سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات

مجلس نمبر: 1

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. ذکر اور نماز میں آنے والے غیر اختیاری وساوس کا علاج محض ان کی پرواہ نہ کرنا ہے تاکہ شیطانی رکاوٹ دور ہو۔
  2. دل کی اصلاح اور رذائل کو دور کرنے کا مقصد قرآن و سنت سے ثابت ہے جبکہ اس کے حصول کے ذرائع تجرباتی ہوتے ہیں۔
  3. صوفیاء کے بتائے گئے اذکار اور مراقبات تجرباتی ہیں، جو شریعت سے نہ ٹکرانے اور کسی کو تکلیف نہ دینے کی صورت میں جائز ہیں۔
  4. تصورِ شیخ بذاتِ خود شرعاً ناجائز نہیں، یہ محض شیخ کی مجلس کا تصور کر کے وساوس سے بچنے کا ایک ذریعہ ہے۔
  5. عقیدہ خراب ہونے کے اندیشے کے باعث اب تصورِ شیخ نہیں کروایا جاتا، البتہ خود بخود ہونے لگے تو اسے روکا بھی نہیں جاتا۔
  6. hypnotism نفسانی قوتوں کو بیدار کرنے کی ایک سائنس ہے، جبکہ مراقبہ انسان کی روحانی قوتوں کو اجاگر کرنے کا ذریعہ ہے۔
  7. مراقبے کی بدولت روحانی صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں اور رفتہ رفتہ انسان کا پورا جسم اللہ کی یاد میں لگ جاتا ہے۔
  8. شعائر اللہ کا احترام کرنا دراصل اللہ ہی کا ادب ہے جو دلوں کے تقویٰ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
  9. ادب اور خدمت ایک ساتھ چلتے ہیں، اور محبت کے جذبے سے کی گئی خدمت سے انسان کو بہت کچھ مل جاتا ہے۔
  10. دل کا جاری ہونا عوام کی اصطلاح ہے جس کا اصل مطلب یہ ہے کہ انسان کو conceptually ہر وقت اللہ یاد رہے۔
  11. دنیاوی کاموں کو بھی اگر اللہ تعالیٰ کی assignment اور حکم سمجھ کر کیا جائے تو وہ انسان کے لیے ذکر بن جاتے ہیں۔
  12. بزرگوں کے لیے احتراماً کھڑا ہونا جائز ہے، بشرطیکہ وہ بزرگ خود اپنے لیے اس تعظیم کی خواہش نہ رکھتے ہوں۔
  13. خلافت اس بات کی اطلاع ہے کہ سالک فتنوں کے دور سے نکل چکا ہے اور اس میں اپنا کام جاری رکھنے کی استعداد ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

سوال: 1۔ ایک سوال آیا ہے کہ ذکر کے دوران وسوسے آتے ہیں اور نماز کے دوران بھی وسوسے آتے ہیں پہلے کم تھے اب زیادہ ہو گئے ہیں تو اس کا کیا علاج ہے؟

سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012

جواب: وساوس چاہے ذکر میں ہوں چاہے نماز میں ہوں، اس کا ایک ہی علاج ہے کہ اگر وہ غیر اختیاری ہیں، خود سے لائے نہیں گئے ہیں، تو اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ وسوسوں کی جتنی بھی پرواہ کی جائے گی، یہ زیادہ بڑھیں گے۔ اور یہ اصل میں اس بات کی علامت ہے کہ شیطان کو فکر ہو گئی کہ یہ تو راستے پر چل پڑا، تو اس وجہ سے وہ اس کو تنگ کرنا چاہتا ہے تاکہ یہ تنگ ہو کر چھوڑ دے۔ تو اس کا علاج یہی ہے کہ پرواہ نہ کرے اور ذکر کرتا رہے، جیسے بھی ہوتا رہے تو ذکر بھی کرتا رہے، پرواہ وسوسوں کی نہ کرے اور اس طرح نماز میں بھی وسوسوں کی پرواہ نہ کرے، اپنی نمازیں جاری رکھے۔ کیونکہ اس کی مثال بتاتے ہیں، ایسا ہے جیسے کہ بجلی کی تار کو اگر کوئی دور کرنے کے لیے بھی ہاتھ لگائے گا تو وہ اس کو پکڑے گا، اس وجہ سے اس کو پرواہ ہی نہیں کرنی چاہیے، اس کو مطلب چلتے رہنا چاہیے، جیسے بھی وہ آتے ہیں تو اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔

یہ چونکہ اب نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے سوالوں کے جوابات کا، سیشن کا، لہٰذا جو حضرات اس کو سن رہے ہیں، ان کے دلوں میں اگر کوئی سوال ہیں تو وہ اب بھی پوچھ سکتے ہیں اور بعد میں بھی اس کو اپنے ساتھ لکھ کے رکھیں، اور جب اس قسم کا موقع آئے تو اس کے مطابق سوالات کیے جا سکتے ہیں تاکہ باقی لوگ بھی اس سے استفادہ کر سکیں۔

سوال: 2۔ سوال ایک آیا ہے کہ یہ جو صوفیاء کرام ذکر کراتے ہیں، ضربیں لگواتے ہیں اور مراقبات کراتے ہیں، تو کیا یہ سنت سے ثابت ہیں یا نہیں؟ یا پھر یہ صوفیاء کرام نے اپنی طرف سے بنائے ہیں؟

سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012

جواب: اس کا اصولی جواب یہ ہے، اور یہ میرے خیال میں میری کتاب 'تصوف کا خلاصہ' میں بھی اس کا جواب لکھا ہوا ہے، کہ جتنے بھی ذکر اذکار کے طریقے ہیں تو اس کا جو مقصد ہے وہ تو ثابت ہے۔ مقصد سے مراد یہ ہے کہ ہمیں دل کی اصلاح کرنی چاہیے اور اس کے اندر سے حسد اور کینہ اور بغض اور ان تمام چیزوں کو دور کرنا چاہیے، تکبر کو دور کرنا چاہیے، اخلاص پیدا کرنا چاہیے۔ اس طرح اور جتنے بھی فضائل ہیں وہ پیدا کرنے چاہئیں اور جو رذائل ہیں ان کو دور کرنا چاہیے۔ تو مقصد متعین ہے اور وہ قرآن و سنت سے ثابت ہے۔

لیکن اب ان کو دور کیسے کیا جائے؟ تو اب ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ یہ بالکل قرآن سے ثابت ہے کہ سوال کرنا حرام ہے۔ قرآن و حدیث سے سوال کرنا حرام ہے، اشرافِ نفس بھی حرام ہے۔ اب اس سے بچنے کے جو ذرائع ہوں گے وہ تو بہت سارے ہیں اور کوئی بھی ثابت نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب دیکھ لیں جو بھی آپ صحیح کاروبار کرتے ہیں، کیا اس کا سارا طریقہ قرآن سے ثابت ہوتا ہے یا حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے؟ آپ جتنے بھی پیسے کماتے ہیں تو اس کے کمانے کے تو بہت سارے طریقے ہیں، وہ سارے کے سارے تو ثابت نہیں ہوتے۔ لیکن کوئی بھی اس کو چھوڑتا نہیں ہے کہ قرآن و حدیث سے ثابت نہیں ہے وہ خواہ مخواہ اس کو ضروری سمجھتے ہیں کہ چلو ٹھیک ہے جی، ہم لوگ سوال سے بچ جائیں گے، حرام کام سے بچ جائیں گے۔ تو اسی طریقے سے یہ چیز تو ثابت ہے قرآن و حدیث سے کہ ہم لوگوں کو اپنے دل کی اصلاح کرنی چاہیے، اپنے نفس کی اصلاح کرنی چاہیے۔ لیکن اب یہ اصلاح ہو کیسے؟ یہ اس کے لیے ذریعے ہوتے ہیں۔ تو اب وہ جو ذرائع ہوتے ہیں وہ تجرباتی ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے کہ جتنے لوگ ہیں اتنی بیماریاں ہیں مختلف۔ اور ہر ایک کا علاج بھی مختلف ہو گا۔ تو کیا اتنے سارے لوگوں کی بیماریاں کتابوں میں آ سکتی ہیں؟ یا قرآن میں آ سکتی تھیں یا حدیث شریف میں آ سکتی تھیں؟ اور اس کا علاج آ سکتا تھا؟ یہ تو ممکن ہی نہیں ہے۔ تو اصول سمجھا دیے گئے اور فروع کو اس کے اوپر مستنبط کر لیتے ہیں۔

