عطرِ تصوف: اختیاری امور میں ہمت اور ہماری ذمہ داری

حصہ 1 باب 1 ملفوظ 1: عطر تصوف، صفحہ: 13 اور 14

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ امدادیہ - خیابانِ سر سید، راولپنڈی
  1. اختیاری امور میں کوتاہی کا واحد علاج ہمت اور اپنے ارادے کا صحیح استعمال ہے۔
  2. شریعت کے تمام احکام اختیاری ہیں، جن پر عمل کرنے میں ابتداً کلفت ہوتی ہے لیکن مسلسل مشق سے سہولت پیدا ہو جاتی ہے۔
  3. غیر اختیاری امور اور اعمال کے نتائج انسان کے بس میں نہیں، اس لیے ان کی فکر چھوڑ کر صرف اپنے عمل پر توجہ دینی چاہیے۔
  4. اعمال کے نتائج کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش اور عمل پر اترانا انسان کی ساری محنت کو ضائع کر دیتا ہے۔
  5. ریاکاری اور تکبر انسان کے اعمال کو کھا جاتے ہیں، لہٰذا ہر عمل خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے۔
  6. انسان کو ہمیشہ اپنے گناہوں کا ڈر اور اللہ کی رحمت کی امید رکھنی چاہیے، اسی کیفیت میں کامیابی ہے۔
  7. سچی بندگی یہ ہے کہ انسان ہر نیکی کو اللہ کا فضل سمجھے اور خود کو کسی انعام کے قابل نہ سمجھے۔
  8. جس طرح انسان دنیاوی مفادات کے لیے اپنا اختیار بخوبی استعمال کرتا ہے، اسی طرح دین کے معاملے میں بھی اسے بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔
  9. روحانی ترقی اور اللہ کی خاص تجلی کے نزول کے لیے اختیاری اعمال کا تسلسل ایک بنیادی شرط ہے۔
  10. مجاہدے کے دوران بظاہر نتیجہ نہ ملنے کے باوجود مستقل مزاجی سے کام کرنے والوں کا اجر اللہ کے ہاں کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
  11. اللہ تعالیٰ کی عظمت کا احساس اور روزِ محشر جواب دہی کا یقین نماز اور دیگر فرائض کی ادائیگی کو نہایت آسان بنا دیتا ہے۔
  12. گناہوں اور نفسانی خامیوں سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان کو ہر وقت اللہ کی حضوری اور اس کی گرفت کا احساس ہو۔
  13. تصوف میں محض نظریاتی باتوں پر انحصار کے بجائے تعلق مع اللہ اور عملی مجاہدے پر زور دیا جاتا ہے۔
  14. روحانی سفر میں انسان کو چاہیے کہ وہ جلد بازی اور بدگمانی سے بچتے ہوئے اپنے شیخ کی ہدایات پر مکمل اعتماد کرے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ، اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

عطر تصوف

ارشاد: (1) اختیاری امور میں کوتاہی کا علاج بجز ہمّت اور استعمال اختیار کے کچھ نہیں اسی پر مدار ہے تمام اصلاحات کا اور یہی ہے اصل علاج تمام کوتاہیوں کا سارے افعال شرعیہ اختیاری ہیں ورنہ نصوص کی تکذیب لازم آتی ہے پس اختیار کا استعمال کرے گا تو کامیابی لازم ہے البتہ دشواری اور کلفت اول اول ضرور ہو گی۔ لیکن اس کا علاج بھی یہی ہے کہ باوجود کلفت کے ہمت سے اور اختیار سے برابر بہ تکلف کام لیتا رہے رفتہ رفتہ وہ کلفت مبدل بسہولت ہو جائے گی۔ سارے مجاہدے بس اسی لیے کیے جاتے ہیں کہ اختیار اوامر اور اجتناب نواہی میں سہولت پیدا ہو جائے۔ اور اوّل اوّل تو ہر کام مشکل ہوتا ہے مگر کرتے کرتے مشق ہو جاتی ہے اور پھر نہایت سہولت کے ساتھ ہونے لگتا ہے، جیسے حفظ کا سبق شروع میں دشوار ہوتا ہے مگر رٹتے رٹتے یاد ہو جاتا ہے اگر شروع کی کلفت اور تعب کو دیکھ کر ہمّت ہار دی تو پھر کوئی صورت ہی کامیابی کی نہیں۔

اس کو حضرت نے عطرِ تصوف فرمایا ہے۔ یعنی یہ نچوڑ ہے تمام چیزوں کا۔ عموماً لوگوں کے ذہنوں میں کچھ باتیں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے انسان صحیح بات کو نہیں سمجھتا اور عمر بھر تک لگے رہتے ہیں لیکن ان کو فائدہ نہیں ہوتا۔ لیکن کچھ چیزیں جو سمجھ میں آ جائیں، اس کے بعد جب انسان عمل کرنے پر آمادہ ہوتا ہے اور کوشش کرتا ہے تو بہت تھوڑے عرصے میں ان کو بہت زیادہ فائدہ ہو جاتا ہے۔ تو ان میں یہ بھی چیز ہے، اسی لیے اس کو عطرِ تصوف فرمایا۔ کہ اگر کوئی اس کو سمجھ لے تو پھر ان شاء اللہ العزیز اس کو جو اعمال ہیں، اس سے بہت جلدی جلدی نفع ہونے لگے گا۔ کیونکہ صرف عمل کرنا نہیں ہوتا بلکہ عمل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ذہن کا صحیح ہونا اور اس کے اوپر مطمئن ہونا اور جو اس کے نتائج ہیں، اس کے بارے میں صحیح سمجھ کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔ ورنہ پھر بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان عمل تو کرتا ہے لیکن چونکہ اس کو سمجھ نہیں ہوتی، جب اس میں کوئی مشکل آتی ہے تو پھر وہ سمجھتا ہے کہ شاید میرا سارا مجاہدہ بیکار چلا گیا۔ اس قسم کی باتوں سے وہ بددل ہو کر تمام چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے اور بجائے کامیابی کے ناکامی ہونے لگتی ہے۔

تو اس میں حضرت فرماتے ہیں کہ:

اختیاری امور میں کوتاہی کا علاج بجز ہمّت اور استعمالِ اختیار کے کچھ نہیں

یعنی جو اختیاری امور ہیں، دیکھیں نا کچھ چیزیں ہوتی ہیں اختیاری اور کچھ چیزیں ہوتی ہیں غیر اختیاری۔ اختیاری امور وہ ہیں جب ہم اپنے ارادے سے ان کو کر سکتے ہوں۔ مثلاً نماز ہے، ہم اپنے ارادے سے اس کو پڑھتے ہیں۔ ہم روزہ بھی اپنے ارادے سے رکھتے ہیں۔ ہم زکوٰۃ بھی اپنے ارادے سے ادا کرتے ہیں۔ حج بھی ہم اپنے ارادے سے کرتے ہیں۔ کسی کے ساتھ صحیح معاملہ کرنا ہو، وہ بھی ہم اپنے ارادے کے ساتھ کرتے ہیں۔ لیکن جو چیزیں غیر اختیاری ہیں، مثال کے طور پر یہ یعنی انسان کا بہت زیادہ مطلب کسی عمل میں اس کو خوشی کا ہو جانا، یہ غیر اختیاری ہے۔ رونا یہ غیر اختیاری ہے، مثال کے طور پر کسی کو رونا آتا ہے کسی کو نہیں آتا۔ یہ غیر اختیاری چیز ہے۔ اچھے خوابوں کا آنا یہ غیر اختیاری ہے۔ اسی طریقے سے کسی مضمون کا ذہن کے اندر آ جانا یہ غیر اختیاری ہے۔ مطلب یہ ساری چیزیں غیر اختیاری ہیں۔ تو جو چیز غیر اختیاری ہے، اس کے نہ ہم مکلف ہیں نہ اس کے اوپر ہماری ترقی منحصر ہے۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہماری غیر اختیاری چیزیں تو اختیاری چیزوں پر منحصر ہیں۔ یوں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہماری جو غیر اختیاری چیزیں ہیں، وہ اختیاری چیزوں پر منحصر ہیں۔ مثلاً ہم لوگ جنت میں جانا ہے، یہ اختیاری نہیں ہے۔ یا یوں سمجھ لیجیے کہ شادی کے بعد اولاد کا ہو جانا اختیاری نہیں ہے۔ لیکن یوں سمجھ لیجیے کہ جس کی بھی اولاد ہو گی تو ان کی ہو گی جنہوں نے شادی کی ہو گی۔ یا یوں سمجھ لیں کہ جنت میں جو جائے گا تو وہ بھی ظاہر ہے وہ جائے گا جو عمل کر چکا ہو گا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟

اب یہ الگ بات ہے کہ وہ، یعنی اس کے اوپر جو فیصلہ ہے وہ غیر اختیاری ہے۔ اب اگر کوئی شخص فیصلے کو ہاتھ میں لینا چاہے کہ مجھے وہ چیز مل جائے جس کے بارے میں... تو یہ فیصلہ، یہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اس کا کسی کو اختیار نہیں ہے۔ لہٰذا فیصلہ اللہ پہ چھوڑنا چاہیے اور عمل میں کوتاہی نہیں، کیونکہ عمل ہمارے ذمے ہے فیصلہ اللہ جل شانہ کے پاس۔ تو جو چیز ہمارے ذمے ہے ہم اس میں کوتاہی نہ کریں۔ اور جو چیز اللہ کے پاس ہے، وہ اس میں کبھی بھی نقصان نہیں کرتے۔ ﴿اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں فرماتے۔ تو اس طریقے سے تمام چیزیں ﴿وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا﴾۔ یعنی ہم لوگوں کی جو محنت ہے وہ کبھی رائیگاں نہیں جائے گی اگر ہم لوگوں کا خیال اچھا ہو گا، اگر ہم لوگوں کا سوچ صحیح ہو گا۔ پھر کبھی نقصان نہیں ہو گا۔ لیکن اگر سوچ صحیح نہیں ہے، مثال کے طور پر ہم عمل کر لیں اور اس کے اوپر اترانے لگیں کہ یہ کوئی ہم نے بڑا کام کر لیا۔ یہ یہاں پر نقصان ہو گیا۔ یا ہم نے نتیجے کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہا۔ چونکہ اللہ کا کام ہے لہٰذا پٹخنی، نقصان، پریشانی۔ لیکن ہم لوگ اگر عمل کر لیں کہ ہمارے اختیار میں ہے، اس کے اوپر نتیجہ اللہ پہ چھوڑ دیں کہ جیسے اس کی مرضی، ظاہر ہے اس کا کام ہے۔ ہم لوگ اس کو کیا کر سکتے ہیں، ہماری تو کوئی حیثیت نہیں۔ لہٰذا جو اللہ والے ہوتے ہیں، وہ کام بھی کرتے رہتے ہیں اور کام کرتے کرتے ڈرتے بھی رہتے ہیں۔ ڈرتے ڈرتے کام کرتے ہیں کہ کہیں ہم سے نقصان نہ ہو جائے اختیاری چیز میں۔ اور کام کرتے کرتے ڈرتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری غلط سوچ کی وجہ سے ہمارا کام ہمارے منہ پر نہ مار دیا جائے۔ تو دونوں صورتوں میں انسان وہ ڈرتے رہتے ہیں، اور اللہ جل شانہ ان کو نفع پہنچاتے ہیں۔

