عشقِ الٰہی کی کیفیات، تزکیۂ نفس اور پاسداریِ شریعت
کتاب: پیغامِ محبت، درس نمبر: 8، اشاعت اول: منگل، 1 اکتوبر، 2013 بمطابق: 25 ذو القعدہ، 1434 ھ
- علم کے باوجود انسان گناہوں سے تب تک نہیں بچ سکتا جب تک دل اور نفس کا تزکیہ نہ ہو جائے۔
- اللہ تعالیٰ کی محبت غالب ہونے سے ہی انسان دین کے احکامات اور شریعت کو اپنے رواج پر ترجیح دیتا ہے۔
- انسان کی تخلیق کا بنیادی مقصد اللہ کی عبادت ہے اور اس سے غفلت عقل و شعور کے منافی ہے۔
- حبِ دنیا مال، لذات اور جاہ کی محبت پر مبنی ہے جن سے دل کو پاک کرنا لازم ہے۔
- تن آسانی انسان کے اندر شریعت کے احکامات اور دینی اعمال کی ادائیگی میں رکاوٹ بنتی ہے۔
- حقیقی اور بے لوث دوستی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے ممکن ہے کیونکہ اسے بندے سے کوئی غرض نہیں۔
- دل میں شیطانی وساوس کے مقابلے میں الہامِ الٰہی کو بیدار کرنے کے لیے شیخِ کامل سے وابستگی ضروری ہے۔
- حقیقی روحانی ترقی ذات کی نفی میں ہے، یہاں تک کہ انسان کے اندر سے اپنی عاجزی کا احساس بھی مٹ جائے۔
- آنکھ، کان، زبان اور دل اللہ کی امانتیں ہیں جنہیں صرف شریعت کے جائز دائرے میں استعمال کرنا واجب ہے۔
- دنیاوی اسباب کو اللہ کا حکم سمجھ کر اختیار کرنا چاہیے لیکن دل کا بھروسہ صرف مسبب الاسباب پر ہونا چاہیے۔
- ظاہری شریعت دین کا وہ لازمی خول ہے جو دل کے باطنی اور روحانی مقام کی حفاظت کرتا ہے۔
- اللہ تعالیٰ کی معرفت تک پہنچنے کے لیے اللہ والوں کی صحبت اور ان کے دلوں سے فیض لینا پڑتا ہے۔
- ذکر سے دل کی زمین تیار ہوتی ہے لیکن نفس کی باطنی خرابیوں کا علاج صحبتِ صالحین کے بغیر ممکن نہیں۔
- عشقِ الٰہی کے غلبے اور روحانی کیفیات کے دوران بھی شریعت کی حدود کی سختی سے پابندی کرنا لازم ہے۔
- روحانیت کی انتہا یہ ہے کہ انسان اپنا سب کچھ اللہ کی رضا پر قربان کر کے مکمل طور پر اسی کا بن جائے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ۔ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ۔ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
آج منگل کا دن ہے اور منگل کے دن ہمارے ہاں تزکیہ نفس کے لیے کچھ اشعار پڑھے جاتے ہیں اور ان کی تشریح کی جاتی ہے۔ دنیا کی محبتیں آج کل اتنی غالب ہیں کہ انسان ساری چیزوں کو جانتا بھی ہے کہ یہ اللہ کی ناپسندیدہ ہیں اور میرے لیے نقصان دہ ہیں لیکن چونکہ دل اور نفس کی اصلاح نہیں ہو چکی ہوتی لہذا وہ ساری باتیں جو سارا علم ہے وہ رائیگاں چلا جاتا ہے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ اس وجہ سے اب اللہ تعالیٰ کی محبت کو غالب کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اتنی غالب ہو جائے کہ ہم خود بخود اللہ تعالیٰ کی بات ماننے کو اور دین اسلام کے احکامات کو اولیت دیں اور شریعت کو اپنے رواج پر ترجیح دیں۔
تو اس وجہ سے ایسی محافل کی، ایسی مجالس کی ضرورت اب زیادہ ہو گئی ہے۔ پہلے دور میں ان چیزوں کا رواج تھا، ایسی مجالس ہوا کرتی تھیں، بزرگوں کے ہاں اشعار پڑھے جاتے تھے اور اس میں دلچسپی لی جاتی تھی۔ اور لوگوں کو بھی بہت سارے اشعار یاد ہوتے تھے اور ذوق ہوتا تھا۔ لیکن اب اول تو ہے نہیں اور اگر ہے تو وہ زیادہ تر مجازی شاعری ہے جو فسق و فجور پر مبنی ہوتی ہے۔ تو اس وجہ سے اس شاعری سے لوگ واقف نہیں ہیں، اس کا ذوق بھی نہیں ہے، اس کا شوق بھی نہیں ہے، اس سے واقفیت بھی نہیں ہے۔ تو جس چیز کا ذوق اور شوق نہ ہو، واقفیت نہ ہو تو اس چیز کو شروع کرنا آسان نہیں ہوتا۔ وہ تو ایسا ہے جیسے کھڈوں میں گاڑی چلانا۔ لیکن جب کبھی منزل پہ پہنچنا ہوتا ہے تو کھڈوں میں بھی گاڑی چلانی پڑ جاتی ہے اور نتیجے کو خدا کے حوالے کر دیا جاتا ہے تو اللہ پاک کامیاب بھی فرما دیتا ہے۔
اسی امید پر ہم نے مجلس شروع کی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو ہمارے لیے بھی بہت مفید بنا دے اور جو لوگ سن رہے ہیں، جو اس میں شامل ہیں، ان کے لیے بھی مفید بنا دے اور باقی حضرات کو بھی، باقی لوگوں کو بھی اس کا ذوق نصیب فرما دے۔
ہم کو بس تیری محبت کا سہارا کافی
یہ غزل ہے آج کے لیے۔
کیا وہ انساں ہے جو مشغول عبادت پہ نہ ہو
شکر نعمت پہ نہ ہو صبر مصیبت پہ نہ ہو
عافیت مانگتے یا رب ہیں کہ کمزور ہیں ہم
پر کہیں داغ خدایا یہ محبت پہ نہ ہو
کیا وہ انساں ہے جو مشغول عبادت پہ نہ ہو
شکر نعمت پہ نہ ہو صبر مصیبت پہ نہ ہو
اس میں شاعر یہ کہتا ہے کہ وہ کیسا انسان ہے جو عبادت پہ مشغول نہ ہو، کیوں کہا یہ؟ یہ اس لیے کہا کہ اللہ جل شانہ ارشاد فرماتے ہیں: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ۔ نہیں پیدا کیا میں نے انسان اور جن کو مگر اپنی عبادت کے لیے۔ تو یہ بات اگر معلوم ہے کہ انسان عبادت کے لیے پیدا ہے تو اگر وہ اپنی ڈیوٹی پوری نہیں کرتا تو کیسا انسان ہے؟
کیا وہ انساں ہے جو مشغول عبادت پہ نہ ہو
شکر نعمت پہ نہ ہو صبر مصیبت پہ نہ ہو
کیونکہ اللہ کی نعمت پر شکر کرنے سے اللہ پاک نعمت کو اور بڑھا دیتے ہیں اور صبر کرنے سے اللہ ساتھ ہو جاتے ہیں، مصیبت کو کم کر دیتے ہیں اور ظاہر ہے بہت اجر اس کا ملتا ہے۔ تو دونوں صورتوں میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔ تو انسان کے اندر شعور ہوتا ہے اور شعور انسان کو اچھے اور برے کی تمیز سکھاتا ہے۔ تو جس انسان میں یہ شعور نہ ہو، جو اپنا فائدہ نہیں جانتا تو اس کو ہم کیسا انسان کہیں گے؟
کیا وہ انساں ہے جو مشغول عبادت پہ نہ ہو
شکر نعمت پہ نہ ہو صبر مصیبت پہ نہ ہو
عافیت مانگتے یا رب ہیں کہ کمزور ہیں ہم
اللہ پاک نے عافیت مانگنے کو پسند فرمایا ہے۔ کیونکہ اس میں عجز کا اعتراف ہے، عاجزی کا اور عاجزی اللہ کو پسند ہے۔