تو یہ ساری کی ساری چیزیں تجرباتی ہیں، اور جو تجرباتی چیزیں ہوتی ہیں وہ اگر قرآن و سنت سے ٹکراتی نہیں ہیں، یعنی اس کی ممانعت نہ ہو، تو وہ جائز ہوتی ہیں۔ اس میں نتیجے کو دیکھنا ہوتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا برآمد ہوتا ہے۔ کیا وہ نتیجہ اس کا جائز صورت میں نظر آتا ہے یا ناجائز صورت میں نظر آتا ہے؟ تو اگر وہ نتیجہ اس کا جائز صورت میں نظر آتا ہے تو اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی، جیسے میں نے آپ کو بتایا کمانے کے طریقوں پہ۔ اس طرح علم فرضِ عین ہے ہر مسلم مرد و عورت پر۔ لیکن اب اس کے حاصل کرنے کے طریقوں پہ پابندی نہیں لگائی گئی۔ مثال کے طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں علم براہِ راست آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا جاتا تھا۔ اب اگر اسی کو لازم سمجھا جائے تو اب کیسے ہو؟ اب تو ہو ہی نہیں سکتا۔ تو علم کا جو منصوص طریقہ ہے وہ تو موجود ہی نہیں ہو گا۔ تو اب جتنے بھی طریقے ہوں گے وہ تجرباتی ہوں گے، اب یہ جس وقت میں ابھی یہ بات کر رہا ہوں تو ابھی انٹرنیٹ کے ذریعے سے جا رہا ہے، کیا یہ جائز ہے ناجائز ہے؟ تو اب جو لوگ انٹرنیٹ سے استفادہ کر رہے ہیں تو یہ ناجائز ہو گا؟ تو اس کو دیکھا جائے کہ کون سی چیز کر رہے ہیں، آیا جائز چیز کو کر رہے ہیں یا ناجائز طریقے کو کر رہے ہیں، باقی انٹرنیٹ بذاتِ خود کچھ بھی نہیں ہے جیسے لاوڈ اسپیکر ہے۔ اس پہ قرآن پاک کی تلاوت بھی ہو سکتی ہے اور گانا بھی ہو سکتا ہے۔ اب گانا ناجائز ہو گا، قرآن پاک کی تلاوت جائز ہو گی۔

ہاں البتہ قرآن پاک کی تلاوت اس صورت میں جائز ہو گی جس سے کسی کو تکلیف نہ ہو۔ تو اس طرح اس ذکر پر بھی پابندی ہو گی جس سے کسی کو تکلیف ہو۔ مثال کے طور پر وہ ایسے وقت میں کر لے کہ لوگ سو رہے ہوں۔ یا لوگ پڑھ رہے ہوں یا لوگ بیمار ہوں، ایسی صورت میں اگر بلند آواز سے ذکر کوئی کرے گا تو اس کو روکا جائے کہ نہیں بھئی ایسا نہ کرو۔ ایسا نہ کرو۔ اب دیکھ لیں ہمارے جو طلبہ ہوتے ہیں قرآن پاک کے جو یاد کرنے والے بچے جو ہوتے ہیں۔ اب وہ بچے قرآن پاک کیسے یاد کرتے ہیں؟ اب اس میں یہ ہے کہ باقاعدہ ان کو کھڑا کر دیتے ہیں کہ کھڑے ہو کر پڑھو۔ اور باقاعدہ اس طرح جھومتے ہیں۔ وہ جھومتے اور جھوم جھوم کر وہ یاد کرتے ہیں۔ اب اگر ان کے استاد سے کہا جائے کہ یہ کہاں سے ثابت ہے، قرآن سے ثابت ہے یہ طریقہ؟ حدیث سے ثابت ہے؟ وہ کہیں گے یہ تو تجربے سے ثابت ہے کہ اس طرح قرآن جلدی یاد ہو جاتا ہے۔ تو کبھی ان پر اعتراض کیا ہے؟ اگر ان پر اعتراض نہیں کیا تو پھر اس پر اعتراض کیوں کرتے ہیں؟

ہاں تو یہ ساری چیزیں تجرباتی ہیں۔ اور تجرباتی چیزوں کو یہ ہے کہ صرف اس کا جو لِم (علت) ہے وہ ثابت کیا جاتا ہے، باقی اس کی تفصیل ثابت نہیں کی جاتی ہے۔ تو اب یہ مقصد اس کا وہ موجود ہے اور وہ مقصد ثابت ہے۔ لہٰذا یہ سارے کے سارے جتنے بھی طریقے ہیں۔ یا دوسری طرف سے میں کہتا ہوں، یہ تبلیغی جماعت کے جتنے بھی ہیں، طریقے ہیں۔ مثال کے طور پر سہ روزہ ہے، شبِ جمعہ ہے، ہاں یا چلہ ہے، یا اس، تین چلے ہیں۔ یا پورا سال ہے یا ڈھائی گھنٹے کی جو ترتیب ہے۔ کیا یہ ثابت ہے قرآن و حدیث سے؟ کیا ہم اس کو روکیں گے؟ جس طرح ان کو نہیں روکیں گے، اس طرح ان کو بھی نہیں روکیں گے۔ یہ ساری کی ساری تجرباتی چیزیں ہیں۔ لہٰذا انسان کو ذرا حوصلہ کرنا چاہیے، خوامخواہ ایک نیک کام کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے۔ اور یہ تو صرف اور صرف کچھ چیزوں کو پیدا کرنے کے لیے اور مقصود کے لیے ہوتی ہے، اگر وہ مقصود حاصل ہو جائے پھر یہ نہیں کرتے۔ اور پھر کرنے بھی نہیں چاہئیں۔ تو اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔

سوال: 3۔ ایک سوال آیا ہے، بڑا اچھا سوال ہے، ایک تصورِ شیخ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں کہ یہ شرعاً کیسا ہے؟

سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012

جواب: اس میں بذاتِ خود تو شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ اپنے استاد کا تصور کر لیں کہ میں اپنے استاد کے سامنے بیٹھا ہوں اور یہ ہے کہ میں اس سے پوچھ رہا ہوں۔ تو اس کو کوئی ناجائز کہے گا؟ ظاہر ہے ایک چیز ہے بس ٹھیک ہے، ایک تصور ہی ہے نا۔ آپ مطلب اپنے شیخ کو خدا تو نہیں سمجھتے۔ اور جو سمجھے گا تو غلط کرے گا۔ اپنا عقیدہ خراب کرے گا۔ تو اب تصورِ شیخ سے مراد صرف اتنی ساری چیز تھی کہ جیسے انسان کو شیخ کی مجلس میں فائدہ ہوتا ہے۔ جو کام وہ شیخ کی مجلس میں کر سکتا ہے، وہ عام طور پہ وہ نہیں کر سکتا۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور کا واقعہ ہے، حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، وہ آئے ایک دفعہ اور یہ کہا کہ حنظلہ تو منافق ہو گیا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا یہ کیا کہہ رہے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوتے ہیں تو بالکل الگ ہوتے ہیں، مختلف ہوتے ہیں۔ اور جب گھروں میں پہنچ جاتے ہیں بالکل مختلف ہو جاتے ہیں، پھر وہ چیز نہیں ہوتی۔ تو یہ تو نفاق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک طرح اور باقی وقت میں دوسری طرح ہوتے ہیں، یہ تو منافقت ہے۔ تو میں تو منافق ہو گیا۔ تو ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اگر یہ بات ہے پھر تو میں بھی منافق ہو گیا ہوں، کیونکہ میرے ساتھ بھی یہ بات ہوتی ہے۔ تو انہوں نے کہا چلو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ساری بات رکھ دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھئی وہ تو گاہے گاہے ہوتا ہے۔ اگر تمہاری ایسی حالت رہے جیسے میری موجودگی میں رہتی ہے، پھر تو تمہارے ساتھ فرشتے اپنے بستروں پہ مصافحے کریں گے۔ لیکن یہ تو ہر وقت نہیں ہوتا۔ اب یہ حالت تبدیل۔

