طریقِ وصول الی اللہ اور نفس کی مخالفت کے درجات

حصہ 1 باب 1 ملفوظ 1: روحِ سلوک تا طریق الوصول الی اللہ بعدد انفاس الخلائق

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ امدادیہ - خیابانِ سر سید، راولپنڈی

الحمد لله رب العالمين
والصلوة والسلام على خاتم النبيين اما بعد
فاعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم

روحِ سلوک: مقصود طلب ہے وصول مقصود نہیں۔

ارشاد: اہل طریق کے یہاں یہ مقرر ہے کہ طلب مقصود ہے وصول مقصود نہیں۔ شرح اس کی یہ ہے کہ مقصود کے حصول کا قلب میں تقاضہ نہ رکھے کہ یہ بھی حجاب ہے کیونکہ اس تقاضے سے تشویش ہوتی ہے اور تشویش برہم زن جمیعت و تفویض ہے اور جمیعت و تفویض ہی شرط وصول ہے اس کو خوب راسخ کرلیا جائے کہ روح سلوک ہے ﴿وَ ھُوَ مِنْ خَصَائِصِ الْمَوَاھِبِ الْاِمْدَادِیَۃِ قَلَّمَا تَنَبَّہَ لَہٗ شَیْخٌ مِنْ مَشَائِخِ الْوَقْتِ﴾۔

حضرت فرماتے ہیں کہ جو سلسلے والے حضرات ہیں ان کے ہاں یہ بات طے ہے کہ مقصود جو ہے وہ طلب ہے۔ مقصود طلب ہے۔ وصول مقصود نہیں وصول اس کو کہتے ہیں جس کا نسبت کا حاصل کرنا۔ وہ مقصود نہیں ہے اور اس کی شرح یہ ہے کہ اگر ہم لوگ مقصود کے حاصل کرنے کو اپنے دل میں رکھیں گے، اس کا تقاضا ہوگا، تو یہ ایک حجاب بن جائے گا کیوں؟ کیونکہ اس تقاضے سے تشویش ہوگی جلد بازی ہوگی جلد بازی اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ لہٰذا وہ مقصد ہی حاصل نہیں ہوگا۔

اس کی ایسی مثال ہے کہ جیسے ایک بچے کو کہا جائے کہ تو پڑھ لے نا اگر تو اول آیا تو میں آپ کو موٹر سائیکل دوں گا۔ اب ایک بچہ ہے جس نے سن لیا اور بس اس کے بعد اس نے اس نے پڑھنا شروع کر لیا اور موٹر سائیکل کا خیال ذہن سے نکال دیا۔ اور محض پڑھ رہا ہے کسی اور چیز کی طرف اس کا دماغ نہیں جاتا۔ تو ظاہر ہے امکان ہے کہ وہ پاس ہو جائے اور موٹر سائیکل مل جائے۔ لیکن اگر وہ روزانہ موٹر سائیکل ہی کے بارے میں سوچتا رہا کہ موٹر سائیکل ملے گا تو یہ کروں گا یہ کروں گا یہ کروں گا یہ ہو جائے گا تو وہ ہو جائے گا، پڑھے گا؟۔ کچھ بھی نہیں پڑھ سکے گا کہ نتیجتاً یہ ہوگا کہ نہ موٹر سائیکل ملے گا نہ وہ پاس ہوگا۔ تو سارا کچھ خراب ہو جائے گا۔

