محرم الحرام کے فضائل، مشابہتِ کفار کی ممانعت اور صحابہ و اہلِ بیت کا مقام

خطبات الاحکام سے خطبہ نمبر 39: عاشورہ کے بیان میں

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
جامع مسجد طیبہ (چھپر والی مسجد) - کرنال شیر خان شہید روڈ، خیابان سرسید، راولپنڈی، پاکستان

* ماہِ محرم کی فضیلت اور یومِ عاشورہ کے روزے کی اہمیت و اجر۔

* عاشورہ کے روزے میں یہود کی مشابہت سے بچنے کے لیے نویں یا گیارہویں محرم کا روزہ ملانے کا حکم۔

* روزمرہ زندگی (لباس وغیرہ) میں کفار اور غیر مسلموں کی مشابہت اختیار کرنے کے نقصانات اور وعید۔

* اہلِ بیت (حضرت علی، حضرت فاطمہ، حسنین کریمین رضی اللہ عنہم) اور صحابہ کرام (خلفائے راشدین) کی باہمی محبت اور دونوں طبقات کا امت پر احسان۔

* صحابہ کی توہین کرنے والوں (روافض) اور اہلِ بیت کی گستاخی کرنے والوں (خوارج/ناصبی) کی شدید مذمت۔

* یزید کے بارے میں اہلِ سنت والجماعت کا متوازن اور دو ٹوک مؤقف، اور فاسق کی تعریف و تکریم کی ممانعت۔

* امام حسین رضی اللہ عنہ اور شہدائے کربلا کو ایصالِ ثواب کرنے کی ترغیب۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ۔

وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ۔

وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ۔

وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: صُومُوا عَاشُورَاءَ وَخَالِفُوا فِيهِ الْيَهُودَ، وَصُومُوا قَبْلَهُ يَوْمًا وَبَعْدَهُ يَوْمًا۔

وَكَانَ عَاشُورَاءُ يُصَامُ قَبْلَ رَمَضَانَ فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ كَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ۔

وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: مَنْ وَسَّعَ عَلَى عِيَالِهِ فِي النَّفَقَةِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ سَائِرَ سَنَتِهِ۔

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔


بزرگو اور دوستو! اس مہینے کے متعلق جو محرم کا مہینہ ہے، انتہائی مختصر انداز میں بہت ضروری باتیں عرض کی جائیں گی۔ بعض دفعہ بعض باتوں کا علم نہ ہونے کی وجہ سے انسان بعض بڑے اعمال سے محروم ہو جاتا ہے، اور بعض دفعہ بعض باتوں کے نہ جاننے کی وجہ سے انسان ناسمجھی میں گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے گناہوں سے بچنے کے لیے اور اس ماہ کے برکات کو حاصل کرنے کے لیے اس سے متعلق جو احادیث شریفہ میں منقول ہے، اس کو جاننا ضروری ہے۔ اللہ جل شانہ مجھے حق بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اللہ جل شانہ کے اپنے قوانین ہیں، اور اپنے قوانین سے وہ خلاف نہیں فرماتے۔ اللہ جل شانہ نے جہاں جہاں اپنے قوانین بیان فرمائے ہوتے ہیں، تو اس بات کو یقینی طور پر جاننا اور سمجھنا اور اس پر عمل کرنے کی نیت سے غور کرنا یہ بہت ضروری ہوتا ہے۔ ابھی میں نے ایک آیت کریمہ تلاوت کی ہے جس میں اللہ جل شانہ نے اپنا ایک قانون بیان فرمایا ہے۔ وہ قانون یہ ہے:

فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ۔

یعنی جو بہت تھوڑا سا عمل بھی نیکی کا کرے گا، اللہ کے ہاں اس کو دیکھ لے گا۔ اور جو تھوڑا سا عمل بھی برائی کا کرے گا، اللہ پاک کے ہاں اس کو دیکھ لے گا۔ اس سے پتہ چلا کہ یہاں کی جو ہماری زندگی ہے، اس میں ایک ایک لمحے کی ہمیں خبر رکھنی چاہیے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ کیا ہم اچھائی کی طرف جا رہے ہیں، برائی کی طرف جا رہے ہیں؟ ہمارا ایک ایک عمل باقاعدہ record ہو رہا ہے۔ اول تو یہ بات ہے کہ اللہ پاک براہ راست اس کو دیکھ رہے ہیں۔

ایک دفعہ میں اپنے ایک دوست کے ہاں گیا تھا، اس کی ایک factory تھی۔ اپنے دفتر میں بیٹھا تھا، اس کے سر کے اوپر ایک چھوٹا سا screen تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ فلاں صاحب، آپ بھی TV دیکھتے ہیں؟ اس نے کہا، نہیں، یہ TV نہیں ہے۔ میں نے کہا یہ کیا چیز ہے؟ کہا یہ camera ہے۔ میں نے کہا، کس چیز کا camera ہے؟ کہتے ہیں، میں نے اپنی ورکشاپوں میں کیمرے لگائے ہوئے ہیں اور یہاں پر میں جب منتخب کر لیتا ہوں تو جس ورکشاپ کو بھی دیکھنا چاہوں تو میں مجھے نظر آ جاتے ہیں کہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ اور ان لوگوں کو بھی چونکہ اس کا پتہ ہے لہٰذا وہ کام صحیح کرتے ہیں، وہ سستی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ تو میں نے کہا، دیکھو! آپ کے بارے میں تو یہ عین امکان ہے کہ آپ سو رہے ہوں، امکان تو ہے۔ ظاہر ہے آپ کو سونا بھی ہے، آپ کو آرام بھی کرنا ہے، ہر وقت تو کیمرے کی طرف نہیں دیکھیں گے۔ لیکن اللہ جل شانہ سوتے نہیں ہیں۔ اللہ جل شانہ نیند سے مجبور نہیں ہیں۔ اور اللہ جل شانہ کو تھکاوٹ بھی نہیں ہے، اور اللہ جل شانہ ہر وقت ہمیں دیکھ رہے ہیں۔ تو ہمیں بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہمارا کوئی عمل ایسا نہ ہو جس کی وجہ سے اللہ پاک ہم سے ناراض ہو سکتے ہوں، اور وہ اعمال جو ہمارے کرنے کے ہیں اس میں سے ہم سے کوئی رہ نہ جائے۔

تو محرم کا مہینہ ہے، یہ بہت قیمتی مہینہ ہے۔ اس کے بارے میں بڑے واضح ارشادات آئے ہوئے ہیں احادیث شریفہ میں۔ ابھی میں نے آپ کے سامنے عربی میں تلاوت کی ہے، میں ابھی آپ کے سامنے اس کا اردو ترجمہ عرض کرتا ہوں۔ سب سے پہلے، اس کو اچھی طرح سن لیں۔

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رمضان کے بعد جو سب سے زیادہ افضل روزے ہیں وہ محرم کے ہیں۔ رمضان شریف کے بعد سب سے جو افضل روزے ہیں یہ محرم کے ہیں۔ اور یہ بھی فرمایا:

صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ۔

میں امید رکھتا ہوں اللہ تعالیٰ سے کہ عاشورہ کا روزہ کفارہ ہو جائے اس سال کا یعنی اس سال کے چھوٹے گناہوں کا جو اس سے پیشتر گزر چکے ہیں۔

