موحد کا اطمینان، توکل علی اللہ اور دین میں اعتدال

انفاس عیسیٰ : حصہ 2، باب چہارم

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • اللہ تعالیٰ کی یکتائی پر کامل یقین اور موحد کا قلبی اطمینان۔
    • اللہ کے ساتھ بے لوث محبت اور مخلوق کی بجائے خالق کو راضی کرنے کی اہمیت۔
      • بزرگانِ دین (حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ اور حضرت احمد خضرویہؒ) کے توکل اور اللہ کے ساتھ حُسنِ ظن کے حیرت انگیز واقعات۔
        • لزومِ کفر اور التزامِ کفر میں بنیادی فرق۔
          • ادعائے نفس کی حقیقت اور عقل و عشق کے دائرہ کار کی حدود۔
            • دینی و دنیاوی امور میں درستیِ انتظام کی اہمیت اور موقع شناسی، محل شناسی و مردم شناسی کی ضرورت۔
              • زوالِ سلطنتِ مغلیہ کا حقیقی سبب (اکبر کی غلط پالیسیاں بمقابلہ اورنگزیب عالمگیرؒ کی جدوجہد)۔
                • احداث فی الدین (بدعت) اور احداث للدین (دین کی خدمت کے لیے نئے ذرائع کا استعمال) میں فرق۔
                  • سالک کے لیے خلوت کی اہمیت اور جلیسِ صالح (نیک صحبت) کے آداب۔

                    اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

                    وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

                    أَمَّا بَعْدُ

                    أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

                    بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ 

                    توحید کی برکت

                    ارشاد: موحِّد کو ایسا اطمینان ہوتا ہے کہ جیسا بچے کو ماں کی گود میں اطمینان ہوتا ہے۔ بچہ ماں کی گود میں جا کر بالکل بے فکر ہو جاتا ہے کہ بس اب کسی کا خوف نہیں۔

                    یہ بہت تسلی والا مضمون ہے۔ موحد کسے کہتے ہیں؟ موحد کہتے ہیں اللہ جل شانہ کے ایک اور یکتا ہونے کو۔ ایک اور یکتا میں فرق ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ اللہ ایک ہے ذات میں، ایک۔ یکتا یہ ہے کہ ان کی طرح کوئی ہے نہیں، بے مثال۔ تو اللہ جل شانہ کا ایک ہونا اور یکتا ہونا،یہ جس کو یقین ہوتا ہے، وہ پھر بے فکر ہو جاتا ہے۔

                    دیکھیں آپ اگر سو لوگوں کو راضی کرنے کی کوشش کر لیں، وہ آسان ہے یا دس لوگوں کو راضی کرنا؟ دس لوگوں کو راضی کرنا سو کے مقابلے میں آسان ہے۔ اور دس کے مقابلے میں پانچ کو؟ پانچ کے مقابلے میں ایک کو؟ تو ایک کو راضی کرنا تو آسان ہے۔ پھر وہ ایک جو راضی کرنا ہے، وہ بے لوث ہے۔ باقی جو ہیں وہ بے لوث نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ والدین بھی بے لوث نہیں ہوتے، ان کو بھی طمع ہوتی ہے۔ جبکہ استادوں کو بھی طمع ہوتی ہے، دوستوں کو بھی طمع ہوتی ہے، بیوی کو بھی طمع ہوتی ہے، اولاد کو بھی طمع ہوتی ہے۔ یہ جتنے بھی قریبی رشتے ہیں، سب کو طمع ہوتی ہے، آپ سے کچھ چاہتے ہیں اگر آپ سے محبت کرتے ہیں۔لیکن اللہ جل شانہ کی ذات ایسی ہے جو محتاج نہیں ہے۔ لہٰذا وہ بے لوث محبت کرتا ہے۔ نتیجتاً اگر آپ اس کو راضی کرنا چاہیں تو وہ ظاہر ہے وہ تو محتاج تو ہے نہیں، وہ آپ سے کچھ مانگے گا تو نہیں، بلکہ کچھ دے گا۔ اور مانگے گا بھی تیرے لیے۔ کہ مجھے دے تاکہ میں تجھے دے دوں۔ سبحان اللہ۔ مثلاً یہ ایک مجھے دے دو تاکہ میں دس دے دوں۔تو اس کے بارے میں کون کہے گا کہ وہ مانگ رہا ہے؟ وہ تو دینے کے بہانے تلاش کر رہا ہے۔ لہٰذا اس ایک کو راضی کرنا بہت آسان ہے۔ ایک کی طرف ہونا بہت آسان ہے۔ ایک کا ہونا بہت آسان ہے۔ اور ایک پر بھروسہ کر کے باقی سب سے بے فکر ہو جانا بھی بہت آسان ہے۔ یہ مطلب ہے اس کا۔ کہ موحد کو ایسا اطمینان ہوتا ہے کہ جیسے بچہ جب ماں کی گود میں پہنچ جاتا ہے تو پھر اس کو کوئی فکر نہیں ہوتی ہے۔

                    بچے کی وجہ کیا ہوتی ہے؟ کیونکہ بچے کی سوچ اتنی ہے۔ بچہ جتنا سمجھ رکھتا ہے، اس کے حساب سے وہ کرتا ہے۔ بچے کی سمجھ میں ماں اس کی سب سے بڑا قلع ہے۔ وہ دوڑ لگائے گا تو ماں تک ہی لگائے گا۔ جب ماں تک پہنچ گیا اس کے بعد پھر اس کو فکر نہیں ہوتی۔ وہ کہتا ہے بس اب میرا کام ختم ہو گیا۔ یہ بات ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم ایک دفعہ بیان فرما رہے تھے۔ فرمایا: ایک دن میں گھر چلا گیا تو میری نواسی جو ہے وہ اپنے بیٹے کو مار رہی تھیں۔ کسی وجہ سے مار رہی تھیں۔ تو بچہ رو رہا تھا لیکن پھر بھی ماں کی طرف ہی بھاگ رہا تھا۔ اس سے بھاگ نہیں رہا تھا۔ رو رہا تھا لیکن ماں کی طرف ہی آ رہا تھا۔ مقصد یہ ہے کہ بچہ جو ہوتا ہے وہ ماں کو سب کچھ سمجھتا ہے، ماں کی گود کو سب کچھ سمجھتا ہے۔ تو اسی طریقے سے اللہ جل شانہ کے اوپر جس کو بھروسہ آ جائے، جو اللہ کو پہچان لے، جو اللہ کو پہچان لے۔ اس کے بعد پھر اس کو کوئی فکر نہیں ہوتی۔ وہ بڑے سے بڑے step بھی لے سکتا ہے اگر اس کو یہ اطمینان ہو کہ اللہ مجھ سے راضی ہے۔

                    حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ، ان کا واقعہ ہے۔ دیوبند میں، ظاہر ہے شیخ الحدیث تھے۔ مدرسے کا سودا سلف ایک مہاجن کے وہاں سے آتا تھا۔ تو ایک دن مہاجن کو کسی نے بہکایا پھسلایا،مخالفین تو ہر جگہ ہوتے ہیں کہ یہ تو کنگال ہو چکے ہیں، ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔ وہ تمہارا پیسہ ڈوب رہا ہے۔ ان سے پیسہ لے لو ورنہ تمہارا پیسہ ڈوب جائے گا۔ اور بنیے کو پیسہ ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ اس کو بڑی فکر ہو گئی۔ وہ آ گیا۔ کہا کہ حضرت، میرے حساب بے باق کر لیں۔ کیونکہ آگے میں، پھر جب سارا سودا سلف ہو گا تو پھر پیسے ہوں گے تو سودا سلف آئے گا۔ تو آپ لوگ اپنا پچھلا بے باق کر لیں۔ ورنہ پھر میں معذور ہوں گا۔ حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ ساری بات سمجھ گئے کہ کیوں کہ رہا ہے تو حضرت نے فرمایا :اچھا، کل آ جانا۔ اچھا، وہ چلا گیا، چلو ٹھیک ہے جیسے کہا ہے کل آ جاؤں گا۔

                    وہ آدمی جب چلا گیا تو مدرسے کا خزانچی وہ آ گیا۔ کہتا ہے حضرت آپ نے کیسے وعدہ کر لیا؟ ہمارے account میں تو پیسہ نہیں ہے۔ وعدہ کیسے کر لیا؟ فرمایا تمہارا کام نہیں ہے،خاموش ہو جاؤ بیٹھ جاؤ،چلو وہ بیٹھ گیا۔ اب صبح اس کے آنے سے تھوڑی دیر پہلے ایک شخص آیا۔ اور اس نے خطیر رقم مدرسے کے لئے پیش فرمائی کہ حضرت یہ رقم ہے ، قبول فرمائیں حضرت نے لے لی اور ساتھ ہی خزانچی سے کہا بھئی اس کا حساب کرو۔ اس کے کتنے پیسے بنتے ہیں۔ تو جتنے پیسے اس کے بنتے تھے، تقریباً اتنے ہی پیسے آ گئے تھے۔ سبحان اللہ۔ اب وہ جو مہاجن آ گیا، اور اس کو اپنا پیسہ لے کے چلا بڑا خوش ہو گیا۔ اور شرمندہ بھی ہو گیا کہ میں نے بہت بدگمانی کی تھی۔ حالانکہ ان کا معاملہ اتنا کھرا کھرا تھا، لیکن میں نے بدگمانی کی۔لیکن اپنے جو جاننے والے ساتھی، بڑے حیران ہو گئے۔ کیونکہ وہ جو نووارد تھا، اس کو پہلے کوئی جانتا بھی نہیں تھا۔ اور ظاہر ہے کہ کیسے اس کو کیسے پتا؟ وہ ہدیہ کر رہا ہے، وہ یہ بھی نہیں ہے کہ وہ کہ کوئی مانگا ہو حضرت نے ان سے۔ تو پھر ساتھیوں نے پوچھا کہ حضرت آپ کو کیسے یقین تھا کہ کل تک پیسے آ جائیں گے؟ فرمایا کہ: جب سے میں بالغ ہوا ہوں، الحمد للہ ابھی تک میں نے اللہ کو ناراض نہیں کیا۔ سبحان اللہ۔ اس وجہ سے مجھے اس بات پر یقین تھا کہ اللہ مجھے اس مہاجن کے سامنے رسوا نہیں کریں گے۔ یہ والی بات ہے۔

