سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات

مجلس نمبر 2

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. عقیدت کسی غرض یا عقلی پسند پر مبنی ہونے کی وجہ سے ختم ہو سکتی ہے، جبکہ محبت ایک لافانی جذبہ ہے جس کے لیے دلیل کی ضرورت نہیں۔
  2. تصوف کے مشہور سلاسل بزرگوں کے مقرر کردہ رہنما اصولوں سے منسوب ہیں مگر ان سب کی اصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نظامِ تربیت ہے۔
  3. شریعت کے مکلف نہ رہنے والے بے ہوش مجذوبوں کے پاس جانے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ انسان اپنا کنٹرول اور ہوش و حواس ضائع نہ کر بیٹھے۔
  4. شہوت، غضب، علم اور عقل کا افراط و تفریط سے پاک ہو کر اعتدال پر ہونا ہی متوازن شخصیت کی اصل پہچان ہے۔
  5. قرآن و سنت کی خارجی روشنی اور ذکر سے حاصل ہونے والی دل کی داخلی بصیرت کے یکجا ہو جانے کا نام معرفت ہے۔
  6. اللہ کی محبت ایک اختیاری عمل ہے جسے اہل اللہ کی صحبت اور دیگر مناسب اسباب اختیار کر کے دل میں پیدا کیا جا سکتا ہے۔
  7. بزرگوں کی قبروں سے فیض حاصل کرنا خاص روحانی مناسبت پر موقوف ہے، لہٰذا عام لوگوں کو صرف ایصالِ ثواب پر اکتفا کرنا چاہیے۔
  8. تصوف کے راستے میں کمالات کا دعویٰ کرنا محض بیوقوفی ہے کیونکہ اس میں ظاہری ذرائع کے بجائے انسان کا مکمل انحصار اللہ کے فضل پر ہوتا ہے۔
  9. احسان کا مطلب کسی کو اس کے مقررہ حق سے زیادہ دینا ہے اور والدین کے ساتھ اسی حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔
  10. اگر انسان کا مقصد نیک اور درست ہو تو اس کے حصول کے لیے اختیار کیے جانے والے جائز ذرائع پر بھی ثواب ملتا ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
معزز خواتین و حضرات، ہمارے ہاں سوالوں کے جوابات دیے جاتے ہیں اور سالکین سالکات کے احوال کی تحقیق بتائی جاتی ہے۔

سوال نمبر 1: عقیدت اور محبت میں کیا فرق ہے؟

سوال جواب مجلس 10 جنوری 2012، مجلس نمبر: 2

جواب: بڑا اچھا سوال ہے۔ عقیدت کسی بھی شخص سے کوئی فائدہ پہنچے یا عقلی طور پر مطلب اس کی بعض چیزوں کو پسند کرے تو ان کے ساتھ عقیدت ہو جاتی ہے۔ مثلاً اپنے جو علماء ہوتے ہیں ان کے ساتھ عقیدت ہوتی ہے اور اپنے بزرگوں کے ساتھ عقیدت ہوتی ہے۔ لیکن محبت ایک لافانی چیز ہے۔ اس کے لیے کوئی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کسی کے ساتھ بھی کوئی محبت ہو سکتی ہے، کسی بھی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ عقیدت میں انسان کا ذہن زیادہ involve ہوتا ہے، لہٰذا وہ ختم بھی ہو سکتی ہے۔ مثلاً اگر وہ چیز اس کی نظر میں ختم ہو جائے تو وہ عقیدت ختم ہو جائے گی۔ تو یہ بات ہے کہ اس کے لیے کمال کی ضرورت نہیں ہے، وہ کسی بھی وجہ سے محبت ہو سکتی ہے۔

سوال نمبر 2: جو سلاسل ہیں، جو تصوف کے سلاسل ہیں، چار سلسلوں میں جو بیعت ہو جاتے ہیں، کیا اس کے علاوہ بھی اور سلاسل ہیں یا نہیں؟ اور ان کے جو roots ہیں وہ کیا ہیں؟ کہاں سے شروع ہوئے؟

سوال جواب مجلس 10 جنوری 2012، مجلس نمبر: 2

جواب: تو سلاسل جو ہیں، یہ چاروں میں جو بیعت ہوتے ہیں، یہ ہندوستان اور پاکستان میں زیادہ مشہور ہیں۔ چشتیہ، نقشبندیہ، قادریہ اور سہروردیہ۔ یہ ہندوستان میں زیادہ مشہور سلسلے یہی ہیں۔ لیکن صرف یہ چاروں سلسلے دنیا میں نہیں ہیں، اور بھی سلاسل ہیں۔ جیسے رفاعیہ ہے، عبدیہ ہے، اس طرح وہ کبرویہ ہے، شاذلیہ ہے۔ یہ سلسلے ہیں اور سلسلے بھی ہیں۔ تو اب یہ جو سلسلے ہیں، مطلب بعض سلسلے یہاں معروف نہیں ہیں، ہندوستان اور پاکستان میں زیادہ معروف نہیں ہیں۔ مطلب عربوں میں، ترکوں میں، افریقہ میں وہ مشہور ہیں، ایسے سلسلے بھی ہیں۔

