی ہیں۔ جا کے مسجد میں اس نے رکعات نماز پڑھی۔ اور نماز کے بعد جو رونا شروع ہو گیا کہ اے اللہ میں تو بڑا گناہ گار ہوں میں نے تو بہت زندگی ضائع کر دی۔ میرا کیا ہو گا؟ وہ جو رونا شروع کیا روتے روتے روتے فوت ہو گئے۔ اب بتاؤ۔ اب کیا حالت ہے ولی اللہ بن کر فوت ہو گیا۔ اب کل تک اس کو جو لوگ سمجھ رہے ہوں گے وہ کیسے ہوں گے؟ کہ یہ کیسا آدمی ہے یہ تو ایسے ہے یہ تو ایسے ہے یہ تو ایسے ہے۔ اور کل پھر وہ کیسا تھا؟ تو یہ تو کچھ پتا نہیں ہوتا نا کہ اللہ پاک کس کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ اگر کوئی آپ کو برا نظر آئے تو اس کے اس عمل کو تو برا کہو۔ اس کو برا نہ کہو اس کو فی المآل اچھا کہو ممکن ہے توبہ کر لے اور آپ سے اچھا ہو جائے۔ اگر وہ فی الحال آپ کو اچھا نظر نظر نہیں آ رہا تو فی المآل تو ہو سکتا ہے نا۔ بھائی ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت دشمن تھے۔ اس وقت کون کہہ سکتا تھا کہ یہ کسی وقت مسلمانوں کی طرف سے لڑیں گے۔ اور ایسا ہو گا ویسا ہو گا۔ بس ٹھیک ہے جی بس۔ وہ وقت گیا، توبہ کر لی انہوں نے۔ نئی زندگی مل گئی۔ اب اس کے بعد پھر وہ مختلف۔ تو اس طرح سب کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ اگر کافر گبرو توبہ کر کے مسلمان ہو کر سارا گناہ معاف کر کے اس میں شامل ہو سکتے ہیں ایسے لوگوں میں تو گناہ گار کیوں نہیں شامل ہو سکتا؟ گناہ گار کے لیے تو فاصلہ کم ہے۔ ایمان تو اس کو حاصل ہی ہے۔
عمل نسبت مع اللہ کے منافی ہے:
تہذیب: صاحبِ نسبت عمل کرے تو نسبت سلب ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عامل کو خدا پر توکُّل نہیں رہتا اور عجب پیدا ہو جاتا ہے، اور یہ منافی ہے نسبت مع اللہ کے۔
یہ عملیات کو جو ہمارے مشائخ روکتے ہیں اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ اس میں انسان کی اپنے اوپر نظر ہو جاتی ہے۔ میں نے یہ کیا میں نے یہ کیا میں نے یہ کیا۔ ایک عامل صاحب آئے تھے میرے پاس ملنے کے لیے۔ کوئی لایا تھا۔ تو وہ کہانیاں مجھے سنا رہا تھا مطلب یہ کہ فلاں کے اوپر میں نے یہ کر دیا تھا پھر یہ ہے کہ اس نے وہ بکرے کو آگے کر دیا مطلب ایک صدقہ کر دیا۔ تو بچ گیا پھر فلاں پھر ایسا ہو گیا تو پھر میں نے کر لیا تو پھر اس نے فلاں کام کر دیا تو بچ گیا۔ اخیر میں میں نے فلانا عمل کیا تھا بس اس کے ساتھ ختم ہو گیا بس۔ اب میرا اس کے ساتھ کیا مسئلہ تھا مطلب میں نے اس سے کیا کب کہا تھا کہ مجھے یہ واقعات بتاؤ؟ تو بس اس کو تھا۔ شوق تھا ایسے لوگوں کو شوق ہوا کرتا ہے۔ تو شوق تھا وہ بتانے کا کہ مجھے بتا دے۔ خیر میں تو اس میں دلچسپی نہیں لیتا۔ لہذا چپ ہو گیا اس پر۔ تو بعد میں وہ جو ساتھی لایا تھا وہ بھی ظاہر ہے اس کے ساتھ شاگرد رہ چکا تھا تو جانتا تھا ان چیزوں کو۔ تو مجھے کہتے ہیں کہ وہ آپ کے موکلوں کے ساتھ اپنے موکلوں کو لڑا رہا تھا۔ میں نے کہا میرے تو موکل نہیں ہیں کہتے آپ کو پتا نہیں۔ بہرحال یہ کہ وہ۔
تو میں نے کہا میرے موکلوں کے ساتھ موکل کیوں لڑا رہے، کہتے ان کو ویسے ہی عادت ہوتی ہے۔ یہ پنجہ آزمائی جو کرتے ہیں۔ کہ آخر یہ کتنے پانی میں ہے یہ وہ ہے۔ تو بس کرتے ہیں بس یہ وہ ان کی علت ہوتی ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ عملیات میں یہ چکر ہے۔ انسان کے اندر ایک ہوتا ہے کہ میں فلاں ہوں۔ میں فلاں سے آگے ہوں میں فلاں سے آگے ہوں میں فلاں سے آگے ہوں۔ بھائی کیا ہو گیا؟ فلاں سے آگے ہوں۔ تو یہ جو توجہ کے میدان میں لوگ آتے ہیں جو توجہ ڈالتے ہیں ان میں بھی یہ چیز آ جاتی ہے زیادہ تر کہ میں نے فلاں کو توجہ سے گرا دیا اور میں نے فلاں کے اوپر توجہ کی تو اس کے ساتھ یہ ہو گیا میں نے فلاں کے ساتھ توجہ کی تو اس کے ساتھ۔ بھئی کیا توجہ کر دی؟ تو اس پر وہ یہی بات ہے کہ جس چیز میں انسان کی اپنے اوپر نظر پڑے وہ گڑبڑ ہے۔ وہ گڑبڑ ہے۔
فرح و مدح
فرح، خوشی۔ خوشی اس طرح کہ انسان مطلب اس پہ اترائے۔ لیکن دو قسم کی ہوتی ہے۔ فرحِ شکر جو ہوتا ہے ٹھیک ہے فرحِ بطر ٹھیک نہیں۔
مدح کا علاج:
فرمایا:
تہذیب: اگر مدح سے نفس خوش ہو تو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ مادحین جس امر کی مدح کر رہے ہیں، نہ اس کی حقیقت سے آگاہ ہیں نہ میرے دوسرے عیوب سے، حسنِ ظن رکھتے ہیں جو ان کی تو خوبی ہے مگر میرے لیے حجت نہیں۔
واقعتاً اگر کسی کو سمجھ آ جائے نا تو اس کو سمجھ آ رہی ہوتی ہے کہ جو میری تعریف کر رہے ہوتے ہیں تو تعریف اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ خود اچھے ہیں۔ وہ میرے ساتھ حسنِ ظن رکھ رہے ہیں۔ تو یہ ان کے لیے تو خوبی کی بات ہے لیکن میرے لیے تو مصیبت ہے۔ میں تو مارا جا رہا ہوں۔ تو اس لیے اگر روکنا چاہے تو روک سکے تو روک لے بھئی بس ٹھیک ہے. لیکن اگر روکا نہ جائے، تو چلو ٹھیک ہے کہتے جائیں ان کو فائدہ ہو رہا ہے لیکن میں تو اپنے آپ کو کچھ نہ سمجھوں نا۔
ایک بزرگ کے پاس ہم گئے تھے سوات میں، کافی اونچائی پر پہاڑ میں تھے۔ تو میرے ساتھ جو گئے تھے وکیل صاحب، تو میرا تعارف اس نے کچھ زیادہ ہی جاندار الفاظ میں کیا نا کہ یہ تو ایسے ہیں، یہ تو ایسے ہیں، یہ تو ایسے ہیں، جیسے کرتے ہیں، حسنِ ظن والے کرتے ہیں۔ تو وہ بزرگ ذرا کافی، جس کو کہتے ہیں نا مطلب وہ کسی کی رعایت وغیرہ نہیں کرتے تھے۔ وہ اٹھتے بھی کسی کے لیے نہیں تھے، ان میں یہ زبردست بات تھی۔ نہ کسی کے لیے اٹھتے تھے اور نہ کسی کی پروا کرتے تھے۔ بس جو آتے تھے ان کو صحیح کھری کھری باتیں سنا دیتے تھے، باتیں صحیح ہوتی تھیں، مطلب باتیں غلط نہیں ہوتی تھیں یعنی دین کی بات کرتے تھے اور کھری کھری سناتے تھے، کوئی مروت وغیرہ نہیں کرتے تھے۔ تو وہ یہ ہے کہ وہ میرے ساتھی سے کہا بس کرو نا، بس کرو نا، اتنا نہ چڑھاؤ نا، بس کرو۔ مجھے بہت پسند آ گیا، میں نے کہا یہ صحیح آدمی ہے، ٹھیک ہے۔ تو یہ ہے کہ یہ بعض لوگ ہوتے ہیں۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ جو تعریف کر رہا ہوتا ہے تو تعریف تو اس کی تو اچھائی ہے کیونکہ وہ تعریف اس لیے کر رہا ہے کہ وہ مجھے اچھا سمجھ رہا ہے، حسنِ ظن ہے۔ لیکن کیا میں اس کی بات مان لوں؟
بعض دفعہ خود ہی انسان نا کوئی ناٹک رچا دیتا ہے، ذرا بزرگ سا بن جاتا ہے۔ اب جب لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ شاید میں واقعی بزرگ ہوں۔ بھئی حالانکہ خود کیا ہوتا ہے وہ کام اس کو پتا ہوتا ہے کہ بھئی میں نے تو یہ ناٹک رچایا ہوا ہے۔ لیکن پھر کیا؟ پھر پہلے ناٹک رچانے کے لیے یہ عذر تراش لیتے ہیں کہ اس طرح لوگ ذرا میری بات سن لیں گے۔ تو اس کے لیے تو یہ بہانہ کافی ہوتا ہے۔ چلو ٹھیک ہے، اچھی نیت سے آپ کر رہے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں نا کہ تم اس کو واقعی سمجھو۔ واقعی تو نہیں سمجھنا چاہیے۔ وہ نام میں نہیں لوں گا لیکن کہتے ہیں کہ ایک صاحب ایسے تھے جو خلیفہ نہیں تھے کسی کے لیکن خلیفہ بن گئے۔ اور بعد میں ایک دوسرے عالم نے کہا کہ ان کو تو ہم نے ویسے خلیفہ بنایا ہوا تھا تاکہ یہ لوگ گمراہی سے بچ جائیں، مطلب یہ ہے کہ غلط پیروں کے پاس نہ جائیں، تو اس نے واقعی اپنے آپ کو خلیفہ سمجھ لیا۔ اس نے بالکل باقاعدہ بیعت کرنا شروع کر لیا، سارا کچھ کرنا شروع کر لیا۔ تو اس کے دوسرے ساتھی کہہ رہے تھے کہ تو اس نے غلطی کی۔ بہرحال یہ ہے کہ اس طرح ناٹک بعض لوگ رچاتے ہیں۔ لیکن ناٹک چلو اگر آپ نے اچھی نیت سے بھی رچا لیا، تو اب کم از کم یاد تو رکھو نا اس کو کہ میں نے یہ ناٹک رچایا ہے، میں اصلی وہ تو نہیں ہوں، یہ تو صرف بس میرا پروپیگنڈا ہے۔ تو یہ بات ہے کہ اگر انسان یہ محسوس کر لے۔