پھر دوسری بات کہ حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ماموں ہند ابن ابی ہالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ حضرت مجھے ذرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بتا دیجیے۔ دیکھیں یہ تو زندہ شیخ کا آپ وہ کر رہے ہیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہہ رہے ہیں۔ اے ماموں مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک بتا دیجیے تاکہ میں اس کو اچھی طرح دل پہ نقش کروں۔ تو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شمائل بہترین انداز میں مروی ہیں حدیث کی کتابوں میں، یہ اس کے جواب میں ہے کہ ہند ابن ابی ہالہ نے اس کو تفصیل کے ساتھ بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے تھے، تفصیلات جو وہ آئی ہیں۔ وہ بڑے عمدہ الفاظ ہیں۔ تو یہ کیا چیز ہے پھر؟ کہ اپنے دل پہ نقش کروں، اس کا مطلب ہے اس کا کوئی فائدہ ہو گا نا۔

تو اب جو مریدین ذرا تھوڑا سا وساوس کا شکار رہتے ہیں، تو ان کے لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ شیخ کی مجلس کا تصور کر لیں کہ میں شیخ کی مجلس میں بیٹھا ہوا ہوں، تو وہ وساوس بھاگنے لگیں گے۔ لیکن چونکہ آج کل لوگوں کے مزاج صحیح نہیں ہیں۔ تو اس میں بعض دفعہ ایسے کام بھی ہونے لگتے ہیں، مثال کے طور پر اس شیخ کے ساتھ اس کا جو قلبی تعلق ہے۔ اس کی بنیاد پر کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد ایسی آتی ہے جس کو شیطان دوسری صورت میں پیش کرتا ہے اور اس سے شرک کروانا چاہتا ہے۔ تو آج کل لوگوں میں چونکہ اس کا تحمل نہیں ہے، برداشت نہیں ہے، لہٰذا عام طور پر کروایا نہیں جاتا۔ ابھی بھی بعض ہمارے صحیح سلسلے والے کرواتے ہیں لیکن ہم نہیں کرواتے۔ ہمارے ہاں یہ مروجہ نہیں ہے۔ ہم لوگ کسی کو تصورِ شیخ نہیں کراتے۔ لیکن خود بخود ہو جائے تو اس کو روکتے بھی نہیں۔ اگر خود بخود کسی کو تصورِ شیخ ہو جائے تو اس کو روکتے بھی نہیں۔

ابھی دیکھیں مجھے email آیا تھا انڈیا سے۔ وہاں ایک خاتون بیعت ہوئی ہے۔ ان کی یہ بات ہے اور میرے پاس باکس پہ پڑا ہو گا۔ کہ ہر وقت آپ کی صورت میرے سامنے ہوتی ہے۔ حالانکہ اس نے مجھے دیکھا تو نہیں۔ کہتی ہے ہر حالت میں وہ سامنے ہوتی ہے۔ تو کیا یہ ٹھیک ہے؟ مطلب اس نے یہ سوال کیا ہے۔ تو میں نے اسے کہا کہ ہم خود تو لوگوں کو کرواتے نہیں ہیں۔ لیکن اگر خود سے ہو جائے تو اس کو روکتے بھی نہیں، شاید آپ کو اس کی ضرورت ہو۔ کیونکہ آپ ایسے ماحول میں ہیں کہ اس ماحول میں آپ کے اوپر ذہنی دباؤ بہت زیادہ آتا ہوگا۔ مختلف چیزیں آپ اپنے مخالف دیکھتی ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کو بسہولت گزروانے کے لیے آپ کو یہ چیز عطا فرمائی ہے۔ تو ہم، جو خود بخود ہوتا ہے، اس کو روکتے بھی نہیں۔ لیکن خود کرواتے بھی نہیں۔ یہی طریقہ ہمارے شیخ کا بھی تھا۔ ہمارے شیخ نے کبھی بھی ہم سے نہیں کہا کہ میرا تصور کرو۔ لیکن جب خود بخود ہونے لگتا، تو پھر جب پوچھتے، فرمایا اچھا ٹھیک ہے۔

تو مقصد یہ ہوا کہ ہم لوگ کرواتے بھی نہیں لیکن روکتے بھی نہیں ہیں۔ اور تصورِ شیخ میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے، الاّ کہ کوئی استغاثہ کرنا شروع کر لے اپنے شیخ سے۔ جیسے مطلب کوئی کہتا ہے نا اے میرے شیخ پہنچ جاؤ، اب اگر اس قسم کی باتیں کرے گا تو وہ تو ناجائز ہو گا نا، وہی اسی کا ڈر ہے۔ اسی وجہ سے کرواتے نہیں ہیں۔ تو اگر کوئی اس طرح نہیں کرتا، وہ صرف مجلس کا ایک effect محسوس کرتا ہے۔ اور جس کی وجہ سے اس کے حالات، ابھی بھی الحمدللہ ہمیں اپنے شیخ جب یاد آ جاتے ہیں، ہماری حالت بدل جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر ہم نماز پڑھتے ہیں وہ الگ ہوتی ہے، اس طرح جو ہم کوئی اور بات کرتے ہیں اس میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ تو اگر ابھی تک ہمیں اس سے فائدہ ہوتا ہے، تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ اس کو روکنا تو نہیں چاہیے۔ لیکن یہ ہے کہ اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے، اگر کسی کا رخ اس طرف چلا گیا، پھر اس کو روکا جائے گا، پھر اس کو غلط کہا جائے گا۔

سوال: 4۔ ایک سوال یہ آیا ہے کہ مراقبے میں اور hypnotism میں کیا فرق ہے؟

سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012

جواب: بہت زبردست سوال ہے۔ اصل میں hypnotism کیا ہے، وہ انسان کے اندر قوتِ مقناطیسیت جو ہے۔ اس کو حاصل کرنے کے process کو کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر آنکھوں کے اندر بھی باقاعدہ ایک مقناطیسی قوت ہے۔ اگر اس سے کسی چیز کو غور سے دیکھا جائے اور align ہو، وہ ساری چیز فوکس ہو جائے۔ تو اس کے اندر بڑی intensity آ جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے بعض محیر العقول کام بھی صادر ہونے لگتے ہیں۔ مثلاً بعض لوگ اس سے چمچوں کو موڑ دیتے ہیں، بعض لوگ لوگوں کو گرا دیتے ہیں۔ بڑے عجیب عجیب کام مطلب اس سے کروا دیتے ہیں۔ تو یہ ایک سائنس ہے۔ یہ ایک سائنس ہے، اس کا روحانیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایک سائنس ہے بس ٹھیک ہے، سائنس میں بہت ساری چیزیں ہوتی ہیں۔ تو یہ بھی ایک سائنس ہے۔