سلسلہ اصل میں شروع ہوتا ہے کسی مشہور بزرگ کے ریفرنس سے۔ اصل میں طریقہ تصوف کا تو پہلے سے چلا آ رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے چلا آ رہا ہے، یعنی تربیت کا نظام۔ تربیت تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی تھی، پھر صحابہ کے دور میں بھی تھی، اس کے بعد بھی تھی، لہٰذا یہ چیز تو چلی آ رہی تھی۔ لیکن ان میں جو بڑے بزرگ گزرے ہیں جیسے شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ، انہوں نے اپنا جو طریقہ کار ہے اس کو ایسا مدوّن فرمایا کہ وہ آگے والے لوگوں کے لیے کچھ رہنما اصول اس میں آ گئے۔ اس سلسلے کو قادریہ سلسلہ کہا گیا۔ اس طرح خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے جو رہنما اصول بتا دیے اور سمجھا دیے وہ چشتیہ بن گیا۔ اور خواجہ بہاء الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ، انہوں نے جو اپنے طریقے کے رہنما اصول بتا دیے تو اس نے نقشبندیہ قرار پایا۔ خواجہ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ انہوں نے جو اپنے طریقے کے رہنما اصول بتا دیے تو وہ سہروردیہ سلسلہ کہلایا۔

اور تقریباً یہ چاروں سلسلے ایک ہی دور میں ہیں۔ یعنی شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے فوراً بعد خواجہ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں، بلکہ کچھ وقت ان کا ملا جُلا بھی ہے۔ یعنی ہم عصر بھی تھے کسی دور میں، ہاں لیکن چونکہ عمر میں کم تھے بعد میں رہے، شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ پہلے فوت ہوئے۔ اور اسی طرح خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ بلکہ ایک اجازت وہ ان کی طرف منسوب ہوتی ہے خواجہ صاحب کی، خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف اور ایک خواجہ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کی اجازت بھی شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب ہوتی ہے، اور خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ بھی تقریباً اسی دور میں تھے۔

ہاں لیکن بعد میں یہ سلسلے چلتے رہے اور مختلف شاخوں میں تقسیم ہوتے رہے، شاخ در شاخ۔ جیسے چشتیہ جو ہے یہ دو شاخوں میں تقسیم ہو گیا، بڑی شاخیں جو تھیں، ایک صابریہ اور نظامیہ۔ یعنی حضرت بابا فرید الدین رحمۃ اللہ علیہ کے جو دو خلفاء تھے، ایک حضرت صابر کلیری رحمۃ اللہ علیہ اور ایک خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ۔ تو خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کا سلسلہ نظامیہ کہلایا اور حضرت صابر کلیری رحمۃ اللہ علیہ کا سلسلہ جو تھا یہ صابریہ کہلایا۔

اسی طرح نقشبندی مختلف طریقوں سے تقسیم ہو گئے۔ مجددیہ ہے اور دوسرے طریقے بھی نقشبندیہ کے ہیں، وہ بھی مختلف طریقوں سے مطلب تقسیم ہو چکے ہیں۔ تو شاخ در شاخ یہ اصل میں سلسلے تقسیم ہوتے رہے ہیں۔ ہاں البتہ یہ ہے کہ بڑے سلاسل جو ہندوستان اور پاکستان میں ہیں یہ چار ہیں، اور root سب کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ، یعنی سب سلسلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتے ہیں۔

سوال نمبر 3: مجذوب کے کچھ درجات ہیں، اگر ہیں تو پھر ان کے پاس جانے سے کیوں روکا جاتا ہے؟

