حقیقتِ طریقت: اصلاحِ نفس کے اصول، ارکانِ سلوک اور حقوقِ مرشد
حصہ 1 باب 1 ملفوظ 1: حقیقت طریقت
- اصلاحِ نفس کی فرضیت اور علاج و صحت کی تمثیل
- طریقت کے اصولِ موضوعہ اور مبادی (علومِ سلوک)
- مقاصد اور افعالِ اختیاریہ کا دائرہ کار
- زوائد اور احوال (قلبی کیفیات) کی غیر اختیاری حیثیت
- سلوک میں شیخِ کامل کی ضرورت (طبیب و مریض کا تعلق)
- مرشد کے چار بنیادی حقوق: اطلاع، اتباع، اعتقاد اور انقیاد
الحمد للہ رب العالمین الصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین اما بعد۔ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا
صدق اللہ العلی العظیم۔
برکت کے لیے میں نے یہ دو آیتیں تلاوت کی ہیں۔ اور ان دو آیتوں سے جو طریقت کی حقیقت ہے وہ کھل جاتی ہے۔ طریقت کسے کہتے ہیں؟ اللہ جل شانہ ارشاد فرماتے ہیں کہ یقینا کامیاب ہو گیا وہ شخص جس نے اس نفس کی اصلاح کی۔ اور یقینا ناکام اور برباد ہو گیا وہ شخص جس نے اس کو اسی طرح چھوڑا اس کی اصلاح نہیں کی۔ تو اس کا یہ ہوا کہ نفس کی جو اصلاح ہے یہ بنیادی چیز ہے۔ اور اس کا ہونا ضروری ہے موت سے پہلے پہلے نفس کی اصلاح ضروری ہے، فرض عین ہے۔ اگر نہ کیا جائے تو کوئی اس کا متبادل نہیں ہے، کہ ہم کسی اور طریقے سے بچ جائیں گے ایسی کوئی بات نہیں متبادل راستہ نہیں ہے۔ ایک ہی طریقہ ہے، کہ ہم لوگ اپنے نفس کی اصلاح کر لیں۔ اس سے ہو گا یہ کہ اللہ جل شانہ کے حکموں کو ماننا آسان ہو جائے گا ممکن ہو جائے گا۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اللہ جل شانہ کی نافرمانی ہوتی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً انسان اعمال سے دور ہو جاتا ہے اور اعمالِ سیٔہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
اس وجہ سے نفس کی اصلاح ضروری ہے لیکن اب نفس کی اصلاح ہو کیسے؟ تو ظاہر ہے یہ تو علاج ہے۔ اور علاج جو ہوتا ہے یہ محض ذریعہ ہوتا ہے۔ کچھ مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے اور وہ مقصد صحت ہوتا ہے۔ اب صحت وہ ایک چیز ہے لیکن جو علاج ہے جو ذریعہ ہے وہ ایک چیز نہیں ہے۔ وہ کئی ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک شخص ہے مرد ہے بیمار ہو گیا اس کا علاج الگ طریقے سے ہو گا عورت بیمار ہو گئی تو اس کا علاج دوسرے طریقے سے ہو گا۔ دیہاتی ہے اس کا علاج الگ ہو سکتا ہے شہری کا علاج الگ طریقے سے ہو سکتا ہے۔ اور مختلف قسم کی چیزیں ہوتی ہیں لوگوں کے مزاجوں میں فرق ہوتا ہے لوگوں کے حالات میں فرق ہوتا ہے۔ اس وجہ سے علاج مختلف ہو سکتے ہیں لیکن جو صحت ہے وہ ایک ہے۔ اب نظر 6x6 ظاہر ہے سب اس کو standard مانتے ہیں کہ اس طریقے سے نظر ہونی چاہیے۔ لیکن اگر گڑبڑ ہو گئی تو مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں پھر اس کا علاج بھی مختلف ہو سکتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ اب دل کا ایک نارمل standard format ہے، اس کے مطابق دل کو کام کرنا چاہیے۔ لیکن اگر نہیں کر رہا تو پھر اس کی وجوہات بہت زیادہ ہو سکتی ہیں اور اس کے علاج بھی بہت سارے ہو سکتے ہیں۔ اور ظاہر ہے ڈاکٹروں کی فیلڈ ہے وہ اسی کو جانتے ہیں۔ اس لحاظ سے ظاہر ہے ہم اس مسئلے میں انہی کے اوپر depend کرتے ہیں، انہی سے ہم پوچھتے ہیں، انہی کے پاس جاتے ہیں۔