ایک دفعہ ایک صحابی کے فوت ہونے کا وقت تھا، قریب تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، اس سے پوچھا: کیا اپنے دل کا کیا حال پاتے ہو اس حالت میں؟ تو اس نے کہا: یا رسول اللہ، اپنے گناہ سامنے آ رہے ہیں تو اس وجہ سے ڈر رہا ہوں، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید ہے تو اس وجہ سے دل پُر امید ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کے دل میں دونوں یہ باتیں اکٹھی نہیں کی جاتیں کہ اللہ جل شانہ جس چیز سے یہ ڈر رہا ہے اس سے امن نصیب فرما دیتا ہے اور جس چیز کی امید کرتا ہے وہ اس کو نصیب فرما دیتا ہے۔ دیکھیں نا، کتنی بڑی بات ہے۔ یعنی ایک انسان اپنے گناہ سے ڈر رہا ہو، اور اور اللہ جل شانہ سے امید ہو، اچھی امید ہو۔ یہ دونوں چیزوں کو مطلب اس میں دیکھیں، امید اور چیز ہے اور، یوں سمجھ لیجیے کہ اس کو اپنے ہاتھ میں لینا اور چیز ہے۔ یہ دونوں بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ اللہ کے reference سے جتنی چیزیں ہیں وہ صحیح ہیں اور ہمارے reference سے جو چیزیں ہیں وہ غلط ہیں نتیجے کے اعتبار سے۔ ہم لوگ نتیجے کے اعتبار سے مکلف نہیں ہیں۔ ہم لوگ نتیجہ اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتے۔ یہ ہمارے بس ہی میں نہیں ہے۔ لہٰذا ہم اگر خدانخواستہ نتیجے کو ہاتھ میں لینا چاہیں گے، اس کا نقصان یہ ہو گا کہ جو ہمارا عمل ہے، وہ سارا ضائع ہو جائے گا۔ اور سارا ختم ہو جائے گا۔

ایک دفعہ حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ، ان کو کسی نے کہا، ظاہر ہے ان کے ہم عمر تھے۔ انہوں نے کہا حضرت جو کام آپ کرتے ہیں وہ ہم بھی کرتے ہیں، لیکن آپ کا حال اور ہے ہمارا حال اور ہے، یہ کیوں ایسا ہے؟ حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: آپ کے سارے اعمال کو آپ کا نفس کھا گیا ہے۔ آپ کے سارے اعمال کو آپ کا نفس کھا گیا ہے۔ نفس کیسے کھاتا ہے؟ دیکھیں نا انسان کے نفس کے اندر جو خواہشات ہوتی ہیں، مثال کے طور پر بڑا بننا، یہ نفس کے اندر خواہش ہے۔ اب جس نفس کے اندر یہ خواہش ہو کہ میں بڑا بن جاؤں، اب اس نے عمل کر لیا اور اس نے بزرگی کا خیال دل میں لانا شروع کر لیا کہ میں تو بزرگ بن گیا تو نفس نے کھا لیا نہیں کھایا؟ جس دل میں جس دل میں مطلب یہ ہے کہ عمل کے ساتھ بزرگی کا خیال آئے تو اس کے نفس نے تو اس چیز کو کھا لیا۔ اب اس کے پاس رہا کیا؟ اس کے پاس تو کچھ بھی نہیں بچا۔ وہ تو سارے کا سارا گیا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس دل میں رائی برابر تکبر بھی ہو گا، وہ جنت میں نہیں جائے گا۔

ریا کے لیے، ریا اس کے ساتھ تین قسم کے لوگوں کا جو عمل ہے وہ ضائع ہونا بتایا گیا ہے، یہ حدیث شریف میں ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ تین قسم کے لوگ سب سے پہلے لائے جائیں گے، ایک عالم، ایک سخی اور ایک شہید۔ عالم سے کہا جائے گا میں نے تجھے علم دیا تھا تو نے کیا کیا اس کے ساتھ؟ وہ کہے گا یا اللہ دن رات میں لٹاتا رہا، لوگوں کو دیتا رہا تیرے راستے میں تیرے لیے۔ اللہ پاک فرمائے گا تو جھوٹ کہتا ہے۔ فرشتے بھی کہیں گے تو جھوٹ کہتا ہے۔ تو نے اس لیے کیا تھا کہ لوگ تجھے عالم کہیں، تجھے عالم کہا گیا، لہٰذا جہنم۔ اس طرح جو سخی ہو گا وہ بھی کہے گا یا اللہ میں تو تیرے راستے میں دن رات اپنی دولت لٹاتا رہا۔ اللہ پاک فرمائے گا تو جھوٹ کہتا ہے۔ فرشتے بھی کہیں گے تو جھوٹ کہتا ہے۔ اور یہ ہے کہ اس کو بھی جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ اس طرح شہید کو لایا جائے گا تو شہید کو کہا جائے گا، شہید کہے گا یا اللہ میں نے تو تیرے راستے میں جان بھی دے دی۔ اللہ پاک فرمائے گا نہیں، تو نے جان اس لیے دی کہ تجھے بہادر کہا جائے، تجھے بہادر کہا گیا، لہٰذا جہنم۔ اب مجھے بتا دیں، ان لوگوں نے نتیجہ دنیا میں حاصل کرنا چاہا۔ نتیجہ کیا ہوا؟ نہ دنیا میں ملا نہ آخرت میں ملا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ اس وجہ سے نتیجے پر کبھی بھی آپ قبضہ نہ کرنے کی کوشش کر لیں۔

یہ بہت ہی عام سا عطرِ تصوف ہے۔ عطرِ تصوف ہے کہ ذہن کے اندر یہ خیال بالکل نہ لائے کہ میں بھی کچھ ہوں۔ عمل کے لحاظ سے تو حاضر۔ عمل کے لحاظ سے تو ہر وقت حاضر۔ جیسے ایک فرمانبردار غلام ہوتا ہے۔ جس وقت کام کا وقت آتا ہے سب سے آگے۔ جس وقت انعام کی بات آتی ہے وہ سب سے پیچھے۔ اس کے اوپر مالک کو کتنی خوشی ہو گی؟ اور دوسری طرف ہمارے جو لوگ ہیں do nothing look busy والے، کام کچھ نہ کرے اور ظاہر ایسا ہو کہ جیسے میں ہی سب کچھ کر رہا ہوں۔ اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ تو جو مالک دانا ہو گا، جو مالک سمجھدار ہو گا اس کی نظر میں کیا ہو گا؟ اس کی نظر میں وہ ساری اس کی حیثیت وہ ختم ہو جائے گی۔

اللہ جل شانہ کے ساتھ وفاداری کرنی چاہیے۔ کم از کم اللہ کے ساتھ تو وفاداری کرنی چاہیے نا۔ اللہ کے ساتھ وفاداری کرنی چاہیے اور اللہ کے ساتھ وفاداری یہ ہے کہ دل اور دماغ سے انسان یہ بات محسوس کر لے کہ میں کچھ بھی نہیں ہوں، سب کچھ میرا اللہ کا ہے۔ اللہ جل شانہ مجھے دے گا تو اس کی مہربانی ہے، اس کا کرم ہے ورنہ میں تو کسی قابل نہیں۔ یہ ہمارے جو حضرت تھے سید نفیس الحسینی شاہ صاحب مد ظلہ العالی کا وہ ہے، میں تو اس قابل نہ تھا۔ میں تو اس قابل نہ تھا، نعت ہے نا حضرت کی، میں تو اس قابل نہ تھا۔ تو صحیح بات یہ ہے کہ جس کو اس بات کی سمجھ نہ ہو، اس کو یہ ساری باتیں ویسے ظاہری نظر میں آئیں گی کہ یہ ویسے ہی کہہ رہا ہے۔ اپنے حال پر انسان قیاس کر لیتا ہے دوسرے کو، اپنے حال پہ۔ اور یہ واقعی بات ہے کہ انسان کو جب تک ان چیزوں کا احساس وہ نہیں ہوتا، وہ سمجھے گا یہ تو ویسے ہی کہہ رہا ہے، بھئی میں کیا بات ہے۔ تو اپنے آپ کو انسان قابل سمجھتا ہے نا۔ جو انسان اپنے آپ کو قابل سمجھتا ہے، تو وہ کیا سمجھے گا اس سے میں تو اس قابل نہ تھا، وہ تو کہے گا یہ تو ویسے ہی کہہ رہا ہے نمائش کے لیے کہہ رہا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا، جس کا یہ حال ہوتا ہے، وہ واقعتاً اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتا۔ وہ کہتا ہے مجھے اللہ تعالیٰ یہاں لے آئے، یہ تو اس کا کرم ہے، اس کا احسان ہے، میں تو اس قابل نہ تھا۔ کیا ہم لوگوں کا یہ، ہم اس قابل تھے کہ ہم یہاں پر آ جاتے، اس وقت ادھر، خانہ کعبہ تو بہت بڑی چیز ہے وہ تو ہمارے بس کی بات ہی نہیں، مطلب وہ تو ہم سوچ بھی نہیں سکتے وہ بہت بڑی جگہ ہے۔ یہاں آنے کے ہم قابل تھے؟ یہاں کے آنے کے بھی ہم قابل نہ تھے۔ قدم یہ اٹھتے نہیں، اٹھائے جاتے ہیں۔

