ذکر میں ضرب کا حکم:
ارشاد: طریقِ خاص ضرب میں نہ مقصود ہے نہ موقوف علیہ برائے مقصود۔ جس طرح بے تکلّف بن جائے کافی ہے۔
ایک بات ہم لوگ اگر اچھی طرح سمجھ جائیں تو ساری بات سمجھ میں آ جائے گی۔ کچھ مقاصد ہوتے ہیں، کچھ ذرائع ہوتے ہیں، کچھ زوائد ہوتے ہیں۔ مقاصد کو حاصل کرنا ہوتا ہے جس کا حکم شریعت دیتا ہے، اس کے علاوہ کوئی اور اس کا حکم نہیں دے سکتا۔ یعنی مقاصد کا قرآن اور سنت سے ثابت ہونا ضروری ہے، یعنی ان کا منصوص ہونا ضروری ہے۔ جو ذرائع ہیں وہ مقاصد میں نہیں آتے، مقصود نہیں ہوتے، لیکن وہ مقصود ان ذرائع کے ذریعے سے حاصل ہو سکتا ہے۔ چونکہ کسی مقصد کو کئی ذرائع سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً میں لاہور جانا چاہتا ہوں، تو میں موٹروے کے راستے سے بھی جا سکتا ہوں، جی ٹی روڈ کے ذریعے سے بھی جا سکتا ہوں ، By air بھی جا سکتا ہوں اور بھی راستے ہوں گے۔ تو یہاں اگر مقصد میں لاہور کو سمجھوں تو یہ جو راستے ہیں یہ ان کے ذرائع ہیں۔ اس کے علاوہ میں اپنی گاڑی پہ جا سکتا ہوں، بس پہ جا سکتا ہوں، پیدل جا سکتا ہوں، موٹر سائیکل پہ جا سکتا ہوں، یعنی جو بھی ان کے ذرائع بن سکتے ہیں، بن سکتے ہیں۔ آسان اور مشکل کی بات ہوتی ہے۔ مثلاً جہاز پہ جانے میں سہولت ہے اور پیدل جانے میں مشکل ہے اور باقی درمیان کے ہیں۔ لیکن مقصد ان تمام ذرائع کے ذریعے سے حاصل ہو سکتا ہے۔ بس اگر میں کسی چیز کے بارے میں کہہ دوں کہ یہ ذریعہ ہے، تو اس کا منصوص ہونا ضروری نہیں ہے۔ کیونکہ ذریعہ مقصد نہیں ہوتا، ذریعہ مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ لہٰذا جس جائز طریقے سے حاصل کیا جا سکتا ہے تو حاصل کیا جائے۔
جائز طریقے سے کیا مراد ہے؟ جائز طریقے سے مراد ہے کہ اس کی شریعت میں ممانعت نہ ہو۔ مثلاً میں پانی کے ذریعے سے بھی کسی چیز کو دھو سکتا ہوں، عرقِ گلاب کے ذریعے سے بھی دھو سکتا ہوں، اور کسی اور پاک چیز، جو Solvent ہے اس کے ذریعے سے بھی دھو سکتا ہوں۔ لیکن پیشاب کے ذریعے سے نہیں دھو سکتا، الکوحل کے ذریعے سے نہیں دھو سکتا، کیونکہ شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ تو اس کے علاوہ جتنے طریقے ہیں وہ سارے کے سارے جائز ہیں، ضروری نہیں ہیں۔ جس طریقے سے بھی ہو جائے، ان کا منصوص ہونا ضروری نہیں ہے، لیکن اس کا شریعت کے ساتھ مقابل ہونا نہیں ہونا چاہیے، یعنی شریعت میں اس کی ممانعت نہیں ہونی چاہیے۔ جب یہ بات سمجھ میں آ گئی تو اب ذکر کیا ہے؟ یہ اللہ کی یاد کو کہتے ہیں، یعنی اللہ پاک کو یاد کرنا۔ پھر اللہ کو یاد کرنا دو طریقے سے ہے۔ ایک اللہ کو یاد کرنا محض اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کے جو طریقے، وہ اذکار جو مسنون ہیں، جو سنت سے ثابت ہیں وہ بھی ظاہر ہے مطلب اللہ کو یاد، جیسے سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْم اس کی فضیلت بیان کی، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ، استغفار، درود شریف، کلمہ طیبہ، قرآن پاک کی تلاوت؛ تو یہ سارے کے سارے منصوص اذکار ہیں۔ اور اس کے کرنے پر اجر ملتا ہے اور اس میں اجر کی نیت کرنی چاہیے۔ اس میں اجر کی نیت کرنی چاہیے کیونکہ یہ اجر کے لیے ہیں۔
اجر کی نیت کیوں کہا؟ مثلاً ایک شخص ہے وہ کہتا ہے قرآن میں شفا ہے اور قرآن کو شفا حاصل کرنے کے لیے پڑھتا ہے، اس میں اس کی ثواب کی نیت نہیں ہے تو اس کو شفا مل جائے گی، ثواب نہیں ملے گا۔ اور اگر ثواب کی نیت کر لے گا تو شفا بھی مل جائے گی اور ثواب بھی مل جائے گا۔ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث شریف ہے کہ ایک شخص روشن دان بنا رہا تھا، پوچھا یہ کس لیے بنا رہے ہو؟ اس نے کہا یا رسول اللہ! اس میں سے روشنی آئے گی، اس میں ہوا آئے گی۔ فرمایا: ہاں! اگر اس میں یہ نیت کرتے کہ اس میں اذان کی آواز آئے گی تو ہوا اور روشنی تو آ ہی جاتی، لیکن ساتھ ثواب بھی ملتا۔ تو اس وجہ سے ان چیزوں میں ثواب کی نیت کو کرنا چاہیے۔ مثلاً وضو میں کرتا ہوں، تو وضو میں وضو کی نیت نہ کرے تب بھی اس کا وضو ہو جائے گا۔ اگر وہ اعضاء دھولیں، یا ویسے دھل جائیں، بس دریا میں گر گیا پھر اٹھا تو اس کا وضو ہو گیا۔ بارش ہو گئی، اس کا سارا جسم بھیگ گیا، جو اعضاء وضو میں ہوتے ہیں وہ بھیگ گئے، تو اب اس کا وضو ہو گیا۔ لیکن اس کو وضو کا ثواب نہیں ملے گا۔ اس وضو سے نماز پڑھ سکتا ہے لیکن اس وضو سے اس کو وضو کا ثواب نہیں ملے گا۔ لیکن اگر اس نے وضو کی نیت کر لی، تو ثواب مل جائے گا وضو کا اور ساتھ ساتھ نماز بھی پڑھ لے گا اس سے۔ اس وجہ سے جو منصوص چیزیں ہیں، اس کے اندر نیت بھی منصوص ہونی چاہیے۔
اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔ تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
لیکن اگر میں علاج کے لیے ذکر کرتا ہوں تو علاج کے لیے جو ذکر ہے، یہ منصوص ہونا ضروری نہیں ہے۔ کیونکہ علاج کس چیز کا کیا جاتا ہے؟ دل کا۔ دل کا علاج منصوص ہے۔ ذکر سے ہو سکتا ہے، حدیث شریف میں آتا ہے۔ لیکن اس کا طریقہ منصوص نہیں ہے کہ کس طریقے سے ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جتنے لوگ ہیں، اتنے طریقے ہیں۔ کوئی گرم طبیعت کا ہے، کوئی سرد طبیعت کا ہے، کوئی دیہاتی ہے، کوئی پہاڑی ہے، کوئی شہری ہے، کوئی تاجر ہے، کوئی ملازم ہے، مطلب ہر ایک کے حالات الگ الگ ہیں۔ حتی کہ بھائیوں کے حالات ملتے نہیں آپس میں، ایک بھائی دوسرے بھائی سے نہیں ملتا۔ تو جب یہ والی بات ہے تو ہر ایک کے لیے الگ طریقہ ہو گا کیونکہ علاج الگ طریقے سے ہونا چاہیے۔ جنکا جونسا مزاج ہے، اس طریقے سے ہونا چاہیے۔ تو اس وجہ سے کوئی خاص طریقہ اس کا متعین نہیں کیا جا سکتا تھا، یعنی اللہ تعالیٰ تو کر سکتے تھے، لیکن اس کے لیے پورا نظام، تو ایسا نہیں کیا۔ تو اس کا منصوص ہونا ضروری نہیں ہے۔ البتہ یہ الگ بات ہے، مثال کے طور پر میں ویسے بیٹھوں اور سوچنے لگوں اللہ تعالیٰ کے بارے میں تو ٹھیک ہے اس سے بھی فائدہ ہوگا۔ لیکن میں اگر اللہ کا نام بھی ساتھ ساتھ لینے لگوں اور اللہ کا نام لینے کے لیے کوئی خاص طریقہ بھی وضع کر لوں۔ مثال کے طور پر ضرب ہے، ضرب سے مراد یہ ہے کہ میں ایک چیز کو راسخ کرنا چاہتا ہوں، اپنے دل میں، اپنے دل کو اس کے ذریعے سے جگانا چاہتا ہوں۔ تو اس صورت میں فائدہ زیادہ ہو جاتا ہے، تجربے سے پتا چلا ہے۔ تو ضرب اس لیے شروع ہو گیا۔ جہر اس لیے شروع ہو گیا کہ ویسے اگر میں کروں ذکر بغیر جہر کے، تو خیالات بہت سارے آتے ہیں۔ اکثر مجھ سے شکایت ہوتی ہے مراقبہ میں خیالات کے آنے کی۔ باقی دوسرے اذکار میں، شکایت بہت کم آتی ہے۔ یعنی لا الہ الا اللہ کا جو جہری ذکر ہم کرتے ہیں، الا اللہ کرتے، اس میں شکایت کم آتی ہے۔ لیکن جو مراقبہ میں بتاتا ہوں تو خواتین سے بھی شکایت آتی ہے اور مَردوں سے بھی شکایت آتی ہے کہ ہمارے خیالات اِدھر اُدھر چلے جاتے ہیں۔ تو اب یہ جو خیالات کو دور کرنے کے لیے جہر ایک ذریعہ بن سکتا ہے، تو ٹھیک ہے ایک علاج کا طریقہ ہو گیا۔ اس کے ذریعے سے یکسوئی حاصل ہو سکتی ہے، میں اس کی مثال دیتا ہوں، گرمیوں میں جب پنکھا چلتا ہے تو اس کے شور کے ساتھ جو شور کر رہا ہوتا ہے، چاہے وہ کتنا شور کر رہا ہو، اس کے ساتھ آدمی عادی ہوتا ہے اور اس شور کی وجہ سے بہت سارے باہر کے شور دب جاتے ہیں۔ جو اس سے کم لیول کے ہوتے ہیں، تو آدمی سمجھتا ہے کہ باہر شور نہیں ہو رہا، حالانکہ شور تو ہو رہا ہوتا ہے، لیکن وہ پنکھے نے اس شور کو کھا لیا۔ diamond cuts diamond لوہا لوہے کو کاٹتا ہے، تو شور شور کو کاٹتا ہے۔ تو پنکھے کا شور جیسے باہر کے شور کو کاٹ دیتا ہے اس سے کم لیول کا ہو، تو اس طرح جو ذکرِ جہر ہے یہ بھی خیالات کو بھٹکنے نہیں دیتا، یہ بھی اِدھر اُدھر کی چیزوں کو کھا جاتا ہے، تو اس کے ذریعے سے یکسوئی حاصل ہوتی ہے۔ تو ذکر بالجہر سے یکسوئی حاصل ہوتی ہے اور ضرب کے ساتھ دل متاثر ہوتا ہے۔ دل میں رقت پیدا ہوتی ہے، نرمی پیدا ہوتی ہے۔ اب یہ دو چیزیں مل کر یوں کہہ سکتے ہیں، اگر آواز بھی خوش آواز ہو، اچھی آواز ہو۔ اچھی آواز سے مراد یہ ہے کہ دل کو بھلا لگتا ہو۔ ویسے ہر ایک کا آواز خوش آواز تھوڑا ہوتا ہے، لیکن انسان جتنا وہ کر سکتا ہے دل کو بھلا لگتا ہو۔ تو اب وہ جو دل کو بھلا لگنے والی آواز ہے، یہ دل کے اوپر اثر کرتی ہے، Land کرتی ہے۔ تو اب جو اثر کرنے والی آواز کے ساتھ الفاظ وہ چلا دیں جو الفاظ آپ دل کے اندر پہنچانا چاہتے ہیں، تو دل ان الفاظ کو لے لے گا۔ نتیجتاً بعض دفعہ انسان جب ذکر بالجہر کافی عرصہ کر چکا ہوتا ہے تو وہ جب ذکر بالجہر نہیں بھی کر رہا ہوتا تو وہ چیزیں ہو رہی ہوتی ہیں، محسوس ہو رہا ہوتا ہے۔ اس سے متاثر ہو گئے ہوتے ہیں۔ تو جب یہ والی بات سمجھ میں آ گئی تو اب یہ منصوص تو نہیں ہے، متأثر کن ہے، مؤثر ہے، منصوص نہیں ہے۔ چونکہ ان کا منصوص ہونا ضروری نہیں ہے۔ لہٰذا جس طریقے سے بھی فائدہ ہو تو یہاں یہ فرمایا:
خاص ضرب نہ مقصود ہے نہ موقوف علیہ مقصود۔
تو جب مقصود نہیں تو کیا ہے؟ ذریعہ ہے۔
جس طرح بے تکلف بن جائے کافی ہے۔
بے تکلف سے مراد یہ ہے کہ جب آپ خاص تکلف کرتے ہیں تو آپ کا ذہن تو اس طرف جائے گا، اس تکلف کی طرف جائے گا۔ آپ اس کو بنائیں گے، وہ تو آپ کو نہیں بنائے گا۔ لیکن جس وقت بے تکلف آپ ذکر کر رہے ہوتے ہیں، ذکر بالجہر، تو وہ آپ کے حالات تبدیل کرے گا۔ مثلاً لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ اس طرح بھی ہو سکتا ہے، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ اس طرح بھی ہو سکتا ہے۔ کئی طریقے ہیں، کرتے ہیں مشائخ۔ اب یہ پھر شیخ کی بصیرت پر ہوتی ہے کہ وہ کس چیز کو زیادہ ان حالات میں مناسب سمجھتے ہیں۔ مثلاً ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ ضرب و جہر کے بارے میں ان کی جو تحقیق تھی وہ یہ تھی کہ ضرب میں یہ جو ہم باقاعدہ سر کو پیچھے کی طرف لے جاتے ہیں، پھر زور سے ضرب لگاتے ہیں، فرمایا: آج کل یہ نہیں کرنا چاہیے۔ آج کل لوگ اس کا تحمل نہیں کر پا رہے۔ لہٰذا حضرت بغیر سر ہلائے ذکر کرواتے تھے۔
لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ۔
اب دیکھیں سر نہیں ہل رہا، اس میں ایک فائدہ جو ہم نے نوٹ کیا وہ یہ ہے کہ باہر حرکت نہیں ہے، اندر حرکت ہے، اندر حرکت ہے، باہر حرکت نہیں ہے۔ تو جب یہ والی بات ہے تو ظاہر ہے اندر زیادہ متاثر ہو، اور متاثر کرنا بھی اندر کو ہے۔ تو حضرت کی تحقیق تھی، اور الحمد اللہ اس سے حضرت کے مریدوں نے کافی فائدہ اٹھایا ہے۔ بغیر کسی اور طریقے کو غلط کہے، ہم اس طریقے کو چلا سکتے ہیں کیونکہ اس کا کوئی خاص طریقہ مقصود ہے نہیں۔ تو جس طریقے سے ہمیں فائدہ ہوتا نظر آ رہا ہے ہم اس طریقے سے کر رہے ہیں۔ تو یہ اس کے بارے میں حضرت نے فرمایا کہ نہ تو یہ مقصود ہے، نہ موقوف علیہ مقصود ہے، ہاں جس طرح بے تکلف بن جائے کافی ہے۔
فکر سے اُنس ہو جانا ذکر ہی کی برکت ہے:
حال: دل چاہتا ہے کہ ذکر چھوڑ دوں اور بیٹھ کر سوچتا رہوں اور ذکر میں طبیعت کم لگتی ہے۔
ارشاد: یہ جو لکھا ہے کہ "ذکر چھوڑ دوں اور بیٹھ کر سوچتا رہوں"، سو یہ برکت ذکر ہی کی ہے کہ فکر سے اُنس ہو گیا ہے، ذکر کرنا ہرگز نہ چھوڑنا ورنہ بِنَاء کے انعدام سے مبنیٰ کا انعدام ہو جائے گا۔ خواہ دل لگے یا نہ لگے، معمولات پر استقامت رکھیں۔
حضرت نے اصل میں ایک بڑے نکتے کی بات بتائی ہے اس میں۔ مثال کے طور پر ایک شخص بیمار ہے، کھانے کو جی نہیں چاہتا، مفید چیزیں کھانے کو جی نہیں چاہتا، جو اس کے لیے مفید ہیں۔ اب ڈاکٹر اس کو دوائی دے رہا ہے۔ اب اس سے اس مفید چیز کو کھانے کو جی چاہا۔ تو کہتا ہے ڈاکٹر صاحب اب تو ماشاءاللہ میرے دل میں اس میں لگ رہا ہے، میں مفید چیز یہ جو اچھی چیزیں ہیں اس کو کھانے کو جی چاہتا ہے۔ تو بس یہ دوائی کھانے کو اب جی نہیں چاہتا۔ تو ڈاکٹر کیا کہے گا؟
خبر بھی ہے یہ کس طریقے سے ہوا ہے؟ یہ اسی دوائی کھانے سے تو ہوا ہے۔ اگر دوائی چھوڑ دی نامکمل علاج کے ساتھ، تو پھر دوبارہ اسی حالت پہ چلے جاؤ گے۔ جب تک ذکر کی، خارجی ذکر کی تمہیں ضرورت ہے، داخلی ذکر اگر آپ کا ابھی شروع نہیں ہوا۔ جب تک خارجی ذکر کی ضرورت ہے اس کو چلائے رکھنا اور اس کا فیصلہ شیخ کرتا ہے کہ اب آپ کو ضرورت ہے یا نہیں، جس طرح ڈاکٹر فیصلہ کرتا ہے۔
تو اس کا فیصلہ شیخ کرے گا، کب آپ کو اس کی اب ضرورت نہیں ہے۔ تو ایسی صورت میں آپ اس کو، ذکر کو جاری رکھیں۔ تو چونکہ اس کو ضرورت تھی ابھی اس وقت تک، حضرت نے اس کو ذکر چھوڑنے سے منع فرمایا۔ فرمایا نہیں بھئی، اس کو چلائے رکھو، یہ جو فکر تجھے نصیب ہوئی ہے اسی برکت سے نصیب ہوئی ہے۔
غالباً ایک شخص نے یہ بھی کہا تھا کہ حضرت مجھے اب قرآن کے ساتھ بہت زیادہ، قرآن کی تلاوت کا بڑا شوق ہو گیا ہے۔ تو قرآن تو ظاہر ہے اللہ کا کلام ہے، میں اس کو ہی پڑھتا رہوں۔ تو حضرت نے ان کو بھی فرمایا خبر بھی ہے یہ کس وجہ سے حاصل ہوا ہے؟ فرمایا یہ اسی ذکر کے ذریعے سے حاصل ہوا ہے۔ لہٰذا اس کو نہ چھوڑیں، قرآن کی تلاوت بھی کرو لیکن اس کو نہ چھوڑیں۔
تو اس طریقے سے جو لوگ محققین ہوتے ہیں، وہ غذا کا بھی خیال رکھتے ہیں اور دوا کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ اور جو غیر محققین ہوتے ہیں، وہ وقتی ضرورت کا خیال رکھتے ہیں، وہ مبنٰی اور بنا کا خیال نہیں رکھتے۔ اس وجہ سے ان میں گڑبڑ ہو جاتی ہے، اور بعد میں نقصان ہو جاتا ہے۔
ہمارے Medical Knowledge میں یہ بات ہے کہ TB کا جو علاج ہوتا ہے تقریباً نو مہینے ہوتا ہے۔ آج کل نو مہینے؟ زیادہ ہے؟ اب کم ہے؟ چھ مہینے تک آ گیا چلو ماشاءاللہ۔ Normal جو ہے۔ فیصلہ تو ڈاکٹر کرے گا نا ظاہر ہے۔ تو اب چھ مہینے اگر اس کی مدت ہے، تو یہ کتنے ہفتے میں اس کے Symptoms ختم ہو جاتے ہیں؟ چار سے چھ ہفتے میں اس کے Symptoms ختم ہو جاتے ہیں، لہٰذا مریض اپنے آپ کو صحت مند مان لیتا ہے کہ میں اب صحت مند ہو گیا۔
لیکن ڈاکٹر کہتا ہے یہ دوائی نہ چھوڑو۔ کیونکہ اگر یہ دوائی چھوڑ دی تو Recurrence ہو جائے گا، واپس ہو جائے گا۔ اور وہ زیادہ Dangerous ہے۔ کیوں اس سے اس Medicine کے لیے وہ Resistant ہو جائے گا۔ پھر اس سے High Level پہ جانا پڑے گا۔ پھر زیادہ دیر کے لیے علاج کرنا پڑے گا۔
تو اس طریقے سے یہ جو ہمارے Incomplete حالت میں چھوڑ دیتے ہیں، ذکر اذکار اور اپنے آپ کو کامل سمجھنے لگتے ہیں، یہ بن جاتے ہیں "مټکور"۔ جس کو Medical Knowledge میں Resistant کہتے ہیں، اور ہم لوگ اس کو "مټکور" کہتے ہیں۔ پشتو میں، اردو میں کیا کہتے ہیں؟ چکنا گھڑا، چکنا گھڑا اس کو کہتے ہیں نا۔ چکنے گھڑے پہ پانی نہیں ٹھہرتا۔ چکنا گھڑا بن جاتا ہے۔ اس کے اوپر پھر اثر کوئی نہیں کرتا۔
واقعتاً ہم نے دیکھا ہے، خدانخواستہ خدانخواستہ اگر کوئی کسی گستاخی کی وجہ سے، بے ادبی کی وجہ سے، یا بے انتظامی کی وجہ سے، یا کسی جس کو کہتے ہیں نا خود رائی کے ذریعے سے ایک دفعہ چکنا گھڑا بن گیا، اس بیچارے کا حشر ہو جاتا ہے۔ پھر وہ کہیں سے بھی اس کا علاج نہیں ہوتا۔ وہ ایسا ہو جاتا ہے کہ پھر اس کے بعد راستہ نہیں ملتا اس کو۔
تو اس وجہ سے ہمارے مشائخ نے چونکہ ان چیزوں کو دیکھا ہوتا ہے، یا پڑھا ہوتا ہے، یا سنا ہوتا ہے، لہٰذا وہ اس چیز سے روکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بھئی خود رائی نہ کرو۔ حضرت فرماتے ہیں خود رائی نہ کرو خود کو رائی سمجھو۔ خود کو رائی کر لو، خود رائی نہ کرو۔ مقصد یہ ہے کہ انسان جب تک اپنے مقصد پہ نظر رکھے گا۔ اور مقصد کو پورا کرنے کے ذرائع کو، ذرائع بتانے والے کے مطابق اس وقت تک استعمال کرتا رہے جب تک بتانے والا اس کو ضروری سمجھتا ہے، تو اس وقت تک پھر وہ، فائدہ نہیں ہو گا، کچھ مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ لہٰذا ان چیزوں میں فیصلہ اپنے معالج پر چھوڑنا چاہیے۔
ضُعف خود مُقتضِی تقلیلِ قیود ہے:
ارشاد: مبتدی کو اجازت ہے کہ خواہ آنکھ کھولے ہوئے نماز پڑھے یا بند کر کے، اکثر صفراوی یا سوداوی قیود سے متوحِّش ہوتے ہیں، خصوصاً جبکہ اس کے ساتھ ضُعف بھی منضم ہوجائے اور ضُعف مُقتضِی تکثیرِ قیود کو نہیں، بلکہ مقتضِی تقلیلِ قیود کو ہے۔ قیود سے جو اصل مقصود ہے تاثر، خود وہی کام ضُعف دیتا ہے۔
یہ بہت گہری بات فرمائی ہے۔ تین قسمیں ہوتی ہیں سالکین کی۔ ایک ہوتا ہے مبتدی جس نے ابھی شروع کیا ہے۔ ایک ہوتا ہے متوسط جس نے ابھی تکمیل تو اس کی نہیں ہوئی، لیکن وہ مبتدی بھی نہیں ہے آگے چڑھ چکا ہے، کچھ دیکھ چکا ہے، کچھ سمجھ چکا ہے، کچھ آگے بڑھ چکا ہے، وہ متوسط ہے۔ لیکن ابھی تکمیل اس کی نہیں ہوئی۔ اور ایک منتہی جس کی تکمیل بھی ہو جاتی ہے۔
