الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ:
فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
’’محقق کامل کے لیے تمام عالم مرآۃ الجمال الحق ہے۔‘‘
فرمایا محقق کامل کی نظر ہر چیز پر حضرت حق کے بعد ہی پڑتی ہے، یعنی ہر چیز سے اول حضرت حق پر نظر پہنچتی ہے، پھر اس چیز پر نظر پڑتی ہے۔ تمام عالم اس کے لیے مرآۃ الجمال الحق بن جاتا ہے۔
یعنی جو محقق ہوتا ہے، محقق اس کو کہتے ہیں جو تحقیق کرکے صحیح بات تک پہنچنے کی اہلیت رکھتا ہو، اس کو محقق کہتے ہیں۔
تو محقق کامل کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کی نظر پہلے اللہ پر پڑتی ہے، پھر بعد میں اللہ پاک کی مخلوقات پر، کہ اللہ نے جو چیزیں بنائی ہیں پھر اس کے بعد پڑتی ہے۔ لہٰذا اگر کسی چیز پر بھی اس کی نظر پڑ گئی تو مطلب ہے کہ اس کی اللہ پاک کی نظر پڑ گئی۔
اس وجہ سے وہ ہر چیز سے اللہ تعالیٰ کے تعلق کو حاصل کرتا ہے۔ یعنی اس کی نظر اتنی گہری ہوتی ہے کہ وہ ہر چیز میں اللہ جل شانہ کا جو تعلق ہے، وہ حاصل کر لیتا ہے۔ اور یہ چیز جب بڑھ جاتی ہے تو پھر اسی کو صوفیاء نے ’’وحدت الوجود‘‘ کہا ہے۔
یعنی وہ باقی تمام چیزوں سے نظر ہٹ جاتی ہے اور صرف اللہ پر نظر پڑتی ہے۔ تو اس وجہ سے وہ جب کہتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی ہے ہی نہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی مؤثر نہیں ہے۔ دوائی بھی کرتا ہے تو اللہ پہ نظر ہے، اللہ پاک چاہے گا تو ہو گا۔ ہاں جی، کھانا بھی کھاتا ہے تو اس کا یہی ہوتا ہے کہ اللہ پاک اس سے نفع دے گا تو دے گا۔
یعنی وہ ہر چیز میں اللہ جل شانہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یہ جو ہم کہتے ہیں ’’ما شاء اللہ‘‘، ’’ان شاء اللہ‘‘، یہ اس کے مطلب گویا کہ اثرات ہیں۔ جب مسلمان کسی کام کرنے کا ارادہ کرتے ہیں کہتے ہیں: ’’ان شاء اللہ میں ایسے کروں گا‘‘۔ جب کسی چیز کی تعریف کرتے ہیں تو کہتے ہیں: ’’ما شاء اللہ کیا بات ہے‘‘۔ ہاں جی، جب کسی اچھی چیز کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں: ’’الحمد للہ یہ بہت اچھا ہوا‘‘۔
تو الغرض یہ ہے کہ ہمارے الفاظ تو ہماری زبان پر بھی ہیں، سبحان اللہ بھی کہتے ہیں، الحمد للہ بھی کہتے ہیں، ان شاء اللہ بھی کہتے ہیں، ما شاء اللہ بھی کہتے ہیں۔ لیکن ان میں جان نہیں ہوتی، وہ صرف اور صرف الفاظ تک ہی ہوتے ہیں۔ لیکن جس وقت انسان الفاظ سے نکل کر حقیقت پہ پہنچ جائے، جس کے بارے میں حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے:
راہ بگذار مردِ حال شوپیشِ مردِ کاملے پامال شو
قال کو ایک طرف کر لو، یہ جو باتیں کر رہے ہو اس کو ابھی فی الحال ایک طرف کر لو، پہلے اس کے اندر جان تو لے آؤ۔ مردِ حال بن جاؤ۔ اور یہ ویسے نہیں ملے گا حضرت فرماتے ہیں، اس کے لیے ویسے نہیں ملے گا، باتوں سے نہیں ملے گا، باتوں سے تو باتیں ملیں گی۔
باتوں سے باتیں ملیں گی، حال سے حال ملے گا۔ تو جو صاحبِ حال شیخِ کامل ہے، ان کے سامنے اپنے آپ کو پامال کر دو پھر وہ چیز ملے گی۔ ہاں جی، تو یہ والی بات مطلب حضرت نے... تو جو کاملین ہیں، محقق کامل، وہ ان کے ان الفاظ میں جان ہوتی ہے۔ وہ جب قرآن پڑھتے ہیں تو قرآن پاک کے ایک ایک لفظ میں ان کو سبحان اللہ نور ملتا ہے، ہدایت ملتی ہے، تعلق مع اللہ ملتا ہے۔ ورنہ خدانخواستہ، اللہ پہ نظر نہ ہو دنیا پہ ہو، تو قرآن سے بھی دنیا کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن سے بھی دنیا کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس وجہ سے فرماتے ہیں کہ قرآن سے بھی ہدایت اس کو ملے گی جو اللہ والا ہو گا، جو جس کا دل بنا ہو گا۔ دل بنا نہیں ہو گا تو قرآن سے بھی دنیا حاصل کرے گا۔
اس وجہ سے ہمیں جو ہے نا وہ... (یہ فون آیا تھا تو میں نے کہا وہ ٹرائی کیا لیکن وہ آپ لوگ لیٹ ہو گئے تو اب آٹھ بجے فون کریں، یہ مطلب ابھی دوبارہ کر لیں وہ)۔
’’کاملین کے اقوال کی اقتداء کا مطلب۔‘‘
فرمایا کاملین کے اقوال کی اقتداء کرنا چاہیے یعنی وہ تم کو جو امر کریں اس پر عمل کرو۔ یہ مطلب نہیں کہ ان کی طرح اسرار و دقائق بیان کرنے لگو کیونکہ اس کا نام تقلید و اطاعت نہیں بلکہ اس کو نقالی محض کہتے ہیں۔
سبحان اللہ! یہ بڑی عجیب بات فرمائی۔ مثلاً ہم کہتے ہیں بھائی ڈاکٹر کی بات جو ہے نا اس کی اقتداء کرو۔ تو کیا خیال ہے ڈاکٹر کی بات کا اتنا مطلب ہے کہ خود ڈاکٹر بن جاؤ؟ ہاں جی، اس کا مطلب یہ نہیں۔ مطلب ڈاکٹر جن چیزوں سے منع کرتے ہیں اس سے منع ہو جاؤ، ڈاکٹر جن چیزوں کے بارے میں کہتا ہے اس میں فائدہ ہے تو اس سے فائدہ حاصل کر لو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم بھی ڈاکٹر بن جاؤ۔
تو اس لیے جو کاملین کے اقوال ہیں، اس کی اقتداء کا مطلب یہ ہے کہ ان کی بات کو مان لینا چاہیے، اس پر عمل کرنا چاہیے، ان کی نقالی نہیں کرنا چاہیے کہ خواہ مخواہ جو ہے نا ان کی طرح بننے کی کوشش کرو۔
ایک دفعہ حضرت مفتی... حضرت شارفی الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ جو دیوبند کے مہتمم تھے، وہ تشریف لے گئے تھے وہ بڑے صاحبِ کشف تھے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ بھی ساتھ تھے، کچھ طالب علم بھی ساتھ تھے۔ تو قبر پر، جو صاحبِ قبر تھے اس پہ مراقب ہو گئے۔ پھر جو طالب علم تھے انہوں نے بھی آنکھیں بند کر لیں۔ تو حضرت نے ان دو طالب علموں کو پیچھے سے وہ جھپڑ رسید کر دیا کہ یہ آنکھ تو تمہاری بند ہے تو وہ کیوں بند کر دی؟ مطلب تمہیں کیا نظر آ رہا ہے؟ تم کیوں خواہ مخواہ نقالی کر رہے ہو؟
تو یہ مطلب یہ ہے کہ بعض دفعہ اس طرح ہے کہ جو بزرگ بیان فرماتے ہیں، تو ان کی طرح ہم بھی اگر بیان کرنے لگیں تو کیا خیال ہے ہم بھی ان کی طرح ہو جائیں گے؟ ہم ان کی باتوں کی نقل سے کچھ نہیں ہوتا۔ ہاں ان کی باتوں پہ چل چل کے اگر اللہ پاک آپ کو بھی وہ چیز دے دے تو سبحان اللہ۔ مطلب ان کی باتوں پہ چل چل کے، ان کے طریقے پہ عمل کرتے کرتے اگر آپ کو بھی اللہ تعالیٰ اس نعمت سے نواز دے ان کی برکت سے، تو اللہ کا شکر ادا کرو، پھر ٹھیک ہے۔ لیکن اس کا فیصلہ تم کب کرو گے کہ مجھے اب کرنا چاہیے؟ وہ خود بتا دیں گے کہ اب کرو۔ وہ خود بتا دیں گے، جب بتا دیں تو پھر کرو۔ جب تک نہ بتائیں تو عمل کرو۔
’’خلق و مدارات سے معمولات میں ناغہ کرنا مضرِ باطن ہے۔‘‘
فرمایا اگر تم کو خلق و ارتباط بالاحباب کی وجہ سے اپنے معمولات کا ناغہ کرنا ہے تو ایک دن بالکل کورے رہ جاؤ گے۔
آہ! سبحان اللہ۔
مَنْ لَا وِرْدَ لَهُ لَا وَارِدَ لَهُ
جس کا کوئی ورد نہیں، اس کو کوئی وارد نہیں ملنا۔ اس کے دل پہ کوئی بات نہیں آئے گی۔
یہ اصل میں ان لوگوں سے فرما رہے ہیں جن کے ذمے کچھ دین کا کام کرنا ہے۔ مثلاً کوئی مدرسے میں دین کا کام کر رہا ہے، کوئی خانقاہ چلا رہا ہے، کوئی سیاست کا کام کر رہا ہے، کوئی اور شعبے میں جو ہے نا مطلب لگا ہوا ہے۔ تو ان کو چاہیے کہ وہ دین کا کام کرتے کرتے ساتھ اپنے معمولات کا بھی اہتمام کریں۔ کیونکہ معمولات انجن ہیں روحانیت کے۔ اگر معمولات پر عمل نہیں رہے گا، تو آہستہ آہستہ وہ توانائی ختم ہو جائے گی۔ ہاں جی توانائی ختم ہو جائے گی، تو پھر کچھ بھی نہیں رہے گا۔
اس وجہ سے اپنے معمولات کو، جو ہے نا معمولات کا جو ہے نا وہ پورا اہتمام کرنا چاہیے۔ ورنہ پھر بالکل کورے ہی رہ جاؤ گے حضرت فرماتے ہیں۔
آپ ہزار دیکھتے ہیں کہ آج کل عشاء کے بعد اکثر میں جب معمولات کرتا ہوں تو لوگ آ کے بیٹھ جاتے ہیں لیکن ان سے میں بات نہیں کرتا، میں ان کے معمولات میں لگا رہتا ہوں۔ کہتا ہوں بھائی ٹھیک ہے جی اگر اس وقت بھی میں نے نہیں کیا تو پھر تو رات رہ جائے گی، پھر تو رہ جائیں گے۔ مناسب نہیں ہے۔ تو اس وجہ سے میں ان کا خیال رکھوں یا اپنا خیال رکھوں؟
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دوسروں کی گٹھڑی کے لیے... جوتوں کی حفاظت کے لیے اپنی گٹھڑی کو گم نہ کریں۔ بھائی ٹھیک ہے دوسروں کا خیال اچھا ہے، اچھی بات ہے لیکن اتنا بھی نہیں کہ اپنے... کیا خیال ہے لوگوں کو کھلاتے کھلاتے انسان خود کھانا چھوڑ دیتا ہے؟ اگر لوگوں کو کھلاتے کھلاتے انسان اپنا کھانا چھوڑ دے تو پھر چلو تم جی بھی کرو۔ وہ تو لازمی کھاتا ہے۔
تو اسی طریقے سے مطلب یہ ہے کہ اگر آپ لوگوں کو کھلا رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو خود بھی کھانا چاہیے تاکہ توانائی باقی رہے اور آپ کچھ کر سکیں۔ اور اگر آپ نہیں کھاتے، لوگوں کو کھلا رہے ہیں تو کتنے دن کھلاؤ گے مجھے بتاؤ؟
کہتے ہیں جی میرے پاس کھانے کا وقت ہی نہیں!