جبکہ مراقبہ جو ہے یہ روحانیت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ لیکن طریقے میں تھوڑی تھوڑی similarity ہے۔ مطلب طریقے میں تھوڑی تھوڑی similarity ہے، بالکل ہی ایک جیسا نہیں ہے۔ تھوڑی تھوڑی سی مطلب ارتکاز اس میں بھی ہے، ارتکاز اس میں بھی ہے۔ لیکن یہ ہے کہ مراقبہ آنکھیں بند کر کے کیا جاتا ہے، hypnotism تو آنکھیں کھول کے کیا جاتا ہے۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ اس میں تو اس چیز کو جیسے شمع کی روشنی کو دیکھیں گے۔ اور پوری مرکوز کریں گے ایک point کے اوپر اپنی نظر کو مرکوز کریں گے۔ اس کا procedure اس طرح ہے، لیکن مراقبہ تو اس کا تعلق تو بالکل الگ ہے۔ تو مراقبے میں یوں کیا جاتا ہے کہ اس میں اللہ پاک نے جو روحانی صلاحیتیں لوگوں کو دی ہیں۔ یہ ہے نفسانی قوتیں ہیں جو hypnotism والے ہیں۔ وہ نفسانی قوتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہ روحانی قوتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ تو ہر انسان کو اللہ پاک نے جو روحانی قوتیں دی ہیں۔ ان روحانی قوتوں کو اجاگر کرنے کے لیے مراقبہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک آدمی سوچ رہا ہے، میرا دل اللہ اللہ کر رہا ہے۔ ابتداء میں تو بالکل نہیں کرے گا۔ لیکن ایک وقت آئے گا کہ باقاعدہ دل اللہ اللہ کرے گا۔ پھر وہ کسی اور لطیفے پر منتقل کر لے گا تو وہاں پر بھی کرے گا، پھر کسی اور پر، پھر کسی اور پر۔ حتیٰ کہ ایک وقت آتا ہے کہ پورا جسم اللہ اللہ کرتا ہے، لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کرتا ہے، اللّٰهُ هُو کرتا ہے۔ جس کا جو بھی ہو اس کے مطابق وہ ہوتا ہے، اب ایسی صورت میں باقاعدہ اس کے جسم کے اوپر بھی اثرات ہوتے ہیں اور روح کے اوپر بھی اثرات ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ پھر اس کے بعد مزید مراقبات شروع ہوتے ہیں، مثلاً وہ مراقبات۔ مراقبہ مسجدِ نبوی کا، مراقبہ بیت اللہ شریف کا، خانہ کعبہ کا۔ مراقبہ عرش کا، تک چلا جاتا ہے۔ وہ ہمارے رحمان بابا کا جو شعر ہے پشتو میں۔

چې په يو قدم تر عرشه پورې رسي
ما ليدلى دی رفتار د دروېشانو

جو ایک قدم پر عرش تک پہنچتے ہیں، میں نے درویشوں کی رفتار کو دیکھا ہے۔ تو وہ کون سی رفتار ہے، وہ یہی مراقبے کی رفتار ہے نا۔ مراقبے کے ذریعے سے پہنچتے ہیں۔ تو یہ جو باتیں ہیں، مطلب یہ ہے کہ یہ روحانیت والی باتیں ہیں، اس کا نفسانیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

تو تھوڑا تھوڑا سا similarity تو ہے طریقہ کار میں کہ ارتکاز دونوں میں ہے۔ لیکن ایک میں روحانی قوتوں کے حصول کا مطلب ہوتا ہے مقصد، اور دوسرے میں نفسانی قوتوں کے حصول کا مقصد ہوتا ہے، اور دونوں الگ الگ ہیں۔

سوال: 5۔ کشف کو اگر misuse کیا جائے گا، دنیا کے لیے استعمال کیا جائے گا تو کیسے۔۔۔

سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012

جواب: دیکھیں کشف اگر روحانی بنیاد پر ہوا ہے، تو اس کو اگر misuse کیا جائے گا تو ختم ہو جائے گا۔

سوال: 6۔ سوال یہ آیا ہے کہ ایک بزرگ کا قول پیش کر رہے ہیں کہ کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ نے یہ مقام کیسے پایا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہ مقام ادب سے پایا ہے۔ تو فرمایا یہ ادب کیا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ کیا چیزیں مطلب حاصل ہوتی ہیں، اس کے بارے میں سوال ہے۔

سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012

جواب: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا ہے: أَدَّبَنِي رَبِّي، اللہ پاک نے مجھے ادب سکھایا۔ فَأَحْسَنَ تَأْدِيبِي، اور بہت اچھا ادب سکھایا۔ بہت اچھا ادب سکھایا مطلب یہ ہے کہ یعنی گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ پاک نے ادب سکھایا، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ادب سکھایا۔ صحابہ نے پھر تابعین کو ادب سکھایا ہے۔ اور یہ سلسلہ ابھی تک مشائخ کے ذریعے سے چلا آ رہا ہوتا ہے کہ ہر شیخ اپنے مریدوں کو ادب سکھاتا ہے۔ تو ادب کیا ہوتا ہے؟ ادب اصل میں یوں ہوتا ہے کہ انسان جو چیز اللہ کے ساتھ وابستہ ہے، یا اللہ کے ساتھ کسی وابستہ چیز کے ساتھ وابستہ ہے، مثلاً شیخ کے ساتھ وابستہ ہے، خانہ کعبہ کے ساتھ وابستہ ہے، قرآن کے ساتھ وابستہ ہے، نماز کے ساتھ وابستہ ہے، اذان کے ساتھ وابستہ ہے، یہ ساری چیزیں اللہ کے ساتھ وابستہ ہیں، ان کو شعائر اللہ کہتے ہیں۔ اب یہ جو شعائر اللہ کے ساتھ وابستہ ہیں، تو اس کا اس لیے احترام کہ ان کا تعلق اللہ کے ساتھ ہے۔ اس احترام کو ادب کہتے ہیں۔ یعنی اس احترام کو ادب کہتے ہیں مطلب تعظیمِ شعائر جس کو۔ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللّٰهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ، کہ جو شعائر اللہ کی تعظیم کرتے ہیں وہ ان کے دلوں کے تقویٰ کی وجہ سے ہے۔ تو اگر دل میں تقویٰ ہو گا، تو یوں سمجھ لیجیے کہ ادب یقیناً نصیب ہو گا، کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، جب اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ کے ساتھ جو متعلق چیزیں ہوں گی اس سے بھی ڈرتا ہو گا۔

اب مثال کے طور پر دیکھ لیں ایک سید آتا ہے، اس کے لیے ایک شخص اٹھتا ہے۔ یہ ادب ہے، لیکن کیوں اٹھتا ہے؟ وجہ کیا ہے؟ اس نے صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب کی تعظیم کی کہ چونکہ ان کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے نسباً، لہٰذا میں ان کے لیے اٹھتا ہوں۔ حضرت شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ، بہت بڑے عالم گزرے ہیں، بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے بیٹے تھے۔ تو ان کا طریقہ تھا کہ سید کے لیے اٹھتے تھے، چاہے وہ سنی ہو چاہے شیعہ ہو۔ باقیوں کے لیے نہیں اٹھتے تھے۔ تو ایک نواب صاحب جو شیعہ تھے، انہوں نے یہ بات بعض سنیوں سے سن لی۔ تو انہوں نے ان سے کہا اچھا ٹھیک ہے پھر میں چلتا ہوں، لیکن آپ لوگ مجھ سے پہلے نہ جائیں، آپ لوگ میرے پیچھے پیچھے آئیں۔ یعنی ان کو پہلے سے اطلاع نہ ہو۔ اور میں دیکھتا ہوں کہ میرے لیے اٹھتے ہیں یا نہیں اٹھتے۔ اگر میرے لیے اٹھے تو میری تائید ہو جائے گی کہ میں سید ہوں، مجھے پتا چل جائے گا کہ میں سید ہوں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ معلوم کرتے ہیں کہ وہ کیسے اس طرح کرتے ہیں، کیوں اس طرح کرتے ہیں۔ تو آگے آگے چلے اور پیچھے پیچھے ان کے جو سنی ساتھی تھے وہ پیچھے پیچھے آ رہے تھے۔ تو جیسے وہ پہنچے تو حضرت شاہ صاحب ان کے لیے کھڑے ہو گئے۔ تو اس نواب صاحب نے کہا آپ میرے لیے کیوں کھڑے ہوئے ہیں، انہوں نے کہا چونکہ آپ سید ہیں۔ تو انہوں نے کہا پھر آپ کو تو یہ بھی پتا ہو گا کہ میں شیعہ ہوں، انہوں نے کہا بالکل پتا ہے۔ تو انہوں نے کہا پھر آپ تو شیعوں کو تو صحیح نہیں سمجھتے تو پھر آپ میرے لیے کیوں کھڑے ہو گئے ہیں؟ انہوں نے کہا اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر قرآن پاک میں کچھ غلط آیتیں بھی لکھ دی جائیں، پھر بھی اس قرآن پاک کی بے ادبی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اس میں صحیح آیتیں تو ہیں۔ تو اس کی بے ادبی نہیں ہو سکتی، لیکن ان غلط آیتوں کو ہم مانیں گے نہیں۔ تو آپ کا جو غلط عقیدہ ہے وہ تو ہم نہیں مانتے، اس کے تو ہم سخت مخالف ہیں۔ لیکن چونکہ آپ کا نسب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے، یہ چیز ہم مانتے ہیں۔ لہٰذا اس کی تو ہم تعظیم کرتے ہیں۔