مطلب اللہ جل شانہ جس کو بھی نوازتے ہیں، تو اس کے لیے رستہ کھول لیتے ہیں۔ اس کے لیے رستہ بنا لیتے ہیں، اس کو سمجھ عطا فرما دیتے ہیں، اس کا دل خود بخود اس طرف چل جاتا ہے۔ اب یہ اللہ کا کام ہے ہمارا کام نہیں۔ جیسے ایک بچے کے ہاتھ میں قلم دے دیا جائے، اور اس سے لکھوا دیا جائے۔ اس سے لکھوا دیا جائے، پھر اس کو کہہ دے، شاباش بیٹا تو نے بڑا اچھا لکھا۔ اب وہ بچہ کہے کہ میں نے لکھ دیا، تو کیسا ہو گا؟ اللہ پاک نے جیسے ہم سے کام کروا رہے ہیں، اس طرح اس نے، اس شخص نے اس سے لکھوا دیا۔ اصل بات یہی ہے کہ ہم لوگ کسی قابل بھی نہیں ہیں، کسی قابل بھی نہیں۔ ہم لوگ نعوذ باللہ من ذلک، اگر اپنے آپ کو کچھ سمجھیں گے، تو ایمان کو بچانا مشکل ہو جائے گا۔ اعمال تو بڑی دور کی بات ہے۔ ایمان کو بچانا مشکل ہو جائے گا، لہٰذا اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھنا چاہیے۔

تو اس میں فرمایا، کہ:

اختیاری امور میں کوتاہی کا علاج بجز ہمّت اور استعمال اختیار کے کچھ نہیں

جو اختیاری امور ہیں، اس کے اندر کوتاہی ہو جانا، اس کا علاج یہی ہے، کہ ہم لوگ صرف اور صرف بس اس بات پہ اپنی توجہ مرکوز کر لیں، کہ میں نے اپنا اختیار اس میں استعمال کرنا ہے۔ جو اللہ نے میرے ہاتھ میں جو چیز دی ہے، اس کو میں نے ویسے استعمال کرنا ہے جس طرح اللہ چاہتا ہے۔ جس طرح اللہ چاہتا ہے اسی طریقے سے اس کو استعمال کرنا چاہیے۔ تو اختیار جو دیا ہے، اور ہمت جو دی ہے، تو اس اختیار کے اندر اپنی ہمت کو استعمال کرنا چاہیے۔

اچھا عجیب بات یہ ہے کہ ہم لوگ اگر کوئی کہہ دے نا کہ افوہ یہ چیز تو ہمیں سمجھ میں نہیں آتی یہ تو ہمارے قصور ہیں ہم کیا کریں مطلب ہمیں سمجھ ہی نہیں آتی۔ سمجھ آتی ہے۔ سمجھ آتی ہے۔ قرآن پاک میں آتے ہیں، ﴿بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌ وَّلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهٗ﴾، انسان اپنے نفس سے خوب آگاہ ہے، چاہے وہ لاکھ بہانے بناتے رہیں، بہت بہانے بناتے رہیں۔ اصل میں وہ اپنے آپ سے آگاہ ہے، اور پتہ ہے اس کو۔ دنیا کے معاملے میں کیا ہم یہ چیز نہیں جانتے؟ دنیا کے معاملے میں بچہ جب سکول جاتا ہے اس کے لیے والدین کتنی کوشش کرتے ہیں کہ سکول سے رہ نہ جائے۔ کیوں؟ اس کے اختیار میں ہے، اپنے اختیار کو استعمال کرتا ہے یا نہیں کرتا؟ جہاں کہیں ہمارے دنیا کے مفاد کی تھوڑی سی چیز ہو۔ اس کے لیے ہم کتنی کوشش کرتے ہیں، وہ کوشش بھی کرتے ہیں جس کوشش کے ہم مکلف نہیں ہیں۔ جس کوشش کے ہم مکلف نہیں ہیں وہ کوشش بھی ہم کرتے ہیں۔ وہاں پر کہاں جاتا ہے وہ ہمارا یہ بات، کہ بھئی دیکھیں ہمیں تو سمجھ نہیں آتی، بس کیا ہے، کیا کریں جی؟ ہمیں سمجھ نہیں آتی۔ وہاں سمجھ آتی ہے یا نہیں آتی؟

تو دنیا میں سمجھ آتی ہے دین میں سمجھ نہیں آتی تو یہ شیطان کا چکر ہے۔ شیطان کا چکر ہے۔ حالانکہ دیکھو ﴿وَمَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا﴾، قرآن میں کہتے ہیں کہ کوئی بھی چوپایہ زمین پر ایسا نہیں ہے جس کا ذمہ اللہ پاک نے اس کے رزق کا نہیں لیا ہو۔ لیکن وہاں پر ہم کیا کرتے ہیں؟ وہاں تو ایک ایک دانے کے اوپر محنت کرتے ہیں۔ وہاں پر تو ایک ایک دانے پہ محنت کرتے ہیں۔ لیکن دین کے معاملے میں فرمایا، ﴿لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى﴾، انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کے لیے وہ کوشش کر لے۔ وہ اب بتائیں ﴿وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا﴾، اب دین کے لیے تو کوشش کا میدان ہے، وہاں پر کہتے ہیں ہمارا خود بخود سب کام ہو جائے۔ دنیا کے اندر اللہ جل شانہ نے تسلی دی ہے وہاں کہتے ہیں یہ تو ویسے ہی تسلی ہے۔ سب کچھ تو ہم نے خود ہی کرنا ہے۔ تو الٹی منطق ہے یا نہیں ہے؟ تو جب دنیا کے اندر ہم سب کچھ جانتے ہیں تو سمجھ میں آنا چاہیے کہ اصل میں ہماری عقل ہم غلط استعمال ہم کر رہے ہیں۔ ورنہ یہاں پر بھی، دین کے معاملے میں بھی ہمیں کوشش کرنی، کم از کم اتنی کوشش تو کر لو نا، جتنی کوشش دنیا کے لیے کرتے ہو۔

حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کے کمرے میں ایک کتبہ لگا ہوا تھا۔ اس میں یہ لکھا تھا کہ دنیا کے لیے اتنی محنت کر لو جتنا یہاں رہنا ہے۔ اور آخرت کے لیے اتنی محنت کر لو جتنا وہاں رہنا ہے، اب بتاؤ۔ تھوڑا سا اگر یہ بات سمجھ آ جائے پھر کیا کریں گے ہم؟ خدا کی نافرمانی ایسی جگہ کرو جہاں وہ تجھے نہ دیکھے۔ لکھا تھا، خدا کی نافرمانی وہاں کر لو جہاں وہ تجھے نہ دیکھے۔ اور اتنا گناہ کر لو جتنے کا عذاب سہہ سکتے ہو۔ یہ بھی لکھا تھا۔ اتنا گناہ کر لو جتنے کا عذاب سہہ سکتے ہو۔ یہ والی بات ہے۔

اب اگر ٹریفک والے ہم سے کہہ دیں تو اچھی طرح سمجھ میں آئے گی۔ اتنی ٹریفک کی خلاف ورزی کر لو جتنے پیسے تمہارے پاس ہیں جرمانے کے۔ سمجھ میں آئے گی یا نہیں آئے گی؟ اگر وہ ہمیں کہہ دے اگر کوئی ہمارا جاننے والا ٹریفک والا ہو۔ اور وہ ہمیں راز داری کے ساتھ بتا دے ہمارے کندھے کے اوپر ہاتھ رکھ کر کہ دیکھو، اتنی خلاف ورزی کرو ٹریفک کی، جتنے پیسے جرمانے کے ادا کرنے کے آپ کی جیب میں ہیں۔ تو سمجھ میں، بات آئے گی یا نہیں آئے گی؟ بالکل یہی بات ہے، اتنا گناہ کر لو جتنے کا عذاب سہنے کی تجھے طاقت ہے۔ کہاں پر طاقت ہے؟ صرف یہ بات ہے کہ وہ ٹھیک ہے جی چل جا بیٹا سولی پہ رام بھلی کرے گا۔ وہ والی بات ہے کہ بس ٹھیک ہے جی بعد میں دیکھا جائے گا۔ بعد میں دیکھا جائے گا ایسی کوئی بات نہیں، یہ بعد والی بات پکی اور یقینی بات ہے۔ پکی اور یقینی بات ہے۔ لہٰذا اس کے لیے ہمیں تیاری کرنی چاہیے۔

اختیاری امور میں کوتاہی کا علاج بجز ہمّت اور استعمال اختیار کے کچھ نہیں

اللہ جل شانہ نے جو ہمیں اختیار دیا ہے، تو اب اس اختیار کو استعمال کرنا ہمارا فرضِ منصبی ہے۔ اس کے بعد نتیجہ، یہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اس سے ہم ہاتھ کھڑے کر دیں گے۔ وہ چیز نہیں، وہ اللہ کا کام ہے۔ اللہ کے کام کو ہم اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتے، یہ ہمارا کام ہے ہی نہیں۔ ہماری خانقاہوں، اور ایسی جگہوں پہ جہاں پر دین کی بات ہوتی ہے، جہاں دنیا آ چکی ہوتی ہے۔ وہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ بس آپ کو سب کچھ مل جائے گا یہاں پر۔ یہ جھوٹی تسلی ہے۔ کون دے سکتا ہے؟ کوئی دے سکتا ہے؟ دے گا تو اللہ دے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے قانون کے مطابق دے گا۔ ہمارے قانون کے مطابق نہیں دے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے قانون کے مطابق دے گا۔ تو جو خانقاہ، جو مسجد، جو مدرسہ، اللہ جل شانہ کے اس قانون کے مطابق چلے گا، ان کو تو ہو گا فائدہ۔ اور جو نہیں چلے گا، تو ظاہر ہے ان کا ہو گا نقصان۔

تو یہاں پر بھی بات ہے کہ اگر ہم آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ بس وہ سب کچھ آپ کو دے دیں گے کوئی بات نہیں۔ طفل تسلی ہے۔ اس پہ یقین نہیں کیا جاتا۔ لیکن اگر ہم کہیں گے، جو ہمیں بزرگوں نے بتایا ہے اس طرح ہم آپ کو بتا رہے ہیں۔ جس طرح بزرگوں نے کیا اس طرح ہمیں کرنا چاہیے۔ اگر آپ اس طرح کریں گے تو جس طرح اللہ نے بزرگوں کو دیا آپ کو بھی دے دیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے وہ دے دیں گے، وہ ظاہر ہے وہ تو کبھی بھی کسی چیز کو ضائع نہیں فرماتے۔ یہ بات ٹھیک ہو گی یا نہیں؟ یہ بات ٹھیک ہو گی نا؟ اب یہی ہے جھوٹی تسلی سے اپنے آپ کو بچانا۔ جھوٹی تسلی سے۔