فرمایا ٹھیک ہے دو تین دن کے بعد قبر کی تیاری کر لو۔ یہی ہو گا نا پھر؟ اس کے علاوہ کیا ہو گا؟
اس وجہ سے انسان کو اپنے معمولات نہیں چھوڑنے چاہیے۔ اپنے معمولات بالکل نہیں چھوڑنے چاہیے۔ یہ جو میں معمولات کا پرچہ بہت آج کل اہتمام کے ساتھ مانگتا ہوں، مجھے خطرہ ہے کہ ہمارے ساتھیوں میں سے بعض لوگ معمولات سے غفلت کر رہے ہیں۔ آہستہ آہستہ پھر اپنی پرانی پوزیشن پہ آ جائیں گے جہاں سے چلے تھے، تو کیا فائدہ پھر؟ اب جب پرانی پوزیشن پہ آ جائیں گے، لوگ ان کو بزرگ سمجھیں گے اور خود بزرگ بن جائیں گے۔
اس وجہ سے جو ہے نا مطلب ہے کہ یہ جو ہے نا میں بہت زیادہ اس پر آج کل زور دے رہا ہوں۔ میرے خیال میں ابھی میرے ذہن میں یہ بات آئی ہے کہ ایک Questionnaire (سوالنامہ) ہم بنا لیں۔ کیونکہ اکثر لوگ کہتے ہیں جی ہمیں وقت نہیں ملتا۔ وقت نہیں ملتا نا مطلب وہ فِل (fill) کرنے کا، یعنی کرتے تو ہیں لیکن فِل کرنے کا وقت نہیں ملتا۔ تو چلو اس کی اتنی خدمت اور ہم کر لیں گے کہ کسی کا اگر معمولات کا چارٹ نہیں آیا، تو وہ Questionnaire ہو گا Yes (ہاں) اور No (نہیں) میں۔ تو وہ تو ان کو پتہ ہی ہو گا نا۔ مثلاً آپ سے کوئی نماز قضا تو نہیں ہوئی؟ Yes or No میں جواب تو دیا جا سکتا ہے نا۔ اب اگر پتہ نہیں ہوتا تو پھر مجذوب ہے، مجذوب کی تو اقتداء نہیں کرنی چاہیے۔ اتنا بھی اگر پتہ نہ ہو کہ مجھ سے نماز قضا ہوئی اور پتہ بھی نہ ہو کہ مجھ سے نماز قضا ہوئی یا نہیں ہوئی اگر اس کو کسی کو اتنا پتہ بھی نہیں تو کیا خیال ہے پھر تو ہم اس کے اوپر مجذوب کا فتویٰ لگا دیں گے۔
تو وہ یہ ہے کہ اس طرح Questionnaire ہو گا short (مختصر)۔ ان کو ایسی اسی مجلس میں ان سے جواب لینا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو جن کے مطلب کوئی تاریخ فکس (fix) کر لیں گے اس تاریخ تک اگر کسی معمولات کا چارٹ نہیں آیا تو پھر ان کو وہ... وہ دینا لازم ہو جائے گا۔ وہ دینا لازم ہو کر کے آپ فِل کر لیں اور ہمیں دے دیں، پندرہ منٹ میں واپس کر لیں۔ بس بس پھر ٹھیک ہے پھر جو ہے نا وہ... اور نہیں تو بھائی پوسٹ ہم بھیج سکتے ہیں جو مطلب نہیں آ رہے مثال کے طور پر بھائی پوسٹ بھیج دیں گے۔ تاکہ حجت تو تمام ہو جائے نا۔ حجت تو تمام... ہمارے اوپر ذمہ داری ہے۔ ذمہ داری پوری کرنے کے لیے تو ہمیں کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑے گا نا۔
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے خلیفہ کے بارے میں فرمایا کہ میں نہیں کہتا کہ وہ ٹھیک نہیں ہیں، البتہ مجھے پتہ نہیں ہے کہ ٹھیک ہیں۔ لہٰذا میں ان کی ذمہ داری نہیں لیتا۔ بات سمجھ آ رہی ہے نا؟ یعنی پتہ نہ ہونا یہ کافی ہے نا۔ مجھے پتہ ہو گا نا کہ وہ کام کوئی کر رہا ہے، صحیح کر رہا ہے نہیں کر رہا، تو میں اس کی گواہی دے سکتا ہوں۔ مجھے پتہ نہ ہو تو میں گواہی دے سکتا ہوں؟ تو ساری گواہی والی بات ہے۔ تصوف ایک گواہی والی بات ہے۔ تو اس وجہ سے جو ہے نا اس مسئلے میں ذرا تھوڑا سا دیکھیں نا حضرت نے بھی صاف صاف فرما دیا ہے، مطلب اس میں درمیان میں کوئی ایسی ویسی بات نہیں ہے کہ حضرت نے فرمایا: "مَنْ لَا وِرْدَ لَهُ لَا وَارِدَ لَهُ"۔ جس کا ورد نہیں معمول پر، تو اس کو کوئی وارد نہیں ملے گا۔
اس وجہ سے جو ہے نا مطلب یہ تو نہیں ہو سکتا نا کہ مطلب ہر ایک کے لیے قانون اللہ تعالیٰ کا... بھائی اللہ پاک کے جنرل قانون میں کوئی کھانا کھائے گا تو ظاہر ہے وہ کام کر سکے گا، کھانا نہیں کھائے گا تو کام کیا کر سکے گا؟ یہ اللہ پاک کا قانون ہے۔ دوسرا کہتا ہے نہیں میرے لیے اللہ پاک کا علیحدہ قانون ہے، وہ میں کھانا کھائے بغیر بھی کر سکتا ہوں۔ ثابت کرنا پڑے گا۔ یہ Exception (استثنیٰ) ہے General Law (عام قانون) سے۔ تو General Law سے Exception تو ثابت کرنی پڑتی ہے نا۔ اس کے ذمے جو یہ دعویٰ کرتا ہے دلیل اس کے ذمے ہوتی ہے۔ بس یہ مطلب یہ والی بات ہے کہ جو مطلب جن کا معمول کا چارٹ ایک خاص وقت تک نہیں آیا، نہ soft copy (سافٹ کاپی) نہ hard copy (ہارڈ کاپی)، تو ایسی صورت میں ہم ان کو ان کی ہارڈ کاپی پکڑا دیں گے۔
کہ یہ Questionnaire ہے، یہ جو ہے نا مطلب آپ فِل کر لیں، مطلب جو ہے نا بس سیدھے سیدھے جوابات ہوں گے۔ کیا آپ کی ساری نمازیں تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ ہیں؟ جواب میں: ’’نہیں‘‘، ’’ہاں‘‘، ’’کبھی کبھی‘‘، ’’اکثر‘‘۔ چار چیزیں۔ اکثر کا مطلب پندرہ سے زیادہ، کبھی کبھی کا مطلب پندرہ سے کم۔ جواب مل جائیں گے۔ کیا خیال ہے اتنا تو لوگوں کو پتہ ہو گا نا کہ مطلب یہ ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا۔
تو یہ ساری باتیں جو ہے نا اب مجبوری ہے۔ اب مجبوری ہے۔ اگر لوگ اس کو لائٹ (light) لے رہے ہیں، غلط کر رہے ہیں۔ اس کو لائٹ نہیں لینا چاہیے۔ یہ ہمارے لیے ضروری ہے کیونکہ جس پر آپ اعتماد کر رہے ہیں تو وہ اعتماد پورا ہونا چاہیے۔ یہ والی بات۔ اچھا۔
’’شیخ کو زبان ہونا چاہیے، مرید کو کان۔‘‘
فرمایا ناقص کو بولنے کی اجازت نہیں کیونکہ اس کو سکوت ہی میں محبوب کی طرف توجہ رہتی ہے اور کامل کو نطق و سکوت دونوں میں محبوب کی طرف توجہ رہتی ہے اس لیے اس کو بولنے کی ضرورت ہے تاکہ طالبین کو فیض زیادہ ہو۔ غرض یہ کہ شیخ کو تو زبان ہونا چاہیے اور مرید کو کان۔ میں نے منتہی کے لیے اس مشورہ کے ایک شعر تجویز کیا ہے:
جائے رخ کہ خلق را و الا شوںدہراں بکشائے لب کہ فریاد از مروزاں برآید
ہاں ٹھیک ہے مطلب۔ مطلب یہ ہے کہ اس میں انسان کو خلق کے افادے کے لیے جو مطلب اللہ تعالیٰ بھیج رہے ہیں ان کو لوگوں تک پہنچانا چاہیے، ان کی امانت ہے۔ ہاں جی لوگوں کو، لوگوں کو وہ بھیجنا چاہیے... پہنچانا چاہیے۔
’’کاملین علاوہ احکامِ مشترکہ کے ہر وقت کے احکامِ خاصہ کو بھی پہنچاتے ہیں۔‘‘
فرمایا محققین کاملین تکلم و سکوت سے ہر حالت میں محبوب کی شئون کو پہچانتے ہیں کہ اس وقت وہ کس چیز پر خوش ہے۔ وہ بلا تشبیہ ایسے ہوتے ہیں جیسے ایاز، کہ ایاز کے لیے کوئی قاعدہ اور قانون نہ تھا وہ بادشاہ سے ایسے وقت میں بھی باتیں کر سکتا ہے جس میں دوسروں کے لیے بات کرنے کی اجازت نہ تھی۔ کیونکہ وہ مزاج شناس تھا، موقع اور وقت کو پہچانتا تھا۔ اب ہر شخص کو اگر ایاز کی ریس کرنے لگے تو اس کی حماقت ہے۔ بلکہ اور درباریوں کو تو قواعد و قوانینِ عامہ ہی کا اتباع لازم ہوتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ جل شانہ کے ساتھ تعلقِ کامل رکھتے ہیں، تو وہ ہر حالت میں وہ کر سکتے ہیں۔ اکثر میں عرض کرتا ہوں کہ دیکھیں مراقبہ ایک ایسی چیز ہے جس کے لیے یکسوئی اور توجہ کی ضرورت ہے، بغیر اس کے مضمون ہوتا نہیں ہے۔ لیکن اللہ پاک نے اگر کسی کو اس میں کمال نصیب کیا ہو تو میں ان کے بارے میں عرض کرتا ہوں کہ وہ گاڑیوں کے ساتھ لٹک کر بھی مراقبہ کر سکتے ہیں۔ یعنی گاڑی کے ساتھ لٹک کے جا رہا ہو تو اس وقت انسان کی جان پہ بنی ہوتی ہے نا، ہاں جی، وہ اس وقت بھی مراقبہ کر سکتے ہیں۔
اور جو مبتدی ہوتا ہے اس کو تھوڑا سا شور بھی ڈسٹرب (disturb) کر لیتا ہے۔ کہیں سے شور آ گیا، کسی نے بات کر لی ہے، کیا ہے، وہ جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ وہ بکھر جائے گا اور ان کے خیالات آگے پیچھے ہو جائیں گے، تو وہ نہیں کر سکے گا۔ لیکن جو کامل ہو گا وہ جو ہے نا مطلب ہر حال میں مطلب اس کو کر سکے گا۔ ٹھیک ہے نا۔
تو اس طریقے سے جو ہے نا مطلب جو اللہ کے کامل تعلق والے ہوتے ہیں وہ ہر حال میں اللہ کے ساتھ تعلق جوڑ لیتے ہیں۔ ایک ہوتا ہے ’’ابن الحال‘‘ اور ایک ہوتا ہے ’’ابو الحال‘‘۔ یہ بھی ذرا دو ٹرم (terms) ہیں۔ ابو الحال اور ابن الحال۔ ابن الحال اس کو کہتے ہیں کہ جب اس پہ کوئی حال طاری ہو جاتا ہے تو اس کے مطابق اس سے کام ہوتا ہے۔ اور ابو الحال وہ ہوتا ہے جو اپنے اوپر کسی بھی حال کو طاری کر سکتا ہے۔ ایک مثلاً ایک مرید آ گیا اس کو قبض ہے، قبض کی حالت ہے۔ تو اب وہ قبض کی حالت کے مطابق کیا کرنا چاہیے، وہ اپنے اوپر طاری کر لے گا، اس سے بات کر لے گا اور اس کو اس سے نکال لے گا۔ اور کسی کو مطلب یہ بات ہے کہ زیادہ بے باکی ہے تو اس کے مطابق وہ کوئی حال طاری کر کے مطلب اس کو بات پہنچا دے گا۔
تو مقصد یہ ہے کہ جو کامل ہوتے ہیں وہ اپنے اوپر حسبِ حال حال طاری کر لیتے ہیں کہ جو جس وقت ضروری ہوتا ہے اس کے مطابق وہ کر سکتا ہے۔
’’کمال کے حصول کا طریقہ۔‘‘
فرمایا کمال تو اس طرح حاصل ہو گا کہ کاملین کے سامنے اپنے آپ کو پامال کر دو، یعنی اپنی فکر و رائے کو فنا کر دو اور اس کے لیے تیار رہو کہ شیخ میری ذات میں جو کچھ بھی تصرف کرے گا میں اس کو خوشی سے برداشت کر لوں گا اور اس کو اپنی فلاح و صلاح سمجھوں گا۔
فکرِ خود رائے خود عالمِ رندی نیستکفر است دریں مذہبِ خود بینی و خود رائی