ایک اس پہ ایک حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے بہت اچھا واقعہ فرمایا ہے۔ فرمایا کہ ایک طماع تھے، طماع، عربوں میں ایسی کہانیاں بہت زیادہ ہیں، طماع، طمع کرنے والے۔ بخیلوں کے بڑے واقعات ہیں، طماعوں کے بڑے واقعات ہیں۔ تو کہتے ہیں ایک طماع تھے تو بڑے مشہور تھے طمع کے لحاظ سے، تو بچے جب ان کو دیکھ لیتے تو ان کے پورے جلوس نکال لیتے تھے، اوہ فلاں آ گیا، فلاں آ گیا، فلاں آ گیا۔ وہ تو ظاہر ہے بچوں کو تو چاہیے شغل میلہ۔ تو وہ بیچارے گھبرا گئے کہ یہ مجھے مصیبت میں مبتلا کریں گے، تو انہوں نے بچوں کو اپنے سے ہٹانے کے لیے کہا کہ تمہیں پتا ہے فلاں محلے میں خیرات ہو رہی ہے! جو اپنے دل کی بات تھی بچوں سے کہہ دی۔ تو بچے تو بچے تھے انہوں نے کہا اچھا خیرات ہو رہی ہے انہوں نے about-turn لے لیا اور نعرے لگاتے ہوئے روانہ ہو گئے۔ روانہ ہو گئے تو یہ بھی پیچھے بھاگنے لگا۔ تو کسی نے کہا کہ کیوں بھاگ رہے ہو؟ کہتے ہیں اتنے سارے بچے بھاگ رہے ہیں ممکن ہے واقعی سچ مچ خیرات ہو رہی ہو۔ تو اگر انسان یہ ہے کہ تھوڑا سا پھول جانے والا ہو تو بہت جلدی بھول جاتا ہے کہ میں کیا ہوں، وہ پھر خوامخواہ اپنے ساتھ باندھ لیتے ہیں۔
فرحِ شکر و فرحِ بطر کا فرق:
تہذیب: معیار ما بہ الفرق فرحِ شکر و فرحِ بطر میں یہ ہے کہ اول میں نعمت کو محض فضلِ الٰہی کا نتیجہ سمجھتا ہے اور اپنی نا قابلیت کا استحضار رہتا ہے، اور ثانی میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔
ثانی میں اس کو اپنا کمال سمجھا جاتا ہے۔ اور اللہ پاک سے گویا کہ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ بعد میں اس پر شکوہ بھی ایک قسم کا قلبی ہونے لگتا ہے کہ مجھے کیوں یعنی وہ چیزیں نہیں اس پر ثمرات کیوں نہیں ہو رہے۔ جب بھی کوئی ثمرہ طلب کرے نا اعمال کا تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے اپنے آپ کو بزرگ سمجھنا شروع کر لیا۔ آدمی سمجھے نا کہ بھئی یہ تو فلاں چیز مجھے کیوں حاصل نہیں ہوئی؟ فلاں چیز مجھے کیوں حاصل نہیں ہوئی؟ ایک نقشبندی بزرگ تھے۔ تو ان کا کوئی تھے ساتھی پیر بھائی وغیرہ ہوں گے، مراقبہ ان کو دیا تھا، مردوں کو ویسے مراقبہ ویسے بھی تھوڑا ذرا دیر سے ہوتا ہے۔ تو وہ آیا، کہتے ہیں جی مراقبہ نہیں ہو رہا۔ تو میں بیٹھتا ہوں لیکن نہیں ہو رہا تھا۔ تو اس صاحب نے کہا، اچھا مراقبہ نہیں ہو رہا؟ پتا بھی ہے، بارہ سال تک کنڈلی مار کر ہم بیٹھے رہے پھر اس کے بعد یہ چیز حاصل ہوئی ہے۔ تم ابھی ابھی جمعہ جمعہ داخل ہو گئے ہو اور کہتے ہو مراقبہ نہیں ہو رہا؟ تو یہ بات ہوتی ہے واقعی، کہ انسان بہت جلدی اس میں مچاتا ہے حالانکہ واقعتاً گزشتہ دور میں لوگ بہت اس کے لیے انتظار کیا کرتے تھے اور کافی وقت گزرتا تھا اس کے بعد پھر یہ چیزیں ملا کرتی تھیں۔ اب تو بس اللہ پاک کچھ جلدی عنایت فرما دیتے ہیں تو مستی آ گئی ہے لوگوں میں۔ اب کہتے ہیں بس ٹھیک ہے جی بس جلدی جلدی ہمارا سارا کچھ۔ بھئی یہ چیز ایسے نہیں ہے، اللہ پاک سب چیزوں کو جانتا ہے کہ کس کو کیا دینا چاہیے اور کس وقت دینا چاہیے۔ کیونکہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اگر جلدی مل جائے تو انسان اپنے آپ کو بزرگ سمجھ کر اپنا کباڑا کرنے لگتا ہے۔ یہ اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کہ کوئی غریب آدمی ہو۔ تو بے صبری کرنے لگے، مطلب آہ و جزع فزع کرنے لگے کہ ایسا کیوں ہوا اور ایسا کیوں ہوا؟ یہ اس میں نقصان ہو جاتا ہے اس کو۔ اور جب مالدار ہو جائے تو پھر ناشکری کرنے لگے، یعنی دونوں صورتوں میں نقصان۔ جبکہ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کو کچھ جن کے پاس کچھ نہیں ہوتا وہ صبر کرتے رہتے ہیں تو اس میں صبر کا اجر ملتا ہے۔ اور کبھی جب ان کو اللہ تعالیٰ دیتے ہیں تو اس پر شکر کرنے لگتے ہیں تو ان کو دونوں میں اجر مل رہا ہوتا ہے۔ پہلے والے کو دونوں میں نقصان مل رہا ہوتا ہے۔ تو اس طریقے سے جو لوگ فرحِ بطر میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کو اگر کوئی چیز ملنے لگتی ہے تو اپنا سمجھنے لگتے ہیں۔ اور جب نہیں ملتی تو پھر اللہ پاک سے شکوہ کرنے لگتے ہیں کہ ہمیں کیوں نہیں دے رہے؟ پھر لے لو نا اگر تم خود کرتے ہو تو پھر کرو۔ ہاں پھر اللہ پاک سے شکایت کیوں کرتے ہو؟ اگر اپنی ہی چیز ہے اور اپنے ہی طور پر تمہیں کچھ مل رہا ہے تو پھر کرو نا۔ تو بالکل الٹی والی بات کہ جب ملنے لگتا ہے پھر اپنا کمال سمجھتے ہیں۔ اور جس وقت نہیں ملتی تو اللہ پاک سے شکوہ کرنے لگتے ہیں، دونوں صورتوں میں نقصان کر لیتے ہیں اپنا۔
ریا