اسی طریقے سے جو جو روحانی بیماریاں ہیں ان کے علاج کے لیے بھی ہم روحانی ڈاکٹروں کے پاس جاتے ہیں پھر یہ انہی کی فیلڈ ہے۔ وہی اس چیز کو جانتے ہیں۔ تو اب یہ ایک روحانی ڈاکٹر ہیں۔ ان سے ہم پوچھتے ہیں۔ یہ حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ یہ ایک روحانی ڈاکٹر تھے اور بلکہ یہ طریق کے مجدد بتاتے ہیں مجدد ملت ان کو کہا جاتا تھا۔ تو اب ظاہر ہے انہوں نے جو اپنی تحقیق دی ہے۔ اس سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں، الحمد للہ۔ تو ہمارے سامنے یہ ہے۔ اس وجہ سے آج ارادہ یہ تھا کہ اس کے بارے میں کچھ روشنی ڈالی جائے کہ یہ چیز ہے کیا؟ طریقت کیا چیز ہے؟ اس کی حقیقت کیا ہے؟ جب تک حقیقت معلوم نہیں ہو گی تو پھر حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ معلوم ہی نہیں کہ وہ چیز کیا ہے تو آپ کیسے ڈھونڈیں گے؟ اور اس کے label میں آپ کو لوگ دھوکہ بھی دے سکتے ہیں کہ جب حقیقت معلوم نہیں ہے تو کوئی بھی آپ کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ تو کم از کم حقیقت تو معلوم ہو نا۔ کہ میں لینا کیا چیز چاہتا ہوں؟ میں لینا کیا چیز چاہتا ہوں تو جب لینا طے ہو جائے گا کہ میں لینا یہ چیز چاہتا ہوں تو پھر جگہیں بھی طے ہو جائیں گی کہ کہاں سے وہ چیز اچھی مل سکتی ہے۔ اس کے بارے میں پھر انسان زیادہ بہتر فیصلہ کر سکے گا۔ تو یہاں پر یہ باتیں ضروری ضروری ان شاء اللہ عرض کی جا رہی ہیں۔
حقیقت طریقت:
ارشاد: اس طریق کے متعلق چند ضروری امور مثل اصول موضوعہ کے ہیں اگر تحقیقاً یا تقلیداً ان کا اعتقاد اور ان پر عمل رکھا جائے تو ہمیشہ کی پریشانی اور غلط فہمی و کج روی سے بچ جائے۔
حضرت نے بھی اس کے بارے میں یہی فرمایا: کہ یہ جو طریقت ہے اس کے بارے میں کچھ ایسی باتیں ہیں جو کہ اصول موضوعہ کی طرح ہوتے ہیں اصول موضوعہ وہ ہوتے ہیں: کہ جو کہ انسان وضع کرتا ہے خاص مقاصد کے لیے کہ مجھے یہ مقصد زیادہ بہتر طریقے سے حاصل ہو جائے۔ اصول متعارفہ ہم لوگ ان کو کہتے ہیں کہ جو کہ پہلے سے معلوم ہو، اس کے علاوہ کوئی اور بات کہی نہیں جا سکے گی۔ لیکن اصول موضوعہ ایک چیز کو حاصل کرنے کے لیے کچھ اصول وضع کیے جاتے ہیں۔ جو ہم لوگ خود وضع کرتے ہیں۔ لیکن تجربہ کار لوگ جو وضع کرتے ہیں تو اس سے وہ چیزیں مقاصد زیادہ بہتر طریقے سے حاصل ہو جاتے ہیں۔ ٹھیک ہے نا؟ جیسے اب چند ڈاکٹر مل کے صحت کو حاصل کرنے کے اصولی موضوعہ بنا لیں کہ آپ کس طریقے سے رہن سہن کریں۔ جیسے ڈائٹنگ کے بارے میں۔ اب کھانا کیسے کھایا جائے، کھانا کیسے کھایا جائے، اس کے اندر کیا کیا ہونی چاہیے۔ اب ڈاکٹر لوگ ہمیں اپنی ریسرچ دے دیں تو ہم لوگ کہیں گے یہ بڑا اچھا ہے، مطلب ظاہر ہے اس سے فائدہ مل رہا ہے۔
اول: ہر مطلوب میں کچھ مبادی ہوتے ہیں،
یعنی کچھ بنیادی چیزیں ہوتی ہیں۔
کچھ مقاصد، کچھ زوائد و توابع،
یعنی مقاصد جس چیز کو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں، جو ہمارا مقصد ہے۔ اور کچھ زوائد، جو اس کے ساتھ ویسے ہی شامل ہو جاتے ہیں، جس کو ہم side effects کہتے ہیں۔ اب جیسے کہ دوائی کھاتے ہیں نا، تو دوائی آپ کھاتے ہیں ایک مقصد کے لیے۔ وہ اس کا main effect ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ side effect بھی ہوتا ہے۔ اب diazepam ہے، اس کا جو main effect ہے وہ ذہن کو سکون دینا ہے، side effect اس کا یہ ہے کہ اس کے ساتھ نیند بھی آ جاتی ہے۔ اب بعض لوگ اس کو side effect کے لیے استعمال کرتے ہیں نا۔ تو ظاہر ہے مریض ہو جاتے ہیں۔ تو اسی طریقے سے یہ ہے کہ کوئی بھی دوائی ہوتی ہے، اس کا ایک main effect ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ کچھ side effects بھی ہوتے ہیں۔ تو جو زوائد ہیں، اس کی مثال side effect کی طرح ہے۔ اور توابع، کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو اس کے ساتھ ساتھ خود بخود وہ آتی ہیں، توابع ہوتی ہیں اس کی۔ یعنی زوائد اور توابع۔
اصل مقاصد ہوتے ہیں
یعنی اصل ہم نے حاصل کرنا کن چیزوں کو ہے؟ مقاصد کو حاصل کرنا ہے۔
اور مبادی اس سے مقدم
اور اس کی جو بنیاد ہوتی ہے وہ اس سے پہلے آتی ہے۔
