سلوک و احسان میں طلب، وصول اور مجاہدے کی حقیقت

انفاسِ عیسیٰ: حصہ 1، باب 1 (تعلیمات)، فصل 2 : روح سلوک (ملفوظ 1 تا 10)

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • مقصود صرف طلب (کوشش) ہے، وصول (نتیجہ) اللہ کے فضل پر موقوف ہے۔
    • انسان صرف اختیاری اعمال (نماز، روزہ، بدنگاہی سے بچنا) کا مکلف ہے، غیر اختیاری (کیفیات، انوارات) کا نہیں۔
      • مجاہدہ کی حقیقت: نفس کی مخالفت کرتے ہوئے اوامر کو بجا لانا اور نواہی سے بچنا۔
        • عبادات اور مباحات میں مجاہدہ (نیند، خوراک، اور مباح تفریح میں تقلیل)۔
          • مجاہدہ اختیاریہ اور مجاہدہ اضطراریہ (حالات و تکالیف پر صبر) میں فرق اور ان کے فوائد۔
            • انسان میں موجود صفاتِ رذیلہ (جیسے غصہ، شہوت) کا مادہ ختم نہیں ہوتا بلکہ ان کا استعمال اور کنٹرول درست سمت میں لایا جاتا ہے۔

              اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

              وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

              أَمَّا بَعْدُ

              أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

              بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

              آج جیسے کہ ہمارا معمول ہے، بزرگوں کے ملفوظات بیان کیے جا رہے ہیں۔

              پہلا ملفوظ ہے؛

              روحِ سلوک:

              مقصود طلب ہے وصول مقصود نہیں۔

              ارشاد: اہل طریق کے یہاں یہ مقرر ہے کہ طلب مقصود ہے وصول مقصود نہیں۔ شرح اس کی یہ ہے کہ مقصود کے حصول کا قلب میں تقاضہ نہ رکھے کہ یہ بھی حجاب ہے کیونکہ اس تقاضے سے تشویش ہوتی ہے اور تشویش برہم زن جمعیت و تفویض ہے اور جمعیت و تفویض ہی شرط وصول ہے اس کو خوب راسخ کرلیا جائے کہ روح سلوک ہے ﴿وَ ھُوَ مِنْ خَصَائِصِ الْمَوَاھِبِ الْاِمْدَادِیَۃِ قَلَّمَاتَنَبَّہَ لَہٗ شَیْخٌ مِنْ مَشَائِخِ الْوَقْتِ﴾۔


              حضرت نے ایک بہت ہی اہم بات یہاں پر فرمائی ہے جس پر بہت سارے سالکین پریشان ہوتے ہیں۔ سلوک میں دو چیزیں پیش آتی ہیں، ایک یہ کہ اختیاری چیز کونسی ہے؟ انسان کے اختیار میں کیا ہے؟ مثلاً میں نماز پڑھ سکتا ہوں، روزہ رکھ سکتا ہوں، زکوٰۃ دے سکتا ہوں، حج کر سکتا ہوں، معاملات اچھے کر سکتا ہوں، ذکر کر سکتا ہوں، تلاوت کر سکتا ہوں، یہ سارے کام اختیاری ہیں۔ اور اختیاری باتوں پر ہی فیصلہ ہوگا۔ جو انسان کے اختیار میں نہیں ہے، اس پر فیصلہ نہیں ہوگا۔ مثلاً اچھے خوابوں کا نظر آنا انسان کے اختیار میں نہیں ہے، ذکر میں مزے کا آنا یہ انسان کے اختیار میں نہیں ہے، رونا، انسان کے اختیار میں نہیں ہے یعنی رونا آ جانا۔ یہ ساری چیزیں غیر اختیاری ہیں، لہٰذا ان پر اجر و ثواب ہے اور نہ اس کے نہ ہونے پر کوئی نقصان ہے۔ کیونکہ اللہ جل شانہ نے اس کا مطالبہ ہی نہیں فرمایا۔ اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتے ہیں:

              لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا


              اللہ پاک کسی ایسی چیز کا انسان کو ذمہ دار نہیں بناتے جو وہ کر نہ سکتا ہو۔ تو جب یہ والی بات ہے، تو جو انسان کر نہیں سکتا اللہ پاک اس کا مطالبہ بھی نہیں فرماتے۔ لہٰذا اس کے نہ ہونے پر نقصان نہیں ہے۔ اور جو کر سکتا ہے، اس کے چھوڑنے پر نقصان ہے اگر وہ مطلوب ہو۔ اس میں دونوں طرح باتیں ہیں، وہ چیزیں جو کرنے کی ہیں ان کا نہ کرنا نقصان ہے، اور جو چیزیں چھوڑنے کی ہیں ان کا نہ چھوڑنا نقصان ہے۔ مثلاً بدنظری چھوڑنا، انسان کر سکتا ہے، تو اس کا چھوڑنا ضروری ہے، اور نہ چھوڑنا نقصان ہے۔ اور جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج یا معاملات یا دل کی صفائی، یہ انسان کر سکتا ہے تو اس کا نہ کرنا نقصان ہے۔

              تو اب یہ، یہاں پر جو حضرت نے بات فرمائی یہ اصل میں یہی بات ہے لیکن ذرا تھوڑا سا مختصر الفاظ میں بات فرمائی ہے۔ فرمایا ہے کہ طلب مقصود ہے، طلب میں انسان اختیاری اعمال کرتا ہے۔ یعنی جس کو بھی کسی چیز کی طلب ہے، مثلاً ایک شخص Medical College میں داخلہ لیتا ہے۔ اب Medical College میں داخلہ لینا، اگر نمبر اچھے ہوں، پھر وہاں پڑھائی کرنا، فیسیں جمع کرنا، Classes regularly attend کرنا، Exam دینا، یہ انسان کے اختیار میں ہے۔ تیاری کرنا، محنت کرنا، یہ انسان کے اختیار میں ہے، لیکن Pass ہونا اختیار میں نہیں ہے۔ پکی بات ہے Pass ہونا اختیار میں نہیں ہے۔عین Exam کے دن اگر کوئی بیمار ہو جائے تو کیا کر لے گا؟ کچھ کر سکتا ہے؟ کچھ نہیں کر سکتا۔ حتیٰ کہ یہ کہ Paper کے دوران آپ کے پاس Pen نہیں ہے، خراب ہو گیا اور آپ کے پاس دوسرا Pen نہیں ہے، تو ڈھونڈتے ڈھونڈتے آپ کے پندرہ بیس منٹ تو لگ جائیں گے، وہ تو آپ کا Time گیا نا۔ مقصد یہ ہے کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ تو جب یہ والی بات ہے، تو Pass ہونا اختیار میں نہیں ہے، لیکن محنت کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔ تو اس چیز کو سب لوگ سمجھتے ہیں لیکن ظاہر ہے جو اختیاری چیز ہے وہ انسان کرتا ہے۔ مثلاً دکان پہ بیٹھنا اختیار میں ہے، گاہک کا آنا اختیار میں نہیں ہے۔ اب انسان کیا کر سکتا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ گاہک نہیں آیا تو بس ٹھیک ہے، نہیں آئے گا آج۔ اسی طریقے سے بہت ساری باتیں ہیں جو ہم جانتے ہیں کہ جو ہمارے اختیار میں ہیں، ان کا کرنا تو ہے، لیکن جو ہمارے اختیار میں نہیں ہیں تو ہم چاہتے تو ہوں گے کہ ایسا ہو جائے، لیکن ضروری نہیں کہ ایسا ہو جائے دنیا کے کاموں میں۔

              اسی طریقے سے سلوک کے کام میں جو اختیاری چیزیں ہیں، اس میں طلب کا مطلب یہ ہے کہ ان اختیاری چیزوں کو کر لے۔ اس کے بعد اس پر نتیجہ مرتب ہو جائے، یہ اختیار میں نہیں ہے۔ اس کو "وصول" کہتے ہیں۔ یعنی اس پر نتیجے کا مرتب ہو جانا، یہ اختیار میں نہیں ہے۔ بلکہ میں اس سے بھی بڑی بات عرض کرتا ہوں۔ دیکھیں، پورا قرآن عمل کی دعوت سے بھرا ہوا ہے یا نہیں بھرا ہوا؟ پورے قرآن کو دیکھو تو یا کسی چیز کے کرنے کا حکم ہے یا کسی چیز کے چھوڑنے کا حکم ہے۔ پورا قرآن عمل کی دعوت سے بھرا ہوا ہے۔ حدیث شریف بھی ساری تقریباً عمل کی دعوت سے بھری ہوئی ہے۔ لیکن یہ بھی حدیث شریف ہے کہ انسان عمل پر جنت میں نہیں جائے گا، اللہ کے فضل پر جائے گا۔ اور اللہ کا فضل اختیار میں نہیں ہے۔ تو کیا سارے لوگ عمل چھوڑ دیں؟ پھر قرآن کس لیے اترا ہے؟ پھر حدیث شریف کس لیے آئی ہے؟ تو اس کا مطلب یہی ہوا کہ انسان صرف اور صرف طلب کا مکلف ہے، اس سے زیادہ کا نہیں۔ اور میں آپ کو ایک بات اور عرض کروں، بڑی اچھی بات عرض کروں۔ وہ یہ کہ اگر کوئی شریف آدمی ہو، اس کا کوئی نوکر ہو جائے، اور یہ شخص دل سے اپنی نوکری صحیح کرے، تو اگرچہ اس کا دل تو اس کے اختیار میں نہیں ہے نا، لیکن نتیجہ کیا ہوگا؟ وہ یہی ہوگا کہ وہ اچھی طرح پیش آئے گا، اس کے ساتھ اچھا معاملہ کرے گا، چونکہ اس کی شرافت مسلّمہ ہے۔ اسی طرح اللہ جل شانہ کا فضل تو مسلّمہ ہے۔ اللہ جل شانہ تو اپنا ہاتھ اوپر رکھتے ہیں۔ تو جب یہ والی بات ہے، تو پھر کیسے ہم توقع کر سکتے ہیں کہ ہم کام کریں گے اور اللہ پاک اپنا فضل نہیں فرمائیں گے؟ یہ ممکن نہیں ہے۔ لیکن قانون یہی ہے۔ قانون کو یہی ماننا پڑے گا، البتہ اللہ کا فضل ہو جاتا ہے۔


              حضرت تھانویؒ نے ایک شعر فرمایا ہے کسی کا شعر ہے، بڑے اچھے موقع پر، فرمایا:

