سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات
مجلس نمبر: 3
- جان، مال اور وقت اللہ کی امانتیں ہیں، جنہیں اس کی منشا کے مطابق استعمال کرنے سے ابدی زندگی سنورتی ہے۔
- ابدی زندگی بنانے کے لیے علم کے ساتھ نفس اور شیطان کے خلاف تجرباتی روحانی تربیت بھی ضروری ہے۔
- ایک ہی گناہ کی مسلسل طلب نفسانی خواہش ہے، جبکہ ایک برائی سے رکنے پر فوراً دوسری کی خواہش شیطانی وار ہے۔
- بغیر شرعی جواز کے لوگوں سے سوال کرنا یا دل میں کسی چیز کی طمع رکھنا یعنی اشرافِ نفس حرام ہے۔
- کشف و کرامات محض اللہ کی عطا اور انسان کا امتحان ہیں، ان کا بزرگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
- ذکر خالصتاً اللہ کے لیے ہونا چاہیے، اسے کشف یا کسی اور غرض کے لیے کرنے سے ذکر کا اجر ضائع ہوجاتا ہے۔
- روحانی تربیت کے لیے ایک ہی شیخ سے وابستگی ضروری ہے، البتہ فیضِ صحبت کے لیے دیگر مشائخ کے پاس جایا جاسکتا ہے۔
- شیخ کو ہدیہ خالص محبت کی بنیاد پر دینا چاہیے، اس سے نمبر بنانے یا دعا کی اجرت سمجھنے کی نیت سخت نقصان دہ ہے۔
- بیعت دراصل ارادے کا نام ہے، اس لیے باشعور اور سمجھدار نابالغ بچہ بھی اپنے ارادے سے بیعت ہو سکتا ہے۔
- بزرگوں کی محض نگاہ پڑنے سے بھی روحانی فیض جاری ہو سکتا ہے، لیکن اس کا کلی انحصار مشیتِ ایزدی پر ہے۔
- مجذوب کی عقل مغلوب ہونے کے سبب اس سے فیض نہیں ملتا، کیونکہ استفادہ صاحبِ ہوش مشائخ سے ہی کیا جاسکتا ہے۔
- نفس کے تقاضوں کو مٹا کر دل پر صرف اللہ کی عظمت طاری کرنا فنا ہے جس سے کامل عبدیت نصیب ہوتی ہے۔
- کامل فنائیت میں انسان کو اپنی فنا کا احساس بھی نہیں رہتا، مگر وہ عام انسانوں کی طرح اپنی ظاہری ذمہ داریاں پوری کرتا ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
الحمد للہ، دین آسان ہے اور دین ہماری زندگی کے لیے جان کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ جان تو امانت ہے۔ یہ تو ایک وقت تک ہے، اس کے بعد لے لی جائے گی، اور مال و دولت بھی امانت ہے، وقت بھی امانت ہے۔ لیکن اگر ہم اس کو اللہ جل شانہ کی منشا کے مطابق، ان تین چیزوں کو استعمال کر لیں تو پھر ان شاء اللہ وہ جو ابدی زندگی ہے وہ ہماری بن جائے گی۔
تو اس ابدی زندگی بنانے کے لیے ایک تو علم کی ضرورت ہے کہ انسان کو معلوم ہو کہ اللہ چاہتا کیا ہے اور جو چاہتا ہے اس کو کرنا کیسے ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اس سے روکنے کے لیے جو طاقتیں ہیں، مثلاً شیطان ہے اور نفس ہے، اس سے مقابلہ کیسے کیا جائے، نفس کی تربیت کیسے کی جائے اور شیطان کی بات سے اپنے آپ کو کیسے بچایا جائے۔ اس سلسلے میں ساری بات ہوتی ہے، تو چونکہ اس میں تجرباتی باتیں ہوتی ہیں، علمی باتیں بھی ہوتی ہیں، تجرباتی باتیں بھی ہوتی ہیں، تربیت تو ساری کی ساری تجرباتی ہے۔ تو اس لحاظ سے اس میں پھر پوچھنے کی ضرورت بھی پڑتی ہے کہ جو کسی کی ضرورت ہو، مثلاً کوئی بات سمجھ نہیں آ رہی ہو یا طریقہ سمجھ میں نہ آ رہا ہو تو اس کے لیے پھر رابطہ کیا جاتا ہے۔ تو یہ جو ہم نے پروگرام شروع کیا ہے، اسی رابطے کے لیے شروع کیا ہے۔
تو جن حضرات کا کوئی سوال ہو تو وہ ٹیلی فون پر رابطہ کر لیں۔ ان شاء اللہ العزیز جو اللہ پاک ان کے لیے بھیجے گا تو وہ جواب دے دیا جائے گا۔ تو اگر کسی کا کوئی سوال ہو تو وہ پوچھ سکتے ہیں۔ اگر حاضرین کا کوئی سوال ہو تو وہ پوچھ سکتے ہیں، اس درمیان میں اگر کوئی اور کسی کا کوئی سوال آ جاتا ہے تو وہ بھی پوچھا جا سکتا ہے۔
سوال نمبر 1: نفس اور شیطان کی جو شرارت ہے اس کا ڈفرنس کیسے پتا لگے گا کہ یہ نفس کی ہے یا شیطان کی ہے؟
سوال جواب مجلس 16 جنوری 2012، مجلس نمبر: 3
جواب: ہاں، یہ اچھا سوال ہے کہ کون سا کام نفسانی خواہش کی وجہ سے ہے اور کون سا کام شیطانی لغزش کی وجہ سے ہے، شیطانی اغوا کی وجہ سے ہے۔ یہ دونوں چیزیں ہیں۔ جس کے بارے میں پتا چل جائے کہ ایک ہی چیز طلب ہو رہی ہے، یعنی ایک ہی چیز مسلسل طلب ہو رہی ہے، کسی ایک گناہ کی طرف مسلسل دھیان جا رہا ہے تو سمجھو کہ یہ نفس کی طرف سے ہے۔ کیونکہ نفس اپنا مطلب چاہتا ہے، اس کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ گناہ اس سے ہوتا ہے یا نہیں ہوتا، اس کو اپنی غرض پوری کرنی ہے، چاہے وہ جائز طریقے سے پوری ہو، چاہے ناجائز طریقے سے پوری ہو۔ وہ ناسمجھ بچے کی طرح ہے، اس کو اس کا یعنی پتا نہیں ہوتا کہ اس سے نقصان ہوگا۔ اس کو بس صرف وہ فوری خواہش پوری کرنی ہوتی ہے۔ تو اگر کوئی ایسی بات ہو تو یہ پھر نفس کی وجہ سے ہوتی ہے۔
اور اگر ایک برائی کی خواہش آ رہی ہو اور اس کو آپ روکتے ہیں اور اس کے ساتھ دوسری برائی کی خواہش آ جائے فوراً، تو سمجھو کہ پھر یہ شیطان کی طرف سے ہے۔ کیونکہ شیطان کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ فلاں برائی کرائی جائے، اس کو اس سے غرض ہے کہ آدمی گناہ کر لے، آدمی اللہ تعالیٰ سے دور ہو جائے۔ اس وجہ سے اس طرف ہوتا ہے، ایک تو یہ علامت ہے۔
دوسری علامت یہ ہے کہ کفار سے جو گناہ ہوتے ہیں وہ نفس کی وجہ سے ہوتے ہیں، لہٰذا مسلمانوں سے بھی وہ گناہ نفس کی وجہ سے صادر ہوں گے۔ کیونکہ نفس مسلمان کے ساتھ بھی ہے، کافر کے ساتھ بھی ہے۔ اور جو مسلمان سے تو گناہ یعنی ہوتے ہیں لیکن کافر سے نہیں ہوتے، تو وہ شیطانی گناہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ شیطان کافروں سے وہ گناہ نہیں کرواتا۔ ان کو پتا ہوتا ہے کہ یہ تو ہمارے ہیں، یہ تو جہنم جانے ہی جانے ہیں۔ لہٰذا ان کو کسی ایسے گناہ میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا۔ وہ کہتے ہیں بلکہ اچھے رہیں تاکہ دوسرے لوگوں کے لیے مثالی بن جائیں اور دوسرے لوگ بھی ان کی وجہ سے کافر بن جائیں۔