یہ مسلم شریف کی روایت ہے۔ پہلی روایت بھی مسلم شریف کی ہے، یعنی صحیح حدیث ہے صحیح ستہ میں سے نمبر دو کتاب ہے۔ یعنی پہلے نمبر پہ بخاری شریف ہے، دوسرے نمبر پر مسلم شریف ہے، اس میں یہ آیا ہے۔

اور یہ بھی ارشاد فرمایا: روزہ رکھو تم عاشورہ کا اور مخالفت کرو اس میں یہود کی، اور اس طرح کہ روزہ اس سے ایک دن پہلے یا بعد کا رکھنا چاہیے۔

ہوا کیا؟ آپ ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو مدینہ منورہ میں دیکھا کہ یہود یہ روزہ رکھ رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا آپ لوگ یہ روزہ کیوں رکھتے ہو؟ تو انہوں نے کہا کہ فرعون سے اور اس کی قوم سے موسیٰ علیہ السلام اور اس کی قوم کو نجات ہوئی تھی، اس کے شکرانے کے طور پر موسیٰ علیہ السلام نے یہ روزہ رکھا تھا، اب ہم بھی مسلسل یہ روزہ ہر سال رکھتے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا، پھر تو ہمارا موسیٰ علیہ السلام پر زیادہ حق ہے، پھر ہمیں رکھنا چاہیے۔ تو آپ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو یہ روزہ رکھنے کا ارشاد فرمایا۔ اس کے بعد چند صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! یہ روزہ تو چونکہ یہود بھی رکھتے ہیں لہٰذا اس میں مشابہت ہے ان کے ساتھ، تو کیا اس مشابہت کا اثر نہیں ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس مشابہت سے بچنے کے لیے ایک روزہ اس سے پہلے کا بھی رکھو۔ یعنی یا نویں، دسویں کا رکھو یا دسویں، گیارہویں کا رکھو۔ یعنی ایک روزہ مزید رکھ لو تاکہ ان کے مشابہت نہ ہو جائے۔

اس سے ایک زبردست نکتہ سامنے آ رہا ہے۔ بلکہ دو نکتے اس سے سامنے آ گئے۔ سب سے پہلی بات جو اس سے سامنے آئی وہ کیا ہے؟ وہ یہ کہ موسیٰ علیہ السلام ان کو یہود مانتے ہیں کہ ہمارا پیغمبر ہے اور ہمارے نزدیک اولو العزم پیغمبر ہیں۔ اب یہود کے ماننے کی وجہ سے آپ ﷺ نے موسیٰ علیہ السلام والا عمل نہیں چھوڑا کہ یہود چونکہ یہ عمل کر رہے ہیں لہٰذا ہم نہیں کرتے، نہیں! آپ ﷺ نے اس کو اختیار فرمایا۔ اس سے پتہ چلا، حق اگر کافر کے پاس بھی ہو تو اس کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔ اگر ایک کافر مجھے کہہ دے تم نماز پڑھو، تو کیا میں اس وجہ سے نماز چھوڑ دوں گا کہ مجھے کافر نے کہا ہے؟ بلکہ عین ممکن ہے میں اس کافر کا شکریہ ادا کروں کہ آپ نے اچھا کیا مجھے اچھی بات کی نصیحت کی۔ ہاں جی، بعض کافر ایسے ہوتے ہیں۔ وہ ہندوستان میں جو لوگ ہوتے تھے، تو اس میں یہ کہ بعض ہندو ایسے ہوتے تھے جو خود تو ہندو ہوتے تھے لیکن مسلمانوں کے ساتھ تعاون کرتے تھے۔ مسلمانوں کو اچھا سمجھتے تھے، ان کو نماز پڑھنے کے لیے کہتے تھے، ان کو اچھی اچھی باتیں کرنے کے کہ تمہارے مذہب میں ہے تم یہ کام کرو۔ تو بہرحال اگر کافر مجھے کسی اچھی بات کا کہہ دے تو میں اس وجہ سے نہیں رکوں گا کہ مجھے کافر نے یہ بات کہی ہے۔


ہاں جی، ایک دفعہ ایسا ہوا، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان سے شیطان نے صبح کی تہجد کی نماز قضاء کرائی۔ اب امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ چونکہ صحابی تھے، بہت روئے، اللہ پاک کے سامنے آہ و زاری کی، توبہ کیا، اے اللہ مجھ سے غلطی ہوئی، میری تہجد کی نماز مجھ سے رہ گئی۔ تو بہت توبہ استغفار کرنے کے بعد اگلے دن کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص آیا ان کو انگوٹھے سے ہلایا، تو یہ جاگ گئے، انہوں نے کہا تم کون؟ اس نے کہا میں شیطان ہوں۔ انہوں نے کہا کیوں؟ اس نے کہا تہجد کا نماز کا وقت ہے تہجد کی نماز پڑھو۔ اس نے کہا تم نے کب سے تہجد کی نماز کے لیے اٹھانا شروع کیا ہے؟ ظاہر ہے حیرت کی بات تو تھی، اب شیطان جو ہے نا کیسے یہ کام کرتا ہے؟ تو پوچھا کہ تم نے کب سے یہ کام شروع کیا ہے؟ تو شیطان نے کہا، پچھلے دن جو تم روئے آپ روئے تھے اور بہت زیادہ آہ و زاری کی تھی، اللہ پاک نے تجھے تہجد سے زیادہ اجر اس کا دے دیا۔ لہٰذا آج میں چاہتا ہوں کہ تم تہجد پڑھ لو تاکہ اتنا اجر تو حاصل نہ کرو۔ اب دیکھ لیں، شیطان ہمارا دشمن ہے، اگر شیطان کو پتہ چل جائے کہ ہم شیطان کے کہنے سے بات نہیں کرتے، کام نہیں کرتے، تو ہمیں اچھی اچھی باتوں کا کہے گا، ہمیں کہے گا نماز پڑھو، ہم کہہ دیں بھائی شیطان نے کہا ہے لہٰذا نماز نہیں پڑھنا چاہیے۔ وہ کہے گا اللہ کے راستے میں خیرات کر لو، ہم کہیں چونکہ شیطان نے کہا ہے لہٰذا ہم خیرات نہیں کرتے، مطلب اس کو ایک اچھا راستہ مل جائے گا۔ تو بہرحال بات یہ ہے، کافر کے کہنے سے بھی اچھی بات سے رکنا نہیں چاہیے۔


اور ایک دوسری بات بہت اہم معلوم ہو گئی، سبحان اللہ! وہ اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اور وہ کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ بے شک کافر کے جو ہے نا اچھی بات پر انسان عمل کر دے، لیکن کافر کی مشابہت سے بچے۔ کافر کی مشابہت سے بچے! اب دیکھ لیں، یہاں پر یہود کی مشابہت سے بچنے کا حکم دے دیا۔ حالانکہ یہود کے اس چیز کو بھی لے لیا گیا، لیکن اس سے ان کے مشابہت سے بچا گیا۔ آپ ﷺ کفار کی مشابہت سے لوگوں کو بچاتے تھے۔ مثلاً مانگ نکلنے میں بھی جو کفار کا طریقہ تھا اس کو پسند نہیں فرماتے، مانگ نکالنے میں بھی۔ ہاں، اس طرح کپڑے پہننے میں بھی، دوسری چیزوں میں بھی، یعنی کفار کے ساتھ مشابہت کو پسند نہیں کرتے تھے۔ تو اس سے پتہ چلا کہ کفار کی مشابہت اگر اچھی چیز میں پسند نہیں کی گئی، تو بری چیزوں میں مشابہت کیسے پسند کی جائے گی؟ یہ بہت ضروری بات ہے کہ اگر اچھی چیزوں میں کفار کی مشابہت اللہ کو پسند نہیں ہے، تو بری چیزوں میں مشابہت کتنی پسند ہوگی؟