اب دیکھ لیں مطلب یہ کیسے ادب کیا؟ تو اب یہ جو چیز ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منسوب کوئی چیز یا اللہ تعالیٰ کے ساتھ منسوب کوئی چیز شعائر اللہ کی صورت میں، اس کا اگر ذہن میں ہو، تو یہ ادب ان کا ہوتا ہے، اصل میں اللہ کا ادب ہوتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب ہوتا ہے۔ اصل میں ان کا ہوتا ہے۔ لیکن ظاہراً وہ کسی اور چیز کے لیے نظر آتا ہے۔ تو اگر کوئی اس کو کرتا ہے تو جس وقت انسان جس کا خیال رکھتا ہے، اس وقت ان کے ہاں اچھے good books میں آتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ تو ہر وقت ہر ایک آدمی کو دیکھتا ہے کہ میری وجہ سے یہ کر رہا ہے۔ تو یہ کر رہا ہے تو ظاہر ہے مطلب قرآن کا اگر کوئی ادب کر رہا ہے، نماز کا ادب کر رہا ہے یا خانہ کعبہ کا ادب کر رہا ہے یا اچھے لوگوں کا ادب کر رہا ہے کہ یہ اولیاء اللہ ہیں، تو اس صورت میں اب ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کے ہاں مسلسل مرتبہ پا رہا ہے۔ اس عمل کی وجہ سے۔ تو اس کو مقام ملے گا یا نہیں ملے گا؟ اس لیے کہتے ہیں باادب بانصیب، بے ادب بے نصیب۔ جو باادب ہے وہ بانصیب ہے کہ ان کو ہر وقت کچھ نہ کچھ مل رہا ہوتا ہے۔ اور جو بے ادب ہوتا ہے ایسے ہی خراب ہو جاتے ہیں۔

سوال 7: مرید کی ادب سے ترقی زیادہ ہو گی یا خدمت سے؟

سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012

جواب: یہ دونوں چیزیں جمع بھی تو ہو سکتی ہیں۔ بیک وقت ادب اور بیک وقت خدمت بھی کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ خدمت کرنے کے لیے بے ادبی تو ضروری نہیں ہے۔ اور ادب کے لیے خدمت چھوڑنا تو ضروری نہیں ہے۔ لہٰذا دونوں ہو سکتی ہیں۔ اور دونوں سے فائدہ ہوتا ہے۔

سائل: individually اگر کوئی شخص صرف ادب ...

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس کی عقل کہاں چرنے گئی ہے کہ وہ اس طرح کہ میں ادب تو نہیں کروں گا لیکن خدمت کروں گا۔ یا خدمت نہیں کروں گا اور ادب کروں گا۔ تو مجھے تو اس میں کوئی تفاوت نظر نہیں آتا۔ جو ادب کرتا ہے وہ خدمت بھی کرتا ہے۔ اور جو خدمت کرتا ہے وہ ادب بھی کرتا ہے، مطلب یہ دونوں چیزیں ہوتی ہیں، اکٹھی ہوتی ہیں۔

سائل: اس میں اگر خدمت کی جو عام سطح سمجھی جاتی ہے کہ اپنے شیخ کے لیے کوئی چیزیں لے کے آئے یا ان کے جوتے اٹھائے یا جو نارمل حالات میں کوئی کسی اور کے لیے نہیں کرتا، اور وہ شخص وہ نہیں کرتا، لیکن دل میں ادب ہے۔

جواب: یہ اصل میں ہر شخص کے اپنے اپنے جذبات ہوتے ہیں۔ یہ man to man vary کرتی ہے چیز۔ لیکن اللہ تعالیٰ تو چونکہ جانتا ہے دلوں کو۔ لہٰذا اللہ کے پیمانے پھر ہر ایک کے لیے اپنے اپنے ہوتے ہیں، اس لحاظ سے دیکھتا ہے۔ اب دیکھ لیں، خدمت کس کو کہتے ہیں؟ خدمت کے ایک ہوتے ہیں مروّجہ طریقے، اور ایک ہوتی ہے اصل خدمت۔ مروّجہ طریقوں میں ایک ان کے لیے جوتے سیدھے کرنا اور ان کے لیے چیزیں لانا اور اس کا، یہ مروّجہ طریقے ہیں، عام لوگ اس کو خدمت سمجھتے ہیں۔ نہیں یہ والی بات نہیں، جن کو محبت ہوتی ہے اور محبت کی وجہ سے خدمت کرتے ہیں۔ وہ موقع کی تلاش میں رہتے ہیں کہ کون سی چیز ہے اس وقت جو شیخ کو اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور میرے پاس پھر ہونی چاہیے میں وہ خدمت کر لوں۔ تو ایسے لوگ وہ کر لیتے ہیں

میں آپ کو ایک واقعہ بتاتا ہوں۔ واقعہ بڑا عجیب ہے۔ حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ، ان کی خانقاہ کے سامنے ایک نانبائی کی دکان تھی۔ حضرت کے تقریباً جیسے آج کل تین چار بجے ہوتے ہیں، کچھ مہمان آ گئے۔ اب گاؤں وغیرہ میں تو بارہ بجے لوگ کھانا کھا لیتے ہیں، گیارہ بجے کھا لیتے ہیں، اس کے بعد تو پھر کھانے پینے کی چیزیں نہیں ہوتیں۔ دکان بھی نہیں ہوتی۔ تو حضرت ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ جب مہمان آ گئے تو نانبائی نے جب دیکھا کہ اس وقت بے وقت مہمان آ گئے، تو اس نے فوراً روٹیاں لگانی شروع کیں۔ اور حضرت ابھی ان کے ساتھ بیٹھے تھے اور اس کے لیے سوچ رہے تھے کہ کھانے پینے کا بندوبست کر لیں، اتنے میں نانبائی آیا، دس بیس روٹیاں لے آیا اور بھی تیار ہو رہی ہیں، حضرت میں لے آیا ہوں۔ تو اس وقت تو حضرت نے روٹیاں لے لیں، دل بڑا خوش ہو گیا، اس وقت کچھ نہیں کہا، لیکن جب مہمان رخصت ہو گئے تو ان کو بلایا۔ ان سے کہا کہ مانگو کیا مانگتے ہو؟ مطلب یہ ہے کہ خوش ہو گئے، بہت زیادہ ان سے خوش ہو گئے، مانگو کیا مانگتے ہو؟ اس نے کہا، حضرت! اپنا جیسا بنا دیں۔ انہوں نے کہا، یہ تو آپ نے کون سی بات کی! یہ تو آپ کو بڑا مہنگا سودا ہے، برداشت نہیں کر سکو گے۔ تو اس نے کہا کہ نہیں حضرت! اگر دینا ہے تو یہی دے دو ورنہ مجھے اور کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ دینا ہے تو یہی دے دو۔ انہوں نے کہا، بھئی! یہ تم برداشت نہیں کر سکتے، تمہارے فائدے کی بات کر رہا ہوں، تم نہیں برداشت کر سکتے اس کو۔ کیونکہ ایک چیز تدریجاً حاصل ہوئی ہے، اس کے لیے تو سارا انسان تیار ہو جاتا ہے۔ اور ایک چیز اچانک مل جائے۔ تو وہ تو جیسے کشتہ روزانہ اور تھوڑا تھوڑا بڑھاتے ہیں۔ تو اب اچانک اگر اتنا زیادہ کھا لے تو مر ہی جائے گا اس سے۔ تو وہ یہ ہے کہ وہ اس نے کہا کہ حضرت! اگر دینا ہے تو یہی دے دیں ورنہ میں اور کچھ نہیں لیتا۔ تو انہوں نے کہا، اچھا پھر آؤ۔ تو اپنے ساتھ کمرے میں لے گئے اور پتا نہیں کیا کر دیا، کنڈی پیچھے لگی ہوئی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وہ باہر آئے تو دو باقی باللہ تھے، ایک نہیں تھے، شکلاً۔ ایک تو اصلی تھے اور ایک وہ جو ان کی توجہ سے وہ باقی باللہ بن گئے تھے، باقی باللہ صاحب کی طرح بن گئے تھے، فرق صرف یہ تھا کہ جو اصلی باقی باللہ تھے وہ ہوش میں تھے اور دوسرے بے ہوش تھے۔ ہوش میں نہیں تھے۔ تین دن تک اس حالت میں رہے اور فوت ہو گئے۔ تو حضرت نے فرمایا، بھٹیارا مر گیا۔ لیکن نصیب والا تھا، باقی باللہ بن کر مر گیا۔