اسی طریقے سے طلب جو ہے یہ مقصود ہے۔ یعنی آپ لوگ اس راستے پہ چلیں جس طریقے سے انسان کامیاب ہوتا ہے کامیابی اس میں ایک بڑی بات بھی ہے کہ دیکھیں، آپ ایک شخص کو پیسے دیتے ہیں۔ اگر آپ کو اس پر اعتماد ہوتا ہے تو پھر آپ اس سے پوچھتے نہیں کہ کیا کیا۔ جب آپ نے پوچھ لیا تو اس کا مطلب ہے آپ کو اس کے اوپر اعتماد ہی نہیں ہے۔ اور جب آپ اس پہ اعتماد کریں گے تو وہ آپ کے اس پہ بہت زیادہ خوش ہو جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کے توقع سے بھی زیادہ آپ کو نواز دے گا۔ تو یہاں پر یہ بات ہے کہ اللہ جل شانہ تو بہت ہی زیادہ غفور الرحیم ہے۔ تو جب وہ اتنا غفور الرحیم ہے اور اتنا کریم ہے اور قادر بھی ہے اور تمام چیزیں کر سکتا ہے تو پھر ہم لوگ کوشش کریں گے تو کیوں اس کا اللہ پاک ضائع فرمائیں گے جبکہ اللہ پاک خود بھی فرماتے ہیں ان الله لا يضيع اجر المحسنين۔ بے شک اللہ پاک نیکی کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں فرماتے۔ تو پھر یہ بدگمانی کیسی ہے کہ ہم لوگ نعوذ بالله من ذلك یہ سوچیں کہ پھر ایسا نہیں ہوگا۔ ہمارے لیے تو بس یہ وعدہ ہی کافی ہونا چاہیے نا۔ بس جب وعدہ ہو گیا تو بس اس کے بعد پھر ہم کیا درمیان میں اس کا وہ رٹ لگائیں گے کہ یہ تو یہ ہو گیا یہ تو یہ ہو گیا۔

تو اسی طریقے سے جو لوگ اس راستے میں اس خواہش کو ذہن میں رکھتے ہیں کہ مجھے یہ مل جائے مجھے یہ مل جائے گا۔ یعنی ان کو بزرگی کی خواہش ہوتی ہے اور بزرگی کی چیزوں کی خواہش ہوتی ہے تو ان کو نہ بزرگی ملتی ہے نہ کوئی اور چیز ملتا ہے۔ وہ وہ سارے کا سارا وقت ان کا ضائع ہو جاتا ہے۔

تو ایک دفعہ ایک صاحب تھے وہ اس کو بالکل فائدہ نہیں ہو رہا تھا۔ تو جو بزرگ تھے انہوں نے اس پہ بڑا زور لگایا لیکن کچھ مل چینج ہی نہیں ہو رہا تھا۔ ایک دن اس نے اسے بلایا اس نے کہا کہ بھئی آپ کی نیت کیا ہے یہاں میرے پاس آنے کی؟ اس نے کہا حضرت دل میں یہ ارادہ ہے کہ اگر یہ نعمت آپ سے مجھے مل جائے تو میں پھر باقی لوگوں کو پہنچاؤں گا۔ فرمایا تھوک لو اس کو اے ظالم کتا یہاں لیٹا ہوا ہے۔ سارا تجھے جو فائدہ نہیں ہو رہا اس کی وجہ یہی ہے کہ تو یہ سمجھ رہا ہے کہ میں پیر بنوں گا۔ یہ پیر بننا شرک فی الطریقت ہے۔ پیر بننے کی خواہش کرنا یہ شرک فی الطریقت ہے اس کو دور کر لو۔ یہ کیا تو نے مطلب یہ ہے کہ خیال لگایا ہوا ہے۔ کہتے ہیں جب اس نے اس چیز کو ختم کر دیا پھر الحمدللہ اس کو ترقی ملنا شروع ہو گئی۔

تو ہم نے دیکھا کہ جو لوگ اس کوشش میں لگے رہے نا برسوں کے مجاہدات ان کے رائیگاں چلے گئے برسوں کے۔ پھر اس میں جس پہ اللہ تعالیٰ فضل فرماتے ہیں ان کو اتنا رگڑا دیتے ہیں اتنا رگڑا دیتے ہیں کہ اس خیال کو ہی بھول جاتے ہیں۔ پھر ان پہ اللہ فضل فرما دیتے ہیں۔ تو یہ اچھا طریقہ نہیں ہے کہ انسان خود ہی اس کو چھوڑ دے۔ رگڑے کا انتظار کیوں کرے؟ وہ بھی اس صورت میں ملتا ہے جب اللہ فضل کرنے والے ہوں۔ ورنہ ڈھیل دے دیتے ہیں اور وہ ساری چیزیں خراب ہو جاتی ہیں۔ اس وجہ سے مطلب یہ ہے کہ فرمایا طلب مقصود ہے حصول مقصود نہیں ہے۔ تو اس چیز کو اللہ تعالی کے حوالے کر لے، و افوض امری الی اللہ ان اللہ بصیر بالعباد۔ اور محنت کرے کوشش کر لے کہ اللہ جل شانہ نے مجھے جس کام کے لئے بھیجا ہے نا اپنی عبادت کے لئے میں اس کے اندر بس کام کرنے لگوں مطلب میرے سارے کام ٹھیک ہو جائیں۔ میں صحیح طور سے اللہ پاک کی اطاعت کر سکوں عبادت کر سکوں بس مقصد کے لئے وہ۔ بس جن کے اندر یہ صلاحیت ہوتی ہے تو ماشاءاللہ وہ بہت جلدی جلدی ترقی کرنے لگتے ہیں۔