                    یہ ابھی گزشتہ درسوں میں، مثنوی کے غالباً second last درس میں، یہ قصہ آیا ہے۔ کہ حضرت خضرویہ رحمۃ اللہ علیہ، ایک شیخ گزرے ہیں۔ وہ بڑے متوکل تھے۔ اور قرض لے لے کر اپنا کام کراتے تھے۔ اور پھر ان کا قرض کوئی اس طرح کر لیتا بے باق کر لیتا۔ تو خیر ایسا ہوا کہ قرض کچھ زیادہ چڑھ گیا۔ ان کو تو فکر نہیں تھی۔ حضرت تو متوکل تھے۔ ان کو اس بات کا مسئلہ نہیں تھا کہ کیا ہو گا۔ لیکن وہ جو جن کا قرض تھا، ان کو فکر ہو گئی۔ اور حضرت بیمار بھی تھے۔ تو سب آ گئے، انہوں نے کہا حضرت پیسے؟ ان سے کہا کہ بیٹھو۔ جو جو آتے گئے، وہ بٹھاتے گئے، جو جو آتے گئے بٹھاتے گئے۔ جن لوگوں کو پتا چل گیا کہ ایسا معاملہ ہے وہ بھی آ گئے یہ کیا مطلب پہلے ان کا ارادہ نہیں تھا ان کا بھی ہو گیا کہ بھئی یہ کیا ! صورتحال ایسی ہے تو پھر تو ہمارے پیسے پتہ نہیں حضرت کو کچھ ہو جائے تو سارے پیسے ڈوب جائیں گے۔

                    آتے گئے، حضرت بٹھاتے گئے۔ اب لوگ بڑے حیران ہیں، بلکہ وہ چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں آپس میں کہ یہ کیسے شیخ ہیں؟ کیسے پیر ہیں؟ کیسے اللہ والے ہیں کہ لوگوں کے قرضے لے کر پروا ہی نہیں کرتے۔ ان کے اوپر کوئی اثر ہی نہیں ہے۔ لوگ اتنے پریشان ہیں، ان کو بالکل ہی پتا ہی نہیں، پروا ہی نہیں ہے۔ کیسے آدمی ہیں؟ وہ، اس قسم کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ظاہر ہے سو منہ سو باتیں۔ تو اتنے میں ایک لڑکے نےحلوہ کی آواز دی تو اس پرحضرت نے فرمایا کہ بھئی اس کو بلاؤ۔ انہوں نے کہا یہ سارا تھال کتنے کا دو گے؟ سارا تھال کتنے کا دو گے؟ اس نے کہا کہ ایک دینار کا نہیں نصف دینار کا، نصف دینار کا۔ حضرت نے سب کھلا دیا۔ مہمان تھے ان کو۔اب اس کے بعد انہوں نے نصف دینار مانگا۔ انہوں نے کہا اگر میرے پاس ہوتا تو یہ لوگ بیٹھے نہ ہوتے۔ تم بھی بیٹھ جاؤ۔ تو اس نے تو چیخنا شروع کر دیا۔ کہتا ہے مجھے کیا ضرورت پڑی تھی کہ میں ادھر آ گیا، اور ایسے کنگال لوگوں سے میرا واسطہ پڑا اور اب تو مجھے مالک زندہ نہیں چھوڑے گا، یہ تو یہ ہو گیا وہ ہو گیا اس نے چیخ و پکار سے آسمان سر پہ اٹھا لیا۔ تھال کو بھی اس طرح زور سے پھینکا، یہ کیاہے۔ بہت پریشان۔ لیکن حضرت پر کوئی اثر نہیں۔ وہ اطمینان سے لیٹے ہوئے ہیں، ان کو دیکھ رہے ہیں۔ اور لوگ اور بھی غصے ہو گئے، کہ یار پیسے نہیں تھے تو ان سے سودا کیوں لیا؟

                    تو اتنے میں کوئی صاحب آ گئے، اور انہوں نے کہا کہ حضرت یہ کچھ ہدیہ ہے آپ قبول فرمائیں۔ دیکھا تو پیسے تھے اس میں۔ اور اس میں ایک نصف دینار علیحدہ لپٹا ہوا تھا کاغذ میں۔ حضرت نے فرمایا بھئی جس کے جتنے جتنے پیسے وہ لیتے جائیں۔ سب کو دیا تو پیسے ختم ہو گئے اور نصف دینار جو بچ گیا وہ اٹھا کر وہ اس لڑکے کو دے دیا۔ اب جو لوگوں نے دیکھا تو بالکل برابر برابر کا معاملہ ہے۔ پتہ چل گیا کہ یہ معمول کی بات نہیں ہے۔ یہ کوئی special بات ہے بلکہ نصف دینار علیحدہ لپٹا ہوا ہے۔ یہ کیا بات ہے؟ تو قریبی حضرات نے پوچھا کہ حضرت یہ کیا ماجرا تھا؟ سمجھ نہیں آئی۔فرمایا اصل میں اللہ کا اور میرا ساتھ یہ معاملہ تھا۔ کہ جب بھی مجھے ضرورت ہوتی تو اللہ پاک بھیج دیتے۔ مجھے تو فکر نہیں تھی کہ اللہ پاک بھیجیں گے تو بھیجیں گے۔ لیکن لوگوں کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ تو میں نے اللہ پاک سے درخواست کی کہ اللہ، بھیجنے میں کیا مطلب وہ ہے؟ آپ کے خزانے میں تو کمی نہیں ہے، مجھے پتا ہے۔ ہماری طرف سے کس چیز کی کمی ہے؟ وہ بتا دیجیے۔ تو کہتے ہیں اللہ کی طرف سے الہامی طور پر جواب آیا، رونے والے کی کمی ہے۔ رونے والے کی کمی ہے۔ تو میں نے رونے والے کا بندوبست کر دیا۔ تو لڑکا جب رو پڑا، تو بس کام ہو گیا۔ پیسے آ گئے، سب کو اس کا بھی آ گیا، باقیوں کے پیسے بھی آ گئے۔ اب یہ والی باتیں ہیں۔ یہ میں آپ کو بتاؤں، یہ ویسے گپ شپ کی باتیں نہیں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی کرتے ہیں۔

                    اللہ پاک کے ساتھ جو معاملہ ہوتا ہے جو گمان ہوتا ہے: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي۔ میں بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جو وہ میرے ساتھ رکھتا ہے۔ تو جس کا بھی اللہ پر بھروسہ ہوتا ہے، اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ ہوتا ہے۔ آپ ﷺ کا طریقہ بھی یہی تھا۔ آپ ﷺ بے دریغ خرچ کرتے تھے، بے دریغ۔ اور گھر میں نہیں رکھتے تھے۔اور آتا رہتا تھا۔ اور دوسرے لوگوں سے قرض لے لے کر خرچ کرتے تھے۔ یہ ایسا بھی تھا آپ واقعاتِ سیرت کے پڑھ لیں۔ آپ ﷺ دوسرے لوگوں سے قرض لے لے کر بھی خرچ کرتے تھے۔ تو ایسا ہوتا ہے۔ لیکن وہی بات ہے کہ یقین کا بن جائے۔ یقین کا بن جائے۔ یہ البتہ ایک سوال ہے۔ جس کا یقین بن جائے تو اس کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ اور جس کا یقین ابھی نہیں بنا تو اس کو اتنے نہیں لینے چاہئیں۔ ظاہر ہے۔

                    التزامِ کفر، کفر ہے اور لزومِ کفر، کفر نہیں

                    ارشاد: التزامِ کفر، کفر ہے، لزومِ کفر، کفر نہیں۔

                    یہ ایک فقرہ ہے۔ لیکن اس کے اندر پورا ایک قانون ہے۔ التزام کس کو کہتے ہیں؟ باقاعدہ ایک چیز کو produce کرنا۔ مثلاً میں کہوں کہ میں یہاں بیٹھنے کا التزام کروں گا۔ یعنی مطلب ہے باقاعدہ بیٹھنے کے لیے سوچوں گا، بیٹھنے کے لیے planning کروں گا، بیٹھنے کے لیے یہاں پر جگہ بناؤں گا، یہ التزام ہے۔ لزوم کہتے ہیں ہونے کو۔ ہے کہ کوئی ایسی چیز ہے جیسے مثال کے طور پر "انعمتَ علیہم کو انعمتُ "، کسی نے غلطی سے کہہ دیا، تو کافر تو نہیں۔ لیکن اگر باقاعدہ التزام کر کے پڑھا، تو پھر کافر ہو جائے گا۔ تو مطلب یہ ہے کہ ارادے کے ساتھ اگر کوئی چیز ہو جائے، تو پھر تو ٹھیک پھر تو کفر ہے۔ لیکن اگر غلطی سے ہو گیا، اس طرح کوئی بات زبان سے نکل گئی، تو اس سے انسان کافر نہیں ہوتا۔ اس سے انسان کافر نہیں ہوتا، البتہ احتیاط ضرور کرنی چاہیے۔ احتیاط میں کمی نہیں کرنی چاہیے۔ بعض دفعہ ایسی باتیں زبان سے نکل جاتی ہیں، جو کہ انسان نکالنا نہیں چاہتا۔ لیکن غلطی سے زبان سے ایک بات نکل گئی۔ تو وہ ہے کہ وہ کفر والی بات نہیں ہے۔ کفر اس وقت ہو گا جب اس کا ارادہ بھی اس میں شامل ہو۔ اور وہ سمجھ رہا ہو کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔

                    اتباعِ نفس کی علامت

                    ارشاد: عارف کو موت کا اشتیاق ہوتا ہے، مگر وہ ڈینگیں نہیں مارا کرتا، اور ڈینگیں مارنا اتباعِ نفس کی علامت ہے۔