عمل کے وقت وسوسات ریا کا علاج: تہذیب: اگر ابتداءً ریا کا خیال نہ ہو اور عمل کے وقت اس قسم کے وساوس پیدا ہو جائیں تو اپنے معمول کو ترک نہ کریں بلکہ ثبات اولیٰ ہے۔ ریا کو دل سے برا سمجھ کر حتی الامکان ان کو دفع کرنا کافی ہے۔
دیکھیں میں نماز ادھر پڑھ سکتا ہوں۔ لیکن میں قصداً ادھر کھڑا ہو جاؤں تاکہ لوگ مجھے دیکھیں تو یہ کیا ہے؟ Definitely ریا ہے نا، مطلب ظاہر ہے میں لوگوں کے دکھانے کی نیت سے ادھر کر رہا ہوں۔ لیکن میں ادھر پڑھ رہا ہوں، کوئی آ گیا۔ تو میں ادھر ان کے لیے تو کھڑا نہیں ہوا تھا نا۔ وہ تو اتفاقاً آ گیا کوئی۔ جب کوئی آ گیا اور دل خوش ہو گیا تو اس کی پروا نہ کرو، اپنا عمل جاری رکھو۔ بس اس کو بس دل سے سمجھو کہ اللہ کے لیے ہے۔ بس وسوسہ ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ مطلب یہ ہے کہ ابتداءً عمل کو اللہ کے لیے خالص کر کے اگر بعد میں کبھی اس کا وسوسہ آ جائے ریا کا تو اس کی پروا نہ کرو اپنا عمل جاری رکھو۔ اور اس کو ریا کو برا سمجھو، اور اپنے آپ کو اس سے بچائے رکھو۔ یہ کافی ہے۔
فرمایا:
وسوسہ تو کفر کا بھی آنا مضر نہیں:
تہذیب: ریا تو قصد سے پیدا ہوتا ہے اور جو بلا قصد ہو وہ ریا نہیں، صرف وسوسۂ ریا ہے اور وسوسہ تو کفر کا بھی مضر نہیں چہ جائیکہ ریا کا وسوسہ۔
مثلاً اللہ پاک بچائے ہر ایک کو اگر کسی کو یہ خیال آنے لگے بار بار خود بخود کہ اللہ دو ہیں۔ تو کفر ہے نا؟ لیکن چونکہ وہ خود نہیں کر رہا۔ تو یہ اس کو کچھ نقصان نہیں ہو رہا بلکہ اجر مل رہا ہے۔ کیونکہ اس کو تکلیف ہو رہی ہے اس سے۔ تو اس کی پروا نہ کرے۔ تو یہ چیز یاد رکھیں ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ کہ اللہ پاک کسی کو کسی ایسی چیز کا ذمہ دار نہیں بناتے جو اس کے کنٹرول میں نہیں، جو اس کے بس میں نہیں۔ تو ریا کا وسوسہ تو کیا، کفر کا وسوسہ بھی برا نہیں اگر خود سے آئے۔ اور قصداً لائے تو پھر ظاہر ہے ریا کا وسوسہ پھر ریا ہے۔
کمالات کے اظہار کا اہتمام ریا ہے:
تہذیب: بجز مربِّی کے اپنے عیوب کسی دوسرے پر ظاہر ہونے کو پسند نہ کرنا یہ ریا نہیں ہے، بلکہ یہ تو مطابق سنت کے ہے۔ استتارِ عیوب کا خود حکم ہے، ہاں کمالات کے اظہار کا اہتمام یہ ریا ہے۔ اگر وہ کمالات غیر واقع ہوں تو خداع اور تلبیس ہے۔
اپنے کمالات کے اظہار کا اہتمام کرنا تاکہ لوگوں کو نظر آ جائے۔ یہ تو ریا ہے۔ یہ تو ریا ہے۔ لیکن اہتمام نہیں کیا، خود سے لوگوں کو نظر آئے۔ تو ریا نہیں ہے۔ اور اگر کمالات کا اہتمام کرنے کا انتظام کرے اور ہو واقع نہیں واقعتاً نہ ہو تو پھر دھوکا ہے اور تلبیس ہے ظاہر ہے مسلمان کے ساتھ دھوکا ہے
مربی کے لیے کچھ گنجائشیں ہیں وہ عملی گنجائشیں ہیں مثلاً کسی کی وہ تربیت کرنا چاہتا ہے اس تربیت کے لیے کوئی چیز اس پہ ظاہر کر دی اپنی تاکہ اس سے اس کو فائدہ ہو تو ایسی صورت میں یہ ریا نہیں ہوگا جب تک اس کی اس کا صرف مطلب اس سے تربیت ہو۔ اگر اپنے کمالات کا اظہار ہو تو پھر ریا بن جائے گا۔ پھر ریا بن جائے گا۔
محض دکھلانے کا خیال بلا اختیار آ جانا ریا نہیں جب تک کہ عامل اس کا قصد نہ کرے:
حال: ہر کارِ خیر میں، خصوصاً نماز میں یہ خیال ہوتا ہے کہ تجھے فلاں فلاں دیکھ رہا ہے اس لیے یہ فعل تیرا ریا اور سُمعہ میں داخل ہے۔ جو اکثر فرض نماز کے سوا باقی افعالِ حسنہ کے ترک پر مجبور کرتا ہے۔
مطلب کوئی اشراق کی نماز پڑھنا چاہتا ہے۔ اور دل میں آ جائے کہ یہ تو فلاں فلاں دیکھ رہے ہیں پھر تو کہیں گے یہ بڑا بزرگ ہے دیکھو اشراق کی نماز پڑھ رہا ہے۔ یا تہجد کی نماز پڑھ رہا ہے، تو کہتے ہیں یہ مجھے ترک پر مجبور کر لیتا ہے۔
تہذیب: محض کسی کے دیکھنے سے تو ریا ہوتی نہیں جب تک کہ عامل دکھلانے کا قصد نہ کرے، اور یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ قصد فعلِ اختیاری ہے، محض دکھلانے کا خیال بلا اختیار آجانا یہ قصد نہیں۔ اس علم کی تصحیح بھی اس خیال کا علاج ہے اور اس خیال کے مقتضا پر عمل نہ کرنا، یعنی طاعت کو ترک نہ کرنا اس کا مکمل علاج ہے۔