مطلب یہ ہے کہ اپنی رائے پر چلنا اس کے بارے میں جو فکر ہے، یہ عالمِ رندی نہیں ہے، مطلب یہ عشق والی لائن نہیں ہے۔ یہ عشق والی لائن نہیں ہے۔ اس مذہب میں تو خود بینی خود رائی کفر ہے۔
مطلب جو عشق کا مذہب ہے اس میں تو خود رائی اور خود بینی جو ہے کیا ہے؟ یہ تو کفر ہے۔ تو اس وجہ سے اپنی رائے پر نہیں چلنا چاہیے بلکہ جو ان کا مصلح ہے، جو شیخ ہے، جس کے بارے میں اس کو شرح صدر ہے کہ میرا خیر خواہ ہے، اس پہ اپنی بات چھوڑنی چاہیے، وہ جو بتائے گا۔
اب دیکھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بعض دفعہ صحابہ کرام سے ایسے سوال پوچھ لیتے تھے جس کا جواب ایک بچہ بھی دے سکتا ہے۔ یعنی بالکل سمپل (simple) سوال ہوتا تھا، بہت کلیئر (clear) بات ہوتی تھی، اس میں درمیان میں کوئی Ambiguity (ابہام) نہیں ہوتی تھی۔ تو صحابہ کرام اس پر بھی فرماتے ہیں: ’’اللہ اور اللہ کا رسول بہتر جانتے ہیں، اَللّٰهُ وَرَسُوْلُهُ اَعْلَمُ‘‘۔
کیونکہ ان کو پتہ ہوتا تھا کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ ہمارے تجربہ اور علم کے مطابق ہے اور جو اللہ سے براہِ راست لے رہے ہیں ان کی بات الگ ہے۔ تو ہمارا علم اور تجربہ تو ناقص ہے اور اللہ تعالیٰ کا علم تو کامل ہے۔ لہٰذا ہم اس چیز کو کیوں نہ لیں گے جو کامل سورس (Source) سے آ رہا ہے۔
لہٰذا وہ اس موقع کی تاک میں ہوتے تھے کہ کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آ جائے تو پھر ہم وہ کریں گے۔ ہمارے شیخ مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ایک دفعہ بہت کوشش فرما رہے تھے کہ حضرت مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ جو حضرت تشریف رکھتے تھے، ان کی زبان سے کچھ ملفوظات کہلوائیں۔ کیونکہ حضرت بہت خاموش تھے، کہتے کچھ نہیں تھے، صرف روتے رہتے تھے۔ تو حضرت ان سے سوال پوچھتے تھے، تو حضرت اس بات کو آگے نہیں بڑھاتے، بس ہاں ہوں میں جواب دیتے تھے تھوڑا سا مختصر سا۔ تو پھر حضرت کو کہنا پڑا کہ حضرت ہمارا دل تو تھا کہ آج آپ ہی کچھ فرماتے، آج ہمیں وہ فائدہ پہنچاتے۔ فرمایا کہ آپ میری زبان ہیں نا، جو آپ کہہ رہے ہیں بس یہ ہے نا۔ پتہ چلا کہ حضرت ان کے قلب کی طرف متوجہ تھے اور جو کچھ فرمانا چاہتے تھے حضرت کی زبان پہ وہ آ رہا تھا۔
تو ایسا ہوتا ہے۔ ہاں جی کہ جن کو اللہ تعالیٰ اپنے نظام کا حصہ بنا لیتے ہیں، پھر ان کی زبان پہ وہ جاری فرما دیتے ہیں جو ہونا چاہیے، جو بات ہونی چاہیے وہ جاری فرما دیتے ہیں۔ تو اس وجہ سے اگر کسی کو اپنے شیخ کے بارے میں یہی گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ سے لے رہا ہے، تو پھر اپنی رائے اس کے سامنے فنا کرنی چاہیے نا۔ پھر اپنی رائے اس کے سامنے کیا مطلب وہ بنانی چاہیے؟ پھر اپنی رائے اس کے سامنے فنا کرنی چاہیے، پھر جو اس کی طرف سے آئے گا انشاء اللہ وہ خیر ہی خیر ہو گا۔
’’مہم کے درست ہونے کا طریقہ۔‘‘
فرمایا اپنے بزرگوں کے ہاتھ سے جو ذلت ہو وہ ذلت نہیں بلکہ بڑی عزت ہے، اس لیے اپنے بزرگوں کے سامنے ذلت و ناگواری سے... ذلت سے ناگواری نہیں ہونی چاہیے۔ یہی کامیابی اور عزت کا پیش خیمہ ہے۔ فہم کی درستگی چاہتے ہو تو کاملین کے سامنے ہر ذلت کو گوارا کر کے کچھ دنوں ان کے پاس رہو۔
اصل میں ہر، ہر فن میں اس پر عمل ہو سکتا ہے، جو یہ بات فرمائی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ دنیا کی لائن کے بھی کمانے والے ہیں، وہ بھی اس پر عمل کرتے ہیں۔ وہ اپنے استاد کے سامنے اپنے آپ کو مٹاتے ہیں تب کچھ ملتا ہے۔
ایک دفعہ ایسا ہوا ہمارے ایک بھانجے تھے، ان کو کچھ مسئلہ ہوا، Confusion (الجھن) ہوئی۔ تو اس نے اپنے والدین کو کہا میں میٹرک کا امتحان نہیں دے سکتا۔ میں چلا گیا کسی کام سے، تو ان کے والدین نے کہا کہ اس طرح یہ فلاں کہہ رہا ہے، یہ فلاں تو یہ کہہ رہا ہے کہ میں میٹرک کا امتحان نہیں دے سکتا۔ میں نے کہا انشاء اللہ میں سمجھا دوں گا اس کو۔ میں نے بلایا، میں نے کہا کیوں امتحان نہیں دے رہے ہو؟ کہتا ہے مجھے کچھ یاد نہیں ہوتا، مجھے کچھ یاد نہیں ہوتا۔ میں نے کہا تم جھوٹ کہتے ہو۔ تو وہ سیخ پا ہو گیا کہ آپ کیسے میرے اوپر الزام لگاتے ہیں میں جھوٹ کہتا ہوں؟ مجھے پتہ ہے یا آپ کو پتہ ہے؟ میں نے کہا مجھے پتہ ہے۔ کہتا ہے کیسے؟ میں نے کہا ابھی ثابت کر دوں۔ کہتا ہے اچھا ثابت کر دو۔
میں نے کہا آپ جو کتاب پہلی دفعہ پڑھتے ہیں، مثلاً وہ آپ نے ایک چیز کو چار گھنٹے میں دیکھ لیا۔ دوسری دفعہ دیکھیں پھر بھی چار گھنٹے میں دیکھو گے؟ کہتے ہیں نہیں، میں نے کہا پھر؟ کہتے ڈیڑھ گھنٹہ دو گھنٹے لگ جائے گا۔ میں نے کہا یہ دو گھنٹے کہاں سے نکل آئے بتاؤ؟ اگر آپ کے ذہن میں کچھ بیٹھا نہیں ہے تو یہ دو گھنٹے کم کیسے ہوئے؟ اس کا مجھے دلیل دو۔ اس کا مطلب ہے آپ کو کچھ ہو گیا نا مطلب فائدہ، کچھ حجم آپ کے ذہن میں آ گیا، تو اس وجہ سے آپ کے دو گھنٹے بچت ہو گئی اور اگر تیسری دفعہ کرو گے پھر؟ اس سے اور بھی کم ہو جائے گا۔ میں نے کہا یہی بات ہے، یہ سب کے ساتھ ایسا ہوتا ہے، Efficiency (کارکردگی) ہوتی ہے، سارا نہیں یاد ہوتا۔ جتنا جس کو یاد ہوتا ہے وہ اس کی Efficiency ہوتی ہے۔ تو اگر کسی کو Efficiency کم ہے تو زیادہ، زیادہ بار دیکھے۔ یہ تو نہیں کہ مطلب اس کو یاد نہیں ہوتا، یہ تمہارا جھوٹ ہے کہ تم کہتے ہو مجھے یاد نہیں ہوتا۔ وہ مان گیا، تسلیم کر لیا، کہتا ہے ہاں بات صحیح ہے۔
میں نے کہا بات سنو، اب میں آپ کو صرف دو چیزیں بتاؤں گا: ایک اسٹڈی (study) کا طریقہ بتاؤں گا، ایک پیپر اٹیمپٹ (attempt) کرنے کا طریقہ بتاؤں گا، بس انشاء اللہ تمہارا کام ہو جائے گا۔ اس نے کہا بالکل ٹھیک ہے۔ اسٹڈی کا طریقہ تو میں نے بتا دیا اسی وقت ہی۔ اس نے اس طریقے سے کام شروع کر لیا، پیپر اٹیمپٹ کرنے کا طریقہ بتا دیا بعد میں۔ لیکن اس کو جب یقین ہو گیا کہ اس سے مجھے فائدہ ہوتا ہے، اس نے پھر میری منت سماجت شروع کر لی کہ میں آپ کے ساتھ ہونا چاہتا ہوں مطلب تاکہ میں آپ سے سیکھوں۔ میں نے کہا بھئی میری شرائط بڑی سخت ہیں، نہیں ٹھہر سکتے ہو۔ میرے ساتھ، کہتے کیسے؟ میں نے کہا میں تمہیں اس شرط پر سکھا سکتا ہوں کہ جس وقت میرا موڈ (mood) ہو سکھانے کا اس وقت تم آؤ گے، ویسے مجھ سے نہیں پوچھو گے۔ کیونکہ میں بھی ایف ایس سی (FSc) کا تیاری کر رہا تھا۔ تو میں نے کہا بھئی میں ہر وقت آپ کو نہیں پڑھا سکتا، جس وقت میں کہوں چاہے تمہارے ہاتھ آٹا میں گوندھنے میں... وہ ظاہر ہے وہ کام کر رہا تھا خدمت کر رہا تھا پھر۔ تو اس کے لیے تو پھر سب لوگ کرتے ہیں خدمت بھی کرتے ہیں۔ تو وہ جو ہے نا وہ میں نے کہا اگر تمہارا ہاتھ آٹا گوندھنے میں وہ بھی ہو، اس وقت بھی اگر میں تمہیں بلاؤں تو ہاتھ دھوئے بغیر پہنچنا ہے۔ پھر اگر میں کہوں تو پھر ہاتھ دھونے ہیں، کہتا ہے ٹھیک ہے بس مان لیا۔ پھر اس کو میں نے اپنے ساتھ رکھا اور اس طریقے سے الحمد للہ آج وہ ما شاء اللہ پورا گریزن چلا رہے ہیں Agriculture Engineer (زرعی انجینئر)۔ جو کہتا ہے میں میٹرک نہیں کر سکتا۔ Agriculture Engineer ہے کل۔
مقصد میرا یہ ہے کہ دیکھو یہ والی بات کہ دنیا کے اندر بھی جو لوگ کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کو اپنے آپ کو پامال کرنا پڑتا ہے۔ اپنے آپ کو پامال کرنا پڑتا ہے پھر کچھ ملتا ہے۔ تو دین کے معاملے میں جو کہ بہت زیادہ نازک لائن ہے، تو کیا اس میں یہ نہیں ہو گا؟ اس میں بھی یہ ہو گا، لہٰذا اس وجہ سے فرمایا کہ ہر ذلت کو انسان گوارا کر لے اور جو ہے نا ان کے پاس... یہ جو ہوتے ہیں نا یہ آپ حیران ہوں گے کہ یہ جو مکینک (mechanic) ہوتے ہیں کس طرح مکینک بنتے ہیں؟ کیا خیال ہے عظیم صاحب؟ کیسے بنتے ہیں؟ یہ جتنا گالیاں کھاتے ہیں، جتنے جھڑکیاں کھاتے ہیں، وہ ہم نے دیکھے ہیں۔ پھر یہ کبھی، پھر یہ خود بھی گالیاں دیتے ہیں اور جھڑکیاں دیتے ہیں جب یہ استاد بن جاتے ہیں۔ سیدھے منہ تو بات کرنا جانتے ہی نہیں ان کے استاد۔ یعنی یہ تو ان کا جو ہے نا سیدھی منہ بات کرنا عادت ہی نہیں ہوتی۔ جب بھی کبھی بلائے گا، "او فلانیہ! ادھر آ جاؤ"، کچھ دو تین گالیاں بھی ساتھ دیں گے، پھر وہ آئے گا۔ طریقہ یہ ٹھیک نہیں ہے، ذہن میں اس کا حق میں نہیں ہوں کہ مطلب ظاہر ہے کوئی اس طرح کرے، یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے، لیکن دیکھو انہوں نے تمام ذلت گوارا کی ہوتی ہے یا نہیں ہوتی؟ یہ ساری ذلت گوارا کی ہوتی ہے کہ وہ پرانے دور میں کیمیا کے بارے میں بڑی باتیں مشہور تھیں، تو اس کے لیے لوگ بڑی ذلتیں اٹھاتے تھے لوگوں کی۔ مطلب یہ ہے کہ جو ہے نا یہ، یہ جو دنیا کی جو چیز ہے وہ بھی اسی طریقے سے حاصل ہوتی ہے، تو دین کے لیے بھی جو اس طرح برداشت کرتا ہے تو ان کو یہ چیز حاصل ہو جاتی ہے کسی وقت۔
’’خود رو سلیم الفہم میں صلاحیت فیض رسانی کی نہیں ہوتی۔‘‘
کیا عجیب بات فرمائی!