                    مطلب عارف جو ہوتا ہے، اس کو موت کا اشتیاق ہوتا ہے، کیونکہ وہ اللہ کے ساتھ ملنا چاہتا ہے۔ لیکن وہ اس کا اظہار نہیں کرتا بار بار کہ میں مطلب ایسا ہوں، میں ایسا ہوں۔ کیونکہ یہ تو پھر ظاہر ہے نفس والی بات آ جائے گی نا۔ نفس کی بڑائی۔ تو ایسی بات نہیں ہے۔ ہاں البتہ یہ ہے کہ دل کی خواہش اس کی یہی ہوتی ہے۔ اور آپ ﷺ کا طریقہ بھی یہی رہا کہ آپ ﷺ سے جب پوچھا گیا تو کیا جواب دیا آپ ﷺ نے؟ آپ ﷺ نے اخیر وقت میں، فرمایا تھا نا کہ ایک بندے کو اللہ نے کہا ہے، کہ چاہو جو میرے ساتھ ہے وہ تم قبول کرو، یا پھر جو ادھر ہے وہ لے لو۔ تو اس بندے نے اللہ کے ساتھ جو کچھ ہے وہ لے لیا۔ پوری مجلس میں سوائے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اور کوئی نہیں سمجھا اس کو کہ کیا فرمایا ہے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سمجھ گئے، مزاج شناس تھے ان کے۔ تو یہ والی بات ہے۔ کمال کی بات ہے۔ کہ اس وقت وہی رو پڑے تھے صرف۔ لیکن بعد میں نہیں روئے۔ جب وفات ہو گئی تو پھر بعد میں نہیں روئے۔ پھر باقی سب لوگ روتے رہے وہ نہیں روئے۔ یہ بالکل عجیب بات ہے۔ جب پھر بعد میں تشریف لائے تو سب سے پہلے آپ ﷺ کے ماتھے کو بوسہ دیا۔ فرمایا کہ کیا سبحان اللہ کیا ہے کہ یہ اللہ پاک تجھ پر دو موتیں جمع نہ کریں گے۔ ایک تجھے وہ تو ہو گئی۔ دوسری اب نہیں ہو گی۔ کیونکہ ہر انسان کی دو موتیں ہیں، ایک تو یہاں سے چلا جاتا ہے، پھر وہ تھوڑی دیر کے لیے جو ان کو لایا جاتا ہے نا پھر اس کے بعد پھر موت میں چلا جاتا ہے۔ تو اس میں یہ بات ہے کہ آپ ﷺ کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ آپ ﷺ اپنی قبر میں حیات ہیں۔ حیاتِ النبی کا جو عقیدہ ہے وہ یہی ہے۔ کہ آپ ﷺ اپنی قبر شریف میں حیات ہیں۔ بلکہ سارے انبیاء کرام حیات ہیں۔ اور اللہ پاک نے قرآن پاک میں صاف وضاحت کے ساتھ فرمایا: وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِنْ لَا تَشْعُرُونَ۔ "اور جو اللہ کے راستے میں مارے جائیں، ان کو مردہ نہ کہو، وہ زندہ ہیں، لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ہے"۔ اور اس کے علاوہ دوسری جگہ پر فرمایا کہ مبادا کوئی کہ دے کہ ہیں تو مرے ہوئے لیکن کہنا ٹھیک نہیں ان کے اعزاز یہ ہے اور فرمایا: وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ہے کہ جو لوگ اللہ کے راستے میں مارے جائیں، ان کو مردہ گمان بھی نہ کرو۔ مردہ گمان بھی نہ کرو۔ تو حضرت قاری طیب قاسمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے عجیب نکتہ نکالا اس سے۔ فرمایا کہ جو چار گروہ، "أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ" میں ہیں جن پر انعام کیا گیا ہے، وہ انبیاء ہیں، صدیقین ہیں، شہداء ہیں، صالحین ہیں۔ تو انبیاء کا پہلا نمبر ہے۔ صدیقین کا دوسرا نمبر ہے۔ شہداء کا تیسرا نمبر ہے۔ اور صالحین کا چوتھا نمبر ہے۔ تو تیسرے نمبر کے لیے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کو مردہ گمان نہ کرو، اور دوسرے نمبر اور پہلے نمبر ان کے بارے میں ہم گمان کریں؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ فرمایا 33 فیصد نمبر والا پاس ہے، اور 66 فیصد نمبر والا فیل؟ یہ کیسی عجیب بات ہے؟ تو انہوں نے اس کو نقل اور عقل دونوں سے ثابت کر دیا۔ یہ عقل کی بات ہے۔ نقل اور عقل دونوں سے ثابت کر لیا۔ نقل تو حدیث شریف ہے۔ نقل حدیث شریف ہے۔ اور عقل وہ اس کے ساتھ یہ نکتہ کہ قرآن کی بات کو logic کے ساتھ، ملا دیا۔ کہ قرآن میں اگر شہداء کے لیے، مردہ نہ کہنے کا فرمایا ہے، بلکہ مردہ گمان نہ کرنے کا فرمایا ہے۔ تو جو انبیاء ہیں جو ان سے دو درجے آگے ہیں، ان کو کیسے ہم لوگ مردہ گمان کریں گے؟

                    دینی کمال

                    ارشاد: دین کا کمال تو یہ ہے کہ جہاں خدا کہے وہاں خوشی سے جان دو، ورنہ اپنی جان کو آرام دو۔

                    مطلب یہ ہے کہ اللہ کی، اللہ پاک کی بات کو آگے لائیں ۔اپنے نفس کی بات کو آگے نہ رکھو۔ تو جہاں اللہ چاہے، تو وہاں تو جان دینی چاہیے۔ مثلاً جہاد میں۔ لیکن فضول اپنے آپ کو riskمیں نہ ڈالو۔ خواہ مخواہ یہ wheeling وغیرہ جو کرتے ہیں بچے، یا اس قسم کے جو بہت جس کو کہتے ہیں risky کام لوگ کرتے ہیں، اس میں نہیں ڈرتے۔ تو یہ فضول ہے۔ یہ نہیں ہے شریعت کا طریقہ۔ وہاں پر بہادری یہ نہیں ہے کہ انسان اپنی جان کو نہیں، وہاں وہ والی بات نہیں ہے۔ وہ تو اللہ پاک نے نہیں کہا نا اس کے بارے میں۔ اللہ پاک کی آپ کے پاس امانت ہے۔ مثلاً آپ کو بہترین گاڑی کسی نے دے دی، اور اس کو کچھ کاموں کا کہہ دیا کہ ان کاموں میں استعمال کرو۔ تو ان کاموں میں استعمال ہوتے ہوتے اگر ختم ہو جائے تو آپ سے کوئی نہیں پوچھے گا۔ کیونکہ وہ perform کر رہا ہے جو کچھ جس کے لیے وہ دی گئی ہے۔ لیکن اگر آپ اس کو اپنے طور پر کسی چیز میں خراب کر دیں، تو پوچھیں گے، تم نے کیوں کیا؟ تو اس وجہ سے، جہاں پر کہا گیا ہے، وہاں پر جان دو۔ جہاں نہیں کہا گیا، وہاں پر اپنے آپ کو آرام بلکہ اس سے کام لو، جس کام کے لیے بنائے گئے ہیں، اس سے وہ کام لو۔



                    عقل کا کام اتنا ہے جتنا مشاطہ کا:

                    مشاطہ کس کو کہتے ہیں؟ مشاطہ اس کو کہتے ہیں جو میاں بیوی کے شادی کے وقت، ان کو آپس میں ملاتے ہیں۔ مثلاً دلہن کو اس کمرے میں پہنچاتے ہیں اس کو مشاطہ کہتے ہیں۔

                    ارشاد: عقل کا کام اتنا ہے جتنا مشّاطہ کا کام ہے کہ وہ دولہا دلہن میں وصال کراتی ہے اور دلہن کو بنا سنوار کر تیار کر دیتی ہے مگر وصال کے بعد الگ ہو جاتی ہے۔ اب اگر تانکے جھانکے تو جوتے کھائے گی۔ اسی طرح وصال کے ابتدائی مرحلے تک تو عقل ساتھ رہتی ہے مگر جب وصال شروع ہو گیا تو اس کے بعد عقل بے کار ہے، اب عشق ہی تنہا رہ جاتا ہے۔

                    مقصد یہ ہے کہ دیکھو، اللہ نے ہمیں عقل دی ہے الحمد للہ۔ اس عقل کے ذریعے سے ہم اللہ کو پہچان لیں۔ اس عقل کے ذریعے سے ہم اللہ کو پہچان لیں۔ اور اللہ کی صفات کو بھی جان لیں۔ پھر اللہ کی ان صفات سے متاثر ہو کر، اللہ پر عاشق ہو جائیں۔ دیکھ لیں، اگر عقل نہ ہوتی، جیسے بچے کو نہیں ہوتی، تو اللہ کو جان سکتے تھے؟ اس کے لیے تو والدہ ہی سب کچھ ہوتی ہے، جیسے ابھی گزرا ہے کہ اس کے لیے والدہ سب کچھ ہوتی ہے۔ لیکن جس وقت انسان بڑا ہو جاتا ہے، تو دنیا کو بھی پہچان لیتا ہے، اللہ کو بھی پہچان لیتا ہے، اگر وہ کوشش کرے تو عقل سے کام لے۔ دنیا کی بے ثباتی، یہ بھی عقل سے ہی سامنے آ سکتی ہے۔ دنیا تو بے ثبات ہے، مطلب کچھ بھی نہیں۔ آنی جانی چیز ہے، دنیا کی بے ثباتی۔ اور جو اللہ جل شانہ کی ذات کی پہچان، یہ بھی عقل سے سمجھ میں آ سکتا ہے۔ لہٰذا عقل جو ہے ان چیزوں میں استعمال ہو گی۔ نہ صرف ان چیزوں میں استعمال ہو گی، بلکہ دین کی خدمت میں بھی استعمال ہو گی۔ مثلاً فقہائے کرام جو تھے، یہ کون تھے؟ یہ بڑے عقل مند تھے۔ حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، یہ حضرات جو تھے، اگر ان کو کسی دنیاوی کام میں لگا دیتے، تو دنیا حیران ہو جاتی۔ ایسے کام کرتے اگر وہ دنیا کے لیے استعمال ہو جاتی وہ عقل۔ لیکن انہوں نے وہ عقل دنیا کے لیے استعمال نہیں کی۔ انہوں نے وہ عقل دین کے لیے استعمال کی۔ تو تب اللہ پاک نے ان سے اتنا بڑا کام لے لیا۔ صلاحیتوں کو پہچاننا، یہ بہت بڑی بات ہے۔