پر کہیں داغ خدایا یہ محبت پہ نہ ہو
لیکن شاعر اس میں خطرہ دیکھ رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ محبت کے جذبے کے خلاف نہ ہو جائے۔ عافیت مانگنا تو ہے عاجزی کے لیے، لیکن یہ محبت کے خلاف والی بات نہیں ہونی چاہیے۔ محبت کا جذبہ جواں رہنا چاہیے۔
مجھ کو بس تیری محبت کا سہارا کافی
دل مرا تجھ پہ رہے مال پہ لذت پہ نہ ہو
یعنی مجھ کو صرف تیری محبت کا سہارا کافی ہے، مجھے باقی چیزوں کی ضرورت نہیں ہے۔ اور میرا دل تیرے ساتھ وابستہ ہونا چاہیے۔ مال اور لذت کا طالب نہ ہو۔ یہ ایک جذبہ۔ یہ دو جذبوں کا رد ہو گیا۔ کیونکہ حبِ دنیا میں تین جذبے ہوتے ہیں۔ مال کی محبت، لذات کی محبت، اور جاہ کی محبت۔ تو دو جذبوں کے بارے میں یہاں پر آ گیا کہ میرا دل ان چیزوں میں مشغول نہیں ہونا چاہیے۔
ہم تو دیوانے ہیں تیرے اور یہی چاہتے ہیں
دل کا گوشہ کوئی مرکوز وجاہت پہ نہ ہو
تو یہ تیسرے جذبے کا رد ہو گیا کہ ہم تو تیرے دیوانے ہیں، تیرے عاشق ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے دل کا کوئی گوشہ عزت اور جاہ کی طلب میں نہ رہے۔ تو گویا کہ ہم ان تین جذبوں سے اپنے آپ کو بچائیں۔ جاہ کی محبت، باہ کی محبت اور مال کی محبت۔
یہ جہاں تیرا ہے ہم تیرے ہیں سب تیرا ہے
یقیناً۔
یہ جہاں تیرا ہے ہم تیرے ہیں سب تیرا ہے
دل کہیں میرا یہ سرشار ملکیت پہ نہ ہو
کہ میں یہ سوچنے لگوں کہ اوہو یہ تو میری فلاں چیز ہے اور میری فلاں چیز ہے اور میری فلاں چیز ہے اور میری فلاں چیز ہے۔ سب اللہ کا ہے۔ اللہ کا مال ہے۔ اللہ جب تک ہمارے پاس ہاتھ رکھے گا تو ہے اور جب تک نہیں رکھے گا تو اٹھا لے گا۔ مطلب ظاہر ہے۔ اس وجہ سے ہمارے ان چیزوں کے اندر دل کو نہیں گھسنا چاہیے اور دل کے اندر ان کو نہیں گھسنا چاہیے۔
تن آسانی پہ میرا نفس نہ مائل ہو کبھی
نفس شرمندہ کبھی بھی میرا مشقت پہ نہ ہو
مطلب یہ ہے کہ تن آسانی پہ میرا نفس مائل نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ تن آسانی سے بہت سارے شریعت کے کام رہ جاتے ہیں پیچھے۔ مثلاً نماز ہی کو لے لیں۔ اب فجر کی نماز کے لیے اٹھنا ہے اور تن آسانی ہے اور اٹھنا مشکل ہو گیا تو چلو کام خراب ہو گیا۔ شریعت کا حکم پورا نہیں ہوا۔ جہاد کا حکم ہے۔ تن آسانی کی وجہ سے رہ گیا۔ اللہ کے راستے میں نکلنے کا ہے۔ تن آسانی کی وجہ سے رہ گیا۔ تو مطلب یہ ہے کہ تن آسانی کی وجہ سے کہیں میرا میرے دینی اعمال پہ اثر نہ پڑ جائے۔
قبول میرے خدایا مرے ہوں قلب و نظر
ذہن تاریک نہ ہو قلب بھی ظلمت پہ نہ ہو
یہ ایک اور چیز بتائی کہ میرا جو قلب و نظر ہیں، دل اور نظر جس کو ہم کہتے ہیں سوچ، یہ دونوں قبول ہو جائیں اس وجہ سے میرا ذہن تاریک نہ بنے اور میرے دل میں بھی ظلمت نہ ہو۔
سامنے تیرے رہوں دل سے ترا بندہ بنوں
دل ہو احسان پہ کسی اور کیفیت پہ نہ ہو
یعنی دل میں کیفیت احسان پیدا ہو جائے اور کسی اور کیفیت کی طلب مجھے نہ ہو۔
دلِ شبیر کو اپنی یاد سے کرلے روشن
تو اسے یاد رہے اِس سے یہ غفلت پہ نہ ہو
کیا وہ انساں ہے جو مشغول عبادت پہ نہ ہو
شکر نعمت پہ نہ ہو صبر مصیبت پہ نہ ہو
بے لوث دوستی
غرض جن کو ہے ان کی دوستی، دوستی غرض کی ہے
بھروسہ ان پہ کرنے میں، تو پھر مشکل بہت ہی ہے
مگر بے لوث دوستی میں تو یوں خطرے نہیں ہوتے
یہ کیوں کرتے نہیں اس سے کہ جس کی ایسی دوستی ہے
جس کو غرض ہے یعنی محتاج ہے تو ان کی دوستی تو بے لوث نہیں ہو سکتی وہ ضرور آپ سے کچھ چاہے گا۔ تو اس وجہ سے اس پر بھروسہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن جس کی دوستی بے لوث دوستی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی کہ اللہ تعالیٰ تو ہم سے کچھ بھی نہیں۔۔۔ اللہ کو کس چیز کی ضرورت ہے ہم سے؟ تو لہذا اس کی ہم سے بے لوث محبت ہے۔ لہذا ہم اگر اس کے ساتھ دوستی کریں گے تو یہ دوستی نفع کی ہے باقی دوستیاں خسارے کی ہیں۔
یہ اب شاعر کے جذبات ہیں کہ زندہ رہوں تو کیسے رہوں۔
کاش میں ایسا رہوں اس کے لیے زندہ رہوں
کاش میں ایسا رہوں اس کے لیے زندہ رہوں
موت ہو اس کے لیے اس پر بھی شرمندہ رہوں
دل مرا اس کے لیے ہو اور دماغ اس کے لیے
ہو زبان پر ذکر اس کا، اس کا نام لیتا رہوں
کاش میں ایسا رہوں اس کے لیے زندہ رہوں
دوستی اس کے لیے ہو دشمنی اس کے لیے
مجھ سے چاہے جیسے کرنا اس طرح کرتا رہوں
کاش میں ایسا رہوں اس کے لیے زندہ رہوں
بولنا اس کے لیے ہو چپ رہوں اس کے لیے
خوش رہوں اس کے لیے اس کے لیے روتا رہوں
کاش میں ایسا رہوں اس کے لیے زندہ رہوں
دل میں بس اک وہ سمائے دوسرا کوئی نہ ہو
دل سے الا اللہ کا نعرہ میں لگاتا رہوں
کاش میں ایسا رہوں اس کے لیے زندہ رہوں
اس سے مانگوں اس سے لوں بس اس کے در پر سر رہے
اس کے در پر سر کو ہر دم بار بار رکھتا رہوں
کاش میں ایسا رہوں اس کے لیے زندہ رہوں
اب تو بس اس کی محبت کا ہی آسرا ہے شبیر
اس سے جو غافل کرے میں اس کو بھول جاتا رہوں
کاش میں ایسا رہوں اس کے لیے زندہ رہوں
میرے خیال میں یہ تو self-explanatory ہے، اس میں کسی تشریح کی ضرورت نہیں ہوگی۔ سب چیزیں بالکل واضح ہیں۔
ایک سیدھی بات
سیدھی سی بات ہے ہم اس کے ہیں۔ یہ اس غزل کی تشریح ہو گئی۔
سیدھی سی بات ہے ہم اس کے ہیں
اس کے اگر نہیں تو کس کے ہیں
اس کے بن جائیں تو پھر سب کچھ ٹھیک
کام جیسے بھی اور جس کے ہیں
مطلب یہ ہے کہ اللہ ہی کے بن جائیں تو بس کام بن جائے گا۔ مَنْ كَانَ لِلّٰهِ كَانَ اللّٰهُ لَهُ۔
اللہ ہی اللہ
جب کوئی کام تم نے کرنا ہو
اس میں اس سے ہمیشہ ڈرنا ہو
بس شریعت کے مطابق ہو کام
اور صرف اس کا ہی دم بھرنا ہو
مطلب یہ ہے کہ موٹی موٹی باتیں ہیں، سیدھی سی باتیں ہیں۔ لیکن یہ زبان سے دل میں اتر جائے پھر بڑی بات ہے۔ جب تک زبان پر ہے تو چلو ایک استحضار کا ذریعہ بن جائے گا، لیکن اصل وقت اصل بات اس وقت بنے گی جب یہ دل میں اتر جائے گی۔