خود رو عیب ہے، سلیم الفہم خوبی ہے، دونوں کا نتیجہ منفی ہے۔
کیا خیال ہے؟ سیدھی دیوار کو ٹیڑھی بنیاد پہ رکھ لو تو نتیجہ کیا ہو گا؟ کیا خیال ہے؟ دیوار سیدھی ہو جائے گی؟ ہاں تو یہی بات ہے، خود رو سلیم الفہم میں صلاحیت فیض رسانی کی نہیں ہوتی۔ جیسے بعض دفعہ مرغی کے انڈے میں سے محض مشین کی گرمی پہنچانے سے بچہ نکل آتا ہے مگر سنا ہے کہ ایسے بچے زیادہ زندہ نہیں رہتے، جلد ختم ہو جاتے ہیں۔ اس طرح جو لوگ خود رو بلا صحبت شیخ سلیم الفہم ہوتے ہیں ان کو اصلاحِ خلق کی مناسبت تامہ نہیں ہوتی گو فہم کتنا ہی سلیم ہو، مگر ان سے فیض نہیں چلتا۔ فیض رسانی کی شان اسی بچہ میں آئے گی جس نے کچھ دنوں کسی مرغی کے نیچے رہ کر پر و بال نکالے ہوں۔
باقی حضرات انبیاء علیہ السلام کے لیے: "أَدَّبَنِي رَبِّي فَأَحْسَنَ تَأْدِيبِي" (مجھے میرے رب نے ادب سکھایا اور کیا ہی بہترین ادب سکھایا) اور "وَعَلَّمَنِي رَبِّي فَأَحْسَنَ تَعْلِيمِي" (مجھے میرے رب نے سکھایا اور کیا ہی بہترین تعلیم دی)، کے سبب تربیتِ خلق کی حاجت نہیں ہوتی، ان کا معاملہ Exception (استثنیٰ) ہے، وہ Selected (منتخب) لوگ ہوتے ہیں وہ مطلب یہ ہے کہ یعنی اس سے نہیں آتے، اس پراسیس (process) سے نہیں آتے۔
مقصد یہ ہے کہ اللہ جل شانہ ان سے کام لیتے ہیں جس نے اپنے آپ کو اس کے لیے صحیح طریقے سے پیش کیا ہوتا ہے۔ کچھ چیزیں کچھ چیزوں سے آتی ہیں۔ اسباب... وہ اسباب جب اختیار نہیں کیے جاتے تو وہ چیز نہیں ملتی۔ ہمارے شیخ مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے: بڑا بننے کے لیے چھوٹا بننا پڑتا ہے۔ جو چھوٹا بننے کے لیے تیار نہیں ہے اس کو بڑا نہیں بنایا جاتا۔ جو چھوٹا بننے کے لیے تیار نہیں ہے اس کو بڑا نہیں بنایا جاتا۔ یعنی بناتے اللہ تعالیٰ ہیں لیکن قانون ہے، اس کو نہیں بناتے، بس جب نہیں بناتے تو نہیں بناتے۔ کوئی کیا کر سکتا ہے؟
اس وجہ سے ہمارے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ایک دفعہ حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حضرات ان کے ساتھ ملنے آئے رائے پور شریف، شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے۔ حضرت کے ساتھ بات چیت ہو رہی تھی تو حضرت نے ان سے پوچھا کہ میں تو حضرت کی خانقاہ میں آیا تھا یعنی آپ کے شیخ کے، میں نے آپ کو ادھر نہیں دیکھا تھا؟ یعنی آپ کیسے یعنی مطلب ان کے وہ ہیں کہ مطلب مجھے میں نے آپ کو ادھر دیکھا نہیں۔ تو حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت سے پوچھا کہ حضرت کیا آپ نے وہ جب تشریف لائے تھے کوئی پنجابی نوجوان سرخ و سفید، کبھی چارپائی اٹھانے کے لیے، کبھی مٹکا لانے کے لیے، کبھی جھاڑو کرنے کے لیے، کبھی کچھ اس طرح کاموں پہ دیکھا تھا؟ فرمایا: ہاں! اس طرح تو تھا کوئی۔ فرمایا: وہ میں تھا۔ یعنی وہ میں تھا۔ فرمایا: ہاں ہاں یہ چیز تو اکثر خدمت کرنے والوں کے پاس جاتی ہے۔ یہ چیز تو اکثر خدمت کرنے والوں کے پاس جاتی ہے۔ یعنی Exceptions ہو سکتے ہیں لیکن اکثر کا قانون کیا ہے؟ خدمت کرنے والوں کے پاس جاتی ہے۔ تو خدمت میں کیا ہوتا ہے؟ انسان اپنے آپ کو پامال کرتا ہے نا۔ جب پامال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو مالا مال کر دیتا ہے۔
طریقہ مطلب اس میں، لائن میں یہی ہے۔ میں آپ کو وہ الفاظ، میں حیران ہوں کہ نہیں سنا سکتا جو خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے شیخ کے بارے میں لکھے ہیں کہ میں کس طرح ان کے پاس گیا تو پھر کیا ہو گا، پھر کیا ہو گا، پھر کیا ہو گا، ایسے عجیب انداز، پیارے انداز میں۔ کیونکہ ظاہر ہے جب انسان کے پاس کسی چیز کی قدر ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس... مطلب گویا کہ اس کا کٹورا سیدھا ہے، اس کا برتن سیدھا ہے اگر اس کی قدر ہوتی ہے۔ تو پھر اس میں اللہ پاک ڈال دیتے ہیں۔ لیکن جس کو کسی چیز کی قدر نہیں ہوتی اس کا برتن ٹیڑھا ہے۔ ٹیڑھے برتن میں بہت چیز بھی ڈالو تو گر جائے گی اس سے نا، حاصل تو نہیں کر سکتا اور رہتا تو نہیں ہے، رہے گا تو نہیں۔ تو اس لیے جو، جن لوگوں نے کسی کے سامنے اپنے آپ کو پامال کیا ہوتا ہے ان کو مل جاتا ہے۔ اور اگر کوئی ایسا نہیں ہے تو پھر وقت گزر جاتا ہے اور آدمی خالی رہ جاتا ہے۔
یہ نہیں کہ بالکل فائدہ نہیں ہوتا، فائدہ تو اس کا تو ہو جاتا ہے لیکن وہ آگے نہیں چلتا۔ آگے نہیں چلتا۔
ایک دفعہ حضرت، غالباً علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ تھے کہتے ہیں کوئی بہت بڑے عالم تھے، وہ کسی علاقے میں گئے تو وہاں جو ان کے شاگرد تھے ان کو اطلاع ہوئی۔ تو وہ شاگرد تشریف لائے حضرت کی خدمت کرنے کے لیے تو ان میں سے ایک نہیں آیا۔ تو حضرت نے ان کے بارے میں پوچھا کہ وہ کدھر ہے؟ فرمایا وہ والدین کی خدمت میں، اس میں بڑی مشغولی ہے لہٰذا وہ نہیں آ سکا۔ فرمایا: ماشاء اللہ، ماشاء اللہ، ماشاء اللہ، بہت اچھا کر رہا ہے، بہت اچھا کر رہا ہے۔ پہلے خوب تعریف کی، پھر اس کے بعد فرمایا: بس وہ لمبی عمر پائے گا، بہت عافیت کی زندگی گزارے گا، لیکن اس کے علم میں برکت نہیں ہو گی۔
اس سے پتہ چلا کہ والدین کی جو خدمت ہے وہ چونکہ وجود میں آنے کے باعث ہیں، لہٰذا جو ان کی قدر کرتے ہیں تو اس چیز میں برکت ہو جاتی ہے، اور وہ کیا ہے؟ وہ عمر ہے اور رزق ہے۔ تو وہ ان کی اچھی ہو گئی۔ اس نے ایک سو بیس سال کی عمر پائی اور بہت اچھا وقت گزارا، رزقِ وسیع۔ لیکن اس کے علم کا یہ حال تھا کہ آج میں واقعہ سنا رہا ہوں اس کا نام بھی نہیں معلوم۔ علم سے اتنے لوگ بیگانہ رہے۔
تو اس وجہ سے جو مطلب یہ ہے کہ جو فیض رسانی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل کسی پر ہوتا ہے تو اس کے فیض کو چلاتے ہیں۔ اس کے فیض کو چلاتے ہیں۔ پھر اس کے لیے اللہ جل شانہ ایسے اسباب پیدا فرماتے رہتے ہیں کہ ان کا فیض چلتا رہتا ہے۔ وہ خود بھی حیران ہوتا ہے کہ کیسے ہو رہا ہے، کس طریقے سے چلتا ہے؟ لیکن اللہ پاک رستے بناتے ہیں اور سب کچھ مطلب ہو رہا ہوتا ہے۔
تو یہ ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو اپنے مشائخ کے سامنے پامال کر دیتے ہیں، رسوا کر لیتے ہیں، یعنی اس کی پرواہ نہیں کرتے کہ میں رسوا ہوں۔ تو ان کو اللہ جل شانہ فیض رسان بناتے ہیں۔ آگے جا کر شاہ بھیک رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ میں نے آپ کو کئی بار سنایا ہے کہ خود حضرت فاقہ کش تھے، فاقہ کش تھے۔ اور شاہ بھیک رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی خدمت کی، اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسے قبول فرمایا کہ شاہ بھیک رحمۃ اللہ علیہ کے دسترخوان پر ایک وقت میں پانچ پانچ ہزار لوگ کھانا کھاتے تھے۔ خود شیخ کی خدمت ایسی حالت میں کی کہ انسان حیران ہو جاتا ہے۔ لیکن خود اللہ تعالیٰ، پھر اللہ پاک نے ان کو ایسا فیض رسان بنا دیا کہ ایک وقت میں پانچ ہزار لوگ ان کے دسترخوان پہ کھاتے تھے۔
’’مطلوب کا حصول بقدرِ ہمت کام پر ہے۔‘‘
یاد رکھو حصولِ مطلب کچھ زیادہ کام کرنے پر موقوف نہیں ہے بلکہ بقدرِ ہمت طلب ہونا چاہیے۔ بزرگوں نے فرمایا کہ مریض و ضعیف کی چھ رکعتیں، قوی کی چھ سو رکعتوں کے برابر ہیں۔ کیونکہ اس کو چھ رکعت کی ہمت ہے اور ثواب دینے والے اللہ تعالیٰ ہیں، وہ ہر شخص کی حالت اور ہمت کو اچھی طرح جانتے ہیں۔
اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر۔
دیکھیں حضرت مولانا فضلِ رحمٰن گنج مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ ایک بزرگ تھے، بہت بڑے بزرگ تھے ہندوستان میں۔ حضرت نے فرمایا، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے، ایک غریب آدمی تھے وہ حضرت کے پاس آ رہے تھے، تو دل چاہتا کہ حضرت کے پاس کچھ ہدیہ لے جاؤں لیکن کچھ پاس تھا نہیں۔ جنگل سے گزر رہے تھے تو جنگل سے کچھ لکڑیاں لے لیں کہ یہ حضرت کے سامنے پیش کر دوں گا۔ تو وہ چلے گئے، حضرت سے ملاقات ہو گئی، پھر حضرت کے سامنے وہ لکڑیاں پیش کیں حضرت نے قبول فرمائیں، میں ہدیہ ہوں۔ حضرت اس پر اتنے خوش ہوئے کہ فرمایا بھائی اس کو سنبھال کے رکھو، جب میں مروں گا اور مجھے غسل دیا جائے گا تو اس کے لیے جو پانی گرم کیا ہو گا اس پہ گرم کیا جائے۔ تو کہتے ہیں حضرت نے اس کی کتنی قدر فرمائی! اس کے پاس یہی تو کچھ تھا نا، اس کے پاس اور تو کچھ تھا نہیں۔
اب اگر کوئی آدمی بہت بڑا Landlord (زمیندار) ہے، ارب پتی ہے، اور کہتا ہے یہ بیس لاکھ کا پلاٹ ہے یہ آپ لے لیں۔ تو بیس لاکھ کا پلاٹ کا اس کی پوری دولت کے ساتھ کیا ریشو (ratio) ہے؟ وہ اگر اس طرح پچاس پلاٹس بھی دے دے تو اس کے اوپر فرق نہیں پڑ رہا۔ لیکن دوسرا آدمی ہے اس کے پاس کچھ نہیں ہے اس میں سے دے رہا ہے۔ کوئی اپنے منہ کے نوالے سے کم کر کے آپ کو دے رہا ہے، تو وہ تو اللہ تعالیٰ تو دیکھ رہا ہے نا کہ اس کے پاس وقعت کتنی ہے، ہمت کتنی ہے۔
تو فرمایا کہ جو کمزور اور ضعیف ہے اس کے چھ رکعت دوسرے تگڑے طاقتور کے چھ سو سے افضل ہے۔
حضرت مولانا صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ، صوفیاء اس چیز کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ انہوں نے کتاب لکھی ہے ’’ٹھیلے والے کی نماز‘‘۔ ٹھیلے والے کی نماز۔ فرمایا کہ ایک ریٹائرڈ (retired) آدمی، وہ اطمینان کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہے۔ اور دوسرا آدمی ہے ٹھیلہ اس کا ہے، اس نے ٹھیلہ کو کھڑا کیا ہوا ہے اور نماز کے لیے گیا ہوا ہے، اس کو نماز میں بہت خیالات آ رہے ہیں کہ پتہ نہیں کوئی بچے ٹھیلے کو الٹا نہ دیں اور اس سے چیزیں گرا نہ دیں، چوری نہ کر لے، یہ نہ کر لے، وہ نہ کر لے، تین سو باتیں اس کے ذہن میں آ رہی ہیں۔ فرمایا اس ٹھیلے والے کی نماز اس ریٹائرڈ آدمی کے نماز سے بہت بڑھیا ہے۔ کیونکہ اللہ دیکھ رہا ہے کہ اس کی قربانی دیکھو۔ اپنی ساری پونجی کو خطرے میں ڈال کر یہ نماز کے لیے آیا ہوا ہے۔ اس کے مقابلے میں وہ شخص، اس کو تو کوئی غم ہی نہیں، اللہ پاک نے اس کے رزق کا معقول ذریعہ بنا دیا ہے، اب وہ مزے سے نمازیں پڑھ رہا ہے، تو چلو ٹھیک ہے۔