یعنی اس کی وجہ سے عمل کو نہ ترک کیا جائے۔ عمل کو ترک نہ کیا جائے۔ یعنی کسی کے لیے عمل تو شروع نہ کیا جائے۔ لیکن اگر عمل شروع ہے تو اس کو ترک بھی نہ کیا جائے۔ مثلاً اب اشراق پڑھنے کا موڈ نہیں تھا اور لوگ جمع ہیں اور کہتے ہیں یار یہ سب تو نماز پڑھ، چلو۔ یہ کیا ہے یہ بھی پڑھتا ہے۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ لیکن پڑھنے کا معمول ہے بس ٹھیک ہے بس کھڑے ہو گئے پڑھ لیا پروا نہیں۔ لوگ دیکھیں گے تو دیکھیں گے۔ وہ پھر ریا نہیں ہے۔
عمل اور خُلُق کی اصلاح کا طریقہ:
تہذیب: عبادات میں جو ریا ہو عقلاً اس کو دبانا اور روکنا یہ عمل کی اصلاح ہے۔ اور اس عادت سے اس خُلُق (ریا) کا تقاضا نہ ہونا یہ خُلُق کی اصلاح ہے۔
مطلب یہ ہے کہ انسان کو اگر عبادات میں ریا کا وہ ہوتا ہے مطلب دخل تو اس کو عقلاً دبا دیا جائے کہ یہ تو کیا کر رہا ہے؟ خدا سے لے گا یا لوگوں سے لے گا؟ اور پھر اس عادت سے اس چیز کا تقاضا پھر بعد میں ختم ہو جائے تو یہ ظاہر ہے اس کی اصلاح ہو گئی۔
ریا کی حقیقت:
تہذیب: (1) ریا کی حقیقت ہے "اِرَادَۃُ الْخَلْقِ لِغَرَضٍ دُنْیَوِیٍّ"، "اِرْضَاءُ خَلْقٍ لِلْحَقِّ" ریا نہیں۔
فرمایا کہ، مخلوق کی، دکھانے کی غرض، جو دنیا، وہ ریا ہے۔ باقی یہ ہے کہ إِرْضَاءُ خَلْقٍ لِلْحَقِّ، مطلب حق کے لیے لوگوں کو راضی کرنے کا خیال، وہ تو ریا نہیں ہے۔ اپنے نفس کے لیے لوگوں کو راضی کرنا کہ وہ مجھے کامل سمجھیں اور اچھا سمجھیں۔ وہ ریا ہے۔
تہذیب: (2) ریا کی حقیقت یہ ہے کہ عبادت کا اظہار کسی دنیاوی غرض سے کیا جائے، یا کسی فعلِ مباح کا اظہار کسی معصیت کی غرض سے کیا جائے۔
مطلب یہ ہے کہ عبادت ہے، نماز ہے جیسے نفل ہے، وہ اگر دنیاوی غرض سے کی جائے کہ لوگ مجھے اچھا سمجھیں اور، تو یہ کیا ہے، یہ ریا ہے۔ اور یا کوئی فعلِ مباح ہے، وہ کسی گناہ کی نیت سے کیا جائے، یعنی جس کا ویسے نہ گناہ ہے نہ ثواب ہے، لیکن اس میں گناہ کی نیت شامل کی جائے۔
ریا میں صرف تصحیحِ نیت کافی نہیں بلکہ عمل میں تغیُّر بھی نہ کرے:
حال: بعض مرتبہ کسی اچھے کام میں مصروف ہوتا ہوں اچانک کسی شخص پر نظر پڑ جاتی ہے تو اکثر و بیشتر یہ خیال ہوتا ہے کہ اس کام کو اور اچھی طرح پر کرو۔ مجھے اتنا تو یہ یقیناً معلوم ہے کہ یہ ریا ہے اور ایسے وقت میں یہ سمجھ کر کہ انسان کیا چیز ہے جو اس کو دکھلا کر کام کریں، اس کام کو کیے جاتا ہوں اور نیت حق تعالیٰ کی طرف پھیر لیتا ہوں، نیت پھیر لینے سے ریا جاتی رہے گی یا نہیں؟
حضرت فرماتے ہیں:
تہذیب: میرا مذاق اس میں یہ ہے کہ صرف تصحیحِ نیت اس میں کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ خطرہ کے بعد عمل میں تغیُّر بھی نہ کرے، کیونکہ تصحیحِ نیت اس کا مقصود بالذات نہیں، بلکہ مقصود بالذات (اس کا) تحسینِ عمل للحق ہے اور تصحیحِ نیت اس تحسین کا آلہ، تاکہ غائلۂ ریا سے بھی بچا رہے اور مقصودِ نفس بھی حاصل ہو جائے۔ تو جس اخلاق سے تحصیلِ ریا مقصود ہو وہ مقدمۂ ریا ہونے کے سببِ ریا ہی ہے۔ اگر دوسرے اطباء کی تحقیق اس کے خلاف بھی ہو تب بھی اپنی رائے پر قائم ہوں، ذوقیات میں ایک کا اجتہاد دوسرے پر حجت نہیں۔
ذرا علمی اور گہری بات ہے۔ فرمایا: کسی نے کہا کہ میں کسی اچھے کام میں مصروف ہوتا ہوں اور کوئی شخص آ جائے۔ تو میں اس کام کو اور بھی اچھی طرح کرنے لگتا ہوں۔ تو اب چونکہ یہ اور بھی اچھی طرح کرنا یہ تو ریا ہے، یہ تو مجھے معلوم ہے۔ لیکن میں پھر دل کو سمجھا دیتا ہوں کہ تو کیا چیز ہے کہ لوگوں سے کچھ لے گا؟ لہذا میں اس کو کیے جاتا ہوں اور اپنی نیت کو اللہ تعالیٰ کی طرف پھیر لیتا ہوں۔ پھر کیا یہ ریا ہو گیا یا نہیں؟
حضرت چونکہ حکیم الامت تھے تو انہوں نے علاج جو فرمایا وہ یہ کہ بس تم جس طرح کر رہے تھے اسی طرح کرو کیونکہ اس وقت اگر تم اس پہ اس change پر وہ رہے تو وہ change اصل میں تمہارا اپنے نفس کے لیے تھا۔ بیشک تو نے اپنی نیت بظاہر تو اس کی طرف پھیر دی لیکن تو صرف یہ کرنا چاہتا تھا کہ وہ یعنی یہ چیز حاصل رہے کہ لوگ مجھے اچھا کہہ دیں، تو نے صرف اپنی نیت کو سرسری طور پر change کر لیا۔ لہذا جیسے تو کر رہا تھا اسی طریقے کرتا رہ۔ فرمایا کہ کسی کو اگر اس سے اختلاف ہو تو میں اس کو غلط نہیں کہتا لیکن میں اپنی رائے پر قائم رہوں گا۔