                    حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دفعہ ایک عجیب بات فرمائی۔ فرمایا: "دیکھو تم لوگ کہتے ہو کہ مولوی ایسے اور مولوی ایسے۔ اور یہ ایسے اور یہ ایسے۔" فرمایا، "دیکھو، جو کسی کام کا نہیں رہتا وہ ہمارے پاس بھیجتے ہو۔ جو تھوڑا بہت کسی کام کا ہوتا ہے اس کو دنیا کے کاموں میں بھیجتے ہو۔ تو فرمایا: جو کسی کام کا نہیں ہوتا، ان سے ہم کچھ بنا لیتے ہیں، اور پھر تم اس پر اعتراض کرتے ہو۔ تم ہمیں اپنے جیسے لوگ دو، پھر دیکھو نا کہ ہم ان سے کیا بناتے ہیں؟" بات بالکل صحیح ہے، حضرت کا شکوہ بالکل صحیح ہے۔ کیا یہ شکوہ صحیح نہیں ہے؟ کہ جو بھی ذرا کچھ کر سکتے ہیں، ان کو تو ۔۔جن کو سکول وغیرہ میں داخلہ نہیں ملتا اور ادھر ادھر بھاگتا پھرتا ہے، کہتے ہیں یار اس کو مدرسے میں بٹھا دو۔ چلو جی، کچھ نہ کچھ تو روٹیاں ادھر ادھر سے کما ہی لے گا۔ تو وہ بات نہیں ہے۔ کھاتے پیتے لوگوں کو لے آؤ نا، پھر دیکھو، جن میں عزتِ نفس موجود ہو۔ اور پھر وہ دین سیکھیں، پھر دیکھو کہ وہ کیسے بنتے ہیں۔ پھر ان کا دیندار ہونا کیسے ہوتا ہے، پھر پتہ چل جائے گا۔


                    ہم نے دیکھا ہے جو اچھے خاندانوں کے لوگ ہیں، جو سوچ سمجھ کر آتے ہیں دین کی محبت میں، ان سے اللہ پاک پھر بہت کام لیتے ہیں۔ پھر دنیا دیکھ لیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے کیسے ان کو قبول فرماتے ہیں۔ باقی جگہوں پر بھی اچھی طرح چل سکتے ہوں۔ جس طرح وہ ابھی ہمارے مفتی ظہیر صاحب ہیں۔ یہ میڈیکل کالج جا سکتے تھے۔ پل سے واپس کر کے آگئے والد صاحب نے یہ ان کو ڈالا تھا درس میں۔ تو دیکھیں وہ بہت Caliberکے مفتی ہیں۔ تو اس طریقے سے جو لوگ دوسری جگہوں پر بھی چل سکتے ہوتے ہیں، پھر ان کو جب درس میں ڈالا جاتا ہے، پھر ان کی بات الگ ہوتی ہے۔ اور جہاں جو دوسری جگہوں پہ نہیں چل سکتے، مطلب یہ ہے کہ ان کا IQ level کم ہوتا ہے کافی۔ وہ اگر آ جاتے ہیں تو دین کی برکت سے پھر بھی دوسرے لوگوں کے ممتاز ہوتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی یہ بات فرمائی کہ جو عقل ہے وہ اگر ایک انسان استعمال کر لے صحیح چیزوں میں تو پھر ما شاء اللہ اس سے اللہ پاک بہت کام لیتے ہیں۔ لیکن عقل کا کام صرف اتنا ہے کہ اللہ کی پہچان کرا دے۔ اور اللہ کی صفات کی پہچان کرائے۔ اس کے بعد پھر عقل کا کام ختم ہو جاتا ہے۔ پھر اب عشق ہی ہوتا ہے۔ پھر جتنا جتنا اللہ تعالیٰ نے اس کو محبت سے نوازا ہے، اتنا اتنا اس کا مقام آگے بڑھتا جائے گا۔ پھر عقل درمیان میں گھسے گی تو پھر مار پڑے گی۔ پھر عقل کو گھسنے نہیں دیا جائے گا۔ یہ والی بات ہے۔



                    درستگئ انتظام کا طریقہ:

                    ارشاد: آزادئ مطلق سے کبھی انتظام نہیں ہو سکتا، نہ دنیا کا نہ دین کا، بلکہ تابعیت اور متبوعیت ہی سے ہمیشہ انتظام درست ہوتا ہے۔

                    دنیا کے کام اور دین کے کام دونوں انتظام سے چلتے ہیں۔ اگر انتظام نہ ہو تو کام خراب ہو جاتا ہے۔ دنیا کی کسی بھی چیز کو لے لو۔ آپ دکانداری کو لے لو، کیا بے انتظامی کے ساتھ دکانداری ہو سکتی ہے؟ آپ ملازمت کو لے لو، کیا بے انتظامی سے ملازمت ہو سکتی ہے؟ آپ کسی اور اچھے کام کو لے لو، بے انتظامی سے کام خراب ہو جائے گا۔ یہ مولویوں کی تمام چیزوں پر اعتراض کرتے ہیں، میں کہتا ہوں بھئی ذرا دیکھ لو آرمی کے اندر جو لوگ ہوتے ہیں، کیسے وہ تمام protocols کو follow کرتے ہیں۔

                    وہ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ہمارے دفتر میں discussion ہو رہی تھی، رفیق تارڑ صاحب آ رہے تھے، صدر صاحب۔ تو ان کو وہ دینا تھا شیلڈ ۔ اس کے اوپر جو لکھنا تھا نا اس کے اوپر بڑے بڑے لوگ، professor level کے لوگ، مسلسل discuss کر رہے تھے آدھا پونہ گھنٹہ کہ ایک point تھا، اس پر comma لگانا چاہیے یا نہیں لگانا چاہیے؟ comma کے اوپر discussion ہو رہی تھی۔ ہمارے یوسف صاحب ذرا تھوڑے سے مزاج میں تیز تھے۔ وہ پروا نہیں کرتے ان کی ۔ تو انہوں نے کہا جب ہم مستحب کی بات کرتے ہیں نا، تو تم ہمیں چھیڑتے ہو کہ یہ کیا بات ہے! اب یہ کیا چیز ہے؟ یہ فرض ہے؟ اس پر تم اتنے وقت سے لگے ہوئے ہو۔ اب اس کو دیکھو نا، comma کے اوپر تم اتنی ساری discussion کرتے ہو، بھئی کیا ہو گیا؟ انسان ہے نا، چلو غلطی ہو جائے۔ کوئی بات نہیں۔


                    تو یہ والی بات ہے کہ priorities اپنی اپنی ہوتی ہیں۔ تو انتظام تو ہر جگہ پر ہے۔ لیکن کہاں کا انتظام کوئی ٹھیک سمجھتا ہے اور کہاں کا انتظام ٹھیک نہیں سمجھتا۔ یہ اس کی priority ہوتی ہے۔ مجھے ایک آدمی کے ساتھ بہت زبردست ما شاء اللہ میرا تعلق، رشک ان پہ آیا۔ اس صاحب نے سوات میں ایک مسجد اور خانقاہ بنائی ہے۔ بہت پُرفضا مقام پہ بنائی ہے، ما شاء اللہ میرے پیچھے آ گیا اور کہا، آپ ہمارے پاس سوات میں آئیں۔ ہم نے آپ کے لیے گرمائی خانقاہ بنائی ہے، گرمیوں کے لیے، تو آپ آ کر اس کا افتتاح کریں۔ تو میں نے قاری نوراللہ صاحب سے عرض کیا کہ وہ سوات کے تھے، کہ بھئی چلتے ہیں ان کے پاس۔ تو ایک دن ہم ان کے پاس چلے گئے۔ چلے گئے، تو واقعی افتتاح ہو گیا، وہاں ذکر ہو گیا، نماز بھی پڑھائی، سب کچھ انتظام ہو گیا تھا۔ وہ بہت خوبصورت خانقاہ بنائی تھی اور بہت خوبصورت مسجد ہے۔ بہت خوبصورت مسجد۔ قیمتی لکڑی اس میں استعمال ہوئی ہے، دوسری بہت قیمتی چیزیں استعمال ہوئی ہیں۔


                    تو اس نے پھر اس کی وجہ بتائی۔ کہتے ہیں: مجھے گھر میں کوئی بھی چیز ایسی نظر آتی جس کے لیے میں کہتا کہ یہ بہت اچھی چیز ہے، ہمارے گھر میں ہونی چاہیے۔ تو مجھے غیرت آتی کہ اللہ کے گھر میں نہ ہو اور میرے گھر میں ہو؟ تو کہتے ہیں، میں اس کو مسجد لگا لیتا تھا۔ تو واقعاً، میں نے دیکھا کہ ان کا گھر بھی ان کا بڑا خوبصورت تھا ان کا، ظاہر ہے وہ بڑے بہت کھاتے پیتے لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔ گھر بھی ان کا واقعاً بہت خوبصورت تھا بھئی، پرانا style جو نوابی خاندان جیسے ہوتے ہیں نا ان کے جیسے گھر ہوتے ہیں، اس طرح گھر تھا ان کا۔ لیکن انہوں نے مسجد بھی اس طرح بنائی ہوئی تھی۔ تو یہ میں عرض کرتا ہوں کہ یہ واقعاً priorities کی بات ہے نا کہ کون کس چیز کو priority دیتا ہے۔ یعنی بعض دفعہ اگر آپ دیکھیں بعض گھروں میں جائیں، تو toilet اتنے زیادہ مزیدار، خوبصورت بنائے ہوتے ہیں، لگتا ہے جیسے ان کا bedroom ہے۔ یہاں سونا چاہتے ہوں گے۔ اتنا خوبصورت بنایا ہوتا ہے۔ اور باقی چیزوں کے بارے میں وہ کہتے ہیں یہ کیا ہے، اس پر اتنا خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ایسا ہوتا ہے۔ تو یہ priorities کی بات ہے، جس کی priority جس چیز میں ہوتی ہے تو اس کے لحاظ سے پھر وہ اس پر خرچ کرتے ہیں۔ بہرحال انتظام جو ہے یہ دونوں چیزوں کے لیے ضروری ہے۔