عموماً لوگوں کا خیال یہ ہوتا ہے کہ کوئی نظر کام کر جائے گی اور سارے کام ہمارے خود بخود ہو جائیں گے۔ ایسی بات نہیں ہے۔ نظر ہوتی ہے، لیکن نظر کے پیچھے کچھ ہوتا ہے۔ وہ چیز نہ ہو تو پھر نظر بھی نہیں چلتی۔ بلکہ نظر نہیں کروائی جاتی۔ پہلے base بنایا جاتا ہے پھر اس کے بعد وہ چیز آتی ہے، اترتی ہے اس کے اوپر۔ دیکھیں نا وہ نظر جو ہے، یوں سمجھ لیجیے کہ اللہ جل شانہ کی ایک خاص تجلی ہوتی ہے۔ جو ذریعے سے کروائی جاتی ہے۔ تو وہ تجلی دیکھیں نا اگر کوئی شہزادہ آ رہا ہو تو اس کی طرح ایک منصب وغیرہ سجایا جاتا ہے یا نہیں سجایا جاتا؟ آپ شہزادے کو کیا جھونپڑی میں لائیں گے؟ اس کے لیے کیا کریں گے؟ اس کے لیے آپ اس کے شایانِ شان بندوبست تو کریں گے نا۔ اب وہ بندوبست کرنا آپ کا کام، پھر شہزادہ آئے گا تو شہزادے کے ساتھ جو چیزیں ہوں گی وہ ساتھ آ جائیں گی۔ تو اس تجلی کو بنا دیں آپ شہزادہ۔ ٹھیک ہے نا؟ اس کے لیے سٹیج سجا دو، یہ آپ کے اعمال۔ آپ کے اعمال، افعال، یہ وہ حالات ٹھیک کرنا، یہ اس کے لیے سٹیج ہے۔ جب وہ سٹیج تیار ہو جائے گا وہ تجلی خود بخود اپنے وقت پہ آ جائے گی۔ اپنے وقت پہ خود بخود آ جائے گی۔ یہ اس کا کرم ہے کس وقت وہ تشریف لاتے ہیں۔ تو یہ اس کا کرم ہے یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ لیکن تم تو بناؤ نا اپنا کام۔ تم تو کرو اپنا کام۔ پھر دیکھو اس کا انعام۔ اصل بات یہی ہے۔

ایک بڑے میاں آتے ہیں۔ وہ طواف کر رہے ہوتے ہیں۔ طواف میں ایک آواز آئی، نہ تیرا طواف قبول نہ تیرا لَبَّيْكَ۔ وہ آواز اس کے پیچھے ایک نوجوان آ رہے تھے اس نے بھی سن لی۔ اس نے سنی تو اس نے کہا بابا آپ نے یہ آواز سنی؟ کہتے ہیں اچھا آپ نے بھی کچھ سنا ہے؟ کہتے ہیں ہاں، کیا سنا ہے؟ میں نے تو یہ سنا ہے۔ کہتا ہے بیٹا میں کیا کروں میں تو ساٹھ سال سے سنتا رہا ہوں۔ اس نے کہا بابا جی آپ پھر بھی ادھر آتے ہیں؟ تو اس نے کہا بیٹا میں کدھر جاؤں پھر؟ اور کوئی در ہو تو بتاؤ۔ اس کے علاوہ اور کوئی در ہو تو بتاؤ۔ وہ اس نے کچھ اس انداز سے کہا کہ وہ تجلی کا وقت آ گیا۔ وہ جو تجلی کا وقت تھا وہ آ گیا۔ اوپر سے آواز آئی، پہلے والا بھی قبول، موجودہ بھی قبول۔ جتنا کیا تھا وہ سارے کا سارا قبول، اور موجودہ بھی قبول۔ وہ سارا مجاہدے کے اندر چلا گیا۔

یہ ہے اللہ تعالیٰ کا فضل کہ تجلی جب ہوتی ہے، وہ آ جاتی ہے اپنے وقت پہ۔ اس کے لیے سٹیج بناؤ، اور سٹیج بنے گا اختیاری اعمال سے۔ سٹیج بنے گا اختیاری اعمال سے۔ اختیاری اعمال کے اندر جان ڈالو۔ اس کے اندر ہمت کرو، کوشش کر لو۔ پھر دیکھو، اللہ کی طرف سے کس وقت کیا ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں، اگر پوری عمر ہم سٹیج بناتے رہیں پوری عمر۔ اور بظاہر کچھ بھی نہیں ملتا ہوا نظر آ رہا ہو۔ بظاہر کچھ بھی ملتا ہوا نظر نہ آ رہا ہو۔ لیکن ہو آپ کو اطمینان کہ آپ راستے پہ ٹھیک ہیں۔ ٹھیک راستے پر ہیں، اتنا اطمینان تو کرنا چاہیے۔ یہ نہیں کہ کسی فراڈی کے پیچھے چلنا شروع کر لو۔ مطلب یہ ہے کہ راستہ آپ کا ٹھیک ہو، طریقہ آپ کا ٹھیک ہو۔ اور آپ ہمت سے کام کر رہے ہوں، کام کرتا ہوا آپ نظر آ رہے ہوں۔ نتیجہ آپ کو نہیں مل رہا ہو۔ مطلب یوں سمجھ لیجیے کہ مسلسل آپ کا مجاہدہ جاری ہو۔ عین موت سے چند لمحے پہلے نتیجہ ظاہر ہو گیا۔ آپ کا کام تو ہو گیا۔ بلکہ وہ کام باقی لوگوں سے زیادہ ہو گیا۔ کیسے باقی لوگوں سے زیادہ ہوا؟ باقی لوگوں کو تو کچھ اس دنیا میں مل گیا۔ باقی لوگوں کو تو کچھ اس دنیا میں مل گیا۔ لہٰذا ان کا اتنا الاؤنس تو کاٹ دیا گیا۔ کیوں کہ دنیا میں مل گیا نا کچھ۔ ان کا اتنا الاؤنس تو کاٹ دیا گیا۔ اور اس کو مل گیا سارے کا سارا۔

یہ بالکل ایسی مثال ہے کہ جیسے سروس کر رہے ہو۔ اور اس کی تنخواہ شروع نہیں ہوئی ہو۔ اس کی تنخواہ شروع نہیں ہوئی ہو۔ اب وہ کام کیے جاتا ہے، کیے جاتا ہے، تنخواہ مل نہیں رہی، پریشان بیچارہ۔ ادھر ادھر سے مانگ تانگ کے گزارا کر رہا ہے۔ اور اس طریقے سے ہو رہا ہے۔ لیکن بہرحال یہ کوشش جاری ہے، امید ہے کہ مل جائے گی۔ لیکن اس بات کا بھی خطرہ ہے کہ شاید نہ ملے۔ اس طریقے سے وہ کام کر رہا ہے۔ اب اس کو دس سال کے بعد وہ تنخواہ اس کی ساری کی ساری، جو منظور ہو گئی، پیچھے گزشتہ کی گزشتہ، وہ سارے کا سارا مل گیا۔ مجھے بتاؤ وہ اچھا رہا یا جن کو ساتھ ساتھ ملتا رہا؟ تکلیف تو اس میں تھی، لیکن اس کو پورے کا پورا اکٹھا مل گیا۔ اس کی سیونگ بھی ہو گئی۔ کیوں کہ سیونگ جو ہے وہ تو ویسے نہ کر سکتا۔ اگر اس کو بھی ساتھ ساتھ ملتا تو کہاں سیونگ کر سکتا؟ یہ تو دنیا کا قانون ہے۔

دنیا کے قانون میں تو چلو پورا جتنا کٹا تھا، وہ مل گیا۔ لیکن اللہ کا قانون جب وہ مجاہدہ خود ڈالتا ہے اور اس مجاہدے میں کوئی کامیاب ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ایک multiplication factor ہوتا ہے۔ جو کم سے کم دس ہے۔ جو کم سے کم دس ہے۔ اب مجھے بتاؤ دس گنا تو کم از کم ملے گا اور پتا نہیں کتنا مل جائے۔ کسی کا اخلاص زیادہ ہو تو ہزار ہو، کسی کا لاکھ ہو، کسی کا کروڑ ہو، کسی کا ارب ہو، پتا نہیں کتنا مل جائے۔ تو فائدہ ہوا یا نہیں ہوا؟ اس وجہ سے جو لوگ، کچھ نہیں ملتا نظر آتا جن لوگوں کو۔ لیکن کام کیے جائیں، وہ زیادہ خوش نصیب ہیں۔ اور زیادہ محفوظ ہیں۔ زیادہ محفوظ ہیں۔ بزرگی کا مرض ان کو ہی آتا ہے کہ تھوڑی بہت غیر اختیاری چیزیں ان کو نظر آتی ہوئی لگ جائیں۔ تو وہ بزرگی کا مرض لگ جاتا ہے انسان کو۔ اور بزرگی کا مرض گھن کی طرح مرض ہے، انسان کو تباہ کر دیتا ہے۔ یہ انسان کو لگ جاتا ہے۔

تو بہرحال میں عرض کر رہا تھا کہ

اختیاری امور میں کوتاہی کا علاج بجز ہمّت اور استعمال اختیار کے کچھ نہیں اسی پر مدار ہے تمام اصلاحات کا۔۔۔

تمام تمام جو اصلاح ہو گی، وہ کس طریقے سے ہو گی؟ وہ صرف اور صرف اسی چیز سے ہو گی، اختیاری امور میں کوتاہی نہ کرو۔ اختیاری امور کے اندر ہمت کرو، کوشش کر لو۔ جیسے کہا جائے، اسی طریقے سے کرو۔ فرمایا اگر ایسا نہیں اور

یہی ہے اصل علاج تمام کوتاہیوں کا، سارے افعال شرعیہ اختیاری ہیں ورنہ نصوص کی تکذیب لازم آتی ہے