              ان کے الطاف شہیدی تو ہیں مائل سب پر

              تجھ سے کیا بیر تھا اگر تو کسی قابل ہوتا


              مطلب تجھ سے کوئی دشمنی تو نہیں ہے۔ اللہ جل شانہ تو فرماتے ہیں: اللہ پاک مومنین کا دوست ہے۔ تو دوستوں کے ساتھ تو کوئی اس طرح نہیں کرتا۔ مقصد یہ ہے کہ ضرور ہم سے کوئی گڑبڑ ہو چکی ہوگی، ضرور ہم سے کوئی کمی ہو چکی ہوگی۔ ٹھیک ہے ہمیں نظر نہیں آ رہا، یہ الگ بات ہے، لیکن اگر غور کر لے تو نظر آ جائے گا۔ اگر غور کر لے تو نظر آ جائے گا، اس وجہ سے کہتے ہیں اپنے اوپر بدگمانی صحیح ہے۔ اپنے اوپر بدگمانی صحیح ہے، اور دوسرے کے اوپر نیک گمان صحیح ہے۔ تو کم از کم اللہ پر تو نیک گمان ہونا چاہیے نا۔ اس لیے کہتے ہیں کہ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، میں بندے کے اس گمان کے ساتھ ہوں جو میرا ساتھ رکھتا ہے۔ تو اگر اللہ کے ساتھ اچھے گمان ہیں تو اللہ پاک اس کے ساتھ اچھا معاملہ فرمائیں گے۔

              بہرحال بات لمبی ہو گئی، لیکن اس میں پتے کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی وہ رکھے کہ وصول مجھے ہو جائے، تو اس کا نقصان کیا ہوگا؟ یہ پھر اگر اس کو وصول میں دیر ہو رہی ہے اپنی وجہ سے، تو اس کو شیطان کہے گا دیکھو نا فلاں کے ساتھ یہ ہو گیا فلاں کے ساتھ یہ ہو گیا میرے ساتھ یہ نہیں ہوا، اللہ پاک سے بدگمان کرے گا۔ اس لیے کہتے ہیں تعجیل جو ہے یہ اس راستے کے مہلکات میں سے ہے، جلدی مچانا، یہ اس راستے کے مہلکات میں سے ہے۔ کہتے ہیں "نیکی کر دریا میں ڈال"۔ ہے نا بزرگوں کا ملفوظ ہے نا کہ نیکی کر دریا میں ڈال۔ تو کم از کم اللہ کے ساتھ تو یہ معاملہ ہونا چاہیے نا، کہ ہم اس کے ساتھ حساب نہ کریں ورنہ اگر ہمارے ساتھ وہ حساب کرے گا تو پھر کیا کرے گا؟ اللہ کے ساتھ ہم حساب نہ کریں، بلکہ ہم لوگ اللہ پر اچھا گمان کر کے نیک اعمال کرتے جائیں اور نتیجہ اس پر چھوڑتے جائیں۔ جس وقت اس نے فضل کا فیصلہ کر لیا ہوگا، اس وقت اپنے وقت پر ہو جائے گا۔ ہمیں اس بات کا کوئی ڈر یا خوف نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ بہت کریم ہے۔


              مجاہدے کی حقیقت

              مجاہدہ کس کو کہتے ہیں؟

              مجاہدے کی حقیقت یہ ہے کہ جو کام کرنے کا ہے اور اس میں نفس مزاحمت کر رہا ہے، تو اس مزاحمت کی پروا نہ کرتے ہوئے وہ کام کر لے۔ اور جو کام چھوڑنے کا ہے اور اسے چھوڑنے میں نفس مزاحمت کر رہا ہے تو اس کی مزاحمت کی پروا نہ کرتے ہوئے اس کام سے رہ جائے، اس کو چھوڑ دے۔ مثلاً، نماز پڑھنے کا ہے، فجر کی نماز کے لیے اٹھ رہا ہوں، بہت سخت Resistance ہے، بڑا مشکل ہے اٹھنا۔ اس صورت میں اس مشکل پر قابو پا کر میں اٹھ جاؤں، یہ مجاہدہ ہے۔ اور یہ مجاہدہ چند دن کا ہی ہوتا ہے، پھر اس کے بعد انسان کی عادت ہو جاتی ہے، پھر وہ مجاہدہ ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن ابتدا میں تو مجاہدہ ہوگا۔ حضرت خواجہ مجذوب رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر ایک شعر کہا ہے۔ فرمایا:

              کہا سمندر کے سفر کا شوق ہے، کہا کرو

              کہا طوفان کا ڈر ہے، کہا طوفان تو ہوگا

              کہا اونٹ پر سواری کا شوق ہے، کہا کرو

              کہا کوہان کا ڈر ہے، کہا کوہان تو ہوگا


              مطلب یہ ہے کہ مجاہدہ تو ہوگا، ابتدا میں ہوگا۔ اس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ لیکن بعد میں نہیں ہوگا۔ آپ دیکھ رہے ہوں گے کہ جو پہلے نمازی نہیں تھے، میرے خیال میں ہمیں ارد گرد ایسے بہت سارے لوگ مل جائیں گے جو پہلے نمازی نہیں تھے، ان کے لیے وہ ایک نماز پڑھنا بڑا مشکل تھا۔ اب اگر ان سے پوچھیں تو ایک نماز چھوڑنا بھی ان کے لیے مشکل ہوگا۔ بلکہ بعض لوگوں کو تو اللہ پاک نے تکبیرِ اولیٰ کی عادت ڈلوائی ہوتی ہے، وہ تکبیرِ اولیٰ نہیں چھوڑ سکتے، اگر تکبیرِ اولیٰ چھوٹ جائے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ کیا بات ہے؟ کیا وہ الگ انسان ہیں؟ کیا وہ اس دنیا میں نہیں ہیں؟ کیا ان کے بیوی بچے نہیں ہیں؟ کیا ان کے کاروبار نہیں ہیں؟ کیا ان کی ملازمتیں نہیں ہیں؟ کیا ان کے مزید مشاغل نہیں ہیں؟ ہیں، سب ہیں۔ لیکن یہ جو بات ہے ذرا ضرور سمجھنا چاہیے کہ ابتدا میں ان کو بھی تکلیف ہوتی ہوگی، ابتدا میں، لیکن بعد میں تکلیف آہستہ آہستہ کم ہوتے ہوتے بالکل ختم ہو گئی، اور اب اس کے ساتھ ایسا تعلق ہو گیا کہ اس کا رہ جانا مشکل ہے، اس کا وہ مجاہدہ ہے۔ مثال کے طور پر ایک پکا نمازی آدمی ہے۔ وہ کسی ایسی جگہ میں پھنس جائے جہاں اس کو نماز پڑھنے میں مشکل ہو رہی ہو، تو اس کے اوپر کیا گزرتی ہے؟ اس وقت اس کے لیے وہ حالت مشکل ہوتی ہے یا نہیں ہوتی؟


              مجھے ایک ساتھی نے اپنا واقعہ سنایا اس دفعہ، وہ ایک Multinational company میں ملازمت کرتے ہیں، وہ چلے سندھ میں اپنی Site پر گئے تھے۔ تو کہتے ہیں کہ وہاں جو Foreigners تھے وہ بھی ان کے ساتھ تھے۔ اب Foreigners کا Protocol ہوتا ہے اس علاقے میں بالخصوص جہاں بدامنی ہو، وہاں پر روکا نہیں جاتا، گاڑیوں کو مسلسل وہ جا رہے ہوتے ہیں Cover میں ۔ تو کہتے ہیں Cover میں جا رہے تھے، جو ہمارے جو Security والے لوگ تھے، انہوں نے ہمیں کہا کہ رکنا نہیں ہے۔ کہتے ہیں میں نے انہیں کہا کہ میرا وضو ہے، میں نے نماز پڑھنی ہے۔ تو وہ کہتے ہیں کہ : "نہیں جی یہ تو Possible نہیں ہے، یہ تو ہم لوگ رک نہیں سکتے"۔ تو خیر بہرحال یہ کہ وہ کہتے ہیں بس میرے اوپر یہ حالت تھی کہ بس وہ ایک ایک لمحہ بہت بھاری ہو رہا تھا، اور بڑا مشکل ہو رہا تھا کہ میں اب کیا کروں اور Time مسلسل، اور وہ نماز بھی مغرب کی۔ اب مغرب کی نماز میں Time بھی نسبتاً باقی نمازوں کے تھوڑا ہوتا ہے۔

              اب کہتے ہیں پندرہ بیس منٹ جب رہ گئے نا وقت میں، کہ مطلب بس ختم ہونا چاہتا ہے، کہتے ہیں میری حالت بہت کمزور ہو گئی، تو میں نے اللہ پاک سے دعا کی، کہ اے اللہ! جتنا میں کر سکتا تھا میں نے کیا، میرے بس میں نہیں ہے اب میری مدد فرما۔ کہتے ہیں یہ دعا اللہ تعالیٰ سے میں نے کی۔ کہتے ہیں ساتھ ہی جو Foreigner بیٹھے ہوئے تھے، وہ میری حالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس نے دیکھ لیا، کہتے ہیں میری زبان سے نکلا کہ

              "What type of emergency is this?"

              وہ فلاں جگہ پر رک گئے تھے آدھا گھنٹہ، اس میں کوئی مسئلہ نہیں تھا، اب نماز کے لیے دو منٹ کے لیے نہیں رک سکتے؟ کہتے ہیں میری زبان سے الفاظ ذرا بڑے عجیب انداز میں نکلے۔ کہتے ہیں اس نے نوٹ کر لیے۔ تو کہتے ہیں جیسے میں نے یہ دعا کی، تو اس نے کہا کہ میرے پاس ایک Idea آیا ہے، ذہن میں، اس انگریز نے کہا، میرے ذہن میں ایک Idea آیا ہے۔ کہتے ہیں میں ایک Bio break کر لیتا ہوں اور آپ اس دوران نماز پڑھ لیں۔

              کہتے ہیں اس نے ٹیلیفون کر لیا وہ جو Security والے کو، کہ میں Bio break کرنا چاہتا ہوں پانچ منٹ کے لیے، تو اس نے پھر تو کچھ نہیں کر سکتے۔ تو انہوں نے کہا چلو ٹھیک ہے، تو انہوں نے Break کر لی۔ اور کہتے ہیں مجھے، جلدی نماز پڑھو۔ کہتے ہیں کوئی اور جگہ نہیں تھی، سڑک پر ہی Coat ڈال دیا اور اس کے اوپر کھڑے ہو کر میں نے نماز پڑھی۔ یہ اس وقت اس کے لیے یہ مجاہدہ تھا۔ اس کے لیے یہ مجاہدہ تھا۔ تو ہر ایک کے لیے ایک جیسا مجاہدہ نہیں ہوتا۔


              تو فرماتے ہیں:


              ارشاد:

              مجاہدہ کی حقیقت یہ ہے کہ معاصی کو تو مطلقاً ترک کرے اور یہ نفس کی مخالفت واجب ہے اور مباحات میں تقلیلاً مخالفت کرے اور یہ مخالفت مستحب ہے مگر ایسا مستحب ہے کہ مخالفت واجبہ کا حصول کامل اس مخالفتِ مستحبہ پر موقوف ہے جیسے بہت سونا، بہت کھانا، بہت عمدہ کپڑے پہننا، بہت باتیں کرنا، لوگوں سے زیادہ ملنا ملانا، سو ان میں تقلیل کرے۔

              یہ مجاہدہ ہے۔

              اب ذرا میرے خیال میں حضرت کا انداز ہے، مختصر انداز میں سب کچھ بتا دیتے ہیں، لیکن اس کی تشریح ضروری ہو جاتی ہے۔ حضرت فرماتے ہیں کہ اس کی حقیقت یہ ہے کہ جو گناہ ہیں، ان کو تو بالکل چھوڑ دیا جائے۔ گناہ بالکل نہ کرے۔ اور یہ جو نفس کی مخالفت ہے گناہ نہ کرنے میں، یہ تو واجب ہے۔ اس کا تو کوئی اور حل ہے ہی نہیں، یہ تو کرنا پڑے گا۔ لیکن جو مباحات ہیں، مباح کس کو کہتے ہیں؟ مباح اس کو کہتے ہیں کہ جو نہ ثواب ہو اور نہ گناہ ہو۔ اس کو مباح کہتے ہیں۔ مثلاً میں بیٹھا ہوں، نہ میں ذکر کر رہا ہوں اور نہ میں کوئی زبان سے غلط الفاظ نکال رہا ہوں، تو یہ مباح ہے۔ تو فرمایا کہ مباحات کے اندر جو تقلیل ہے، مثلاً کوئی آدمی تفریح کر رہا ہے، تفریح کرنے سے مراد یہ ہے کہ کھیل رہا ہے، تو یہ مباح ہے۔ اس طریقے سے آدمی کھانا کھا رہا ہے اچھا، تو یہ مباح ہے۔ اس طریقے سے انسان آرام کر رہا ہے، تو یہ بھی مباح ہے۔ لیکن فرمایا کہ اس میں زیادہ انہماک نہ کرے، کیونکہ نفس انسان کے اوپر سوار ہو جائے گا۔ نفس کی جتنی بات مانتے جاؤ گے، اتنا یہ سر پر چڑھتا جائے گا۔ اور نفس کی جتنی مخالفت کرتے جاؤ گے، اتنی ہی یہ باتیں مانتا جائے گا۔ آسان سی بات ہے۔


              جب یہ والی بات ہے تو اب یہ جو نفس کی مخالفت ہے جو مباح کی کمی ہے، یہ فرض اور واجب نہیں ہے۔ لیکن آپ کا فرض و واجب اس پر موقوف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ نے یہ مخالفت اس کی نہیں کی، یہ تقلیل اس میں نہیں کی، یہ کمی اس میں نہیں کی، تو یہ آپ کے اوپر چڑھ بیٹھے گا، نتیجتاً آپ سے کسی وقت فرض بھی چھڑوا دے گا۔ آپ سے کسی وقت فرض بھی چھڑوا دے گا۔ اب اس فرض کو بچانے کے لیے آپ نے اس کی جس کو کہتے ہیں حفظِ ماتقدم کے طور پر باگیں کھینچنی ہیں بہت پہلے سے، تاکہ یہ بغاوت نہ کر سکے۔ یہ اصل میں مراد ہے۔

              تو یہ جو صوفیائے کرام جو مجاہدات کراتے ہیں نا مثلاً جو چلے لگواتے ہیں، یہ لوگ اس کے اوپر بڑا مذاق اڑاتے ہیں کہ یہ دیکھو رہبانیت ہے اور یہ ایسے ایسے ہے۔ وہ رہبانیت نہیں، رہبانیت تو اس کو کہتے ہیں جس پر ثواب سمجھا جائے۔ اس میں کوئی ثواب نہیں سمجھا جاتا، یہ صرف Training ہے۔ کاکول میں جیسے Training دی جاتی ہے آرمی والوں کو۔ تو کیا آرمی والے اس میں ثواب سمجھتے ہیں؟ ثواب تو نہیں سمجھتے، لیکن اس کے بغیر کیا وہ Training مکمل ہوتی ہے ان کی؟ اس کے بغیر کیا ان کو Commission دیتے ہیں؟ کمیشن دیتے ہی نہیں۔ وہ Commission کی Requirement ہے۔ اس لیے کہ ان کو اس قسم کی Toughness دینی ہوتی ہے، تاکہ ان کے اندر وہ چیزیں آ جائیں۔ اگر جنگ میں ان کو اس کی ضرورت پڑ جائے تو کم از کم اس سے گزر تو چکے ہوں، وہ اس چیز کو یعنی برداشت تو کر سکتے ہوں۔ جو آدمی بھوکا رہنا برداشت نہ کر سکے وہ جنگ کیا کرے گا؟ وہ کہتے ہیں: جنگ میں مٹھائی تو تقسیم نہیں ہوتی۔ وہ ظاہر ہے کہ وہاں پر تو بڑی Tough چیزیں ہوتی ہیں، کبھی کبھی ممکن ہے کھانا بھی نہ ملے، آپ کا محاصرہ ہو جائے Supply بند ہو جائے، کیا کریں گے آپ؟ اس طرح بہت ساری چیزیں ہو سکتی ہیں۔


              تو اسی طریقے سے آپ کو اگر نفس کی مخالفت شریعت کے کاموں میں کرنی ہے، تو نفس کی مخالفت کو آپ نے سکھانا ہے اپنے آپ کو۔ اس کی مثال میں ایسے دیتا ہوں کہ جیسے ایک کاغذ ہے، آپ اس Plain کاغذ کو موڑ دیں، تو پھر اس کے بعد اگر اس کو سیدھا رکھنا چاہیں گے تو سیدھا نہیں بیٹھے گا، وہ مڑا رہے گا۔ اس کے سیدھا رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو مخالف سمت میں موڑو، پھر دوبارہ اتنا ہی، جیسے پہلے دوسری سمت میں موڑا تھا۔ جب مخالف سمت میں اتنا موڑو گے، پھر رکھ لو تو پھر سیدھا ہو جائے گا۔ یہ جو مخالف سمت میں موڑنا ہے، یہ اصل میں اس ٹیڑھ کو نکالنے کے لیے ہے۔ اس مخالف سمت میں موڑنا کیا ہے؟ وہ اس ٹیڑھ کو نکالنے کے لیے ہے۔ ٹیڑھ نکل جائے، پھر اس کی ضرورت نہیں ہے۔

              اس لیے کہتے ہیں کہ جو مجاہدہ، مستحب مجاہدہ ہے وہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔ وہ subject to condition ہوتا ہے، subject to requirement ہوتا ہے۔ جتنی اس کی ضرورت ہے، اتنے پر کرنا ہے بس، اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس لیے جیسے کاکول والوں کو ایک دفعہ دو سال کروا دیا، تو پھر کبھی کبھی ان کو ریہرسل وغیرہ کراتے ہیں، لیکن مستقل تو اس طرح نہیں ہوتا نا۔ پھر اس کے بعد وہ Commission enjoy کرتے ہیں۔ تو اسی طریقے سے اگر کوئی شخص مجاہدہ جو مستحبہ مجاہدہ کر لے، اس کے بعد اگر ان کو عادت ہو جائے اعمال کی، تو سبحان اللہ ان اعمال کے اندر ہی ان کی ساری ترقی ہوتی رہتی ہے، پھر ان کو عادت ہو جاتی ہے ان کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، پھر ان کے لیے مجاہدہ ہی نہیں رہتا۔

              بلکہ آخر میں جس کو ہم کہتے ہیں "نفسِ مطمئنہ"،نفسِ مطمئنہ تو ان چیزوں کو خود چاہتا ہے۔ نفسِ مطمئنہ کی تو یہ خوراک ہو جاتی ہے۔ نفسِ مطمئنہ کی یہ خوراک ہو جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا أَرِحْنِي يَا بِلَالُ، مجھے اے بلال! اذان سے راحت دو۔

              اب دیکھ لیں جو اللہ والے ہیں وہ اذان سے کتنی فرحت پاتے ہیں، وہ ذکر سے کتنی فرحت پاتے ہیں، وہ تلاوت سے کتنی فرحت پاتے ہیں، وہ اچھے کاموں سے کتنی فرحت پاتے ہیں، اور برے کاموں سے انتہائی سخت تکلیف ان کو ہوتی ہے۔ یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ بعض بزرگوں کے سامنے کسی نے جھوٹ بولا اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے ان کو قے آ گئی۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے، ایسے ہوتے ہیں بعض حضرات۔ ان کی طبیعت اتنی سلیم ہو جاتی ہے فرشتوں کی طرح، فرشتے بھی تو اس سے تکلیف میں جاتے ہیں نا۔ تو فرشتے ان کے ساتھ اتنے زیادہ مختلط ہو جاتے ہیں کہ پھر وہ ان کی طبیعت فرشتوں جیسی ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً ان کے سامنے اگر جھوٹ بولا جائے، اگر کوئی اس قسم کی بات کی جائے، ان کو سخت تکلیف ہوتی ہے، بے شک وہ برداشت کر لیں لیکن تکلیف تو ان کو ہوتی ہے نا۔ تو یہ جو چیز ہے کہ اگر نفسِ مطمئنہ نصیب ہو جائے، پھر تو سبحان اللہ، پھر تو خیر کے کاموں پر ایسی دلجمعی نصیب ہو جاتی ہے کہ پھر ان خیر کے کاموں کا چھوڑنا مجاہدہ ہو جاتا ہے۔ بڑا مشکل ہوتا ہے۔



              مجاہدہ اختیاریہ و اضطراریہ کا فرق اور دونوں کی ضرورت:

              فرمایا، مجاہدہ اختیاریہ میں تو فعل کا غلبہ ہے، اس لیے اس میں انوار زیادہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ انوار کا ترتب عمل پر ہوتا ہے، اور مجاہدہ اضطراریہ میں فعل کم ہوتا ہے، اس میں نورانیت کم ہوتی ہے۔ لیکن انفعال کا غلبہ ہوتا ہے، اس سے قابلیت میں قوت بڑھتی ہے۔ اور اس انفعال و قابلیت کی خود اعمالِ اختیاریہ کے راسخ ہونے کے لیے سخت ضرورت ہے، اسی لیے بزرگوں نے ایسے مجاہدات بہت زیادہ کرائے ہیں۔


              اصل میں یہاں پر بھی کچھ اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں۔

              مجاہدہ اختیاریہ اور مجاہدہ اضطراریہ۔ مجاہدہ اختیاریہ؛ یہ ہے جیسے میں نفل پڑھ رہا ہوں۔ تو نفل پڑھنا اختیاری مجاہدہ ہے۔ میں روزے رکھ رہا ہوں، یہ بھی اختیاری مجاہدہ ہے۔ میں کوئی ایسا کام جو دین کا کام ہے پہلے میں نے کبھی نہیں کیا اور بڑی دیر تک کرتا ہوں، تو ظاہر ہے مجاہدہ اختیاریہ ہوگا۔