تجھ کو کیا معلوم؟
اشارہ "ھو" جو کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم دل مرا کس سے آشنا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
جھک کیوں جاتی ہے گردن مری محفل میں اب
کون اس وقت بلاتا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
کیسے غافل رہوں اس سے کہ ہر طرف ہے وہی
اپنی آغوش میں چھپاتا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
اشارہ "ھو" جو کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم
ہر وقت اس کی نظر اپنی نظر پر محسوس
عرش سے کیا برس رہا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
اشارہ "ھو" جو کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم
بھلا دیا ہے جس نے مجھ سے ہر اک کام میرا
لگا ہوں جس میں کام اس کا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
اشارہ "ھو" جو کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم
نہیں پیا ہے تو نے عشق کا جب جام ابھی
جو اس نے مجھ کو پلایا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
اشارہ "ھو" جو کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم
رات دعاؤں کے رستے میری ملاقات ان سے
ملن کا وقت وہ کیسا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
اشارہ "ھو" جو کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم
کہا جب اس نے کہ تم میرے ہو تو ہاں اس وقت
دل کا کیا حال پھر ہوتا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
اشارہ "ھو" جو کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم
بہا بہا کے جو آنسو میں دل کو دھو ڈالوں
پھر مرے دل میں کون آتا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
اشارہ جو "ھو" کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم
دل مرا کس سے آشنا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
کیسے گم سم خموش میں نہ رہوں شبیر کہ
دھیان حاصل کس کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
اشارہ "ھو" جو کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم
یہ ایک عاشق اپنی کیفیات بتا رہا ہے کہ انسان جب اللہ کا بن جاتا ہے تو اس کی کیفیت کیا بنتی ہے۔
دل میں دو راستے ہیں
دل میں الہامِ الٰہی کا انتظام بھی ہے
اور شیطاں کے وساوس کا تیز گام بھی ہے
اپنا دل کھول ذرا شیخِ کامل کی جانب
تاکہ سب درست رہیں کام سو یہ کام بھی ہے
ہم بہت سارے کاموں کو کام سمجھتے ہیں۔ لیکن سارے کاموں کو ٹھیک کر لیں اور یہ صحیح بن جائے اور مفید بن جائے تو یہ کیا کام نہیں ہو گا؟ مثال کے طور پر یہ سارے پنکھے بھی لگا دوں اور ریفریجریٹر بھی لے آؤں اور اے سی بھی لگوا دوں اور یہ بھی ہو جائے، وہ بھی ہو جائے اور کنکشن بجلی کا نہ دوں۔ کیا کہیں گے مجھے لوگ؟ بھئی کیا ہو گیا؟ میں نے شو شا کے لیے پنکھے لٹکا دیے۔ بلب لٹکا دیے، فریج لگا دیا، اے سی لگا دیا، لیکن کرنٹ نہیں دیا۔ تو سارے کے سارے کھڑے کے کھڑے صرف showpieces ہوں گے۔ لیکن اگر اس کو کرنٹ دے دیا تو چلنے پڑ جائیں گے۔ تو اصل یہی بات ہے کہ یہ جو کام ہے کہ سارے کام درست ہو جائیں۔ اب سنیں دوبارہ۔
دل میں الہامِ الٰہی کا انتظام بھی ہے
اور شیطاں کے وساوس کا تیز گام بھی ہے
اپنا دل کھول ذرا شیخِِ کامل کی جانب
یعنی اپنے دل کے کان شیخ کی طرف لگا دو۔
اپنا دل کھول ذرا شیخ کامل کی جانب
تاکہ سب درست رہیں کام سو یہ کام بھی ہے
دل سے دیکھا اسے
دل میں میں یاد اس کو کرتا رہوں
اور ہر دم اس کا دم بھرتا رہوں
ذرہ ذرہ مرا اس کا جو ہے
دے کے اس کو اس پہ میں ڈرتا رہوں
یعنی میں دل میں ہر وقت ذکر کروں اور ہر وقت اس کی محبت میں مگن رہوں۔ اور میرا جو ذرہ ذرہ مطلب ہے وہ سب میں اس کو دوں لیکن پھر بھی اس پہ ڈرتا رہوں کہ کہیں کمی تو نہیں ہوئی۔
ذرہ ذرہ مرا اس کا جو ہے
میرا ذرہ ذرہ اس کا ہے۔
ذرہ ذرہ مرا اس کا جو ہے دے کے اس کو اس پہ میں ڈرتا رہوں
دل میں میں یاد اس کو کرتا رہوں
مٹتے مٹتے مرا مٹنا بھی مٹے
یعنی مٹنے کا جو احساس ہے وہ مٹ جائے
مٹتے مٹتے مرا مٹنا بھی مٹے
اس طرح روز میں سنورتا رہوں
دل میں میں یاد اس کو کرتا رہوں
بگڑنا کیا ہے؟ بگڑنا کہتے ہیں انسان عجب میں مبتلا ہو جائے، اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگے۔ اللہ سے کٹنے لگے گا۔ تو یہ بگڑنا ہے۔ اور انسان جس وقت مٹنا شروع ہو جائے، عاجزی اختیار کرنا شروع ہو جائے تو یہ کیا ہے؟ یہ بننا ہے، سنورنا ہے۔ کیونکہ اللہ کو عاجزی پسند ہے۔ تو جتنا جتنا یہ عاجز بنتا جائے گا اتنا اتنا اللہ کو پسند ہو گا۔
مٹتے مٹتے مرا مٹنا بھی مٹے
اس طرح روز میں سنورتا رہوں
کیونکہ اگر مٹنے کا احساس باقی ہو تو مٹے کیسے؟ کیونکہ پھر عجب ہو جائے گا کہ میں تو بڑا عاجز ہوں۔ کیونکہ عاجزی اچھی صفت ہے نا؟ میں مانوں گا نا کہ اچھی صفت ہے۔ اور میں کہوں اپنے آپ کو عاجز، تو کیا ہو گا یہ؟ میں کہہ دوں آج تو میں بڑی عاجزی کے ساتھ نماز پڑھی۔ تو یہ کیا چیز ہے؟ عجب، تو یہ احساس بھی ختم ہونا چاہیے نا۔ تو اصل میں یہی ہے۔
مٹتے مٹتے مرا مٹنا بھی مٹے
اس طرح روز میں سنورتا رہوں
دل پہ اس کی ہو نظر پیار کی اک
ذکر سے اس طرح نکھرتا رہوں
فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ۔ تو میں جب ذکر کروں گا، تو اس سے میں نکھرتا رہوں گا، کیونکہ اس سے میرے دل کے اوپر اس کی رحمت کی نظر ہو گی۔
دل پہ اس کی ہو نظر پیار کی اک
ذکر سے اس طرح نکھرتا رہوں
دور اغیار مرے دل سے اب
سامنے باغ ہے میں چرتا رہوں
یہ حدیث شریف کی طرف اشارہ ہے کہ جب جنت کے باغوں میں پہنچو، چراگاہوں میں، تو اس میں خوب چرو۔