مثال کے طور پر قادیانی جو ہیں، جب یہ قادیانی بن جاتے ہیں تو بڑے تحمل مزاج ہو جاتے ہیں اور خرچ بھی کرنے لگتے ہیں، برداشت ان میں آ جاتی ہے، سلیقہ بھی ان میں آ جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب شیطان نے ان سے وہ اثر ہٹا لیا، باقی مسلمانوں کے اوپر وہ چیزیں موجود ہوتی ہیں۔
تو شیطان کافروں سے وہ گناہ نہیں کرواتا بلکہ صرف مسلمانوں سے، کیونکہ مسلمانوں کے بارے میں اس کو پتا ہوتا ہے کہ اگر ایک دفعہ سبحان اللّٰه بھی کہے گا تو اس پر بھی اس کا مرتبہ بلند ہوگا۔ اگر کسی راستے سے کوئی تکلیف دہ پتھر بھی ہٹائے گا تو اس پر بھی اس کو اجر ملے گا، لہٰذا اس کی ہر ہر چیز کے پیچھے ہوتا ہے کہ کہیں کوئی نیکی نہ کر لے۔ تو یہ علامت ہے۔
ویسے مجھ سے لوگ بہت سوال کرتے ہیں لیکن جب سوال کے لیے میں خود کہتا ہوں تو سوال ختم ہو جاتے ہیں۔ بلکہ راستے میں کھڑے کھڑے پوچھ لیتے ہیں۔ کہیں میں جا رہا ہوتا ہوں تو راستے میں پوچھ لیتے ہیں، حالانکہ راستے میں پوچھنا ٹھیک نہیں ہے۔ لیکن بہرحال وہ پوچھ لیتے ہیں، لیکن اب جب وقت ہوتا ہے تو بس پھر سوال ختم ہو جاتا ہے۔
سوال نمبر 2: یہ سوال کرنے اور اشراف نفس میں کیا فرق ہے اور ان کا حکم کیا ہے؟
سوال جواب مجلس 16 جنوری 2012، مجلس نمبر: 3
جواب: ایک ہوتا ہے سوال۔ سوال جو ہوتا ہے یہ کسی سے سوال کرنا، اپنے کسی دنیاوی مقصد کے لیے، یہ سوال ہے۔ مثال کے طور پر آپ کو پیسے چاہییں یا آپ کو کوئی سروس چاہیے، ہیں جی، تو وہ سوال ہے۔ تو سوال کرنا جو ہے مطلب بلاوجہ حرام ہے، مطلب جب تک جائز نہ ہو، اور جواز کی شرطیں پھر بڑی تفصیلی ہیں لہٰذا وہ اس مختصر موقع پر نہیں بیان کی جا سکتیں۔ لیکن جب تک شریعت نے اس کی اجازت نہ دی ہو تو اس وقت تک سوال حرام ہے۔
اور اشرافِ نفس، زبان سے سوال نہیں کیا جاتا، دل میں خیال ہوتا ہے کہ یہ مجھے دے دے۔ مثال کے طور پر بھوکا آدمی ہے، آ کر کوئی کھانا کھا رہا ہے، اب دل میں اس کی چاہ، خواہش ہے کہ یہ مجھے بھی کہہ دے کہ آپ میرے ساتھ کھا لیں۔ تو یہ اشرافِ نفس ہے، یہ اشرافِ نفس ہے۔ اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ یہ شادی بیاہ کے جو چکر ہوتے ہیں، کوئی آدمی کہے کہ مجھے بھی کارڈ دے دے، مجھے بھی بلا لے شادی پر، تو یہ اشرافِ نفس ہے۔ تو ایسا اشرافِ نفس بہت عام ہوتا ہے، مطلب لیکن اس کا پتا نہیں چلتا۔ عام لوگوں کو پتا نہیں چلتا، ظاہر ہے وہ چھپا ہے، اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ ہے، دل کی بات ہے، اور سوال کا پتا چلتا ہے۔ تو اشرافِ نفس، یہ بھی حرام ہے۔
اس وجہ سے وہ ایک بزرگ کا واقعہ ہے کہ ان کو فاقہ تھا، تو ان کے ایک شاگرد آئے تو ان کے لیے خوانچہ بھرا ہوا لائے کھانے کا۔ جب وہ لائے تو ان حضرت کے سامنے سلام کر کے بیٹھ گئے اور اس کو رکھ دیا۔ تو انہوں نے کہا: بیٹا! آپ بہت اچھا کیا آپ لے آئے، آپ کو اس کا ثواب مل گیا، لیکن میرے لیے یہ حرام ہے۔ اس نے کہا: حضرت! میرا کھانا آپ کے لیے کیسے حرام ہو گیا؟ فرمایا کہ جب آپ آ رہے تھے تو میرے دل میں خیال آیا تھا کہ اب یہ میرے لیے کوئی کھانے کی کوئی چیز لا رہا ہے، لہٰذا وہ میرا اشرافِ نفس تھا، تو یہ ٹھیک نہیں ہے، اب میرے، میں نہیں کھا سکتا۔ تو وہ شاگرد بڑے ہوشیار تھے، تو اس نے کہا: حضرت! میں آپ کو حرام کیوں کھلاؤں گا؟ بالکل نہیں کھلاتا، میں لے جاتا ہوں، پھر کبھی سہی۔ اور بس چلے گئے اور فوراً واپس آ گئے، کہتے ہیں: حضرت! اب تو آپ کا خیال نہیں تھا؟ کہا: جی بالکل نہیں تھا۔ اس نے کہا: جی بس آپ کھا لیجیے۔ تو شکر خورے کو خدا شکر دے دیتا ہے۔ دیکھو اللہ پاک نے حلال کھلا دیا، جب حرام سے نظر ہٹا دی تو حلال کھلا دیا، فوراً کھلا دیا۔ تو اللہ تعالیٰ دیتے ہیں مطلب کسی کو ظاہر ہے محروم نہیں فرماتے، لیکن یہ کہ انسان اللہ سے مانگے۔
میں آپ کو اس کی ایک مثال اور دیتا ہوں۔ میں گیا تھا Jabees ہوٹل میں میرا قیام تھا، کراچی میں، سرکاری ڈیوٹی پہ گیا تھا، اور آپ کو پتا ہوتا ہے کہ سرکاری ڈیوٹی، یہ Jabees ہوٹل، اس قسم کے جو ہوٹل ہوتے ہیں، اس میں یا کاروباری لوگ ٹھہرتے ہیں یا سرکاری افسر ٹھہرتے ہیں۔ کیونکہ عام لوگوں کی رینج سے تو یہ باہر ہوتے ہیں، مطلب ان کے جو اخراجات ہوتے ہیں۔ تو وہ پھر یہ ہے کہ سرکاری افسر ان کو پتا چل جاتا ہے کہ یہ کسی سرکاری جگہ سے آئے ہوئے ہیں۔ اب جو ان کے بیرے تھے، تو ان کا یہ خیال تھا کہ میں ان کا کوئی کام کر لوں، مطلب کوئی ان کے لیے کوئی vacancy وغیرہ یا کوئی اس طرح، ہوتے ہیں مطلب لوگوں کو خیال ہوتا ہے۔
تو میں نماز کے لیے جا رہا تھا صبح کی، تو یہ ایک جائے نماز پہ بیٹھا ہوا تھا corridor میں، اور زور زور سے دعا کر رہا تھا کہ: اے اللہ! میں بے روزگار ہوں، مجھے روزگار عطا فرما دے اے اللہ! میرا یہ مسئلہ ہے، میرا یہ مسئلہ ہے۔ سنا مجھے رہا تھا، تو مجھے بڑی حیرت بھی آئی، مجھے غصہ بھی آ گیا کہ اگر مجھے صاف کہہ دیتے، تو چلو ایک جائز کام تھا کہہ دیتے، تو اگر ہو سکتا تھا تو میں کر دیتا، نہ ہو سکتا تو معذرت کر لیتا۔ لیکن یہ ناٹک رچانے کی کیا ضرورت تھی کہ خواہ مخواہ اس طریقے سے وہ کہنا کہ اشاروں سے، دل میں ایک چیز رکھی ہوئی۔ تو یہ چیز اس طرح ہوتی ہے۔ بہت سارے لوگ اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں۔
سوال نمبر 3: کسی کو اشرافِ نفس ہو جائے اور وہ جھٹلا دے اس خیال کو، تو بھی؟
سوال جواب مجلس 16 جنوری 2012، مجلس نمبر: 3