مگر مقصود بالغرض ہوتی ہے
کہ وہ خاص مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کوئی بنیاد تو ہو گی نا۔ تو اگرچہ وہ اس سے مقدم ہے لیکن وہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہے۔ بذات خود مقصود نہیں ہے۔ بذات خود مقصود نہیں ہوتی۔ تو اسی طریقے سے اب یہ ہے کہ بذات خود مقصود تو نہیں بعض چیزیں ہوتی ہیں، لیکن وہ اس کا پہلے سے خیال رکھنا ہوتا ہے تاکہ مجھے وہ مقصد حاصل ہو جائے۔
اور زوائد اس سے مؤخر
اور زوائد اس کے بعد آتی ہیں، خود بخود آتی ہیں
مگر غیر مقصود، اسی طرح اس طریقہ میں بھی بعض مبادی ہیں
یعنی بعض بنیادی باتیں ہیں، بعض اس کی یوں سمجھ لیں اس سے شروع ہوتا ہے، اس سے ابتدا ہوتی ہے۔ اس سے start ہوتا ہے۔ اگر آپ اس کو نہ کریں تو پھر آپ کو وہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا، ٹھیک ہے نا۔
اور وہ چند علوم و مسائل ہیں جو موقوف علیہ ہیں بصیرت فی المقصود کے اور بعض مقاصد ہیں کہ وہی مقصود بالتحصیل ہیں اور ان ہی پر مدار ہے کامیابی اور ناکامی کا اور بعض زوائد ہیں کہ ان کا نہ وجود معیار کامیابی ہے نہ فقدان معیار ناکامی۔
یہ حضرت نے تین چیزوں کے بارے میں فرمایا۔ اب اس طریقت کے ساتھ متعلقہ کچھ بنیادی مسائل ہیں جن کا جاننا ضروری ہے تو وہ مبادی ہوئے۔ وہ مبادی ہوئے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ اس کے ابتدا میں جاننا ضروری ہے ورنہ آپ کو مقصد ہی حاصل نہیں ہو گا۔ جب تک اس چیز کا پتہ نہیں ہو گا تو کیسے آپ کو وہ مقصد حاصل ہو سکتا ہے؟ ٹھیک ہے نا۔ تو وہ کچھ بنیادی علمی باتیں ہیں، علوم و مسائل ہیں، جن کا جاننا ضروری ہے۔ بغیر اس کے وہ چیزیں حاصل نہیں ہو سکتی ہیں۔ اور یہ اس کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ یہ موقوف علیہ ہیں بصیرت فی المقصود کے، یعنی آپ کو مقصود کا پتہ چل جائے۔ مقصود کے بارے میں آپ کو آگاہی ہو جائے۔
اور بعض مقاصد ہیں کہ وہی مقصود بالتحصیل ہیں،
اور بعض اس میں بنیادی مقاصد ہیں جو کہ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو حاصل ہو جائیں۔ مثلاً صحت کے بارے میں آپ کو کچھ معلومات حاصل ہو جائیں تو یہ مبادی ہیں۔ اور صحت آپ کا مقصود ہے۔ اور صحت کو حاصل کرنے کے ساتھ جو چیزیں مزید آتی ہیں، دوائیوں کے ساتھ وہ سائیڈ ایفیکٹس ہیں۔ ٹھیک ہے نا؟ تو اس کا یہ ہے کہ ہم لوگ مقاصد کو بھی جان لیں، اور اس کے جو مبادی ہیں ان کو بھی جان لیں۔ پھر اس کے ساتھ جو زوائد خود بخود آتے ہیں وہ بھی ہم جان لیں تاکہ ہر چیز کا ہم حق ادا کر سکیں۔
ثانی: منجملہ مبادی کے امر اوّل مذکورہ بالا ہے۔ غالباً اعظم المبادی و اجمع المبادی ہے اور دوسرے مبادی پر اثنائے سلوک میں وقتاً فوقتاً تنبیہ و اطلاع کی جاتی رہتی ہے اور مقاصد اعمالِ خاصہ ہیں جو افعال اختیاریہ ہیں۔ جن میں ایک حصہ اعمالِ صالحہ متعلق بجوارح ہیں جن کو سب جانتے ہیں۔ جیسے نماز، روزہ، حج، زکوٰة و دیگر طاعات واجبہ و مندوبہ اور دوسرا حصہ اعمال صالحہ متعلق بقلب و نفس ہیں۔ مثل اخلاص و تواضع و حُبّ حق و شکر و صبر و رضا و تفویض و توکل و خوف و رجاء وامثالہا اور ان کے اضداد کا ازالہ اور ان کے اعمال اختیاریہ کو مقامات کہتے ہیں۔ اور یہی نصوص میں مامور بالتحصیل ہیں اور ان کے اضداد مامور بالازالہ و الردع۔ اور ان اعمال کی غایت تعلق بحق (یعنی نسبت، و رضائے حق) ہے کہ روح اعظم سلوک کی یہی ہے اور زوائد احوال خاصہ ہیں مثل ذوق و شوق و قبض و بسط و صحو و سکر و غیبت و وجد و استغراق و اشباہہا۔ اور یہ امور غیر اختیاریہ ہیں، اعمال مذکورہ پر ان کا اکثر ترتب ہوتا ہے اور گاہ نہیں ہوتا یہ احوال نہ مامور بہا ہیں اور نہ ان کے اضداد مامور بالازالہ۔ اگر ترتب ہو جائے محمود ہے اگر نہ ہو تو مقصود میں کچھ خلل نہیں اسی لیے کہا گیا ہے: ﴿اَلْمَقَامَاتُ مُکَاسَبُ وَ الْاَحْوَالُ مَوَاھِبُ﴾ پس خلاصہ یہ ہوا کہ طریقہ میں تین امر مبحوث عنہ ہیں۔ "علوم" جن سے مقصود میں بصیرت ہوتی ہے۔ اور "اعمال" جو کہ مقصود ہیں اور ان ہی کا اہتمام ضروری ہے۔اور "احوال" جو کہ مقصود نہیں گو محمود ہیں، ان کے درپے ہر گز نہ ہونا چاہیے۔