دور اغیار مرے دل سے اب
سامنے باغ ہے میں چرتا رہوں
دل سے دیکھا اسے ہے جب سے شبیر
اس پہ ہر روز اب تو مرتا رہوں
دل میں میں یاد اس کو کرتا رہوں
اور ہر دم اس کا دم بھرتا رہوں
اب ذرا تھوڑا سا اس کا ایک اور رنگ ہے۔
کیا حد ہے تباہی کی اسے چھوڑ دیا گر
دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے
پھر حبِ الہی کی انتہاء کہاں ملے
دنیا کی محبت کا سرا کب مل سکتا ہے؟ یعنی دنیا کی اس محبت کا سرا جب نہیں ہے تو پھر حب الٰہی کی انتہا کیسے معلوم ہو سکتی ہے؟ دنیا تو محدود ہے تو اس کی محبت بھی محدود ہو گی۔ اور اللہ کی ذات وہ تو غیر محدود ہے۔ تو اس کی محبت بھی غیر محدود ہو گی۔ تو اس کی انتہا کیسے ملے گی؟
جب اس کی نظر سے کوئی کیسے ہی گر گیا
اس کو کیا ملے اگر سارا جہاں ملے
دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے
جب اس کی نظر سے کوئی گر جائے تو وہ تو ختم ہو گیا اس کو سارا جہان بھی مل گیا تو کیا مل گیا؟
جو اس کے پاس بھیج دیا وہ ہی ہے محفوظ
کتنا یہاں سے بڑھ کے وہ سارا وہاں ملے
دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے
کیا حد ہے تباہی کی اسے چھوڑ دیا گر
کتنی ہی اس کو یاں پہ دعوتِ بُتاں ملے
دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے
یعنی یہاں پر مجازی محبوبوں کی طرف سے کتنی دعوت ملے، اگر اس نے ان کے لیے اس کو چھوڑ دیا تو تباہی ہو گئی۔ ختم ہو گیا۔
دنیا کی لذتوں سے وہ لذات ہوں محسوس
اور ان کی پھر طلب ہو تو سرِ نہاں ملے
دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے
یعنی دنیا کی جو لذتیں ہیں وہ اس لیے ہیں تاکہ وہاں کی لذت محسوس ہو جو ادھر ملیں گی۔ اور پھر جب اس کی طلب پیدا ہو جائے گی تو پھر اس کا مقصد پورا ہو جائے گا۔
اس زیست کے اک کام کا طالب بنوں شبیرؔ
بس اس کا ہی ہونے کا جو جذبہ جواں ملے
دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے
اب ایک ہے
اللہ اللہ کریں
یعنی ہمارا کام کیا ہو، اللہ اللہ کرنا۔
صراطِ مستقیم پر اب ہم چلا کریں
دل سے بھی اور زبان سے اللہ اللہ کریں
ہیں قیدِ شریعت میں کان دونوں اپنے بند
جائز اگر نہ ہو تو اسے کیوں سنا کریں
صراطِ مستقیم پر اب ہم چلا کریں
مطلب یہ ہے کہ میرے جو کان ہیں پابند ہیں۔ شریعت کے قوانین میں۔ ہم آزاد نہیں کہ ہر چیز سنیں۔ گانے سنیں، غلط باتیں سنیں۔ کانا پھونسی، پوری کانا پھونسی کریں۔ یہ کام ہمارے نہیں ہیں کیونکہ پابند ہیں۔ ہمارے کان پابند ہیں۔ تو جب پابند ہیں تو اب ہم وہی سنیں جس کی اجازت ہے۔
بیشک ہماری آنکھیں بھی ہیں اس کی امانت
غیر محرم دیکھنے سے نہ مجرم بنا کریں
صراطِ مستقیم پر اب ہم چلا کریں
ہماری جو آنکھیں ہیں یہ بھی اس کی امانت ہیں اس کو ہم اس کے خلاف، اس کی مرضی کے خلاف نہ استعمال کریں۔ لہذا ہم کہیں غیر محرم کو دیکھ کر اس کا مجرم نہ بن جائیں۔
اک گوشت کا لوتھڑا ہے زباں میرے منہ میں بند
جائز نہ ہوں جو بول اسے کیوں ادا کریں
صراطِ مستقیم پر اب ہم چلا کریں
یعنی ایک گوشت کا لوتھڑا ہے زبان اور اگر ہم لوگ اس کو ایسے بولوں پہ چلائیں جو ناجائز ہوں تو وہ تو اس کی مرضی کے خلاف کام ہو جائے گا۔
اس سر میں جو دماغ ہے کنٹرول پہ مامور
تو اس کا استعمال غلط کیوں کیا کریں
صراطِ مستقیم پر اب ہم چلا کریں
یہ دل بھی امانت ہے مرے رب کی جب شبیرؔ
تو اس کے علاوہ نہ کسی کو دیا کریں
صراط مستقیم پر اب ہم چلا کریں
گویا کہ ایک زندگی کا منشور ہے جو اس میں پیش کیا گیا۔ اب ذرا ٹارگٹ کیا ہے، منشور تو بتایا ہے نا لیکن ٹارگٹ کیا ہے؟
نہ ہوں منزلوں کی تلاش میں
نہ ہوں منزلوں کی تلاش میں نہ ہی درجوں کی ہے طلب مجھے
بس یہی تو دل کی ہے آرزو کہ اب اپنا بنا ہی لے رب مجھے
یہ دیوانگی ہی کی تو بات ہے کہ حجاب اب نہ ہو درمیاں
مرا مانگنا اس کا عجیب تر مگر کیا ہوا ہے یہ اب مجھے
مطلب یہ تو دیوانگی کی بات ہے کہ میں کہوں کہ اس کے اور میرے درمیان حجاب نہ ہو، جل جاؤں گا۔ طور کے ساتھ کیا ہوا؟ تو ظاہر ہے مطلب یہ کہ کیسے میں کہہ سکتا ہوں کہ حجاب نہ ہو، حجاب تو ہوگا۔ لیکن میری دیوانگی ہے محبت کی طلب ہے۔ تو طلب بے شک ہو۔ لیکن میں کروں گا وہی جو حکم ہے۔ لہذا مانگنے پہ وہ نہیں ہے لیکن یہ ہے کہ یہ سوچنا چاہیے کہ ہماری حیثیت کیا ہے ہم کیا کر سکتے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ یہاں اس کے قابل بن جائیں کہ اللہ تعالیٰ وہاں دیدار نصیب فرما دے۔ یہاں محنت کر لیں۔
میری خلوت و جلوت بھی اس کی ہو مرا دل و دماغ بھی اس کا ہو
میں دیوانہ ہوں ہاں دیوانہ ہوں کہیں یہ کہیں لوگ سب مجھے
نہ ہوں منزلوں کی تلاش میں نہ ہی درجوں کی ہے طلب مجھے
میری خلوت و جلوت بھی اس کے لیے ہے، میرا دل و دماغ بھی اس کے لیے ہے۔ اور مجھے کوئی اگر دیوانہ کہتا ہے تو کہنے دے۔ یہی میں چاہتا ہوں۔
جو سبب ہے اس کا ہے حکم ہاں میں کروں گا پورا، ضروری ہے
میرے دل کی نگاہ سے وہ دور ہو کبھی کھینچے یوں نہ سبب مجھے
مطلب یہ ہے جو سبب ہے وہ اس کا حکم ہے۔ آگ کو حکم دیا جلاؤ، پانی کو حکم دیا کہ بجھاؤ، تو یہ اس کے احکامات ہیں جو ہمارے جس کو ہم properties کہتے ہیں، خواص کہتے ہیں۔ تو میں ان خواص کو استعمال کروں گا اسباب کو استعمال کروں گا کیونکہ اس کا حکم ہے۔ لیکن ان چیزوں کا میرے اوپر اتنا اثر نہیں ہونا چاہیے کہ وہ مجھے مسبب الاسباب سے بھی دور کر لیں۔ اس پر ہی بھروسہ ختم ہو جائے میں اسباب ہی کا بن جاؤں۔ اسباب اختیار کروں گا اس کے حکم کے مطابق لیکن اسباب پر میری نظر نہیں ہوگی نظر کس پر ہوگی؟ مسبب الاسباب پر ہوگی۔
جو سبب ہے اس کا ہے حکم ہاں میں کروں گا پورا، ضروری ہے
میرے دل کی نگاہ سے وہ دور ہو کبھی کھینچے یوں نہ سبب مجھے