جواب: ہاں، مطلب ہو سکتا ہے اس خیال کو وہ جھٹلا دے، لیکن جھٹلانے کے مراحل ہیں۔ مثلاً ایک شخص ہے، وہ نماز قصر پڑھنا چاہتا ہے، تو وہ یہ ہے کہ اب اس کا سامان پڑا ہوا ہے اور اپنی جگہ پر ہے، اور اس میں ویسے ہی نیت کر لے کہ چلو جی میں سفر کی نیت کرتا ہوں کراچی کے، پھر بعد میں چلو نہیں گیا تو نہیں گیا، لیکن چلو کراچی کی نیت کر لیتا ہوں، تو اس سے وہ مسافر تھوڑا ہو جائے گا؟ یقینی طور پر اگر ایسی بات نہیں ہے، پھر تو ٹھیک ہے ورنہ اللہ کو تو دھوکا نہیں دیا جا سکتا نا۔ یہ تو اللہ کے ساتھ معاملہ ہے، تو لہٰذا کھری کھری بات ہونی چاہیے۔
سوال نمبر 4: کشف و کرامات جو ہوتی ہیں، ہر بزرگ کے ساتھ ہوتی ہیں؟
سوال جواب مجلس 16 جنوری 2012، مجلس نمبر: 3
جواب: نہیں۔ یہ کشف اور کرامت جو ہے، یہ یوں سمجھ لیجیے کہ یہ انسان کے بس میں نہیں ہوتی، یہ اللہ کا فعل ہوتا ہے، انسان کا فعل نہیں ہوتا۔ جو لوگ اس کو انسان کا فعل سمجھتے ہیں وہ پریشان ہو جاتے ہیں، ان کو پھر سمجھ میں نہیں آتی چیزیں، اس وجہ سے گڑبڑ ہو جاتا ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں۔
کشف ایک ایسی چیز ہے جیسے میری نظر کم ہے، +2.5 ہے۔ اور لوگوں کی اچھی نظر ہوتی ہے، صحیح بالکل، یعنی بالکل ٹھیک نظر بھی ہوتی ہے، six by six نظر ہوتی ہے۔ تو اب six by six نظر والی نظر زیادہ بزرگ ہے؟ Six by six نظر والا آدمی زیادہ بزرگ ہے؟ آپ کیا اس کو بزرگ مانتے ہیں؟ یعنی اس کا بزرگی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے نا، بس ٹھیک ہے اللہ پاک نے اس کو ایک چیز دی ہوئی ہے، اس کو زیادہ بہتر نظر آتا ہے۔ تو اس طرح جو ہم سے چھپی ہوئی چیزیں اگر کسی کو نظر آتی ہیں، تو یہ بزرگی کی علامت نہیں ہے، بس اس کو ایک چیز ملی ہوئی ہے، اور وہ امتحان ہے اس کا۔ وہ اس کا امتحان ہے کہ آیا وہ اس کو صحیح طور پہ استعمال کرتا ہے یا غلط طریقے سے استعمال کرتا ہے۔ اس کو ایک extra چیز ملی ہوئی ہے۔
اور اس چیز کے دینے کے لیے ہم لوگوں کو فکر کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جب اللہ کراتا ہے تو اس کو وہ چیز دے دیتے ہیں جس طریقے سے بھی ہو۔ اس کو وہ چیز نظر آنے لگتی ہے۔ تو یہ باتیں مطلب ہوتی ہیں کہ بعض دفعہ بچوں کو کشف ہوتا ہے اور بڑوں کو نہیں ہوتا۔ مثلاً بچوں کو جنات نظر آنے لگتے ہیں، بڑا ساتھ ہی بیٹھا ہوتا ہے، وہ اس کو نظر نہیں آ رہا ہوتا ہے، کہتا ہے یہ ہے۔۔ لیکن وہ اس کو نظر نہیں آتے، میں ادھر ہی مولانا کے پاس بیٹھا ہوا تھا ایک بچہ آیا تو ان کے استاد نے کہہ دیا کہ یہ جنات اس کو تنگ کر رہے ہیں۔ تو مولانا نے اس کو بلایا، سامنے بٹھایا تو اس نے کہا: ادھر ہے، کہتے ہیں: کدھر ہے؟ اس کے پیچھے ہو گیا۔ وہ اس طرح باقاعدہ بتا رہا ہے ادھر ہے۔ اب ظاہر ہے ہم سب بیٹھے ہوئے تھے ہمیں تو نظر نہیں آ رہا تھا۔ تو یہ کشف ہے۔
تو یہ چیز اس طرح ہے کہ مطلب بچوں کو بعض دفعہ ہو جاتا ہے، پاگلوں کو ہو جاتا ہے، جانوروں کو ہوتا ہے۔ احادیث شریف سے ثابت ہے کہ قبر کا عذاب سوائے جنات کے اور انسانوں کے سب کو سنائی دیتا ہے۔ تو اب ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ وہ کشف ہے نا، کشف القبور کس کو کہتے ہیں؟ تو جانوروں کو ہو رہا ہوتا ہے اور پاگلوں کو ہو رہا ہوتا ہے، تو یہ کوئی اہم بات نہیں۔
ہاں البتہ کبھی کبھی اوراد اذکار جو انسان کرتا ہے، اس کے سائیڈ ایفیکٹ کے طور پر وہ چیز بھی مل جاتی ہے، وہ بھی ہونے لگتا ہے، سائیڈ ایفیکٹ کے طور پہ۔ اب مثلاً مقناطیس رکھا ہوا ہے اور آپ کو پتا نہیں ہے، اور آپ ایک لوہے کو ویسے کسی اور کام کے لیے آگے پیچھے کر رہے ہیں اور وہ مقناطیس کی magnetic field کے ساتھ alignment ہو رہی ہو اور وہ مقناطیس بن جائے۔ تو آپ نے اس کے لیے تو نہیں کیا؟ لیکن اس کے سائیڈ ایفیکٹ کے طور پر وہ چیز بن گئی، وہ بھی مقناطیس بن گیا۔ تو اس طرح بعض دفعہ الائنمنٹ کی وجہ سے یہ کشف ہونے لگتا ہے، اور وہ الائنمنٹ ذکر کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے، فکر کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے، کسی اور وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔
تو دھوکا جو لوگوں کو ہوتا ہے وہ اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ پہلے لوگوں کو کشف نہیں ہوتا، مثال کے طور پر اب اس نے ذکر اذکار شروع کر لیے اور ذکر اذکار کے بعد اس کو کشف ہونے لگا تو کہتا ہے: ہاں ہاں یہ کشف ہے، یہ تو بزرگی ہے۔ حالانکہ ان ہزاروں لوگوں کو نہیں دیکھ رہا ہے جنہوں نے کبھی بھی ذکر نہیں کیا لیکن ان کو کشف ہو رہا ہے، ان کو کشف ہو رہا ہے۔ تو کشف کوئی اس کے ساتھ لازم ملزوم چیز نہیں ہے، لیکن اس کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، اس کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، اور اگر اس کے ساتھ بھی ہونے لگے تو یہ کوئی بزرگی کی بات نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ چلو جی ان کو ایک چیز حاصل ہو گئی۔
مثال کے طور پر میں ذکر کر رہا ہوں، ذکر کر رہا ہوں بہترین، اور مجھے بڑی اچھی طرح نیند آ جائے، تو میں اب ذکر نیند کے لیے تو نہیں کروں گا نا کہ میں اس کو tranquilizer کی گولی بنا دوں۔ جو بناؤں گا تو پھر اس ذکر کا وہ اجر نہیں ملے گا۔ پھر تو گولی بس ہو گئی نا، بس ٹھیک ہے اگر آپ نے وہ نہیں کھائی، وہ Valium five نہیں کھائی اور اس کی جگہ ذکر کر لیا تو بس وہ ذکر آپ کے لیے Valium five ہو گیا، وہی چیز آپ کو مل گئی، اور تو آپ کو کچھ نہیں ملا۔ تو ذکر جو کر رہا ہے مطلب ان چیزوں کے لیے، تو وہ اپنے ذکر کا ثمرہ خراب کر رہا ہے۔ ہاں تو ذکر بھی ان چیزوں کے لیے نہیں کرنا چاہیے۔ تو اس طرح ان چیزوں کے لیے وہ نہیں کرنا چاہیے۔ ہاں اگر سائیڈ میں خود بخود ہو گیا تو بس ٹھیک ہے اللہ پاک کا کام ہے، ہو گیا، ہو گیا۔ تو اس کو نہ تو بزرگی مانیں اور نہ اس مقصد کے لیے کوئی اس کو کرے۔