                    انتظام۔ انتظام سے مراد یہ ہےکہ؛ چیزوں کو اس طرح رکھنا جس طرح اس سے کام بہترین، کم پیسے سے، کم وقت میں، کم کوشش سے زیادہ سے زیادہ کام لینا۔ یہ ہے انتظام۔ یہ انتظام ہے۔ کیونکہ کام تو پھر بھی ہو جاتا ہے اگر بے انتظامی سے ہو گا، لیکن late ہو جائے گا، کم ہو جائے گا یا خراب ہو جائے گا۔ یہی ہوتا ہے نا۔ تو کہتے ہیں کہ:


                    ہر چہ دانا کُنَد، کُنَد ناداں

                    لیک بعد از خرابیِ بسیار

                    "جو نادان کرتا ہے، وہی کرتا ہے جو دانا کرتا ہے لیکن بہت ساری خرابی کے بعد"۔

                    بہت سی خرابی جب ہو جائے گزر جائے، اس کے بعد پھر وہ وہی کام کرتا ہے۔ تو ظاہر ہے انتظام تو نہیں آنا۔ انتظام میں جو ہوتا ہے، وہ ما شاء اللہ چیزوں کا صحیح استعمال، لوگوں کا صحیح استعمال، وقت کا صحیح استعمال۔ جیسے کہتے ہیں نا تین چیزیں ہوتی ہیں: موقع شناسی، محل شناسی، مردم شناسی۔ موقع شناسی، محل شناسی، مردم شناسی۔ یہ تین چیزیں ایک شخص کی کام کرنے کے لیے ضروری ہیں جو لیڈرز ہوتے ہیں ان کے لیے۔ یعنی وہ موقع جانتے ہوں کس موقع پہ کیا کرنا ہے۔ فوتگی ہو چکی ہے کسی کی وہاں لطیفہ سنائے۔کیا کہیں گے لوگ؟بہت ہی فضول ہے

                    اور خوشی کے موقع پر کوئی غم کی باتیں کرے۔

                    لوگ کیا کہیں گے؟

                    اس طریقے سے مسجد میں سودا سلف اور بازار کے اندر، درمیان میں کوئی مصلیٰ بچھائے۔ہر چیز کی اپنا اپنا اپنی اپنی جگہ ہے۔تو یہ ساری چیزیں جو ہیں نا موقع شناسی میں آتی ہیں۔ محل جگہ کی بات ہے کہ جگہ کو پہچانو، اورمردم شناسی؛ کس سے کیا بات کرنی ہے۔


                    مثلاً محبت ہی کو لے لو۔ بیوی کے ساتھ محبت اور ہے، ماں کے ساتھ محبت اور ہے، بیٹی کے ساتھ محبت اور ہے، بہن کے ساتھ محبت اور ہے۔ ہر ایک کے ساتھ محبت ہے۔ مثلا: آپ ﷺ کے بارے میں اکثر discussion ہوتی ہے نا کہ سب سے زیادہ کس کے ساتھ محبت تھی؟ تو ظاہر ہے اس پر فیصلہ کیسے آسان ہے؟ بھئی آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات بھی تھیں، آپ ﷺ کی بیٹیاں بھی تھیں، آپ ﷺ کے اور،تو ہر شخص کے ساتھ ہر ایک کے ساتھ اپنی اپنی محبت تھی۔ تو یہ چیز یہ ہے کہ ہر ایک کے ساتھ اپنی اپنی جو deal ہوتی ہے وہ ضروری ہوتی ہے۔ ایک دیہاتی شخص کے ساتھ اس طریقے سے بات کی جائے گی اور شہری آدمی کے ساتھ اس طریقے سے بات کی جائے گی۔


                    اور ایک دفعہ حضرت ڈاکٹر فدا صاحب کی جماعت چل رہی تھی۔ تو باہر چرسی بیٹھے ہوئے تھے۔ چرسی نہیں ہوتے جو جمع ہوتے ہیں آپس میں وہ بیٹھے ہوئے تھے۔ تو حضرت گئے اور ان سے کہا کہ یہ تم ادھر کیوں بیٹھے ہو؟ جاؤ مسجد میں چلے جاؤ۔ لوگ آئے ہوئے ہیں وہاں پر ان کی باتیں سنو۔ تو وہ سارے اٹھے اور مسجد جانے لگے۔ کہتا ہےنہیں، پہلے، وضو کرو۔ وضو کروا دیا۔ کہتے ہیں: نماز پڑھو۔ نماز پڑھ لی۔ کہا: ادھر بیٹھ جاؤ۔ تو حضرت نے فرمایا کہ ان لوگوں کے ساتھ اس طرح بات کی جاتی ہے۔ اگر آپ ان کے ساتھ یہ بات کی نا کہ مہربانی کر کے آپ تشریف لائیں تو یہ نہیں آئیں گے۔ لیکن جو ذرا تھوڑا سا، وہاں کا بڑا ہو، ان سے اس طرح کے لہجے میں بات ہو سکتی ہے؟ ان کا اپنا style ہو گا۔

                    تو مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کے ساتھ اس طریقے سے بات کرنا جس طریقے سے بات کرنے سے کام زیادہ بہتر ہو سکتا ہے، یہ ہر ایک چیز کا اپنا اپنا معیار ہوتا ہے۔ تو موقع شناسی، محل شناسی، مردم شناسی۔


                    علامہ اقبال نے بھی کہا ہے:


                    نگاہ بلند، سخن دلنواز، جاں پُرسوز

                    یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے


                    مطلب یہ ہے کہ broad planning، اور بہت صحیح طریقے سے convince کرنا۔ اور لوگوں کا خیال رکھنا، یہ تینوں چیزیں ہوں، پھر یہ ہے کہ اب مثال کے طور پر آپ محلے کے لیول پر کام کر رہے ہیں تو پھر محلے کا سوچیں گے۔ لیکن اگر آپ کو شہر کی ذمہ داری دی گئی ہے، پھر کیا سوچیں گے؟ پھر شہر کے لیے، پھر اپنے محلے کا نہیں سوچیں گے۔ پھر پورے شہر کا سوچیں گے۔ اور اگر آپ کو ملک کی ذمہ داری دی گئی ہے تو پھر آپ پورے ملک کا سوچیں گے، صرف اپنے شہر کا نہیں سوچیں گے۔ تو یہ ہر ایک چیز کا اپنا اپنا انتظام ہوتا ہے۔

                    زوال سلطنتِ مغلیہ کا سبب اکبر ہے:

                    ارشاد: سلطنت کا زوال عالمگیر سے نہیں ہوا، بلکہ اکبر نے اس کو زائل کیا ہے۔ اس نے غیر قوموں کو سلطنت میں دخیل کار بنا کر ان کے ہاتھوں میں سلطنت کی باگ دے دی۔

                    مقصد یہ ہے کہ حضرت یہ بات کرنا چاہتے ہیں کہ چونکہ عالمگیر کے بعد بہت بڑا زوال ہو گیا۔ یعنی بہت جلدی decline ہو گئی۔ اب دیکھ لیں، سوچنے کا اپنا اپنا انداز ہے۔ تو عام لوگ تو کہیں گے کہ عالمگیر کی وجہ سے زوال ہوا۔ حالانکہ عالمگیر کی وجہ سے زوال نہیں ہوا۔ زوال تو اکبر نے start کرایا تھا، کیونکہ انہوں نے ہندوؤں کو involve کر دیا۔ ان تمام چیزوں میں، اور عورتیں involve ہو گئیں۔ ہمایوں کی وجہ سے شیعہ involve ہو گئے۔ وہ آ گئے ایران والے involve ہو گئے۔ تو اب یہ جو سلسلہ چل پڑا، اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ نے تو مردانہ وار لڑ کر نوے سال کی عمر میں بھی ان تھک محنت کر کے اس چیز کو روکا۔ اس سیلاب کو جو خراب ہو گیا تھا سب کچھ۔ کیونکہ ہر طرف ریشہ دوانیاں تھیں۔ ان کے بھائی دوسروں کے ایجنٹ بن چکے تھے۔ ان کے والد شکار ہو گئے تھے۔ ہر ایک کے ساتھ ان کو لڑنا پڑا۔ 92 سال کی عمر میں۔ اس وقت بھی جہاد میں لگا ہوا تھا۔ تو گویا کہ اس سلطنت پر 50 سال حکومت کی غالبًا دیکھا، اور اتنے بڑے علاقے پر وہ اتنے بڑے سیلاب کو روکے رکھا۔ یہ تو ان کی بات ہے۔ یعنی جیسے ہوتا ہے نا ایک بڑی دیوار گر جائے، تو پھر تو advance کرنا آسان ہوتا ہے نا۔ تو یہ اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ ہی تو بڑی دیوار تھی اس وقت۔ جب وہ گر گئی تو پھر جو تھا وہ تو سارا کچھ ہو گیا، جو ہونا تھا۔ تو یہی بہت بڑا ثبوت ہے کہ اس نے تو روکے رکھا تھا۔ اس نے تو روکے رکھا تھا۔ بعد میں چونکہ اس طرح کوئی نہیں آیا، نتیجتاً بس، پھر چونکہ خراب ہو گیا تھا، لہٰذا جیسے دیمک کوئی چیز کو کھا جائے۔ تو ایک آدمی گزارا کر لیتا ہے کر لیتا ہے، حساب کر لیتا ہے اس کے ساتھ، لیکن جب وہ شخص چلا جائے اور وہ اس کا پھر خیال نہ رکھ سکے تو پھر تو جو کچھ ہو چکا ہو، وہ تو ہو چکا ہوتا ہے۔


                    تو حضرت یہ فرما رہے ہیں کہ اصل میں زوال جو تھا سلطنت کا، اکبر نے لیکن باقی لوگ ایسی بات نہیں کریں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باقی لوگ ان چیزوں کو برا کہتے ہی نہیں جو اکبر کہہ رہا تھا۔ وہ secular ذہن کے لوگ ہوں گے، وہ تو کہیں گے اکبر was the best, great Mughal Emperor. وہ تو کہیں گے، کیونکہ ان کی سوچ اور اکبر کی سوچ ایک ہے۔ لہٰذا وہ تو کہیں گے کہ بھئی اکبر best تھا۔ لیکن اکبر کیسے best تھا؟