Medical Knowledge میں اگر میں اس کو بتاؤں TB کی بیماری کے سلسلے میں، تو مبتدی وہ ہے جس نے ابھی ہی ابھی بس Medicine start کر لیا۔ اور متوسط وہ ہے جو چار چھ ہفتے کے بعد والی condition ہے۔ اور منتہی وہ ہے جو جب علاج ہو جائے۔
تو متوسط کو دھوکہ لگتا ہے۔ نہ مبتدی کو دھوکہ لگتا ہے، نہ منتہی کو دھوکہ لگتا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے یا نہیں آ رہی؟ نہ مبتدی کو دھوکہ لگتا ہے نہ منتہی کو دھوکہ لگتا ہے، متوسط کو دھوکہ لگتا ہے۔ لہٰذا وہ زیادہ Dangerous condition ہے۔ اور عوام بھی انہی سے دھوکہ کھاتے ہیں۔ عوام بھی متوسط لوگوں سے دھوکہ کھاتے ہیں۔ نہ منتہی سے دھوکہ کھاتے ہیں نہ مبتدی سے دھوکہ کھاتے ہیں۔
متوسط میں یوں کہہ سکتے ہیں، صحت کے آثار پائے جاتے ہیں لیکن وہ صحت مند نہیں ہوتا۔ مبتدی میں صحت کے آثار نہیں پائے جاتے لیکن وہ صحت مند نہیں کہلایا جاتا۔ معلوم ہوتا ہے، اس کو خود بھی معلوم ہوتا ہے کہ میں بیمار ہوں اور دوسرے لوگ بھی اس کو بیمار سمجھتے ہیں۔ اور منتہی، یہ ظاہر ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے نکال لیتے ہیں۔
تو جب یہی بات ہے، تو اب ظاہر ہے ہم لوگ، جو ضعف والی بات ہے، ایک ضعیف شخص بڑا زور شور سے ذکر نہیں کر سکتا۔ تو اگر وہ آہستہ آہستہ ذکر کر رہا ہے اس کے لیے وہ کافی ہو جاتا ہے۔ کیوں، وجہ کیا ہے؟ کہ جتنا زیادہ آدمی قوی ہے، اس میں انفعال کم ہوتا ہے۔ مثلاً موٹی تار ہے، تو اس میں آواز کس وقت آئے گی؟ اگر آپ اس کو بجانا چاہیں، تو آواز کس وقت آئے گی؟ خوب بڑے stroke دیں گے تو پھر اس میں آواز آئے گی۔ اور باریک تار میں تھوڑے سے بس تھوڑا سا ہلائیں گے تو اس میں آواز آ جائے گی۔
تو اب جب یہ والی بات سمجھ میں آ گئی، تو اس کا مطلب ہے کہ جو ضعف ہے، وہ چیزوں کو یعنی تأثر کو بڑھا دیتا ہے۔ انفعال جس کو ہم کہتے ہیں۔ تأثر کو بڑھا دیتا ہے۔ لہٰذا ضعیف کو اتنا دینا چاہیے جتنا وہ سنبھال سکتا ہے۔ اب میں باریک تار کو اتنے بڑے stroke سے مار دوں، تو نتیجہ کیا ہو گا؟ وہ تو ٹوٹ جائے گا۔ آواز کیا آئے گی؟ ٹوٹ ہی جائے گا۔ اور موٹی تار کو میں اگر چھوٹے سے مارنا شروع کر لوں اس کو پتہ ہی نہیں چلے گا۔
تو اس وجہ سے جو قوی لوگ تھے پہلے، وہ بڑے زبردست طریقے سے ضرب لگاتے تھے۔ اِلَّا اللہ اس طرح بالکل ان کی آواز دور دور تک جاتی تھی۔ حضرت گنگوہی رحمة الله عليه کی خانقاہ میں جو ذاکرین ہوتے تھے، ان کے حالات میں بتاتے ہیں۔ اتنا زور و شور کے ساتھ ذکر کرتے تھے، کہ پاس دھوبی گھاٹ تھا۔ تو دھوبی گھاٹ میں دھوبی کپڑے دھوتے تھے، تو وہ کپڑے کو مارتے، مار مار کے کپڑے کو صاف کرتے ہیں۔
تو اس پر یہ بات ہوئی کہ، ان حضرات کو جو ذکر کرتے تھے، دھوبی بھی اس سے متاثر ہوئے۔ اتنے دور! تو دھوبیوں نے بھی ذکر شروع کیا۔ اور دھوبی جب کپڑے مارتے تھے تو کہتے تھے اَللّٰهُ، اَللّٰه، اَللّٰهُ، اَللّٰه! اس سے کپڑے مارتے تھے۔ تو ان کے کپڑے بھی صاف ہو جاتے تھے، ان کی آواز بھی۔۔۔
تو مقصد یہ ہے کہ وہ حضرات چونکہ قوی تھے، ان کا بغیر اس کے نہیں کام بنتا تھا۔ وہ تھوڑے تھوڑے stroke سے کام نہیں ہوتا تھا ان کا۔ تو ان کو خوب زور سے کام کروانا ہوتا تھا۔
جبکہ جو ضعیف لوگ ہوتے ہیں، ان کو ہم کہتے ہیں حوصلہ۔ جیسے خواتین کو ہم ذکر جہر کراتے ہی نہیں۔ ابھی تک میں نے صرف تین خواتین کو ذکرِ جہر کرایا ہے، اور وہ بھی بڑے control انداز میں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے مزاج میں اتنا انتشار تھا، ان کے مزاج میں، جیسے مردوں کے ذہن میں ہوتا ہے۔ کہ وہ مراقبہ کی طرف آ ہی نہیں سکتی تھی۔ لہٰذا انہوں نے جب مجھے بار بار کہا کہ نہیں ہو رہا، نہیں ہو رہا، نہیں ہو رہا، نہیں ہو رہا... تو پھر اس کے بعد میں نے کہا اچھا ٹھیک ہے، کمرے میں بند، دروازہ بند کر کے دھیمی آواز کے ساتھ ضرب و جہر کا طریقہ بتا دیا۔
اور کچھ عرصہ جب انہوں نے ضرب و جہر کا ذکر کیا تو ان کا مراقبہ چل پڑا۔ جب چل پڑا میں نے کہا اب چھوڑ دو۔ کیونکہ مقصود حاصل ہو گیا، اس کے بعد پھر ہم نے کیا کرنا تھا؟ تو اس کے بعد پھر شروع ہو گیا۔ لیکن اکثر خواتین کو چالیس دن کے لسانی ذکر کے بعد مراقبہ دے دیں تو ان کا مراقبہ شروع ہو جاتا ہے، اکثر۔ ورنہ کچھ ہی عرصے میں شروع ہو جاتا ہے۔
تو یہ والی بات سمجھ میں آ گئی کہ ضعف جو ہے بذاتِ خود ایک factor ہے۔ اور یہ متاثر کرتا ہے، تأثر پیدا کرتا ہے۔ ایک 78 year کا بوڑھا آدمی مجھ سے بیعت ہوا تھا۔ تو اس کو میں نے کہا کہ آپ کی عمر زیادہ ہے، آپ کو میں ذکر بالجہر نہیں دیتا۔ اس کو میں نے قلبی ذکر بتایا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس کو تین مہینے میں اللہ تعالیٰ نے وہ چیزیں عنایت فرمائیں جو باقی لوگوں کو سالوں میں... براہ راست مطلب انہوں نے مراقبہ شروع کر لیا۔
اور اتنا متاثر ہوا کہ مجھے کہنے لگے شاہ صاحب! میں دوسروں کو تو نہیں convince کر سکتا، خود convince ہو گیا ہوں کہ ذکر میں کتنی قوت ہے۔ اور ایک بات انہوں نے یہ بتائی کہ شاہ صاحب میرا مطالعہ ہی نہیں چھوٹتا تھا، اب میں کہتا ہوں تنہائی ہو اور یادِ الٰہی ہو۔ تیسری انہوں نے یہ بات کی کہ شاہ صاحب میں (سر پہ ہاتھ رکھا) ادھر تھا، پھر دل پہ ہاتھ رکھا فرمایا اب ادھر آ گیا ہوں۔
مطلب یہ ہے کہ دیکھو ذکر نے اپنا اثر کر دکھایا ہے۔ تو یہ جو چیز ہے مطلب ضعف، یہ بذات خود ہی کچھ قیود کو کم کر لیتا ہے کیونکہ تاثر بڑھ جاتا ہے، Effectivity زیادہ ہو جاتی ہے۔
اب ایک ہوتے ہیں اناڑی شیخ۔ تو اناڑی شیخ جو ہوتا ہے، وہ دیکھ کر وہ دیتا ہے کہ کس میں کتنی قوت ہے اس طرح ذکر دیتا ہے اور جو صحیح ہوتا ہے شیخ، کامل... تو وہ باقاعدہ سوچ سمجھ کر دیکھتا ہے کہ وہ ذکر یہ کر سکتا ہے یا نہیں؟ جو اناڑی ہوتا ہے وہ تو دے دیتا ہے، وہ کہتا ہے جاؤ بھئی کام کرو، کتابوں سے پڑھ پڑھ کر بتاتا رہتا ہے۔
بھئی کتابوں میں ساری چیزیں تھوڑی آتی ہیں؟ کتابوں میں ساری چیزیں تو نہیں آ سکتیں، وہ تو ہر شخص کا اپنا mind ہے، اپنا level ہے، اپنی برداشت ہے۔ لہٰذا اس لیے میں کہتا ہوں بھئی کتابوں سے پڑھ پڑھ کے ذکر نہ کیا کرو علاجی۔ کتابوں سے پڑھ پڑھ کے نہ کیا کرو، کیونکہ اس سے پھر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اور جب مسائل پیدا ہو جائیں، تو پھر اس کو control کرنا پھر زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
معمول سے زائد ذکر کا حکم:
ارشاد: اگر معمول سے زیادہ ذکر کو طبیعت چاہے تو کرے، لیکن اس زائد کو لازم نہ سمجھے اور جب بعد چندے امیدِ دوام ہو جائے التزام کرلے۔
یہ وہ ذکر ہے جو اس کو ہم کہتے ہیں غذائی ذکر۔ مثال کے طور پر 300 دفعہ، تیسرا کلمہ 100 دفعہ، درود شریف 100 دفعہ، استغفار میرا معمول ہے۔ کسی دن میرا زیادہ دل چاہتا ہے کہ میں زیادہ کر لوں، تو کر لو۔ 200 دفعہ کر لو۔ زیادہ ذکر کرنا چاہے تو 300 دفعہ کر لو، لیکن وہ معمول اتنا ہی سو سو دفعہ سمجھو۔
اب میں تہجد پڑھتا ہوں مثلاً، اور اوابین پڑھتا ہوں، اشراق معمول نہیں ہے، Duty کی وجہ سے یا اور مسائل ہیں۔ تو اگر کسی دن چھٹی ہو، اور دل چاہے کہ میں اشراق پڑھ لوں، تو پڑھ لو۔ لیکن اس وقت اشراق کو معمول میں داخل نہ کریں کہ یہ میرا معمول نہیں ہے لیکن آج موقع ہے لہٰذا میں پڑھ لیتا ہوں۔
علاجی ذکر میں مشورے سے ہی بڑھا سکتے ہیں۔ مشورے سے ہی بڑھا سکتے ہیں، کیونکہ اس میں ہر شخص کی استعداد مختلف ہے۔ مجھے یاد ہے الحمدللہ حضرت نے مجھے بیعت کے ساتھ سو سو دفعہ تین تسبیحیں بتائی تھیں، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، اَللّٰهُ اَللّٰه اور اَللّٰه کی۔ سو سو دفعہ بتائی تھیں۔ اور پھر کچھ عرصے کے بعد چار تسبیحیں کر لیں۔ پھر چار تسبیحیں سالوں رکھیں۔ میں خود کہتا تھا حضرت سے حضرت بڑھا لوں؟ فرمایا کیا ہے تمہارے پاس ٹائم؟ بس یہ کافی ہے نا۔
حالانکہ خود باقی لوگوں سے ناراض ہوتے تھے کہ دیکھو ذکر دیتا ہوں ذکر نہیں کرتے۔ اس کا اظہار فرماتے تھے۔ آج کل لوگوں کو ذکر دیتے ہیں، کہتے ہیں جی ہمارے پاس وقت نہیں ہے اور یہ نہیں وہ نہیں۔ اور میں خود کہتا تھا کہ حضرت کر لوں؟ حضرت فرماتے تمہارے پاس ٹائم ہے؟ بس یہ کافی ہے۔