سوال نمبر 5: شیخ کی اجازت کے بغیر اس کے دور میں جو باقی بزرگان سے استفادہ کس نیت سے کیا جاسکتا ہے؟
سوال جواب مجلس 16 جنوری 2012، مجلس نمبر: 3
جواب: بلا ضرورت تو نہیں۔ مثلاً شیخ موجود ہے اور اس کی موجودگی میں کسی اور شیخ کی طرف متوجہ ہو جائے نا تو یہ تو وحدتِ مطلب کے خلاف ہے۔ لیکن مثال کے طور پر یہ آدمی چلا گیا کہیں باہر، یورپ چلا گیا، امریکہ چلا گیا، کراچی چلا گیا، کسی اور جگہ چلا گیا۔ اب اس کے پاس شیخ تو ہے نہیں تو صحبتِ صالحین کی نیت سے وہاں کے مشائخ کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں، تاکہ باقی جو غلط اثرات ہیں ماحول کے اس سے بچ جائیں۔ اور اس میں نیت یہ کرے، اور یہ سمجھے اور ہوتا بھی یہی ہے کہ مطلب یہ سمجھے کہ مجھے جو کچھ مل رہا ہے اپنے شیخ کا فیض مل رہا ہے، ہاں ان کے ذریعے سے مل رہا ہے، گویا کہ میرے شیخ کا حصہ یہاں رکھ دیا گیا۔ تو اس طریقے سے مطلب اگر کوئی ملتا ہے تو اس کو پھر نقصان نہیں ہوتا۔ لیکن اگر کوئی آدمی یہ اس کے ذہن میں ہو کہ کوئی اور بھی میرے شیخ کے علاوہ میری تربیت کر سکتا ہے اور میرے اس مطلب کو حاصل کروا سکتا ہے، یہ وحدتِ مطلب کے خلاف ہے، اس کو سخت نقصان ہوتا ہے۔
ہاں اگر وہ فقہی مسئلہ ہے، مثلاً علمی مسئلہ ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، وہ ہر عالم سے پوچھ سکتا ہے۔ کیونکہ شیخ اگر عالم بھی ہے، تو اس کا علم جو ہے وہ تو مختلف نہیں ہے، وہ ایک ہی چیز ہے وہ مسئلہ جہاں سے بھی پوچھے گا تو اس کو جواب وہی ملے گا، کیونکہ مسئلہ تو بدلتا نہیں ہے۔ اب نماز کا مسئلہ پوچھیں گے تو جس مفتی سے پوچھیں گے وہ تو آپ کو وہی جواب ملے گا۔ لیکن تربیت مختلف ہوتی ہے، تربیت مختلف ہوتی ہے۔ وہ ذرا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک آدمی سے ہونی چاہیے۔ کیونکہ اگر کبھی آپ ایک سے پوچھیں، کبھی دوسرے سے پوچھیں، کبھی ایک سے، کبھی دوسرے سے، تو آپ کا بالکل کام نہیں ہوگا، وہ کام خراب ہو جائے گا بالکل جیسے کئی ڈاکٹروں سے علاج بیک وقت کرنے سے نقصان ہو جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے تربیت تو نہیں، وہ کہ مختلف لوگوں سے نہیں، البتہ فیضِ صحبت، صحبتِ صالحین حاصل کرنے کے لیے ٹھیک ہے جا سکتا ہے، اس کے اوپر پابندی نہیں ہے۔ لیکن اپنے شیخ کے علم میں لے آئے، تاکہ ان کی توجہ بھی شامل رہے
اب میں گیا تھا ادھر کراچی، ڈاکٹر عبدالحئی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضری ہوئی۔ ایک tour پہ گیا تھا تو اللہ کا شکر ہے ان سے ملاقات ہو گئی۔ تو یہاں آکر میں نے پوری کارگزاری حضرت کو سنا دی، تو حضرت بہت خوش ہوئے، فرمایا: کاش مجھے جانے سے پہلے بتاتے میں سلام بھیجتا آپ کے ذریعے سے حضرت کو۔ مطلب ممانعت بھی نہیں فرمائی اور بلکہ خوش ہو گئے۔ کیونکہ ہم بزرگوں میں حضرت کے ان میں تھے۔ تو یہ چیز مطلب ہونی چاہیے تاکہ مطلب ان کی خدمت میں گزارش کر لے تو اس سے ڈبل فائدہ ہو جاتا ہے۔
سوال نمبر 6: شیخ کو ہدیہ دینا کیسا ہے،عام لوگوں میں تو یہ ہوتا ہے کہ زیادہ تر امیر لوگ دیتے ہیں۔ تو حضرت اس کی حیثیت اور اس کی کیا شرائط ہیں؟
سوال جواب مجلس 16 جنوری 2012، مجلس نمبر: 3
جواب: ہدیہ اس لیے نہیں دیا جاتا کہ انسان اس کے ذریعے سے نمبر بنائے یا اس کے نمبر بن جاتے ہیں، نہیں۔ اگر اپنے شیخ پر یہ گمان آ گیا کہ ہدیہ سے نمبر بنتے ہیں تو اس کو پھر فائدہ شیخ سے نہیں ہوگا، کیونکہ اس نے شیخ پہ اعتراض کر لیا، پھر تو فائدہ ہی نہیں ہوگا اس سے۔ تو ہدیہ اس لیے دینا چاہیے کہ آپ کا دل چاہے کہ میں اس کو ہدیہ دوں محبت کی وجہ سے۔ اب مثال کے طور پر ایک آدمی کا دل چاہتا ہے میں شیخ کے پیر کو دبا لوں، اس کی ایک خواہش ہوتی ہے وہ اس کے لیے ترستا ہے، وہ کہتا ہے کبھی مجھے موقع ملے گا کہ میں یہ خدمت کر لوں۔ اب وہ کیا اس سے وہ چاہے گا کہ شیخ مجھے اس کی وجہ سے اچھا کہے یا میرا نمبر اس کے ساتھ بڑھ جائے، وہ تو نہیں ہے۔ وہ ہوگا تو پھر کام خراب۔
اس لیے کہتے ہیں کہ ہدیہ میں ثواب کی نیت بھی نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ ثواب کی نیت جب آپ کرتے ہیں تو وہ خیرات بن جائے گی، اور جب خیرات بن جائے گی تو خیرات آپ کن کو دیتے ہیں؟ اور خیرات لینے والوں کے بارے میں آپ کے کیا خیالات ہوتے ہیں؟ تو شیخ کے بارے میں پھر آپ کے کیا خیالات ہو جائیں گے؟ تو یہ معاملہ تو خطرناک ہے۔ اس وجہ سے مجھے تو یہ بھی برا لگتا ہے کہ کوئی مجھے ہدیہ دے اور ساتھ ہی کہہ دے کہ میرے لیے دعا کریں۔ اس نے میری توہین کر لی، یعنی اس نے یہ سمجھا کہ یہ دعا میرے لیے تب کرے گا جب میں ہدیہ دوں گا یہ تو اس کی اجرت ہو گئی۔ بھئی دعا تو ہم یوں بھی کرتے ہیں، دعا تو ہر مسلمان کے لیے کرتے ہیں۔ ہاں الگ بات ہے ہدیہ سے محبت بڑھتی ہے۔ حدیث شریف ہے: «تَهَادَوْا تَحَابُّوا»۔ اور محبت کی وجہ سے جو دل سے دعا نکلے گی وہ ہدیہ کے اس میں نہیں نکلے گی، ہدیہ کی وجہ سے نہیں ہوگی، وہ اس محبت کی وجہ سے ہوگی۔ تو تم صرف محبت کی نیت کر لو، محبت کی نیت کر لو باقی ساری نیتیں چھوڑ دو، اور اگر نہیں کر سکتے تو پھر نہ دو ہدیہ۔ ہدیہ دینا ضروری تھوڑی ہے، نہ دے، ہدیہ نہیں دینا چاہیے اگر صحیح نیت کے ساتھ نہیں دے سکتا، تو نہ دے۔