بیشک نماز بھاری چیز ہے۔ مشکل چیز ہے، آسان نہیں ہے اس کا پڑھنا، وقت کی پابندی، مسلسل۔ دیکھیں نا، ایک وزن ہے آپ اٹھاتے ہیں بیس کلو ایک وقت میں۔ مشکل ہے، لیکن اتنا مشکل نہیں، آپ نے اٹھا لیا اور رکھ لیا۔ پانچ کلو وزن ہے، وہ آپ پانچ میل لے جاتے ہیں۔ کون سا مشکل ہے؟ وہ بیس کلو وزن اٹھانا مشکل ہے جو دوبارہ آپ رکھ لیں یا پانچ کلو مسلسل پانچ میل تک لے جانا مشکل ہے؟ ہاں وہ مشکل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دیکھیں، یہ مسلسل آپ ایک عمل کیے جا رہے ہیں روزانہ، روزانہ کے حساب سے پانچ نمازیں آپ نے پڑھنی ہیں۔ چاہے آپ خوش ہوں، چاہے آپ خوش نہ ہوں۔ چاہے بارش ہو، چاہے مشکل ہو، چاہے آسانی ہو۔ آپ نے نماز پڑھنی ہے، ہر حالت میں پڑھنی ہے، اہتمام کے ساتھ پڑھنی ہے۔ کپڑے بھی صاف رکھنے ہیں۔ جگہ بھی پاک ہونی چاہیے، وقت کے اندر پڑھنی چاہیے۔ اور قبلہ رخ بھی ہونا چاہیے، ساری پابندیاں، شرائط آپ کو پوری کرنی ہیں۔

﴿وَاِنَّهَا لَكَبِيْرَةٌ﴾۔ اللہ پاک خود فرماتے ہیں کہ نماز بھاری چیز ہے۔ ہے بھاری چیز، لیکن کہتے ہیں، اِلَّا، اِلَّا، اِلَّا کا مطلب اب استثناء ہے۔ کچھ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ کون سے لوگ مستثنیٰ ہیں؟ ﴿اِلَّا عَلَى الْخَاشِعِيْنَ ۙ الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ﴾ وہ جو خشوع رکھنے والے، جو عاجزی کرنے والے لوگ ہیں، ہاں عاجزی کرنے والے لوگ ہیں اور کیا ہے؟ ان کو گمان ہے، ﴿الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ﴾ ان کو گمان ہے ﴿اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ﴾ کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ ملاقات کرنی ہے۔ ﴿وَاَنَّهُمْ اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ﴾ اور ان کو اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے۔ یہ جس کے ذہن میں سما جائے اس کے لیے نماز مشکل نہیں ہے۔ اس کے لیے نماز مشکل نہیں ہے، نماز اس کے لیے آسان ہو گئی، اس مراقبے کے ساتھ آسان ہو گئی، اس تصور کے ساتھ آسان ہو گئی کہ میں نے ایک جگہ جانا ہے، جہاں اس کی پوچھ ہو گی۔

روز محشر کہ جاں گداز بود
اولیں پرسش نماز بود

ہاں روز محشر جو ہے، بہت ہی مشکل میں ڈالنے والے وہ ہے، وہاں پر سب سے پہلی پوچھ کس کی ہو گی؟ نماز کی ہو گی۔ نماز کو ٹھیک پایا جائے گا، باقی ساری چیزیں ٹھیک ہو جائیں گی۔ لہٰذا جب اس قسم کی بات ہے، اس کے لیے پھر نماز پڑھنا مشکل نہیں ہو گا۔ تو یہی والی بات ہے کہ ہم لوگوں کو اپنے اختیاری امور کے اندر کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ صحیح ہے؟ لیکن، لیکن اس کے لیے یہ سوچ لازمی ہے کہ اس کا حساب ہو گا۔ اس کا حساب ہو گا۔

دیکھیں دو طرح کی چیزیں ہیں، ایک تو یہ چیز ہے کہ آپ ایک کام کریں، آپ کو اس پر انعام ملنے کی امید ہے، نہ کریں تو انعام نہیں ہے۔ اتنی بات ہے۔ جس کو ہم optional کہتے ہیں۔ آپ نے کر لیا، انعام۔ نہیں کیا تو انعام نہیں ملا۔ یہ امور مستحبات ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ یہ امورِ مستحبات ہیں، کر لیا آپ کو بہت انعام مل جائے گا، تہجد کی نماز پڑھ لی، ماشاء اللہ، بڑا آپ کو مقام مل جائے گا۔ اور نہیں کیا تو نہیں ملے گا۔ لیکن کچھ ایسے کام ہوتے ہیں، کیا، انعام ملے گا، نہیں کیا، پھر پٹخنی ہو گی۔ پٹائی ہو گی، سزا ہو گی۔ وہ والی بات، ڈیوٹی آپ نے کی۔ آپ نے اپنا وقت بیچ دیا۔آپ کو جو کوئی نوکری دیتا ہے آپ نے اس کو اپنا وقت بیچ دیا۔ اب کیا ہے، اگر آپ نے ڈیوٹی اپنے صحیح طریقے سے کی، تو آپ کو مل جائے گا انعام۔ نہیں کی، سزا بھی ہو سکتی ہے۔ کیوں نہیں کی؟ نوکری سے نکالا جا سکتا ہے۔ نوکری سے نکالا جا سکتا ہے۔ اب یہ والی بات یہ ہے کہ سزا اور جزا، دونوں ساتھ ساتھ چلیں گی۔ تو جو ڈیوٹی ہے، فرض ہے، اس میں پھر یہ والی بات ہے کہ، کی تو آپ کو فائدہ، نہیں تو بڑا نقصان۔

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ہمیں باقاعدہ ہمیں educate کیا ہے۔ جیسے ڈاکٹر ایک مریض کو educate کرتا ہے نا کہ یہ چیز نہ کھاؤ، اس کے ساتھ آپ کو یہ نقصان ہو جائے گا۔ خبردار جو اس چیز کے قریب پہنچے، یہ آپ کے لیے زہر ہے۔ وہ اس طرح educate کرتا ہے نا اچھا ڈاکٹر جو ہوتا ہے۔ جو صرف پیسے لینے والا ہے اس کی میں بات نہیں کر رہا۔ کیونکہ ان کو تو پیسوں سے غرض ہے، کوئی مرے کوئی جیے اس کو اس سے کیا، وہ سرسری طور پہ کہہ دے گا کہ یہ چیز کھانی چاہیے یہ چیز نہیں کھانی چاہیے۔ اس کا دل ان کے ساتھ involve نہیں ہو گا۔ لیکن جو صحیح ڈاکٹر ہو گا وہ آپ کو educate کرے گا بھئی یہ نہیں کرنا، یہ نہیں کرنا، یہ کرنا ہے، یہ کرنا ہے اور attendants کو بھی بتائے گا دیکھیں یہ دوائی آپ نے فلاں فلاں وقت کھلانی ہے۔ نہیں کھلاؤ گے تو پھر اس میں یہ ہو جائے گا۔ یہ ساری باتیں اس وقت سامنے آتی ہیں۔

تو بہرحال میں عرض کر رہا تھا، کہ جو ہماری ڈیوٹیاں ہیں، فرائض ہیں، یہ فرائض ہیں۔ ان کے بارے میں پوچھ ہو گی۔ تو نماز بھی ایسی چیز ہے، روزہ بھی ایسی چیز ہے، زکوٰۃ بھی ایسی چیز ہے، حج بھی ایسی چیز ہے اور ہمارے جو معاملات کی، جو لین دین کی باتیں ہیں اس میں جو بھی فرائض ہیں وہ بھی اپنے اس لحاظ سے ضروری ہیں، تو ان کے بارے میں پوچھ ہو گی۔ اور اگر پورا نہیں ہو گا، تو نقصان ہو گا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ہمیں ایسی چیزوں سے ڈرایا ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشیر بھی تھے نذیر بھی تھے۔ بشارت بھی دیتے تھے اور ساتھ ساتھ ڈراتے بھی تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں ہمیں ڈرایا کہ جس کی ایک نماز ضائع ہو گئی، تو گویا کہ اس کے، جان اور مال سارا کا سب تباہ ہو گیا، ایسی حالت ہے۔ ایک حدیث شریف میں نے پڑھی، اس میں فرمایا کہ اگر ایک شخص کے سر کے اندر ایک کیل ٹھونکی جائے تو یہ اس کا کم نقصان ہے بمقابلہ اس کے کہ اس کے تلوے کو کسی غیر محرم عورت کا ہاتھ لگ جائے۔ یہ مثالیں دیتے ہیں۔ مثالیں دیتے ہیں تاکہ سمجھ آ جائے، کیونکہ ان چیزوں کی ہمیں سمجھ ہے۔ ان چیزوں کی ہمیں سمجھ ہے، تو اس reference سے مثالیں دیتے ہیں جس سے ہمیں سمجھ آ جائے۔ مطلب گویا کہ غیر محرم کے ساتھ تعلق جو ہے، وہ اتنا خطرناک ہے کہ جیسے یہ تو دنیا کا نقصان ہے یہ تو تھوڑا سا نقصان ہے، وہ تو بہت خطرناک نقصان ہے۔ بہت خطرناک نقصان ہے۔

تو یہی والی بات عرض کر رہا ہوں کہ کوتاہیوں کا بھی جو علاج ہے وہ بھی اسی میں ہے، اپنے اختیار کو استعمال کرنا۔ ایک آدمی کہتا ہے میری نگاہ اٹھتی ہے، کیا کروں، نیچے نہیں ہو سکتی۔ پتا چل جائے گا۔ اگر نہیں اترے گی اختیار سے، تو پھر کسی اور طریقے سے ہو گا۔ وہ والی بات پھر بعد میں آئے گی۔ اب دیکھ لیں۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دفعہ، ایک شخص نے کہا، میں کیا کروں میری نگاہیں خود اٹھ جاتی ہیں اور نیچے ہوتی نہیں ہیں۔ اس نے کہا بدبخت، یہ نہیں سوچتا ہو کہ اگر اس وقت اس کا والد دیکھ رہا ہو، پھر بھی اٹھے گی؟ یا تیرا والد دیکھ رہا ہو، پھر بھی اٹھے گی؟ تو انسان سے تو حیا ہے، خدا سے حیا نہیں ہے؟ انسان سے تو حیا ہے، خدا سے حیا نہیں ہے۔ انسان سے ڈرتے ہو، خدا سے نہیں ڈرتے؟ مطلب حضرت بھی مثالیں وہی دیتے تھے جو ہمارے روزمرہ کی ہوتی تھیں تاکہ لوگوں کو سمجھ آئے۔ ورنہ اصل بات تو یہ ہے کہ ہمیں یہ چیز ماننی چاہیے، چاہے ہمیں سمجھ آئے نہ آئے، ہمیں ماننی چاہیے، ہمیں کرنا وہی ہے جو ہمیں بتایا گیا ہے۔