مقصد یہ ہے کہ ذکرِ علاجی تو مقصود نہیں ہے نا، یہ تو ذریعہ ہے۔ اب وہی والی بات ہے کہ مجھ میں اتنی برداشت نہیں تھی۔ حضرت کے اس کے مطابق۔ تو لہٰذا مجھے بہت کم ذکر دیا اور مجھے بعد میں پتا چلا، واقعتاً اگر میں حضرت کے پاس نہ جاتا اور کوئی اناڑی شخص کے پاس چلا جاتا میں مجذوب ہو جاتا۔ اڑ جاتا۔ لیکن حضرت نے بڑا سنبھال کے رکھا، سالوں۔ تو یہ ہوتا ہے، مطلب ہر شخص کا اپنا معیار ہوتا ہے اور ساتھ ساتھ استعداد ہوتا ہے۔ لہٰذا استعداد کے مطابق شیخ دیکھ کر وہ دیتا ہے، اسی کو ہی لینا چاہیے۔ باقی چیزیں جو ہے نا وہ زائد ہیں۔
ذکر میں بار و مشقت خود نافع ہے:
حال: ذکر طبیعت پر بہت بار معلوم ہوتا ہے
یہ حال کوئی بتا رہا ہے
ذکر طبیعت پر بہت بار معلوم ہوتا ہے جب کرنے بیٹھتا ہوں جی گھبرا اٹھتا ہے۔
ارشاد: بار ایک مشقت ہے، مشقت میں اگر جی نہ لگے تو سمجھ لو کہ خود مشقت بھی نفع میں جی لگنے سے کم نہیں۔ جس طرح سے بھی ہو حَتَّی الْوُسْع پورا کر لیا کیجئے۔ شُدہ شُدہ سب دشواری مبدّل بآسانی ہو جائے گی۔
حضرت ہی کی برکت سے الحمدللہ اللہ پاک نے میرے اوپر یہ بات کھولی ہے۔ کہ اگر ذکر میں جی لگتا ہے تو اس سے دل کا علاج ہوتا ہے۔ جیسے حدیث شریف میں آتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ دل کا صاف کرنے کا آلہ ذکر اللہ ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے۔ لہٰذا اس سے دل کی اصلاح ہوتی ہے۔ لیکن اگر اس میں مشقت ہو، دل نہ چاہتا ہو، اور زبردستی آپ کروا رہے ہو، تو چونکہ ذکر تو ہو ہی رہا ہے، تو دل کا تو علاج ہو ہی رہا ہے، ساتھ ساتھ نفس کا بھی علاج ہو جائے گا۔ ساتھ ساتھ نفس کا بھی، کیونکہ نفس کا علاج مجاہدہ ہے اور یہ مجاہدہ ہے۔ نفس کا علاج مجاہدہ ہے اور یہ مجاہدہ ہے۔
میں آپ کو بتاؤں، یہ جو چوکیدار حضرات ہوتے ہیں، کچھ نہیں کر رہے ہوتے، بس کھڑے ہوتے ہیں نا۔ لیکن یہ کھڑا ہونا کوئی کم مجاہدہ ہے؟ کچھ نہ کرنا بھی تو مجاہدہ ہے۔ کیونکہ دیکھیں، یکسانیت سے انسان گھبراتا ہے۔ مسلسل کھڑا ہونا بھی تھکاتا ہے۔ مسلسل بیٹھنا بھی تھکاتا ہے، مسلسل لیٹنا بھی تھکاتا ہے، مسلسل بولنا بھی تھکاتا ہے، مسلسل خاموش رہنا بھی تھکاتا ہے۔ یعنی جو چیز بھی مسلسل ہو رہی ہے، اس سے انسان تھک جاتا ہے۔ اس حالت کو بدلنے کو جی چاہتا ہے۔ جب انسان کار میں لاہور سے آ رہا ہوتا ہے، تو درمیان میں Stay کیوں کرتا ہے؟ کیا خیال ہے باہر جا کر بیٹھ جاتا ہے؟ تھوڑا سا چل پھر لیتا ہے پاؤں کو چلا دیتا ہے، حالت بدل لیتا ہے، یہی Relaxation ہوتا ہے۔ ٹھیک ہے نا۔
تو یہ جو چیز ہے مجاہدہ، تو مجاہدہ نفس کا علاج ہے۔ اس وجہ سے اگر مشقت ہو رہا ہے تو مجاہدہ ہو رہا ہے۔ مجاہدے سے نفع ہو رہا ہے، اور ساتھ ساتھ ذکر کا نفع بھی الگ ہے۔ اس وجہ سے میں کہتا ہوں کہ جس کا جی ذکر کرنے کو نہ چاہے اس کو double فائدہ ہے اگر وہ ذکر کر رہا ہے۔ اس کو double فائدہ ہے۔ ایک دل کا علاج ہے اور دوسرا نفس کا علاج ہے۔ کام دونوں ہو رہے ہیں۔
ندامتِ مَافَات بھی مانعِ حِرمان ہے:
حال: ایک مرض جو کہ سب سے بڑھ کر ہے وہ ”کم ہمتی“ ہے کہ مجھ سے کوئی کام نہیں ہوتا۔
ارشاد: جتنا بھی ہو جائے وہ بھی بغیر کئے ہوئے نِدامت سے مل کر محروم نہ رہنے دے گا۔
مطلب یہ ہے کہ ندامت جو ہے، اگر انسان یہ کرتا ہے کہ مجھ سے کچھ بھی نہیں ہوا۔ ایک ہوتا ہے بغیر کچھ کرنے کے ندامت، وہ اور ہے۔ اور ایک کوشش کر کے ندامت ہے۔ مطلب کوشش تو کر رہا ہے لیکن پورا نہیں ہو رہا، تو یہ ندامت ہے۔ تو ایسی ندامت پہ ماشاءاللہ فائدہ ہوتا ہے۔
فرحت خود رحمت کی لونڈی ہے:
حال: کچھ ذکر و تلاوت تو کرنے لگا ہوں، تہجّد بھی بعدِ عشاء جاری ہے، لیکن ہنوز قلب میں فرحت پیدا نہیں ہوئی۔
ارشاد: رحمت تو پیدا ہو گئی ہے جو رہبری کر رہی ہے۔ فرحت خود اس کی لونڈی ہے، اپنی باری میں وہ بھی حاضر ہو جائے گی۔
رحمت سے مراد یہ کہ اللہ توفیق دے رہا ہے۔ کام ہو رہا ہے۔ ٹھیک ہے؟
ذکر میں وضو کا حکم:
ارشاد: با وضو ذکر کرنے سے برکت زیادہ ضرور ہوتی ہے، لیکن وضو رکھنا ضروری نہیں۔ اس لئے اگر کسی کا وضو نہ ٹھہرتا ہو اور بار بار وضو کرنے سے تکلیف ہو تو تیمّم کرلیا کرے، مگر اس تیمّم سے نماز و مسِ مُصْحَف جائز نہیں۔
یہ بات فرمائی کہ باوضو ذکر کرنے سے برکت زیادہ ہوتی ہے۔ کیونکہ وضو سلاحِ مومن ہے۔ یعنی مومن کا اسلحہ ہے۔ شیطان کے خلاف۔ لہٰذا اگر کوئی باوضو ذکر کرتا ہے، باوضو مثال کے طور پر قرآن پاک کی بغیر touch کیے تلاوت کر رہا ہے، تو اس میں نور زیادہ ہو گا۔ حافظِ قرآن تو بغیر وضو کے بھی تلاوت کر سکتا ہے نا۔ لیکن بغیر وضو کرنے میں نور کم ہو گا۔ وضو کر کے کرنے میں نور زیادہ ہو گا۔ اسی طرح ذکر بھی بغیر وضو کیا جا سکتا ہے۔ لیکن بغیر وضو کے کرنے میں نور کم ہو گا اور وضو کے ساتھ کرنے میں نور زیادہ ہو گا۔
مجھ سے اکثر لوگ پوچھتے ہیں جی، میں ٹیک لگا کر کر لوں مراقبہ؟ تو اگر وہ کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر میرے خیال میں، تو اس کو میں Diplomatic جواب دیتا ہوں۔ ان سے میں کہتا ہوں کہ ہاں کر سکتے ہو، کیونکہ ظاہر ہے شریعت کی تو پابندی نہیں ہے۔ لیکن اس کے اثر میں کمی آ جائے گی۔ اگر آپ زیادہ موثر ذکر کرنا چاہیں تو بیٹھ کر باقاعدہ طریقے سے کر لو، وضو کے ساتھ۔ ورنہ ویسے تو ذکر بغیر وضو کے بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن بغیر وضو کے ساتھ ذکر کا پھر اتنا ہی فائدہ ہو گا۔
لیٹ کر ذکر کرنے سے اتنا ہی۔۔۔ ہاں اگر آدمی بیمار ہے، اٹھ ہی نہیں سکتا، تو اس کا لیٹے لیٹے سارا کام ٹھیک ہو جائے گا۔ اس کو بیٹھ کر کرنے کا پابند نہیں بنایا جاتا۔ کیونکہ وہ اٹھ ہی نہیں سکتا۔ تو یہی اصل میں بات ہے کہ جو لوگ کہتے ہیں نا جتنا گڑ ڈالو گے اتنا شربت میٹھا ہو گا۔ تو اتنا جتنا کہ انسان Dedication کرتا ہے، اور زیادہ توجہ کے ساتھ تو ظاہر ہے اس کے فوائد بڑھ جائیں گے۔
نماز سے جی چرانے کا علاج:
حال: نماز پڑھنے میں جی بہت چراتا ہے۔
ارشاد: اس کا تو کچھ حرج نہیں، مگر جی چرانے پر عمل نہ کیا جائے۔
کہ جی چاہنے کا مطلب اور ہے اور عمل کرنے کا مطلب اور ہے۔
نفس کی مخالفت کر کے نماز کو اہتمام سے پڑھا جائے اور کچھ نوافل بھی معمول کر لیا جائے جتنے میں کسی ضروری کام کا حرج نہ ہو۔
اس میں حضرت نے دو نکتے بتائے ہیں۔ ایک تو یہ نکتہ بتایا ہے کہ جی چاہنے کی پروا نہ کرو بلکہ عمل کر لیا کرو، چاہے جی چاہتا ہو یا نہیں چاہتا ہو۔ دوسرا یہ بتایا کہ نوافل سے چونکہ، دیکھیں میں آپ کو ایک بات بتاؤں، ہمارے پشتو میں بلکہ اردو میں بھی ہے کہ اگر موت سر پر آ جائے تو پھر بیماری سے انسان نہیں ڈرتا، آدمی کہتا ہے بیماری سہی لیکن بچ جاؤں۔ تو اسی طریقے سے جب آپ زیادہ کریں گے تو نفس تھوڑے پہ مان جائے گا، یعنی اگر آپ اس کے لیے ٹارگٹ بڑا کر دیں گے تو تھوڑے پہ مان جائے گا، اس پہ Resist نہیں کرے گا۔ تو حضرت نے فرمایا کہ نوافل کچھ پڑھ لیا کرو۔ اب ان کا تو فرض نماز پڑھنے کو جی نہیں چاہتا، حضرت نے فرمایا نوافل پڑھ لیا کرو۔ تو اس لیے فرمایا کہ نوافل پڑھنے سے پھر فرائض آسان ہو جائیں گے۔ نوافل پڑھنے سے فرائض آسان ہو جائیں گے، اس کی حفاظت ہو جائے گی۔
جو تکبیر اولیٰ کا خیال رکھتا ہے تو جماعت تو اس کو مل ہی جاتی ہے، اور جو جماعت کا خیال رکھتا ہے اس کو نماز تو مل ہی جاتی ہے، اور جو صرف نماز کا خیال رکھتا ہے تو اس کی کبھی کبھی نماز قضا بھی ہو جاتی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ مطلب اپنا Level ذرا اوپر رکھنا چاہیے۔ تو اب یہ جو نوافل ہے اس لیے فرمایا کہ بڑھاؤ تاکہ فرائض پہ جمنا نصیب ہو جائے۔ کتنے نوافل پڑھیں؟ تو حضرت نے اس کی Limit بھی بتائی ہے کہ کچھ کام ہوتے ہیں فرض، واجب، کچھ ہوتے ہیں سنن اور مستحبات۔ تو سنن و مستحبات اتنے ہونے چاہئیں جتنے کہ فرائض و واجبات میں حرج نہ ہوتا ہو۔ فرائض و واجبات بہت سارے ہیں۔ فرائض و واجبات کچھ عبادات سے تعلق رکھتے ہیں کچھ معاملات سے تعلق رکھتے ہیں، مثلاً ڈیوٹی ہے آپ کی۔ اب جا کر آپ آفس میں نفل پڑھنا شروع کر دیں، کیا اجازت ہو گی؟ یہ معاملات کی بات ہے، آپ اپنا وقت بیچ چکے ہیں، تمہارا وقت ہے ہی نہیں وہ، فرض نماز سے وہ کوئی آپ کو نہیں روک سکتا، لیکن نفل تمہارا حق نہیں ہے۔