لیکن جو دوسرا آدمی ہے جس کا یہ حال نہیں ہے۔ ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ، فوت ہو گئے تو کسی نے خواب میں دیکھا۔ فرمایا کیا ہوا؟ فرمایا اللہ نے بہت کرم فرمایا، بہت اکرام کیا، بہت اکرام کیا۔ لیکن میرا پڑوسی مجھ سے آگے چلا گیا۔ کہا آپ کا پڑوسی کیا کرتا تھا؟ فرمایا عیال دار تھا، وقت ان کو نہیں ملتا تھا، بس اللہ تعالیٰ سے کہتا رہتا تھا کہ یا اللہ میں بھی اگر ابراہیم بن ادہم جیسا فارغ ہوتا تو یہ کرتا، یہ کرتا، یہ کرتا۔ دل اس کا بہت چاہتا تھا کر کچھ نہیں سکتا تھا، جتنا کر سکتا تھا وہ کرتا تھا، اس سے زیادہ وہ فریاد ہی کر سکتا تھا۔ تو کرتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس پر اس کو بہت مرتبوں سے نوازا۔
بھئی ابراہیم بن ادہم عبادت کر رہا ہے نا، تو عبادت بھی اللہ کے لیے کر رہا ہے وہ اپنے بچوں کو بھی اللہ کے لیے پال رہا تھا۔ ان کے حقوق پورے کر رہا تھا۔ وہ کوئی آرام تو نہیں کر رہا تھا نا کہ لحاف کے اندر گھس گیا تھا بس جی آرام کر رہا تھا۔ آرام تو نہیں کر رہا تھا، کام ہی کر رہا تھا نا۔ تو یہ بھی اللہ کے لیے کام، یہ بھی اللہ کے لیے کام۔ تو بس ٹھیک ہے کام تو ہے۔ کوئی نفلیں پڑھ رہا ہے وہ بھی تو ایکسرسائز (exercise) کر رہا ہے نا، Exertion (محنت) کر رہا ہے، تو جو کام کر رہا ہے وہ بھی تو Exertion کر رہا ہے نا۔ نیت دونوں کی اللہ کی ہو۔ نیت دونوں کی اللہ کی ہو۔
’’دل سے اور توجہ سے تھوڑا کام بھی حصول کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔‘‘
اگر دل سے اور توجہ سے تھوڑا کام بھی ہو تو بے توجہی کے ساتھ زیادہ کام کرنے سے بڑھ کر ہے۔ پس جو زیادہ کام نہ کرے وہ تھوڑا ہی کرے مگر ستھرا کرے۔ یہی حصول کے لیے کافی ہے۔
و فراغِ دلِ زمانے، نظرے بماہ روئےبآزاں کہ چستر شاہی، ہمہ روز ہائے ہوئے
مطلب یہ ہے کہ انسان کو جتنا وہ کر سکتا ہے وہ اچھا کرے۔ یہ نوافل کے لیے... ورنہ ایسا نہ ہو کہ چلو جی فرائض آج دو رکعت پڑھ لوں ظہر کی، اس میں کمی بیشی نہیں ہے۔ فرائض میں کمی بیشی نہیں ہے، انسان کی چیزیں نفلی اعمال میں ہیں۔ نفلی اعمال میں کوئی کم کر لے کوئی زیادہ کر لے۔ تو اس کے حساب سے۔ تو اگر کوئی شخص دو رکعتیں اچھی طرح پڑھ لے تو وہ بے توجہی سے پڑھنے والے سو رکعت سے تو افضل ہے نا۔
’’سارے طالبوں کو ایک ہی لکڑی سے مت ہانکو رسمی پیروں کی طرح۔‘‘
فرمایا یہ طریقہ غلط ہے کہ سارے طالبوں کو ایک لکڑی سے ہانکو بلکہ اقویاء کو ان کے مناسب کام بتاؤ اور ضعفاء کو تھوڑا بتلاؤ۔ اور اس کی تاکید کرو کہ وہ تھوڑا کام ہی توجہ کے ساتھ کریں، انشاء اللہ وہ زیادہ ہی کے برابر ہو جائے گا۔ چنانچہ بعض بزرگوں نے اپنے بعض مریدوں کو جو دنیاوی مشاغل میں زیادہ مشغول تھے، صرف اتنا کام بتلایا کہ نماز کے بعد تین مرتبہ "لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ" جہراً کہہ لیا کرو۔ جہراً۔ یہ کس کی کتاب ہے؟ تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، دیوبندی ہے نا؟ اچھا، جہراً کے لیے کرو۔ اب رسمی پیروں کی یہاں یہ رسم ہو گئی کہ ہر نماز کے بعد، فجر و عصر کے بعد، سارے نمازی مل کر جہراً لا الہ الا اللہ پڑھتے ہیں۔ اس کا سختی کے ساتھ التزام کرتے ہیں۔ حالانکہ سب کے واسطے بزرگوں نے نہیں کہا تھا۔ بلکہ خاص خاص لوگوں کو بتلایا تھا مگر جاہلوں نے اس کو عمومی بنا لیا، التزام کر لیا اس واسطے علماء نے اس کو بدعت کہا ہے۔ مطلب اس کو لازم کہا ہے، اس کا جز سمجھا ہے۔ حالانکہ اگر اس کو علاج کے لیے کہہ دیتے تو علاج کے لیے تو بدعت نہ ہوتا۔ لیکن اس کو ثواب کے لیے بنایا ناں۔ ٹھیک ہے ناں؟ تو بہرحال یہ ہے کہ یہ جو ہے ناں، یہ ساری چیزوں میں تفصیلات ہوتی ہیں۔
اس میں یہ ہے کہ ہر ایک کو وہ کام دینا چاہیے جو وہ کر سکتا ہے۔ ہر شخص کو وہ کام دینا چاہیے جو وہ کر سکتا ہے۔ ورنہ یہ ہے کہ پھر سب چونکہ ایک جیسے حالات میں ہیں نہیں، تو ایک جیسے حالات نہ ہوں تو ایک جیسے علاج نہیں ہے۔ تو سب کا کسی نہ کسی چیز سے علاج کریں تو باقی ادھر ادھر، جن کے لیے کسی کے لیے کچھ کم ہو، کسی کے لیے زیادہ ہو جائے گا، تو کام خراب ہو جائے گا۔ ہر ایک کو اس کے مناسب بتاؤ جتنا مطلب وہ کر سکتا ہے اور صحیح کر سکتا ہے۔
نظامِ عالم علما کی اتباع سے قائم رہ سکتا ہے۔ عوام کو لازم ہے کہ علوم میں صوفیہ کا اتباع نہ کریں بلکہ علماء اور جمہور کا اتباع کریں۔ کیونکہ یہ لوگ منتظم ہیں۔ نماز نظامِ شریعت بلکہ نظامِ عالم علمائے کی اتباع سے قائم رہ سکتا ہے۔ یہ علماء منتظم پولیس ہیں کہ مخلوق کے ایمان کی حفاظت کرتے ہیں۔ اگر یہ اپنا کام چھوڑ دیں تو صوفی صاحب کو حجرے سے نکل کر یہ کام کرنا پڑتا اور سارا حال قال میں رکھا جاتا۔ کیونکہ اصلاحِ خلق کا کام فرضِ کفایہ ہے۔
الحمد للہ، دیکھیں علماء کس کو کہتے ہیں؟ جن کو علم حاصل ہو۔ کون سا علم؟ قرآن و سنت کا علم حاصل ہو۔ قرآن و سنت کا نچوڑ فقہ ہے، تو فقہ کا علم بھی حاصل ہو۔ اب کون سی چیز جائز ہے، کون سی چیز ناجائز ہے، اس کا کس کا کام ہے؟ علماء کا۔ لیکن جو چیزیں کرنی ہیں، اگر کسی سے نہیں آ سکے، ہو سکے، اس پہ لانا کس کا کام ہے؟ صوفیہ کا۔ پس عملی چیزوں میں تو مشورہ صوفیہ سے لیا کرو اور جائز و ناجائز، حلال و حرام کا فتویٰ علماء سے لیا کرو۔
لیکن یہ الگ بات ہے کہ علمائے محققین جب کسی بات کو کریں ناں، تو باقی علماء کو بھی اس کو ماننا پڑتا ہے۔ علمائے محققین اگر بات کر لیں ناں، مثال کے طور پر حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ایک بات کر لیں، مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ ایک بات کر لیں، گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کر لیں، مدنی رحمۃ اللہ علیہ کر لیں، تو آج کل کے علماء تو ان کے برابر تو نہیں ہیں ناں۔ پھر کس کی بات مانیں گے؟ ان کی مانیں گے ناں۔ اگر علماء عوام کے پیچھے چلنے لگے، تو وہ علماء نہیں رہے۔ اگر علماء عوام کے پیچھے چلیں، عوام کی خوشنودی کے لیے بات کرنے لگے کہ لوگ ناراض ہو جاتے ہیں جی بس کیا کریں جی۔ تو وہ تو علماء کا رول کر ہی نہیں رہے۔ علماء کا رول تو وہ کر رہے ہیں جو عوام کے پیچھے نہیں جا رہے، ان کو بلکہ عوام کو اپنے پیچھے چلا رہے ہیں۔ تو ان علماء کا، تو یہ وہ علماء تھے جن کا نام میں نے لیا، بڑے بڑے علماء جو تھے۔ ان کا کام یہی تھا کہ لوگوں کو سچ بتائیں، حق بتائیں، طریقے سے بتائیں۔ وہ اپنا کام کر چکے۔
لہذا اگر کسی بات پر ان کی بات آ چکی ہو، قولِ فیصل، تو اب اگر میں کسی آج کل کے عالم کو دیکھوں گا کہ وہ اس کے خلاف بات کر رہا ہے اور نظر آ رہا ہو کہ وہ لوگوں سے متاثر ہے۔ تو پھر وہ معاملہ وہ نہیں ہے۔ بلکہ ہم دیکھیں گے کہ بھئی ہمارے محققین علماء کیا بات کر رہے ہیں۔ محققین علماء، جو محقق علماء ہیں، جو جامع ہیں، ان کو جو ہے ناں مطلب ظاہر ہے ان سے ہم لوگ پھر اس میں رائے لیں گے۔ کیونکہ وجہ یہ ہے کہ یہ کام انہی کو سجھتا ہے کہ جو وہ تمام چیزوں سے گزر چکا ہو، ان کو معلوم ہو کہ کس... اب جیسے مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ، جس نے پچاس سال حدیث پڑھایا ہے۔ تو حدیث میں اس کا قول ہو گا یا جس نے دس سال پڑھایا ہے یا پانچ سال پڑھایا ہے؟ کس کی بات ہم لیں گے؟ ظاہر ہے ہم ان کی بات لیں گے۔
تو یہی بات ہوتی ہے کہ ہم لوگ علماء کا کام علماء سے، صوفیہ کا کام صوفیہ سے۔ آج کل کا کوئی صوفی، جو محقق صوفی نہیں ہے، رسمی ہے، تو ان کی بات کیا مانیں گے ہم؟ ہم کہیں گے بھئی جب، جو محقق صوفیہ نے بات کی ہے، ہم ان کی بات مانتے ہیں۔ یعنی اس میں بھی قانون تو یہی ہے ناں، کہ ہم محقق صوفیہ کی بات مانتے ہیں۔ تو اس وجہ سے دونوں صورتوں میں ہم لوگ جو علمائے حق ہیں ان سے علم حاصل کریں گے اور جو صوفیائے حق ہیں ان سے عمل حاصل کریں گے، ان سے تربیت حاصل کر لیں گے۔ تعلیم کا کام علماء کا ہے اور تربیت کا کام صوفیہ کا ہے۔ جس عالم نے اس کی خود تربیت نہیں ہوئی وہ کسی اور کی تربیت کیا کرے گا؟ بالکل ایسے ہی جس نے خود عالم، علم حاصل نہیں کیا ہو تو وہ کسی اور کو علم کیا دے گا؟ وہی اصول ہے ناں۔ تو جس کی خود تربیت نہ ہوئی ہو تو اس مسئلے میں تو وہ عامی کی طرح ہے۔ تربیت کے معاملے میں وہ عامی کی طرح ہے ناں۔
ایک دفعہ مولانا اشرف علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہوا اور ایک بہت بڑے عالم کا بھی بیان ہوا۔ لیکن بیان ان چیزوں پہ ہوا تھا جو تصوف سے متعلق چیزیں ہیں۔ تو صاف پتہ چلتا ہے کہ مولانا صاحب جو بیان کر رہے تھے وہ بات الگ تھی اور دوسرے... کیونکہ مولانا صاحب ان چیزوں سے گزرے تھے۔ تو جو ہے ناں وہ، وہ جو ہے ناں آنکھوں دیکھا حال بتا رہے تھے۔ اور دوسرے صاحب کتابی حال بتا رہے تھے۔ تو کہاں کتاب سے پڑھنا، کہاں کسی چیز سے ہو کے گزرنا، ان دونوں میں تو فرق ہے ناں۔ تو پتہ چل رہا تھا، صاف پتہ چل رہا تھا۔ تو اس وجہ سے جو جس چیز کا فیلڈ ہے، جس کا فیلڈ ہے، اس کو ہی، جس کا کام اسی ساجھے۔ ان سے ہی اس چیز میں حاصل کرنا چاہیے۔
خدمت کرنے اور لینے کے بعض اصول۔ فرمایا خدمت وہی اچھی جس سے بزرگوں کو گرانی نہ ہو۔ بزرگوں کو بھی اس کا خیال رکھنا ہے کہ اپنے خدام کے ساتھ ایسا تواضع نہ کریں جس سے ان کو خجلت اور کلفت ہو، بلکہ بزرگوں کے لیے تو اس کی ضرورت ہے کہ کبھی کبھی خدام سے کہہ دیا کریں کہ جوتے وہاں سے اٹھا کر یہاں رکھ دو۔ اس کی نیت یہ مان لیں کہ مریدوں کو ذلیل کیا کریں، بلکہ مطلب ہے کہ اس سے خدام خوش ہوں گے کہ ہم کو اپنا سمجھتے ہیں اور کبھی یہ خدمت بنیتِ اصلاح و تعلیمِ تواضع لینی چاہیے۔ اصل میں دیکھیں، جب Practical آ گیا تو Practical میں تو ساری چیزیں آئیں گی ناں۔ Practical میں تو ساری چیزیں آئیں گی۔ تو Practical میں میں اگر صرف اپنا خیال رکھوں کہ لوگ میرے بارے میں کیا کہیں گے؟ تو، اور اس کا میں خیال نہ رکھوں، تو میں نے تو اپنی ڈیوٹی پوری نہیں کی۔