سوال جواب مجلس 10 جنوری 2012، مجلس نمبر: 2

جواب: یہ اصل میں درجات تو میں نہیں کہہ سکتا ہوں لیکن مجذوب۔۔۔ یوں سمجھ لیجیے کہ کتنا مجذوب ہے وہ؟ یعنی اس کو کہا جائے گا۔ اگر وہ اتنا مجذوب ہے کہ وہ بالکل ہوش میں نہیں رہتا اور وہ شریعت کا مکلف نہیں ہے، تو ان کے پاس تو جانے سے روکا جائے گا۔ کیونکہ وہ خود چونکہ شریعت کا مکلف نہیں ہے اور آپ اس کو بزرگ بھی سمجھیں گے، تو عین ممکن ہے کہ آپ کوئی ایسی چیز مطلب ان کے ساتھ کر لیں جو اس کے لیے جائز ہو آپ کے لیے جائز نہ ہو۔ ہاں ایک تو یہ بات ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ کوئی چیز کھانے کو ممکن ہے دے دیں، جس سے آپ out of control ہو جائیں اور پھر آپ کو اپنے اوپر کنٹرول نہ رہے کیونکہ وہ تو ہے ہی مجذوب۔ تو اگر اس قسم کا ہے تو پھر ان کے پاس جانے سے تو روکا جائے گا۔

لیکن بعض مجذوب ایسے ہوتے ہیں جو طبعاً مجذوب ہوتے ہیں لیکن ہوش و حواس میں ہوتے ہیں۔ جیسے خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمۃ اللہ علیہ، ان کا جو تھا، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے۔ تو جذب ان میں تھا، اس میں کوئی شک نہیں کہ جذب کا معاملہ ان میں تھا لیکن وہ کبھی کبھی ہوتا تھا ہر وقت نہیں ہوتا تھا اور اپنے آپ کو کنٹرول کرنا جانتے تھے۔ لہٰذا ان میں جذب والی کیفیت تھی اس وجہ سے مجذوب کہلائے، لیکن وہ اس درجے کے مجذوب نہیں تھے کہ ان کو شریعت کا احترام نہیں تھا یا شریعت پہ چل نہیں رہے تھے۔

تو جو حضرات بالکل ہی شریعت پر نہیں چل پاتے اور ان کے سینسز بالکل ختم ہو چکے ہوتے ہوں، تو ایسے لوگوں کے پاس جانا تو ٹھیک نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ out of control ہوتے ہیں اور جو ان کے ساتھ رابطہ رکھتے ہیں وہ بھی out of control ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا اپنے آپ کو ہوش میں رکھنا ہی لازم ہے۔ اللہ جل شانہ نے جو ہوش و حواس دیے ہیں، یہ ہمارے پاس امانت ہے، اس کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اس وجہ سے ان سے روکا جاتا ہے۔

سوال نمبر 4: balanced personality سے کیا مراد ہے؟

سوال جواب مجلس 10 جنوری 2012، مجلس نمبر: 2

جواب: اصل میں balanced personality سے مراد یہ ہے کہ چار چیزیں ان کے اندر بڑی متوازن ہوں۔ چار چیزیں۔

ایک ہے شہوت۔ شہوت چاہت کو کہتے ہیں۔ یہ ایک جو شہوت کا خاص مفہوم ہے وہ اس سے مراد نہیں ہے۔ وہ خاص اس کا ایک مطلب یوں کہہ سکتے ہیں اس کی ایک صورت ہے، خاص صورت ہے۔ لیکن شہوت سے مراد چاہت ہے جیسے ہم کہتے ہیں اشتہا۔ اشتہا بھوک کو کہتے ہیں تو اسی سے نکلا ہے شہوت۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی چیز کی چاہت ہوتی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ اس کو اس چیز کی شہوت ہے۔ تو اب یہ ہے کہ شہوت جائز چیز کی بھی ہو سکتی ہے، ناجائز چیز کی بھی ہو سکتی ہے، اور جائز چیز کی وہ حلال ہے اور ناجائز چیز کی حرام ہے۔

تو اب یہ ہے کہ اس کو بیلنس رکھنا۔ یعنی حد سے زیادہ کہ جائز ناجائز کی تمیز نہ رہے، یہ افراط ہے۔ اور بالکل ختم ہو جانا، یہ تفریط ہے جس کو ڈپریشن کہتے ہیں۔ جیسے کھانے کو جی نہ چاہے تو بیمار ہے بیچارہ، جیسے اپنی بیوی کے ساتھ بھی جانے کو تیار نہ ہو تو وہ بھی بیمار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یعنی جو جائز چیزیں ہیں اور ان کے حقوق بنتے ہیں تو اس کو بھی پورا نہ کرنا یہ ڈپریشن ہے اور یہ بیماری ہے۔ اور درمیان میں معتدل یہ ہے کہ جتنا جائز ہے اتنا کرنا اور جو ناجائز ہے اس سے بچنا۔ یہ شہوت کا بیلنس ہے۔ مطلب افراط والا درجہ جو ہے وہ کیا ہے؟ جس وقت حلال اور حرام کی تمیز نہ رہے اور درمیان والا حصہ وہ عفت ہے، یعنی انسان وہاں چاہے جہاں پر جائز ہے۔