نہ ہو لمحہ بھر کی بھی غفلت اب مجھے کیا پتہ کہ ہو جائے کیا
کہیں بے خبر رہوں میں یوں اور کرم سے دیکھے وہ کب مجھے
نہ ہوں منزلوں کی تلاش میں نہ ہی درجوں کی ہے طلب مجھے
مطلب لمحہ بھر کی غفلت بھی گوارا نہیں کی جا سکتی۔ کیونکہ مجھے کیا پتہ کس وقت میری طرف رحمت کی نظر کر دے اور میں غافل ہوں۔
یک لحظہ زدن غافل ازاں شاہ نہ باشی
شاید کہ نگاہے کند آگاہ نہ باشی
مطلب ایک لمحہ بھی غفلت نہیں اختیار کرنی چاہیے اس مالک الملک سے۔ ہاں کہ ممکن ہے کسی وقت بھی رحمت کی نظر کر رہا ہو اور مجھے پتہ نہ ہو۔
مرے سجدے عبادتیں اس کا حق، مرا حق تو اس پہ کوئی نہیں
یہ کرم ہے اس کا کرے قبول سنو خود سے کھینچے وہ جب مجھے
نہ ہوں منزلوں کی تلاش میں نہ ہی درجوں کی ہے طلب مجھے
بس یہی تو دل کی ہے آرزو کہ اب اپنا بنا ہی لے رب مجھے
یعنی میرے سجدے عبادتیں جو ہیں، اس کا حق ہیں۔ اور میرا اس کے اوپر کوئی حق نہیں۔ البتہ یہ اس کا کرم ہو گا اگر اس کو قبول فرما لے۔ اور خود سے وہ کھینچے مجھے جب بھی تو اس کا فضل ہو گا۔
مجھ پہ فضل رب کا ہے اے شبیر مجھے اہلِ حق سے ملا دیا
اب خدا کے کرم سے نصیب ہو ان ہی اہلِ حق کا ادب مجھے
نہ ہوں منزلوں کی تلاش میں نہ ہی درجوں کی ہے طلب مجھے
یعنی اپنے فضل سے مجھے اہل حق کے ساتھ ملا دیا۔ اب اللہ کرے ان اہل حق کا ادب بھی نصیب ہو جائے۔
دین کا ظاہر اور باطن
ظاہرِ دین ایک چھلکا ہے
اصل معاملہ تو دل کا ہے
چھلکا اس دین کو سلامت رکھے
دل میں ہی راستہ منزل کا ہے
چھلکا اس دیں کو سلامت رکھے، چھلکا فضول نہیں ہے۔
چھلکا اس دین کو سلامت رکھے
دل میں ہی راستہ منزل کا ہے
جو مقصد ہے وہ تو دل میں ہے لیکن وہ تب سلامت رہے گا جب ظاہر سلامت رہے گا۔ جیسے چھلکا سلامت ہو گا تو گری سلامت ہو گی نا۔ تو اس وجہ سے ظاہر کو درست رکھنا ضروری ہے۔ لیکن باطن کو ٹھیک کرنا مجبوری ہے یعنی اس میں انسان کچھ نہیں compromise کر سکتا۔ وہ بھی ٹھیک اور یہ بھی ٹھیک، دونوں ایک ٹھیک ہونا چاہیے۔
ظاہرِ دین ایک چھلکا ہے
اصل معاملہ تو دل کا ہے
چھلکا اس دین کو سلامت رکھے
دل میں ہی راستہ منزل کا ہے
اغیار سے دوستی
اغیار کی اب دوستی سے ہے مری توبہ
کہ ان کی بے وفائی نے ہے مجھ پہ یہ کھولا
دنیا ہو جس کے دل میں تجھے دل میں کیا سمجھے
جو ہے غلام نفس کا کرے کیسے وہ وفا
مطلب اغیار کی دوستی نہیں ہونی چاہیے۔ اب ایک بہت بڑا سبب، اللہ تک پہنچنے کا۔ وہ ہے: اللہ والوں کو دیکھ لینا۔
اللہ والوں کو دیکھ لینا
اللہ کے ہونے کے لئے اللہ والوں کو دیکھ لینا
اللہ کو دیکھ سکتے نہیں اس کے بندوں کو دیکھ لینا
سورج کی شعائیں رستے میں غائب ہوتی ہیں بالکل تو
جس پر پڑیں وہ روشن ہوں تب ان شعاؤں کو دیکھ لینا
اللہ کے ہونے کے لئے اللہ والوں کو دیکھ لینا
تو روشن دل سے روشن ہو یہ روشنی کہاں سے آئی ہے
روشنی کے سفر کو دیکھ لینا روشن رستوں کو دیکھ لینا
اللہ کے ہونے کے لئے اللہ والوں کو دیکھ لینا
یعنی سورج کی شعاعیں راستے میں غائب ہوتی ہیں، photons نظر نہیں آتے۔ ظاہر ہے ہمارے سائنس دان یہی کہتے ہیں، photons نظر نہیں آتے۔ لیکن جس وقت، اب ظاہر ہے سورج سے یہ چیز، شعاعیں آ رہی ہیں نا، تو راستے میں تو روشنی نظر نہیں آ رہی۔ لیکن جس چیز پر بھی پڑ جائے وہ روشن نظر آتی ہے۔ اس کی بہت بڑی مثال بتاتا ہوں۔ گھپ اندھیرے کے اندر چاند چمک رہا ہوتا ہے۔ ارد گرد اندھیرا ہوتا ہے، اور چاند چمک رہا ہوتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ اب یہ ارد گرد اندھیرا کیوں ہے؟ کیوں کہ سورج کی روشنی جیسے چاند پر پڑ رہی ہے، اس طرح تو ارد گرد بھی جا رہی ہے۔ یعنی چاند کے آگے پیچھے سب جگہ روشنی جا رہی ہے نا۔ تو وہاں اندھیرا کیوں نظر آ رہا ہے؟ کیا خیال ہے؟ وہاں اندھیرا نہیں ہونا چاہیے، کیوں کہ سورج کی روشنی تو ہر طرف پڑ رہی ہے۔ لیکن چوں کہ وہاں کوئی جسم نہیں ہے لہٰذا اس پہ پڑ نہیں رہی، جب پڑ نہیں رہی تو نظر نہیں آ رہی۔ اور درمیان میں چوں کہ چاند حائل ہو گیا، چاند پر روشنی پڑ گئی، وہ روشنی ہماری طرف منعکس ہو گئی۔ تو ہمیں پتہ چل گیا کہ چاند روشن ہے۔
کمال کی بات ہے کہ ستاروں کی روشنی اپنی روشنی ہے۔ لیکن فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے کم نظر آتے ہیں، بعض ستارے بالکل نظر نہیں آتے۔ اور چاند چوں کہ ہمارے قریب ہے، اور سورج کی روشنی اس پہ پڑ رہی ہے، تو وہ ہمیں زیادہ روشن نظر آ رہا ہے۔ تو مقصد یہ ہے کہ سورج کی شعاعیں راستے میں غائب ہوتی ہیں۔ لیکن جس چیز پر وہ پڑ جائیں تو روشن ہو جاتی ہیں وہ چیزیں۔ تو اصل میں آپ نے ان چیزوں کو جو روشن دیکھا تو اس سے آپ سورج پہ استدلال کر رہے ہیں کہ سورج ہے۔ اگر سورج غائب ہو جائے کسی وقت اچانک، تو کیا چاند چمکتا ہوا نظر آئے گا؟ چاند تو چمکتا ہوا نظر نہیں آئے گا پھر۔ بلکہ درمیان میں زمین آ جائے تو گرہن ہو جاتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ اس پر استدلال ہے، کہ جو اللہ والے اس طرح چمک رہے ہیں۔ یعنی اللہ والوں کو جو آپ دیکھ رہے ہیں، تو اصل میں یہ کس کی وہ ہے؟ وہ اصل میں ان کے اندر جو اللہ پاک کے ذکر کا جو نور ہے وہ داخل ہو گیا ہے، اس وجہ سے وہ چمک رہے ہیں۔
سورج کی شعائیں رستے میں غائب ہوتی ہیں بالکل تو
جس پر پڑیں وہ روشن ہوں تب ان شعاؤں کو دیکھ لینا
تو روشن دل سے روشن ہو
ہاں، کسی کے دل سے تو روشنی لے رہا ہے۔
یہ روشنی کہاں سے آئی ہے
اس میں کہاں سے روشنی آ گئی؟ تو اس میں اپنے شیخ سے آئی ہے، پھر اس میں اپنے شیخ سے آئی ہے، اس میں اپنے شیخ سے آئی ہے۔ تو یہ ایک راستہ ہے، جس کو ہم سلسلہ کہتے ہیں کہ روشنی کا سفر ہے۔
روشنی کے سفر کو دیکھ لینا روشن رستوں کو دیکھ لینا