                    اب دیکھیں ہمارے دور میں پاکستان کے اندر جو زوال آیا ہے، کیسے آیا؟ یہی کہ دوسروں کو دخیل کر لیا نا۔ دوسرے آئے ہیں ہمارے فیصلے کرنے کے لیے۔ independence ہماری ختم ہو گئی۔ لہٰذا اب ہر فیصلہ جو کرتے ہیں، دوسروں کے کہنے پہ کرتے ہیں۔ نتیجتاً وہ فیصلہ صحیح نہیں ہوتا۔ وہ تو ان کے interest کا ہوتا ہے، ہمارے interest کا تو نہیں ہوتا۔ تو پھر ایسے ہو گا، جیسے ہو رہا ہے۔ آزاد thinking تو ہے ہی نہیں۔ جو بھی آزاد thinking والے ہیں ان کو اڑا دیا جاتا ہے۔ بلکہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ جیسے اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ وہ لڑ رہا تھا، تو آج کل کے دور میں یہ ہے کہ جتنا ان کے ساتھ bluff کیا جا سکتا ہے، تو تب تک چیز رکی رہتی ہے۔ اور جو نہ کر سکے بس وہ۔ تو یہی معاملہ ہوتا ہے نا آج کل تو، کیونکہ ہر چیز میں دخیل ہو گئے ہیں، ہر چیز میں وہ دخیل ہو گئے۔ تو بلکل وہی بات ہے تو جس نے پہلے ابتدا کی ہے۔اس ظالم نے پاکستان کا کباڑہ کردیا ۔ جس نے پہلے ان کو داخل ہونے دیا ہے۔اس نے کیا ہے نا ۔ ابتدا تو اس نے کی ہے۔ اس کے بعد پھر یہ سارا سلسلہ شروع ہوگیاپھر اس کے بعد جو بھی آتا گیایہ سلسلہ چلتا گیا۔



                    سادگی کی تعلیم۔ امتیازی شان نہیں بنانا چاہیے۔ اس لیے ہمارے بزرگ نہ عبا پہنتے ہیں، نہ چوغا، نہ صدری کی۔ اس سے خوامخواہ آدمی دوسروں سے ممتاز معلوم ہوتا ہے۔ ہم نے اپنے اکابر کو صدری پہننے کا عادی نہیں دیکھا، یہ رواج عموم و لزوم کے ساتھ آج کل ہی نکلا ہے۔ اس کو بھی لوگوں نے علماء کا خاص امتیازی شعار بنا لیا ہے۔


                    دیکھیں مل جائے، پہن لیا، کوئی حرج نہیں ہے۔ اس کے پیچھے پڑنا کہ خوامخواہ ایسا ہو، پھر ہوگا، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ حضرت، آپ ﷺ نے بھی بڑے قیمتی قیمتی کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ لیکن جب آ گئے تو پہن لیا ان کے لیے۔ ورنہ عام طور پہ تو سادہ لباس ہوتا تھا۔ تو اسی طریقے سے، اگر کبھی کبھی آ جائے، تو چلو انکار بھی نہ کریں، اللہ کی نعمت ہے اس کو استعمال کر لیں۔ لیکن اس کو خوامخواہ اپنا ایک style بنانا۔ یہ جو آج کل جو میرے پیچھے بھی پڑا یہ جو آج کل جو مطلب وہ بنایا جاتا ہے نا کہ خوامخواہ خطبہ کے ساتھ بڑے چغہ شاغہ پہن لیتے ہیں۔ یہ نہیں ہے۔ یہ نہیں ہے، کون سے صحابی نے ایسا کیا ہے؟ کون سے؟ آپ ﷺ نے کب کیا ہے؟ تو اس طریقے سے پھر کہاں بات پہنچتی ہے۔

                    بس آج کل کے دور کی بات ہے اس کے بعد کی بات ہے۔ ہاں جی، ٹھیک ہے پہن لیا اور اب یہ میرے پاس تقریباً چار پانچ سال سے پڑا ہوا تھا۔ کسی نے سعودی عرب سے بھیجا تھا۔ ہاں جی۔ تو گھر والوں نے اس دفعہ نکالا، کہتے ہیں کہ یہ کپڑا کافی گرم ہے اور سردی زیادہ آگئی ہے تو آپ اس کو پہن لیں، گا اور سامنے بیٹھیں گے تو یہ مطلب سردی آپ کو نہیں لگے گی۔ تو بات ان کی معقول تھی۔ میں نے پہن لی ہے کیونکہ پرانی نعمتوں کا انکار تو نہیں کرنا چاہیے۔ ہاں لیکن یہ والی بات ہے کہ یہ ہمارا سٹائل نہیں ہے۔ کہ اس کو پہن کے خطبہ دینا اور اس کو پہن کے جو ہے نا مطلب ایک پوری شان بنانا یہ والی بات نہیں ہے۔ ہاں جی۔ شان اسلام کی، مسلمانوں کی بنتی ہے اسلام کی قوت کے ساتھ۔ یہی ہے نظر کا وعلیکم السلام۔ بس ٹھیک ہے چلیں یہ عمرے پہ جا رہے ہیں۔ چلو دعا کر لیتے ہیں آپ کی کہ خیر و عافیت سے روانہ ہو جائیں۔


                    الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین اے اللہ اپنے فضل و کرم سے ان کو خیر و عافیت کے ساتھ زندہ باد (صحیح سلامت) تک نصیب فرما دے (آمین)۔ ان کا عافیت والا سفر نصیب فرما دے (آمین)۔ ان کی عافیت کے ساتھ حجاب اور عافیت کے ساتھ واپسی اور یا اللہ العالمین اس کو خیر و عافیت اور جملہ برکات نصیب فرما دے اور ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق عطا فرمائے (آمین)۔ یا اللہ العالمین پوری امت کے لیے دعاؤں کے اہتمام کرنے کی ان کو توفیق عطا فرمائے۔ اور یا اللہ عمرہ صحیح طریقے سے کرنے کی توفیق عطا فرما۔ جو جو اعمال ہیں، یا اللہ ان کو صحیح طریقے سے کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اور بالخصوص اس مقصد کے لیے جو مناسک ہیں، یعنی تیری محبت خاص یا اللہ العالمین وہ بھی یا اللہ ان کو اور ہم سب کو نصیب فرما۔ سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین۔


                    ان کو روکتے نہیں کیونکہ ان کی فلائٹ کا مسئلہ ہے بس ٹھیک ہے اللہ حافظ۔


                    دین کی عزت پر سارا مال قربان۔ فرمایا: وَاللّٰهِ لاکھ اور کروڑوں روپے بھی ملتے ہوں، مگر دین کی عزت اس کے لینے سے کم ہوتی ہو، تو ایسی صورت پر لعنت بھیجنی چاہیے۔ اور مانگنا تو درکنار۔

                    اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس جرم سے محفوظ فرمائے۔ بہت بڑی خطرناک بات ہے۔


                    خلوت کی ضرورت ہر سالک کے لیے۔ فرمایا: ہر سالک کے لیے ایک وقت خلوت کا ہونا ضروری ہے جس میں وہ یکسوئی کے ساتھ ذکر و فکر میں مشغول ہو۔ حضور ﷺ سے زیادہ کون ہو گا؟ آپ نے بھی اپنے لیے ایک وقت خلوت کا مقرر کر رکھا تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ رات کے وقت سب سو جاتے تھے تو اٹھ کر نماز وغیرہ میں مشغول ہوتے تھے۔ جن لوگوں کا وقت خلوت کے لیے مخصوص نہیں ہوتا، رفتہ رفتہ ان کا قلب انوار سے بالکل خالی ہو جاتا ہے۔


                    یہ بہت ضروری ہے۔ خلوت جو ہے، یہ مطلب ایک ہوتا ہے خلوت کیا ہے؟ وہ اللہ کے ساتھ بیٹھنا ہے۔ یعنی جلیس، جو ذاکر ہوتا ہے، وہ جلیس ہوتا ہے اللہ کا۔ تو اس وجہ سے، جو خلوت میں بیٹھا ہو گا، تو ویسے تو خلوت نہیں ہے نا۔ جو گیا بھی کدھر، ویسے بیٹھا ہو گا تو ذکر کر رہا ہو گا نا؟ تو ذکر کر رہا ہو گا، استغفار کر رہا ہو گا، تلاوت کر رہا ہو گا، مراقبہ کر رہا ہو گا، تو وہ اللہ کے ساتھ ہو گا۔ تو زیادہ تر اللہ کے ساتھ بیٹھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ تھوڑی دیر باقی لوگوں کے ساتھ۔ لیکن بہرحال اگر زیادہ دیر نہیں ہو سکتا تو چلو کچھ نہ کچھ وقت تو اس کے لیے انسان کو نکالنا چاہیے تاکہ اللہ جل شانہ کی طرف سے مدد مستقل بحال رہے اور اس کا دل بھی جو ہے انوارات سے بھرا رہے۔


                    اَلْجَلِيسُ الصَّالِحُ خَيْرٌ مِنَ الْوَحْدَةِ، کے معنی۔ فرمایا: بس ایک کو اپنا بزرگ بنا لو اور جم کر اس کے پاس رہو۔ اور اس کے پاس بھی زیادہ آمد و رفت نہ کرو، بلکہ ایک دفعہ بہت سا رہ لو۔ پھر اپنے گھر بیٹھو۔ برس میں ایک دفعہ مل لینا۔ اور ہر مہینے بھی اس کے پاس نہ جاؤ۔ اس مشہور کا راز یہ ہے کہ جلیسِ صالح سے ملنا، اصلاح کے لیے مقصود ہے۔ تو جب تک اصلاحِ اخلاق سے انسلاک موجود، حاصل ہو، اس وقت تک اس سے ملنا وحدت سے بہتر ہے۔ اگر کبھی بزرگوں کی زیارت سے اصلاح نہ ہو، بلکہ فساد بڑھنے لگے تو اس وقت اختلاطِ صالح سے بھی منع کریں گے۔