حلوائی کی دکان اور نانا جی کا فاتحہ
وقت کسی اور کا اور خرچ تم کر رہے ہو اس پر ثواب کما رہے ہو۔ تو اس وجہ سے اگر ملازمت ہے تو ملازمت میں پھر بغیر اجازت کے آپ نہیں کر سکتے نوافل وغیرہ، کیونکہ وہاں واجب والی بات آ گئی۔
اسی طرح آپ نفل پڑھ رہے ہیں اور گھر والی گر گئی، اس کو ہسپتال پہنچانا ہے، اب آپ کہتے ہیں جی میں اپنا معمول پورا کر لوں، اس وقت معمول پورا کرنا نہیں ہے اس وقت ان کو ہسپتال پہنچانا ہے۔ فرض نماز بے شک دوڑتے دوڑتے پڑھ لیں، لیکن یہ کہ اس کو پہنچانا ضروری ہے کیونکہ ظاہر ہے وہ آپ پہ Dependent ہے۔ تو یہ حقوق ہوتے ہیں، اولاد کے حقوق ہوتے ہیں، بیوی کے حقوق ہوتے ہیں۔
وَلِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ
یہ سب حدیث شریف میں موجود ہے۔ تو جب یہ والی بات ہے تو ہمیں اس کو ماننا پڑے گا۔ تو اس وجہ سے فرمایا کہ اگر کسی ضروری کام میں حرج نہ ہوتا ہو۔ نوافل اس وقت تک پڑھو جب تک کسی ضروری کام میں حرج نہ ہوتا ہو۔
دفعِ تشتّت کا طریقہ ذکر میں:
ارشاد: کتابوں میں بوقتِ ذکر نفی و اثبات ملاحظۂ مفہوم ''لَا مَعْبُوْدَ إِلَّا اللہُ، لَا مَحْبُوْبَ إِلَّا اللہُ'' یا ''لَا مَوْجُوْدَ إِلَّا اللہُ'' تحریر ہے، لیکن میں اس لیے نہیں بتلایا کرتا کہ اس سے اکثر تشتّت ہوتا ہے اور جو اس میں مصلحت رکھی گئی تھی وہ اس تشتّت کے مقابلے میں ضعیف ہے۔
حضرت ہی کی برکت سے ایک چیز اللہ تعالیٰ نے اس پہ کھولی ہے کہ ابتدا میں تو یہ نہ کہا جائے، یعنی جب کوئی بیعت کرتا ہے اور ابتدا میں ذکر شروع کرتا ہے تو ان کو ہم یہ چیز نہیں بتاتے۔ کیونکہ اس وقت وہ دو چیزوں کو بیک وقت نہیں شروع کر سکتا۔ تو پہلے ان سے صرف ذکر کرایا جائے اور ذکر کا طریقہ سکھا دیا جائے اس کو۔ جب ذکر کا طریقہ قابو میں آ جائے تو پھر اس کے ساتھ مراقبہ بھی ساتھ شروع کر دیا جائے۔ پھر اس وقت چونکہ اس طرف سے اطمینان ہو گا تو یہ چیز بھی حاصل ہو جائے گی۔ اور ابتدا میں اگر آپ دیں گے تو دو چیزوں پہ بیک وقت، وہ کہتے ہیں دو بیڑیوں پہ پاؤں رکھتے ہیں تو پھر کدھر جاتا ہے؟ تشتت اس کو کہتے ہیں نا۔ تو مبتدی کے لیے تو ٹھیک نہیں ہے لیکن جب کوئی شخص کچھ بڑھ جائے آگے اور سمجھنا شروع کر لے اور کچھ طریقہ قابو آ جائے تو اس کے بعد ساتھ ساتھ یہ بھی بتانا چاہیے۔
بلکہ میں اس کو اکثر اس طرح عرض کرتا رہتا ہوں کہ دیکھو "لا الہ الا اللہ"، ایک ہے عجمیوں کی طرح پڑھنا اور ایک ہے عربوں کی طرح پڑھنا۔ عجمیوں کی طرح پڑھنے میں کہ اس کا ترجمہ ذہن میں آپ لائیں تو تشتت، دو چیزیں بیک وقت ہو گئیں، اور عربوں کی طرح پڑھنا کہ اب اس کو اچھی طرح سمجھ لو کہ "لا الہ الا اللہ" کیا ہے تاکہ آپ کے لیے اپنی زبان کی طرح ہو جائے۔ وہ ایک صاحب انگلینڈ گئے تھے تو واپسی میں کسی نے احوال پوچھے کہ کیا حال ہے؟ کہتا ہے بڑا عجیب زبان بولتے ہیں سمجھ نہیں آئی، البتہ اذان لوگ پشتو میں دیتے تھے۔ اب اذان پشتو میں تھوڑے دیتے تھے، اذان تو عربی میں ہے لیکن اس کے لیے وہ عربی پشتو کی طرح ہو گئی کیونکہ اتنا سن چکا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ پشتو میں اذان دے رہے ہیں، ٹھیک ہے نا؟ تو اس طریقے سے آپ
"لا الہ الا اللہ" ایسا پڑھیں جیسے پشتو میں ہو اگر پشتون ہیں اور اگر پنجابی ہوں تو پنجابی، اس کے لیے آپ کو بالکل اس طرح ہو جائے۔ پھر ماشاء اللہ اس کے الفاظ ذہن میں کوئی مشکل نہیں ہو گی۔ کہ اس میں "لا الہ" نہیں ہے کوئی معبود، یہ دو پڑھیں گے تو بس گیا، پھر تو نہیں ہے۔ "لا الہ" آپ بالکل ایسا کر لیں اس کو Superimpose کر لیں اس طرح، لیکن کچھ عرصے کے بعد ہی ہو سکتا ہے نا، فوراً تو نہیں ہو سکتا۔ کچھ عرصے کے بعد الحمد للہ ہو جاتا ہے۔ اللہ اکبر۔
تصوّر بوقتِ ذکر:
ارشاد: تسبیح کے وقت اولیٰ تو تصوّرِ مذکور کا ہے یعنی حق تعالیٰ کا، لیکن اگر یہ خیال نہ جمے تو پھر ذکر کا تصور اس طرح سے کرے کہ یہ قلب سے ادا ہورہا ہے۔
حضرت نے آگے بتا ہی دیا، آگے جا کے یہی ہو گا، کہ اس کے ساتھ حضرات فرماتے ہیں کہ پہلے ذکر کا تصور کر لو، آپ اس پہ اپنا دل جمائیں یا دل پہ جم جائے۔ پھر ذاکر کا یعنی تصور کر لو کہ دل سے ادا ہو رہا ہے، یعنی میرا دل بھی ساتھ کہہ رہا ہے۔ پھر مذکور کا یعنی جس میں "لا الہ الا اللہ"، "الا اللہ" میں کون مذکور ہے؟ اللہ۔ تو یہ جو "الا اللہ" ہے اس میں اللہ، اللہ کا اسم ہے اللہ کی ذات۔ یہ اسم سے ذات کی طرف جانا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہ سفر کافی لمبا ہے، یعنی اسم سے آپ ذات کی طرف چلے جائیں، آپ جب اللہ کہیں تو آپ کے لفظ اللہ ذہن میں نہ آئے، اللہ کی ذات آ جائے۔ ٹھیک ہے نا؟ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ ایک ہے اللہ کا نام ذہن میں آنا اور ایک ہے اللہ پاک کی ذات۔ جیسے میں کہتا ہوں عظیم صاحب، تو عظیم صاحب ذہن میں آ رہے ہیں یا عظیم صاحب کا نام ذہن میں آ رہا ہے؟ کیا خیال ہے؟ میں کہتا ہوں عظیم صاحب کو دے دو، تو میرے ذہن میں کیا ہوتا ہے؟ ہاں! وہی ذات۔ ٹھیک ہے نا؟ تو بس یہیں سے ٹرانسفر ہو جائے یہ۔ چونکہ عظیم صاحب کو میں دیکھ رہا ہوں میرے سامنے ہیں، لہٰذا عظیم صاحب کی ذات ذہن میں آنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ میں کسی کو بھی کہہ دوں تو مجھے کچھ تصور کرنے کی ضرورت نہیں ہے کچھ محنت کرنے کی ضرورت نہیں میں سامنے دیکھ رہا ہوں میں جانتا ہوں اس کو۔ لہٰذا میں جیسے عظیم صاحب کہوں پورا چہرہ میرے ذہن میں آتا ہے، پورا ذات اس کی میرے ذہن میں آئے گی، لیکن اللہ کے بارے میں کہوں تو اللہ تو وراء الوراء ہے۔ اللہ تو وراء الوراء ہے، لہٰذا اس کا ذہن میں آنا یہ بڑی بات ہے۔ تو کیفیت احسان میں یہی تو حاصل کیا جاتا ہے:
أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ
کہ عبادت ایسے کر جیسے تو خدا کو دیکھ رہا ہے۔
فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهٗ يَرَاكَ
اور اگر یہ مقام تجھے حاصل نہیں تو پھر یہ تو جان لو کہ بیشک وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ کیا اس وقت ہمیں یہ حاصل ہے؟ یہ والی بات۔ یہ دوسرے درجے کی بات کر رہا ہوں، پہلے درجے کی نہیں۔ دوسرے درجے کی بات یہ ہے کہ صحابہ کرام آپ ﷺ کے پاس آئے، یا رسول اللہ ہم حمام میں کپڑے کیسے اتاریں؟ اللہ کے سامنے۔ یہ وہ چیز ہے، اللہ دیکھ رہا ہے۔
ایک دفعہ ایک شیخ نے امتحان لیا، ہر ایک کو ایک ایک مرغا پکڑا دیا کہ جاؤ اس کو ایسی جگہ ذبح کر لو جہاں کوئی نہ دیکھ رہا ہو۔ تو باقی لوگ مرغا ذبح کر کے لے آئے، ایک ڈرتے ڈرتے ڈرتے ڈرتے کانپتے کانپتے آیا اور زندہ مرغا ہاتھ میں لیے، انہوں نے کہا کیا بات ہے بھئی آپ کیوں نہیں؟ غصہ بھی کیا، کیوں نہیں ذبح کیا؟ حضرت آپ نے فرمایا تھا جہاں کوئی نہ دیکھ رہا ہو، اللہ تعالیٰ تو ہر جگہ دیکھ رہا ہے۔ تو حضرت نے فرمایا بھئی یہی شخص پاس ہو گیا، اس کا سبق پکا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟
تو اب یہ جو چیز ہے یہ اللہ پاک کی ذات کے بارے میں، اس کے لیے بعض مشائخ نے ایک خاص ذکر ایجاد کیا ہے اور وہ "ھو" کا ذکر ہے۔ وہ "ھو" کا ذکر ہے۔ "ھو" میں نام نہیں ہے، "ھو" کیا ہے؟ اس میں اللہ جل شانہ کی ذات کی طرف ہی وہ جاتا ہے۔ تو ایک عالم تھے مکہ مکرمہ کے وہ ہمارے بہاولپور کے حضرت مولانا عبد الہادی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے ہیں، ان سے بیعت ہیں۔ تو مکہ میں رہ کر ظاہر ہے ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کچھ اثرات تو ہو ہی جاتے ہیں۔ تو میرے ساتھ ملاقات ہو گئی تو مجھ سے فرمایا کہ حضرت نے مجھے "ھو" کا ذکر دیا ہے لیکن یہ مجھے کہیں منصوص نظر نہیں آ رہا تو میں ابھی تک یہ نہیں کر سکا۔ میں نے کہا اچھا؟ نہیں کہیں نظر نہیں آ رہا؟ کہتے ہیں نہیں۔ میں نے کہا: اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ کہتے ہیں اوہ! یہ تو ہے، میں نے کہا پھر کرو نا خدا کے بندے یہ تو قرآن میں ہے۔ اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ ۚ