یہ بات بالکل واضح ہے لیکن زبان ذرا علمی ہے۔ زبان علمی ہے۔ تو آپ حضرات خود پڑھیں گے تو آپ کہیں گے یہ کیا ہم پڑھ رہے ہیں۔ سمجھ میں آئی کوئی جو ابھی میں نے سنائی آپ کو بات؟۔ نہیں آئی۔ حالانکہ حضرت نے اس میں سب کچھ لکھا ہے۔ لیکن یہی ہوتا ہے کہ استاد کی ضرورت پڑتی ہے، ٹھیک ہے نا۔ اب کیا کریں، اگر آپ اس کو نہیں پڑھنا چاہتے تو کسی اور نے اس پہ لکھا نہیں، اور پڑھنا چاہتے ہیں تو سمجھ نہیں آتی، تو اس کا حل کیسا ہو؟ اس کا حل وہی ہے جو اس کو پڑھ سکتا ہے سمجھ سکتا ہے وہ آپ کو سمجھا دے، یہی طریقہ ہو گیا نا۔ ٹھیک ہے، پھر اس کے علاوہ اور کیا طریقہ ہے، اسی طرح اس مثال کی بہت ساری چیزیں ہیں۔ تو جب لوگ کہتے ہیں ہم کتابوں سے سب کچھ کر لیں گے تو پھر دیکھ لیں کتاب تو ہمارے سامنے ہے نا، تو سب کچھ کر لیں۔ سب کچھ کیسے کیا جا سکتا ہے؟
فرمایا کہ، جو مبادی ہیں، وہ تو یوں سمجھ لیجیے کہ لازمی ہیں۔ اس کے بغیر آپ کو مقصد کی آگاہی نہیں ہو سکتی۔ مقصد کا آپ کو پتہ نہیں چل سکتا۔ لہذا وہ علوم اور معارف جو اس سے متعلق ہیں ان کا جاننا ضروری ہے بغیر اس کے آپ اس کو سمجھیں گے نہیں لہذا آپ کو پتہ ہی نہیں چلے گا۔ تو یہ چیز تو لازم ہے۔ اس وجہ سے اس کے بارے میں تھوڑا بہت بتایا جاتا ہے۔ یہ جو ہم نے جوڑ کیا ہے کس مقصد کے لیے کیا ہے؟ آخر اس جوڑ کا مقصد کیا ہے؟ کام تو آپ اپنی اپنی جگہوں پہ کریں گے نا، لیکن اس جوڑ کا مقصد کیا ہے؟ اس جوڑ کا مقصد یہ ہے کہ آپ ان چیزوں کو جان لیں جن کا جاننا اس میں ضروری ہے۔ یہی ہے نا۔ اور پھر آپ وہ کام کر لیں جس سے اس کا ماننا آسان ہو جائے۔ ٹھیک ہے نا، یہی آپ کر رہے ہیں تو جوڑ ہمارا اسی مقصد کے لیے ہے۔ تو یہاں پر بھی یہ جو اعظم المبادی ہیں وہ یہی جو سلوک کے جو علوم ہیں اور معارف ہیں ان کو ہم نے حاصل کرنا ہے تاکہ ہم لوگ کم از کم اپنے جو مقصودہ چیزیں ہیں اس کے بارے میں معلوم کر لیں۔
پھر ہمارا مقصود کیا ہے؟ وہ کچھ اعمال ہیں جو اختیاری اعمال ہیں، جو ہمارے اختیار میں ہیں۔ اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا: لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔ جو چیز ہمارے اختیار میں نہیں ہو، اس کا اللہ پاک نے ہمیں حکم ہی نہیں دیا۔ اللہ پاک نے کسی کو بھی مکلف نہیں کیا ان اعمال کا جن کو پورا نہیں کر سکتا۔ مثلا میں آسمان پہ نہیں چڑھ سکتا تو کہیں پر بھی حکم نہیں ہے کہ تم آسمان پہ چڑھ جاؤ۔ ہوا میں نہیں اڑ سکتا، تو کسی نے بھی نہیں کہا کہ آپ ہوا پہ اڑیں۔ ٹھیک ہے نا، کرامت میرے قبضے میں نہیں ہے، لہذا کسی بھی کتاب میں نہیں ہے کہ آپ ضرور صاحب کرامت ہو جائیں۔ کہیں پر ہے؟ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو چیزیں مقصود ہیں وہ تو اختیاری ہیں۔ جو چیزیں اختیاری نہیں ہیں اس کا مطالبہ نہیں۔ جو چیزیں مقصود ہیں وہ تو اختیاری ہیں۔ اور جو چیزیں، جو چیزیں غیر اختیاری ہیں اس کا مطالبہ نہیں۔
اب شیطان کیا کرتا ہے؟ شیطان یہ کرتا ہے کہ جو چیزیں آپ کے اختیار میں ہیں اس میں آپ کو سست کر دیتا ہے۔ جو آپ کے اختیار میں ہیں آپ حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن وہ آپ سے چھپا دیتا ہے۔ اور اس کا وزن آپ کی نگاہوں میں کم کر دیتا ہے۔ بھئی یہ نماز تو پر ایک پڑھتا ہے روزہ رکھنا، حج کرنا، یہ تو ہر ایک کرتا ہے بھئی کام تو ایسا ہو جس کو ذرا تھوڑا سا پتہ تو چلے نا کہ کچھ کام کیا ہے۔ اب وہ آپ کے اختیار ہی میں نہ ہو تو پھر کیا کریں آپ۔ اللہ پاک کا تو مطالبہ نہیں ہے۔ تو کسی اور کا مطالبہ کیوں ہے پھر؟ جب اللہ کا مطالبہ نہیں تو آپ سے دوسرا کون مطالبہ کر سکتا ہے؟ ٹھیک ہے نا۔