تو اب یہ جو چیز ہے، یہ خدمت سے ملی ہے۔ بہت سارے لوگوں کو خدمت سے بہت کچھ مل جاتا ہے۔ لیکن وہ خدمت صحیح sense کے ساتھ۔ یہ نہیں کہ آپ خدمت کا جذبہ تو ہوں لیکن طریقہ نہ آتا ہو۔ بعض دفعہ فائدے کی جگہ نقصان پہنچا دیتے ہیں، مثلاً کوئی آپ کے جوتے لے لے۔ اور رکھ لے کسی جگہ اور پھر چلا جائے آگے پیچھے ہو جائے۔ آپ جب واپس لینے کا وقت ہو تو پتا چلے کہ جوتے کدھر ہیں۔ تو بجائے فائدے کے تکلیف ہو گئی۔ تو اس طریقے سے خدمت کو اگر کسی نے کرنا ہوتا ہے تو اس کا طریقہ بھی سمجھنا چاہیے۔ اور یہ تب ہوتا ہے جب اس کو صحیح انداز میں محبت ہوتی ہے۔ تو وہ پھر یہ ہے کہ وہ ساری چیزیں جان لیتا ہے کہ کس طریقے سے کیا جاتا ہے۔ باقی جو ادب ہے وہ تو میں نے عرض کیا کہ بلکہ میرے خیال میں ادب کو جاننا تو مشکل ہے۔

بے ادبی کو آسانی سے جانا جا سکتا ہے۔ بس بے ادبی نہ کرے کم از کم۔ کیونکہ بے ادبی کو سب لوگ جان لیتے ہیں کہ بے ادبی ہے۔ اس کو بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن ادب کو ہر ایک نہیں سمجھ سکتا کہ ادب کیا ہوتا ہے۔ تو کم از کم بے ادبی سے اپنے آپ کو بچائیں۔

سوال 8: حضرت لطائف کا جو ذکر کرتے ہیں اس میں یہ دل کا جاری ہونا لازمی ہوتا ہے یا؟

سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012

جواب: اصل میں دل کا جاری ہونا یہ ایک اصطلاح ہے عوام کی۔ مشائخ کی اصطلاح نہیں ہے۔ یہ مشائخ کی اصطلاح نہیں ہے دل کا جاری ہونا۔ یہ عوام کی اصطلاح ہے۔ کیونکہ دل تو ہر وقت انسان کا جاری ہے ہی۔ دھڑک جو رہا ہے۔ کسی وقت رک سکتا ہے؟ لیکن اگر اس کے ساتھ آپ کو ایک چیز مسلسل یاد آنے لگے۔ تو یہ دل کا جاری ہونا اگر اس کو آپ سمجھ سکتے ہیں تو ہے۔ یعنی مثال کے طور پر دیکھیں، کوئی بھی چیز ہو۔ لیکن آپ اس کو associate کر لیں کسی چیز کے ساتھ۔ کہ جب یہ مجھے نظر آ جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا۔ مثلاً ایک آدمی بہت زیادہ درمیان میں جھوٹ بولتا ہے باتوں میں۔ تو اس کو مشائخ کہتے ہیں کہ بھئی اپنے ہاتھ کے اوپر کوئی تار لگا دو، تار وغیرہ۔ اور جس وقت یہ تار آپ کو نظر آ جائے تو فوراً آپ کو پتا چل جائے گا کہ میں تو جھوٹ بولتا ہوں، تو اس وقت آپ رک جانا۔ اب اس کے ساتھ associate کر لیا اس چیز کو۔ تو یہ چیزیں جو ہیں نا اگر یہ association جس کو ہم کہتے ہیں۔ اگر آپ کا دل کے ساتھ ہو گیا۔ تو سبحان اللہ بس ٹھیک ہے جی وہ۔

دوسری یہ بات ہے کہ جو دوسری جگہیں ہیں، جو لطائف ہیں۔ وہاں پر بھی آپ جب تصور کرتے ہیں۔ تو وہاں تصور میں آپ کو حرکت بھی محسوس ہوتی ہے اور پھر بعد میں actually حرکت ہونے بھی لگتی ہے۔ لیکن مقصود وہ نہیں ہے۔ وہ حرکت بھی مقصود نہیں ہے، وہ جو نا مطلب ہے۔ اصل چیز کیا ہے کہ آیا آپ کو اس سے اللہ یاد آتا ہے یا نہیں؟ اور اگر آپ اسی میں مشغول ہو گئے اور اللہ کو بھول گئے، تو پھر تو آپ کے لیے حجاب بن گیا۔ یعنی اگر آپ اسی کے وہ، کہ دیکھو یہ ہو رہا ہے یہ ہو رہا ہے یہ ہو رہا ہے، اور آپ خوش ہو رہے ہو۔ تو یہ تو اللہ کے لیے حجاب بن گیا۔ یہ تو آپ کے لیے ذکر تو نہیں بنا۔ یہ تو حجاب بن گیا۔ تو اس لیے شیخِ کامل کے ساتھ جب تک تعلق ہوتا ہے، تو آدمی کے لیے حجاب نہیں بنتا۔ وہ اس کو صحیح طرف لاتا رہتا ہے۔ ورنہ پھر یہ ہے کہ آدمی اسی میں سیر سپاٹے میں لگا رہتا ہے۔ اور اپنے آپ کو بزرگ بھی سمجھ رہا ہوتا ہے، حالانکہ ابھی تو اس کو الف با بھی حاصل نہیں ہوا ہوتا۔

سائل: آپ نے جیسے یہ فرمایا تھا دل کا مطلب جاری ہونا دھیان اللہ کی طرف۔۔۔

جواب: مطلب یہ ہے کہ آپ کے دل میں اللہ پاک کی یاد آ جائے۔ یعنی یوں سمجھ لیجیے کہ آپ کو اللہ پاک یاد آتا رہے۔ الفاظ کی صورت نہیں، conceptual صورت میں۔ یعنی آپ کو اللہ یاد رہے۔ اس کے ذریعے سے۔ تو یہ اصل ذکر ہے۔ اصل میں جانا بھی اس طرف ہے نا۔ کہ آپ کو بیس منٹ کے لیے اللہ یاد رہتا ہے، ابتداء میں آپ کا بیس منٹ کا مراقبہ ہے۔ پھر اس بیس منٹ کے مراقبے کی وجہ سے تھوڑا سا اور بھی یاد رہنے لگے۔ پھر تھوڑا سا جیسے روشنی بڑھتی ہے نا۔ تو پھیلتی جاتی ہے۔ تو یہ چوبیس گھنٹے پہ محیط ہو جائے۔ کہ آپ کو پھر ہر وقت اللہ یاد آتا ہو۔ یہی اس کو کیفیتِ احسان کہتے ہیں۔