ایک دفعہ حضرت۔۔۔ یہ مشکل مشکل علاج حضرت نے کیے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو، حضرت کو اجر دے۔ ایک شخص نے کہا، ظاہر ہے وہاں آتے تھے، حضرت کے مرید تھے، خط و کتابت، تو کہا کہ حضرت میں نے بہت کوشش کی، بہت سوچا، مجھے اپنے عیب نظر نہیں آتے۔ میں کیا کروں؟ گویا کہ میرے لیے غیر اختیاری ہے۔ مجھے اپنے عیوب نظر نہیں آتے۔ تو حضرت نے فرمایا کہ اب اگر تجھے عیوب نظر نہیں آتے تو تم لاعلاج ہو، کیونکہ عیوب کا نظر آنا ہی علاج کے لیے ضروری ہے۔ تو اب چونکہ تجھے عیب نظر ہی نہیں آ رہا لہٰذا تم لاعلاج ہو اور میرے پاس آپ کا کوئی علاج نہیں ہے، آپ جا سکتے ہیں۔ اس طرح تو اس کو رخصت کر دیا لیکن جاتے جاتے اس کو ایک نصیحت کی۔ کہا کم بخت، کبھی اتنا سوچا ہے کہ تم اللہ کے سامنے کھڑے ہو اور تیرے اعمال اللہ کے سامنے پیش ہو رہے ہیں، ذرا اس پہ نگاہ ڈالو کہ آپ کا کون سا عمل ایسا ہے جو خدا کے سامنے پیش ہونے کے قابل ہے۔ اتنا تو کم از کم سوچو۔ یہ کبھی تو نے سوچا ہے؟ اور اس کو رخصت کر دیا اور اس سے کہا مجھے خط نہ لکھنا۔ حضرت کی بہت سخت سزا یہی ہوتی تھی کہ فرماتے کہ مجھے خط نہ لکھنا۔

خیر کافی عرصہ درمیان میں گزر گیا۔ پھر وہ شخص آیا اور انہوں نے کہا کہ حضرت اگر اجازت ہو تو میں عرض کروں۔ تو حضرت نے اجازت دی، فرمایا کہ آپ کی اس تنبیہ کا بہت فائدہ ہوا۔ اور پھر میں نے غور کیا تو مجھے تو کوئی عمل بھی ایسا نظر نہیں آیا جو میں اللہ کے سامنے پیش کر سکتا ہوں۔ اب مجھے تو ہر عمل کے اندر عیوب ہی عیوب نظر آتے ہیں۔ مجھے تو کوئی عمل ایسا نظر نہیں آتا جس کے اندر عیب نہ ہو۔ میرے دل کی مثال ایسی ہے جیسے کہ ایک منقش صندوق ہو جس کی طرف دیکھ کر انسان کا جی چاہے کہ اس کے اندر تو پتہ نہیں کیا کیا ہو گا۔ بہت خوشی کے ساتھ اس کو کھولتا ہے اور جب اس کو کھول کے دیکھتا ہے تو اس کے اندر گند ہی گند بھرا ہوا ہے۔ بس میری حالت تو یہ ہے۔

پھر حضرت نے تسلی دی، فرمایا کہ اب ماشاء اللہ، یہ جو گند صندوق کے اندر پڑا ہوا ہے لیکن تجھے نظر آ گیا، اب یہ بنے گا کھاد۔ اب یہ بنے گا کھاد اور اب اس سے جو آپ اعمال کریں گے، اس سے پھل و پھول کھلیں گے، ان شاء اللہ۔ اب علاج کے لیے میں حاضر ہوں، آپ ان تمام چیزوں کو لکھیں جو آپ کو نظر آ رہے ہیں تاکہ ایک ایک کر کے سب کا علاج کیا جائے۔ کیسے طریقے سے علاج کیا۔ ایک ایسا شخص جس کو عیوب ہی نظر نہیں آ رہے تھے۔ لیکن دیکھیں، وہ کیسے عیوب اس کو نظر آ گئے۔

یہی بات ہے عظمت کی بات ہوتی ہے۔ آپ ہر ایک کے ساتھ ہنس ہنس کے بات کرتے ہیں۔ لیکن boss کے سامنے جاتے ہوئے، فائل آپ کے ہاتھ میں ہے، پریشان ہیں، پتہ نہیں کون سی چیز نہ پکڑے، یہ نہ پکڑے، یہ نہ پکڑے، یہ نہ پکڑے۔ تو آپ کے ساتھ فائل ہے اور اندر جاتے ہوئے ہاتھ تھر تھر کانپ رہے ہیں۔ کیا وجہ؟ boss کی عظمت ہے۔ احساس ہے کہ وہ تو پکڑ سکتا ہے، اس کو اختیار ہے۔ بلکہ بعض دفعہ تو، آخر انسان بھی boss ہے۔ انسان تو کمزور ہے۔ تو آپ کی اچھی چیز کو بھی غلط کہہ سکتا ہے۔ آپ نے ایک اچھا کام کیا وہ کہتا ہے نہیں یہ تو تو نے ٹھیک نہیں کیا۔ اب بے شک آپ اس کے ساتھ بحث نہیں کر سکتے، کہتے ہیں ٹھیک ہے sir۔ ٹھیک ہے sir۔ وہ کہنا پڑتا ہے۔

army میں تو یہ چیز بہت زیادہ ہے نا۔ وہ line authority ہوتی ہے۔ تو وہاں ان کو گویا کہ یہ عملاً educate کیا جاتا ہے۔ ایک ہوتا ہے theoretical، کتاب میں بتانا۔ کتاب میں بتانے کی... army میں کتاب نہیں چلتی۔ army میں عملاً educate کر دیا جاتا ہے کہ جو boss کہے وہ ٹھیک ہے۔ Yes sir۔ Yes sir۔ وہ ایک دفعہ ہم کسی army institute میں تھے۔ تو وہ brigadier، brigadier موجود تھے۔ تو وہ اس طرح تھا کہ وہ کسی committee کی تشکیل ہو رہی تھی۔ تو اس میں ایک colonel کا نام propose ہوا۔ تو lieutenant colonel جو اس کے subordinate تھے۔ تو جیسے وہ اس colonel کا نام propose ہوا تو اس نے اتنی جلدی ہاتھ اٹھایا، I second، I second، اس طرح جلدی سے ہاتھ اٹھایا کہ اس کرنل کو بھی ہنسی آ گئی۔ کہ نہیں خوشامدی پن جو ہوتا ہے نا بندہ بالکل گھل جاتا ہے نا۔ تو مطلب اس کرنل کو بھی ہنسی آ گئی حالانکہ اس کے favor میں ہو رہا تھا۔ یہاں پر کیوں ہوتا ہے ایسا؟ ہے نا بات عظمت کی بات ہے۔ احساس کی بات ہے۔ پھر انسان کو یہ چیزیں معلوم ہوتی ہیں۔

اب اللہ پاک کی عظمت دل میں ہے نہیں۔ یہ احساس ہے نہیں کہ اللہ پاک تو ہمارے آن کی آن میں ساری چھٹی کر سکتا ہے۔ کچھ بھی جو ہمارے پاس ہے کچھ بھی نہیں رہے گا۔ کچھ بھی نہیں رہے گا۔ اب ایسی صورت میں ہم کیا کر سکتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ؟ اللہ تعالیٰ کے سامنے تو بس انسان جتنا مردہ بنا رہے اتنا ہی اچھا ہے۔ کیونکہ وہاں تو پر مارنے کی جگہ نہیں ہے۔ کوئی گنجائش ہی نہیں ہے درمیان میں کچھ بھی احساسات۔ وہ اللہ تعالیٰ اس کو تمام احساسات کو جانتا ہے۔ باقی چیزوں کو تو چھوڑیں جو اوپر کاغذ میں لکھا ہوا ہے وہ تو ایک الگ چیز ہے۔ اللہ جل شانہ تو ابھی دل میں خیال پیدا نہیں ہوا اس کو جانتا ہے۔ اس کے ساتھ آپ کیا کریں گے؟ جب یہ ایسی صورتحال ہے تو اس وقت انسان کے کیسے حالات ہونے چاہئیں؟

یہ تو اللہ تعالیٰ کریم ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو جو اللہ سے ڈرتے ہیں ان کو کوئی کیفیت ان کے ساتھ اپنی طرف سے ایسی عطا فرما دیتے ہیں جس سے وہ اس کو برداشت کر لیتا ہے۔ وہ ایک دفعہ ایک ولی اللہ تھے۔ ایک بادشاہ ان کے پاس جاتے تھے۔ اس ولی اللہ نے اس کو وہ ایک پڑیا دی۔ تو پڑیا اس نے استعمال کی تو اس کی جتنی بھی بیویاں اور وہ تھیں لونڈیاں۔ سب کے ساتھ اس کو یعنی مطلب ہو گیا۔ اس میں طاقت۔ تو وہ اس کے دل میں خیال آیا کہ دیکھو اس نے مجھے ایک پڑیا دی تو اس کا یہ حال ہے تو اس کا خود کیا حال ہو گا؟ مطلب یہ تو بہت خطرناک آدمی ہو گا کہ مطلب دیکھیں مجھے ایک مجھے تو سہولت تھی۔ مطلب provision تھی۔ اس کو تو provision بھی نہیں ہے تو یہ کیا کیسے زندگی گزارے گا؟ یہ تو بڑا خطرناک آدمی ہو گا۔ بس اس کے دل میں وسوسہ آیا۔ وسوسہ آیا تو وسوسے پہ اللہ تعالیٰ نے اس کو مطلع کر دیا اللہ والے کو۔