ایک دفعہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو کسی تحصیلدار نے ہدیہ دیا، پچیس روپے۔ پچیس روپے اس وقت بہت بڑی بات تھی۔ حضرت نے اس سے دس روپے لے لیے اور پندرہ روپے واپس کر دیے، اس نے لے لیے۔ راستے میں اپنے ساتھی سے کہتے ہیں کہ میرے ساتھ تو عجیب بات ہو گئی۔ کہتا ہے: کیا؟ کہتا ہے: میرے دل میں دس روپے دینے کی نیت ہی تھی، لیکن دل میں خیال آیا کہ اتنے بڑے آدمی ہیں اس کو میں دس روپے کیسے دوں؟ تو میں نے کہا چلو پندرہ روپے میں اور ملا دیتا ہوں تو میں نے پچیس کر دیے۔ تو حضرت نے پندرہ نہیں لیے۔ تو میں آپ کو بتاؤں کہ دیکھو وہ بڑے مستغنی ہوتے ہیں، الحمد للہ۔ وہ ہدیوں سے مستغنی ہوتے ہیں، وہ ہدیوں پہ نہیں پلتے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پلتے ہیں۔ تو اگر آپ نے ان کو اپنے ہدیے کا محتاج سمجھ لیا تو وہ تو آپ نے بہت زیادہ degrade کر دیا۔ تو اس وجہ سے پھر تو نہیں دینا چاہیے، اس حالت میں تو نہیں دینا چاہیے۔ ہاں اگر محبت ہو باقی اور اس محبت کی وجہ سے کوئی چیز دی جا رہی ہو تو بالکل ٹھیک ہے۔
ایک دفعہ میں نے آپ کو واقعہ سنایا تھا کہ میں مولانا شریف ہزاروی صاحب کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ تو بے تکلف دوست ہیں میرے، محترم بھی ہیں، بے تکلف دوست بھی ہیں۔ تو اچانک میں نے کہا: مولانا! دل میں ایک بات آ رہی ہے، ناراض نہ ہونا۔ اس نے کہا: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: دل میں آ رہا ہے کہ آپ کو پانچ روپیہ ہدیہ کر لوں۔ تو اس نے دونوں ہاتھ اس طرح کر لیے۔ میں نے پانچ روپے نکالے، اس کے حوالے کر دیے۔ اس نے بہت محبت کے ساتھ لیے، کہتے ہیں: میں ان شاء اللہ جب عمرہ پہ جاؤں گا تو میں اس میں اس کو خرچ کروں گا۔ انہوں نے بڑی قدر فرمائی۔ تو اب یہ بات ہے کہ محبت کی بات تھی بس اب میرے دل میں آ گیا، اور میں نے بے تکلف حضرت کی خدمت میں پیش کر دیا، اب مجھے کیا ضرورت ہے کہ اس کے ساتھ کچھ اور calculation ملا دوں؟ بس ٹھیک ہے نا، محبت تو مجھے تھی اس کے ساتھ، تو بس محبت کی وجہ سے دے دیے، بس یہ کافی ہے اس سے زیادہ کی کیا ضرورت ہے؟
یہ بہت سارے لوگوں کو اس سے نقصان ہوتا ہے، بہت سارے لوگوں کو اس سے نقصان ہوتا ہے، وہ کیونکہ شیخ کے ساتھ محبت تو لوگوں کو ہوتی ہے، اس میں تو انکار نہیں ہے، بعض لوگوں کو جو ہوتی ہے۔ تو بعض لوگ صاحبِ وسائل بھی ہوتے ہیں تو وہ اپنی محبت کا اظہار بھی کرتے ہیں، اب اس سے بچنا بڑا مشکل ہے کہ آدمی اس کا دل رکھنے کے لیے وہ لیتا ہے، محبت والا ہدیہ۔ بلکہ میرے خیال میں پتا نہیں کب یہ واقعہ۔۔۔ ہاں درسِ مثنوی میں آیا تھا کہ پوچھا کہ میرے لیے کیا لائے ہو؟ پیغمبر تھے نا، میرے لیے کیا لائے ہو؟ کیا سوغات لائے ہو؟ وہ بے تکلف والی بات تھی۔ تو اس میں تو یہ کوئی مطلب ایسی بات نہیں ہے کہ اس میں وہ محبت کی وجہ سے دیا بھی جاتا ہے اور محبت کی وجہ سے لیا بھی جاتا ہے۔ انکار کرنا بھی ہر وقت مناسب نہیں ہوتا، ہاں اگر آپ کو بالکل یقین ہو جائے کہ بھئی یہ تو گڑبڑ ہے تو پھر انکار بھی کیا جا سکتا ہے۔ کیا ہے لوگوں نے انکار، حضرات کرتے ہیں، اور ہم بھی بعض دفعہ، اب ظاہر ہے ہم تو کچھ بھی نہیں ہیں، اللہ معاف فرمائے، لیکن دل جب مطمئن نہ ہو تو انکار بھی کر لیتے ہیں، لیکن ہر ایک سے انکار کرنا ممکن نہیں رہتا۔
اب صرف میں ایک چیز پر عمل کرتا ہوں، کوشش کرتا ہوں اس پر عمل کرنے کی، اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے۔ اور وہ یہ ہے کہ اگر کوئی مجھ سے ٹیلی فون پر پوچھے، یا مجھ سے کہیں جاتے ہوئے پوچھے کہ آپ کے لیے کیا لاؤں؟ یا ٹیلی فون پر پوچھے کہ آپ کے لیے کیا لاؤں؟ اس وقت میں کہتا ہوں: بس میرے لیے دعا کریں۔ حالانکہ وہ بڑی محبت کے ساتھ کہہ رہا ہوتا ہے بعض دفعہ، لیکن اس وقت میرا شرحِ صدر نہیں ہوتا کہ میں اس کو کہوں کہ میرے لیے فلاں چیز لاؤ۔ کیونکہ میں نے اپنے لیے اصول بنایا ہے کہ جو خود میں کہوں تو اس کے پیسے دیتا ہوں، اور خود سے کوئی لائے تو، اگر محبت سے لایا تو میں اس کو پھر لیتا ہوں، وہ ظاہر ہے اس کی محبت ہوتی ہے۔ تو اب اگر میں۔۔۔ اس معاملے میں یہ درمیان میں مشتبہ والی بات آ جاتی ہے۔ وہ جو مجھ سے کوئی پوچھے نا، تو یہ مشتبہ والی بات آ جاتی ہے، تو مشتبہ سے بچنا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ حدیث شریف میں ہے نا، حلال بھی بیّن ہے اور حرام بھی بیّن ہے اور درمیان میں کچھ مشتبہ چیزیں ہیں، اور جس نے اپنے آپ کو مشتبہ چیزوں سے بچا لیا تو اس نے اپنے دین کو بچا لیا۔ تو اب یہ ہے کہ اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو میں تو نہیں پھر کر سکتا، مطلب یہ مشتبہ مجھے معلوم ہو جاتا ہے۔ ممکن ہے میری غلطی ہو، ظاہر ہے میں ہر بات میں صحیح تو اپنے آپ کو نہیں کہتا، ممکن ہے میری غلطی ہو، لیکن احتیاطاً۔۔۔ احتیاطی غلطی ہے۔ احتیاط کی وجہ سے ہے، کہ کہیں مطلب یہ چینل channel شروع نہ ہو جائے، کیونکہ پھر بعض دفعہ لوگ کہتے ہیں بھئی، یہ کہ جو شیخ قبلہ کو کچھ نہیں لائے گا تو اس کو تو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ ایک سلسلہ لوگ شروع کر لیتے ہیں نا۔
تو اس طرح وہ ایک رسمی کارروائی بن جاتی ہے۔ تو اب یہ ہے کہ اگر کوئی لایا ہے، اور میں نے اس سے لے لیا، اور وہ میرے ساتھ محبت کرتا ہے اور میں اس کی محبت کا خیال رکھوں، تو عین ممکن ہے کہ بہت سارے لوگوں کے دلوں میں یہ خیال آ جائے کہ شیخ تو مالداروں کا ہی خیال رکھتا ہے، بس یہ تباہی ہے اس کے لیے، یہ اس کے لیے تباہی ہے۔ ایسی صورت میں بہت سارے لوگ اس کی وجہ سے خراب ہو جاتے ہیں، لیکن بس اللہ بچائے۔ کیا کیا جا سکتا ہے؟ دعا کے علاوہ اور کیا کیا جا سکتا۔۔۔ مطلب اس کا اور حل ہی کیا ہے؟ اس کا کوئی حل تو ہمارے پاس نہیں ہے کہ کیا کیا جائے، مطلب اس کو کیا کہیں؟ اس کی اپنے ذہن کی بات ہے۔ اگر اس نے اپنے شیخ کو اس قابل نہیں سمجھا، تو اب یہ اس کے اپنے ذہن کا قصور ہے۔ تو یہ والی بات ہو سکتی ہے، ذہن میں یہ بات آ سکتی ہے۔