تو اب یہی والی بات ہے کہ ہم لوگوں کو، ہم لوگوں کو اس بات کا علم چونکہ نہیں ہوتا نتیجتا گمراہی میں پڑ جاتے ہیں اور ہم ان چیزوں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں جن کا مطالبہ نہیں اور ان چیزوں کو چھوڑ رہے ہوتے ہیں جن کا مطالبہ ہے۔ ٹھیک ہے نا، مجھے آپ بتا دیں کہ تکبر کو دور کرنے کا مطالبہ ہے یا نہیں ہے؟ مطالبہ ہے نا؟ تو یہ جب مطالبہ ہے تو اس کا ہے اس کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یعنی تکبر کو نکالا جا سکتا ہے کیوں مطالبہ ہے؟ جب مطالبہ ہے تو ظاہر ہے دور بھی کیا جا سکتا ہے۔
جب لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا آپ کو سمجھ آ گیا کہ اللہ پاک نے کسی ایسی چیز کا ہمیں وہ نہیں بنایا مکلف جو ہم نہیں کر سکتے ہوں، تو اس سے پتہ چل گیا کہ جن کا مطالبہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کیا جا سکتا ہے۔ کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہو گی پھر وہ جس کو کیا نہ جا سکتا ہو۔ تو تکبر کو دور کرنا ممکن، حسد کو دور کرنا ممکن، ریا کو دور کرنا ممکن، خشوع کو حاصل کرنا ممکن، اخلاص کو حاصل کرنا ممکن، تواضع کو حاصل کرنا ممکن، یہ ساری چیزیں ممکن ہیں تبھی تو اس کا مطالبہ ہے۔ اور مطالبے بھی بڑے شدید ہیں۔ مطالبہ بھی کوئی معمولی مطالبہ نہیں ہے کہ چلو ہو گیا تو ہو گیا نہیں ہوا تو نہیں ہوا۔ آپ آجائیں، چلو کوئی بات نہیں۔ آپ آجائیں، آپ کو مل جائے گا۔ نہیں! ایسی بات نہیں، مطالبہ بڑا شدید ہے۔
مثلا تکبر کے بارے میں فرماتے ہیں کہ کوئی آدمی اس وقت تک جنت میں نہیں جا سکتا جب تک اس کے دل میں رائی بھر تکبر بھی ہو۔ اب اندازہ کریں۔ حسد کے بارے میں فرمایا کہ یہ حسد ایسے نیکیوں کو کھاتا ہے جیسے کہ لکڑی کو آگ کھاتی ہے۔ اب دیکھیں مطالبہ بڑا شدید ہے۔ ریا کے بارے میں تین بڑے بڑے لوگوں کو جہنم رسید کیا جائے گا، اللہ پاک معاف فرمائے۔ عالم کو، سخی کو اور شہید کو۔ اب اندازہ کریں۔ ان سے بڑا مقام کوئی لا سکتا ہے عالم سے بڑا مقام یا سخی سے بڑا مقام یا شہید سے بڑا مقام کوئی لا سکتا ہے؟ اگر ان کو جہنم رسید کیا جاتا ہے اس بنیاد پر کہ ان کے اندر اخلاص نہیں تھا تو ہم لوگ کس شمار و قطار میں ہیں؟ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ جل شانہ نے اس کا ہمیں مکلف بھی کر دیا، مطالبہ بھی ہے اور مطالبہ بڑا شدید بھی ہے۔ تو اس سے پتا چلا کہ اس کا حل بھی ہوگا اور اس کو حاصل بھی کیا جا سکتا ہوگا۔ تبھی تو اللہ پاک نے اس کا ہمیں مکلف بنایا ہے۔
تو اس کا پتا چل گیا کہ افعال جو ہیں، اختیاریہ، افعال اختیاریہ جو ہیں کیا ہیں، وہ ہمارے مقاصد ہیں۔ کبھی بھی ہمارے مقاصد افعال غیر اختیاریہ نہیں ہوں گے۔ کبھی بھی افعال غیر اختیاریہ، مثلاً کسی کو اچھا خواب آ جائے، یہ مطلوب نہیں ہے۔ کسی کو کشف ہو جائے، یہ مطلوب نہیں ہے۔ کسی کو اچھل کود ہونے لگے، یہ مطلوب نہیں ہے۔ کسی کو دیکھتے ہی سب کچھ اس کو معلوم ہو جائے، یہ مطلوب نہیں ہے، جس کو ہم لوگ عرف عام میں روشن ضمیر کہتے ہیں۔ ٹھیک ہے نا، کم از کم اپنا راستہ تو دیکھ لے نا۔ اتنا تو معلوم ہے، اتنا تو ہے، لیکن یہ بات ہے کہ اس کے دل میں کیا ہے، یہ مجھے معلوم ہو جائے، یہ مطلوب نہیں ہے۔