اس کے صفات بیان ہو رہے ہیں۔ تو فوراً الحمدللہ سمجھ گیا، کہتے ہیں بھئی یہ تو ہے۔ تو "ھو" کا جو ذکر ہے وہ کافی تیز ذکر ہے مطلب یہ کہ جب کوئی کرتا ہے تو وہ پھر جاتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف۔ اس وجہ سے ان کے ہاں اس طرح ذکر ہوتا ہے: اللہ ہو، اللہ ہو، اللہ ہو، اللہ ہو، اللہ کا لفظ دل سے نکال رہے ہوتے ہیں، "ہو" اندر داخل کر رہے ہوتے ہیں۔ پھر کرتے ہیں ہو اللہ، ہو اللہ، ہو اللہ، ہو اللہ، ہو اللہ، ہو اللہ ۔ پھر اس کے بعد ہو، ہو، ہو، ہو، ہو، ہو، یہ قادری سلسلے میں بھی ہے اور یہ چشتیہ نظامیہ میں بھی ہے۔
مقصد یہ ہے کہ دیکھو بزرگوں نے ریسرچ کی ہے اور انہوں نے ان تمام جو مشکلات ہیں، جو نفسیاتی طور پر ہوتی ہیں ان کو دور کرنے کی کوشش کی۔
آپ لوگ اس کو شروع نہ کریں بھئی اپنی طرف سے جب تک بتایا نہ جائے، ہر ایک چیز کا اپنا اپنا موقع ہوتا ہے۔ آپ کہیں بھئی بڑا مفید ہے چلو جی میں شروع کر لیتا ہوں۔ تو ٹھیک ہے عمارت بنانے کے لیے پہلے بنیاد بنانی پڑتی ہے، ڈی پی سی لگانی پڑتی ہے وہ ساری چیزیں ہو سکتی ہیں لیکن یہ بات ہے کہ اپنے وقت پر سب چیزوں کو کرنا ہوتا ہے۔ چونکہ علاجی ذکر ہے وہ نہیں ہے منصوص ذکر نہیں۔
ذکر بر وقتِ اذان:
ارشاد :اذان ہوتے ہوئے ذکر سے رُک جانا اولیٰ ہے۔
یعنی اذان کا جواب دینا بھی تو ذکر ہے نا، تو اس وجہ سے اس ذکر سے اس ذکر کی طرف متوجہ ہو جانا۔ ٹھیک ہے نا؟ یہ والی بات ہے۔ جیسے قرآن پاک کی تلاوت کوئی کر رہا ہے تو اللہ کا کلام ہے لیکن نماز کا وقت شروع ہو گیا تو پھر نماز۔
نماز سے بے رغبتی کا علاج:
حال: آج کل عبادات خصوصاً نماز سے بے رغبتی ہو جاتی ہے اور سخت آسکَت گھیرتی ہے، ایک آدھ بار قضا بھی ہو جاتی ہے۔
ارشاد: یہی صورت ہے کہ اولاً تکلّف سے اس کام کو کیا جائے، بعد چندے سہولت ہو جاتی ہے نیز اس کی اعانت کے لیے اپنے نفس پر کوئی جرمانہ نقد جو نہ بہت سہل ہو نہ گراں مقرر کیا جائے یا کچھ نوافل ایسی تعداد میں کہ نہ بہت سہل ہوں نہ بہت گراں اپنے ذمہ لازم کی جائیں۔
ہمارے ہاں اس کا طریقہ یہ ہے کہ جو نماز فرض نماز چھوڑ دیتا ہے اس کو ہم تین دن روزہ رکھنے کا کہتے ہیں۔ تاکہ اس کے نفس کو اچھی طرح سرزنش ہو جائے اور اپنے نفس کو سمجھا دے کہ بھئی جب بھی نماز قضا ہو گی تو تین روزے رکھنے پڑیں گے۔ اس سے ماشاء اللہ اس کا اچھی طرح علاج ہو جاتا ہے، ورنہ نماز میں سستیاں ہوتی ہیں پھر۔ بالخصوص گرمیوں کے زمانے میں فجر کی نماز کی سستیاں پھر کافی ہونے لگتی ہیں لیکن اگر کوئی گرمیوں میں قضا کرے گا تو گرمیوں میں روزے بھی رکھے گا نا، تو اس کا علاج ہو جاتا ہے۔ سردیوں میں چانس کم ہے لیکن ہو گیا تو پھر سردیوں کے روزے رکھنے پڑیں گے۔
اس وجہ سے ہمارے ہاں یہ ترتیب ہے، اور کوئی بتائے ہی نہیں تو ظاہر ہے اس نے ہمیں ذمہ داری نہیں بنایا، جب ذمہ دار نہیں بنایا تو بس ٹھیک ہے خود ہی جواب دے دے گا خود ہی اپنا علاج کر دے گا، لیکن اگر کسی نے بتا دیا اور ہم نے پھر ان کو بتا دیا تو پھر پورا کرنا چاہیے۔ ٹھیک ہے نا؟ ایسے جیسے کوئی بد پرہیزی کر لے اور ڈاکٹر صاحب کو بتائے ہی نہیں۔ تو ٹھیک ہے نقصان کس کا کیا؟ ڈاکٹر صاحب کا کیا یا اپنا کیا؟ ہمارے پشتو میں کہتے ہیں "ببو سو کہو، ببو لت" یعنی بھس کے اندر نیچے پانی لے جانا۔ یعنی اوپر تو نظر آتا ہے کہ پانی نہیں ہے اندر اندر پانی چل رہا ہوتا ہے۔ تو اس طریقے سے لوگ بعض دفعہ بتاتے نہیں ہیں نمازیں قضا ہو رہی ہوتی ہیں لیکن بتاتے نہیں۔ اسی لیے ہم معمولات کا چارٹ وغیرہ یہ ساری چیزیں منگواتے ہیں تاکہ عادت ہو جائے بتانے کی۔ تو اب ایسا شخص جو نہیں بتا رہا وہ سو سال بھی کسی شیخ کے ساتھ رہے تو کیا فائدہ؟ مطلب ظاہر ہے اس کا فائدہ تو نہیں ہو گا اس کو کہ اس نے شیخ کو ذمہ دار ہی نہیں بنایا۔ جو اپنی بیماریاں اور جو اپنی خطائیں شیخ کو بتا رہا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ اس کا علاج بھی ہو رہا ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی بتا نہیں رہا تو چلو ٹھیک ہے اس لحاظ سے تو کام نہیں کرنا پڑ رہا جو شیخ بتا رہے ہیں جیسے تین روزے کا میں نے ذکر کیا، تو تین روزے تو نہیں رکھنے پڑ رہے لیکن نقصان تو جو ہو رہا ہے وہ تو ہو رہا ہے۔ اچھا۔
ذکر نزدِ مصلّی کا حکم:
ارشاد: کوئی اگر پاس نماز پڑھتا ہو تو اتنا جہر نہ کرے کہ مصلّی کو تشویش ہو یا دوسری جگہ چلا جائے۔
ہمارے ہاں جو ذکرِ جہر ہے یہ ذکرِ خفی کے ساتھ بھی ہوتا ہے تو اس وجہ سے ہمیں مشکل نہیں پیش آتی جیسے کوئی سو رہا ہے تو (لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ) کام ہو رہا ہے۔ اس کو مسئلہ نہیں ہے کیونکہ ہمارے ہاں اندرونی ضرب ہے تو اس کے ساتھ گزارا ہو جاتا ہے۔
طریقۂ ترتیل حافظ کے لئے:
حال: ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتا ہوں تو اَزبر پڑھنا مشکل معلوم ہوتا ہے اور میں حافظ ہوں۔
ارشاد: معمول تو حسبِ عادت پڑھتے رہئے، کیونکہ اس قدر جلد تغیّر مشکل ہے اور تغیّر تک ناغہ نا مناسب ہے۔ البتہ روزانہ ایک پارہ یا کم خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھئے، اگر اَزبر نہ پڑھا جائے تو قرآن پاس رکھ لیا جائے اور اَزبر شروع کیا جائے اور جہاں شُبہ ہو دیکھ لیا جائے، امید ہے کہ پندرہ روز میں اصلاح ہوجائے گی۔
چونکہ حضرت خود بھی حافظ تھے لہٰذا حافظ حافظ کو جب سمجھا رہا ہو تو پھر ٹھیک ہی ہو گا نا ظاہر ہے تو اس میں حضرت نے بتا دیا، چلو ہم حافظ نہیں لیکن حضرت کی زبان سے اس کو سیکھ کر بتا رہے ہیں، تو اس طریقے سے ان شاء اللہ علاج ہو جائے گا۔
ذکر میں عدم لذّت انفع ہے:
ارشاد: ذکر میں لُطف و لذّت کا حاصل ہونا ایک نعمت ہے۔ اور نہ ہونا دوسری نعمت ہے۔ جس کا نام ”مجاہدہ“ ہے۔ یہ اوّل انفع ہے گو الذّ نہ ہو۔
یعنی ذکر میں لطف اور لذت یہ بھی ایک نعمت ہے، جیسے آپ کو کوئی دوائی اچھی لگے، نعمت ہے نا؟ آپ کے لیے علاج آسان ہو جائے گا، لیکن اگر آپ کو اس میں مزہ نہیں آ رہا تو مجاہدہ ہے تو اس مجاہدے سے خود نفس کا علاج ہو جاتا ہے۔ جب نفس کی بات آ گئی تو یہاں سے میڈیکل سے ہم علیحدہ ہو گئے، یہاں پر میڈیکل کا اصول نہیں چلے گا، یہ ذرا Typical کام ہے۔ لہٰذا مجاہدہ سے میڈیکل لائن میں تو فائدہ نہیں ہو گا البتہ اتنا فائدہ ہو گا کہ دوائی نہیں ٹوٹے گی، علاج جاری رہے گا، لیکن ہمارے ہاں تصوف میں ڈبل فائدہ ہو گا، یعنی ذکر سے دل کا علاج ہو گا اور مجاہدے سے نفس کا علاج ہو گا، ٹھیک ہے نا؟ تو یہ وہ Areas ہیں کیونکہ تشبیہ جو دی جاتی ہے تو تشبیہ میں ساری چیزیں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ میں کہتا ہوں فلاں شیر کی طرح بہادر ہے، تو شیر کی طرح بہادر ہے نا بہادری میں ایک جیسا ہے، باقی چیر پھاڑنے میں تو ایک جیسا نہیں ہے نا؟ تو ہر چیز ایک جیسی ضروری نہیں ہے کہ ہو، البتہ یہ ہے کہ اس کی بعض چیزیں آپس میں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ اللہ تعالی جتنا پڑھا ہے اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
موقوف علیہ آثارِ ذکر
ارشاد:
ذکر کا اثر موقوف ہے تقلیلِ کلام، تقلیلِ اختلاط مع الانام و قلتِ التفات الی التعلقات پر ان چیزوں کے حصول کے لیے مواعظ کا مطالعہ اور مثنوی کا (گو سمجھ میں نہ آئے) کرنا چاہیے۔
مطلب یہ ذکر کا جو اثر ہے وہ پرہیز پر ہے۔ یعنی علاج جیسے ہوتا ہے ہمارا، یہاں پھر Medical line کی طرف واپس آ گئے، کہ دوائی کھانا بھی ضروری ہے اور اس کے ساتھ پرہیز بھی ضروری ہے۔ اگر دوائی تو کھائی اور پرہیز نہیں کیا تو Medication خراب ہو سکتی ہے۔ تو اس وجہ سے یہ جو پرہیز ہیں، بتایا تقلیلِ کلام، تقلیلِ اختلاط مع الانام اور قلتِ التفات الی التعلقات۔ یہ چیزیں اگر ساتھ ہوں گی تو فائدہ ہو گا۔
مثلاً آپ نے ذکر سے ایک کیفیت حاصل کی۔ اور لوگوں کے ساتھ آپ مل جل رہے ہیں، آرام کے ساتھ، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ تو نتیجتاً ان کی جو قلبی کیفیت ہے وہ آپ کی کیفیت کو متاثر کرے گی۔ دل سے دل کو راہ ہوتی ہے۔ تو نتیجتاً ان کی جو غفلت ہے وہ آپ کو متاثر کر کے پھر دوبارہ غفلت میں لے آئے گی۔ ہاں، اگر اپنے سے اچھے اچھے سے لوگوں سے مل رہے ہیں تو پھر کوئی بات نہیں۔ اس لیے کہتے ہیں، حدیث شریف میں آتا ہے کہ
بری صحبت سے خلوت اچھی ہے۔ اور اچھی صحبت، خلوت سے اچھی ہے۔