آج کل اللہ معاف فرمائے، اللہ معاف فرمائے، TV کی وجہ سے، CDs کی وجہ سے، internet کی وجہ سے، کفار کی تمام چیزیں ہماری بچیوں میں، بچوں میں آ رہی ہیں۔ مشابہت تو کیا، بالکل ان سے آگے بڑھنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے! یہ اصل میں ہم لوگوں نے آپ ﷺ کے اصول کو چھوڑا، اس کی سزا ہمیں مل رہی ہے۔ اگر پہلے سے بند باندھا جاتا کہ کافروں کے ساتھ مشابہت اختیار نہیں کرنی چاہیے، اب دیکھ لیں چھوٹے چھوٹے بچے ہوتے ہیں گھروں میں، صرف پیسے بچانے کے لیے کہ readymade کپڑے سستے ملتے ہیں، ان بچوں کو وہ جو ہے نا مطلب انگریزوں والا لباس پہنا دیتے ہیں۔ خدا کے بندو، تھوڑا سا پیسے خرچ کر کے اس کو صحیح مسلمانوں والا لباس خرید کے دو، ان بچوں نے کیا قصور کیا ہے؟ ابھی تو معصوم ہیں، ابھی تو کچھ بھی نہیں جانتے، آپ لوگوں نے ان کو جو ہے نا ان کی طرح بنا دیا۔


میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ Germany میں جب تھا میں، وہاں پر الحمدللہ میں انہی کپڑوں میں ہوتا تھا۔ یہی کپڑے میں نے پہنے ہوتے تھے۔ تو مجھ پر professor بہت مہربان تھے، مجھے جمعہ کی نماز کے لیے کیا، ہر نماز کے لیے چھوڑتے تھے۔ میرے اوپر کوئی پابندی نہیں تھی اگر میں نماز کے لیے جاتا تھا، بلکہ خود جو ہے نا میرے لیے راستہ ہموار کرتے تھے۔ اور ایک دن میرے colleague کو کہا، اس کو کسی ایسے restaurant میں لے جاؤ جہاں یہ کچھ کھا سکے، یہ ہر ایک چیز نہیں کھائے گا۔ میری اوپر اللہ پاک نے اس کو مہربان بنایا ہوا تھا۔ تو ایک دن میرا دوسرا colleague آیا جو ان کے لباس میں ہوتا تھا، مجھے کہتا ہے، کمال کی بات ہے آپ کو تو ہر نماز کے لیے چھوڑتے ہیں، مجھے جمعے کی نماز کے لیے بھی نہیں چھوڑتے۔ میں نے کہا شکر کرو کہ تمہیں church کے لیے نہیں کہہ رہا۔ تمہیں church کے لیے ساتھ جانے کو نہیں کہہ رہا، تم اس پر شکر ادا کرو! تم تو پورے کا پورا ان کے لباس میں ہو۔ پورے کا پورا ان کی طرح ہو۔ تم سے تو وہ یہ توقع کرے گا کہ تم ان کے ساتھ church چلے جاؤ۔ تو پھر اس کے بعد آپ ان سے کیا توقع کرتے ہیں کہ وہ جو ہے نا وہ آپ کو ایسی اچھی باتوں کے لیے چھوڑ دے؟


تو بہرحال یہی بات ہے۔ اور یہ میں آپ حضرات سے عرض کرتا ہوں، وہ بھی متاثر اسی چیز سے ہوتے ہیں۔ ایک departmental store میں کھڑا تھا line میں، تو کوئی جرمن نوجوان تھا، کوئی 30 سال کی عمر تھی اس کی بھی۔ وہ مجھے گھور گھور کر دیکھ رہا ہے۔ مجھے بڑی تنگی ہوئی، میں نے کہا پتہ نہیں مجھے گھور گھور کر کیوں دیکھ رہا ہے؟ میں نے کہا کیا بات ہے؟ کہتا ہے تم کہاں سے آئے ہو؟ میں نے کہا پاکستان سے آیا ہوں۔ اس نے کہا پاکستان سے تو اور لوگ بھی آتے ہیں، تم تو ان کی طرح نہیں ہو۔ تم تو دوسرے لباس میں ہو، جبکہ وہ ہماری طرح لباس پہنتے ہیں، آپ ہماری طرح لباس کیوں نہیں پہنتے؟ یہ اس کا سوال تھا، سیدھا سادہ سوال تھا۔ میں نے کہا، بھائی صاحب! کیا میں آپ کو خوش کرنے کے لیے لباس پہنوں یا اپنے آپ کو خوش کرنے کے لیے لباس پہنوں؟ پہلا سوال آپ سے یہ ہے۔ مجھے لباس آپ کو خوش کرنے کے لیے پہننا چاہیے یا اپنے آپ کو خوش کرنے کے لیے پہننا چاہیے؟ میں نے کہا، دیکھو! آپ والا لباس ساتھ والے departmental store میں 30 mark کا ملتا ہے، مجھے پتہ ہے۔ اور مجھے یہ لباس پاکستان سے باقاعدہ منگوانا پڑتا ہے، اس پر خرچ بھی ہوتا ہے۔ لیکن فائدہ اس میں یہ ہے کہ مجھے جتنے بھی کام کرنے ہیں، مسلمانوں والے، اپنے مذہب کے، وہ سارے اس میں بہت آسان ہیں۔ اس میں مشکل ہیں۔ تو میں آپ کا لباس پہن کر اپنے آپ کو تنگی میں کیوں ڈالوں؟ ہاں جی! جب میں نے یہ کہا تو مجھے اس نے کہا کہ کیا آپ مجھے اپنا address دے سکتے ہیں؟ میں کچھ اور باتیں بھی آپ کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں۔ میں ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہوں جو کسی سے متاثر نہ ہوں، کیونکہ ان کے ساتھ کچھ ہوتا ہے۔


دیکھ لیں اس نے بالکل صاف بات کر دی! جن کے ساتھ کچھ ہوتا ہے، وہ کسی سے متاثر نہیں ہوتا۔ تو کیا ہمارے ساتھ کچھ نہیں ہے؟ ہمارے ساتھ کیا ہے؟ میں بتاتا ہوں، ہمارے ساتھ بہت بڑی چیز ہے۔ وہ کیا ہے؟ اللہ پاک فرماتے ہیں: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔ اور البتہ بتحقیق تمہارے لیے آپ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ موجود ہے۔ بہترین نمونہ موجود ہے، آپ ﷺ کی زندگی میں۔ اب دیکھ لیں، ہم سب سمجھتے ہیں اور سمجھنا بھی چاہیے کہ آپ ﷺ ہمارے محبوب ہیں۔ آپ ﷺ اللہ کے بھی محبوب ہیں، اور اللہ کے ایسے محبوب ہیں کہ جو اس محبوب کی پیروی کرتا ہے، وہ بھی اللہ کو محبوب بن جاتا ہے۔ وہ اللہ کا محبوب بن جاتا ہے! صاف اللہ پاک نے قرآن پاک میں فرمایا ہے: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ۔ اے میرے حبیب! اپنے امت سے کہہ دیجیے اگر تم اللہ پاک کے ساتھ محبت کرنا چاہتے ہو، میری اتباع کرو، اللہ پاک تمہارے ساتھ محبت کرنے لگیں گے۔