تو جب اس کا مطلب یہ ہوا کہ جن کے ہم مکلف ہیں اور وہ مطلوب ہیں اور وہ ممکن الحصول ہیں، ان کو حاصل بھی کیا جاتا ہے، تو پھر اس طریقے کو ڈھونڈنا نہیں چاہیے کہ وہ کون سا طریقہ ہے جس کے ذریعے اس کو حاصل کیا جا سکتا ہے؟ اور وہ طریقہ اہم نہیں ہوگا؟ جتنا اس سے روکا جاتا ہے سختی کے ساتھ، اتنا ہی اس طریقے پہ آنا زیادہ سختی کے ساتھ ضروری ہوگا۔ ٹھیک ہے نا؟ اب Heartکی ایسی کنڈیشن ہو جائے کہ بس وہ تھوڑی دیر میں گیا چاہتا ہو۔ اس وقت ICU میں پہنچانا کتنا ضروری ہوگا؟ مطلب جتنا زیادہ مسئلہ ہو، اتنا زیادہ اس کے اوپر ایکشن کرنا زیادہ ضروری ہوگا نا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ تو جب یہ والی بات ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ جن چیزوں کا اتنی شدید طریقے سے مطالبہ ہے، تو اتنے شدید طریقے سے اس طریقے کا حصول کا مطالبہ بھی ہو گیا۔ تو بذات خود تو مقصود نہیں ہوا وہ چیز۔ وہ طریقہ تو بذات خود مقصود نہیں ہے۔ لیکن مقصود للغرض ہے یا نہیں ہے؟ اس چیز کو حاصل کرنے کے لیے مقصود ہے یا نہیں ہے؟ اب چونکہ وہ چیز آپ اس کے بغیر حاصل کر نہیں سکتے، اور اس کا حاصل کرنا ضروری ہے، لہذا اس طریقے کو حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟
ابھی صرف دو باتیں طے ہوئی ہیں۔ دو باتیں طے ہوئی ہیں اور دو بڑی اہم باتیں طے ہوئی ہیں۔ اب تیسری بات بھی ان شاء اللہ طے کرتے ہیں۔ اور وہ کیا ہے؟ احوال۔ یہ ابھی ہم نے افعال کی بات کی ہے، اب احوال کی بات کرتے ہیں۔ احوال کیا چیز ہے؟ یہ احوال غیر اختیاری ہوتے ہیں۔ مثلاً وجد، اور مثال کے طور پر وہ جو دوسری اس قسم کی جو چیزیں ہوتی ہیں، شوق و قبض و، بسط و، سکر، صحو، یہ سب اصطلاحات ہیں جن کا بعد میں ان شاء اللہ تفصیل سے بات ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ چیزیں کیا ہیں؟ یہ کیفیات ہیں۔ مثلاً کسی کو قبض ہو جائے، اور ایسا قبض ہو جائے کسی چیز کو بھی جی نہیں چاہتا۔ نہ نماز پڑھنے کو جی چاہتا ہے، نہ روزہ رکھنے کو جی چاہتا ہے، نہ تلاوت کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ٹھیک ہے، ایک حال ہے، ایک حال ہے۔ اب آ گیا تو اب ظاہر ہے اس کے ساتھ تو آپ نے، مثال کے طور پر آپ کا کھانے کو جی نہیں چاہتا، لیکن آپ کے جسم کو ضرورت ہے۔ تو آپ یہ تو کر سکتے ہیں کہ اس کے لیے علاج کر لیں کہ آپ کا وہ اشتہا کھل جائے۔ لیکن بہرحال یہ تو نہیں ہے کہ بس ٹھیک ہے جی نہیں چاہتا تو نہ کھاؤ۔ یہ تو نہیں ہو سکتا نا؟ آپ اس کے لیے کوشش تو کریں گے نا۔
تو اسی طریقے سے قبض میں یہ والی بات ہے کہ آپ قبض کو دور کرنے کی کوشش ضرور کریں، لیکن اعمال میں کمی نہیں کر سکتے۔ اعمال کرنے پڑیں گے چاہے جی چاہے یا نہ چاہے۔ میرا جی نہ چاہا، بعض لوگ اس طرح ہوتے ہیں جی بس ٹھیک ہے جی ابھی ایک نماز چل رہی ہے، جب دوسرے کے لیے ہو جائے گا تو پھر دوسری نماز بھی پڑھیں گے۔ بلکہ بعض لوگ تو کہتے ہیں بلاوا آئے گا تو ہم پڑھیں گے۔ پتا چل جائے گا، بلاوا تو ایک آنا ہے نا۔ وہ بلاوا تو final ہے نا۔ اس وقت وہ بلاوا پہلے آ گیا تو پھر کیا کرو گے؟ ؟ یہ کوئی optional چیزیں تھوڑی ہیں کہ ہو گیا تو ہو گیا، نہیں ہوا تو نہیں ہوا۔ ایسی باتیں نہیں ہیں، نانی یاد آ جائے گی۔ پتا چل جائے گا۔ یہ ساری چیزیں final ہیں۔ اس کے اندر درمیان میں گڑبڑ نہیں ہو سکتی۔ اللہ پاک نے جو فرمایا نا کہ ہم نے تمہارا دین مکمل کردیا، الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا، وہ چیزیں final ہو گئی ہیں۔ اب اس کے بعد تم درمیان میں کہاں سے آ ٹپکے ہو چلو ٹھیک ہے کوئی بات نہیں، میں تو فی الحال ایک نماز پڑھ رہا ہوں، اب ٹھیک ہے جی جب میرا تجربہ ہو جائے گا میں دوسری نماز بھی پڑھنا شروع کر دوں گا۔ یہ والی بات نہیں ہے۔ ٹھیک ہے نا؟