لہٰذا اگر اپنے سے اچھی صحبت میں کوئی جاتا ہے تو وہ تو اور اچھا ہو رہا ہے۔ لیکن اگر بری صحبت میں جا رہا ہے تو وہ نقصان ہو رہا ہے۔ اور آپ کو پتہ ہے کہ ماحول میں خراب زیادہ ہیں، ٹھیک کم ہیں۔ تو اگر آپ کھلے ڈھلے لوگوں کے ساتھ ملیں گے تو خرابی زیادہ آئے گی یا اچھائی زیادہ آئے گی؟ خرابی زیادہ آئے گی۔ تو پتہ چلا کہ قلتِ خلط مع الانام، یہ تکبر نہیں ہے، بعض لوگ اس کو تکبر سمجھتے ہیں، کہتے ہیں اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں لوگوں کے ساتھ نہیں ملتے۔ بھئی بڑا کیا سمجھنے کی بات ہے، اپنے آپ کو بچانا ہے۔
ایک دفعہ میں نے اپنی cousins سے پردہ کرنا شروع کیا۔ مجھ پر لوگوں نے بڑے الزام لگائے اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے، یہ برے خیالات اس کو آتے ہیں، دوسروں کو بھی ایسا سمجھتے ہیں، اور یہ کرتے ہیں، وہ کرتے ہیں۔ کافی مجھے پھر لتاڑ پڑی۔ ظاہر ہے ہونی چاہیے، وہ تو اس طرح تو ہوتا ہے۔ ایک بزرگ تھے، ان کو بھی اشکالات تھے میرے بارے میں۔ تو انہوں نے مجھ سے straightaway پوچھا، کہ تم یہ کیوں اس طرح کر رہے ہو؟ میں نے کہا مجھے اپنے اوپر اعتماد نہیں ہے۔ فرمایا پھر ٹھیک ہے۔ مجھے اپنے اوپر اعتماد نہیں ہے۔ انہوں نے کہا پھر ٹھیک ہے پھر تم کر سکتے ہو۔ تو مطلب یہ ہے کہ واقعی بات تو یہی ہے نا، کہ کس کو اپنے اوپر اعتماد ہے؟ بتاؤ، ہے؟ تو جب نہیں ہے، تو پھر بچنا چاہیے۔ کیا مطلب دوسروں کو برا کہے؟ سب سے بڑا برا تو میں ہوں کہ میں خراب ہو سکتا ہوں۔
دیکھو ایک دفعہ میں جا رہا تھا، اللّٰہ تعالیٰ مشاہدے کرواتا ہے۔ یہ بھی اللّٰہ کا کرم ہے۔ پیاس میں Lunch کے لیے جا رہا تھا۔ تو میں نے قراقلی ٹوپی پہنی ہوئی تھی اس دن۔ اس کا رنگ ایسا تھا جیسے اوپر سے قیمہ سا نظر آتا ہے۔ اگر اوپر فضا سے کوئی دیکھے نا تو نظر آتا ہے جیسے قیمہ ہے۔ تو میں نے دیکھا کہ ایک سایہ میرے اوپر جھپٹ پڑا۔ دھوپ میں، میں نے دیکھا کہ ایک سایہ میری طرف جھپٹنے کے لیے آ رہا ہے۔ میں فوراً سمجھ گیا کہ چیل ہے۔ اور یہ اس کو گوشت سمجھ رہا ہے۔ تو میں نے فوراً قراقلی ٹوپی اس طرح ہاتھ پہ پکڑ لی، نیچے ہو گیا۔ تو وہ اس طرح Dive کر کے چلا گیا۔ مطلب اس نے Attempt کر لی لیکن اس کو پتہ چل گیا بھئی یہ تو گیا ہاتھ سے۔ تو Dive کر کے چلا گیا۔ اس سے اللّٰہ تعالیٰ نے یہ سبق دے دیا کہ دیکھو چیل کی فطرت میں یہ بات ہے کہ وہ گوشت کو دیکھے گا تو اس پر جھپٹے گا۔ اس کی فطرت ہے۔ اب چونکہ ان پر شریعت لاگو نہیں ہے تو جو کر رہا ہے ٹھیک کر رہا ہے، اپنے مزاج اور فطرت کے مطابق کر رہا ہے، لہٰذا تم اپنے آپ کو بچاؤ۔ تو جیسے میں نے کیا، میں نے اپنی ٹوپی اپنے ہاتھ میں لے لی، تو اس سے وہ بچ گئی۔ ورنہ اس نے لے اڑنا تھا۔
تو اسی طریقے سے جو خواتین بے پردہ ہیں، یا غیر محرم ہیں۔ چاہے وہ رشتہ دار ہی غیر محرم ہیں۔ یعنی cousins ہیں یا دوسرے ہیں، غیر محرم ہیں۔ تو اگر میں کچھ نہیں کروں گا، یہ control معاشرے کا ہو گا، یا شریعت کے سمجھنے سے ہو گا، جس وجہ سے بھی ہو، لیکن اگر میں نہیں کر رہا ہوں، تو میرا نفس تو کر رہا ہو گا نا۔ بے شک میں اس نفس کے attempt کو برداشت کر لوں، نہ ہونے دوں اس کو۔ لیکن وہ تو کر تو رہا ہو گا نا۔ آپ نے اس کو راستہ تو دے دیا۔ تو کتنی دفعہ بچو گے؟ ممکن ہے کہ کسی وقت شیطان اس کے ساتھ مل کر کوئی وسوسہ ڈال کے کوئی ایسی طرف لے جائے۔ تو اب بچنا چاہیے، نہیں بچنا چاہیے؟ اب اس کے اوپر الزام لگانے کی بجائے میں اپنے اوپر کیوں نہ لگاؤں کہ میں کیوں ملتا ہوں ان کے ساتھ؟ تو بچ جاؤں گا۔ کہتے ہیں
جن کو ہو جان و دل عزیزاس کی گلی میں جائیں کیوں
مطلب اپنے آپ کو بچائے۔ تو یہ جو چیز ہے، وہ فطری ہے۔ ہمارا نفس جو ہے یہ جانور ہے۔ ہم نے اس کو پکڑ کے، کیونکہ ہم مسلمان ہیں۔ الحمدللہ۔ ہم نے اس کو پکڑ کے Control کرنا ہے۔ میرے ہاتھ میں کتا ہے تو کتا تو مسلمان یا کافر نہیں ہوتا۔ تو کتے کی فطرت میں جو ہے وہ بھونکے گا، وہ کاٹے گا۔ تو میں نے اس کو پٹا ڈالنا ہے اور اسے اچھی طرح پکڑنا ہے تاکہ میرے ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ کسی اور کو نقصان نہ پہنچائے۔ اور ظاہر ہے ان کو نقصان پہنچائے گا تو اپنے آپ کو نقصان پہنچانا ہو گا۔ تو ایسی صورت میں، میرا نفس جو ہے جب تک میرے Control میں نہیں ہے، اس وقت اس پہ کڑی نظر رکھنی ہے۔ تو یہ والی بات میں سمجھا رہا تھا کہ انسان کو اس کی خبر لینی چاہیے اور لوگوں سے کھلا ڈھلا نہیں ملنا چاہیے۔ کچھ پابندیوں کے ساتھ، طریقے کے ساتھ، اگر ملنا ضروری بھی ہے تو طریقہ ہو۔ اپنے آپ کی حفاظت کا انتظام ہو۔ وہ کرنا چاہیے۔
پھر اللّٰہ پاک بھی مدد فرماتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ کی مدد کی عجیب عجیب صورتیں ہوتی ہیں، اللّٰہ پاک دکھاتے ہیں۔ ایک دعا ہے:
اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النِّسَاءِ
مسنون دعا ہے۔ اللّٰہ کا شکر ہے اللّٰہ تعالیٰ نے اس کی کرامات دکھائی ہیں۔ ایک دفعہ میں کچھ رشتہ داروں کے ہاں کام تھا، گیا تھا۔ وہاں ظاہر ہے میرے لیے نامحرم Cousins تھیں۔ تو جانا تھا ادھر۔ اب جیسے میں داخل ہو رہا تھا تو مجھے ڈر تھا کہ کہیں گڑبڑ نہ ہو جائے۔ تو میں نے یہ شروع کر لیا، اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النِّسَاءِ۔ یہ پڑھنا شروع کیا۔ اور پڑھتے پڑھتے میں اندر داخل ہو گیا۔ اتنا میرے بس میں تھا۔ دیکھو! اللّٰہ تعالیٰ کا شکر، اب اللّٰہ کی مدد آ گئی۔ اللّٰہ تعالیٰ کی مدد ایسے آ گئی کہ Practically مجھے الحمدللہ یاد ہے۔ ایسے جیسے چیونٹیاں لگ جائیں نا کسی کو، اس طرح مجھے لگنے لگیں اور مجھے آرام سے ادھر بیٹھنے نہیں دیا۔ ایک بے قراری کی کیفیت طاری ہو گئی۔ اور وہ کہہ رہے ہیں بیٹھ جاؤ، یہ کرو، وہ تو کہتے ہیں رات ادھر رہو۔ ظاہر ہے رشتہ دار تھے، انہوں نے کہنا تو تھا۔ لیکن میری طبیعت ایسے بے حال ہو گئی تھی کہ بس میں نے کہا کہ بس مجھے پہنچنا ہے اور یہ بتایا نہیں اور ابھی اندھیرا ہو رہا ہے، لہٰذا بس جلدی جلدی، بس جلدی جلدی کام کر کے میں جیسے گھر سے باہر نکلا تو بس Set ہو گیا، کچھ مسئلہ نہیں تھا۔ اب یہ کیا چیز تھی؟ یہ اللّٰہ کی مدد تھی۔
لیکن جو آدمی بچنا چاہتا ہے اللّٰہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتے ہیں۔ اس کے بعد کا واقعہ ہے، ہم لاہور جا رہے تھے، دو دوست میرے ساتھ تھے۔ ہم تین تھے۔ ایک میرے دائیں طرف بیٹھے تھے، دوسرے بائیں طرف بیٹھے تھے۔ اور وہ چھ گھنٹے میں وہ ٹرین پہنچاتا تھا ان دنوں، وہ دو ڈبے جو ہوتے تھے۔ اس میں ہم بیٹھ گئے۔ عورتیں الگ سیٹوں پہ بیٹھی ہوئی تھیں، مرد الگ بیٹھے ہوئے تھے، لیکن پتہ نہیں کوئی خاتون اندر داخل ہوئی اور پتہ نہیں اس کو کیا ہو گیا وہ عین ہمارے سامنے آ کے بیٹھ گئی۔ ہمارے سامنے خالی سیٹ تھی، ہم تین بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے کہا اس کو جا کے عورتوں میں بیٹھنا چاہیے تھا، باقی سب عورتیں ادھر بیٹھیں۔ اب ٹرین میں تو انتظام نہیں ہوتا، لیکن خود ہی کر لیتے ہیں لوگ۔ میں نے فوراً دائیں طرف بھی، ایک دوست کے کان میں کہا اور بائیں طرف کے دوست میں بھی کان میں کہا، وہ دعا پڑھو، اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النِّسَاءِ۔ تو دعا جیسے ہی ہم نے پڑھ لی، خدا کا شکر ہے کہ وہ خاتون خود ہی اٹھ کے خواتین میں چلی گئی۔ ذرہ بھر بھی دیر نہیں لگائی۔ تو یہ اللّٰہ تعالیٰ کی مدد ہے۔ تو اللّٰہ کی مدد ضرور ہوتی ہے، لیکن جو مدد مانگے۔ اور یہ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النِّسَاءِ، مدد مانگنا ہے۔ مدد مانگنا ایک صرف ایک سرسری پڑھنا ہے اور ایک کیفیت کے ساتھ مانگنا، کہ ڈر رہا ہو آدمی۔ کہ اے اللّٰہ! تو اگر مجھے نہیں بچائے گا تو میں خراب ہو جاؤں گا۔ کیفیت کے ساتھ مانگ رہا ہو۔ تو پھر اللّٰہ تعالیٰ مدد فرماتے ہیں۔ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النِّسَاءِ، اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الرِّجَالِ۔
عورتوں کے لیے اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الرِّجَالِ ہے۔
اور مردوں کے لیے اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النِّسَاءِ ہے۔
یہ بچت کے لیے ہے۔
طریقۂ حصولِ جمعیّت
ارشاد:
اعمال کا انضباط اور ان پر مداومت چاہیے خواہ کچھ کیفیت ہو یا نہ ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ بیٹھ کر بھی کچھ معمول زیادہ مقدار میں رکھا جائے، یہی طریقہ جمعیّت حاصل ہونے کا ہے۔
یعنی اعمال کا جو انضباط ہے، جس کو ہم کہتے ہیں، اکثر میں عرض کرتا رہتا ہوں، ناغہ نہیں ہونا چاہیے۔ ناغہ نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ ناغے سے بے برکتیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ شیطان کے پاس پورا ایک Channel ہوتا ہے، جس کو Operate کرتے ہیں۔ پہلے کیا کریں گے؟ پہلے ناغہ کروائیں گے۔ پھر وہ ناغے بڑھاتے جائیں گے۔ آہستہ آہستہ بڑھاتے جائیں گے۔ پھر شیخ سے توڑیں گے، کہیں گے اوہو کسی نے اگر پوچھ لیا تو پھر آپ کو کیا بتانا ہو گا؟ یہ اور وہ سارا۔ تو ایک حجاب سا Create کر لے گا۔ پھر شیخ سے ملنا مشکل کر دے گا۔ پھر جب ملنا بھی مشکل ہو جائے گا، تو پھر آہستہ آہستہ آہستہ، شیخ جو بات کرتا ہوتا ہے، تو اس کے خلاف اس کے ذہن میں لائے گا۔ کہ یہ تو یہ بھی ہوتا ہے، یہ تو یہ بھی ہوتا ہے۔ یعنی ایک ذہن بنائے گا اس کے خلاف۔ پھر اگر خدانخواستہ کوئی نہیں بچا، تو آگے جا کر اور خطرناک صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسلسل Act کر رہا ہے ہمارے اوپر۔ تو ہمیں مسلسل کام کرنا چاہیے اس کے خلاف۔ اور اس کو انضباط کہتے ہیں۔ کیا خیال ہے؟ دریا میں کوئی تیر رہا ہوتا ہے، تو تھوڑی دیر کے لیے چھوڑ سکتا ہے؟ مسلسل تیرے گا نا۔ تو تب بچے گا۔ تو اسی طریقے سے مسلسل ایک Continuous effort ہوتا ہے۔ اس کو انضباط کہتے ہیں۔
ذکر و شغل میں تصوّر الی السماء کا حکم
ارشاد:
ذکر و شغل اور تلاوت میں تصوّرِ حق تعالیٰ کی جانب بلا تکَلّف آسمان کی جانب بند ہے، تو اس کے دفع کرنے کا قصد بالکل نہ کریں۔ یہ تصوّر فطری ہے دفع نہیں ہو سکتا اور کوئی اس سے خالی نہیں، لیکن بالقصد ایسا نہ کریں۔
یعنی یہاں پر عقیدہ کی اور Procedure کی بات ہے اکٹھی ایک ملحوظ میں بیان ہے۔ عقیدہ ہمارا ہے کہ اللّٰہ ہر جگہ ہے۔ اور کیفیت دل کی یہ ہے کہ آسمان کی طرف۔ تو یہ حضرات سمجھانے کے لیے فرماتے ہیں کہ دعا میں ہاتھ اٹھاتا ہے انسان آسمان کی طرف۔ لیکن بعض لوگ تو کہہ بھی دیتے ہیں اوپر بیٹھا ہوا ہے، خدا کے بندے کیا کہہ رہے ہو؟ تو آپ دعا کر رہے ہیں، تو فرماتے ہیں دعا کا قبلہ آسمان ہے۔ جیسے خانہ کعبہ میں تو اللّٰہ نہیں ہے نا، اللّٰہ تو ہر جگہ ہے۔ تو خانہ کعبہ کی طرف ہم رخ کرتے ہیں تو کیا اللّٰہ تعالیٰ صرف ادھر ہے؟ تو قبلہ ہے نا بس ہمارا۔ تو اس طرح دعا کے لیے قبلہ آسمان ہے۔ بس بات ختم ہو گئی۔ اور اس طرح قلبی کیفیت میں یہ ہے کہ علو کی طرف جاتا ہے، اوپر کی طرف۔ اس وجہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، فرمایا یہ فطری ہے۔ لیکن یہ نہ سمجھو کہ اللّٰہ صرف ادھر ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو عقیدہ اپنا صحیح رکھنا چاہیے، باقی کیفیت اپنی بات ہے۔
ذکر و نماز میں گدگدی قلب کی، علامت بسط کی ہے
ارشاد:
ذکر و نماز میں اگر قلب میں گدگدی معلوم ہو تو یہ حالتِ بسط ہے۔ ذکر میں تو اگر ضبط نہ ہو سکے تو ضبط نہ کرے، لیکن نماز میں ضبط رکھے۔
نماز، قانتین، کا وہ چاہتا ہے یعنی انسان یکسوئی کے ساتھ کھڑا رہے۔ لہٰذا اس میں کیفیات سے زیادہ اعمال پر توجہ، Minimum اعمال پر توجہ کرنی پڑتی ہے تاکہ نماز ٹوٹے نہیں۔ رونا بہت اچھی بات ہے لیکن نماز میں قصداً نہیں رونا چاہیے۔ اس سے نماز ٹوٹ سکتی ہے۔ لیکن دعا میں اگر آپ قصداً بھی روئے تو اس پر ماشاءاللہ فائدہ ہوتا ہے۔ تو ہر چیز کا اپنا اپنا مقام ہے۔ تو اس طریقے سے قلب میں اگر گدگدی معلوم ہو تو فرمایا یہ تو بسط کی علامت ہے، اور کبھی کبھی نعرہ بھی لگ جاتا ہے، کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے۔ لیکن نماز میں روکے نماز میں نعرے نہ لگائیں۔ یہ کچھ لوگ ہیں، نام میں نہیں لیتا کیونکہ Internet پہ جا رہا ہے، لیکن وہ نماز میں اللّٰہ ھُو... بابا جی... ہائے بابا جی... کچھ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں، ان کی نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ ان کی نماز نہیں رہتی۔ لیکن وہ بچارے چل رہے ہیں۔ کیونکہ سمجھانے والا جو ہے وہی ان چیزوں میں مبتلا ہے۔ تو ایسے لوگوں کے پاس جانا ہی نہیں چاہیے جو شریعت پہ نہ رکھ سکیں۔
نماز کے اندر نہ ذکرِ لسانی چاہئے نہ قلبی
ارشاد:
نماز میں نہ ذکرِ لسانی کرے نہ قلبی، خود توجّہ الی الصلٰوة اس میں مطلوب ہے۔ قلب جاری ہونا کوئی اصطلاح فن کی نہیں۔ مطلوب ذکر میں ملکۂ یاد داشت ہے، خواہ اس کا کچھ ہی نام ہو۔
نماز میں اللّٰہ پاک کا حضور ہونا چاہیے، توجہ ہونی چاہیے اللّٰہ کی طرف اور آدمی سمجھے کہ میں اللّٰہ کے سامنے کھڑا ہوں۔ اور اعمال میں باقاعدہ انسان اپنے ذہن کو حاضر رکھے، دل کو۔ تو یہ مطلوب ہے۔ باقی یہ ہے کہ جو قلب کا جاری ہونا، تو ہم نماز میں یہ نہ کریں۔ خودبخود اگر ہو تو روکنے کی بھی ضرورت نہیں۔ اگر خود بخود ہوتا ہے، تو چونکہ زبان سے تو آپ نہیں کہہ رہے، لہٰذا اس پہ نماز میں فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن اگر خود بخود نہیں ہو رہا، آپ قصداً کر رہے ہیں تو وہ ٹھیک نہیں ہے۔ کیونکہ توجہ آپ کسی ایسی طرف لے جا رہے ہیں جو نماز میں مطلوب نہیں ہے۔ دیکھو السلام علیکم کا جواب، وعلیکم السلام کا اجر ملتا ہے یا نہیں؟ تو کیا نمازی کہہ سکتا ہے کسی کے السلام علیکم پہ وعلیکم السلام؟ تو اسی طریقے سے ہم نماز کے اندر صرف نماز والے اعمال کریں گے۔ جب ہم نے اللّٰہ اکبر کہہ دیا، تکبیرِ تحریمہ جس کو ہم کہتے ہیں، اب ہم ادھر نہیں رہے۔ اب ہم اللّٰہ کے پاس ہیں۔ ہمارے شیخ نے بڑی عجیب مثال دی۔ فرمایا دیکھو لوگ ساتھ بیٹھے ہوں اور اچانک کہہ دے السلام علیکم، تو کہیں گے کیا ہو گیا آپ کو؟ کیوں مطلب کیا بات ہو گئی؟ السلام علیکم کہہ رہے ہیں۔ لیکن نماز میں ہمارے پاس کوئی بیٹھا ہوتا ہے اور ہم کہتے ہیں السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ۔ تو پریشان نہیں ہوتا، کہتا ہے بھئی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ چونکہ وہ ادھر تھا ہی نہیں، تکبیرِ تحریمہ سے غائب ہو گیا ادھر سے۔ تکبیرِ تحریمہ سے غائب ہو گیا، اللّٰہ کے پاس چلا گیا اور السلام علیکم سے واپس آ گیا مخلوق میں۔ ٹھیک ہے نا؟ تکبیرِ تحریمہ سے غائب ہو گیا اور السلام علیکم سے پھر دوبارہ واپس آ گیا۔ تو نماز میں پھر اب جو نماز کے اعمال ہیں وہی، حتیٰ کہ آپ قیام والے، التحیات میں نہیں پڑھ سکتے، التحیات والے قیام میں نہیں پڑھ سکتے حالانکہ نماز ہی کے افعال ہیں۔ حتیٰ کہ آپ ایک حد سے زیادہ رک بھی نہیں سکتے، انتظار بھی نہیں کر سکتے، Continuous کرنا ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر انتظار آپ کا ایک رکن سے زیادہ ہو گیا، تو سجدہ سہو آ جائے گا۔ تو نماز یہ ہے اللّٰہ کے دربار کی حاضری کی بات۔ اللّٰہ کے دربار کی حاضری کے جو آداب ہیں وہ سارے چیزوں پر Dominating ہیں۔ تو آپ کے ساری چیزوں کے اوپر Dominating ہیں۔ تو جب کبھی کوئی ایوانِ صدر جاتا ہے یا کسی بڑے کے... تو اس کے تقاضے بھی ہوتے ہیں، سب چیزیں ہوتی ہیں لیکن وہ تمام تقاضوں کو Control کرتے ہیں نہیں کرتے؟ یہ فارن آفس والے جو ہیں نا ان سے ادب سیکھنا چاہیے۔ یہ چھینکنے کا طریقہ بھی جانتے ہیں کہ چھینک کو کیسے ختم کیا جاتا ہے۔ بڑے لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں نا، تو پتہ نہیں کس طرح Release کر دیتے ہیں، کوئی طریقہ ان کو پتہ نہیں سکھایا گیا ہوتا ہے، وہ چھینک جو ہوتی ہے اس کو خاموشی کے ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ آواز کو ختم کر دیتے ہیں، وہ باقاعدہ طریقہ آتا ہے۔ کیونکہ ان کو Maintain رکھنا ہوتا ہے سارا۔ تو یہ Protocol نماز کا جو ہے یہ ہمیں Maintain کرنا ہے۔ کھانسی ایک فطری چیز ہے، بیماری ہے۔ لیکن جب تک برداشت ہے تو وہاں کنٹرول رکھنا ہے۔ اب برداشت سے باہر ہو گیا تو پھر مجبوراً غیر اختیاری ہے، اس وجہ سے پھر نماز تو نہیں ٹوٹے گی۔ لیکن یہ ہے کہ برداشت کی Limit میں ہے تو نہیں کرنا چاہیے۔
اللّٰہ تعالیٰ جتنا پڑھا ہے، اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