دوسرا غضب ہے۔ غضب قوتِ دفع کو کہتے ہیں، مطلب کسی چیز کو آپ اپنے سے دفع کرنا چاہتے ہیں۔ تو اس پہ بھی اگر کنٹرول نہ ہو، out of control ہو تو یہ بھیڑیا پن ہے، تہور ہے، ظلم ہے۔ اور اگر بالکل نہ ہو تو جہاد بھی ختم، وہ بھی ٹھیک نہیں، جبن ہے بزدلی ہے۔ اور اس کا جو درمیان والا سٹیج ہے، جو بیلنس ہے، وہ ہے کیا؟ شجاعت۔ تو وہ صحیح ہے۔

اس طریقے سے علم۔ تو علم کا افراط یعنی انسان ہر چیز کو بس جاننے لگے اور اس میں جائز ناجائز کی تمیز نہ رکھے، اور صرف علم ہی کو مطلوب رکھے عمل کی طرف دھیان نہ ہو تو یہ افراط ہے اس کا۔ اور تفریط یہ ہے کہ جہل ہو۔ اور درمیان یہ ہے کہ جو علمِ نافع ہے، یعنی جس چیز کا فائدہ ہے اسی چیز کو حاصل کر لے۔

اور چوتھی چیز وہ عقل ہے۔ تو ایک ہر چیز کے لیے عقل استعمال کرنا جس میں وحی کی تعلیم بھی موجود ہو، اس میں بھی عقل استعمال کرنا، یہ افراط ہے۔ اور بالکل ان چیزوں میں بھی عقل استعمال نہ کرنا جہاں پر عقل استعمال کرنے کا حکم ہے، یہ تفریط ہے۔ اور درمیان میں اس کا بیلنس ہے، حکمت۔

تو ان چار چیزوں میں اگر بیلنس آ جائے تو ہم کہتے ہیں یہ balanced personality ہے۔

سوال نمبر 5: معرفت جو ہے وہ علم اور ایمان کی شکل ہے یا علم اس کا۔۔۔

سوال جواب مجلس 10 جنوری 2012، مجلس نمبر: 2

جواب: اصل میں معرفت جو ہے یہ دونوں کو شامل ہے۔ کیونکہ علم بھی ایک نور ہے، جو صحیح علم ہوتا ہے۔ یعنی یوں سمجھ لیجیے کہ اس میں دونوں روشنیاں جمع ہو جاتی ہیں۔ ایک خارجی روشنی، یعنی قرآن و سنت کی، اور ایک داخلی روشنی کہ ذکر سے انسان کا دل صاف ہو جائے، مصفی ہو جائے اور اس کو جو چیز صحیح ہے وہ صحیح نظر آنے لگے اور جو غلط ہے اس کو غلط نظر آنے لگے، جس کو ہم ہدایت کہتے ہیں۔

تو یہ چیز یہ کہ دل میں بھی آ جائے، بصیرت۔ تو یہ دونوں چیزیں جب جمع ہو جاتی ہیں تو اس کو کہتے ہیں معرفت۔ یہ پھر معرفت، کیونکہ وہ جو جو چیزیں جیسے ہیں اس کا اختیار، تو پھر اللہ کو بھی اپنی معرفت کے مطابق پہچان لے گا۔ یعنی بہت سارے علماء ہوں گے جو عارف نہیں ہوں گے، اور بہت سارے ذکر کرنے والے، جن کا دل بڑا صاف ہو گا لیکن ان کے پاس اس درجے کا علم نہیں ہو گا تو وہ وہاں پر نہیں کام کر سکیں گے۔ دونوں روشنیوں کی ضرورت ہے۔

سوال نمبر 6: کیا محبت اختیاری چیز ہے یہ؟

سوال جواب مجلس 10 جنوری 2012، مجلس نمبر: 2

جواب: بڑا اچھا سوال ہے۔ کیونکہ ایک شعر ہے اور وہ شعر یہ ہے:

عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب
کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

اس کو میں نے تبدیل کیا ہوا ہے اپنے لیے۔ وہ یہ ہے کہ:

عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب
کہ لگائے تو لگے اور بجھائے نہ بنے

مطلب یہ ہے کہ اس کو شروع تو کیا جا سکتا ہے اور پھر ہو جائے تو پھر روک نہیں سکتے، پھر چلتا رہتا ہے۔ جیسے آگ آپ لگا تو سکتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ جس نے آگ لگا دی وہ بجھا بھی لے۔ پھر وہ جلنا شروع ہو جائے تو پھر اس کو روکنا بڑا مشکل ہے۔