مجاہدہ کی حقیقت:

ارشاد: مجاہدہ کی حقیقت یہ ہے کہ معاصی کو تو مطلقاً ترک کرے اور یہ نفس کی مخالفت واجب ہے اور مباحات میں تقلیلاً مخالفت کرے اور یہ مخالفت مستحب ہے مگر ایسا مستحب ہے کہ مخالفت واجبہ کا حصول کامل اس مخالفت مستحبہ پر موقوف ہے جیسے بہت سونا، بہت کھانا، بہت عمدہ کپڑے پہننا، بہت باتیں کرنا، لوگوں سے زیادہ ملنا جلنا، سو ان میں تقلیل کرے۔

حضرت نے اس میں یہ بات فرمائی کہ ایک ہے مجاہدہ واجبہ۔ مجاہدہ واجبہ تو یہ ہے کہ نفس کی وہ مخالفت جو نفس کی خواہش ہوتی ہے معصیت کی۔ جو اللہ جل شانہ نے جس چیز کا امر دیا ہے کہ یہ کرو اور جس چیز سے بچایا ہے کہ اس کو نہ کرو تو اوامر و نواہی اس کو کہتے ہیں یہ پوری شریعت ہے۔ اب اگر کوئی شخص اس بات پر عمل کرتا ہے کہ جس چیز کا امر کیا اس کو کرتا ہے اس میں اگر نفس رکاوٹ ڈالتا ہے تو اس کو روکتا ہے مطلب یہ ہے کہ وہ کام کرنے لگتا ہے۔ اور اگر نفس کسی اور چیز کی طرف جاتا ہے للچاتا ہے جس سے روکا ہے اللہ پاک نے اس سے رک جاتا ہے یہ تو واجب ہے۔ یہ جو فرائض ہیں مطلب یہ ہے کہ طاعات کا حصول اور حرام سے بچنا یہ سارا۔ لہذا یہ تو واجب ہے۔

البتہ جو چیزیں مباح ہیں، مباح ہیں، تو انہی کے مباح کو ترک کرنا مستحب ہے کیونکہ مباحات کی سرحد مکروہ کے ساتھ لگی ہوتی ہے۔ اس کے اندر کمی کرنا ہے۔ مثلا بہت زیادہ کھانا، بہت زیادہ سونا، بہت زیادہ عمدہ کپڑے پہننا، بہت باتیں کرنا، لوگوں سے زیادہ ملنا جلنا اور اس طرح یہ ان چیزوں میں، ان چیزوں میں کمی کرنا۔ ان چیزوں میں کمی کی وجہ یہ ہے کہ اگر ان چیزوں میں کمی کرے گا تو اس کا دل اللہ تعالی کے ساتھ مانوس ہوگا۔ اور اس کو اللہ تعالی کی طرف توجہ کرنے میں آسانی ہوگی۔ نتیجتا جو واجبات ہیں، ان کو صحیح طریقے سے پورے کر سکے گا۔