صاف بالکل فرمایا ہے! اس کے اندر دوسری بات نہیں ہے۔ فرعون کو جس وقت دعوت دینے کے لیے موسیٰ علیہ السلام کو جانے کا حکم ہوا، فرعون تشریف لے گئے ہارون علیہ السلام ساتھ تھے۔ جادوگروں کو بلایا گیا ان کے ساتھ مقابلے کے لیے۔ جادوگروں کے ساتھ جب مقابلہ ہو گیا، اس کے ختم ہونے کے بعد جب وہ ہار گئے، انہوں نے ایمان قبول کر لیا۔ مسلمان ہو گئے، موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے۔ اب فرعون نے کیا کیا؟ فرعون بڑے سخت ناراض ہوئے، انہوں نے کہا تم نے میری اجازت کے بغیر ایمان کو کیوں قبول کیا؟ اب میں دیکھتا ہوں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ میں تمہارے ہاتھوں کو کاٹوں گا، پاؤں کو کاٹوں گا، تمہیں سولی پر چڑھاؤں گا، ہاں، اب میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں تم دیکھ لینا۔ تو انہوں نے کہہ دیا جادوگروں نے... دیکھیے، اب اس سے چند لمحے پہلے جادوگروں کے ساتھ ساتھ بات کر رہے ہیں، فرعون سے کہتے ہیں، اگر ہم کامیاب ہو گئے تو ہمیں کیا دو گے؟ فرعون نے کہا، ہم تمہیں اپنا مصاحب بنائیں گے، تم ہمارے قریب ہو جاؤ گے۔ یا تو یہ حالت ہے، چند لمحے پہلے فرعون کی قربت کو حاصل کرنے کے لیے ایسی باتیں کرتے تھے، اب دیکھ لیں، قرآن گواہ ہے، قرآن کہتا ہے، کہ یہ لوگ کہتے ہیں فرعون کو: فَاقْضِ مَا أَنْتَ قَاضٍ۔ جو تم کرنا چاہتے ہو، کر کے گزرو! ہم اب واپس نہیں ہوں گے۔ ہم اب واپس نہیں ہوں گے! اور اللہ پاک کے سامنے دعا کی: اے اللہ! ہمارے اوپر صبر کو انڈیل دے۔ ہمارے پاؤں میں لغزش نہ آئے۔


اب دیکھ لیں، کیسے عظیم مقام پر پہنچ گئے! موسیٰ علیہ السلام بھی بڑے حیران ہوئے۔ موسیٰ علیہ السلام چونکہ کلیم اللہ تھے، اللہ کے ساتھ باتیں کیا کرتے تھے، تو بات کرنے کے موقع پر موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: یا اللہ! میں گیا تو فرعون کے پاس تھا، فرعون کی ہدایت کے لیے میں گیا تھا، فرعون کو ہدایت حاصل نہیں ہوئی، جادوگروں کو ہو گئی، یہ کیا بات ہے؟ اللہ پاک نے فرمایا، ان لوگوں نے تم جیسے، تیرے کپڑوں جیسے کپڑے پہنے تھے۔ میں نے نہیں چاہا کہ میرے محبوب کے کپڑے کسی نے پہنے ہوں اور میں اس کو ہدایت نہ دوں۔ اب دیکھ لیں! تو یہ جن کو ہم کپڑے کہتے ہیں نا، ان کو ایسے معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ آج کل لوگ کہتے ہیں او کیا بات، کیا فرق پڑتا ہے جی؟ اس سے کیا فرق پڑتا ہے جی؟ اس سے یہ فرق پڑتا ہے جی! اس سے یہ فرق پڑتا ہے جی! اللہ کی نظروں میں انسان مکرم ہوتا ہے، اللہ کی نظروں میں انسان پسندیدہ بن جاتا ہے۔ ہم لوگوں کے پاس یہی تو بڑا آسرا ہے! کسی ذریعے سے ہماری مغفرت ہو جائے، کسی ذریعے سے ہم لوگ کامیاب ہو جائیں، بس اتنی سی بات ہے۔ بعض دفعہ معمولی معمولی باتوں پہ، جیسے فرعون کا، یہ جادوگروں کا واقعہ ہے، اس طریقے سے ان کی نجات ہو گئی۔ تو بہرحال میں آپ حضرات سے عرض کر رہا ہوں کہ مشابہت کفار کی اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ اس سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔


اب ذرا اس میں ایک اور نقطہ بھی سامنے آ گیا۔ اور وہ نقطہ کیا ہے؟ وہ نقطہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے موسیٰ علیہ السلام کو اون کر دیا، اپنا بتایا، ہمارا ان پر زیادہ حق ہے۔ ہمارا ان پر زیادہ حق ہے! اب محرم کا مہینہ جو ہے، اس میں ہوا کیا ہے؟ سب سے پہلی بات موسیٰ علیہ السلام اور ان کی، مطلب قوم کی رہائی ہوئی، یہ تو بہت بڑی بات ہے، ماشاءاللہ۔ اور آپ ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے کی بات ہے۔ لیکن آپ ﷺ کے تشریف لانے کے بعد اور آپ ﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بھی کچھ واقعات ہوئے ہیں۔ مثلاً، شہادت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ ہوا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کا واقعہ ہوا، یہ واقعات بھی محرم میں ہوئے ہیں۔ اب دیکھ لیں، بہت سارے لوگ یوں سمجھتے ہیں کہ شاید امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کچھ اور لوگوں کی چیز ہے۔ نہیں! جیسے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا ان پر ہمارا حق زیادہ ہے، اس طرح امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ہمارا حق زیادہ ہے۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ہمارا حق زیادہ ہے!


امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کون ہیں؟ ہمارے پیغمبر ﷺ نے ان کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ہے؟ فرمایا: سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ۔ ہاں جی؟ یہ میں آپ کو سنا دیتا ہوں ماشاءاللہ، اس کے سننے میں بھی بڑا مزہ ہے۔ ہاں جی، دیکھ لیں یہ ایک جو خطبہ ہے جو جمعے پہ پڑھا جاتا ہے، یہ حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ کا لکھا ہوا ہے۔ شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ کون ہیں؟ یہ وہ صاحب ہیں جو عمر بھر شیعوں کے ساتھ لڑتے رہے ہیں۔ عمر بھر! آخر میں شہید ہوئے ہیں۔ اب دیکھ لیں، وہ کیا فرماتے ہیں، ان کے خطبے میں کیا ہے، ہر جمعے کو ہم سنتے ہیں، آج میں ذرا آپ کو سناتا ہوں، آپ اس انداز میں بھی سن لیں۔