تو اللہ معاف کر دے، یہ چیز جب ذہن میں آ جاتی ہے تو بعض دفعہ مجھے کسی نے میسج کر لیا تھا، اس قسم کا۔ Message کر لیا تھا کہ خلافت جو ہے یہ کون سی کار کے ذریعے سے ملتی ہے؟ میں نے کہا بس اس کا پتا کٹ گیا ہماری طرف سے۔ اب تو اس کو کچھ نہیں ملنا، ہمارا کم از کم ہماری طرف سے تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ میں نے صرف مطلب کہلوا دیا ان کو کہ ظفر کے پاس کون سی کار ہے اور عبید کے پاس کون سی کار ہے؟ فلاں کے پاس کون کون سی کار ہے؟ آپ نے صرف کار والوں کو دیکھا ہے، میرے کار والے کتنے ہوں گے اس میں؟ خلفاء میں کار والے کتنے ہوں گے؟ لیکن ان خلفاء پہ نظر گئی جو کار والے ہیں۔ تو یہ اس کے ذہن کا قصور تھا نا، مطلب اس میں ہم کیا کر سکتے ہیں؟ تو اس کے ذہن نے اس کو نقصان پہنچا دیا۔ اب وہ بہت معافیاں مانگ رہا ہے لیکن وہ والی بات تو نہیں بنتی نا پھر، پھر معافی تو نہیں ہوتی۔ مطلب معاف کر بھی لوں تو اس سے وہ چیز تو نہیں ملے گی ان کو۔
سوال نمبر 7: بیعت کا مطلب ہوتا ہے، نابالغ بچے بھی ہو سکتے ہیں بیعت؟
سوال جواب مجلس 16 جنوری 2012، مجلس نمبر: 3
جواب: ہاں، ہو سکتے ہیں۔ بیعت ارادے کو کہتے ہیں، ارادہ نابالغ بچہ بھی کر سکتا ہے لیکن ہو سمجھدار۔ ایسا نہ ہو کہ آپ دودھ پیتے بچے کا ہاتھ شیخ کے ہاتھ میں دے دیں تو وہ تو بیعت نہیں ہے، وہ تو ویسے ہی ہے، آپ برکت کے لیے ہاتھ ہی اس کے ہاتھ میں دے دیں۔ لیکن یہ ہے کہ اگر سمجھدار بچہ ہے اور وہ اپنے ارادے سے کر رہا ہے تو اس میں حرج نہیں ہے، کیونکہ ارادہ تو نابالغ بھی کر سکتا ہے، ارادہ تو نابالغ بھی کر سکتا ہے۔
سوال نمبر 8: اس میں کیا حقیقت ہے کہ بزرگ کسی کے دل پہ انگلی لگا دیں یا کوئی توجہ کر لیں تو اس سے اس کا فیض شروع ہو جاتا ہے یا قلب جاری ہو جاتا ہے، وہ طریقۂ کار؟
سوال جواب مجلس 16 جنوری 2012، مجلس نمبر: 3
جواب: صرف دیکھ لیں، اس سے بھی فیض جاری ہو سکتا ہے۔آپ تو انگلی لگانے کی بات کر رہے ہیں، صرف دیکھ لے، اس سے بھی ہو سکتا ہے، اگر اللہ چاہے تو۔ اللہ نہ چاہے تو پورا جسم مل لے اس کے ساتھ، پھر بھی کچھ نہیں ہوگا۔ صحیح ہے۔
سوال نمبر 9: جذب اور فنا میں کیا فرق ہوتا ہے؟
سوال جواب مجلس 16 جنوری 2012، مجلس نمبر: 3
جواب: جذب اور فنا میں، ہاں یہ اچھا سوال ہے ما شاء اللہ، علمی قسم کا سوال ہے۔ اصل میں جذب جو ہے وہ تو ایک محبت کی وجہ سے انسان پہ ایک کیفیت طاری ہو جاتی ہے، جس سے انسان جو ہے مطلب وہ جو ترقی ہوتی ہے اس کی رفتار بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ مثلاً کراچی کوئی جاتا ہے سائیکل کے ذریعے سے تو کتنے عرصے میں جائے گا؟ کافی عرصہ لگے گا۔ اور اگر گاڑی میں بیٹھ کے جائے گا تو ممکن ہے کوئی اٹھارہ بیس گھنٹے لگیں، جہاز میں جائے گا تو ڈیڑھ گھنٹے میں پہنچ جائے گا۔ تو اب یہ ہے کہ یوں سمجھ لیں کہ جذب جو ہے اس قسم کی چیز ہے کہ بہت تیز رفتاری کے ساتھ ایک مقام کو حاصل کرنا۔ چونکہ تیز رفتاری اس میں ہوتی ہے لہٰذا اس کے ساتھ اس کی adjustment اس کو نہیں ہوتی، تو نتیجتاً کچھ کمی بیشی رہ جاتی ہے، کچھ کمی بیشی رہ جاتی ہے adjustment نہ ہونے کی وجہ سے۔
البتہ ایک جذب جو ہوتا ہے وہ اس کو کہتے ہیں کہ انسان مجاہدات اور ریاضتیں کر کے اس حد تک چلا جاتا ہے کہ اس کی عقل فیل ہو جاتی ہے، عقل ختم ہو جاتی ہے۔ اس کو بھی مجذوب کہتے ہیں۔ تو یہ بھی یوں سمجھ لیں کرنٹ کی طرح ہی ہے، تو current اگر کمزور چیز میں سے گزر جائے تو اس کو جلا دیتا ہے، وہ طاقتور چیز میں گزر جائے تو current کی طاقت استعمال ہو جاتی ہے۔ تو یوں سمجھ لیجیے کہ جو شخص جذب اس کو ہو گیا اور وہ اس معنی میں مجذوب نہیں ہوا، یعنی مضبوط تھا وہ، یعنی وہ کمزور نہیں تھا، survive کر گیا، تو اس کو سب کچھ حاصل ہو گیا اور ہوش بھی باقی ہے۔ اس وجہ سے شریعت پر عمل کرنے میں اس کی بہت زبردست طاقت ہوگی، تو یہ صاحب تو بہت اونچے مقام پہ چلا جائے گا۔ تو اس معنی میں مجذوب ہونا تو بہت بڑی بات ہے۔
اس وجہ سے ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہمارے ہاں تکمیل بذریعہ جذب ہوتی ہے، ابتدا بذریعہ سلوک ہوتی ہے اور تکمیل بذریعہ جذب ہوتی ہے۔
تو یہ بات تو مطلب ہو سکتی ہے کہ دو قسم کے جذب ہو گئے۔ ایک جذبِ حتمی کہ جس میں عقل fail ہو جاتی ہے، تو وہ تو یوں سمجھ لیں کمزوری ہے۔ کمزوری کی وجہ سے اب چونکہ ہوا ہے اللہ کی محبت کی وجہ سے ہوا ہے، لہٰذا اللہ اس کا خیال رکھتا ہے۔ اس وجہ سے ان کو اگر کوئی نقصان پہنچاتا ہے، تکلیف پہنچاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے پھر بدلہ لیتے ہیں۔ تو ایسے لوگوں کو نقصان، تکلیف دینے سے نقصان ہو جاتا ہے آدمی کو کیونکہ وہ اللہ کے لیے ہوئے ہیں نا۔ تو یہ مطلب کچھ نماز بھی نہیں پڑھتے، روزہ بھی نہیں کیونکہ عقل جو نہیں ہوتی ان میں، لیکن اللہ کے ہاں ان کا مقام اس لحاظ سے ہے کہ جو اللہ کے لیے ایسا ہوا ہے، لہٰذا ان کو اگر کوئی نقصان پہنچائے گا تو ان کو نقصان ہوگا۔