اس لیے حضرت نے فرمایا کہ یہ ایسا مستحب ہے کہ مخالفت واجبہ کا حصول کامل اسی مخالفت مستحبہ پر موقوف ہے۔ یعنی اگر کوئی یہ مخالفت مستحبہ نہیں کر سکے گا تو وہ واجب بھی نہیں کر سکے گا۔ اس کی مثال وہی دی جیسے کہ ہماری نماز۔ نماز کے اندر کچھ ارکان ہیں۔ ان ارکان کو پورا کرنا یہ ہمارے اوپر فرض ہے۔ لیکن وہ ارکان تبھی صحیح طرح سے پورے ہوں گے، خشوع اس کا یعنی صحیح آئے گا پورا کہ جب ہم لوگ ان مستحبات کی رعایت کریں گے۔ مثلا کھڑے ہوں گے تو سجدہ کی جگہ دیکھیں گے۔ اور اگر رکوع کریں گے تو انگوٹھوں پہ نظر رکھیں گے۔ اور سجدے میں مطلب یہاں پر نظر رکھیں گے اور اگر بیٹھیں گے تو گود میں نظر رکھیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ہماری نظر ادھر ادھر ہٹے گی نہیں، تب ہم تمام چیزوں کو اچھی طرح کریں گے اگرچہ یہ چیزیں مستحب ہیں لیکن یہ مستحب ایسے ہیں کہ ہمارے واجبات کو بھی صحیح کر دیتے ہیں۔

مجاہدہ اختیاریہ و اضطراریہ کا فرق اور دونوں کی ضرورت:

ارشاد: مجاہدہ اختیاریہ میں تو فعل کا غلبہ ہے اس لیے اس میں انوار زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ انوار کا ترتب عمل پر ہوتا ہے اور مجاہدہ اضطراریہ میں فعل کم ہوتا ہے اس میں نورانیت کم ہوتی ہے۔ لیکن انفعال کا غلبہ ہوتا ہے اس سے قابلیت میں قوت بڑھتی ہے اور اس انفعال و قابلیت کی خود اعمال اختیاریہ کے راسخ ہونے کے لیے سخت ضرورت ہے اسی لیے بزرگوں نے ایسے مجاہدات بہت زیادہ کرائے ہیں۔

یعنی جو مجاہدہ اضطراریہ ہے، جو غیر اختیاری طور پر انسان کے اوپر آ جاتے ہیں مثلا بیمار ہو گیا، مثلا گرفتار ہو گیا مثلا مطلب یہ ہے کہ کوئی دشمن اس کو تکلیف پہنچائے یا مطلب یہ ہے کہ نیند اس کو نہ آئے یا کوئی اور مطلب تکلیف ہو اس تکلیف کو برداشت انسان کر لے تو اس میں انوارات تو نہیں آتے کیونکہ انوارات تو عمل سے آتے ہیں اور اس نے عمل تو کچھ بھی نہیں کیا۔ اس میں نفس پہ زد پڑتا ہے۔ اور نفس کی جو رکاوٹ ہے۔ لہذا نفس tame ہو جاتا ہے نفس کی تربیت ہو جاتی ہے اور نفس کی مطلب مخالفت کم ہو جاتی ہے تو لہذا اس میں انسان کو عمل کرنے کی عمل زیادہ ہو جاتی ہے۔ تو بنیادی تربیت اس چیز سے ہوتی ہے۔ جیسے میں نے ابھی بتایا کہ جب اللہ تعالی کسی پہ فضل کرنا چاہے تو خوب رگڑا دے دیتے ہیں۔ تو اس سے وہ ساری چیزیں بھول جاتا ہے۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ وہ غیر اختیاری مجاہدات سے ہوتا ہے اختیاری مجاہدات میں نورانیت زیادہ ہوتا ہے اس میں انسان کبھی کبھار اپنے آپ کو بزرگ سمجھنے لگ جاتا ہے۔ تو اس سے لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں، بزرگی آجاتی ہے اس میں۔ عجب ہے۔ اور یہ تو خیر سے خطرناک چیز ہے۔