اب میں اپنا خیال نہ رکھوں، میں کہتا ہوں بس ٹھیک ہے جی جو، مجھے میرے بارے میں جو بھی رکھے، میں نے تو ان کا فائدہ کو دیکھنا ہے۔ لہذا اگر ان کا فائدہ اسی میں ہے کہ پیر دبوا دیں، تو بس ٹھیک ہے، دبوا دیں۔ اگر ان کا فائدہ اسی میں ہے کہ جوتے سیدھے کریں، تو ٹھیک ہے اس کا فائدہ اسی میں ہے۔ اگر اس کا فائدہ اسی میں ہے کہ کوئی اور کام اس کو دے دے، تو ٹھیک ہے۔ لیکن معاملہ اللہ کے ساتھ سیدھا ہو۔ اپنے نفس کے لیے نہ ہو، اللہ کے لیے ہو۔ یہ بھی اللہ کے لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اگر آپ کو کسی کام کا ذمہ دار بنا لیا، اور اس کام میں اس طریقے سے بہتری ہو سکتی ہے کہ آپ اپنے کام کو، اپنے آپ کو اس کے لیے فارغ کر دیں اور دوسرے جو اس کے، مطلب جو ہے ناں مطلب وہ، آپ کے کام کو Share کر سکتے ہیں اور خوشی سے وہ کرنا چاہتے ہیں، آپ ان کو کام دیں۔ تو ظاہر ہے مطلب وہ کام زیادہ بہتر ہو سکے گا۔
تو یہ بھی تو اللہ کے ساتھ معاملہ صاف ہے۔ اگر کوئی اس نیت سے کرنا چاہتا ہے، تو ٹھیک ہے۔ اللہ جل شانہ ہی بھیجتے ہیں لوگوں کو۔ یہ تو اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ جس طرح کسی کو خدمت کے لیے بھیج دیا کہ تم یہ کام کرو، تو اللہ کی طرف سے آ گیا ناں۔ ہمارے حضرات فرماتے ہیں اس میں اتنا ہونا چاہیے، اتنا ضرور ہونا چاہیے۔ یہ بہت بڑا اصول بتا رہا ہوں، لکھ لیں اپنے پاس۔ کہ جو مشائخ ہیں، اللہ والے ہیں، جو اللہ کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں، وہ دروازے کو چٹخنی بھی نہ لگائے، کنڈی بھی نہ لگائے اور دروازے پہ نظر بھی نہ ہو۔ دروازے پہ نظر بھی نہ ہو کہ اس طرف سے کوئی آئے گا۔ کہ خیر ہے نہیں، خیر ہے۔ دروازے پہ نظر بھی نہ ہو کہ اس طرف کوئی آئے گا اور جو ہے ناں مطلب یہ ہے کہ مجھے کچھ دے گا، یہ، یہ مشائخ کا کام نہیں ہے۔ یہ جو ہے ناں، یہ اخلاص کے منافی ہے اور وہ اپنے منصب کے ساتھ انصاف نہیں کر رہے۔
اگر دروازے پہ نظر ہو کہ اب کوئی آئے گا اور مجھے دے گا، لیکن دروازے کو چٹخنی بھی نہ لگاؤ کہ بھئی کوئی آئے گا میں، نہ آئے میرے پاس، بس میں نہیں لینا چاہتا۔ تم کون ہو؟ انبیاء کرام کو تو اللہ تعالیٰ نے اس طریقے سے وہ فرمایا، لہذا تم درمیان میں کون؟ کیا آپ ﷺ ہدیہ وصول نہیں فرماتے تھے؟ ایک دفعہ حضرت نے بڑی عجیب بات فرمائی، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے۔ فرمایا دیکھو، یاد رکھو، اپنے آپ، جو ہے سو اتنا بات کرنی چاہیے، اپنی حیثیت سے بڑھ کے بات نہیں کرنی چاہیے۔ فرمایا دیکھو جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ جو ہدیوں کے اوپر جو وقت گزار رہے ہیں، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ کوئی کام کرنا چاہیے خود۔ تو ٹھیک ہے، آج کل کے لحاظ سے بہتر ہے کہ ایسا کریں، لیکن اس کو Generalize اس لیے نہ بناؤ، کیونکہ اگر Generalize آپ نے بنا دیا تو یہ اعتراض ہو جائے گا اور اعتراض بہت دور تک چلا جائے گا۔ اور پھر فرمایا آپ ﷺ سے نبوت کے ملنے سے پہلے تو کام ثابت ہے۔ دنیا کا کام۔ بکریاں چرانا یا چرانا یا تجارت یا کچھ اس قسم کا کام، یہ ثابت ہے۔ نبوت کے بعد کوئی چیز ثابت نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے دنیا کے لیے کوئی تجارت کیا ہو یا آپ ﷺ نے کسی کو جو ہے ناں مطلب یہ ہے کہ یعنی بکریاں چرائی ہوں یا کوئی اور کام کیا ہو، ملازمت کیا ہو جس پر آپ کو سب کچھ ملتا ہو، بالکل کچھ بھی کام ثابت نہیں ہے۔ لیکن آپ ﷺ نے بہت ہی غیرت کے ساتھ وقت گزارا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا تھا کہ کسی کو اتنا دے دیتے کہ دو پہاڑوں کے درمیان یہ بکریاں ہیں تم لے جاؤ۔ اتنا بھی حضرت کے پاس ہوتا تھا اور کبھی یہ حال ہوتا تھا کہ پوچھ لیتے، کچھ ہے کھانے کو؟ بتا دیتے نہیں کھانے کو، اچھا میں نے روزہ رکھ لیا۔ اچھا میں نے روزہ رکھ لیا۔ کبھی، کبھی پاس کچھ بھی نہیں۔ اور کبھی اتنا ہے کہ ایسے لوگوں کو دے، دے رہے ہیں۔
تو جو ہمارے حضرات ہیں، اللہ والے ہیں، وہ بھی اسی طریقے سے ہوتے ہیں۔ ان کی اللہ پہ نظر ہوتی ہے۔ اپنا کام یکسوئی کے ساتھ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جو بھیج دیتے ہیں اس پر خوش رہتے ہیں۔ تو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، انہوں نے کون سا کام کیا ہے؟ بتاؤ؟ کوئی ملازمت نہیں تھی بعد میں جب مدرسے سے فارغ ہو گئے ناں۔ کوئی ملازمت نہیں کی، کوئی کاروبار نہیں کیا، حتیٰ کہ اپنے لکھی ہوئی کتابوں کی Royalty وصول نہیں کی، ان کے جملہ حقوق محفوظ نہیں کیے۔ بس توکل علی اللہ چل رہا ہے۔ اور ایسی عیاشی کے ساتھ وقت، عیاشی تو نہیں مطلب میں کہتا ہوں وسعت کے ساتھ وقت گزارا ہے کہ ناشتے میں اس وقت غالباً، اگر میں آج کل کے پیسوں کے لحاظ سے کہوں، کہ دو، دو ہزار روپے کا ناشتہ ہوتا تھا حضرت کا۔ ضرورتاً۔ لیکن اللہ پاک کراتے تھے۔
مقصد یہ ہے کہ یہ جو، یہ والی جو بات ہے کہ یہ تو اللہ پاک کا نظام ہے، جس کو جیسے رکھنا چاہے اس طرح رکھ لیں۔ اور غیرت اتنی تھی کہ ایک تحصیلدار صاحب آئے ہیں، اس نے پچیس روپے ہدیہ کیے۔ اس وقت پچیس روپے کا ذرا حساب لگاؤ تو آج کل کیا ہوں گے؟ ہاں جی پچیس روپے ہدیہ کیے۔ تو مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتابت کی تنخواہ دس روپے تھی۔ اب پچیس روپے کیا، کیا ہوں گے اس وقت؟ آج کل کم سے کم تنخواہ کتنی ہے؟ چھ، سات ہزار روپے ہے ناں؟ تو ان کے دس روپے چھ، سات ہزار روپے سمجھو، تو پچیس کتنے ہوں گے؟ تو خیر بہرحال یہ ہے کہ وہ پچیس روپے دے دیے۔ حضرت نے اس سے دس روپے لے لیے، باقی واپس کر دیے۔ بس ٹھیک ہے، لے لیے۔ چلے گئے۔ راستے میں اپنے ساتھی سے کہہ رہے ہیں، عجیب کام ہو گیا۔ کہتے ہیں میرا ارادہ دس روپے دینے کا تھا۔ بس میں نے کہا اتنے بڑے آدمی کو میں دس روپے کیسے دوں؟ یہ مناسب نہیں ہے۔ تو میں نے اس کے ساتھ پندرہ اور ملا دیے، پچیس روپے دے دیے۔ حضرت نے اس سے دس روپے لے لیے، باقی چھوڑ دیے، باقی واپس کر دیے۔
اس میں اگر ایک طرف حضرت کی قلبی بصیرت کا ثبوت ملتا ہے، تو دوسری طرف حضرت کے استغناء کہ لائی ہوئی چیز کو واپس کر رہے ہیں۔ ایک دفعہ ایک صاحب نے Money Order کیا۔ Money Order میں لکھا تھا کہ حضرت میں آپ کو یہ پیسے بھیج رہا ہوں، قبول فرمائیے اور جو مستحق ہوں ان کو دے دیجیے گا۔ حضرت نے جواب لکھوایا: پہلا کلمہ ملکیت کا ہے کہ آپ مجھے مالک بنا رہے ہیں، قبول فرمائیں۔ دوسرا کلمہ وکالت کا ہے کہ آپ مجھے وکیل بنا رہے ہیں کہ مستحق کو دے دیجیے گا۔ یہ دونوں بیک وقت جمع نہیں ہو سکتے لہذا Money Order واپس۔
ایسے طریقے سے رہے ہیں اور پھر بھی اللہ پاک نے کھلایا ہے۔ شکر خورے کو خدا شکر دیتا ہے۔ لہذا انہوں نے مطلب اس کی کوئی نہیں کیا پرواہ، ہاں جی کہ کیا ہو گا کیا نہیں ہو گا، لیکن ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ دینا چاہتے ہیں، تو دینا چاہتے ہیں تو دے دیں۔ تو یہ حضرت نے فرمایا کہ یہ نہ کہو، یہ نہ کہو کہ ایسا کرنا نہیں چاہیے کیونکہ اعتراض ہے، اعتراض بہت دور چلا جائے گا، آپ ﷺ تک بات پہنچ جائے گی۔ لہذا اپنے آپ میں رہو۔ جتنی تمہاری حیثیت ہے اس کے مطابق بات کرو۔ اللہ اکبر۔
شیخ کے سامنے اپنے آپ کو مٹانا طریق کی اول شرط ہے
ارشاد: افسوس آج کل مُبتدی عوام کے سامنے تو اپنے کو کیا مٹاتے۔ یہ تو اپنے کو شیخ کے سامنے بھی نہیں مٹاتے جس کے سامنے اپنے کو پامال کردینا طریق کی اول شرط ہے، مگر یہ اس کے سامنے بھی اپنی فکر اور رائے کو فنا نہیں کرتے خود رائی سے کام لیتے ہیں۔ حالانکہ کمال اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک اپنے کو کسی کامل کے ہاتھ میں ’’کَالْمَیِّتِ فِیْ یَدِ الْغَسّالِ‘‘ سپرد نہ کردو اور حقائق کا انکشاف بھی اسی پر موقوف ہے۔
حضرت نے بہت بڑی بات کی ہے۔ کہتے ہیں ایک دفعہ کسی کو اجازت مل گئی ناں اپنے بزرگوں سے۔ تو غالباً اس کا کوئی پیر بھائی تھا، جو شیخ تھا، اس نے ان کو نصیحت کی۔ کچھ خبر بھی ہے کہ اجازت کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ اس نے کہا "نہیں"۔ انہوں نے کہا اجازت کا مطلب یہ ہے کہ تو نے اپنے شیخ کے سامنے اپنے آپ کو جیسے پامال کیا، عاجزی نصیب ہو گئی، شیخ کی بات کے سامنے اپنے آپ کو پامال کیا، اب تو اسی چیز کو باقی لوگوں کے لیے بھی استعمال کرو گے۔ اب تمہیں اختیار ہے کہ تم باقی لوگوں کے سامنے بھی اپنے آپ کو ایسے پامال کر لو کہ جن کی بات صحیح ہے، حق ہے، فوراً مان لو۔ اس میں کوئی ضد، انانیت وغیرہ بات نہ ہو۔
تو مطلب یہ ہے کہ دیکھیں، ہوتا کیا ہے؟ انسان حقیقت سے اس وقت تک رکا رہتا ہے جب تک اس کی انانیت فنا نہیں ہو چکی ہوتی۔ جب تک انسان اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہے، وہ حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔ کیونکہ انانیت ہر جگہ اس کے لیے رکاوٹ ہو گی۔ اصل بات تک نہیں جانے دے گا۔ تو جب یہ والی بات ہے، تو انانیت کو مٹانا ضروری ہے۔ انانیت کو مٹانا ضروری ہے۔ تو انانیت کو کیسے مٹائے گا؟ تو اس کے لیے اس سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ کم از کم دنیا میں ایک شخص ایسا ہو جس کے سامنے اپنی انانیت کو مٹا دے۔ وہ اس کو جو کچھ کہے، اس کو مِن و عن ماننے کے لیے تیار ہو جائے۔ اس میں نہ سوچے پھر۔ دنیا میں کم از کم ایک ایسا شخص ہونا چاہیے۔ اور ظاہر ہے وہ شیخ ہو سکتا ہے اس مسئلے میں۔ تو شیخ کے سامنے پھر کم از کم اپنی انانیت کو مٹا دے۔ جب شیخ کے سامنے اس کی انانیت مٹ جائے گی، تو پھر وہ حقیقت تک پہنچ جائے گا۔ جب حقیقت تک پہنچ جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ اس سے کام لیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس سے کام لیں گے۔