              فرمایا کہ چونکہ اس میں فعل ہوتا ہے، یعنی ایک کام ہو رہا ہوتا ہے، اس وجہ سے اس میں نورانیت زیادہ ہوتی ہے، انوارات آتے ہیں۔ نماز میں بھی انوارات ہیں، اگر لوگوں کے دل بن جائیں، اس طریقے سے روزے میں بھی انوارات ہیں، اور ذکر میں بھی انوارات ہیں، اپنے اپنے انوارات ہوتے ہیں۔ وہ انسان محسوس کرتا ہے اگر کوئی اس کے ساتھ، مطلب ظاہر ہے وہ جو چیزیں ہیں سمجھنے کی ان کو حاصل ہو جائیں۔

              مجاہدہ اضطراری؛ ایسے ہوتی ہے کہ جیسے کسی کو ٹف ٹائم دے دیا جائے۔ مثلاً کسی ایسے سفر پر بھیج دیا جائے جس میں اس کو بڑی تکلیف ہو، مشکل ہو، یہ مجاہدہ اضطراری ہے۔ بیماری آ جائے، یہ مجاہدہ اضطراری ہے۔ یا قید ہو جائے، یہ مجاہدہ اضطراری ہے۔

              مطلب ایسی ایسی چیزیں جو انسان کی طبیعت کے خلاف ہیں، لیکن حالات آ جائیں اس کے مطابق۔ ایسی صورت میں انسان کافی پریشان رہتا ہے۔

              اس میں انوارات نہیں ہوتے، لیکن اس میں، سبحان اللہ، ایسی تربیت ہو جاتی ہے کہ یہ اعمال کے لیے ایک Base بن جاتا ہے۔ اس میں انفعال بڑھتا ہے، انفعال سے مراد یہ تأثر، چیزوں سے تاثر لینا، یہ بڑھ جاتا ہے۔ نتیجتاً انسان اچھے کاموں کے کرنے کے قابل ہو جاتا ہے، اور برے کاموں سے بچنے کی ہمت ہو جاتی ہے۔ یہ مطلب حاصل ہو جاتا ہے۔


              لیکن چونکہ اس میں انوارات نہیں ہوتے، تو انسان اپنے آپ کو کچھ سمجھتا نہیں ہے۔ تو دونوں فائدے ہو گئے۔ کیونکہ انوارات سے بعض دفعہ لوگ اپنے آپ کو بزرگ سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ ایک نقصان کی بات ہے۔ جو اپنے آپ کو بزرگ سمجھتا ہے، وہ نقصان کی بات ہے۔ میں اکثر ایک بات عرض کرتا ہوں میں نے کہا دیکھو خدا کے بندو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو دیکھو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے سامنے باقی اولیاء اللہ کی کوئی اتنی بڑی حیثیت تو نہیں ہے۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ تو بہت اونچے مقام پر ہیں۔ تو میں نے کہا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی یہ حالت تھی کہ فرماتے ہیں کہ کاش میں کوئی تنکا ہوتا، جس کو کوئی جانور کھا لیتا۔ کاش مجھے میری ماں نے جنا ہی نہ ہوتا، اور دیکھو یہ جانور آرام سے سو رہا ہے، اس کے ساتھ کوئی حساب نہیں، میرے ساتھ تو حساب ہوگا۔ یہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، جس کو "افضل البشر بعد الانبیاء" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے۔ اور دوسرے عمر رضی اللہ عنہ، وہ اپنے اوپر منافق ہونے کا گمان کر رہے ہیں۔


              حالانکہ دیکھو نا، ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صراحتاً، صریحی ارشادات ہیں، کہ عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر حق بولتا ہے، اور جس راستے سے عمر رضی اللہ عنہ جاتا ہے، اس راستے سے شیطان نہیں جا سکتا۔ عمر رضی اللہ عنہ فتنوں کا قفل ہے۔ یہ ساری باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھیں، اور ان کو پتہ تھا۔ لیکن ان کی یہ حالت اتنی شدید تھی کہ وہ ساری چیزیں بھول جاتی تھیں۔ وہ باتیں ان کو یاد نہیں رہتی تھیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ جو اپنے آپ کو بزرگ سمجھتے ہیں، تو اس میں بزرگی نہیں۔ اگر بزرگی بزرگی سے آتی تو پھر ان میں تو بزرگی پہلے آنی چاہیے تھی۔ جب ان میں بزرگی نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے بزرگی بزرگی سے نہیں آتی بلکہ بزرگی کچھ اور چیزوں سے آتی ہے۔


              تو جب یہ والی بات سمجھ میں آ گئی، تو اس میں جو یہ لوگ ہوتے ہیں جو اضطراری مجاہدہ کر لیتے ہیں، ان کو اپنی بزرگی نظر نہیں آتی۔ بلکہ وہ اپنے آپ کو ہیچ سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسے سمجھتے ہیں کہ ہم تو کچھ بھی نہیں۔ اب یقین جانیں ہمارے تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ ان کے اوپر فالج کا حملہ ہوا تھا۔ اور فالج کی حالت میں انہوں نے تقریباً 30، 40 سال گزار دیے، بڑی مشکل چیز ہے۔ لیکن اس سلسلے میں سارے کام کرتے تھے۔ اور ایسی حالت تھی کہ ہم حضرت کے ساتھ جب بات کرتے تھے تو حضرت کے اوپر اپنا جو کچھ نہ ہونا اتنا زیادہ کھلا ہوا تھا کہ ہم چاہے کچھ بھی کہتے نا، حضرت اس میں سے کوئی بات ایسے نکال لیتے، دیکھو نا مجھ میں تو یہ مسئلہ ہے، یہ آپ لوگ ویسے ہی بول رہے ہیں، آپ ویسے کہہ رہے ہیں۔ ایک دفعہ میں نے ایک بات کی حضرت سے۔ میں نے کہا حضرت آپ لوگوں سے سنا ہے کہ جو کہتے ہیں کہ میں کچھ بھی نہیں، تو اس کے پاس تو کچھ ہوتا ہے۔ اور جو کہتا ہے میں کچھ ہوں اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا۔ تو آپ تو سمجھتے ہیں نا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ اب میں نے جب یہ بات کی تو ہنس پڑے۔ کہتے ہیں آپ نے تو میرے ساتھ وہ حرکت کی جو علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ قومِ زط والوں نے کی تھی۔


              کہتے ہیں قومِ زط والے آئے اور علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تو خدا ہے۔ تو علی رضی اللہ عنہ کو بہت سخت غصہ آیا۔ اور انہوں نے ان کے لیے گڑھے بنوائے اور اس میں آگ جلائی اور فرمایا ان کو اس میں ڈال دو کیونکہ مجھے خدا کہتے ہیں۔ جب ان کو ڈالا جانے لگا تو انہوں نے کہا اب تو ہمیں یقین ہو گیا کہ آپ خدا ہیں، کیونکہ آگ کی سزا اللہ کے علاوہ کوئی نہیں دیتا۔ تو کہتے ہیں میں تمہیں جس چیز سے منع کرتا ہوں، تم وہی میرے لیے دلیل بناتے ہو؟ اب ایسے اللہ پاک نے!


              ایک دفعہ کسی کو کہا کہ ہاں میں نے آپ کو سب کچھ دے دیا۔ یہ بات ذرا زبان سے جب نکلی تو فوراً احساس ہو گیا کہ میں نے کیا کہا، یہ تو مناسب بات میں نے نہیں کی، تو فوراً اپنی جیب کو اس طرح الٹا کر دیا، باہر نکال دیا نا اس کا اندر والا حصہ، تو خالی تھی، کہتے ہیں خالی جیب تو ہر ایک کو دیا جا سکتا ہے نا۔ اگر کوئی کسی کے پاس کچھ ہو نہیں، تو وہ کہہ سکتا ہے نا میں نے سب کچھ دے دیا، کیونکہ ظاہر ہے اس کے پاس کچھ ہے ہی نہیں تو سب کچھ دے گا تو کیا دے گا؟ مطلب یہ ہے کہ ان حضرات کے اوپر اپنا نہ ہونا اتنا زیادہ کھلا ہوا تھا۔


              اس طرح مولانا اشرف علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔ ان کی بھی حالت یہ تھی کہ بیماریاں ان کو بہت زیادہ تھیں۔ تو حضرت کے پاس لوگ آ جاتے، اور لوگ آ کے وہ کبھی کہتے حضرت آپ کو فلاں مقام مل گیا، آپ کو فلاں مقام مل گیا، آپ کو فلاں، اور وہ بزرگ ہوتے تھے، عام لوگ نہیں ہوتے تھے۔ تو حضرت ان کو تو کچھ نہیں کہتے تھے، لیکن جب وہ چلے جاتے تھے تو فرماتے ایسے رہے یا کہ ویسے رہے، وہاں دیکھنا ہے کہ کیسے رہے۔ یہ کیا چیز ہے؟ مطلب لوگ اگر آپ کو بزرگ کہہ دیں تو کیا فرق پڑتا ہے؟ اور تم اس سے آپ بزرگ تھوڑے بن جاتے ہو۔ اگر اللہ پاک کے ہاں ہوں گے تو ہوں گے نا۔ اور اس کا پتہ تو صرف اللہ کو ہے، تمہیں تو پتہ نہیں ہے۔ تو تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ فلاں ہے، فلاں ہے، فلاں ہے؟ اگر یہ ساری باتیں نہ ہوں، تو پھر کون تمہیں بچائے گا؟ ہاں یہ بات ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان کو اپنے اوپر۔۔۔تو یہ جو مجاہدہ اضطراریہ ہے، اس میں انسان اپنے آپ کو کچھ بھی نہیں سمجھتا، اور یہی بہت بڑی بات ہے۔


              مجاہدہ اضطراریہ کا نفع۔

              فرمایا، مجاہدہ اضطراریہ سے عمل میں قلت بھی ہو جائے، اور محض فرائض و واجبات ہی پر اکتفا ہو جائے، تب بھی مجاہدہ کاملہ کا ثواب ملتا ہے۔

              کیوں؟ کیونکہ حدیث شریف ہے کہ اگر سفر کی وجہ سے اور بیماری کی وجہ سے اگر کسی کے کچھ نفلی اعمال رہ جائیں، تو ان کو اتنا ہی ثواب ملتا ہے جتنا کہ گھر میں اتنے کرنے پر ہوتا ہے، بیمار جب نہیں تھا، اس کے کرنے پر ملتا تھا۔ تو ان کو تو ثواب مل رہا ہے نا، لہٰذا وہ تو ماشاءاللہ پا رہے ہیں۔