ایک دفعہ ایک بچہ ایک بزرگ کے ساتھ تہجد کے لیے اٹھا، بچہ تو بچہ ہوتا ہے نا تو ان بزرگ سے کہتے ہیں کہ دیکھیں نا یہ سارے لوگ سوئے ہوئے اور ہم نے تہجد پڑھ لی، اس پر ان بزرگ نے کہا کہ کاش آپ تہجد نہ پڑھتے، کاش آپ تہجد نہ پڑھتے۔ کیوں کہ تم نے جو بات کی۔۔ یہ تو غیر مکلف تھا نا لیکن اگر بالغ ادمی کر لیتا تو یہ تو غیبت میں شمار ہو جاتا۔ تو وہ تو حرام ہے۔ اور کیا مستحب۔ تو مستحب باعث بن گیا حرام کا تو بہت غلط بات ہو گئی۔ تو فرمایا کاش آپ تہجد نہ پڑھتے۔ تو یہ بات ہے۔ تو مجاہدہ اختیاریہ میں انوارات زیادہ ہوتے ہیں لیکن اس میں فائدہ بھی ہوتا ہے لیکن risk نقصان کا بھی ہوتا ہے۔ جبکہ یہ غیر اختیاریہ میں نورانیت کم ہوتی ہے لیکن اس میں انفعالیت زیادہ ہوتی ہے۔

مجاہدہ اضطراریہ کا نفع:

تہذیب: مجاہدۂ اضطراریہ سے عمل میں قلت بھی ہو جائے اور محض فرائض و واجبات ہی پر اکتفا ہوتا رہے تب بھی مجاہدہ کاملہ کا ثواب ملتا ہے۔

کیونکہ اس وقت وہ من جانب اللہ چیز ہوتی ہے اور چونکہ من جانب اللہ ہوتی ہے اس لئے تھوڑے عمل سے زیادہ نفع ہوتا ہے۔

مجاہدہ کی دو قسمیں:

ارشاد: مجاہدہ کی دو قسمیں ہیں، مجاہدہ حقیقیہ یعنی ارتکاب اعمال و اجتناب عن المعاصی۔ مجاہدہ حکمیہ یعنی ان مباحات کو ترک کرنا جو معاصی کی طرف مفضی ہیں۔

یہ پہلی بات آچکی ہے۔ یعنی پہلا مجاہدہ مجاہدہ حقیقیہ جو واجب ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ان اعمال کو کرنے کا ایک فکر جو کہ ہمارے اوپر لازم ہے۔ اور ان معاصی سے بچنا جن سے ہمیں روکا گیا ہے تو یہ مجاہدہ واجبہ ہے۔ باقی دوسرا مجاہدہ حکمیہ یہ ہے کہ ان مباحات کو جو کہ انسان کو معاصی کی طرف لے جا سکتی ہیں ان سے اپنے آپ کو بچانا۔

طریقُ الوصول الی اللہ بعدد انفاس الخلائق:

ارشاد: ﴿طَرِیْقُ الوُصُوْلِ اِلَی اللہِ بِعَدِدِ اَنْفَاسِ الَخَلائِقِ﴾ جس طرح وصول کی ایک صورت یہ ہے کہ حرم میں نماز پڑھو، یہ بھی ایک صورت ہے کہ کسی عذر سے گھر میں نماز پڑھو اور حرم کو ترستے رہو۔

مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہ تک پہنچنے کے اتنے راستے ہیں جتنے کہ لوگ ہیں۔ ہر ایک کے ساتھ اپنا اپنا معاملہ ہوتا ہے۔ لہذا اللہ جل شانہ جس کے لیے جو راستہ تجویز کر لے وہ ٹھیک ہے تو بعض دفعہ ایک آدمی جا رہا ہوتا ہے مسجد لیکن وہ گر پڑتا ہے۔ بجائے مسجد کے ہسپتال چلا جاتا ہے۔ اب اس وقت بیڈ پر جو ہے لیٹے لیٹے اشارے سے پڑھ رہا ہے ظاہر ہے ٹھیک ہے۔ اب اس کو اس مسجد کے جانے کا بھی ثواب ملے گا اور اس کے اوپر مزید بھی ملے گا۔ اس وجہ سے مطلب یہ ہے کہ طریق الوصول الی اللہ بعدد انفاس الخلائق ہے۔ تو یہ چیز مطلب یہ ہے کہ ہمیں اس کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ بہت ضروری ہے۔

طریقِ وصول الی اللہ اور نفس کی مخالفت کے درجات - انفاسِ عیسیٰ - پہلا دور