یعنی سلسلے کی آب و تاب کو دیکھ لینا۔ کیوں کہ تو جو اس کے دل سے چمک لے رہا ہے، تو وہ بھی کسی کے دل سے چمک لے چکا ہے اور پھر وہ کسی سے چمک لے چکا ہے اور اس طرح ہوتے ہوتے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک بات پہنچ جاتی ہے۔ تو یہ ہے روشنی کا سفر، جو دلوں سے دلوں کو ہوتا ہے۔ اس کے لیے جو reflectors ہیں وہ دل ہیں۔ دل کے ذریعے سے روشنی دوسرے دل میں جا سکتی ہے۔
دل پر دنیا کی چھاپ ہو تو دنیا ہی نظر آئے فقط
گر دل کو بنانا چاہتے ہو ان کے دلوں کو دیکھ لینا
اللہ کے ہونے کے لئے اللہ والوں کو دیکھ لینا
مطلب یہ ہے کہ جس دل کے اوپر دنیا کی چھاپ لگ جاتی ہے، دنیا کی محبت ہوتی ہے اس میں، تو پھر تو دنیا ہی نظر آئے گی۔ لیکن اگر تو اپنے دل کو بنانا چاہتا ہے، تو پھر ان کے دلوں کو دیکھ لینا، جن کے دل میں دنیا کی محبت نہیں ہے۔ پھر آپ کو حقیقت نظر آ جائے گی۔
جو مٹ مٹ کے باقی بنے، رحمت کے سائے میں ہیں وہ
یعنی فنا اور بقا سے گزر کر وہ باقی ہو چکے ہیں، تو اللہ کی رحمت کے سائے میں ہیں
جو مٹ مٹ کے باقی بنے، رحمت کے سائے میں ہیں وہ تم بھی ذرا طالب بنو اور ان سایوں کو دیکھ لینا
اللہ کے ہونے کے لئے اللہ والوں کو دیکھ لینا
اب ایک بہت عجیب بہت عظیم اشکال ہے جس کا جواب دے رہے ہیں۔
تجھ سے لینا کیا چاہیں گے تو ان کو کیا دے سکتا ہے؟
اللہ کے طالب ہیں وہ فقط ان کے کاموں کو دیکھ لینا
اللہ کے ہونے کے لئے اللہ والوں کو دیکھ لینا
باطن کے کان میں رس گھولے آنکھیں دید سے بھی ٹھنڈی ہوں
آنکھوں سے کوثر لٹائے جائیں شبیرؔ تو ان جاموں کو دیکھ لینا
جو ان کی بات ہے وہ کان میں رس گھولے اور ان کی دید سے آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں اور جو جام یہ آنکھوں سے لٹاتے جاتے ہیں ان کو دیکھ لینا۔
ذکر اور صحبتِ صالحین
ذکر سے دل کی جب تیار ہو زمین
کر لے اختیار صحبتِ صالحین
اس سے اعمال ان کے پائے تو
اس سے حاصل ہو تجھ کو فوزِ مبین
ماشاءاللہ یہ تصوف کا بہت بڑا نقطہ الحمدُ للّٰه بہت خوبصورتی کے ساتھ اس رباعی میں آ گیا۔
ذکر سے دل کی جب تیار ہو زمین
کر لے اختیار صحبتِ صالحین
اس سے اعمال ان کے پائے تو
اس سے حاصل ہو تجھ کو فوزِ مبین
اہلِ دل سے ملنا
جو ظاہر میں خرابی ہو تو لوگ وہ درست کردیں گے
ظاہر میں اگر خرابی ہے (مثلاً) آپ نماز صحیح نہیں پڑھ رہے، ایک بچہ بھی آپ کو بتا سکتا ہے کہ آپ نماز صحیح نہیں پڑھ رہے
جو ظاہر میں خرابی ہو تو لوگ وہ درست کردیں گے
اگر دل میں خرابی ہے تو نفس اور سست کردیں گے
تو اہلِ دل سے ملنا اس لئے ہوتا ضروری ہے
کہ دل کے ٹھیک کرنے کے لئے وہ چست کردیں گے
اہل دل ہی چونکہ اس چیز کو جانتے ہیں، ان کے پاس بیٹھو گے تو پتہ چلے گا کہ میرے اندر کچھ مسئلہ ہے۔ ورنہ پھر تو ظاہری چیز تو ہے نہیں کہ جس کا دوسرے لوگوں کو پتہ چل جائے۔
اک طرف ہی جائے نظر
کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر
وہ ہر صورت میں اس کی پائے نظر
سر کی آنکھوں سے نظر آئے نہیں
دل کی آنکھوں سے مگر آئے نظر
جو نظر اس کے ساتھ ہو نامانوس
پڑے جہاں وہ غضب ڈھائے نظر
کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر
جو نظر اللہ کے ساتھ مانوس نہیں ہے وہ چیزوں سے اثر لیتی ہے اور چیزوں کو متاثر کرتی ہے۔ یعنی حسد کی نظر پڑ جاتی ہے جس کی وجہ سے نظر لگ جاتی ہے۔ اس وجہ سے فرماتے ہیں کہ جس کی نظر لگتی ہو وہ جب کسی اچھی چیز کو دیکھے جس کی طرف اس کی طلب ہو تو فوراً ما شاء اللّٰه کہہ دے تاکہ اس کی نظر نہ لگے، تاکہ اللہ کی طرف نظر چلی جائے اور اس کی نظر اس چیز سے ہٹ جائے۔
جو نظر اس کے ساتھ ہو نامانوس
پڑے جہاں وہ غضب ڈھائے نظر
جو مجھے اس سے آشنا کردے
کوئی مجھ کو بھی وہ بتائے نظر
کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر
میں تو جو بھی کروں شبیر یہاں
بس مری اس طرف ہی جائے نظر
کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر
یعنی ایک طرف یہ ہے کہ اللہ کی طرف نظر جائے کہ اللہ نے توفیق دی ہے۔
##کیفیات
ہجر کی آگ میں سلگتا ہوں ترستا رہتا ہوں میں انتظار میں
یہ کوئی گپ نہیں حقیقت ہے ایسا ہی ہوتا رہتا ہے پیار میں
میں کیسے چپ رہوں خموش رہوں دل مرا پھٹ نہ جائے اس غم سے
گو کہ معلوم ہے حقیقت اپنی کہ نہیں ہوں میں کسی بھی شمار میں
تجھ کو کیا ہے خبر اے دل میرے ترا محبوب کون ہے دیکھو
تجھ کو سنبھالوں میں کیسے اب کہ کچھ بھی نہیں ہے میرے اختیار میں
پیار میں جلنا تو کوئ ی بات نہیں کہ جلانا تو پیار کا حق ہے
مجھ کو ہے خوف کہ کروں نہ کبھی اپنے کپڑوں کو اس سے تار تار میں
یہ بہت عجیب شعر ہے۔ اس کی تشریح ضروری ہے۔
پیار میں جلنا تو کوئی بات نہیں کہ جلانا تو پیار کا حق ہے
یعنی محبت جس کو ہو جائے تو وہ تو اس کی وجہ سے جلے گا تو یہ محبت کا حق ہے، وہ جلائے گی۔ عشق کی آگ ہے، آگ تو جلاتی ہے نا۔ تو یہ ٹھیک ہے۔ لیکن کہتے ہیں خوف مجھے یہ ہے کہ کہیں میں اپنے کپڑوں کو اس سے تار تار نہ کر دوں اس کیفیت میں۔ یعنی کہیں مجھ سے شریعت کی خلاف ورزی نہ ہو جائے۔ مطلب مجھے پتہ نہ چلے اور شریعت کی خلاف ورزی کہیں نہ ہو جائے۔ اسی وجہ سے کہتے ہیں مطلب اس میں ہوش میں انسان رہے۔
پیار میں جلنا تو کوئی بات نہیں کہ جلانا تو پیار کا حق ہے
مجھ کو ہے خوف کہ کروں نہ کبھی اپنے کپڑوں کو اس سے تار تار میں
پلایا ساقی نے مجھ کو اتنا چھلک نہ جائے پیمانہ میرا
چھپانا راز دوست کا ہے شبیرؔ کہیں ناکام نہ ہوں اعتبار میں
ہجر کی آگ میں سلگتا ہوں ترستا رہتا ہوں میں انتظار میں