              تو اس وجہ سے مجاہدہ اضطراریہ میں خیر ہی خیر ہے۔


              فرمایا، مجاہدے کی دو قسمیں ہیں۔ ایک مجاہدہ حقیقیہ، یعنی ارتکابِ امر اور اجتناب عن المعاصی، اور ایک مجاہدہ حکمیہ، یعنی مباحات کو ترک کرنا جو معاصی کی طرف مُفضی ہوں۔

              مطلب یہ ہے کہ مجاہدے کے اندر دو قسمیں ہیں۔ ایک تو اصل مجاہدہ ہے، مثلاً اللہ پاک نے آپ کو بعض امور کا مکلف کر دیا، یعنی نماز پڑھیں گے، روزہ رکھیں گے، زکوٰۃ دیں گے، حج کریں گے، معاملات کو صاف رکھیں گے، معاشرت صحیح رکھیں گے، اخلاق درست رکھیں گے، اس کے ہم مکلف ہیں۔ اب اس میں اگر مجھے کوئی رکاوٹ آ رہی ہے، مثلاً میں جھوٹ نہیں بولتا، اور میں جھوٹ نہ بولوں تو اس سے مجھے کچھ نقصان ہے، دفتر میں یا کسی اور جگہ، مجاہدہ ہے یا نہیں ہے؟ مجاہدہ ہے۔ اب اس وقت جھوٹ سے اپنے آپ کو بچانا مجاہدہ ہے۔ تو ایسی صورت میں اس کا اجر یقیناً بہت بڑا اجر ملے گا۔


              ہاں، اسی طریقے سے یہ رسومات جو ہیں۔ یہ رسومات بہت زیادہ مطلب آ گئی ہیں نا ہم میں۔ اب ان رسومات میں جب کوئی خلاف کرتا ہے، تو پورا معاشرہ اس کے خلاف ہو جاتا ہے۔ بلکہ یہاں تک کہتے ہیں، تو بڑا بزرگ آ گیا؟ تجھے کیا پتا ہے؟ فلاں جو اس طرح کرتا ہے، فلاں جو اس طرح کرتا ہے، فلاں جو اس طرح کرتا ہے۔ وہ بیچارہ سر نیچے کیے، سارے بڑے ہوتے ہیں، اب وہ کس کس کو جواب دے؟ ہاں سب کی باتیں سہتے ہیں، صرف اللہ کے لیے برداشت کرتے ہیں۔ تو اس پر اس کو مسلسل مجاہدے کا ثواب مل رہا ہوتا ہے نا۔ تو اس طریقے سے یہ جو مجاہدات ہیں، یہ حقیقی مجاہدات ہیں۔ یعنی اس میں اگر انسان کو Tough time مل جائے، تو سبحان اللہ، وہ واقعتاً ایک اس پر اجر مل رہا ہوتا ہے۔


              اور دوسرا مجاہدہ حکمیہ ہے۔ مجاہدہ حکمیہ سے مراد یہ ہے کہ آپ کھانا کم کھائیں، سونا کم کریں، باتیں کم کریں یا لوگوں سے کم ملیں جلیں، تاکہ کہیں ان وجوہات کی وجہ سے آپ گناہوں کی طرف نہ چلیں۔ کیونکہ یہ جو پیٹ بھرا ہوتا ہے نا کسی کا، یہ گناہوں کی ایک مشین بن جاتا ہے۔ ہے یا نہیں ہے؟ اس طرح ہوتا ہے۔ اس طرح بہت زیادہ آرام کرنے والے، یہ بھی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مطلب اس میں نفس موٹا ہو جاتا ہے نا، اور نفس اس کے اوپر سوار ہو جاتا ہے، پھر اس سے گناہ کرواتا ہے۔ تو یہ جو چیزیں ہوتی ہیں یہ اصل میں گناہوں کی طرف جا سکتا ہے آدمی، تو اس کو روکنے کے لیے جو کچھ کیا جاتا ہے وہ صرف ان چیزوں کو روکنے کے لیے کیا جاتا ہے۔


              فرمایا، طَرِيقُ الْوُصُولِ إِلَى اللَّهِ بِعَدَدِ أَنْفَاسِ الْخَلَائِقِ۔ فرمایا طَرِيقُ الْوُصُولِ إِلَى اللَّهِ بِعَدَدِ أَنْفَاسِ الْخَلَائِقِ، جس طرح وصول کی ایک صورت یہ ہے کہ حرم میں نماز پڑھو، یہ بھی ایک صورت ہے، کہ کسی عذر سے گھر میں نماز پڑھو اور حرم کو ترستے رہو۔ اللہ پاک نے ہر شخص کو اپنے تک پہنچنے کے لیے اپنا اپنا راستہ دیا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے۔ بعض لوگوں کے لیے سبحان اللہ حرم کے اندر نماز پڑھنے پر ان کو اجر مل رہا ہوتا ہے، اور بعض لوگوں کا ویزا نہیں لگتا۔ نہیں لگ جاتا، ظاہر ہے وہ انسان کے بس میں تو نہیں ہے نا۔ تو اب وہ جو حج کا دن ہوتا ہے یا جو عمرے کے لیے لوگ گئے ہوتے ہیں، وہ بیچارے بڑے پریشان اور ہاں، دل اداس، یہ جو دل کی اداسی ہے اس پر اللہ پاک ان کو اجر دے رہے ہیں۔


              ایک دفعہ ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ، جب فوت ہو گئے، ان کو کسی نے خواب میں دیکھا، یہ بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں۔ کسی نے ان سے پوچھا حضرت آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟ فرمایا اللہ پاک نے مجھے بہت نوازا، بہت دیا، لیکن میرا پڑوسی مجھ سے بھی آگے چلا گیا۔ میں نے کہا حضرت آپ کے پڑوسی نے کیا کیا؟ فرمایا میں نے جب معلوم کیا تو پتہ یہ چلا کہ وہ عیال دار تھا، اور وہ کہتا ہے کہ اگر میں عیال دار نہ ہوتا، میرے بال بچے زیادہ نہ ہوتے، تو میں ابراہیم بن ادہم کی طرح عبادت کرتا۔ اب وہ اس کے پالنے میں مسلسل مشقت میں رہتا تھا، کبھی کیا کرتا، کبھی کیا کرتا، کبھی کیا کرتا۔ تو اس وجہ سے وہ مجھ سے آگے نکل، نکل گیا۔ اب دیکھو! ابراہیم بن ادہمؒ نے بادشاہت چھوڑی تھی، بادشاہت! اس سے آگے وہ شخص چلا گیا۔ تو بات کیا ہے؟ ہمارے صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک کتاب لکھی ہے چھوٹی سی کتاب ہے، ریڑھے والے کی نماز۔ ریڑھے والے کی نماز۔ اس میں حضرت نے یہ بات فرمائی ہے کہ ایک Retired آدمی ہے وہ خشوع و خضوع کے ساتھ مسجد میں نماز پڑھ رہا ہے۔ اور دوسرا شخص ہے اس کے پاس ریڑھا ہے، اب نماز کا وقت ہو گیا اس نے ریڑھا مسجد کے قریب چھوڑ دیا، اور فرض نماز پڑھ رہا ہے اس کے دل میں مسلسل یہ ہے کہ بچے کوئی چیزیں وہ نہ کریں، ہٹا نہ لے، اور کوئی ریڑھا نہ لے جائے، کوئی یہ نہ ہو جائے، کوئی یہ نہ ہو جائے، مسلسل اس کے اندر وہ، اور وہ نماز اس حالت میں پڑھ لیتا ہے۔ فرمایا اس ریڑھے والے کی نماز کے پیچھے، اس Retired آدمی کی خشوع خضوع والی نمازیں نہیں پہنچ سکتیں۔ اس کی نماز نہیں پہنچ سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ تو بہت پرامن حالت میں ہے، اس کو کیا؟ اس کے اوپر تو کوئی ٹینشن ہی نہیں ہے۔ یہ بیچارہ تو اس کی تو ساری مزدوری اسی میں ہے۔ اس کے پاس اور کچھ ہے بھی نہیں، اب یہ ریڑھا اگر کوئی لے گیا تو اس کے پاس کیا ہوگا؟ لیکن وہ ماشاءاللہ ہمت کرتا ہے اور آتا ہے، اور اس حالت میں اس Tension میں نماز پڑھتا ہے، یہ معمولی معمولی بات نہیں ہے۔ تو اس کو اللہ تعالیٰ اس پر بہت نوازتے ہیں۔


              ہمارے مفتی، مفتی مختار الدین شاہ صاحب دامت برکاتہم، فرماتے ہیں کہ ایک مزدور ہے، مزدوری کرتا ہے بازار میں۔ کہتے ہیں وہ اتنا، یعنی جس کو کہتے ہیں نا یعنی وہ اللہ پاک کا مقبول انسان ہے، کہ جب وہ ہمارے ذکر کی مجلس میں آ جاتا ہے، تو میں نے اگر اس کو نہ بھی دیکھا ہو تو مجھے پتہ چل جاتا ہے، کیونکہ ذکر میں حالت الگ ہوتی ہے۔ پھر جب میں دیکھتا ہوں تو وہ موجود ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں اچھا، یہ بھی ہے۔ کیوں؟ وجہ یہی، ان کے ساتھ یہی حالت ہے، بیچارہ مزدور ہے، کچھ نہیں ہے، لیکن اس مزدوری میں ماشاءاللہ وہ لگا ہوا ہے، اپنا دین کا کام بھی کر رہا ہے، اپنا ذکر اذکار بھی کر رہا ہے، تو ان کی بات تو اور ہے نا۔ ہاں، تو یہی اصل میں بات یہ ہے کہ اگر انسان ان چیزوں کو دیکھے نا، تو اللہ پاک کے ہاں بڑے راستے ہیں، دینے کے۔