فرمایا: دیکھ کے سب سے پہلے درود شریف پڑھتے ہیں آپ ﷺ پر۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، وَصَلِّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ۔ کیا فرماتے ہیں؟ درود شریف پڑھتے ہیں آپ ﷺ پر، پھر مومنین پر، مومنات پر، مسلمانوں پر، مسلمان عورتوں پر، اور برکت کی دعا کرتے ہیں آپ ﷺ کے لیے، ان کی ازواج مطہرات کے لیے اور ان کی اولاد کے لیے۔ دعا کرتے ہیں۔ ایک تو یہ ہے۔ اس کے بعد احادیث شریفہ بیان کرتے ہیں: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ۔ میری امت میں جو سب سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں وہ کون ہیں؟ ابو بکر۔ فرمایا: وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ۔ اور اللہ پاک کے کام میں سب سے زیادہ سختی لانے والے (مطلب پابندی کے ساتھ کاربند ہونے والے) وہ عمر ہیں۔ وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ۔ اور ان میں جو حیا کے لحاظ سے بڑے ہوئے ہیں وہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ وَأَقْضَاهُمْ عَلِيٌّ۔ اور ان میں جو انصاف کرنے میں جو سب سے زیادہ بڑے ہوئے ہیں وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں۔ یہ سارے احادیث شریفہ ہیں۔


پھر فرماتے ہیں: وَفَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ۔ اور فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، یہ جنت کے خاتونان کی سردار ہیں۔ وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ۔ اور حسن اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما، نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔ وَحَمْزَةُ أَسَدُ اللَّهِ وَأَسَدُ رَسُولِهِ۔ اور امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اللہ کے شیر ہیں اور اس کے رسول کے شیر ہیں۔


دیکھیں سارے اہل بیت ہیں نا! یہ وہ صاحب ہیں جو عمر بھر شیعوں کے ساتھ لڑتے رہے۔ لیکن دیکھو انہوں نے اپنے دین تو نہیں چھوڑا نا؟ اپنی بات نہیں چھوڑی! جو حق بات ہے وہ بیان فرما دی۔ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْعَبَّاسِ وَوَلَدِهِ۔ اے اللہ! مغفرت فرما دے عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی، اس کی بیٹے کی یعنی عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً لَا تُغَادِرُ ذَنْبًا۔ اس کے ظاہری اور باطنی گناہوں میں سے کسی چیز کو بھی نہ چھوڑے۔


پھر فرماتے ہیں: اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي۔ اے میری امتیو! تمہیں میرے صحابہ کے بارے میں خدا کا واسطہ! لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا مِنْ بَعْدِي۔ میرے بعد ان میں سے کسی کو ملامت کا نشانہ نہ بناؤ۔ فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ۔ جو ان میں سے کسی سے محبت کرتا ہے وہ میری محبت کی وجہ سے ان کے ساتھ محبت کرتا ہے۔ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ۔ اور جو ان کے ساتھ ان میں سے کسی کے ساتھ بغض رکھتا ہے، وہ اصل میں میرے ساتھ ان کو بغض ہے، اس وجہ سے ان کے ساتھ بغض رکھا ہوا ہے۔


ہاں جی! اب دیکھ لیں، صحابہ کرام سارے کے سارے، سارے کے سارے عادل ہیں۔ یہ ہمارے اہل سنت والجماعت کا مسلک ہے۔ صحابہ کرام سارے کے سارے کیا ہیں؟ عادل ہیں، محفوظ ہیں۔ اچھا لیکن صحابہ کون ہیں؟ صحابہ تین قسموں پر ہیں۔ اس بات کو اچھی طرح آج سمجھ لیں! یہ بہت ضروری اور اہم بات ہے، اس کے نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت سارے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔


پہلی بات، صحابیات امہات المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہن۔ ہماری مائیں! حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، یہ سب جو ہے نا کیا ہیں؟ یہ ہماری مائیں ہیں۔ قرآن کی نص کے لحاظ سے! لہٰذا ہم لوگ ان کو محترم سمجھتے ہیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ان ماؤں کے ذریعے سے ہمیں دین کا وہ حصہ پہنچا ہے جو کوئی اور نہیں پہنچا سکتا تھا۔ کیونکہ بعض باتیں آپ ﷺ کی ایسی رات کی تھیں جو سوائے بیوی کے کسی کو نہیں معلوم ہوتی۔ وہ باتیں صرف ازواج مطہرات ہی پہنچا سکتی تھیں، تو انہوں نے امت کے اوپر یہ بڑا احسان کیا کہ انہوں نے یہ باتیں پہنچا دیں۔ بالخصوص ان میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا اس میں بہت بڑا مرتبہ ہے، کیونکہ اللہ پاک نے صرف خاص اس مقصد کے لیے ان کی تشکیل فرمائی تھی۔ چھوٹی عمر میں اس لیے ان کی شادی اس لیے ہوئی تھی تاکہ آپ ﷺ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارے۔ اور اللہ پاک نے بڑی زندگی عطا فرمائی، 57 ہجری میں وفات پائی تھی۔ 57 ہجری میں! یعنی آپ ﷺ کے 47 سال بعد تک زندہ رہی ہیں (آپ ﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد)، 47 سال اس دنیا میں رہیں۔ تو گویا 47 سال لوگوں کی دینی خدمت کی۔ یہ بہت بڑی بات ہے۔ خاص خاص باتیں جو صحابہ کرام کسی اور سے نہیں جان سکتے تھے، وہ آ کر عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھ لیا کرتے تھے۔ بلکہ ایک دفعہ ایک صحابی رسول ﷺ آئے، شرماتے شرماتے، کوئی ایسی بات تھی جو پوچھنا مشکل تھا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو پتہ چل گیا، فرمایا: بیٹا! تم میرے بیٹے ہو، جو پوچھنا ہے بے تکلف پوچھ لو، جواب دیا جائے گا۔ تو انہوں نے وہ سوال کیا اور جواب انہوں نے دے دیا۔ جیسے کہ عورتیں آتی تھیں آپ ﷺ سے پوچھنے کے لیے، شرماتے شرماتے بعض مسائل ایسے ہوتے ہیں، وہ پوچھتی تھیں، اور آپ ﷺ اس طرح جواب دیتے تھے۔ اسی طریقے سے عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس مرد صحابی آتے تھے ان سے پوچھنے کے لیے اور وہ جو ہے نا مطلب جواب دیتی تھیں، کیونکہ دین میں شرم نہیں ہے۔ کیونکہ دین میں شرم، دین کے پوچھ، دین کے مسئلے پوچھنے میں شرم نہیں ہے۔ تو بہرحال میں عرض کرتا ہوں، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام اس میں بہت آگے ہے۔ انہوں نے دین کا بہت بڑا حصہ امت تک پہنچا دیا۔ اس لیے بعض علمائے کرام فرماتے ہیں کہ نصف علم عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ذریعے سے transfer ہوا ہے۔ ہاں جی، یہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا جو ہے نا وہ مرتبہ ہے۔