                    مثلاً زیارت نام کو ہو اور مقصود سیر و سیاحت ہو۔ یا عمدہ کھانے کا ملنا ہو، اور راہ میں خلل پڑتا ہو تو اپنے سفر کی وجہ سے معذور سمجھتے ہوں۔ حالانکہ مسافر وہی معذور ہے جو ضرورت کی وجہ سے سفر کرے۔ بعض دفعہ بزرگوں کے پاس حالت دیکھ کر، اس سے قلب میں انکار پیدا ہو جاتا ہے۔ جو سخت وبال کا باعث ہے۔ اس سے بعض دفعہ ایمان بھی سلب ہو سکتا ہے۔


                    یہ اصل میں حضرت نے ان لوگوں کے لیے فرمایا ہے جو دور دور سے آتے ہیں۔ اب دیکھیں انہوں نے اس میں بہت ساری باتیں۔ اس کی آ گئی۔ مثلاً کوئی کراچی سے آ رہا ہو، کوئی راولپنڈی سے آ رہا ہو، نہیں وہ پشاور سے آ رہا ہو، یا کوئی فیصل آباد سے آ رہا ہو، جو دور دور جگہیں ہوتی ہیں۔ اب اگر وہ اس طرح آمد و رفت مسلسل کرنے لگے تو اس سے ان چیزوں کا حرج ہونے لگے گا۔ کیونکہ ہر وقت ان چیزوں کا حرج نہیں کیا جا سکتا نا۔ تو باقی اپنے شیخ کی بات مطلب اپنی ہے۔ وہ علیحدہ بات ہے۔ وہ تو حضرت کے ساتھ لوگ ملا کرتے تھے۔ جو حضرت کے اپنے شہر کے ہوتے تھے، بلکہ مستقل طور پر حضرت کے ساتھ وہ بیٹھے ہوتے تھے جو حضرت کی مجلسیں ہوتی تھیں، اس میں شریک ہوتے تھے۔


                    تو یہ ہے کہ دور دور والوں کے لیے یہ بات ہے۔ مجھے ایک دفعہ ایک صاحب نے بڑی اچھی بات بتائی اپنے ساتھیوں میں کہ وہ کہتے ہیں فرمایا کہ میں انٹرنیٹ پر ایک دفعہ حضرت affect ان کا وہ ہے۔ تو میں وہ سن رہا تھا، آپ کا بیان۔ تو بہرحال یہ ہے کہ وہ سن رہا تھا۔ تو کہتے ہیں مجھے پتا چل گیا کہ یہ انٹرنیٹ کا جو بیان ہے وہ ہمارے لیے نہیں ہے۔ یہ دور والوں کے لیے ہے۔ کہتا ہے مجھے پتا چل گیا کہ اتنا نہیں مل رہا ہوتا جتنا کہ وہاں بیٹھ کر مل رہا ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں جو طلب ہوتی ہے، اس کی وجہ سے۔


                    اس کی ایک آسان مثال، آسان طریقہ ہے سمجھنے کا۔ وہ یہ ہے کہ شیخ کے مزاج کو اپنایا جائے۔ کہ وہ کیا چاہتا ہے؟ اگر وہ بہت مصروف آدمی ہے جیسے مولانا تقی عثمانی صاحب ہیں۔ اور وہ تو ان کے بہت سارے اور کام ہیں، مطلب کتابیں لکھنا اور دوسری چیزیں، ان کے بہت سارے کام ہیں۔ اب ان کے پاس آپ ہر وقت اور ان سے مجلس چاہیں گے نا تو وہ تو ممکن نہیں ہے۔ ان کے دل پہ بوجھ ہو گا نتیجتاً نقصان ہو گا۔ تو ان کے ساتھ تو بالکل یہی طریقہ کار جیسا حضرت نے فرمایا۔ لیکن جن کا باقاعدہ ایک مشینری کام ہو اور ایک جماعت تیار کرنا مقصود ہو، اس سے یہ ہے کہ لوگوں سے کام لینا مقصود ہو، تو وہ پھر ایک علیحدہ چیز ہوتی ہے۔


                    کیونکہ آج کل کے دور میں یہ باتیں تو ہیں نہیں کہ خانقاہ میں پورا وقت لگانے کے لیے کوئی دو سال لگا دے۔ وہ چیزیں تو اب، اب نہیں ہیں نا؟ وہاں پہلے تو اس وقت یہ ہوتا تھا۔ ہاں، لگا لیتے تھے۔ پھر اس کے بعد ان کو فارغ کر دیا کہ اچھا اب جاؤ اپنا کام کرو۔ ہمارے سامنے مثال حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَيْهِ کی ہے۔ کہ حضرت کو اتنی زبردست صلاحیت حاصل تھی کہ 24 گھنٹے میں ان کو خلافت مل گئی تھی۔ اس کے باوجود 20 سال تک حضرت کے ساتھ رہے۔ تو اللہ پاک نے پھر اس level کا کام بھی لے لیا ان سے۔ پورے 90 لاکھ لوگ ان کے ہاتھ کے ذریعے سے مسلمان ہو گئے اس دور میں۔ تو یہ معمولی بات تو نہیں ہے۔ تو یہ چیزیں ہیں، مطلب ان کو سمجھنا چاہیے کہ مزاج کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کیا کرتا ہے کیوں۔ وجہ کیا ہے کہ تصوف میں، وقت کی جو حالت کا جو ہوتا ہے مطلب یعنی، اتارا جاتا ہے، شیخ پر۔ تو اس وقت کیا کرنا چاہیے؟ یعنی جس شیخ سے جو کام لینا ہوتا ہے، اس کے دل پر وہ چیز اتاری جاتی ہے۔


                    تو اب ظاہر ہے مطلب ایک، کوئی کتاب میں دیکھے گا تو اس کا تو وہ تو اس کے لیے نہیں تھا نا۔ وہ تو کسی اور کے لیے تھا، جس کے لیے تھا اس کو پہنچ گیا۔ لیکن اس کے لیے جو کچھ ہے وہ وہی ہے۔ اور اس پر سب الحمد للہ صوفیاء متفق ہیں۔ جتنے بھی مشائخ ہیں اس پر متفق ہیں کہ اپنے شیخ کی بات مانو۔ اپنے شیخ کی بات مانو۔ کیونکہ وجہ یہ ہے کہ وہ آپ کے لیے بہتر بتا سکتا ہے۔ وہ آپ کو وہ چیز بتا سکتا ہے جو اللہ پاک نے اس کے دل پر آپ کے لیے بھیجی ہے۔ باقی لوگ تو، باقی لوگ تو آپ کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ ذمہ دار تو اللہ پاک نے اس کو بنایا ہے۔ تو جس کو اللہ پاک نے ذمہ دار بنایا ہوتا ہے، اس کی مدد بھی کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ پھر معاملے بھی اس طرح رکھتے ہیں۔


                    تو یہ بہت اہم بات ہوتی ہے سمجھنا۔ اس وجہ سے کہتے ہیں کہ کتابوں کا پڑھنا جو ہوتا ہے وہ ہر وقت کام نہیں دیتا۔ اس کے اندر descriptions جو ہوتی ہیں وہ، وہ detail طالب ہوتی ہیں۔


                    تعزیت کا طریقہ۔ تعزیت میں بس خاص خاص چیزوں کو جاننا چاہیے جس سے وارثوں کو تسلی ہو۔ باقی لوگوں کو حد سے تعزیت کرنی چاہیے۔ حضور ﷺ کی مثال۔ آپ ﷺ نے، بشرط یہ ہے، مگر ایسے جیسے ایک بزرگ نے کہا کہ `بَشَرٌ كُلُّ بَشَرٍ، بَلْ هُوَ كَالْيَاقُوتِ بَيْنَ الْحَجَرِ`۔ یعنی پتھروں کے اندر درمیان جیسے یاقوت ہوتا ہے۔ وہ بھی تو پتھر ہی ہے، لیکن وہ پتھر تو اور ہے نا۔ تو اسی طرح مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ بشر تو ہیں لیکن وہ ہر بشر دوسرے بشر سے مختلف ہوتا ہے۔ یعنی ایسا تو نہیں، بشر تو سارے ہیں لیکن ہر ایک جیسا تو نہیں ہوتا۔ تو اس طرح جو ان میں، اولیاء اللہ جو ہوتے ہیں وہ ممتاز ہوتے ہیں۔ پھر اولیاء اللہ میں پھر صحابہ ممتاز ہیں۔ صحابہ میں پھر، انبیاء ممتاز ہیں۔ اور جو انبیاء ہیں ان میں پھر خاتم النبیین ﷺ کی شان۔ تو اگر دیکھا جائے تو اس طریقے سے، پھر کہاں بات پہنچتی ہے۔


                    تاخیرِ مقصود حکمت۔ فرمایا حکمت کا مقتضیٰ ہے کہ مقصود جلدی عطا نہ ہو۔ اور علوم میں شَيْئاً فَشَيْئاً تزايد ہوتا رہے۔ کیونکہ قاعدہ ہے کہ مستقر پر پہنچنے کی قدر زیادہ اسی کو ہوتی ہے جس کو سفر میں زیادہ تکلیف ہو۔ مطلب یہ ہے کہ جو چیز مستقل، آسان بات ہے، جس چیز پہ جان، مال اور وقت زیادہ لگے، اس کی زیادہ قدر ہوتی ہے۔ اس پہ جان، مال اور وقت زیادہ لگے۔ یہ تین چیزیں ایسی ہیں جو قیمتی ہیں۔ سب سے زیادہ قیمتی ہیں۔ اور جس پر یہ لگ جائے تو وہ چیز قیمتی بن جاتی ہے اس کے لیے۔