              اثرِ تصوف۔ کیا کہیں گے؟ Extract۔ اچھا، ہاں ٹھیک، اچھا۔

              اثرِ تصوف: اختیاری امور میں کوتاہی کا علاج بجز ہمت اور استعمالِ اختیار کے کچھ نہیں۔ اس پر مدار ہے تمام اصلاحات کا، اور یہی ہے اصل علاج تمام کوتاہیوں کا۔ سارے افعالِ شرعیہ اختیاری ہیں ورنہ نصوص کی تکذیب لازم آئے۔ پس اختیار کا استعمال کرے گا تو کامیابی لازم ہے۔ البتہ دشواری اور کلفت اول اول ضرور ہوگی، لیکن اس کا علاج بھی یہی ہے کہ باوجود کلفت کے ہمت سے اور اختیار سے برابر بتکلف اور بجبر کام لیتا رہے۔ رفتہ رفتہ کلفت مبدل بہ سہولت ہو جائے گی۔ سارے مجاہدے بس اسی کے لیے کیے جاتے ہیں کہ اختیارِ اوامر اور اجتنابِ نواہی میں سہولت پیدا ہو جائے۔ اور اول اول تو ہر کام مشکل ہوتا ہے مگر کرتے کرتے مشق ہو جاتی ہے۔ پھر نہایت سہولت کے ساتھ ہونے لگتا ہے۔ جیسے حفظ کا سبق شروع میں دشوار ہوتا ہے مگر رٹتے رٹتے یاد ہو جاتا ہے۔ اگر شروع کی کلفت اور تعب کو دیکھ کر ہمت ہار دی، تو پھر کوئی صورت ہی کامیابی کی نہیں ہے۔ ۔ مقصد یہ ہوا کہ کرنا تو ہے کام۔ کرنا تو ہے کام! مشکل اگر اس میں ہو جائے، تو کرنا نہیں چھوڑنا، اس کام کو کیا جائے۔ اس کام کو کرتے کرتے آرام مل جائے گا، یہ مجاہدہ کم ہو جائے گا، مشقت کم ہو جائے گی اور وہ کام کرنا ممکن ہو جائے گا۔


              تو طریقہ یہ دنیا کے کاموں میں بھی ہے، یہ صرف دین کے کاموں میں نہیں ہے، دنیا کے کاموں میں بھی یہی ہے۔ اگر کوئی کام مشکل ہو جائے، تو اس کو اگر کوئی چھوڑ دے، ہمت ہار دے، تو اس کو کیا؟ ظاہر مطلب یہ ہے کہ وہ ناکام ہوتا رہے گا۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں وہ کام شروع کرتے ہیں، پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر کام شروع کرتے ہیں کہیں اور، پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر کہیں اور کام شروع کر لیتے ہیں۔ تو وہ کیا کہتے ہیں؟ "سو پیاز بھی کھائے اور سو جوتے بھی"۔ ہاں، مطلب یہ ہے کہ بار بار وہ مسئلہ اس کو ہوتا رہتا ہے کیونکہ ظاہر ہے وہ استقامت نہیں ہوتی۔


              تو استقامت ضروری ہے۔ اس وجہ سے استقامت کو حاصل کرنا... قرآن پاک میں بھی اس کے بارے میں فرماتے ہیں: *"إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا"* بے شک وہ لوگ جنہوں نے کہا رب ہمارا اللہ ہے، پھر اس پر استقامت اختیار کی۔ *"تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا"* فرشتے موت کے وقت ان پر حاضر ہوں گے اور کہیں گے غم نہ کرو، خوف نہ کرو، اور پھر ان کو بشارت دیتے ہیں کہ تمہارے لیے ماشاءاللہ جنت تیار کی گئی ہے، اس میں سب کچھ ہوگا اور ہم تمہارے ساتھ دنیا میں بھی تھے اب تمہارے ساتھ جنت میں بھی جائیں گے، فکر نہ کرو۔ اور تمہیں جنت میں ہر وہ چیز ملے گی جو تمہارا جی چاہے گا یا تم منہ سے مانگو گے۔


              تو یہ کس بات پر ہے؟ صرف دو باتوں پر ہے: *"قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ"* کہا رب ہمارا اللہ ہے، *"ثُمَّ اسْتَقَامُوا"* پھر استقامت اختیار کی۔ بس! تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم نے اللہ کو رب مان لیا تو پھر اس کے حکم پر عمل کرنے کی ٹھان لیں، جس کو استقامت کہتے ہیں۔ کچھ بھی ہو جائے، عمل یہی کرنا ہے۔ کوئی مانے نہ مانے، محنت تو ہم نے کرنی ہے۔ یہ جو ہے نا، استقامت ہے۔ تو اگر یہ استقامت نصیب ہو جائے تو سبحان اللہ! کام بھی آسان ہو جائے گا بعد میں۔


              **مسئلہ اختیار:**

              فرمایا کہ مسئلہ اختیار اس قدر ظاہر ہے کہ ہر شخص اپنے اندر صفتِ اختیار کو وجداناً اور طبعاً محسوس کرتا ہے۔ چنانچہ جب وہ کوئی ناشائستہ حرکت کرتا ہے تو خجلت (شرمندگی) ہوتی ہے۔ اگر وہ اپنے آپ کو مجبور سمجھتا تو خجلت کیوں ہوتی؟ انسان تو انسان، جانور تک کو اس کے اختیار کا ادراک ہوتا ہے۔ دیکھیے اگر کسی کتے کو لکڑی ماری جائے تو وہ مارنے والے پر حملہ کرتا ہے، لکڑی پر نہیں۔ اس کو بھی اس کا پتہ ہے کہ کون مختار ہے اور کون مجبور۔


              حضرت مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ نے نہایت سادہ اور سہل عنوان سے اس مسئلہ جبر و اختیار کو بیان فرمایا ہے:

              *زاریِ ما شد دلیلِ اضطرار*

              *خجلتِ ما شد دلیلِ اختیار*

              فرمایا کہ جب میں اللہ پاک سے رو رو کر مانگ رہا ہوں کوئی چیز، تو یہ اضطرار کی دلیل ہے، کہ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے، کسی اور کے اختیار میں ہے۔ اور جب میں کوئی غلط کام کر لیتا ہوں اور مجھے ندامت ہو جائے، تو یہ اختیار کی دلیل ہے، کیونکہ میں اپنے آپ کو مختار سمجھ رہا ہوں نا، تبھی میں اس طرح کر رہا ہوں۔


              فرمایا غرض نہ خالص جبر ہے، نہ خالص اختیار ہے۔ اختیار خالص نہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ وہ ماتحتِ اختیارِ حق کے ہے، مستقل اختیار نہیں ہے۔ غرض یہ کہ سالک جب تک صفتِ اختیار کو استعمال نہ کرے، اصلاح ممکن نہیں ہو گی۔ مثلاً کسی میں بخل ہے، تو نرے ذکر و شغل یا شیخ کی دعا و توجہ سے یہ رذیلہ ہرگز زائل نہیں ہو گا، بلکہ نفس کی مقاومت ہی سے زائل ہو گا۔ گو ذکر و شغل وغیرہ معین ضرور ہو جائیں گے، مگر کافی ہرگز نہیں ہو سکتے۔ اس طریقے میں تو کام ہی سے کام چلتا ہے، نری تمناؤں یا نری دعاؤں سے کچھ نہیں ہوتا۔


              میں اب ایک بات بتاتا ہوں۔ سبحان اللہ! ایک شخص کتابت سیکھنا چاہتا ہے، اچھی کتابت، خطاطی سیکھنا چاہتا ہے۔ اب کیا وہ خود خطاطی سیکھ سکتا ہے بیٹھے بیٹھے؟ ہاں؟ اس کو کسی ماہر کی ضرورت ہے جو اس کو سمجھائے گا، بتائے گا۔ اب وہ ماہر کے پاس جانا کیا کافی ہو جاتا ہے اگر وہ خود کچھ نہ کرے؟ بلکہ وہ ماہر اس کو تھوڑا سا سمجھا کے پھر اس کو چھوڑے گا کہ اب خود کرو! اب خود کرو! اگر وہ کہتا ہے "مجھ سے تو نہیں ہوتا"، تو ماہر کیا کہے گا؟ "تو پھر میرے پاس کیوں آئے ہو؟ جاؤ اپنا کام کرو۔" ہاں؟ تو اسی طریقے سے کام تو خود کرنا ہوتا ہے، لیکن ذرا نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے، سمجھانے کی ضرورت ہوتی ہے، ہمت دلانے کی ضرورت ہوتی ہے، کمزوریوں کو دفع کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، یہ چیز شیخ اور استاد کر لیتا ہے۔ بس اتنا سارا کام ہے۔


              باقی یہ ہے کہ یہ نہیں کہ کام بھی سارا وہ کر لے! نہیں، یہ نہیں، یہ نہیں۔ کام تو اصل میں ہمارے ساتھ... چونکہ بس کیا کریں جی، ہمارا سارا کلچر ہی ڈوب گیا ہے۔ ہم لوگوں نے کچھ چیزیں ایسی سمجھ لی ہیں جو بالکل اَن نیچرل (Unnatural) ہیں، جس کی کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی۔ مثلاً بس "نظر میں رکھو جی، نظر میں رکھو!"، ہاں، "دعا کرو"۔ بھئی دعا تو یقیناً کرواؤ، لیکن دعا کس وقت کرواؤ؟ بھئی اپنے بیٹے کو گھر میں بٹھا دو اور کسی بزرگ سے دعا کراؤ کہ میرا بیٹا ڈاکٹر بن جائے، بن جائے گا؟ اس میں کیوں نہیں کرتے؟ وہاں تو کہتے ہیں بیٹا پڑھو گے، پھر دعائیں بھی کرواتے ہیں۔ کرواتے ہیں یا نہیں کرواتے؟ پڑھنا بھی ہوتا ہے اور دعائیں بھی کروانی ہوتی ہیں۔ تو دعائیں اس کا والد کرواتا ہے اور بیٹا محنت کرتا ہے۔ کرتا ہے یا نہیں کرتا؟ تو یہی چیز دین میں کیوں نہیں کرتے؟ دین میں کدھر عقل چلی جاتی ہے؟ یہ سب شیطانی سوچ ہے۔



              محنت کرنی ہوگی، ہاں Coaching ہوگی، سکھایا جائے گا، نگرانی کی جائے گی، یہ ساری باتیں ہوں گی۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ انسان بغیر کسی عمل کے محض کسی شیخ کی توجہ سے وہ سارا راستہ طے کر لے۔ اللہ جل شانہ کسی کا رشتہ دار نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی سے بھی فرمایا: بیٹی، خود عمل کرنا پڑے گا، میری وجہ سے جنت نہیں ملے گی۔ اب دیکھ لو! اس کے بعد اگر کوئی بات ہے تو ویسے۔ صحابہ نے کیا کیا اپنے بیٹوں کے ساتھ؟ کیا ان کو ویسے ہی سب کچھ مل گیا؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، ہاں، حسن و حسین اور دوسرے حضرات، محنت کی یا نہیں کی؟ سب نے محنت کی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ تو یہ میراث ہے اور نہ یہ ہے کہ بس مفت میں دینا ہے، ہاں، اصل میں ہوتا کیا ہے؟