میں اس کی مثال دیتا ہوں۔ Engineering final year میں ہمارے کچھ سات subjects تھے۔ تو میں نے یہ طریقہ کیا تھا preparation days میں، میں ایک week رکھ لیتا تھا ہر subject کے لیے کہ میں اس subject کے ساتھ بہت زیادہ اس کو پسند کرتا ہوں، یعنی میرا favorite subject ہے۔ میں اپنے آپ کو self suggestion دیتا، کہ یہ میرا favorite subject ہے۔ تو پھر میں اس کو پڑھتا رہتا، لوگوں کے ساتھ بھی discuss کرتا، تو end of the week پہ واقعی وہ میرا favorite subject بن جاتا۔ یعنی پھر وہ، میرے لیے چھوڑنا مشکل ہوتا۔ پھر اس کے بعد دوسرے ہفتے پھر میں دوسرے subject کے ساتھ ایسا کرتا، پھر اس کے ساتھ ایسا ہو جاتا۔ تو اس کا مطلب ہے کہ کیا تو جا سکتا ہے، کیا تو جا سکتا ہے۔

البتہ یہ ہے کہ ایک دفعہ ہو جائے، مثال کے طور پر سچی مچی محبت ہو جائے کسی کے ساتھ، پھر اس کو چھوڑنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ تو میرا تو خیال ہے کہ اللہ پاک نے ہمیں جو اختیاری صفات دی ہیں، اور اختیار پہ ہی ہے سب کچھ فیصلہ، تو اس چیز کو پھر بے اختیار نہیں رکھا ہو گا۔ کیونکہ یہ مطلوب بھی ہے، اللہ کے ساتھ محبت مطلوب ہے۔

ہاں البتہ اس کو مانگنا بھی چاہیے: اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُّحِبُّكَ وَالْعَمَلَ الَّذِيْ يُبَلِّغُنِيْ إِلَى حُبِّكَ۔ اور اس کے لیے وہ اسباب بھی جمع کرنے چاہئیں، جن اسباب کے ذریعے سے محبت حاصل ہوتی ہے۔ جیسے حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں آپ کو آسان نسخہ نہ بتاؤں؟ تو لوگوں نے کہا ضرور بتائیے۔ فرمایا محبت کی پڑیا کھا لو۔ تو لوگوں نے پوچھا حضرت محبت کی پڑیا کہاں سے ملے گی؟ فرمایا محبت کی دکانوں سے۔

تو اس لیے جن کو اللہ کے ساتھ محبت ہوتی ہے، ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے اللہ کی محبت حاصل ہو جاتی ہے۔ ان کی دیکھا دیکھی وہ محبت ہو جاتی ہے۔ کہتے ہیں اسی لیے کہتے ہیں لگے رہو لگے رہو لگ جائے گی۔ مطلب ایسے لوگوں کے ساتھ لگے رہو لگے رہو لگے رہو ایک دن لگ جائے گی، آپ کو بھی لگ جائے گی۔ تو اختیاری چیز ہے اس لحاظ سے، اسباب اس کے اختیاری ہیں۔

سوال نمبر 7: بزرگوں کی قبروں سے کیسے فیض حاصل کیا جا سکتا ہے؟

سوال جواب مجلس 10 جنوری 2012، مجلس نمبر: 2

جواب: ایک لفظ ہے انگریزی کا، اور science کا، وہ اس کے لیے میرے خیال میں بہتر طریقے سے استعمال ہو سکتا ہے، اس کو کہتے ہیں resonance۔ یعنی resonance پہ جب، مطلب یہ کہ اپنی resonating frequency پہ اگر کوئی vibrate کرتا ہے تو پھر وہ چیز سنائی دیتی ہے، ورنہ پھر نہیں ہوتی۔ تو اسی طریقے سے جب frequency مل جائے گی کسی کے ساتھ تو پھر استفادہ ہو سکتا ہے۔ تو انسان کے بس میں تو یہ نہیں ہے۔ تو جب تک انسان صاحبِ نسبت نہیں ہو جاتا اور یہ کیفیت ان کی حاصل نہیں ہوتی، تو یہ ساری چیزیں انسان کے بس سے باہر ہیں۔ Normal طریقے جو ہیں استفادے کے، وہی کرنے چاہئیں ان کی تعلیمات سے فائدہ اٹھانا یا ان کے لیے ایصالِ ثواب کر لیں، اس کا فائدہ پہنچ جائے گا۔ جیسے ہم لوگ کرتے ہیں، سورۂ فاتحہ، تین دفعہ سورۂ اخلاص پڑھ کر ہم ایصالِ ثواب سارے بزرگوں کو کرتے ہیں تو اس سے فائدہ ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ جو معروف طریقہ ہے استفادے کا، وہ تو نہیں ہو سکتا ہر ایک کو۔ لیکن جو اہل ہیں، وہ کر سکتے ہیں۔