پھر اس کے بعد دوسرے نمبر پہ آتے ہیں اہل بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم ورضوا عنہ۔ اہل بیت کون تھے؟ یہ آپ ﷺ کے گھر کے افراد تھے۔ ہاں جی، تو گھر کے افراد کو بعض باتیں ایسی معلوم ہوتی ہیں جو باقی لوگوں کو معلوم نہیں ہوتی۔ ہاں جی! تو آپ ﷺ کے دین کا بہت بڑا حصہ گھر کے افراد کے ذریعے سے پہنچا ہے۔ اس میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا نام نامی بہت آگے ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ، یہ دیکھ لیں خلیفہ راشد ہیں، چوتھے خلیفہ ہیں۔ ایک بات یاد رکھیے، جو اہل بیت کے حق میں ہیں اور ان کی وجہ سے صحابہ کے مخالف ہیں، تو یہ بہت بڑی حماقت ہے۔ کیونکہ اہل بیت تو صحابہ کے ساتھ ساتھ ہوتے تھے۔ ہاں، ہر مرحلے میں ان کے ساتھ ہوتے تھے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ تینوں خلفاء کے مشیر تھے۔ بلکہ جس وقت حالات کافی بگڑ گئے بعد میں، تو کچھ لوگوں نے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اعتراض کیا کہ دیکھو، تینوں خلفاء کے وقت میں تو امن تھا، آپ کے وقت میں اس قسم کا مسئلہ ہو گیا، یہ کیا بات ہے؟ تو علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا: میں ان کا مشیر تھا، اور تم میرے مشیر ہو۔ میں ان کا مشیر تھا، تم میرے مشیر ہو! مطلب بگڑا ہے معاملہ تمہاری وجہ سے بگڑا ہے، کیونکہ تم میرے مشیر ہو، تم صحیح بات کرتے نہیں ہو۔ تو بہرحال یہ ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ، تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے، عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے، عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے، سب کے ساتھی تھے۔


دیکھ لیں ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ساتھ دے دیا۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تو بہت مشہور بات ہے کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو جنگ قادسیہ تھا (یعنی ایران کے ساتھ)، اس میں بنفس نفیس خود شریک ہونا چاہتے تھے۔ روکنے والے صرف علی کرم اللہ وجہہ تھے۔ انہوں نے فرمایا، نہیں، آپ کو نہیں جانا چاہیے، خلیفہ کو نہیں جانا چاہیے، اگر خلیفہ کو کچھ ہو گیا تو پھر کیا ہے؟ پوری امت کا شیرازہ بکھر سکتا ہے، لہٰذا آپ کو نہیں جانا چاہیے، ہم کس لیے ہیں؟ ہاں جی! تو بہرحال یہ دیکھیں، یہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی بات۔ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے دن، حضرت حسن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی duty لگائی تھی، عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دفاع کرنے کے لیے duty لگائی تھی۔ اور حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے باقاعدہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اجازت لی: چچا جان! ہمیں قتال کی اجازت دے دیجیے، ہم آپ کی طرف سے دفاع کرنا چاہتے ہیں (خلیفہ تھے)۔ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، نہیں! میں نے آپ ﷺ سے سنا ہے کہ میری امت میں جب تلوار چل پڑے گی، پھر اس کے بعد رکے گی نہیں۔ میں اپنی طرف سے اس کی ابتدا نہیں کرنا چاہتا، تو مجھے اجازت نہیں ہے۔ ہاں، تو پھر بھی باقاعدہ دروازے پر کھڑے رہے، ان کی وجہ سے بلوائی دروازے سے نہیں داخل ہوئے۔ پیچھے سے داخل ہو گئے۔ جب عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا، اس کے بعد علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب پہنچے، تو انہوں نے بہت زیادہ حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مارا کہ تم نے کیوں جو ہے نا ان کی مدافعت نہیں کی؟ میں نے تمہیں کس لیے چھوڑا تھا؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے تو کہا تھا لیکن انہوں نے ہمیں اجازت نہیں دی، پھر بھی ہماری موجودگی میں وہ لوگ نہیں آ سکے، وہ دیوار پچھلی دیوار پھاند کے آئے تھے، اس کا ہمیں اندازہ نہیں ہوا۔


تو بہرحال میں عرض کرتا ہوں، علی کرم اللہ وجہہ تو ہر وقت ان کی حمایت میں لگے رہتے تھے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ ایک تو یہ بات کہ اہل بیت کے لیے صحابہ کی مخالفت جائز نہیں ہے۔ اور صحابہ کے لیے اہل بیت کی مخالفت جائز نہیں ہے۔ مجھے میں آپ حضرات سے ایک سوال پوچھتا ہوں، کیا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی نہیں ہیں؟ کیا فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا صحابی نہیں ہیں؟ کیا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی نہیں ہیں؟ کیا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی نہیں ہیں؟ یہ سارے صحابہ بھی ہیں، اہل بیت بھی ہیں۔ جس طرح عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا امہات المومنین میں بھی تھیں اور صحابیات میں بھی تھیں، اسی طریقے سے ان کو تو دونوں نسبتیں حاصل ہیں۔ تو میں آپ سے اس لیے عرض کروں گا کہ یہ چیز جو ہے نا اپنے ذہن میں ہمیں بٹھانا چاہیے کہ اہل بیت کے لیے صحابہ کی مخالفت نہیں کرنا چاہیے، صحابہ کے لیے اہل بیت کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے، یہ صرف شیطان کرواتا ہے۔


حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہاری وجہ سے دو گروہ ہلاک ہو جائیں گے۔ ایک وہ جو تم سے محبت کرنے والے ہیں (غلو کرنے والے ہیں محبت میں)، اور ایک وہ جو تم سے نفرت کرنے والے ہیں۔ تو وہ کون ہیں؟ جو محبت کرنے والے ہیں وہ کون ہیں وہ آپ جانتے ہیں، جو نام تو محبت کا لیتے ہیں لیکن اصل محبت تو نہیں کرتے، لیکن بہرحال وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔ تو وہ بھی کون ہیں وہ آپ کو پتہ ہے۔ اور جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی مخالفت کرتے ہیں، وہ بھی آپ حضرات جانتے ہیں، خوارج، ناصبی۔ کچھ لوگ ایسے آج کل بھی پیش آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے شر سے ہمیں بچائے!


دیکھ لیں، ہم ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اگر توہین برداشت نہیں کر سکتے (اور یقیناً نہیں کر سکتے)، تو کیا علی کرم اللہ وجہہ کی توہین برداشت کر سکتے ہیں؟ ہم علی کرم اللہ وجہہ کی توہین بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ تو بعض بدبختوں نے باقاعدہ کتابیں لکھی ہیں، انہوں نے (نعوذ باللہ من ذلک) علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف باتیں لکھیں، حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو باغی لکھا، یزید رحمۃ اللہ علیہ لکھا، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے بچائے۔ میں آپ کو قاعدہ کلیہ بتاتا ہوں، بالکل صاف صاف باتیں، لیکن لوگ بتاتے نہیں یہ باتیں۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کون تھے، صحابی تھے یا تابعی تھے؟ صحابی تھے، پتہ لگ گیا نا۔ یزید تابعی تھے یا صحابی تھے؟ یزید تابعی تھے۔ تابعی اور صحابی میں مقابلہ ہو جائے کس کی بات مانیں گے؟ تابعی کی بات مانیں گے۔ آسان اصول ہے، کوئی مشکل نہیں ہے۔