لیکن اس سے فیض نہیں ہوگا، فیض ہوتا ہے ہوش والے بزرگوں سے۔ جیسے مُردوں سے جو فیض ہوتا ہے وہ زندوں کی وساطت سے ہوتا ہے، تو اس طریقے سے جو ایسا مجذوب ہو جاتا ہے کہ جو بالکل عقل ختم ہو جائے، اس سے فیض ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ اب اس سے استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔ استفادہ صاحبِ ہوش، صاحب صحو لوگوں سے کیا جائے گا۔ تو اس وجہ سے مجذوبوں کے پیچھے پھرنے کی ممانعت ہے، مجذوبوں کے پیچھے پھرنے کی ممانعت ہے کہ یہ انسان کو نقصان پہنچاتی ہے۔ عین ممکن ہے کوئی ایسی چیز کھلا دے جس سے آپ کا بھی سارا کچھ ختم ہو جائے، تو اپنے آپ کو ایسے لوگوں سے بچا کے رکھیں۔ ہاں اگر خدمت کا موقع مل جائے تو خدمت کر لو، کوئی چیز ان کو کھلا دو، آخر انسان ہے، کوئی کپڑے ان کو پہنا دو، کوئی اور چیز، مطلب ان کے لیے کچھ خیر کا سوچو، تو ٹھیک ہے، پھر اللہ پاک ممکن ہے اس پر آپ کو اجر بھی دے، اور ممکن ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کچھ فائدہ بھی پہنچائے، تو یہ چیزیں ہو سکتی ہیں۔
فنا جو ہے یہ ایک اختیاری چیز ہے۔ اس میں پوری بات یہ مطلب یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس میں انسان اللہ تعالیٰ کی عظمت کو اپنے اوپر اتنا طاری کرتا ہے، طاری کرتا ہے، طاری کرتا ہے، طاری کرتا ہے کہ اس کی اپنی حیثیت مٹتی جاتی ہے، مٹتی جاتی ہے، مٹتی جاتی ہے، مٹتی جاتی ہے۔ تو جس وقت عظمت اللہ تعالیٰ کی کسی کے قلب و ذہن میں peak پہ پہنچ جائے اس وقت انسان کی اپنی zero ہو جائے گی، اس کو فنا کہتے ہیں، اس کو فنا کہتے ہیں۔ تو یہ فنائیت جو ہے مطلوب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا ادراک تو ضروری ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے ادراک کے لیے یہ طریقہ بھی اختیار کرنا ضروری ہے۔ ہاں البتہ یہ بات ہے کہ طریقے طریقے کے ساتھ جانا ہوتا ہے، مطلب آپ کو کوئی جسمانی نقصان نہ ہو جائے، کوئی شرعی مسئلہ نہ ہو جائے۔ مطلب شیخِ کامل کی نگرانی میں یہ سارا کچھ ہو سکتا ہے، تاکہ آپ کو یہ ساری چیزیں محتاط طریقے کے ساتھ حاصل ہو جائیں۔
تو فنا جو ہے، فنا پھر دو قسم کی ہے۔ ایک ہوتی ہے فنائے نفس، مطلب انسان اپنے نفس کے تقاضوں کو بھول جاتا ہے، یعنی گویا اپنے آپ کو بھول جاتا ہے کہ میری بھی کوئی خواہش ہے۔ وہ پھر صرف اللہ کو یاد رکھتا ہے کہ اللہ کی کیا خواہش ہے۔ جیسے کسی کے ساتھ کوئی محبت کرتا ہے، تو جب وہ موجود ہوتا ہے تو اپنے آپ کو انسان بھول جاتا ہے کہ میری بھی کچھ کھانے پینے کی خواہش ہے، ہوتا ہے نا اس طرح؟ کہ وہ آدمی ہر وقت یہ چاہتا ہے کہ یہ کچھ مطلب میں ان کی خدمت کر لوں، وہ اپنے آپ کو بالکل بھول جاتا ہے، اور یہ بالکل فطری بات ہے، ہمارے طریقے میں بھی ہے۔ مثلاً میں انسان ہوں، وہ بھی انسان ہے۔ مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے، ان کو بھی تکلیف ہوتی ہے، سردی سے ان کو بھی تکلیف ہوتی ہے، مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے، اور کسی چیز سے بھی ان کو تکلیف ہوتی ہے، مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے، لیکن وہ اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں اور میرا خیال رکھتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ اب دیکھیں خود بارش میں پھر رہے ہوں گے، چھتری میرے اوپر، تو آخر یہ کیا چیز ہے؟ اس کو آپ کیا کہیں گے؟ محبت ہے نا، اور تو کچھ نہیں۔ تو انسان اپنے آپ کو بھول جاتا ہے، تو یہی چیز یہ ہے کہ انسان، جس کو کہتے ہیں فنائیت۔ وہ فنائیت اس پہ، اس لیے کہتے ہیں فنا فی الشیخ، پھر فنا فی الرسول، پھر فنا فی اللہ۔
تو ایک تو فنا، فنائے نفس ہے۔ دوسرا اخیر میں آتا ہے فنا الفنا۔ یعنی انسان کو یہ بھی پتا نہ چلے کہ میں فانی ہو چکا ہوں، کیونکہ جب اس کو یہ پتا ہے کہ میں فانی ہوں تو اس کا مطلب ہے ابھی فانی نہیں ہوا پورا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جہاں سے شعلہ نظر آتا ہے وہاں maximum heat نہیں ہے، وہاں کچھ ادھ جلی چیزیں موجود ہیں تبھی ان کی وجہ سے ان کی روشنی نظر آ رہی ہے۔ اصل heat وہاں ہے جہاں بالکل شعلہ نظر نہیں آ رہا، یعنی اس کے اوپر، تھوڑا سا اوپر۔ وہ اگر آپ کوئی thermometer لگا دیں، اس طرح metallic thermometer ہو جو آپ سینس sense کر سکیں، تو سب سے زیادہ حرارت ادھر ہوگی لیکن ادھر آپ کو کچھ بھی نظر نہیں آئے گا، جبکہ جہاں پر شعلہ پورا نظر آ رہا ہے وہاں پر ممکن ہے کہ اس کے مقابلے میں سب سے کم ہو۔ تو یہ چیز یہ ہے کہ فنا الفنا وہ point حاصل کرنا ہے کہ جب انسان کو اپنی فنا بھی نظر نہ آئے کہ میں فانی ہو گیا ہوں۔
سوال نمبر 10: یہ ممکن ہے کہ فنا ہو اور فنا الفنا ہو جائے، مطلب یہ stage بھی ہو اور دنیا میں بھی اس طرح رہ رہا ہو؟
سوال جواب مجلس 16 جنوری 2012، مجلس نمبر: 3
جواب: ہاں، اس طرح رہتا ہے نا، بالکل رہتا ہے۔ لیکن وہ پھر اپنے آپ کو تو بھول چکا ہوتا ہے، اس کو صرف اللہ یاد ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اللہ اس کو جو جو کہہ رہا ہوتا ہے، وہ کر رہا ہوتا ہے۔ اسی کو عبدیت کہتے ہیں، اسی کو عبدیت کہتے ہیں۔ فنا کے ساتھ عبدیت جمع ہوتی ہے۔ جب تک فنائیت حاصل نہ ہو تو وہاں عبدیت موجود نہیں ہوتی، یعنی کامل عبدیت۔ کامل عبدیت آتی ہے کامل فنائیت کے ساتھ، کہ وہ جو کچھ بھی کر رہا ہوتا ہے پھر صرف اللہ کے لیے کر رہا ہوتا ہے، وہی عبدیت ہے۔ اور وہ عام لوگوں کی طرح پھرتا ہے۔ کیونکہ جو درمیان کے لوگ ہوتے ہیں وہ نظر آتے ہیں، جو عبدیت والے ہیں وہ کہاں نظر آئیں گے، وہ تو بالکل عام لوگوں سے بھی آپ کو کم نظر آئیں گے، وہ تو اپنی بالکل کوئی شان و شوکت نہیں رکھیں گے، وہ تو شان و شوکت ان کی کچھ بھی نہیں نظر آئے گی، کیونکہ ان کو تو حیا آئے گی کہ بھئی میری بھی کوئی حیثیت ہے!!