میرے ساقی نے، میرے شیخ نے اتنا مجھے اس عشق کے ساتھ اس محبت کے ساتھ وہ کر لیا کہ اب مجھے خطرہ ہے کہیں پیمانہ چھلک نہ جائے۔ اور دوسری طرف دوست کا راز رکھنا بھی ضروری ہے، اس کو بھی چھپانا ہے۔ تو مجھے ڈر ہے کہیں اس میں، کہیں میں ناکام نہ ہو جاؤں۔ وہی والی بات ہے کہ پیار میں جلنا تو کوئی بات نہیں، ہاں یہ دونوں طریق، یعنی ایک شریعت کی بات ہے، دوسری طریقت کی بات ہے۔ یعنی ایک میں شریعت کی حفاظت ہے اپنی محبت کے دوران اور دوسرے میں طریقت کی حفاظت ہے۔ کیونکہ محبت میں دونوں باتیں ہو سکتی ہیں۔ محبت میں یہ ممکن ہے کہ کسی جذبے کی وجہ سے کہیں شریعت کے خلاف کوئی بات نہ ہو جائے۔ اس پر چیک رکھنا پڑتا ہے۔
حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں -سبحان اللّٰه- جب میں اللہُ اللہ کا ذکر کرتا ہوں، کیفیات ہیں۔ جب میں اللہ اللہ کا ذکر کرتا ہوں تو میری بوٹی بوٹی تھرکنے لگتی ہے اور کہتے ہیں اگر مجھے شریعت کا وہ نہیں ہوتا تو میں ناچنے لگ جاتا۔ شریعت کا اگر خیال نہ ہوتا تو ناچنے لگ جاتا۔ یہ عالم ہیں، بہت بڑے عالم ہیں، معمولی عالم نہیں ہیں۔ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ، یہ وہ چیز ہے جس کے بارے میں فکرمند ہوتے ہیں۔ تو اس میں ہے۔۔۔
پیار میں جلنا تو کوئی بات نہیں کہ جلانا تو پیار کا حق ہے
مجھ کو ہے خوف کہ کروں نہ کبھی اپنے کپڑوں کو اس سے تار تار میں
اور یہ دوسرا کیا ہے؟
پلایا ساقی نے مجھ کو اتنا چھلک نہ جائے پیمانہ میرا
چھپانا راز دوست کا ہے شبیرؔ کہیں ناکام نہ ہوں اعتبار میں
تو ایک میں شریعت کی حفاظت کا خیال ہے ایک شعر میں، دوسرے میں طریقت کی حفاظت کا خیال ہے۔ یہ دونوں کافی مشکل ہو جاتی ہیں۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو دوست کے راز کو راز نہ رکھ سکے وہ دوستی کے قابل نہیں۔ جو دوست کے راز کو راز نہ رکھ سکے، وہ دوستی کے قابل نہیں۔ تو اب دیکھو کتنا مشکل ہوگا۔ مشکل تو ہوگا نا! تو یہ کیفیات ہیں، اس غزل کا نام کیا ہے؟ کیفیات۔ ذرا دوبارہ سن لیں۔
ہجر کی آگ میں سلگتا ہوں ترستا رہتا ہوں میں انتظار میں
یہ کوئی گپ نہیں حقیقت ہے ایسا ہی ہوتا رہتا ہے پیار میں
میں کیسے چپ رہوں خموش رہوں دل مرا پھٹ نہ جائے اس غم سے
گو کہ معلوم ہے حقیقت اپنی کہ نہیں ہوں میں کسی بھی شمار میں
مطلب یہ ہے کہ جو آ رہی ہے، اس کو میں کیسے برداشت کروں؟ مجھے تو یہ خطرہ ہے کہیں پھٹ نہ جاؤں۔ برداشت تو کرنا پڑے گا۔
تجھ کو کیا ہےخبر اے دل میرے ترا محبوب کون ہےدیکھو
ذرا دیکھ تیرے محبوب کا مقام کیا ہے، لیول کیا ہے؟
تجھ کو کیا ہےخبر اے دل میرے ترا محبوب کون ہے دیکھو
تجھ کو سنبھالوں میں کیسے اب کہ کچھ بھی نہیں ہے میرے اختیار میں
پیار میں جلنا تو کوئی بات نہیں کہ جلانا تو پیار کا حق ہے
مجھ کو ہے خوف کہ کروں نہ کبھی اپنے کپڑوں کو اس سے تار تار میں
یعنی میں کہیں شریعت کی خلاف ورزی نہ کروں، اس محبت کے غالب ہونے کی وجہ سے، کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جو شریعت کے خلاف ہو۔ اور
پلایا ساقی نے مجھ کو اتنا چھلک نہ جائے پیمانہ میرا
چھپانا راز دوست کا ہے شبیرؔ کہیں ناکام نہ ہوں اعتبار میں
مطلب یہ ہے کہ شیخ نے مجھے اتنا عشق سے مانوس کر دیا کہ اب میرا پیمانہ کہیں اس سے نہ چھلک جائے اور حالانکہ اپنے دوست کا راز رکھنا یہ ضروری ہے۔
یادوں کے دریچے
یہ بہت اچھی غزل ہے۔ یادوں کے دریچے۔ دریچے کس کو کہتے ہیں؟ در سے ہے نا؟
دل کی یادوں کی دریچوں کو کھٹکھٹاؤں میں
جو میں جانوں کچھ کو پی جاؤں کچھ بتاؤں میں
وہ مجھے یاد رکھے میں جب اس کو یاد کروں
قرآن پاک کی آیت ہے: فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ۔
وہ مجھے یاد رکھے میں جب اس کو یاد کروں
اب ایسی پیار کی باتیں ذرا سناؤں میں
یاد ہے مجھ کو فخر اس نے کیا تھا ہم پر اس لئے چھوڑ کے سب، اس کی طرف آؤں میں
دل کی یادوں کی دریچوں کو کھٹکھٹاؤں میں
جو میں جانوں کچھ کو پی جاؤں کچھ بتاؤں میں
یہ آدم علیہ السلام کی پیدائش کے واقعے کی طرف اشارہ ہے کہ جب آدم علیہ السلام کو اللہ نے پیدا فرمایا اور فرشتوں سے اس کے بارے میں کہا کہ میں خلیفہ بنانا چاہتا ہوں، تو اس پر انہوں نے کہا کہ اللہ ایسے... تو اللہ پاک نے فرمایا کہ میں جو جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ یہ فخر کیا اللہ پاک نے آدم علیہ السلام پر۔ تو اس فخر کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس کی مرضی کے خلاف نہ کریں۔ اس نے اتنا اعتماد ہمارے اوپر کیا ہے، تو ہم اس کے خلاف نہ کریں۔
یاد ہے مجھ کو فخر اس نے کیا تھا ہم پر اس لئے چھوڑ کے سب، اس کی طرف آؤں میں
میں کیا پیار کروں پیار تو کرتے ہیں وہ
میں تو گڑ بڑ کروں اس پر بھی نہ شرماؤں میں
دل کی یادوں کی دریچوں کو کھٹکھٹاؤں میں
وہ تو ظاہر ہے اس کا پیار بھی ظاہر باہر
کھول کے رکھ دیا سب کچھ، کیا چھپاؤں میں
دل کی یادوں کی دریچوں کو کھٹکھٹاؤں میں
مجھ سے جو پیار پہ دیکھا تو جل گیا دشمن
یہ وہی ہے آدم علیہ السلام کی طرف۔
مجھ سے جو پیار پہ دیکھا تو جل گیا دشمن
اب تو شبیرؔ اس کو اور بھی جلاؤں میں
دل کی یادوں کی دریچوں کو کھٹکھٹاؤں میں
اس وقت جلنا تکوینی اعتبار سے تھا۔ اب جلنا تشریعی اعتبار سے ہو کیونکہ ہم شریعت پر جب عمل کریں گے تو دشمن جلے گا۔ تو اب اختیار سے ہم کر لیں وہ تو اختیار میں نہیں تھا وہ تو اللہ پاک نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اپنی مرضی سے اور شیطان جل گیا۔ تو اب چونکہ وہ جل گیا ہے تو اب اس کو اور بھی جلاؤں۔
کیا سے کیا ہوگیا
کچھ کہتے کہتے رک میں گیا کچھ رکتے رکتے کہہ بھی دیا آے جب میرے دل میں وہ تو اس میں فنا میں ہو بھی گیا
محبوب کی بات محبوب سے ہو آشکارا نہ ہو یہ غیروں پہ
بے صبری سے کچھ کہہ جو دیا تو اس پہ یہ پیغام ملا
مطلب خیال رکھنا چاہیے۔
محبوب کی بات محبوب سے ہو آشکارا نہ ہو یہ غیروں پہ
بے صبری سے کچھ کہہ جو دیا تو اس پہ یہ پیغام ملا
وہ مجھ کو کرے ہے اشارا یہ میں دیکھتا رہوں بس اس کو ہی