عبادت کو کسی کے دیکھنے پر طبیعت میں فرحت کا ہونا علامت وجود مادہ ریا کی ہے:
حال: اثناءِ عبادت یا عبادت سے فراغ کے بعد اگر کوئی شخص اس عبادت پر مطلع ہو جائے تو اس عابد کے دل میں ایک قسم کی فرحت و خوشی پیدا ہو جاتی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ دل کے اندر ریا اس طرح چھپا ہوا ہے، جس طرح راکھ کے اندر آگ کہ دوسروں کے مطلع ہونے پر اسی لیے تو سرور ہوتا ہے۔
تہذیب: اس عبارت میں اس فرحت کو ریا نہیں کہا، اس کو علامت ریا کہا اور علامت بھی مادۂ ریا کی کہا، جس پر مؤاخذہ نہیں۔
مادہ تو بہت ساری چیزوں کا ہو سکتا ہے۔ مثلاً کسی میں شہوت بہت زیادہ ہے مادہ اس کا۔ لیکن وہ بچا ہوا ہے تو اس پر اجر مل رہا ہے اس کو۔ مادہ تو موجود ہے۔ لیکن ظاہر ہے وہ اگر وہ ہمت کر کے وہ بچا رہتا ہے تو وہ تو پہلوان ہے۔ وہ تو ماشاء اللہ اللہ تعالیٰ اس پہ مسلسل اجر دے رہا ہے۔ تو مادے کا موجود ہونا یہ مسئلہ نہیں ہے۔ ہاں مادے کی یہ بات ہے کہ اس میں انسان۔۔۔ جیسے کوئی جانور کسی کا بہت زیادہ طاقتور ہو۔ تو مفید بھی بہت ہوتا ہے لیکن اگر اس کو کھلا چھوڑ دیا تو نقصان بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔
کیا خیال ہے Heavy bike کتنا سی سی کا ہوتا ہے؟ بارہ تیرہ سو سی سی کا۔ بڑی اچھی بائیک ہے نا؟ تو کیا خیال ہے اگر بے قابو ہو جائے؟ کنٹرول میں رہے تو بڑی زبردست چیز ہے۔ یہ بے قابو ہو جائے تو بس پھر سر پیر ایک ہو جائیں گے۔ تو یہ جو چیز ہے مطلب یہی اسی طرح نفس بھی ہے۔ تو اگر کسی کا مادہ ہے جس میں اس میں شدید مادہ موجود ہے کسی چیز کا تو وہ قابلِ گرفت نہیں ہے۔ بلکہ عین ممکن ہے کہ وہ تو اس پہ اس کے اجر کے لیے وہ ذریعہ بنا ہو۔ تو وہ ٹھیک مسئلہ نہیں ہے ہاں البتہ اگر وہ کمزور ہے اس کو کنٹرول کرنے میں۔ تو یہ بات ہے کہ اس کو نقصان تو ہو گا پھر۔ تو اس کو اپنے آپ کو طاقت ور کرنا چاہیے۔ اور اپنی اس گاڑی کو صحیح استعمال کرنا چاہیے۔ تو نفس جو ہے نفس بھی اگر اس کے اندر اس قسم کی چیزیں ہوں تو اس کے صحیح استعمال کے موقع پر روکا نہیں جائے اور غلط استعمال کے لیے جانے نہ دیا جائے۔ یہ اس کی بات ہے کہ مادہ وہ کوئی بری چیز نہیں ہے۔ مادہ جو ہے وہ تو اجر کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ لیکن خطرے کی بات تو ہے اس میں خطرہ تو ہے۔
ریا مع اللہ کی صورت:
اللہ اکبر، اللہ سے ریا کرنا
تہذیب: خلوت میں نماز اس خیال و نیت سے پڑھنا کہ مخلوق کے سامنے بھی طویل نماز پڑھ سکے، اور حق تعالیٰ کا یہ اعتراض لازم نہ آئے کہ مخلوق کے سامنے تو لمبی نماز پڑھتا ہے اور میرے سامنے مختصر پڑھتا ہے، تو یہ لمبی نماز خلوت کی خدا کے لیے نہیں ہے، بلکہ مخلوق کے سامنے ریا باقی رکھنے کے لیے ہے۔ یہ ریا مع اللہ ہے۔
مطلب یہ ہے کہ مقصود تو یہ ہے کہ میں لوگوں کے سامنے لمبی نماز پڑھوں۔ اب اس کے لیے وہ حیلہ کر رہا ہے۔ اور حیلہ یہ کر رہا ہے کہ میں خلوت کی نماز بھی بہت لمبی پڑھوں۔ تاکہ مجھے اس میں پھر خلش نہ ہو۔ تو اس میں بنیادی مقصد چونکہ وہ غلط ہے۔ لہذا یہ اللہ کے ساتھ ریا ہے۔ یعنی اللہ کے لیے عمل کو خالص نہیں کیا۔ اپنے نفس کے لیے عمل کو خالص کر لیا۔
ترکِ عبادت میں تکبر اور ریا کی صورت:
تہذیب: مخلوق کے لیے عملِ عبادت کو ترک کرنا جس طرح تکبر ہے اسی طرح ریا بھی ہے۔
چونکہ آج عجب کے بارے میں بات ہوئی۔ بزرگی کے بارے میں بات ہوئی۔ اور ریا کے بارے میں بات ہوئی۔ اس وجہ سے ان چیزوں کے بارے میں جو کہا گیا وہ۔ یہ عجب پر ہے۔
کتنا نقصان پہنچائے تیری خود پہ نظر
کتنا اچھا ہو نظر تیری ہو اللہ پہ گر
تیرا اچھا عمل بھی خاک میں مل جائے گا
تو اپنے نفس کی آنکھوں سے اسے دیکھے اگر
تجھ کو اچھا اگر معلوم ہو خود پھر سوچو
پہلے گر ٹھیک بھی تھا اب تو نہیں ٹھیک مگر
خود پسندی تجھے اس کی پسند سے کاٹ دے گی
تجھ کو گر چاہیے اس کی پسند خود کو گم کر
میں کیا ہوں کہ کہوں خود سے میری توبہ خدا
کریم رب کرم اب کیجیے تو شبیر پر
کتنا نقصان پہنچائے تیری خود پہ نظر