                    اطاعت کی بھی ایک حد ہے۔ فرمایا، اطاعت کی بھی ایک حد ہے جب اس میں تجاوز ہو تو اطاعت باقی نہیں رہتی۔ اس لیے فقہاء نے فرمایا ہے کہ جو شخص گیہوں کے ایک دانے کی تشہیر کرے تو اس کی تعزیر، تذلیل کی جائے گی۔ کیونکہ اس کی تشہیر کا منشا، غُلُوٌّ فِي الْمُرُوءَةِ وَالتَّقْوَىٰ ہے۔ مطلب اس نے اس کو مذاق بنا لیا۔ اب ایک دانہ ہے، کہہ رہا ہے جی یہ کس کا ہے؟ یہ کس کا ہے؟ یہ کس کا ہے؟ کیا مطلب ہے؟ کوئی اس کی پرواہ کرے گا، کوئی اس کا پوچھے گا؟ آج کل تو میرے خیال میں کسی سے دس روپے بھی گم ہو جائیں تو پرواہ نہیں کرتے، کہ بھئی دس روپے گم ہو گئے ہیں۔ تو جو چیز کچھ ہو، تو اس کو مطلب یہ ہے کہ اس کو پھر کر لیں۔ ایسے لوگ جو کرتے ہیں، عموماً عوام میں جو اس قسم کے کرتے ہیں، وہ جب بڑی چیز ملتی ہے، اس کا نہیں کرتے۔ چھوٹی چیزوں کا ہی کرتے ہیں۔


                    إِحْدَاثٌ فِي الدِّين اور إِحْدَاثٌ لِلدِّين کی شرح۔ فرمایا: إِحْدَاثٌ فِي الدِّين اور شے ہے اور إِحْدَاثٌ لِلدِّين اور شے ہے۔ یعنی ایک تو یہ صورت ہے کہ نئی بات کو دین میں داخل کیا جائے جیسے مولود، فاتحہ وغیرہ۔ یہ تو بدعتِ محرمہ ہے، یعنی حرام ہے۔ اور ایک یہ صورت ہے کہ نئی بات دین کی حفاظت کے لیے ایجاد کی جائے، جیسے ہر زمانہ میں نئے نئے اسلحہ کی ایجاد۔ کیونکہ پرانے اسلحہ آج کل کارآمد نہیں، یا دین کی حفاظت کے لیے مدارس وغیرہ قائم کرنا۔ یہ بدعت نہیں ہے، کیونکہ ان کو دین میں داخل کر کے جزوِ دین نہیں بنا دیا گیا۔


                    یعنی اس کو دین سمجھا نہیں گیا۔ اس کو دین پر آنے کا یا دین پر قائم رہنے کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ تو یہ اصل میں بنیادی چیز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک تو یہ ہے کہ گاڑی آپ کو مل جائے تو گاڑی میں آپ تبدیلی کر لیتے ہو، پھر تو یہ بڑی بات ہے، پھر تو وہ چیز نہیں رہے گی۔ لیکن آپ گاڑی تبدیل تو نہیں کر رہے، اس کی صفائی کے لیے آپ باقاعدہ تیل پانی اس کا صحیح کرتے ہیں، اور اس کے لیے کچھ انتظام بناتے ہیں، اور اس کو صاف کرتے ہیں، اس کے لیے راستہ بناتے ہیں۔ یہ تو گاڑی میں تبدیلی نہیں ہے نا۔ یہ تو گاڑی کے لیے ہے۔


                    تو جو گاڑی کے لیے ہے، اس کو تو ہم اس طرح إِحْدَاثٌ فِي الدِّين، إِحْدَاثٌ لِلدِّين کو سمجھنا چاہیے۔ جو دین کے اندر تبدیلی لاتے ہیں، دین اللہ کی طرف سے آیا ہے آپ ﷺ پر، اس میں اگر کوئی چیز change ہو جائے تو وہ تو پھر دین میں تبدیلی ہے۔ وہ ٹھیک نہیں ہے۔ لیکن دین پر آنے کے لیے یا قائم رہنے کے لیے جو چیز اختیار کی جائے گی وہ مثلاً دیکھ لو، دین پر قائم رہنے کے لیے ایک ذریعہ ہے۔ اس ذریعہ کو اگر آپ نے مقصد بنا لیا اس کو آپ نے مقصد سمجھ لیا تو وہ پھر مقصد سمجھنے سے مراد یہ ہے کہ اس بارے میں پوچھے گے کیا یہ ثابت ہے کیونکہ مقصد ثابت ہوتا ہے جب اس ذریعے کے بارے میں پوچھے گے کہ یہ ثابت ہےتو آپ نے اس کو مقصد بنا لیا جب مقصد بنا لیا تو بدعتی تو آپ ہوں گے۔ کیونکہ وہ تو بدعت ہے کہ جو شامل نہ ہو اور اس کو آپ دین سمجھ لیں۔ تو یہ ہے کہ ذرائع جو ہوتے ہیں کبھی بھی ثابت نہیں ہوتے کیونکہ ذرائع حالات کے مطابق آتے ہیں۔


                    مثلاً میں سب سے بڑی بات کرتا ہوں بہت آسان سمجھنے کے لیے کہ جتنے لوگ ہیں سب کی اصلاح کے طریقے الگ الگ ہیں۔ تو کیا اتنے لوگوں کی اصلاح کے طریقے کتابوں میں لکھے جا سکتے ہیں؟ یا صحابہ میں اس کا example آ سکتا تھا؟ وہ تو آ ہی نہیں سکتا! اب مثال کے طور پر راولپنڈی تو آپ ﷺ کے وقت میں موجود نہیں تھی نا۔ تو راولپنڈی کے لوگوں کے جو اپنے خواص ہیں، وہ تو اپنے ہیں نا وقت کے ساتھ جو بنے ہیں، تو ان کی اصلاح کا تو اپنا ایک نظام ہو گا نا؟ تو اب اس کو بھی ثابت کر لو کہ نہیں، راولپنڈی کے لوگوں کی اصلاح کیسے ہو گی، یہ ادھر سے ثابت ہو۔ کوئی بتا سکتا ہے؟ نہیں، تو نہیں۔ تو اس چیز ان چیزوں کو آپ ثابت نہیں کر سکتے۔ ہاں، ان کا طریقہ کار، نظائر کو دیکھ دیکھ کے آپ ثابت کر سکتے ہیں کہ اچھا، یہ طریقہ بھی جائز ہو سکتا ہے، یہ بھی جائز ہو سکتا ہے، یہ بھی جائز ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ نہیں کہ نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِك، آپ وہ ان کو کہتے ہیں نہیں، آپ ﷺ نے چونکہ ایسا نہیں کیا، لہٰذا ہم بھی نہیں کر سکتے۔


                    شاہ عبدالقادر رائے پوری رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَيْهِ نے ایسا ہی اسے جواب دیا تھا مولانا منظور نعمانی صاحب رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَيْهِ کو۔ جب انہوں نے کہا حضرت، آپ جو ذکر کرانے کا حصہ ہے، ثابت ہے؟ فرمایا، اچھا بتاؤ کہ آپ ﷺ کے وقت میں علم کا طریقہ کیا تھا؟ حدیث کا طریقہ کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا حضرت وہ تو آپ ﷺ ہی تھے۔ تو پھر فرمایا، جب آپ ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے، تو پھر کیا ہو گیا؟ فرمایا، پھر کسی اور جن کو یاد تھا، صحابہ کو، تو ان سے فرمایا۔ تو اس کا مطلب ہے وہ چیز تو نہیں رہی جو آپ ﷺ کے وقت میں تھی۔ تو پھر فرمایا کہ آپ ﷺ کے وقت میں اصلاح کا طریقہ کیا تھا؟ فرمایا آپ ﷺ ہی تھے۔ فرمایا جب آپ ﷺ نہیں تھے، فرمایا پھر جو اور جن میں، وہی وقار تھا۔ فرمایا، پھر وہ چیز تو نہیں رہی نا، تو دونوں ایک جیسے ہو گئے نا؟ تو اس طرح علم کے مختلف طریقے اب آ رہے ہیں۔ آپ ان کو غلط نہیں کہتے، تو ان چیزوں کو پھر غلط کیوں کہتے ہیں؟


                    میں نے فوراً بیعت کر لی، عالم تو تھے۔ تو یہ ساری چیزیں ہوتی ہیں، بعض دفعہ کوتاہ نظری ہوتی ہے۔ کوتاہ نظری۔ کوتاہ نظری سے یہ مسائل بنتے ہیں۔ ورنہ یہ چیزیں کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ جو وسیع النظر لوگ ہوتے ہیں، ان کی بڑی گہری نظر ہوتی ہے۔ وہ بہت دور تک دیکھتے ہیں۔

                    وہ آخر دان، الحمد للہ رب العالمین۔




                    **تجزیہ اور خلاصہ:**


                    بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)


                    **سب سے جامع عنوان:** موحد کا اطمینان، توکل علی اللہ اور دین میں اعتدال

                    **متبادل عنوان:** عقل و عشق کا دائرہ کار، فراستِ مومن اور دین و دنیا کا صحیح انتظام


                    **اہم موضوعات:**

                    * اللہ تعالیٰ کی یکتائی پر کامل یقین اور موحد کا قلبی اطمینان۔

                    * اللہ کے ساتھ بے لوث محبت اور مخلوق کی بجائے خالق کو راضی کرنے کی اہمیت۔

                    * بزرگانِ دین (حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ اور حضرت احمد خضرویہؒ) کے توکل اور اللہ کے ساتھ حُسنِ ظن کے حیرت انگیز واقعات۔

                    * لزومِ کفر اور التزامِ کفر میں بنیادی فرق۔

                    * ادعائے نفس کی حقیقت اور عقل و عشق کے دائرہ کار کی حدود۔

                    * دینی و دنیاوی امور میں درستیِ انتظام کی اہمیت اور موقع شناسی، محل شناسی و مردم شناسی کی ضرورت۔

                    * زوالِ سلطنتِ مغلیہ کا حقیقی سبب (اکبر کی غلط پالیسیاں بمقابلہ اورنگزیب عالمگیرؒ کی جدوجہد)۔

                    * احداث فی الدین (بدعت) اور احداث للدین (دین کی خدمت کے لیے نئے ذرائع کا استعمال) میں فرق۔

                    * سالک کے لیے خلوت کی اہمیت اور جلیسِ صالح (نیک صحبت) کے آداب۔



                    موحد کا اطمینان، توکل علی اللہ اور دین میں اعتدال - انفاسِ عیسیٰ - پہلا دور