تو یہ اصل میں حضرت فرماتے ہیں کہ لوگوں نے یہی بات مختلف الفاظ میں بیان کی ہے اور وہ یہ ہے، كَالْمَيِّتِ فِي يَدِ الْغَسَّال۔ کہ شیخ کے ہاتھ میں ایسا رہے جیسے میت نہلانے والے کے ہاتھ میں رہتا ہے کہ جس طرف آگے پیچھے کر لے، تو اگے پیچھے کر سکتا ہے، اس کے درمیان میں کچھ وہ نہیں ہوتی۔ تو اگر کوئی خود رائی سے کام لیتا ہے، تو ظاہر ہے پھر وہ کہاں صحیح بات پہ چل سکے گا؟
ایک دفعہ ایسا ہوا۔ یہ بعض ڈاکٹر بھی بڑے عجیب ہوتے ہیں۔ ایک ڈاکٹر تھا، ایک بیمار ان کے پاس چلا گیا۔ وہ ڈاکٹر تھے پٹھان۔ Specialist تھے، ستر سال عمر تھی اس کی۔ وہ کوئی میرے خیال میں اس کا نسخہ وغیرہ اس نے لکھا تو اس بچے نے Internet پہ کچھ Search کیا کہ یہ تو ایسے ہوتا ہے، ایسے ہوتا ہے، ایسے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب یہ تو Internet پر یہ لکھا ہے، یہ لکھا ہے۔ تو وہ عام ڈاکٹر نہیں تھا، پٹھان ڈاکٹر تھے۔ تو اس نے کہا دیکھو، یاد رکھو۔ پہلے تو جا کر ایف ایس سی کر، پھر Medical میں جا، پھر Medical Knowledge حاصل کرو، پھر ڈاکٹر بن جاؤ، پھر پوری عمر Service کرو، میری طرح Retire ہو جاؤ۔ جب میری عمر کو پہنچو ناں، پھر یہ کہو کہ ایسا ہونا چاہیے اور ایسا ہونا چاہیے۔ اب تم میری بات کو نہیں Change کر سکتے۔ یہ میں جانتا ہوں، تو نہیں جانتا۔ اس کو اتنا سختی کے ساتھ ڈانٹا نا۔ کہتے ہیں تیرا منہ یہ نہیں ہے کہ تیرے منہ میری بات کو غلط کہہ سکے۔ تو Internet کو کیا جانتا ہے؟ کیا چیز لکھی ہوئی ہے؟ ان کی Terminology کو جانتا ہے؟ Details کو جانتا ہے؟ خوب اس کو دبایا۔ باہر گیا تو اپنے والد صاحب سے کہتا ہے یہ ڈاکٹر تو بڑا سخت ہے، اس نے مجھے بڑی بے عزتی کی، اتنی بے عزتی بھی تو نہیں کرنی۔ انہوں نے کہا تو نے بات ہی ایسی کی تھی۔ تو نے کیوں اس سے اس طرح کہا کہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اس طرح ہے؟ تیرا Field ہے؟ تو اس کو تو یہ کہنا چاہیے تھا؟
تو اسی طریقے سے جو شیخ ہوتا ہے، وہ من جانب اللہ ایک کام پر فائز ہے۔ اس کی اللہ مدد کر رہے ہیں۔ اس کے دل میں اللہ وہ ڈال رہے ہیں جو تیرے لیے مفید ہے۔ تم اس کی جگہ تک پہنچ جاؤ تو پھر بالکل نہ مانو۔ لیکن یہاں تو معاملہ الٹا ہوتا ہے، جو پہنچ جاتے ہیں وہ تو مانتے ہیں۔ وہ تو پورا پورا مانتے ہیں، جو پہنچ جاتے ہیں۔ نہیں مانتے وہ لوگ جو نہیں پہنچے ہوتے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ یہ والی بات کہ شیخ کے ساتھ مناظرہ نہیں کرنا چاہیے۔ مناظرے کا میدان نہیں ہے۔ بلکہ کہتے ہیں شیخ سے سوال بھی نہیں کرنا چاہیے کہ ایسا کیوں ہے؟ جیسے ڈاکٹر سے سوال نہیں کرنا چاہیے کہ ایسا کیوں ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ بھئی یہ تو، اس کے لیے تو ایک علم چاہیے چیزوں کو جاننے کے لیے، ایک Procedure چاہیے اور پھر اس راستے سے کوئی گزرا ہو تو اس کو پتہ چلے گا۔ تو اپنے شیخ کے ساتھ اس میں معارضہ نہیں کرنا چاہیے۔ جو وہ کہے، بس مانتے جائیں۔ اور یہ اس کی ذمہ داری ہے من جانب اللہ کہ وہ آپ کی تمام چیزوں کا خیال رکھے۔ ہاں تجھ سے پوچھے، پھر ضرور سچ سچ بتاؤ۔
اب میں معمولات کا چارٹ کہتا ہوں، وہ تو بھیجتے نہیں اور باقی چیزوں میں معارضہ کرنے لگے، اب بتاؤ؟ ان کی بات سننی چاہیے؟ جو خود میں پوچھ رہا ہوں وہ تو بتاتے نہیں۔ وہ میں پوچھ رہا ہوں کہ بھئی لاؤ، تو وہ تو بتاتے نہیں اور باقی چیزوں کے بارے میں پوچھنے لگے یا کہنے لگے، تو یہ پھر اس کا ظاہر ہے حق نہیں بنتا۔
کامل توجّہ الی الخلق میں بھی توجّہ الی الحق سے غافل نہیں:
ارشاد: کامل توجّہ الیٰ الخلق میں بھی توجّہ الی اللہ سے غافل نہیں ہوتا، کیونکہ توجّہ الیٰ الحق کے دو جز ہیں: ایک ذکر، دوسرے طاعت۔ اور وہ توجّہ الیٰ الخلق میں ان دونوں سے غافل نہیں ہوتے۔ ذکر سے تو اس لئے غافل نہیں ہوتے کہ کوئی کام ان کو یادِ محبوب سے نہیں ہٹا سکتا۔ ہر کام اور ہر حالت میں ان کا دھیان اس طرف لگا رہتا ہے۔ چنانچہ یہی حالات عارف کی جمعہ کے دن حجامت و غسل و تطییب میں ہوتی ہے۔ وہ یہ سب کام محض محبوب کے لئے کرتا ہے اور عین اشتغال بھذہ الاعمال کے وقت محبوب کی طرف اس کا دھیان ہوتا ہے، اس کا راز یہ ہے کہ جو چیز اوّل میں پیوستہ ہو جاتی ہے، اس سے کوئی چیز حاجِب و مانِع نہیں ہوتی، تمہارے دل میں دنیا پیوست ہو گئی ہے اس لئے تم کو ذکر اللہ دنیا کی یاد سے اور اس کے دھیان سے مانع نہیں ہوتا نماز بھی پڑھ رہا ہو، اس میں بھی دنیا چل رہی ہوتی ہے۔ چونکہ دنیا پیوست ہو گئی ہے۔اور اہلُ اللہ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیوستہ ہو گئی ہے۔ ان کو کوئی چیز اور کوئی کام ذکر اللہ سے مانِع نہیں ہوتا،
کیسے عجیب مثال دی ہے۔ مطلب جن کا دل دنیا میں پیوست ہے، تو ظاہر ہے وہ نماز بھی پڑھے گا، روزہ بھی رکھے، حج بھی کرے، اس میں بھی دنیا ہو گی۔ وہ اس سے Disconnect نہیں ہو گا۔ اور جس کا دل اللہ کے ساتھ ملا ہوا ہے، وہ بے شک Toilet جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کی یاد اس کے دل سے ختم نہیں ہوتی۔ وہ بازار جاتا ہے، تو اس کا دل۔ اس میں ہے ناں کہ ان کو بازار جانا، اس میں بیع و شِراء ان کو ذکر اللہ سے مانع نہیں ہوتا۔ قرآن پاک میں ہے۔ تو جب اس قسم کی بات ہے تو جو اللہ والے ہیں، ان کو کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے روک نہیں سکتا۔
حضرت مجذوب رحمۃ اللہ علیہ ایک دفعہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ جا رہے تھے، تو لطیفوں پر لطیفے ہو رہے تھے۔ لوگ ہنس رہے تھے، لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ جب اپنی جگہ پہ پہنچ گئے تو پوچھا ساتھیوں سے، کیا آپ میں سے کوئی غافل ہوا تھا؟ تو لوگوں نے کہا حضرت ہم تو غافل ہوئے تھے۔ فرمایا الحمد للہ میں غافل نہیں ہوا تھا۔ اب بتاؤ! ظاہری سامان سارا غفلت کا ہے، ہنسنا اور لطیفے سننا اور سنانا یہ غفلت کا ہے یا نہیں؟ اور ایک دفعہ ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں بھی چونکہ لطیفے چلتے تھے اور گپ شپ ہوتی تھی اور ہنستے، ہنساتے رہتے تھے۔ تو ہمارے ایک سخت مزاج آدمی تھے، وہ بعد میں حضرت سے بیعت ہوئے لیکن اس وقت ان کو سمجھ نہیں تھی۔ تو اعتراض کر لیا اس نے۔ کہتے ہیں یہ کیسا شیخ ہے؟ ہر وقت خود بھی ہنستا ہے، دوسروں کو بھی ہنساتا ہے۔ یہ کیسا شیخ ہے؟ میں نے اس پہ ذرا غصہ کیا، میں نے کہا ذرا اپنے آپ میں رہو۔ کیا بات کرتے ہو؟ میں نے کہا یہ جو لوگ حضرت کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں، یہ صاحبِ حیثیت لوگ ہیں، یہ کھاتے پیتے لوگ ہیں، دنیا کی ہر بدمعاشی کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس وسائل ہیں۔ اگر حضرت نے چند لطیفوں پہ ان کو ٹرخا دیا اور اپنے ساتھ بٹھا دیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملا دیا، تو اچھا کیا یا برا کیا؟ کہتے یہ تو اچھا کیا۔ میں نے کہا حضرت یہی کام کر رہے ہیں۔ اب بتاؤ! مسلسل لطیفے سنانے کے دوران بھی اگر کسی کو یہ چیز یاد ہے، تو غافل ہے یا غافل نہیں ہے؟ جس کو یہ بات یاد ہو کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملانے کے لیے کر رہا ہوں۔ تو غافل تو نہیں ہے ناں۔
تو یہی بات ہوتی ہے کہ جو لوگ اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتے، ان کے دل میں اللہ کی محبت پیوست ہوتی ہے، وہ بے شک لوگوں کو ہنسا رہے ہوں، لیکن وہ خود غافل نہیں ہوتے۔ بے شک لوگوں کو اسکول بھیج رہے ہوں، ان کا دل اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہیں ہوتا۔ کیونکہ ان کو پتا ہوتا ہے کہ میں کس لیے کر رہا ہوں۔ ان کا دل اللہ کی یاد سے نکلتا نہیں۔
چنانچہ تبلیغ میں بھی جس میں ظاہراً تعلّق مع الخلق ہے اس کی رعایت کرتے ہیں جس سے وہ تعلّق مع الحق ہو جاتا ہے، چنانچہ تبلیغ میں وہ نرمی کرتے ہیں اور دُرشتی نہیں کرتے، مگر اسی وقت جب تک محبوب کی شان میں کوئی گستاخی نہ کرے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو ہر کام اللہ کے لیے کرنا چاہیے، تو جو کام اللہ کی رضا کے لیے ہو، وہ اللہ تعالیٰ کی یاد کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے یاد ہی ہو رہا ہے۔ مجھے ایک دن ایک بزرگ فرمانے لگے، میں جو فلکیات پہ کام کر رہا تھا، فرمایا آج کل اگر آپ سے اپنا ذکر وغیرہ آگے پیچھے ہو جائے ناں، تو پرواہ نہ کرو، یہ بھی ذکر ہے جو تم کر رہے ہو۔ یہ بھی ذکر ہے۔ تو ہے بس ظاہر ہے۔
خلوت و جلوت مفیدہ کی شناخت:
ارشاد: ’’اِنِّیْ لَاُجَھِّزُ جَیْشِیْ وَ اَنَا فِی الصَّلٰوةِ‘‘ منافی خشوع و خلوت نہ تھا۔ اور اس کا راز کیا ہے؟ اگر صورةً خلوت ہو مگر قلب تعلّقات میں گرفتار ہو تو اس خلوت کا کچھ فائدہ نہیں۔ اور اگر مال و زر اور کھیتی و تجارت میں بھی دل خدا تعالیٰ کے ساتھ لگا ہوا ہو تو تم خلوت نشیں ہو۔
پس کم از کم خلوت میں تو ایسی توجّہ ہونا چاہئے کہ اس وقت دل خیالاتِ غیر سے پاک ہو، ورنہ وہ خلوت خلوت نہ ہو گی بلکہ جلوت ہو گی، البتہ اگر ایسا خیال ہو جس کی اجازت محبوب کی طرف سے ہو یعنی دین کا خیال ہو اور ضرورت کا ہو تو وہ خلوت کے منافی نہیں۔ اس خیال کی نظیر وہ ہے جس کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’اِنِّیْ لَاُجَھِّزُ جَیْشِیْ وَ اَنَا فِی الصَّلٰوةِ‘‘ کہ میں نماز میں لشکر کشی کا انتظام کرتا ہوں۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ یہ بھی دین کا کام تھا اور ضروری تھا اور ’’ذِکْرُ اللہِ وَ مَا وَالَاہُ‘‘ میں داخل تھا اور کثرتِ مشاغل کی وجہ سے خارج نماز اوقات بعض دفعہ اس کے لئے کافی نہ ہوتے تھے۔ اور نماز میں یکسوئی ہوتی ہے اور تدبیر و انتظام کا کام محتاجِ یکسوئی تھا اس لئے حضرت عمرؓ نماز میں بضرورت بِإذنِ حق یہ کام کر لیتے تھے اور اس لئے منافیٔ خلوت و خشوع نہ تھا۔