کتنا اچھا ہو نظر تیری ہو اللہ پہ گر
اب عاجزی کے بارے میں۔ چونکہ عاجزی ضروری ہے وہ اس کا عاجزی نہ ہونا ہی مطلب عجب ہوتا ہے۔
عاجزی۔
خود کو خدا کے دَین سے جدا نہ کریں ہم
غلطی سے کبھی بھی کوئی دعویٰ نہ کریں ہم
خود پر کوئی کہیں نہ کرے بند عاجزی
ہر حال میں اللہ کو ہے پسند عاجزی
کرتا ہے اس لئیے ہر عقلمند عاجزی
خود کو کہیں اچھا کبھی کہا نہ کریں ہم
غلطی سے کبھی بھی کوئی دعویٰ نہ کریں ہم
اپنی نظر میں آئیں ہمیش ہم بہت حقیر
گو حسنِ ظن سے دوسرےسمجھیں ہمیں کبیر
اور شہرتوں کے آپ نہ بن جائیں ہم اسیر
سوچ اپنی بڑائی کی توپیدا نہ کریں ہم
غلطی سے کبھی بھی کوئی دعویٰ نہ کریں ہم
ہم جانتے ہیں ہم ہیں گنہگار بہت جب
ہم دائرۂ سوچ میں لائیں گے اسے کب؟
احساسِ گناہ بنتا تو توبہ کا ہے سبب
کیوں اس کے باوجود بھی توبہ نہ کریں ہم؟
غلطی سے کبھی بھی کوئی دعویٰ نہ کریں ہم
عابد بھی تھا،عالم بھی تھا، عارف بھی تھا شیطان
ہوجائے گا مردود، وہ رکھتا تھا کب گماں؟
وہ اپنی عبادات و علم پر تھا جو نازاں
ڈرنا ہے ہمیں اب کہیں ایسا نہ کریں ہم
غلطی سے کبھی بھی کوئی دعویٰ نہ کریں
دل میں کہیں نہ در آئے تیرے خود پسندی
بچنا ہے اس سے خوب، کہ یہ چال ہے گندی
کر اپنے نفس کو پست کہ ملے تجھ کو بلندی
خود رائی میں ہاں خود کو مبتلا نہ کریں ہم
غلطی سے کبھی بھی کوئی دعویٰ نہ کریں ہم
اعمال میں رہ جائے نہ ہم سے کوئی کمی
بندے ہیں ہم خدا کے یہ ہے حقِّ بندگی
اعمال پہ تکیہ مگر نہ ہو، ہو اُس پہ ہی
شبیرؔ اپنی مرضی پہ چلا نہ کریں ہم
غلطی سے کبھی بھی کوئی دعویٰ نہ کریں ہم
یہ اصل میں بہت ضروری ہے اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ یہ جو انسان اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگتا ہے۔ یقین جانیے بہت گندی چیز ہے۔ ہم کیا ہیں۔ بزرگی سے اپنے آپ کو بہت زیادہ اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔ کیا ہم اور کیا کیا کہتے ہیں کیا پدی کیا پدی کا شوربہ۔ ہمارے کون سے اعمال ہیں۔ اگر حساب کیا جائے تو پتا چلے گا کہ کچھ بھی نہیں ہمارے پاس۔ تو یہ بزرگی کے بارے میں ہے۔
بزرگی
اس کو سنا بہت ہے مگر کیا ہے بزرگی
کتنے ہی سالکوں کی تمنا ہے بزرگی
بہت سارے لوگ بزرگی کے انتظار میں ہیں کہ کب ہمیں بزرگی ملے گی۔
سچ مچ اگر ملے تو ہے یہ نور کا ہالہ
جو جھوٹ سے سمجھے تو اندھیرا ہے بزرگی
اس کو سنا بہت ہے مگر کیا ہے بزرگی
شیطان کے تیروں میں یہ زہریلا تیر ایک
اور نفس کے سفلہ پن کی اک ادا ہے بزرگی
اس کو سنا بہت ہے مگر کیا ہے بزرگی
کتنے ہی سالکوں کی تمنا ہے بزرگی
جو بھی بنے بزرگ سمجھے خاک وہ خود کو
کچھ بھی نہ ہو تو اس کا ہی دعوی ہے بزرگی
اس کو سنا بہت ہے مگر کیا ہے بزرگی
مطلب یہ ہے کہ جو حقیقتاً بزرگ ہوتا ہے وہ تو اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتا۔ لیکن جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا تو وہ اپنی بزرگی کا دعویٰ کرتا ہے۔
اپنی ہی بزرگی کا ہو قائل وہ ہے محجوب
محبوب بنے جس کی بھی فنا ہے بزرگی
اس کو سنا بہت ہے مگر کیا ہے بزرگی
خود پہ نظر ہو کیسے اگر یار دل میں ہو
طالب نہ ہو تو دل کا تماشا ہے بزرگی
اس کو سنا بہت ہے مگر کیا ہے بزرگی
تعجیل اس کو شیخ سے کرے ہے بد گماں
راہِ سلوک میں جس کا مدعا ہے بزرگی
اس کو سنا بہت ہے مگر کیا ہے بزرگی
ظاہر ہے اپنے شیخ سے توقع کرتا ہے کہ آج بس کچھ دے دے گا، آج کچھ مل جائے گا، آج کچھ اطلاع آ جائے گی۔ تو جب نہیں آتی تو کہتا ہے یہ شیخ پتا نہیں میری طرف دیکھ ہی نہیں رہا، دیکھیں۔ ادھر ادھر دیکھ رہا ہے، میری طرف دیکھ ہی نہیں رہا۔ تو ظاہر ہے بدگمانی تو ہو گئی نا۔ جب اس سے بدگمانی ہو گئی تو پھر آہستہ آہستہ اوپر اللہ پاک تک پہنچ جاتی ہے۔ پھر ادھر سے بھی بدگمانی ہو جاتی ہے، اللہ بچائے۔
اک شیخ پہ اعتماد ہی اس کا علاج ہے
بیماری اگر کوئی سمجھتا ہے بزرگی
اس کو سنا بہت ہے مگر کیا ہے بزرگی
شبیر اس کا فضل ہی مجھ کو بچائے گا
مہلک مرض بہت ہے یہ سنا ہے بزرگی
اس کو سنا بہت ہے مگر کیا ہے بزرگی
کہتے ہیں بزرگی ایک جال ہے، یہ رباعی ہے:
بزرگی ایک جال
ترا مقصود نہیں ہے یہ بزرگی چھوڑدے
یہ ہے باطن کی گندگی یہ گندگی چھوڑ دے
انگلیاں تیری طرف اٹھتی رہیں ہے یہ جال
خدا کے بندے اپنے نفس کی بندگی چھوڑدے
اب دیکھ لیں اس پہ بات جو آ رہی ہے نا غزل، یہ اصل میں اس کی نفی ہے۔
خدا کیلئے میں خدا چاہتا ہوں
نہ آہ چاہتا ہوں نہ واہ چاہتا ہوں
خدا کیلئے میں خدا چاہتا ہوں
اسی کا میں بندہ اسی سے میں مانگوں
اسی سے مدد ہر جگہ چاہتا ہوں
نہ آہ چاہتا ہوں نہ واہ چاہتا ہوں
اسی نے عطا کی ہے ایماں کی دولت
اسی سے ہی اس کی بقاء چاہتا ہوں
نہ آہ چاہتا ہوں نہ واہ چاہتا ہوں
خدا کیلئے میں خدا چاہتا ہوں
ھدایت کا طالب میں اسکے حضور ہوں
جو سیدھی ہو بالکل وہ راہ چاہتا ہوں
نہ آہ چاہتا ہوں نہ واہ چاہتا ہوں
اگرچہ میں عصیاں کی گرد سے اٹا ہوں
میں اس سے کرم کی نگاہ چاہتا ہوں
نہ آہ چاہتا ہوں نہ واہ چاہتا ہوں
خدا کیلئے میں خدا چاہتا ہوں
نہ کھینچیں مجھے دوسری بھول بھلیاں
طریقِ محمد ﷺ صفا چاہتا ہوں
نہ آہ چاہتا ہوں نہ واہ چاہتا ہوں
خدا کیلئے میں خدا چاہتا ہوں
نہ جبہ نہ قبا نہ دستار بندی
اللہ کرے کہ ایسی ہی ہماری نیت ہو جائے۔
نہ جبہ نہ قبہ نہ دستار بندی
جو مقبول ہو وہ ادا چاہتا ہوں
نہ آہ چاہتا ہوں نہ واہ چاہتا ہوں
خدا کیلئے میں خدا چاہتا ہوں
میں اس کی محبت کی دولت کا طالب
اسی کو ہے معلوم کیا چاہتا ہوں
نہ آہ چاہتا ہوں نہ واہ چاہتا ہوں
خدا کیلئے میں خدا چاہتا ہوں
خدایا مجھے اب تو اپنا بنا دے
خدایا میں تیری رضا چاہتا ہوں
نہ آہ چاہتا ہوں نہ واہ چاہتا ہوں
خدا کیلئے میں خدا چاہتا ہوں
کرم کر کرم کر کریموں کے خالق
کرم کی نظر میں سدا چاہتا ہوں
نہ آہ چاہتا ہوں نہ واہ چاہتا ہوں
خدا کیلئے میں خدا چاہتا ہوں
میں صدق صدیق اور عمر کی فراست اور عثماں کی جود و سخا چاہتا ہوں
نہ آہ چاہتا ہوں نہ واہ چاہتا ہوں
خدا کیلئے میں خدا چاہتا ہوں
علی کی شجاعت سے حصہ میں پاوں حسن کا طریق وفا چاہتا ہوں
نہ آہ چاہتا ہوں نہ واہ چاہتا ہوں
خدا کیلئے میں خدا چاہتا ہوں
میں شبیر سجدۂ شبیر نہ بھولوں ترے واسطے ہونا فدا چاہتا ہوں
نہ آہ چاہتا ہوں نہ واہ چاہتا ہوں
خدا کیلئے میں خدا چاہتا ہوں
اب ذکر کرتے ہیں ایک دفعہ سورۂ فاتحہ پڑھ لیں تین دفعہ سورۂ اخلاص۔
﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔ ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾۔
اللَّهُمَّ أَعِنَّا عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ۔ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ نَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهُ وَلَا تَكِلْنَا إِلَى أَنْفُسِنَا طَرْفَةَ عَيْنٍ۔ اللَّهُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا، وَأَكْرِمْنَا وَلَا تُهِنَّا، وَأَعْطِنَا وَلَا تَحْرِمْنَا، وَآثِرْنَا وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا، وَأَرْضِنَا وَارْضَ عَنَّا۔ اللَّهُمَّ اشْفِ مَرْضَانَا مَرْضَى الْمُسْلِمِينَ۔ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ نَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهُ وَلَا تَكِلْنَا إِلَى أَنْفُسِنَا طَرْفَةَ عَيْنٍ۔ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ۔ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ۔ يَا مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ۔ ﴿رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا﴾۔ ﴿رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا﴾۔ ﴿رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ﴾۔ ﴿وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا﴾۔ ﴿أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ﴾۔ اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ۔ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ حَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ۔ أَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ۔ ﴿سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ﴾۔