              یوں ہوتا ہے کہ Degree ہوتی ہے نا Degree، Degree جانتے ہیں؟ ڈگری لی ہے ابھی؟ ابھی لی نہیں ہے نا۔ اچھا۔ تو ڈگری جو ہے یہ کاغذی ہوتی ہے نا؟ تو اخیر میں جب وہ Degree دی جاتی ہے Convocation میں، تو ایک لڑکا آ جائے اور کہہ دے جی مجھے بھی اس طرح Degree دو تاکہ میں بھی Engineer بن جاؤں۔ تو کوئی اس کو کیا کہے گا؟ بیٹا اس Degree کے پیچھے بہت کچھ چیزیں ہیں، وہ کرنی پڑتی ہیں پھر یہ Degree ملتی ہے۔ اس طرح کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص نے مجاہدہ کر کے ایک چیز کو کمایا ہوتا ہے۔ اور اس کمانے کا جو Output ہے، وہ کسی خاص نظر میں بند ہو جاتا ہے، یا کسی خاص چیز میں بند ہو جاتا ہے، وہ نظر آ جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں اوہو! یہی، یہی سب کچھ ہے۔


              میں آپ کو مثال دیتا ہوں۔ شبیق رحمۃ اللہ علیہ ایک تھے شبیق رحمۃ اللہ علیہ، یہ ایک اپنے شیخ کے ساتھ ہوتے تھے، یہ خادم تھے ان کے۔ تو حضرت بہت زیادہ سیاح تھے، مختلف جگہوں پر وعظ کرنے کے لیے جاتے تھے، اور تھے بہت غریب، فاقے ہوتے تھے ان کے گھر میں۔ تو شقیق رحمۃ اللہ علیہ ان کے ساتھ ساتھ ہوتے تھے تو وہاں جا کے جہاں پر بیان کرنا ہوتا تھا تو ان کی دعوت بھی کر لیتے تھے، ظاہر ہے کھانے وغیرہ کی۔ تو ان سے کہتے کہ صرف حضرت نہیں ہیں، حضرت کی بیوی بھی ہے اور ایک بیٹا بھی ہے، یہ مجھے آپ ان کا کھانا بھی دیں گے میں ان کو پہنچاؤں گا۔ اور حضرت کو اس کا پتہ نہیں ہوتا تھا۔ اچھا، یہ حضرت کے پاؤں دباتے۔ اور پھر اس کے بعد، ان سے وہ کھانا لے کے جب وہ سو جاتے، ان سے کھانا لے کے بھاگتے بھاگتے جاتے دوڑتے دوڑتے، وہاں ان کو دے کے، برتن خالی کروا کے، پھر آ کے برتن ان کو دے کے، پھر حضرت کے جا کے سب، پاس بیٹھ جاتے، کہ اگر میری خدمت کی ضرورت ہو تو میں حضرت کو بتاؤں۔ حضرت کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ شقیق نے یہ کیا ہے۔


              ایک دفعہ ایسا ہوا، کہ حضرت ان سے کسی بات پر ناراض ہو گئے، ان کو نکال دیا خانقاہ سے، نکل جاؤ! وہ نکلے تو صحیح حکم کے مطابق، لیکن ارد گرد کہیں موجود تھے کہ اگر میری ضرورت پڑے تو میں دور نہ ہوں۔ تو بارش ہو گئی، اب ظاہر ہے وہ پانی ٹپکنے لگا، کچے مکان تھے۔ تو بیوی نے کہا کہ جو ایک تمہارا خادم تھا، مرید تھا وہ تو تو نے بھگا دیا، اب دیکھو نبی، کیا حالت ہے؟ عورتیں تو ذرا تنگ دل ہوتی ہیں۔ تو حضرت نے ان سے فرمایا کہ میں نے بھگایا نا، تو نے تو نہیں بھگایا، اس کا مطلب ہے تو ان کو بلا سکتی ہے۔ تو انہوں نے کسی کے ذریعے سے ان کو بلایا کہ بھئی اوپر جاؤ اور یہ مکان کے اوپر مٹی وغیرہ ڈالو۔ تو اوپر جا کے، اس کو تو موقع چاہیے تھا، وہ پیچھے سے مکان پر چڑھ کے آیا اور مٹی ڈالنے لگا۔ وہ چک چک کی آواز آئی حضرت کو، تو حضرت کے پاس اس وقت نوالہ تھا، کھانے کا۔ تو وہ نوالہ ہاتھ میں لے کے باہر چلے گئے، کون ہے چھت پر؟ تو دیکھا شقیق مٹی ڈال رہا ہے۔ حضرت کو ان پر بڑا پیار آیا۔ تو انہوں نے ادھر سے کہہ دیا آؤ شقیق کھا لو۔ انہوں نے ادھر سے چھلانگ لگا دی اور وہ نوالہ کھا لیا۔ اسی میں اللہ پاک نے سب کچھ دے دیا۔ اب لوگ اس نوالے کو تو دیکھ رہے ہیں لیکن اس کے پیچھے Story کو نہیں دیکھ رہے۔ کہ پیچھے کیا ہوا تھا؟ اب لوگ ہر وقت یہی چاہتے ہیں کہ بس ہمیں ایک نوالہ مل جائے، اور اسی میں سب کچھ مل جائے، ایک نظر مل جائے، اسی میں سب کچھ مل جائے۔


              بھئی یہ چیزیں اس طرح نہیں ہوتیں۔ اللہ جل شانہ کا نظام بہت مکمل نظام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر ایسا کیا ہوتا تو پھر بتائیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کیسے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان نے کیسے کیا ہے؟ ہر ایک نے کتنی تکلیفیں اٹھائی ہیں؟ تو یہ دین اتنا آسان نہیں ہے، لیکن اگر کسی کو حاصل کرنا ہے، تو طریقہ تو یہ ہے کہ وہ کسی شاعر نے کہا ہے نا:

              انہی پتھروں کے اوپر اگر آ سکو تو آؤ

              میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے۔

              اگر کچھ کرنا ہے تو اسی طریقے سے کرنا پڑے گا۔ کرنا تو پڑے گا، یہ الگ بات ہے کہ بعد میں کرو یا پہلے کرو، یہ اپنی اپنی قسمت ہے۔


              اچھا، تصرف اور ہمت و اعمال کے اثر کا فرق۔ فرمایا اگرچہ خیال ہو کہ بعض بزرگوں کی توجہ سے بڑے بڑے بدکاروں کی خود بخود اصلاح ہو گئی ہے، تو یہ ایک قسم کا تصرف ہے اور ایسا تصرف نہ اختیاری ہے نہ بزرگی کے لیے لازم ہے۔ بہت سے بزرگوں میں تصرف مطلق نہیں ہوتا، نیز تصرف کے اثر کی بقا نہیں ہوتی۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص تنور کے پاس بیٹھ گیا تو جب تک وہاں بیٹھا ہوا ہے تمام بدن گرم ہے، مگر جیسے ہی وہاں سے ہٹا، پھر ٹھنڈا کا ٹھنڈا۔ بخلاف اس کے جو ہمت اور اعمال کے ذریعے سے اثر ہوتا ہے، وہ باقی رہتا ہے اور اس کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی نے کشتۂ طلا کھلا کر اپنے اندر حرارتِ عزیزی پیدا کر لی ہو، تو اگر وہ شملے پہاڑی پر بھی جائے گا تب بھی حرارت بدستور باقی رہے گی۔


              مقصود یہ ہے کہ دیکھو، ایک چیز مل جائے بطورِ عکس، انعکاسی۔ مثلاً کسی بزرگ کے ساتھ وقت کچھ لگا لیا، اور ان کے اعمال ان کے اندر سرایت کر گئے وقتی طور پر۔ تو یہ آدمی سمجھے کہ بس میں تو کامل ہو گیا۔ حالانکہ وہ جیسے وہاں سے چلا گیا، سب کچھ ختم۔ وہ وقتی چیز تھی۔ اور ایک یہ ہے کہ اس کی اصلاح باقاعدہ ہو گئی، یعنی وہ اصلاح ہو گئی، رذائل دور ہو گئے، ہاں، اور فضائل پیدا ہو گئے۔ اب وہ جہاں بھی جائے گا تو اس کے ساتھ وہ چیزیں ہوں گی۔ تو بعض لوگ جو توجہ ڈالتے ہیں، اس توجہ ڈالنے میں صرف وقتی طور پر کوئی چیز ملتی ہے۔ وقتی طور پر، جو ملنے کی چیز ہوتی ہے۔ ویسے تو بہت ساری چیزیں مل سکتی ہیں، وہ تو مقصود ہی نہیں ہوتیں۔ اصل چیز کیا ہے؟ وہ اعمال پر آنا، اعمال پر آنا۔


              بعض لوگ کہتے ہیں مثلاً ذکر کے بارے میں کہتے ہیں جی، دل جاری ہو گیا۔ بھئی دل جاری ہونے کا مطلب بھی تو سمجھو نا کہ دل جاری ہونے کا مطلب کیا ہے؟ اگر صرف بغیر عمل کے جاری ہونا ہے، تو یہ تو جانور کا بھی جاری ہے۔ ہے یا نہیں ہے؟ جاری تو جانور کا بھی ہے۔ دل جاری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ عمل پر آ جائے۔ مثلاً اللہ کا خوف آ جائے، اللہ پاک سے خوف آ جائے، اور ساتھ ساتھ عمل پر آ جائے، مثلاً نماز پڑھنا شروع ہو جائے، اعمال صحیح کرنے شروع ہو جائیں، اور جس کو کہتے ہیں نا، دل کی اصلاح ہو جائے، ساتھ ساتھ کہ حسد، حسد دور ہو جائے، کینہ دور ہو جائے، یہ چیزیں ہیں۔ اگر دل جاری ہو جائے اور یہ چیزیں حاصل نہ ہوں تو وہ دل جاری ہونے کا محض وسوسہ ہے۔ محض وسوسہ ہے۔ اصل دل جاری ہونا یہی کہلاتا ہے۔ اس کے اپنے اپنے اثرات ہوتے ہیں۔


              جو مشائخ ہوتے ہیں، وہ ان اثرات کو دیکھتے ہیں، وہ اس چیز کو نہیں دیکھتے کہ سامنے کیا ہو رہا ہے۔ وہ دیکھتے ہیں اس پر، کہ پیچھے کیا ہے؟ پس منظر میں کیا ہے؟ کیا وہ اثرات ان کو حاصل رہے ہیں یا نہیں رہے؟ تو یہ صحیح بات ہے۔ اور یہی مسنون طریقہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اعمال دیکھے جاتے تھے۔ اعمال پر بات ہوتی تھی۔ مثلاً کسی نے کہا حضرت! مجھے نصیحت فرما دیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جھوٹ نہ بولیں۔ کسی کو فرمایا غصہ نہ کریں۔ کسی کو کچھ فرمایا کسی کو کچھ فرمایا ان کی حالت کے مطابق۔ تو اعمال پر لانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام ہوتا تھا۔ باقی یہ چیزیں، یہ تو سرسری چیزیں ہیں۔