ہاں یہ بات الگ ہے، اب دیکھیں اچھا ہوا دل میں اللہ تعالیٰ نے بات ڈالی، اگر وہ شیخ ہے اور اس کو کامل عبدیت بھی حاصل ہو گئی، اللہ تعالیٰ جتنا کسی کو اس وقت نصیب فرماتا ہے، یعنی حالات کے مطابق، اور اس کا اسائنمنٹ یہ ہے کہ شیخ کے طور پر اپنے آپ کو باوقار رکھو، تو رکھے گا، لیکن اپنے آپ کو سمجھے گا کچھ نہیں۔ پورا رکھے گا، لیکن اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھے گا۔ جیسے اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ، وہ بادشاہ تھے، اب باہر وہی تاج پہننا اور سارا وہی زرق برق لباس پہننا اور اس تخت کے اوپر بیٹھنا اور حکم صادر کرنا، سارا تھا جیسے بادشاہ کرتے تھے۔ اور اندر جا کے اپنے وہی پرانے کپڑے جو ان کے ہوتے تھے، اپنے ذاتی جو انہوں نے قرآن پاک کی کتابت سے، ٹوپیاں سینے سے وہ پیسے جمع کیے ہوتے تھے اس سے خریدے ہوتے تھے، وہ استعمال کرتے تھے۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ وہ کیا ہے اور یہ کیا ہے؟ فرمایا: وہ تو وردی ہے، وہ تو میری نہیں ہیں، وہ تو وردی ہے۔ تو اب یہی چیز ہے کہ مطلب وہ assignment ہے۔ تو assignment کے طور پر اگر مجھے آپ بنا دیں مثال کے طور پر وزیر، تو میں وزیر کے طور پر رہوں گا نا، اب وہ بے شک میں اپنے آپ کو کچھ بھی نہ سمجھوں لیکن وہ assignment یہ ہو گا کہ اس طرح رہو، یہ کرو، فلاں گاڑی میں بیٹھو۔
ایک اسسٹنٹ کمشنر ہمارے دوست تھے، اس کو اسسٹنٹ کمشنری سے اس پہ نکال دیا گیا تھا کہ وہ عام پبلک ٹرانسپورٹ public transport میں جاتا ہے۔ آپ کو تو پتا ہے نا جی، پروٹوکول protocol جو۔۔۔ ہمارے ایک ڈاکٹر، کیپٹن ڈاکٹر تھے، تو اس کو میں نے کہا: یہ موٹرسائیکل پہ کیوں کرتے ہو؟ بھئی ویگنوں میں جایا کرو۔ کہتا ہے: ہمارا چالان ہو جاتا ہے، اگر ایم پی MP والے ہمیں دیکھ لیں تو ہمیں پکڑ لیتے ہیں، اجازت نہیں ہوتی public transport میں۔ تو یہ بات ہے کہ آپ نکال لو، اب کار نہیں ہے تو بس ٹھیک ہے پھر موٹرسائیکل ہے، اب اس پہ جائیں گے۔ تو یہ جو چیزیں ہیں، مطلب اگر assignment کے طور پر کوئی رہتا ہے، تو ٹھیک ہے، وہ معاملہ اللہ کے ساتھ ہے اس کا، لوگوں کے ساتھ معاملہ یہ رکھے گا۔ اور یہ، اس کو جمع کرنا بڑا مشکل کام ہے، بہت مشکل کام ہے۔
اس لیے کہتے ہیں:
در کفے جامِ شریعت، در کفے سندانِ عشق
ہر ہوسناکے نہ داند جام و سنداں باختن
ایک ہاتھ میں شریعت کا جام ہو اور ایک ہاتھ میں عشق کا سندان ہو، ہر آدمی دعویٰ کرنے والا جو ہے اس کو، دونوں کو جمع نہیں کر پاتا، کسی ایک چیز کی طرف جھک جاتا ہے۔
«ہر ہوسناکے نہ داند جام و سنداں باختن»
اچھا سوال تھا ما شاء اللہ۔
کوئی سوال ہے ڈاکٹر صاحب؟ یہ سوال جواب ہو رہے ہیں، انٹرنیٹ پہ چل رہے ہیں جوابات۔
حاضرین: سوال کے لیے تو ابھی آپ آخری درجے تک چلے گئے تھے نا۔
متکلم: استغفراللہ! نہیں، یہ تو سوال تو۔۔۔ نہیں، تو سوال تو سارے لوگ کرتے ہیں۔ یہ اصلاً ہم مولانا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی، اللہ ان کی مغفرت فرمائے، ایک وہ نا ترتیب، کوشش کر رہے ہیں کہ حضرت کی ترتیب اس طرح رہے، اگرچہ اس قابل تو ویسے نہیں ہیں لیکن بہرحال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بس کروائے۔ تو اس نسبت سے اللہ تعالیٰ اگر جواب بھیج دیتے ہیں تو یہ اس نسبت کی برکت ہے۔ اور۔۔۔
حاضرین: توازن تو قائم رکھنا بڑا مشکل کام ہے۔ آپ نے کہا نا فقیر کی طرح، عاجز کی طرح پروا ہوتے۔۔۔
متکلم: ہاں، اس طرح، اس کی طرح رہنا پڑتا ہے۔
حاضرین: ہاں بالکل، ایسے ہی ہوتا ہے۔ یہی بات ہے، عام زندگی عام لوگوں کی طرح گزارتا ہے۔
متکلم: یہی بات ہے، یہی بات ہے۔ اس لیے تو شعر وہ فرمایا:
«ہر ہوسناکے نہ داند جام و سنداں باختن»
یہ میں نے عرض کیا کہ سوال و جواب میں ایک خوبی ہے کہ سوال جب آتا ہے تو لوگوں کا ذہن اب جواب کے لیے تجسس کرتا ہے، لہٰذا پورے غور سے بات سن لیتے ہیں۔ عام بیان میں ضروری نہیں کہ لوگ غور سے سنیں۔ تو مولانا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا طریقہ یہی ہوتا تھا کہ حضرت فرماتے تھے نا: کوئی بات چلائیے۔