تو یہ میں عرض کر رہا تھا کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جیسے قبض ہے۔ اس کے مقابلے میں بسط۔ بس جی انسان کا جی چاہتا ہے کہ میں نماز ہی پڑھتا رہوں، میں ذکر ہی کرتا رہوں، میں اچھے لوگوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا رہوں۔ اس وقت انسان اپنے آپ کو بزرگ سمجھنے لگتا ہے کہ میں تو بڑا بزرگ بن گیا دیکھیں نا میرے اتنے اچھے احوال ہو گئے۔ تو نہ قبض اختیار میں ہے، نہ بسط اختیار میں ہے۔ اور میرے لیے تو یہ اتنا زیادہ واضح ہے الحمد للہ، اتنا زیادہ واضح ہے کہ میں تو الحمد للہ اس پہ ذرہ بھر شک نہیں کر سکتا۔ جب سب لوگ رو رہے ہوتے ہیں، مجھے رونا نہیں آتا۔ اور جب کوئی بھی نہیں رو رہا ہوتا، اس وقت آتا ہے۔ اب مجھے پتا ہے کہ بھئی نہ میرا رونا قبضے میں ہے، نہ نہ رونا قبضے میں ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ پتا چل گیا نا غیر اختیاری ہے، پتا چل گیا کہ غیر اختیاری ہے، بس غیر اختیاری تو مطالبہ بھی نہیں۔ جب غیر اختیاری ہے تو مطالبہ بھی نہیں۔
مطالبہ کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ سے عاجزی کے ساتھ مانگنا۔ اب چاہے وہ رونے کے ساتھ ہو، چاہے بغیر رونے۔ رونے کی شکل بنانا تو آپ کے اختیار میں ہے، وہ بنا لو۔ فليتباكوا، اس کی رونے کی شکل بنا لو، وہ تو آپ کے اختیار میں ہے۔ رونا آپ کے اختیار میں نہیں ہے۔ ٹھیک ہے، وہ آپ کے اختیار میں نہیں ہے۔ وہ تو ایک غیر اختیاری چیز ہے۔ آنسو آپ زبردستی نکال سکتے ہیں؟ کوئی زبردستی انسان آنسو نکال سکتا ہے؟ بھئی وہ یہ تو ایک غیر اختیاری چیز ہے جس کو اللہ پاک نے چالو کر دیا تو ہو گیا، نہیں تو نہیں ہوا۔ اس وجہ سے یہ قبض، اور بسط، اور شوق، اور انس، اور یہ تمام چیزیں جو ہیں، کیا ہیں؟ یہ احوال ہیں۔
احوال جو ہوتے ہیں، یہ کیا ہوتے ہیں؟ مواہب۔ الاحوال مواهب والمقامات مكاسب۔ احوال جو ہیں، کیا ہیں؟ یہ مواہب ہیں۔ اللہ تعالیٰ وہبی طور پہ دے دیتے ہیں۔ اور جو مقامات ہیں، جیسے صبر ہے، شکر ہے، توکل ہے، رضا ہے، یہ مقامات ہیں۔ ان کا باقاعدہ حکم ہے، ان کو حاصل کرنا پڑے گا۔ صبر کا حکم ہے، چاہے آپ کا جی چاہے نہ چاہے۔ صبر کا حکم ہے۔ شکر کا بھی حکم ہے۔ توکل کا بھی حکم ہے۔ رضا کا بھی حکم ہے۔ اخلاص کا بھی حکم ہے، ان چیزوں کو حاصل کرنا پڑے گا، ٹھیک ہے نا؟ تو یہ مقامات جو ہیں وہ مقاصد ہیں۔
پس خلاصہ اس کا یہ ہوا کہ تین چیزیں آ گئیں، ساری کی ساری تین چیزیں ہو گئیں۔ کچھ علوم ہیں، وہ مبادی ہیں۔ basics جس کو ہم کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ basics۔ یہ مبادی ہیں، علوم۔ اور دوسری طرف کچھ افعالِ اختیاریہ ہیں، جو objectives ہیں، مقاصد ہیں۔ ان کو حاصل کرنا۔ اور تیسری چیز وہ ایسی چیز، جو ساتھ associated ہے۔ جو ساتھ ہی آ جاتی ہیں۔ جس کے اوپر ہمارا اختیار نہیں، آنے پر بھی اختیار نہیں، اور بھگانے پر بھی اختیار نہیں ہے۔ دونوں چیزوں پہ اختیار نہیں ہے۔ لہٰذا، ہمارا کام یہ ہے کہ جو اختیاری چیزیں ہیں، اس میں کام کریں، ان کو حاصل کر لیں۔ اس کے لیے جو basics ہیں، ان کو بھی حاصل کر لیں، کیونکہ ان basics کے بغیر پتہ ہی نہیں چلے کہ حاصل کیا کرنا ہے۔ تو پھر اس کے procedure کو تلاش کرنا پڑے گا۔ procedure جو لوگ بتائیں گے، تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس جانا پڑے گا۔ اور ان کے ساتھ، اس مقصد کے لیے تعلق بنانا پڑے گا۔ پھر اس کے بعد انشاءاللہ گاڑی چل پڑے گی۔
ثالث: یہ قواعد کلیہ ہیں باقی جزئیات کا ان پر انطباق ہوتا ہے، اس میں ابتداً شیخ کی ضرورت ہے کہ اس کا درجہ طبیب کا سا ہے اور طالب کا درجہ مریض کا سا۔ طبیب سے اپنا حال کہا جاتا ہے وہ نسخہ تجویز کرتا ہے اس کا استعمال کر کے اس کو اطلاع دی جاتی ہے وہ پھر جو رائے دیتا ہے اس پر عمل ہوتا ہے اسی طرح سلسلہ جاری رہتا ہے تا حصولِ صحت۔ اسی طرح سلوک میں بھی دو امر ہیں اطلاع اور اتباع تا حصولِ مقصد، یعنی رسوخ نسبت بحق۔