              فرمایا، صفاتِ رذیلہ کا مادہ تو جِبلّی ہوتا ہے، مگر فعل اختیار میں ہے۔ فرمایا اگر یہ شبہ ہو کہ جبلت تو کسی کی بدل نہیں سکتی، تو پھر جبلی صفاتِ رذیلہ کی اصلاح کیسے ہو سکتی ہے؟ تو خوب سمجھ لو کہ مادہ جبلی ہوتا ہے، مگر فعل اختیار میں ہے۔ پس مادہ بے شک زائل نہیں ہوتا، مگر اس کے مقتضا پر عمل نہ کرنا انسان کے اختیار میں ہے، اور انسان اسی کا مکلف ہے۔ میں ایک ذرا تھوڑی سی خطرناک بات کرنے والا ہوں، لیکن مجبوری ہے سمجھانے کے لحاظ سے، ٹھیک ہے نا۔


              مثلاً کسی کے اندر شہوت ہے، بہت زیادہ۔ اب یہ شہوت زائل نہیں ہوگی۔ یہ زائل نہیں ہوگی، چاہے آپ کتنے ہی مجاہدات کر لیں شہوت ہی نہیں رہے گی، وہ ہوگی۔ لیکن اس شہوت کو Control کرنا آ جائے گا۔ اس کو Control کرنا آ جائے گا۔ اب یہ بات ہے کہ جیسے کسی کو سخت، بڑا مضبوط جانور ملا ہے۔ تو وہ جانور کو سدھانا مشکل ہوگا، باقی لوگوں کا کمزور جانور ہے ان کا سدھانا آسان ہوگا۔ لیکن اگر وہ مضبوط جانور کسی نے سدھا لیا، تو کام بھی تو اس کا زیادہ ہوگا نا۔ کام بھی تو اس کا زیادہ ہوگا۔ تو اگر شہوت کسی کی زیادہ ہے، اور وہ اس کو Control کر لیتا ہے، تو اس کا اجر زیادہ ہے۔ اس کا اجر زیادہ ہے، اس کی اصلاح زیادہ ہے اس میں۔ تو یہ مادہ زائل نہیں ہوتا، مادہ زائل نہیں ہوتا، لیکن یہ بات ہے کہ اس کا جو عمل ہے، وہ انسان کے Control میں آ جاتا ہے۔ تو ظاہر ہے ابتدا میں مشکل تو ہوتا ہے، لیکن آہستہ، آہستہ آہستہ، آہستہ، ماشاءاللہ جب Control میں آ جاتا ہے تو سبحان اللہ۔


              میں آپ کو ایک واقعہ سناؤں، اپنا، Germany کا۔ Germany میں ہمارے پاکستانی بھائی جو ہمارے ساتھ ہوتے تھے، تو چونکہ ہم تو پاکستان سے گئے تھے، تو ہمیں بڑی پریشانی ہوتی، ظاہر ہے عورتیں ارد گرد پھر رہی ہوتی تھیں، تو میں کوشش کرتا کہ ایسی مجلسوں میں نہ جاؤں، ایسی محفلوں میں نہ جاؤں، ایسے راستوں پر نہ جاؤں۔ مجبوری ہوتی، ظاہر ہے ہمیں اپنے آپ کو بچانا تھا۔ تو وہ مجھ پر ہنستے تھے، کہتے ہیں ہمیں تو کچھ نہیں ہوتا، ہمیں تو کچھ نہیں ہوتا، ہمیں تو کچھ نہیں ہوتا، بار بار یہ کہہ کے میرا دماغ خراب کر دیا۔ تو میں نے سوچا میں نے کہا یار کیوں کہتے ہیں اس طرح؟ تو میں نے سوچا میں نے کہا شاید پھر میں زیادہ خراب ہوں، کیونکہ مجھے تو ہوتا ہے کچھ، ان کو کچھ نہیں ہوتا، کمال ہے۔ تو میں نے پھر ایک Alfred، Non-Muslim ساتھی تھے، بھائی تھے ہمارے، بڑے ذہین، Architect تھے وہ۔ تو تھے Non-Muslim۔ میں نے اس کے ساتھ Share کی یہ بات۔ میں نے کہا Alfred، یہ میرے دوست مجھے کہتے ہیں کہ تم کیوں اس طرح باتیں کرتے ہو؟ ہمیں تو کچھ نہیں ہوتا، اور مجھے تو ہوتا ہے۔ تو یہ، یہ جھوٹے ہیں، یا میں بہت خراب ہوں؟ سوال بہت سیدھا سیدھا تھا۔ تو مجھے اس نے جو جواب دیا، "Neither you are bad nor they are telling lie." میں نے کہا پھر کیوں؟ کیسے دونوں باتیں ٹھیک ہو سکتی ہیں؟ کہتے ہیں

              کہتے ہیں کہ انہوں نے (misused)سے اپنا سسٹم اتنا خراب کر لیا ہے کہ وہ اب responds دینا چھوڑ گیا ہے تمھارا سسٹم (full active) ہے لہذا responds دے رہا ہے۔


              کہتے ہیں "I can show you many people going to doctors for this purpose, that how to make good relations with wives. Because of misuse." تو یہ مطلب سمجھ میں آ گئی بات کہ دیکھو! یہ جو چیز ہوتی ہے یہ والی جو بات کہ یہ، یہ ہوتی ہے۔ لیکن اس کو Control کرنا پڑتا ہے۔ Control کرنا پڑتا ہے۔


              اسی طرح انسان، بہت ساری اور چیزوں میں۔ مثال کے طور پر کسی میں غصہ بہت زیادہ ہے۔ غصہ ختم نہیں ہوگا۔ لیکن غصہ Control میں آ جائے گا، اس کا استعمال بدل جائے گا۔ کیا عمر رضی اللہ عنہ کا غصہ ختم ہو گیا تھا؟ عمر رضی اللہ عنہ کا غصہ ختم نہیں ہوا تھا۔ غصہ بدل گیا، پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تلوار لے کر آ رہے تھے، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے پیچھے۔ فرق آ گیا نا؟ تو مقصد یہ ہے کہ جو چیز ہوتی ہے، جس، جس Level کی، وہ ہوتی ہے، وہ ختم نہیں ہوتی، مادہ ختم نہیں ہوتا۔ لیکن عمل چونکہ اختیار میں ہے تو بے شک مشکل کیوں نہ ہو عمل، لیکن عمل انسان کے اختیار میں ہوتا ہے۔ اور اللہ پاک چونکہ انصاف فرماتے ہیں، تو کسی کے لیے مشکل ہو تو اس کو اجر زیادہ دیتے ہیں۔ اس کو اجر زیادہ دیتے ہیں۔ لہٰذا یہ کوئی گھبرانے والی بات نہیں ہے اگر کسی کے ساتھ ایسی باتیں ہیں، جو، جو ان کے لیے مشکل ہیں تو وہ سمجھ لیں کہ ہمیں اللہ پاک زیادہ دینا چاہتے ہیں۔


              وہ حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے ایک بات فرمائی ہے،

              "شَهْوَتِ دُنْيَا مِثْلِ گُلْخَن اسْت

              یہ دنیا کی جو خواہشات ہیں، یہ خس و خاشاک کی طرح ہیں۔

              ازْ وے حَمَّامِ تَقْویٰ رَوْشَن اسْت"

              اور اسی کے ذریعے سے حمامِ تقویٰ روشن ہے۔ اگر شہوات نہیں ہوتے، تو تقویٰ کیا تھا؟ اگر کوئی اندھا ہے وہ کہتا ہے میں بدنگاہی نہیں کرتا، تو اس کو آپ کیا کہیں گے؟ بھئی تو کر ہی نہیں سکتا۔ تو اس کا اجر کیا ملے گا؟ لیکن جو آدمی بدنگاہی کر سکتا ہے اور نہ کرے، اس کو اجر ملے گا۔ حدیث شریف میں آتا ہے، اگر کوئی راستے پر جا رہا ہو، غیر محرم پر نظر اس کی پڑ جائے، اور وہ اللہ پاک سے، کے ڈر سے اپنی نظر ہٹا لے، تو فرمایا اس کو اللہ پاک ایسے، ایسے عمل نصیب فرما، عبادت نصیب فرما دیں گے، جس سے وہ اپنے ایمان کی حلاوت خود محسوس کر لے گا۔ ہے نا؟ تو اگر کوئی مشکل ہے، تو کہتے ہیں نا،

              "ہر کجا پستی آب آنجا رود

              ہر کجا مشکل جواب آنجا رود"

              جہاں پر پستی ہے، پانی اس طرف آتا ہے۔ جہاں پر مشکل ہے، راستہ ادھر ہے۔ تو مقصد یہ ہے کہ ہم لوگوں کو ڈرنا نہیں چاہیے، گھبرانا نہیں چاہیے۔ اللہ جل شانہ نے اگر ایک طرف کوئی چیز مشکل بنا دی، تو دوسری طرف سے آسان بنا دی۔ ہمارے پشتو میں کہتے ہیں کہ "غر لوئے دے، پہ سر ئې لار دہ"۔ اگر پہاڑ خوب بلند ہے تو اس کے اوپر راستہ تو ہے نا۔ راستہ تو اس کے اوپر ہے۔


              اللہ اکبر۔ Time میرے خیال میں پورا ہو گیا ہے۔ کیونکہ ابھی ذکر بھی کرنا ہے تو ایک دفعہ سورۂ فاتحہ پڑھ لیں، تین دفعہ سورۂ اخلاص پڑھ لیں۔










              **تجزیہ اور خلاصہ:**

              بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)


              **سب سے جامع عنوان:**

              سلوک و احسان میں طلب، وصول اور مجاہدے کی حقیقت


              **متبادل عنوان:**

              اختیاری اور غیر اختیاری امور کا فرق اور نفس کی اصلاح کا مسنون طریقہ


              **اہم موضوعات:**

              * مقصود صرف طلب (کوشش) ہے، وصول (نتیجہ) اللہ کے فضل پر موقوف ہے۔

              * انسان صرف اختیاری اعمال (نماز، روزہ، بدنگاہی سے بچنا) کا مکلف ہے، غیر اختیاری (کیفیات، انوارات) کا نہیں۔

              * مجاہدہ کی حقیقت: نفس کی مخالفت کرتے ہوئے اوامر کو بجا لانا اور نواہی سے بچنا۔

              * عبادات اور مباحات میں مجاہدہ (نیند، خوراک، اور مباح تفریح میں تقلیل)۔

              * مجاہدہ اختیاریہ اور مجاہدہ اضطراریہ (حالات و تکالیف پر صبر) میں فرق اور ان کے فوائد۔

              * انسان میں موجود صفاتِ رذیلہ (جیسے غصہ، شہوت) کا مادہ ختم نہیں ہوتا بلکہ ان کا استعمال اور کنٹرول درست سمت میں لایا جاتا ہے۔

              سلوک و احسان میں طلب، وصول اور مجاہدے کی حقیقت - انفاسِ عیسیٰ - پہلا دور