جب یہ اگلی دفعہ گیا تو اس نے کہا کہ بادشاہ آپ سے معافی چاہتا ہوں ایک ایسی بات بتا رہا ہوں جو کہ مجھے بتانی نہیں چاہیے تھی۔ لیکن مجبوری ہے آپ کو بتانا چاہیے تاکہ آپ کو اس میں فائدہ ہے۔ آپ نے تو میری قوت کا اندازہ لگا لیا نا؟ قوت یعنی ادراک کا اندازہ تو آپ نے لگا لیا، کہتے کہ ہاں۔ تو اب اپنی قوتِ ادراک سے آپ کو کہتا ہوں کہ آپ کی زندگی صرف چالیس دن باقی ہے۔ تو جو کچھ آپ نے اس میں کرنا ہے تو کر لیں۔ آپ کے پاس مزے تو بہت ہیں۔ جتنے مزے اس میں کر سکتے ہیں تو کر لو۔ چالیس دن آپ کی زندگی باقی ہے۔

اب بادشاہ تو دیکھ چکا تھا کہ بھئی یہ تو اس قسم کا آدمی ہے جس کی یہ حالت ہے۔ ایک پڑیا سے یہ ہوتا ہے تو ساری باتیں ان کے اوپر کھلتی ہیں۔ تو یہ تو بہت صاحبِ ادراک آدمی ہے۔ تو اس پر انہوں نے بس وہ مان لیا۔ اب اس کا دل بیٹھنا شروع ہو گیا کہ چالیس دن ابھی ہیں۔ لیکن دل ابھی سے بیٹھنا شروع ہو گیا۔ اتنا پریشان، سب چیزیں نعمتیں موجود۔ نہ کھانے میں جی لگتا ہے۔ نہ اپنی بیوی سے بات کرنے کو جی چاہتا ہے۔ نہ کسی اور سے ملنے کو جی چاہتا ہے۔ بس ایک عجیب ماتم زدہ قسم کی کیفیت وہ طاری ہو گئی۔ پورا محل سوگوار ہو گیا۔ اور اب یہ ہے کہ بس عبادات میں بیٹھے ہوئے ہیں اور اللہ اللہ کر رہے ہیں۔ ایک ایک دن کو گن رہے ہیں۔ انتالیسواں دن آ گیا۔ چالیسواں دن آ گیا۔ اب چالیسواں دن آ گیا تو بس اس نے کہا بس اب تو ان کا معاملہ یہ تو بالکل چالیس دن پر ہی ہو گا۔

تو خیر بہرحال چالیس دن والا دن جب گزر گیا اکتالیسواں آ گیا تو بڑا خوش خوش خوش خوش چلا گیا کہ یہ بات تو غلط ثابت ہو گئی۔ تو اس بزرگ کے پاس چلا گیا کہ حضرت آپ کا بتایا ہوا وقت تو گزر گیا۔ اس نے کہا اچھا؟ چلو اب بات کر لیتے ہیں۔ اب stage تیار ہو گیا۔ اب بات کر لیتے ہیں۔ چلیں بتاؤ مجھے۔ اس وقت آپ کی جو یہ حالت تھی چالیس دن میں وہ آپ نے کیسی پائی؟ مطلب کیا آپ اپنے جو مزے ہیں اس سے آپ متلذذ ہو سکے؟ آپ نے ان مزوں کو حاصل کر لیا؟ کہتے مزے کیا میں تو مرتے مرتے رہا ہوں۔ میں تو ہر وقت مرتا رہا ہوں۔ مزے کدھر کی بات ہے؟

کہتے سمجھ میں آ گئی نا یہ بات؟ کہتے ہیں ہاں۔ کہتے ہیں: بس یہی بات ہے۔ یہ اچھا ہاں اس وقت اس کو پڑیا بھی دی تھی کہ روز یہ پڑیا کھا لیا کریں۔ اس سے تو طاقت رہے گی۔ پڑیا بھی روزانہ کھاتا تھا۔ لیکن کچھ بھی نہیں۔ انہوں نے کہا آپ دیکھ لیں آپ کے تو ہو گئے صرف چالیس دن کا یہ حال ہے۔ اور اس کا نتیجہ یہ نکلا۔ اور میرا حال ہر وقت کا یہ ہے۔ مجھے ایک لمحے کا بھی پتہ نہیں کہ میں کس وقت جا رہا ہوں کہ میرا کیا حال ہو گا؟ پھر اس کے بعد اس بادشاہ نے معافی مانگ لی کہ حضرت مجھ سے بڑی غلطی ہوئی۔ میرے ذہن میں بڑی گندی بات آ گئی تھی بس مجھے معاف کر دیں۔ اس نے فرمایا ٹھیک ہے معافی ہے۔ بہرحال میں صرف آپ کو یہ چیز سمجھانا چاہتا تھا۔

تو یہ والی بات ہے۔ اگر کسی کو اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اعتراف ہو جائے، احساس ہو جائے۔ ساری باتیں سمجھ میں آ جائیں گی کسی lecture کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس وجہ سے ہم تصوف کے اندر جو lecture ہوتے ہیں اس کو اہم نہیں سمجھتے یہ بھی ایک فتنہ ہو جاتا ہے کہ تصوف کے اندر میں لیکچروں پر لوگ انحصار کرنے لگے۔ تصوف کے اندر لیکچروں پہ انحصار نہیں ہوتا۔ lecture صرف ہوتے ہیں سمجھ لانے کے لیے۔ باقی جب سمجھ آ جائے پھر اس کے بعد لیکچروں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پھر لیکچروں کی ضرورت نہیں ہوتی پھر تو کام کرنا ہوتا ہے اور وہ اپنے اس کے اس کی حیثیت کے مطابق ہی انسان کام کر رہا ہوتا ہے۔ اصل چیز کیا ہے تعلق مع اللہ ہے۔ تعلق مع اللہ حاصل ہو جائے بس اس کے اندر پھر روز بروز ترقی ہوتی رہے۔ یہ والی بات ہے تو یہ والی بات صرف ہم سمجھنے کے لیے کرنا چاہ رہے ہیں۔

فرمایا:

پس اختیار کا استعمال کرے گا تو کامیابی لازم ہے البتہ دشواری اور کلفت اول اول ضرور ہو گی۔

نفس ابھی train نہیں ہوا۔ جتنا نفس train نہیں ہے اتنا عمل مشکل ہے۔ مزاحمت ہے۔ مزاحمت ہے گھوڑا ابھی train نہیں ہوا اس کے اوپر چڑھنا مشکل۔ ہر وقت گرنے کا خوف۔ تو ابتدا میں لیکن جیسے جیسے اس کو آپ train کریں گے اتنے اتنے وہ آپ کے لیے آسان ہوتا جائے گا اس کے اوپر چڑھنا۔ اسی طریقے سے یہ والی بات ہے، ابتدا ابتدا میں تو مشکل ہو گی لوگ اسی ابتدائی مشکل سے گھبرا کر کام چھوڑ دیتے ہیں۔

لیکن ایک چیز جو تصوف کے اندر ملتی ہے اس کی بھی پھر قدر نہیں کی جاتی نا اس کے ساتھ بھی تو مسئلہ ہوتا ہے ہم تو ہر چیز کو خراب کر لیتے ہیں نا کہ جب کسی اللہ والے سے کسی کا تعلق ہو جاتا ہے اور انسان کام شروع کر لیتا ہے اس وقت ابتدا میں مٹھائی کھلائی جاتی ہے۔ یعنی اللہ جل شانہ کی جو سنت عادیہ ہے وہ یہ ہے کہ اس کے لیے گویا کہ اس کی جو نفس کی جو خواہشات ہیں اس کو اپنی طرف سے depress کر لیتے ہیں۔ جیسے بے ہوشی کا injection لگاتے ہیں operation کے وقت۔ اچھا اب depress ہو گیا انسان عمل بھی کر رہا ہے، نفس کی خواہشات بھی depress ہو گئیں، یہ آدمی سمجھتا ہے میں تو بزرگ بن گیا۔ حالانکہ یہ صرف اس کو time دینے کے لیے کہ ابھی فی الحال ابتدا میں وہ جو کلفت ہے اس کے لیے اپنے آپ کو تیار کر سکے۔ ٹھیک ہے نا، اس کے لیے ہے۔ پھر جس وقت ہر ایک کے لیے اپنی اس میعاد ہوتی ہے، کسی کے لیے چھ مہینے ہوتے ہیں، کسی کے لیے چھ ہفتے ہوتے ہیں، کسی کے لیے چھ دن ہوتا ہے، کسی کے لیے کیا، کسی کے لیے کیا۔ ہر ایک کے لیے اپنا اپنا ہوتا ہے۔

اب جب ابتدا والا دور گزر جائے یا اس کو ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسان کو ایک قسم کی بے ہوشی نفس کے لحاظ سے لائی جاتی ہے۔ جب یہ دور گزر جاتا ہے پھر وہ جو اصل جو طاقت ہے پھر دوبارہ عود کر کے آ جاتی ہے تو آدمی سمجھتا ہے افوہ یہ تو میرا سارا مجاہدہ ختم ہو گیا۔ پہلے جو بزرگی کی بات سمجھ میں آئی تھی وہ تو ساری کی ساری دھری کی دھری رہ گئی۔ آدمی سمجھتا ہے کہ میں تو پھر سے شیطان بن گیا۔ اس وقت بعض دفعہ شیخ پر بدگمانی ہو جاتی ہے۔ شیطان پھر اس سے بھی موقع لیتا ہے۔ شیخ پر بدگمانی ہو جاتی ہے، سلسلے پہ بدگمانی ہو جاتی ہے۔ اس پہ نہیں جاتے کہ بھئی ابھی تو مجھے اتنا وقت دے دیا گیا کہ اب میں اس کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لوں۔ اب میدانِ کارزار میں مجھے اتارا جانے لگا ہے اب مجھے وہی کرنا ہے جو مجھے بتایا جائے گا چاہے مجھے سمجھ آئے نہ آئے، چاہے مجھے مشکل لگے چاہے مجھے آسان، میں نے اب ہر حالت میں کرنا ہے۔ اسی کے لیے تو یہ دور دیا گیا تھا۔ اب جس کو یہ سمجھ میں آ گیا الحمد للہ وہ بچا۔