تو حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ ایک دفعہ حضرت شاہ رفیع الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ جو بہت بڑے بزرگ تھے، وہ ایک قبر پہ مراقب ہو گئے۔ تو اس کے ساتھ دو طالب علم اور تھے، تو وہ بھی مراقب ہو گئے۔ تو کہتے ہیں میں ساتھ تھا تو میں نے ایک دو لگا دی، کہ وہ آنکھ تو تمہاری بند ہے، یہ کیوں بند کر لی؟ یعنی مطلب وہ تو یعنی تمہیں نظر تو کچھ نہیں آ رہا، خواہ مخواہ آنکھیں بند کر لیں، کیوں بند کر لیں؟ تو اب ظاہر ہے خواہ مخواہ ڈرامے بازی تو نہیں کرنا۔ اگر واقعی اگر کسی کا ہو مطلب وہ کھلی آنکھیں کھلی ہوں تو پھر ٹھیک ہے ان کو نظر بھی آئیں گی۔ تو یہ والی بات ہے۔ اور یہ بعض دفعہ مناسبت بھی ہوتی ہے بعض لوگوں کو۔

بعض لوگوں کو ارواح کے ساتھ مناسبت ہوتی ہے تو اس وجہ سے ان کو نظر آنے لگتا ہے، بعض کو نہیں ہوتی۔ تو یہ اس کے بارے میں متفکر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ پاک نے دین کو اس کے اوپر منحصر نہیں کیا۔ اگر کسی کو یہ طریقہ نہیں میسر تو ہزارہا اور طریقے ہیں۔ ہمارے پشتو میں کہتے ہیں فقیر تہ یو در بند سل درے خلاؤ۔ فقیر کے لیے اگر ایک در بند ہو تو سو در کھلے۔ لہٰذا پریشانی کی کیا ضرورت ہے۔

سوال نمبر 8: کوئی بندہ جو کہ بظاہر کسی ایسے رستے پر نہیں ہے، تصوف کے رستے پر، تو وہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں کرسکتا ہوں اس طرح کا تو اس کو کتنا considerکرنا چاہیے یا اس سے بچنا چاہیے؟

سوال جواب مجلس 10 جنوری 2012، مجلس نمبر: 2

جواب: اصل میں بڑی جسارت ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ جو اہل بھی ہوتے ہیں اس کا دعویٰ نہیں کرتے۔ جو دعویٰ کرتے ہیں وہ تو مارے گئے بیچارے۔ جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ "میں کرتا ہوں" تو وہ تو گیا۔ چاہے وہ کر بھی جس کو کہتے ہیں۔۔۔ تو بس اپنی بیوقوفی کی وجہ سے ایسا کر رہا ہو گا۔ کیونکہ اس مسئلے میں دعویٰ تو چلتا نہیں ہے، اس کی میں آپ کو ایک وجہ بتا دوں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ دیکھیں medical line ہے، تو medical line میں تو ہمارے پاس بہت سارے وسائل ہوتے ہیں۔ مثلاً blood test ہے، temperature thermometer کے ذریعے سے چیک کرنا ہے، blood pressure چیک کرنا ہے، X-ray ہے، مطلب ultrasound ہے، اور پتہ نہیں کیا کیا چیزیں موجود ہیں۔ اس کے ذریعے سے سارا چیک کر کے جو ماہر ڈاکٹر ہوتے ہیں، وہ آپس میں ڈسکس کر کے کوئی conclusion ڈرا کر لیتے ہیں کہ فلاں بیماری ہے۔ پھر بھی کچھ پتہ چلتا ہے، کچھ نہیں چلتا، پریشانی ہوتی ہے۔

اب یہ جو تصوف والی line ہے، وہ تو سارے کا سارا wholly solely اللہ پر انحصار ہے۔ اس میں کون سا ٹیسٹ ہے؟ کون سا blood test ہے؟ کون سی X-ray رپورٹ ہے؟ کون سی رپورٹ ہے۔۔۔ یہ ساری چیزیں تو نہیں ہیں نا۔ اور یہ ہے کہ اس کی جو بیماری ہے وہ زیادہ hidden ہے، یعنی وہ physical بیماری سے زیادہ گہری ہے۔ اب گہری بیماری کے لیے تو زیادہ ٹیسٹ چاہیے، تو کس کے پاس ہیں وہ؟