سائل: نیند میں بھی؟

جواب: نیند میں بھی ہو سکتا ہے۔ بالکل ہو سکتا ہے۔

سائل: پھر یہ دنیا کے عام دھیان ذہن میں آتا ہے تو وہ؟

جواب: بالکل سب کچھ ہو سکتا ہے بلکہ اچھا ہو سکتا ہے۔ کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر آپ نے دنیا کو اپنی خواہش کے لیے کرنا ہے۔ تو یہ تو حجاب ہے۔ اور اگر آپ اس کو assignment کے طور پہ کریں گے کہ اللہ پاک نے مجھے assignment دیا ہے اور میں اس کو کر رہا ہوں، تو یہ آپ کا ذکر ہے۔ یہی دنیا آپ کا ذکر بن جائے گی۔

سائل: نہیں وہ جو تو کیفیت تھی نا یعنی اندر اللہ کا تعلق، تو بیک وقت یہ دونوں کام یعنی دنیاوی ذمہ داریاں اور۔۔۔

جواب: نہیں دنیاوی ذمہ داریاں اگر آپ اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر کر رہے ہیں تو وہ ذکر بن گیا۔

سائل: وہ آدمی عمل درآمد اس پہ کیسے کر سکتا ہے؟ یعنی ایک طرف ذہن کی سوچ ہے وہ۔

جواب: مولانا اشرف صاحب نے مجھے سکھایا تھا حضرت نے فرمایا اس وقت تمہیں پتا ہے نا کہ تم طالب علم ہو؟ جی بالکل۔ یہ بھی پتا ہے نا کہ پشاور میں ہو؟ جی بالکل یہ بھی پتا ہے۔ اس وقت آپ کو پتا ہے نا کہ میرے سامنے بیٹھے ہو؟ کتنی ساری باتیں آپ کو بیک وقت معلوم ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ تو conceptually تو بہت ساری چیزوں کو جمع کیا جا سکتا ہے۔ ہاں جس کو کہتے ہیں نا ایک ایک چیز کو نا جیسے مثال کے طور پر۔ میں اس کی طرف دیکھوں تو میں اس طرف نہیں دیکھ رہا ہوں گا۔ یعنی وہ ایک وقت میں نہیں دو ہو سکتیں۔ لیکن یہ بات ہے کہ جہاں تک یہ conceptually جو چیزیں ہیں یہ تو کئی بھی اکٹھی ہو سکتی ہیں۔

سوال 9: بزرگوں کے لیے جو کھڑا ہونا ہوتا ہے یہ کس طرح ہوتا ہے کیوں کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم تو اس کو ناپسند کرتے تھے؟

سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012

جواب: یہ بڑا اچھا سوال کیا آپ نے، ایک اس میں ایک اشکال آتا ہے لوگوں کو۔ لیکن میں آپ کو چند واقعات بتاتا ہوں، یہ اشکال دور ہو جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پہ انصار سے کہا۔ قُومُوا اِلٰى سَيِّدِكُمْ۔ اپنے بڑے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لا رہے تھے۔ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لیے کھڑے ہوتے تھے۔ اور فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھڑی ہوتی تھیں۔ یہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی طبیعت یہ تھی کہ اپنے لیے ایسا نہیں چاہتے تھے۔

لیکن دوسروں کو نہیں روکتے تھے۔ میں نے کہا خود ہی فرمایا ہے: اپنے سردار کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ اپنے بڑے کے لیے کھڑے ہو جاؤ، تو وہ ممانعت تو نہیں ہوئی۔ ہاں البتہ جس کے لیے کھڑا ہوا جا رہا ہے، اگر وہ خود چاہتا ہو میرے لیے کھڑے ہوں، پھر اس کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جو نہ تو یہ چاہتے ہیں کہ میرے لیے کھڑے ہوں، نہ کسی کو روکتے ہیں جو ان کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ مطلب اس پر ان کا کوئی تبصرہ نہیں ہوتا۔

میں اس کی وجہ بتاتا ہوں، اس کی وجہ بھی ہوتی ہے۔ مثلاً مجھے پتا ہے کہ میں چاہے کتنا زور لگا دوں میں کسی کو اپنے سے آگے کرنا چاہوں جو میرے ساتھی ہیں، کوئی مجھ سے آگے نہیں ہوتا۔ اب خوامخواہ میں لڑائیوں میں کیوں وقت گزاروں؟ جب مجھے پتا ہے کہ کوئی آگے نہیں ہوتا تو پھر چلو میں آگے۔ وقت کیوں ضائع کر دوں؟ اس طریقے سے اگر کسی کو یہ پتا ہو یعنی اس کی وجہ سے نہیں کہ میں بڑا ہوں بلکہ یہ ہے کہ اب لوگ ان کو جو سمجھتے ہیں اس کی وجہ سے ان کو تکلیف ہو جاتی ہے اگر میں خوامخواہ ان کی اس بات کو نہیں، تو ان کو تکلیف ہو جاتی ہے، ان کے لیے وہ کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے، حجاب ہو جاتا ہے۔ تو ان کو اس تکلیف سے بچانے کے لیے اگر آدمی اس کی اجازت دے دے تو یہ اس میں نہیں آئے گا کہ اپنے لیے کھڑے ہونے کو پسند کرتے ہوں۔ ٹھیک ہے نا؟ طبیعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی تھی کہ خود اپنے لیے کھڑے ہونے کو پسند نہیں فرماتے تھے عام طور پر۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں روکا۔ عام طور پر۔ لیکن یہ بات ہے کہ دوسروں کو بھی روکا نہیں۔

سوال 10: تو کیا بزرگوں کو شعائر اللہ سمجھ کر ہم کہ سکتے ہیں کہ یہ شعائر اللہ کی تعظیم ہے؟

سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012

جواب: اولیاء اللہ ہیں نا۔ آپ اگر ان کو اولیاء اللہ سمجھتے ہیں۔ یہ آپ کی سمجھ پر موقوف ہے نا۔ ہیں یا نہیں، وہ تو اللہ کو پتا ہے نا۔ اس کے بارے میں کون کہہ سکتا ہے کہ کون ہے اور کون نہیں ہے۔ یہ تو اللہ کو پتا ہوتا ہے۔ لیکن آپ تو ان کو اولیاء اللہ میں سے سمجھتے ہیں نا۔ تو اولیاء اللہ، اللہ تعالیٰ کے وہ نہیں ہوئے؟ نسبت تو ہو گئی نا۔

سوال 11: یہ جو دھیان اللہ کی طرف لگ جائے کسی طرح نا، مبتدی کا یا طالب علم کا، اس کے لیے اللہ کی طرف سے اس کے اوپر حالات بھی مطلب طاری ہوتے ہوں گے یا لائے جاتے ہوں گے، یہ کیسے پتا چلے کہ اللہ کی طرف سے ہے؟

سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012

جواب: بس اصل میں یہ تو ایک لمبا process ہے۔ ایک دو دن کی بات نہیں ہوتی۔ اور اس میں پیاز کے چھلکوں کی طرح معاملہ ہوتا ہے۔ کہ ایک چھلکا اترتا ہے تو نیچے سے پورا ایک پیاز برآمد ہوتا ہے۔ پھر اس کا چھلکا اترتا ہے تو پھر ایک اور پیاز برآمد ہوتا ہے۔ پھر وہ چھلکا اترتا ہے تو پھر ایک اور پیاز برآمد ہوتا ہے۔ تو اسی طریقے سے یہ تصوف کا جو معاملہ ہے کہ آپ کو جتنا جتنا پتا چلتا ہے اس کے اندر کچھ اور نکل آتا ہے کہ پھر اس کا پتا چلنا ہوتا ہے۔ تو یہ سلسلہ ever progressing ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اس میں اصولی بات یہی ہے کہ اپنے شیخ کے ساتھ تعلق رکھیں۔ اور ان کو بتاتے رہیں۔ وہ جیسے بتا رہے ہیں اس طرح کرتے رہیں۔ جیسے میں نے ایک دفعہ کچھ باتیں کیں، حضرت نے فرمایا بھئی یہ راستے کے کھیل تماشے ہیں، چھوڑ دو۔ بس ٹھیک ہے، اب ظاہر ہے بچا دیا حضرت نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے، ورنہ میں کشفیات میں اور پتا نہیں کن کن چیزوں میں پڑ جاتا۔ تو یہ چیزیں ہوتی ہیں مطلب۔ جو صحیح مشائخ ہوتے ہیں وہ اس کے side effects سے بچاتے رہتے ہیں۔

اس لیے کہتے ہیں: ساقی پلا دے پھول تو کانٹا نکال کے
مطلب یہ ہے کہ وہ ذرا اس کے جو side effects ہوتے ہیں ان سے بچا لیتے ہیں۔

سوال 12: خلافت جو دیتے ہیں مشائخ، اس کی حقیقت کیا ہے؟ یہ اس شخص کی اصلاح ہو گئی ہوتی ہے یا ایک trust ہوتا ہے؟

سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012

جواب: مشکل سوال ہے، سمجھنے کے لحاظ سے، جواب دینے کے لحاظ سے نہیں۔ اصل میں خلافت جو ہے یہ نسبت کی اطلاع ہے۔ اس کی ایسی مثال ہے جیسے درسیات سے کوئی آدمی فارغ ہو جائے تو اس کو certificate دیا جاتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب یہ عالم ہو گیا۔ بلکہ اس کا مطلب ہے کہ اب اگر ڈھنگ کا مطالعہ کرے گا کچھ اپنے طور پہ، تو اتنا سمجھ میں آ گیا اس کو کہ اب یہ عالم بن جائے گا۔ مطلب اگر جاری رکھے گا۔ تو اس طرح جو خلیفہ جس کو ہم کہتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب وہ اس حد تک ہو گیا کہ اب وہ کام جاری رکھے گا تو ان شاء اللہ اپنے مقصد کو حاصل کر لے گا۔ اس کے اوپر اتنا اعتماد آ گیا۔ وہ فتنے کے دور سے ان شیخ کے اجتہاد کے مطابق نکل گیا۔ اجتہاد غلط بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن مطلب یہ ہے کہ اس شیخ کے اجتہاد میں وہ اس فتنے سے نکل گیا۔ اب وہ اگر کام کرنا چاہے گا تو ان شاء اللہ اس کا وہ فائدہ ہو گا۔ لیکن یہ بات نہیں ہے، اگر اس طرح ہو تو پھر تو ہر خلیفہ کو آپ نے کند چھری سے ذبح کر دیا۔ یعنی اگر آپ نے اس کو یہ بتا دیا کہ بس اب تو ولی اللہ ہو گئے، اب آپ کو؟ تو وہ تو آپ نے کند چھری سے اس کو ذبح کر دیا۔ تو یہ ایسا نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے میں نے کہا کہ سمجھنے کے لحاظ سے مشکل بات ہے۔

بلکہ اللہ کی شان کہ جن کو اللہ یہ چیز دے دیتے ہیں نا، ان پہ اپنے عجز کو ایسا طاری کر دیتے ہیں۔ کہ ان کو لوگ قسمیں کھا کھا کر بھی اگر بزرگ کہیں نا تو کہتے ہیں تم کیا بیوقوف آدمی ہو، کیا کہہ رہے ہو۔ وہ اس پر حیران ہوتے ہیں بھئی لوگ مجھے بزرگ کیوں کہہ رہے ہیں۔ میں تو ایسا ہوں، میں تو ایسا ہوں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت کا ایک انتظام ہونے لگتا ہے۔

سوال 13: بعض اوقات میں نے یہ سنا کہ بزرگوں نے کہا کہ اس شخص میں استعداد ہے اگر محنت کرے تو۔

سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012

جواب: بس وہی والی بات ہے۔

سوال 14: اب ایک بندہ ہے جو کہ جس کی نیت بلکل ٹھیک ہے اور وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچا رہا ہے۔ اور ایک طرف وہ بندہ ہے جس کے بارے میں کوئی کہہ رہا ہے کہ اس میں استعداد ہے۔ دونوں میں کیا فرق ہے؟ کیا صرف نیت کا درست ہونا ہے؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو دل کو دیکھتے ہیں۔ کیا یہی استعداد ہے یا دونوں میں فرق ہے؟

سوال جواب مجلس نمبر: 1، 9 جنوری، 2012

جواب: نیت کا درست ہونے کا پتا بھی تب چلتا ہے جب اس میں استعداد ظاہر ہو جاتی ہے نا۔ ورنہ انسان بعض دفعہ اپنی نیت کو درست سمجھتا ہے لیکن درست ہوتی نہیں ہے۔ اس کا ابھی امتحان نہیں ہو چکا ہوتا۔ یعنی ابھی اس کا امتحان باقی ہوتا ہے۔ مثلاً بہت سارے لوگ ہیں جب تک ان کو ذکر فکر سے دنیاوی چیزوں کے فائدے حاصل ہو رہے ہوتے ہیں تو کر رہے ہوتے ہیں۔ اور جب وہ چیزیں بند ہو جائیں مثلاً مزہ آنا بند ہو گیا یا کچھ اس طرح، تو چھوڑ دیتے ہیں۔ تو اس کا مطلب واضح ہے کہ مزے کے لیے کر رہے تھے نا، وہ اللہ کے لیے تو نہیں کر رہے تھے۔ امتحان میں فیل ہو گیا۔ ٹھیک ہے نا؟ تو اس طرح بہت سارے ٹیسٹ ہیں۔ یہ تو میں نے صرف ایک ٹیسٹ کا بتا دیا۔ تو کسی کی نیت کے بارے میں سو فیصد بات پہلے نہیں کی جا سکتی جب تک اس کا ٹیسٹ نہ لیا جائے۔ اور ٹیسٹ من جانب اللہ arrange ہوتے رہتے ہیں۔

تو شیخ جب کسی کو کہتا ہے نا کہ اس میں استعداد ہے تو وہ ان سارے ٹیسٹوں سے گزر چکا ہوتا ہے۔ اس پر پھر شیخ کے اجتہاد میں وہ شخص اس قابل ہے کہ اس کو یہ چیز دے دی جائے۔ اب اس کو کوئی یہ کہے گا کہ تو بزرگ ہے، اس کو نقصان نہیں ہو گا۔ یعنی اس میں اتنی استعداد ہے کہ وہ بچ جائے گا اس وار سے۔ یہ وار بڑا خطرناک ہے۔ بہت خطرناک وار ہے، بہت خطرناک وار ہے۔ آسان بات نہیں ہے کسی کو کوئی بزرگ کہہ دے اور وہ بچ جائے۔ بہت مشکل کام ہے۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو قبول کیا ہوا ہے اور یہ چیز اس کو دی ہے اور یہ استعداد اس کے پاس ہے۔ تو اس کو بے شک لوگ قسمیں کھا کھا کر کہیں کہ تو بزرگ ہے نا، وہ کہے گا یار تم کیا بیوقوف آدمی ہو۔ کیا کہہ رہے ہو؟ مجھے اپنے آپ کا پتا ہے، یا تمہیں میرا پتا ہے۔ تو یہ، یہ چیز جو ہوتی ہے یہ استعداد ہوتی ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ اَللّٰهُمَّ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ وَصَلَّى اللّٰهُ تَعَالَى عَلَى خَيْرِ خَلْقِهِ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ۔

سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات - مجلسِ سوال و جواب - اشاعت اول