اس لیے کہ شیخ کے ساتھ بڑے رابطے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ وہ عین موقع پہ بتاتا ہے۔ جس وقت جس قسم کی چیز کے بتانے کی ضرورت ہوتی ہے اس موقع کے مطابق وہ بات بتاتا ہے۔ شیخ کے ساتھ بھی عموماً ہمارا تعلق اس طرح ہوتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری مرضی کے مطابق شیخ چلے۔ ہماری مرضی کے مطابق شیخ چلے، کس طرح چلے ایک تو ہم اپنی مرضی کے مطابق اس سے پوچھیں گے اور اس کو ہماری مرضی کے مطابق بتانا چاہیے۔ مطلب یہ ذہن کے اندر تو یہی ہوتا ہے باقی تو بہرحال ہر ایک کی اپنی اپنی بات ہے لیکن بہرحال یہ ہے کہ راستہ چلتے ہوئے، بے شک وہ نماز کے لیے جا رہا ہو ہم نے خواب سنانا شروع کر لیا۔ میں نے خواب دیکھا ہے بھئی خدا کے بندے وہ نماز کے لیے جا رہے ہیں تم نے خواب سنانا شروع کر لیا، یہ کوئی طریقہ ہے؟ اب یہ ہے کہ آپ نے وہ کہ نہیں جی مجھے جی میرا یہ حال ہے خدا کے بندے ہر چیز کا اپنا وقت ہوتا ہے کوئی طریقہ ہوتا ہے۔

بعض دفعہ ڈاکٹر لوگ جو ہوتے ہیں یہ جو بڑے سپیشلسٹ ڈاکٹر ہوتے ہیں۔ اب ان کے پاس کوئی مریض جاتا ہے تو وہ اس کو جتنا ایجوکیٹ کر سکتا ہے وہ اس کو ایجوکیٹ کر دیتا ہے۔ اس کے بعد جب وہ آتے ہیں تو تنگ ہوتے ہیں۔ پھر وہ دوسروں کے حوالے کر دیتا ہے کہتے ہیں ان کو سمجھاؤ آپ۔ کیونکہ ظاہر ہے مریض تو بیچارہ پریشان ہوتا ہے وہ تو یہ بھی پوچھتا ہے یہ اس کو پتہ ہوتا ہے کہ اس کا سارا پوچھنا فضول ہے۔ اصل باتیں میں بتا چکا ہوں۔ یہ تو صرف اس وقت ایک مشکل میں اس کو اضطراری حالت کی وجہ سے اس طرح پوچھ رہا ہے ورنہ اس کے پوچھنے کی ضرورت نہیں میں وہ ساری چیزیں اس کو بتا چکا ہوں۔ لیکن وہ مریض ہے کہ وہ کبھی اس کو راستے میں کبھی کیا کبھی کیا۔ تو کیا کسی کو کہنے کی اجازت ہوتی ہے ادھر؟ کلینک میں جا سکتے ہیں اندر پھر کوئی؟ پیسے بھی دیے ہوتے ہیں۔ لیکن کیا کلینک میں کوئی جا سکتا ہے؟

شیخ کے لیے یہ نہیں بے شک پیسے بھی میں نے نہ دیے ہوں لیکن میری مرضی کے مطابق میرا علاج کرو۔ شیخ تو اس کو دیکھتا ہے کہ بھئی ٹھیک ہے میں نے ایک بات بتا دی اب اس کو نتیجہ ظاہر ہونے دو پھر اس کے بعد۔ وہ خود بعض دفعہ تو اس کے چہرے سے پتہ چل جاتا ہے آپ کے بتانے کی بھی ضرورت نہیں ہو گی لیکن اگر ایسی بات نہیں ہے آپ بتائیں گے تو بتانے کا ایک طریقہ ہو گا۔ آپ دے دیں خط اب وہ پڑھ لے بے شک جواب دے جواب نہ دے۔ جواب دینا ہر وقت ضروری نہیں ہوتا۔ حال کو بتانا ضروری ہوتا ہے اس کے بارے میں دوبارہ جواب لینا ضروری نہیں ہے کیونکہ عین ممکن ہے کہ وہ صرف اس کے لیے information ہو آپ کے لیے ہو ہی نہیں۔

یہ جو medical test ہوتے ہیں جو کرتے ہیں ہم یہ report کس کو دیتے ہیں آپ کے لیے ہوتے ہیں یا doctor کے لیے ہوتے ہیں؟ وہ doctor کے لیے ہوتے ہیں نا۔ اب doctor کو آپ نے report دے دی doctor نے دیکھ لی کیا ضروری ہے کہ وہ آپ کو بتائے کہ کیا چیز ہے؟ بعض دفعہ نہ بتانا ضروری ہوتا ہے۔ بعض دفعہ نہ بتانا ضروری ہوتا ہے تو وہ اپنے ساتھ رکھ لے گا اچھا ٹھیک ہے جی کوئی بات نہیں، جاؤ۔ لیکن اس نے تو note کر لیا نا کہ مسئلہ کیا ہے۔ وہ تو اس کی سمجھ میں تو بات آ گئی۔ اس طرح ہی ہوتا ہے کہ بعض دفعہ آپ کے احوال یا آپ کے خواب یا جو بھی چیز ہے وہ صرف information ہوتی ہے شیخ کے لیے۔ آپ کے لیے نہیں ہوتی۔ آپ اس کو communicate کر لیں properly جیسے آپ کو بتایا جائے۔ اس کے بعد آپ زور نہ دیں کہ خوامخواہ آپ کو اس کے بارے میں بتا دیا جائے، نہیں۔ بتانے کی ضرورت ہو گی تو بتا دیا جائے گا۔ اور اتنا بتا دیا جائے گا جتنا بتانے کی ضرورت ہے اس سے زیادہ کا نہیں۔

اور یہ بھی یاد رکھیے کہ اللہ جل شانہ کا اپنا معاملہ ہوتا ہے ہر ایک کے ساتھ۔ یہ ہر ایک کا اپنا اپنا ہوتا ہے۔ تو مشائخ کی بھی یہی بات ہوتی ہے کہ اللہ پاک نے اپنا اپنا ایک معاملہ بنایا ہوتا ہے کسی کے ساتھ کس طریقے سے deal کرتے ہیں کسی کے ساتھ کس طریقے سے deal کرتے ہیں۔ اور جن کو جس سے فائدہ پہنچانا ہوتا ہے ان کے لیے اسی کے مطابق حالات بناتے ہیں لیکن ہم لوگوں کو نہ تو بدگمانی کرنی چاہیے نہ تعجیل کرنی چاہیے۔ تعجیل میں بہت بڑا نقصان ہو جاتا ہے۔

تو فرمایا اول اول جو کلفت ہوتی ہے وہ تو ہوتی ہے لیکن اس کا علاج یہ ہے کہ

باوجود کلفت کے ہمت سے اور اختیار سے برابر بہ تکلف کام لیتا رہے رفتہ رفتہ وہ کلفت مبدل بسہولت ہو جائے گی۔ سارے مجاہدے بس اسی لیے کیے جاتے ہیں کہ اختیار اوامر اور اجتناب نواہی میں سہولت پیدا ہو جائے۔

یہ جتنے بھی مجاہدے کرائے جاتے ہیں چاہے اختیاری مجاہدے چاہے غیر اختیاری مجاہدے ہیں وہ اس لیے کیے جاتے ہیں کہ مطلب جو ہمارے جو شرعی اوامر اور نواہی ہیں چاہے وہ ظاہری ہیں چاہے باطنی ہیں۔ ظاہری مثال کے طور پر نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج وغیرہ اور باطنی مثال کے طور پر تکبر سے بچنا اور صبر کرنا، شکر کرنا، ریا سے بچنا، یہ باطنی ہیں اس کے اندر سہولت پیدا ہو جائے۔ سہولت پیدا ہو جائے اور یہ تبھی ہو گا کہ جب ہم چلتے رہیں اسی کے مطابق جیسے کہا جائے۔

اور اوّل اوّل تو ہر کام مشکل ہوتا ہے مگر کرتے کرتے مشق ہو جاتی ہے اور پھر نہایت سہولت کے ساتھ ہونے لگتا ہے، جیسے حفظ کا سبق شروع میں دشوار ہوتا ہے

بچہ ایک رکوع بھی آسانی کے ساتھ نہیں حفظ کر پاتا۔ اور اخیر میں بعض دفعہ پورا سپارہ ایک دن میں پڑھ لیتا ہے۔ سہولت ہو جاتی ہے اور پھر بعد میں تو یہ حالت ہو جاتی ہے کہ وہ صرف ایک نظر ڈالنے سے ہی وہ سنانے لگتا ہے۔ اور بعض دفعہ ایسی حالت ہوتی ہے کہ بغیر پڑھے ہی وہ سنانے لگتا ہے۔ ایسی حالت بھی ہوتی ہے کہ اس کو قاری نور اللہ صاحب کی طرح پوری رات کے اندر اس کو کھڑا کر دیں اور ایک ہی پورا قرآن سنا دے۔ اس کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی لیکن کیا قاری نور اللہ صاحب بالکل ابتدا میں ایسے تھے؟ جب اس کو پہلی دفعہ داخل کیا گیا تھا تو ویسے ہی تھے؟ ظاہر ہے ابتدا میں تو اس کو بھی میرے خیال میں ڈنڈے بھی پڑے ہوں گے اور بہت مشکلات بھی پڑی ہوں گی۔ ساری چیزیں بچوں کو ہوتی ہیں۔ لیکن بہرحال پھر بعد میں آسانی آ جاتی ہے۔

مگر رٹتے رٹتے یاد ہو جاتا ہے اگر شروع کی کلفت اور تعب کو دیکھ کر ہمّت ہار دی تو پھر کوئی صورت ہی کامیابی کی نہیں۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

﴿وَمَا عَلَيْنَا اِلَّا الْبَلَاغُ﴾

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔ اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔ اللَّهُمَّ اشْفِ مَرْضَانَا وَمَرْضَى الْمُسْلِمِينَ ﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ﴾۔ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قُلُوْبَنَا عَلٰى دِيْنِكَ۔ يَا مُصَرِّفَ الْقُلُوْبِ صَرِّفْ قُلُوْبَنَا عَلٰى طَاعَتِكَ۔ اَللّٰهُمَّ اَجِرْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا، وَزِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا، وَاٰثِرْنَا وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا، وَاَعْطِنَا وَلَا تَحْرِمْنَا، وَصَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلٰى خَيْرِ خَلْقِهٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ اَجْمَعِيْنَ۔

عطرِ تصوف: اختیاری امور میں ہمت اور ہماری ذمہ داری - انفاسِ عیسیٰ - پہلا دور