تو بس اللہ تعالیٰ جس کو قبول فرما لے اور جس سے اللہ تعالیٰ کام لینا چاہے تو اس کے اوپر اللہ پاک کھولتے رہتے ہیں، تو چیزیں بھی کھولتے ہیں، اس کا طریقہ بھی کھولتے ہیں۔ اور اللہ پاک وہ راستے بناتے رہتے ہیں۔ تو کون دعویٰ کر سکتا ہے کہ "میں کرتا ہوں"؟ اس میں تو جو کرنے والے ہیں وہ بھی دعویٰ نہیں کرتے۔ یہ حضرت انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ، ان کو ایک دفعہ چیز پڑھ لیتے تھے تو یاد ہو جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اتنا تیز حافظہ دیا تھا۔ ان سے اگر کوئی سوال پوچھتے تو فوراً پڑھ لیتے حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ اور پھر بیٹھ جاتے، پھر جواب دیتے اللہ پاک جواب بھیج دیتے۔

اب اکثر یہ ہے کہ ہمارا تو سارے کا سارا بھروسہ اللہ تعالیٰ پر ہونا چاہیے۔ کون کہتا ہے کہ "میں کر سکتا ہوں"؟ اور پھر اس قسم کی جسارت کہ اپنے اوپر اتنا ہو، اور پھر اس line میں قدم رکھے، تو یہ بیوقوفی نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ اس کو تو خود guidenceکی ضرورت ہے۔

سوال نمبر 9: ایسے ایک clean shaved سا شخص وہ claim کرتا ہے۔

سوال جواب مجلس 10 جنوری 2012، مجلس نمبر: 2

جواب: ہاں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے پوچھنے والا اس وقت نہیں پوچھے گا، وہ ادھر پوچھے گا۔ تو ادھر تو پھر کچھ بھی راستہ نہیں ہو گا۔ تو اب لوگ اس گیپ میں جو کچھ کرنا چاہیں تو کریں۔ وقت ہے، اس وقت میں جو کچھ کرنا کوئی چاہے تو کر سکتا ہے۔ لیکن ادھر پتہ چلے گا پھر۔ کہتے ہیں گرد کو بیٹھنے دو، پھر پتہ چل گا گھوڑے پہ سوار تھے یا گدھے پہ۔ ذرا گرد کو بیٹھنے تو دو۔

سوال نمبر 10: بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا کہ اپنے والدین کے ساتھ احسان کرو۔ یہ احسان سے کیا مراد ہے؟ یعنی احسان جس طرح ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ ان کا کام کر دیا ہم نے احسان کر دیا۔

سوال جواب مجلس 10 جنوری 2012، مجلس نمبر: 2

جواب: احسان اصل میں لفظ ہے "حسْن" سے، عربی کا لفظ ہے۔ اچھا۔ کوئی چیز اچھی ہوتی ہے نا تو ہم کہتے ہیں یہ "حَسَن" ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ کسی چیز کو آپ اچھا کہتے ہیں اس کو کہتے ہیں "تَحْسِیْن"، یعنی اس کی تحسین کرنا۔ ٹھیک ہے نا؟ احسان، کسی چیز کو اچھا کرنا۔ کسی چیز کو اچھا کرنا کیا ہے؟ احسان۔

تو اس میں بات یہ ہے کہ آپ یوں سمجھ لیجیے، جو اس کا حق ہے، اس سے زیادہ اس کو دیں، اس کو احسان کہتے ہیں۔ اگر آپ حق کے برابر دیں تو وہ تو اس کا حق تھا۔ وہ تو اس کو ویسے بھی ملنا چاہیے تھا، اگر نہ کریں گے تو گنہگار ہو جائیں گے۔ لیکن یہ ہے کہ احسان کا مطلب یہ ہے کہ اس سے بھی زیادہ دو۔ تو یہ احسان ہے۔ تو اس کے لیے قرآن پاک میں ہے هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ۔ کیا احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ کچھ ہو سکتا ہے؟ یعنی اگر آپ کے ساتھ کسی نے احسان کیا، کچھ آپ کو آپ کے حق سے زیادہ دیا، تو اب آپ بھی اس کے ساتھ احسان کریں۔ تو احسان کا مطلب یہی ہے کہ اس کے حق سے اس کو زیادہ دینا۔ اس کے حق سے اس کی زیادہ رسپیکٹ کرنا اسے حق سے زیادہ اس کو وہ دینا۔

سوال نمبر 11: مقصد کے حصول کے لیے جو ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں، اختیار کیے جاتے ہیں، ان پہ بھی ثواب ملتا ہے؟