ایک عالم کو اس مسئلے میں شبہ تھا، میرے ساتھ ان کی بات ہوئی، میں نے ان سے جب یہ بات کی، وہ حیران ہو گئے، کہتے ہیں میرا تو اس طرف خیال ہی نہیں گیا تھا۔ باقی جب صحابی کی بات ہو تو پھر صحابی کی بات ہی لینی چاہیے، پھر تو تابعی کی بات نہیں لے سکتے۔ اس وجہ سے اس نے توبہ کر لیا، الحمدللہ واپس ہوئے۔ تو میں آپ حضرات سے عرض کرتا ہوں کہ ایک تو یہ بات ہے حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور یزید میں ہم کس کو لیں گے؟ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لیں گے، دوسرا راستہ ہی نہیں ہے۔


اچھا، یزید کے بارے میں ہمارے علمائے اہل سنت والجماعت کی دو رائیں ہیں۔ دو رائیں ہیں۔ پہلی رائے یہ ہے کہ یزید کے بارے میں سکوت اختیار کیا جائے۔ کیا کیا جائے؟ سکوت اختیار کیا جائے، چپ رہا جائے۔ چپ رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کو فاسق نہ کہا جائے۔ ہاں جی! کیونکہ انہی علماء سے ان کے لیے فاسق کے الفاظ ثابت ہیں۔ فاسق کس کو کہتے ہیں؟ جو علی الاعلان گناہ کرتا ہے۔ جو علی الاعلان گناہ کرتا ہے، اس کو فاسق کہتے ہیں۔ تو یزید نے ایک تو خانہ کعبہ کے اوپر سنگ باری کروائی، علی الاعلان بات تھی۔ مدینہ منورہ کے اندر خون کو حلال کر دیا تین دن، 12 ہزار صحابہ اور صحابیات شہید ہو گئیں۔ ہاں، یہ علی الاعلان بات ہے۔ اس کا توبہ منقول نہیں ہے۔ اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کروایا، یا کیا (ہوا)، تو علمائے کرام فرماتے ہیں چلو اس کے حکم سے نہیں ہوا، لیکن ان سے ان لوگوں سے انتقام تو لے سکتے تھے جنہوں نے کیا، ان سے انتقام کیوں نہیں لیا؟ ہاں، تو اس وجہ سے علمائے کرام جو ہیں نا ان کو فاسق تو کہتے ہیں، باقی اس کے بارے میں سکوت کرتے ہیں کہ اللہ پاک کے حوالے ہیں، اللہ پاک اس کو معاف کرتے ہیں یا اللہ پاک اس کو سزا دیتے ہیں، ہم کچھ نہیں کہتے۔ یہ ہے ایک گروہ کا حال۔


دوسرے گروہ کا حال یہ ہے، وہ باقاعدہ اس کو لعنتی اور پلید کہتے ہیں۔ اور دونوں طرف بڑے بڑے لوگ شامل ہیں۔ میں آپ کو اس میں سے ایک مثال دوں۔ جلالین کی کتاب کا نام سنا ہے کبھی؟ یہ ایک تفسیر ہے اور مشہور تفسیر ہے، مدارس میں پڑھائی جاتی ہے، جلالین شریف۔ اس کے لکھنے والوں میں سے ایک ہیں امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ۔ کثیر التصانیف بزرگ ہیں، بہت زیادہ تصانیف ان کی ہیں، بڑے محتاط عالم ہیں۔ انہوں نے ایک کتاب لکھی ہے تاریخ الخلفاء۔ اس تاریخ الخلفاء میں جس وقت یزید اور یہ واقعہ کربلا اور یہ تمام چیزیں آ گئیں، فوراً ان کے قلم سے جو الفاظ نکلے: اللہ لعنت کرے یزید پر، اس کے ساتھیوں، ابن زیاد پر اور ان سب پر۔ یہ باقاعدہ اس کے الفاظ ہیں لکھے ہوئے ہیں۔ آپ اندازہ کر لیں، اندازہ کر لیں، ہمارے امام ہیں نا! جو امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ، اس طرح اور متاخرین میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ باقاعدہ لکھتے تھے یزید پلید۔ ہاں جی! تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ کچھ اہل سنت والجماعت تو ان کو لعنتی کہتے ہیں، کیونکہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو چھ کام کرے (چاہے کام کاموں میں سے کوئی کام کرے)، وہ اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ وہ کون سے ہیں؟ ایک ان میں سے یہ ہے جو خانہ کعبہ کی حرمت زائل کر لے، دوسرا جو مدینہ منورہ کی حرمت زائل کر لے، تیسرا جو اہل بیت کی حرمت زائل کر لے، چوتھا جو تارک سنت ہو۔ اس طرح دو اور بھی ہیں۔ ہاں، تو اب دیکھ لیں یزید میں یہ چاروں کے چاروں پائے جاتے تھے۔ یہ چاروں کے چاروں پائے جاتے تھے! اس وجہ سے اگر اس حدیث شریف کی وجہ سے کوئی لعنت کرتا ہے ہم اس کو ان کو بھی نہیں روکتے، جو سکوت کرتے ہیں ہم ان کو بھی نہیں روکتے۔


ہاں، ان کو ہم ضرور روکتے ہیں جو یزید کو رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں۔ اس لیے اس لیے روکتے ہیں کہ وہ فاسق تھے اور فاسق کو کلمہ تکریم کے ساتھ نہیں پکارا جاتا۔ کیونکہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو فاسق کا اکرام کرتا ہے وہ دین کو گرانے والوں میں ہے۔ اس نے دین کو گرایا! لہٰذا اگر اس کا کوئی تکریم کرتا ہے تو وہ دین کو گرا رہا ہے، ہم اس کے ساتھ نہیں ہیں اس معاملے میں، بس ہماری بات یہی ہے۔ تو بہرحال میں عرض کر رہا تھا کہ ایک تو یہ بات ہے کہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے ہیں، امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے ہیں، امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ ہمارے ہیں، کیوں؟ آپ ﷺ نے تین اصول بتائے ہیں۔ پہلا اصول، جو قرآن اور سنت کو پکڑے گا، لازم، وہ نجات پائے گا۔ دوسرا اصول، جو آپ ﷺ کی سنت اور صحابہ کے طریقہ کو پکڑے گا، لازم، وہ نجات پائے گا۔ تیسری بات، جو قرآن اور آپ ﷺ کی اولاد کو پکڑے گا، وہ جو ہے نا نجات پائے گا۔ نجات پانے کے لیے کتنی چیزیں ہو گئیں؟ ایک قرآن ہو گیا، دوسری سنت ہو گئی، تیسرا صحابہ ہو گیا، چوتھا آپ ﷺ کی اولاد ہو گئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟


تو جب یہ بات سمجھ میں آ گئی، تو دیکھ لیں ہمارے اماموں نے کیسے اس پر عمل کیا؟ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، یہ حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ رہے۔ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں، امام صاحب فرماتے ہیں: جو دو سال میں نے حضرت کے ساتھ گزارے ہیں، اگر وہ میں نے گزارے نہ ہوتے تو میں ہلاک ہو جاتا۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ یہ ارشاد فرماتے ہیں۔ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، یہ بھی امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ تھے۔ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت امام موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ تھے۔ تو یہ سب تو ہمارے اہل سنت والجماعت کے جتنے بڑے ہیں، وہ سب تو ان کے ساتھ ہو گئے۔ لہٰذا ہم لوگوں کے لیے راستہ بن گیا، اور وہ یہ ہے کہ ہم ہر حالت میں ان کے ساتھ ہیں۔ بالخصوص آخری دور میں جب امام مہدی علیہ السلام تشریف لائیں گے، وہ کون ہوں گے؟ وہ حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد میں سے ہوں گے۔ ہم ان کے ساتھ بھی ہونا چاہتے ہیں، اللہ کرے کہ ہم ان کے ساتھ ہوں۔ اللہ جل شانہ ہمیں، اگر اللہ نے اتنی زندگی عطا فرما دی اور حضرت کی موجودگی میں ہم آ گئے، تو اللہ جل شانہ ہمیں ان کے ساتھ کر دے۔ کیونکہ دجال سے بچنے کا بہت بڑا ذریعہ وہی ہے۔


اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے! تو بہرحال میں عرض کرتا ہوں کہ یہ چند باتیں میں آپ سے عرض کرنا چاہتا تھا، کیونکہ آج کل کے دور میں فتنہ بہت زیادہ ہے۔ غلط باتوں کو صحیح باتوں کے رنگ میں پیش کرنا کوئی آج کل مشکل بات نہیں ہے۔ یہ ہماری بیٹی ایک مدرسے میں پڑھتی تھی۔ مدرسے کی قاری صاحبہ نے عاشورہ کے دن تقریر کی۔ اس میں یزید کی بڑی تعریف کی۔ میری بیٹی بڑی حیران ہو گئی، انہوں نے کہا قاری صاحبہ! یہ باتیں تو ہم نے نہیں سنیں۔ ہاں جی، اس نے کہا بیٹی یہ تو ہماری تحقیق ہے، یہ حوالے ہیں، یہ کتابیں ہیں، آپ اس کو خود پڑھیں پھر دیکھیں کہ کیسا ہے یا نہیں ہے۔ بیٹی میرے پاس آئی، مجھے کہا ابو یہ کیا ہے؟ یہ تو ہماری قاری صاحبہ نے یہ باتیں کی ہیں۔ اب خدا کا شکر ہے کہ اس وقت میرے سامنے حضرت مولانا عبدالرشید نعمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ جو بہت بڑے محدث تھے اور بہت بڑے بزرگ تھے، کراچی کے مدرسے کے، ان کی کتاب "شہید کربلا پر تبرا" یہ کتاب میرے پاس پڑی تھی۔ میں نے سب سے پہلے تو وہ اس کو دی، میں نے کہا بیٹی پہلے تو یہ پڑھو۔ پھر اس کے جو حوالے تھے، البدایہ والنہایہ اور دوسرے حوالے، CD میرے پاس تھی، وہ ہزار کتابوں والی احادیث شریف کی، میں نے اسی سے نکال نکال کر ان کو دکھائے۔ میں نے کہا دیکھو یہ کہتا ہے، یہ کہتا ہے، یہ کہتا ہے۔ جب ان کو اچھی طرح تسلی ہو گئی، اس نے تیاری کی، اگلے دن انہوں نے کہا قاری صاحبہ آپ نے کہا تھا نا کہ میں تحقیق کروں، میں نے کچھ تحقیق کی ہے میں بتاؤں اس کے بارے میں؟ انہوں نے کہا ضرور بتاؤ ان کو کیا پتا کہ بچی نے کیا تیاری کی ہے؟ ہاں جی، اس نے اس کے اوپر پوری تقریر کر لی، اللہ کی مدد شامل تھی، اس انداز میں تقریر ہو گئی کہ قاری صاحبہ کو بھاگتے پڑی۔ قاری صاحبہ نے کہا یزید ہمارا کون سا ماما چاچا ہے، چھوڑو اس کو۔ الحمدللہ، اللہ کا احسان ہے، شکر ہے، بات ختم ہو گئی۔ لیکن دیکھ لیں، افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل اس قسم کی تقریریں ہوتی ہیں نا! یہ افسوس کی بات نہیں ہے؟ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے لوگوں سے بچائے جو ہمیں اس گمراہی کے گڑھے میں گرانا چاہتے ہیں۔


چاہے سمجھ کر گرانا چاہیں، یا چاہے ناسمجھی سے گرانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ دو باتیں ہوتی ہیں، جو سمجھ کر گرانا چاہتے ہیں، ان کے بارے میں بھی کلمہ مبارک، سورہ فاتحہ موجود ہے، الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ، جن پہ اللہ کا غصہ ہوتا ہے وہ ایسا کرتے ہیں۔ اور جو ناسمجھی میں گرانا چاہتے ہیں، وہ ان کے بارے میں ہے الضَّالِّينَ۔ ہاں، ہمارے لیے کیا ہے؟ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔ ان دونوں میں سے نہیں ہونا، نہ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ میں سے ہونا ہے، نہ الضَّالِّينَ میں سے ہونا ہے۔ ہاں، ان کے ساتھ ہونا ہے جن کو أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کہا گیا ہے۔ اور وہ کون ہیں؟ وہ انبیاء ہیں، صدیقین ہیں، شہداء ہیں اور صالحین ہیں۔ بہرحال اللہ جل شانہ ہمارے حال پر رحم فرمائے، اللہ جل شانہ اس محرم کے جملہ برکات ہمیں نصیب فرمائے۔ اس کے بارے میں آپ نے سن لیا، کہ اس کا جو روزہ ہے، یعنی جو روزہ دسویں کا، اس کے ساتھ نویں بھی ہم رکھتے ہیں اور گیارہویں بھی رکھ سکتے ہیں، تو یہ جو دو روزے ہیں، اس کا اجر بہت زیادہ ہے، اس سے اس سال کے پورے چھوٹے گناہ سارے معاف ہو جاتے ہیں۔ الحمدللہ، اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ایک تو ہم یہ روزہ رکھیں۔


دوسری بات یہ ہے کہ دیکھیں، یہ کون سا مشکل کام ہے کہ اب ہم تین مرتبہ درود شریف پڑھ کر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بخش دیں، مشکل ہے؟ چلو پڑھ لیں۔

اے اللہ! تو اپنے فضل و کرم سے اس درود پاک کا ثواب حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پہنچا دے۔ اور تمام شہدائے کربلا کو پہنچا دے۔

ہماری طرف سے ایک یہ تحفہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان تک پہنچائے۔ تو یہ میں اس لیے میں عرض کیا کہ یہ کام کیا جا سکتا ہے محرم کے مہینے میں، ہم پڑھ پڑھ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اور ان شہدائے کربلا ان سب تک یہ ثواب پہنچائیں، ہمارا الحمدللہ ان کے ساتھ جو دلی محبت ہے اس کا اظہار ہو جائے گا۔ ایسے شہداء بڑے لوگ ہوتے ہیں: وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ۔ یعنی جو لوگ اللہ کے راستے میں مارے جائیں ان کو مردہ نہ کہو۔ بلکہ وہ زندہ ہیں، تمہیں اس کا شعور نہیں۔ تمہیں اس کا شعور نہیں ہے! لہٰذا شہداء تو بذات خود بہت بڑے ہیں، ان کو ہماری ضرورت نہیں ہے، ہمیں ان کی ضرورت ہے۔ ہمیں ان کی ضرورت ہے، لہٰذا ہم لوگ جو ہے نا ان کے لیے ایصال ثواب جو کرتے ہیں ہم اپنے فائدے کے لیے کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا فائدہ پہنچائے، وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ۔