جب دیکھا میں نے اس جانب تو روتے روتے ہنس پڑا
مطلب جب اپنی طرف میں نے مائل دیکھا تو بس سارا غم رفو چکر ہو گیا اور خوشی کی لہر آ گئی۔
ہے کس کو خبر وہ چاہے مجھے ہاں چاہے مجھے بے حد بے حد
یہ اس کی ادا معلوم ہوئی تو اس کی جانب میں لپکا
یہ انسان کی بات بتا رہا ہوں انسان کی بات یہی ہے پھر انسان کو یہ observation ہونی چاہیے جو میں عرض کر رہا ہوں۔
ہے کس کو خبر وہ چاہے مجھے ہاں چاہے مجھے بے حد بے حد
یہ اس کی ادا معلوم ہوئی تو اس کی جانب میں لپکا
اس نے کہا اب صبر کرو کہ وقت ملن اب دور نہیں
میں شرم کے مارے پگھل ہی گیا جو اس کا پیار ایسا دیکھا
ہر جانب میرے وہ ہی ہے تو وصل کی کیا اب بات کروں
جو غم بھی ملن کا ہے دیکھو وہ بھی تو ہے میٹھا میٹھا
وہ کیا تھی زباں شبیرؔ جس میں وہ دل کی کتاب میں لکھتا ہے
میں دل کی آنکھ سے پڑھنے لگا تو اس سے غزل یہ لکھنے لگا
کچھ کہتے کہتے رک میں گیا کچھ رکتے رکتے کہہ بھی دیا
آے جب میرے دل میں وہ تو اس میں فنا میں ہو بھی گیا
راز راز رہے
یہ ایک ہے رباعی، حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظ سے ہے۔
جو دوست کے راز نہیں رکھتے ہیں راز
کرتے وہ دوستی سے ہیں اعراض
کہا چشتی معین الدین نے یہ
قابل دوستی نہیں یہ انداز
کیا کہنا
دل کی دنیا کی ہر اک بات کا ہے کیا کہنا
اپنے محبوب کے تصور میں ہمیشہ رہنا
اس کی ہر پیار کی نظر پہ ہو قربان ہونا
اور اس کی یاد میں چپکے چپکے یہ آنسو بہنا
عشق آگ ہے
عشق آگ ہے۔
عشق اک آگ ہے جس دل میں جلے
دل میں معشوق ہو کوئی اور نہ رہے
اور اگر یوں نہیں تو عشق ہی نہیں
اس کو گو عشق کوئی کتنا کہے
جب تلک عشق کسی دل میں نہ ہو
عشق کے حال کا یقین نہ کرے
یادِ معشوق میں عاشق رہے مست
چپکے چپکے بہیں آنسو اس کے
ہر وقت لب پہ ہو ذکرِ معشوق
اور اس کی یاد میں ٹھنڈی آہیں بھرے
ایک ہی خوف دل پہ چھایا رہے
اس سے محبوب کبھی ناراض نہ رہے
نفس کی چاہتیں اس کے ہوں خلاف
تو وہ ان چاہتوں سے کیسے دبے
خوش قسمتی سے یہ خالق سے ہو گر
اس کو شبیرؔ جی پھر کیا نہ ملے
یعنی اگر محبت کا یہ جذبہ خالق کے ساتھ ہو جائے تو -سبحان اللّٰه- سب کچھ حاصل ہو گیا نا۔
دل اور نفس کا تقابل
دل ہو اچھا اور نفس پر زور ہو
ہر وقت خواہشوں کا پھر دور ہو
دل تو روئے گا اور تڑپے گا
نفس کی آرزو تو do more ہو
نفس کی مثال
نفس اگر گاڑی ہے دل اس کا سوار
کردے ذکر اللہ سے اس کو پر بہار
جہد سے اس نفس کو مغلوب کر
تاکہ طاعت کے لئے ہو یہ تیار
خمار آلود کیفیت
ان کی نظروں کے جب حصار میں ہوں
میں اک عجیب سے خمار میں ہوں
کبھی ہے امتحان کبھی منزل
کبھی صحرا کبھی گلزار میں ہوں
کیا بنا خوب ہے اب ذوقِ حیات
ان کے در پر لگی قطار میں ہوں
یہ محبت ہے یا عقیدت ہے
کہ اک عالم اضطرار میں ہوں
سوچتے سوچتے میں اس کا پیار
اپنے مذکور کے اذکار میں ہوں
آپ کے قدموں میں ہو دیدار نصیب
میں اسی دن کے انتظار میں ہوں
کھوٹے سکوں کو جمع کرکے شبیرؔ
فضل کا اس کے امیدوار میں ہوں
ان کی نظروں کے جب حصار میں ہوں
میں اک عجیب سے خمار میں ہوں
نظر اس پہ رکھ
بس تو ہر حال میں نظر اس پہ رکھ
دل کی آنکھوں سے دیکھ اس کی جھلک
کٹ کے ہر ایک سے بَن اس کا تو
لطف پھر اپنی زندگی کا چکھ
عبث جان دینا
یہ ایک اصولی بات ہے۔
تُو اگر اپنا دل اسے دے گا
یہ بہت زبردست شعر ہے۔
تُو اگر اپنا دل اسے دے گا
تیرے کھوٹے سکوں کو لے لے گا
اور مگر دل میں اگر غیر آۓ
تو پھر عبث تُو جان دے دے گا
مِٹوں اس کے لیے
مٹایا پیار سے مجھے یوں کہ مٹوں اس کے لیے
اور مٹتے مٹتے لٹ بتے پٹتے بنوں اس کے لیے
مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے پیار سے، میرے ساتھ محبت کی، ایسے حالات پیدا کیے کہ اب میرے پاس یہی راستہ ہے کہ میں اس کے لیے مٹوں یعنی اس کے لیے اپنے آپ کو فنا کروں اور پھر یہ فنا فنا ہوتے ہوتے سب کچھ لٹتے پٹتے میں اسی کا بن جاؤں۔
موم ہوں موم کی طرح تو پگھل جاؤں میں
پھر وہ جلائے تو میں کیوں نہ جلوں اس کے لیے
عشق آتش ہے لگے تو وہ بجھائے نہ بجھے
اسی آتش ہی میں میں کیوں نہ رہوں اس کے لیے
نظر کرم کی تھی اس کی جوپڑی مجھ پہ یوں
نور ہی نور ہوا نور ہی ہوں اس کے لیے
وفا یہی ہے کہ دیکھوں وہ ہے راضی کس پر
اور اس کو دیکھ کے سب کچھ میں کروں اس کے لیے
خون روتی ہیں یہ آنکھیں مری دیدار کے لیے آنکھیں ہیں اس کے لیے کیوں نہ رؤوں اس کے لیے
چھلک چھلک جائے ساغر مری نظروں سے مگر دل شبیرؔ چاہتا ہے اور بھروں اس کے لیے
دوسرے پہ نظر کیسی
ہم تو مٹنے کے لیے آئے ہیں مٹیں ہم جتنے مٹ سکیں ہم یہاں
اور ہر طرف سے اٹھا اپنی نظر پڑی تھی تیری نظر جہاں جہاں
صرف وہ ایک ہی اب آئے نظر دیکھ اس کی مثال کوئی نہیں
یہ نظر دوسرے پہ کیسے پڑے کوئی کمی ہے کیا سوچ وہاں
مطلب یہ ہے کہ ہم تو اس دنیا میں مٹنے کے لیے آئے ہیں لہذا اس پہ جتنا مٹ سکے ہمیں کرنا چاہیے۔ اور ہمیں ہر طرف سے جہاں جہاں ہماری نظر ٹھہر گئی تھی وہاں سے اٹھنی چاہیے اور صرف ایک اب ہمیں نظر آنا چاہیے کیونکہ اس کی کوئی مثال نہیں ہے، اس کی طرح تو کوئی ہے نہیں۔ وہی مقصود ہے۔ تو یہ نظر کسی اور پہ پھر کیسے پڑ سکتی ہے؟ کیا ادھر کمی ہے کوئی؟
ہم تو مٹنے کے لیے آئے ہیں مٹیں ہم جتنے مٹ سکیں ہم یہاں
اور ہر طرف سے اٹھا اپنی نظر پڑی تھی تیری نظر جہاں جہاں
صرف وہ ایک ہی اب آئے نظر دیکھ اس کی مثال کوئی نہیں
یہ نظر دوسرے پہ کیسے پڑے کوئی کمی ہے کیا سوچ وہاں
معرکہ حق و باطل بسیفِ عشق
عشق آتش ہے جلاتا ہے یہ
دل میں معشوق ہی لاتا ہے یہ
حق کا ہو جب ہو کاٹ باطل کی
ایسے باطل سے بچاتا ہے یہ
مطلب عشق اگر حق کا ہو تو پھر یہ باطل کو کاٹے۔ اس طریقے سے پھر یہ باطل سے بچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عشق حقیقی نصیب فرما دے۔