مثال دے دوں۔ مثال: مثال کے طور پر کسی بادشاہ کا کوئی معتمد ہے۔ اور وہ بادشاہ کے دربار میں کھڑے ہو کر اس کے حکم سے وہ چیزیں Arrange کر رہے ہوں، تو کیا خیال ہے وہ کیا ہے؟ وہ بادشاہ کے پاس حاضر باش ہے یا نہیں ہے؟ حاضر باش ہے ناں۔ اس طریقے سے جس شخص کی کوئی ذمہ میں کوئی کام ہو اس طرح اور وہ نماز میں اللہ کے سامنے کھڑے ہیں اور باِذن اللہ وہ کام اس کے بارے میں سوچ رہا ہے اور وہ کر رہا ہے، لیکن نماز میں خلل نہیں پڑ رہا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ میں خلل نہیں پڑ رہا۔ تو ظاہر ہے اس کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
لیکن چونکہ ہم لوگ آخری دور کے ہیں، لہذا اس کی عام اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ورنہ لوگ تو نماز کو کھیل بنا دیں گے۔ لہذا یہ اللہ پر ہے کہ اللہ جل شانہ جس کو اس مقام تک پہنچا دے اور پھر اس سے یہ کام کرا دے تو وہ ہے، عام طور پر اس کو منع کیا جائے گا، عام طور پر یہ کہیں گے کہ نہیں نماز میں باقی کام نہ کرو۔ لیکن ان بزرگوں پر بھی اعتراض نہیں کریں گے کہ وہ اس کے اہل تھے۔ وہ اس کے اہل تھے۔ بہرحال یہ ہے کہ نماز میں جو خشوع و خضوع ہے، وہ مقصود ہے لیکن جو چیزیں خشوع کے منافی نہیں ہوں اور وہ ہو سکتے ہوں، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ مثلاً آپ ﷺ نماز پڑھا رہے ہوتے تھے اور دیکھ رہے ہوتے تھے کہ کچھ عورتیں، ان کے بچے رو رہے ہیں، تو نماز مختصر کر دیتے۔ تو اس طرف توجہ گئی نا۔ لیکن وہ توجہ اللہ کے لیے گئی۔ تو Exceptional cases ہیں۔
نفع متعدی کی شرط استعدادِ سیاست و تدبیر بھی ہے:
ارشاد: نفعٔ متعدی کی اجازت شیخ اس وقت دیتا ہے کہ جب سیاست و تدبیر کا ملکہ بھی مرید میں دیکھ لیتا ہے، کیونکہ امر بالمعروف کے کچھ آداب ہیں جن کے قابل ہر ایک نہیں ہوتا اور جن کے بغیر امر بالعروف بجائے مفید ہونے کے موجب فتنہ و فساد ہو جاتا ہے۔
مثلاً بعض دفعہ کوئی اچھا کام بھی کوئی غلط طریقے سے کر لے تو خراب ہو جاتا ہے نا۔ کیا خیال ہے بہت اچھا کھانا ڈاکٹر صاحب پکایا ہو اور میں لیٹ کر کھا رہا ہوں، تو آپ اجازت دے دیں گے؟ کیونکہ لیٹ کر کھانے سے نقصانات ہو سکتے ہیں۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ ہر چیز کا اپنا کوئی طریقہ ہوتا ہے Proper۔ تو جو اس کا اہل ہوتا ہے، جو اس طرح کر سکتا ہے، تو آپ اس کو وہ کرنے دیں گے۔ ورنہ کام خراب ہو جائے گا۔ کوئی چیز جاننا کافی نہیں ہے، اس جانے ہوئے چیز کو صحیح طور پر استعمال کرنا یہ بھی ضروری ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ "ایک من علم کے لیے دس من عقل کی ضرورت ہے۔" یعنی آپ کو ایک چیز معلوم ہے لیکن اس کو سمجھنا ٹھیک ٹھیک اور پھر اس کو ٹھیک ٹھیک استعمال کرنا بہت اہم ہے۔
بعض دفعہ بعض لوگوں کو آپ کہہ دیں گے کہ یہ کام ایسا ہوتا ہے۔ اس کو ٹھیک یاد کر چکے ہوتے ہیں، بالکل یاد ان کو ہوتا ہے۔ لیکن جس وقت استعمال کریں گے، پتہ چلے گا کہ بھئی اس کو تو پتہ نہیں ہے۔ حالانکہ جب اس سے پوچھیں گے پھر دوبارہ بتا دیں گے، صحیح صحیح بتا دیں گے۔ لیکن ان کو استعمال کرنا آتا نہیں ہو گا۔ ایک دفعہ کسی عالم سے مسئلہ پوچھا گیا۔ اس نے جواب دیا۔ تو ایک صاحب تھے، جو عالم تھے، وہ بھی ہدایہ کے عالم تھے وہ۔ ہدایہ پورا اس کو یاد تھا۔ حفظ تھا۔ تو اس نے کہا آپ نے یہ مسئلہ کہاں سے بتایا؟ اس نے کہا ہدایہ سے۔ انہوں نے کہا ہدایہ تو مجھے پورا حفظ ہے، اس میں تو کہیں پر بھی یہ مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ہدایہ میں یہ مسئلہ ہے، وہ الفاظ بتائے، کہتے ہاں ہے، یہ ہے؟ کہتے ہاں، یہ بھی ہے۔ تو ان کو ملا کر دیکھو اس سے یہ چیز بن جاتی ہے کہ نہیں بنتی؟ کہتے ہیں ہاں بن جاتی ہے۔ پھر انہوں نے کہا کیا؟ کہتے بس آپ نے ہدایہ کو سمجھا ہے، میں نے اس کو رٹ لیا ہے۔ کیا خیال ہے انجینئرنگ کے فارمولے کوئی رٹ لے اور کوئی استعمال نہ کر سکے، تو اس کو آپ انجینئر کہیں گے؟ اس لیے جو نفعِ متعدی ہے، وہ کر سکتا ہے جو اس کا اہل ہو، ان چیزوں کو صحیح صحیح طور پر...
تعلّق مع اللہ اصل مقصود ہے اور مرجوعین خلائق کے لئے دستور العمل:
ارشاد: تعلّق مع اللہ اصل مقصود ہے تو ہم کو زیادہ اہتمام اس کا کرنا چاہئے اور جن کی طرف مخلوق کا رجوع ہو خواہ دین کی غرض سے یا دنیوی غرض سے ان کو تعلّق مع الخلق کا وقت منضبط کرنا چاہئے اور باقی وقت خدا کی یاد میں صرف کریں۔ خصوصاً وہ لوگ جن کو خدا تعالیٰ نے ملازمت وغیرہ سے مستغنیٰ کیا ہے۔ جن کے گھر میں کھانے پینے کا سامان موجود ہے ان کو اس کا اہتمام زیادہ کرنا چاہئے کیونکہ ان کو دوسروں سے زیادہ ذکرِ حق کا موقع مل رہا ہے۔ یہ ہمارے لیے زیادہ اہم ہے۔
مرید کو شیخ کے خانگی معاملات میں نہ پڑنا چاہئے:
ارشاد: مشائخ کی وصیت ہے کہ مرید کو شیخ کے خانگی معاملات میں نہ گھسنا چاہئے کیونکہ جو شخص کسی کے خانگی معاملات سے واقف اور ان میں دخیل ہوتا ہے اس کے قلب سے دوسرے کی عظمت کم ہو جاتی ہے۔ اور مشائخ کو یہی مناسب ہے کہ مریدوں کو اپنے خانگی معاملات پر مطلع یا ان میں دخیل نہ کرے کہ اس سے تمام طبائع کو بجائے نفع کے ضرر ہوتا ہے۔
خانگی معاملات جو ہوتے ہیں۔ اصل میں اس میں بڑی Details ہوتی ہے۔ مثلاً میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں، بہت موٹی مثال ہے، ان شاء اللہ سمجھ آ جائے گی۔ مجھے کسی شخص نے کہا کہ مولانا اشرف صاحب (رحمۃ اللہ علیہ) کے یہاں ٹی وی ہے۔ ہمارے شیخ۔ میں نے کہا نہیں! حضرت تو ٹی وی نہیں دیکھتے، ٹی وی کے تو خلاف ہیں۔ کہتے ہیں ان کے گھر میں ٹی وی ہے، انٹینا لگا ہوا ہے۔ اب میں نے کہا اب تحقیق کرنی چاہیے کیونکہ ظاہر ہے بات آ گئی ہے تو اب آ گئی ہے۔ تحقیق کی تو پتا چلا کہ مولانا کی ایک بھانجی تھی جو بالکل پاگل تھی۔ اور پاگل کو کنٹرول کرنا تو آسان نہیں ہوتا اور وہ بھی لڑکی ہو۔ تو ان کی والدہ جو بیوہ تھی اس لڑکی کی، اس نے اس کو قابو میں رکھنے کے لیے ٹی وی اپنے گھر میں رکھا تھا کہ تاکہ اس ذریعے سے یہ رہے۔ اب پاگل پہ تو شریعت لاگو نہیں ہوتی ناں۔ پاگل پہ تو شریعت لاگو نہیں ہوتی۔ تو اس کو قابو کرنے کے لیے کہ ظاہر ہے مطلب ٹھیک ہے شریعت اس پر لاگو نہیں ہے، لیکن باہر جائے گی تو فتنہ ہو گا۔ کیونکہ لڑکی ذات ہے۔ تو اس کو اس فتنہ سے بچانے کے لیے ایک ایسا کام کہ جس پر شریعت لاگو نہیں ہے، اس کو کنٹرول رکھا۔ تو مولانا صاحب نے نہیں کیا، مولانا صاحب کی بہن نے کیا۔ لیکن مولانا صاحب نے کچھ کہا نہیں۔ چونکہ مجبور تھی وہ۔ تو ایسی صورت میں مولانا صاحب بھی مجبور تھے، وہ بیوہ بھی مجبور تھی اور بھانجی تو خیر تھی ہی مطلب۔ تو میں نے کہا دیکھو، اس سے مولانا صاحب کے قلب کو کتنی تکلیف ہوتی ہو گی اور ممکن ہے کہ اس تکلیف پر اللہ تعالیٰ اس کو بہت اجر دے رہے ہوں، کیونکہ ان کے لیے مجاہدہ تھا۔ اور لوگوں کے خیال میں وہ عیب تھا۔ لوگوں کے خیال میں وہ عیب تھا۔ تو اب اگر کوئی آدمی جو ان تمام Detail کو نہ جانتا ہو، اس کو اگر مولانا صاحب کے بارے میں یہ پتہ چل جائے کہ اور ہو میرے جیسا اکڑ والا، تو اس کو نقصان ہو گا یا نہیں ہو گا؟ اس کو تو حضرت سے تعلق ختم ہو جائے گا ناں۔ حالانکہ مولانا صاحب تو اس میں معذور تھے، اس پہ تو اجر مل رہا تھا اس کو۔ یہ ایک مثال دے رہا ہوں۔ عقلمند کے لیے ایک بات کافی ہوتی ہے۔
مثال دے رہا ہوں۔ تو اس لیے کہتے ہیں شیخ کے خانگی معاملات میں دخیل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ کو پتا ہوتا ہے کہ کون کون سی چیز کس کس وجہ سے ہو رہی ہے۔ اس کے لیے گنجائش ہو گی، آپ کے لیے نہیں ہو گی۔ مجھ سے کسی نے پوچھا، جہانگیرہ کے ایک آدمی نے ٹیلی فون کیا، میں سعودی عرب میں تھا حج پر، پچھلے سے پچھلے سال کی بات ہے غالباً۔ شبیر صاحب! میں اگر سعودی عرب کے ساتھ قربانی کروں تو جائز ہے؟ میں نے کہا "نہیں"۔ تم پاکستان کی حکومت کے ساتھ کرو۔ کہتے ہیں آپ جو ابھی کر رہے ہیں؟ میں نے کہا میرے لیے جائز ہے، تمہارے لیے جائز نہیں ہے۔ کہتے یہ کیسے ہو سکتا ہے، آپ کے لیے جائز، میرے لیے جائز نہیں؟ میں نے کہا بھئی قانون یہی ہے۔ کہتے کیسے قانون ہے؟ میں نے کہا قانون یہ ہے کہ جس ملک میں جو ہو، اس کے اوپر اس کی قضا لازم ہے۔ تو میں سعودی عرب میں ان کے Jurisdiction میں ہوں، ان کا قاضی جو فیصلہ کرے گا وہ عند اللہ جواب دے گا، اللہ کو جواب دے گا، لیکن مجھ پر اس کا حکم ماننا لازم ہے۔ تو میں حج بھی ان کے فتوے کے مطابق کر رہا ہوں، قربانی بھی ان کے ساتھ کر رہا ہوں۔ تو مجھے تو گنجائش ہے، لیکن تم اس کے Jurisdiction میں نہیں ہو۔ تم جن کے Jurisdiction میں ہو، ان کا حکم آپ کے اوپر لازم ہے، لہذا آپ سعودی عرب کے ساتھ نہیں کر سکتے، شرعاً نہیں کر سکتے۔ اب یہ Detail ہر ایک کو تو نہیں پتا ہوتا کہ کوئی کام کسی کے لیے جائز ہوتا ہے، کسی کے لیے جائز نہیں ہوتا۔ تو اس طرح شیخ کے خانگی معاملات میں اگر کوئی دخیل ہوتا ہے، اس کو نقصان ہو جاتا ہے۔
اللہ کا شکر ہے، الحمد للہ، اللہ کا شکر ہے، اللہ کا شکر ہے، اللہ کا شکر ہے۔ وہ Accidentally اگر کوئی چیز کا پتا چل گیا ہو تو پتہ چل گیا ہو، تجسس میں نے کبھی بھی حضرت کے گھر کے معاملات کے نہیں کیے کہ حضرت کے گھر میں کیا ہوتا ہے۔ اس سے میں دور بھاگتا تھا۔ کہ کبھی مجھے، جن کے ساتھ میرا دل کا تعلق ہے، ان کے بارے میں مجھے کوئی ایسی چیز نہ نظر آئے جس کی وجہ سے مجھے نقصان ہو جائے۔ تو میں دور رہتا تھا، حتیٰ کہ ان کے خاندان والوں سے بھی ملنے جلنے سے دور رہتا تھا۔ بعض لوگ تو ان کے قریب ہوتے تھے لیکن میں دور رہتا تھا۔ مجھے اس میں فائدہ نظر آتا تھا کہ میں کیوں خواہ مخواہ، میں تو مولانا صاحب سے بیعت ہوں، کسی اور سے تو نہیں بیعت ہوں۔ مجھے تو اپنی فکر کرنی چاہیے۔ میں کسی اور کی فکر کیا کروں؟ "تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو"۔ خواہ مخواہ اپنے آپ کو خراب کرنا۔ تو یہ بات ہے کہ مرید کو شیخ کے خانگی معاملات میں نہیں پڑنا چاہیے اس وجہ سے۔
اللہ اکبر۔
اب میرے خیال میں وقت پورا ہو رہا ہے اور یہ پورا نہیں ہو رہا۔ اس وجہ سے میرے خیال میں اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