سوال جواب مجلس 10 جنوری 2012، مجلس نمبر: 2

جواب: اس مقصد پہ منحصر ہے کہ بھئی مقصد کیا ہے؟ اگر وہ مقصد نیک ہے تو ثواب ملے گا۔ مثال کے طور پر آپ نے نماز پڑھنے کے لیے سردی میں گرم پانی کا بندوبست کرنا ہے تو اب مقصد نماز پڑھنا ہے اس کے لیے ذریعہ وضو ہے۔ اب اس وضو کے لیے ذریعہ آپ بنا رہے ہیں کہ سردی میں آسانی کے ساتھ لوگ وضو کریں تو اس پہ ثواب ملے گا یا نہیں ملے گا؟ اور اگر کوئی برائی کے لیے راستہ بنائے گا تو اس پہ گناہ ہوگا۔

سوال نمبر 12: سر جو وقت ذرائع اختیار کرنے میں لگا رہے اس پہ؟

سوال جواب مجلس 10 جنوری 2012، مجلس نمبر: 2

جواب: ذرائع کو تو مقصد نہیں بنانا چاہیے۔

سوال نمبر 13: جیسے حصول اپنی اصلاح کا وہ کرنا ہے لیکن ابھی اصلاح ہوئی نہیں ہے under process ہے وہ، تو اس پہ بھی ثواب ملتا رہے گا اس کو؟

سوال جواب مجلس 10 جنوری 2012، مجلس نمبر: 2

جواب: ہاں بالکل صحیح ہے، اس کو ثواب اس لیے مل رہا ہے کہ وہ راستے پہ چل رہا ہے۔ یہ جو میں نے آپ سے عرض کیا نا کہ کوئی اس مقصد کے لیے یہاں پر آ رہا ہے تو اس کو ان شاء اللہ تعالیٰ انچاس کروڑ نمازوں کا ثواب ملے گا نا اپنی نماز کا۔ تو وہ کیا وجہ ہے؟ اسی وجہ سے ہے نا کہ اللہ کے لیے آ رہا ہے نا، تو اجر تو اس پہ ملے گا۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ، یہ کیفِ ذکر کے بارے میں جو لکھا ہے، وہ میں سناتا ہوں۔

میرے دل میں جوش بپا سا ہے فیضِ ذکر کا یہ ظہور ہے
اب کیا کہوں اپنے کیف کا، کیسا دل میں کیف و سرور ہے

میرے دل میں جوش بپا سا ہے فیضِ ذکر کا یہ ظہور ہے

لَا إِلٰهَ دل سے میں یوں کہوں، میرا دل ہو خالی اب غیر سے
إِلَّا اللّٰهُ دل نے کہا جبھی، تبھی دل میں نور ہی نور ہے

میرے دل میں جوش بپا سا ہے فیضِ ذکر کا یہ ظہور ہے
اب کیا کہوں اپنے کیف کا، کیسا دل میں کیف و سرور ہے

إِلَّا اللّٰهُ کا دل میں سماں ہے کیا، بس وہی رہے بس وہی رہے
بس وہی رہے دل میں میرے ابھی، یہی اپنا اب کوہِ طور ہے

میرے دل میں جوش بپا سا ہے فیضِ ذکر کا یہ ظہور ہے
اب کیا کہوں اپنے کیف کا، کیسا دل میں کیف و سرور ہے

میں نے دل پہ اللّٰہ اللّٰہ کی ضربیں دائیں بائیں لگا دیا
کہ جو غیر اس میں رہا تبھی، جو وہ دیکھا چور ہی چور ہے

میرے دل میں جوش بپا سا ہے فیضِ ذکر کا یہ ظہور ہے
اب کیا کہوں اپنے کیف کا، کیسا دل میں کیف و سرور ہے

اس کے دل میں یاد سمو لوں میں، تو وہاں سے پیار ملے مجھے
یہ عنایتِ یہ سرورِ دل، اسے ہم سے پیار ضرور ہے

میرے دل میں جوش بپا سا ہے فیضِ ذکر کا یہ ظہور ہے

مجھے اپنے گناہوں کا خوف ہے، مجھے رب کے فضل سے امید بھی
میرا رب بڑا ہی کریم ہے، میرا رب بڑا ہی غفور ہے

میرے دل میں جوش بپا سا ہے فیضِ ذکر کا یہ ظہور ہے
اب کیا کہوں اپنے کیف کا، کیسا دل میں کیف و سرور ہے

دل کو دھونی بھی تو لگا شبیر، کر لے خوشبو سے اس کو تر بتر
پڑھو شوق سے تو درود پھر، کہ رئیسِ کلِ عطور ہے

میرے دل میں جوش بپا سا ہے فیضِ ذکر کا یہ ظہور ہے
اب کیا کہوں اپنے کیف کا، کیسا دل میں کیف و سرور ہے

سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات - مجلسِ سوال و جواب - اشاعت اول