یہ دیکھ لیں، یہاں پر کیا فرمایا؟ چیزیں تو یہ تین ہی ہیں۔ لیکن یہ چیزیں کیا ہیں؟ یہ قواعدِ کلیہ ہیں۔ قواعدِ کلیہ ہیں، اس کے بعد جو اس کے اوپر جو جزئیات ہیں کہ اس میں کون سی چیز کیا ہے، کون سی چیز کیا ہے، اور کتنا ہے، اور اس کے بارے میں کیا کرنا چاہیے، یہ details ہیں۔ اس کو ہم جزئیات کو کیا کہتے ہیں؟ details۔ تو ان details کے بارے میں ہم لوگ نہیں جان سکتے، کیونکہ ہر چیز کی اپنی details ہوتی ہیں۔
ایک دفعہ ایک ڈاکٹر سے بات ہوئی، یہ psychiatry کا مسئلہ تھا۔ تو ان سے میں نے کہا کہ بھئی آپ لوگ جو ہیں نا وہ جو psychiatry کے جو treatment ہوتے ہیں، tablets ہوتی ہیں، یا جو اس قسم کا دیتے ہیں۔ تو بعض دفعہ ہمیں بھی ضرورت پڑ جاتی ہے کہ لوگ ہمارے پاس آتے ہیں، اس میں تھوڑی بہت medication کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو آپ اس کے بارے میں بتائیں تاکہ میں لوگوں کو اس کے بارے میں بتا سکیں۔ تھوڑی دیر سوچ کر اس نے کہا، یہ ناممکن ہے۔ میں نے کہا، کیوں؟ کہتے ہیں بہت ساری چیزوں کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ اب ایک blood pressure کے ساتھ بھی ہے، sugar کے ساتھ بھی ہے، pulse کے ساتھ بھی، heart کے ساتھ بھی ہے، kidneys کے، تمام چیزوں کے ساتھ وہ tablets جو بھی ہوں گی۔ اب آپ کو details کا پتہ نہیں ہو گا تو آپ کیسے فیصلہ کریں گے؟ ممکن ہے غلط فیصلہ کر لیں، پھر اس کا آپ کو نقصان ہو۔ لہٰذا میرے خیال میں آپ اس کو نہ کریں۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ اس کا psychological side اپنے ساتھ پہ رکھیں، لیکن psychiatric side وہ ڈاکٹر کے پاس ہی رکھیں۔ یہ زیادہ بہتر ہے۔
میں نے کہا، مجھے آپ کا مشورہ بہت پسند آیا۔ لیکن بعینہٖ یہ چیز ہمارے ہاں بھی ہوتی ہے۔ اس میں پھر آپ کی بات نہیں چلے گی، بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ یعنی اس کی details آپ کے ساتھ ہیں۔ کیونکہ آپ اس کے ماہر ہیں۔ تو اس دوسری چیز کے details پھر ہمارے ساتھ ہیں۔ ظاہر ہے جو بھی اس کے ساتھ متعلقات ہوتے ہیں وہ پھر اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ تو پھر آپ اپنی طرف سے اس میں فیصلہ نہیں کر سکتے۔ تو اس کو بات سمجھ میں آ گئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ یہ چیزیں ہوتی ہیں، details جو ہوتی ہیں، یہ expert کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۔ details۔
یہ کوئی simple قسم کا، یہ تو ہو سکتا ہے جیسے ہیضہ آ گیا ہو۔ اب ہیضہ آ گیا ہو، ڈاکٹر کم ہوں، تو ڈاکٹروں کی board بیٹھ جائے، اور کہیں گے بھئی compounder کو کیا بتایا جائے کہ بھئی بنیادی چیزیں ہیں کہ یہ علاماتِ ہیضہ کی، اور یہ اس کی دوائی ہے، اور یہ دے دیا کرو، بس۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ موٹی موٹی علامات بتا دو، اگر کوئی complication ہو تو پھر details کے لیے پھر ڈاکٹر کے پاس۔ لیکن ڈاکٹر تھوڑے ہیں، اور ہیضہ، وباء آ جائے، تو پھر تو مریض ہی مریض۔ اس وقت اتنے ڈاکٹر کہاں ہوں گے؟ تو پھر compounder کو بھی اختیار دیا جاتا ہے، اچھا ٹھیک ہے جی، یہ دوائی ہو، اس کا package ہے۔ اس کے اندر یہ علامتیں، یہ علامتیں ہوں گی تو پھر اس کو یہ injection لگانا ہے، اور یہ دوائی دینا ہے، اور یہ پرہیز بتانا ہے، اور اپنے آپ کو ایسے بچانا ہے، یہی ہوتا ہے نا؟
تو اب وہ details نہیں بتاتے، آپ ان کو ایک package دیتے ہیں، ایک set of rules دیتے ہیں، ایک طریقہ کار دیتے ہیں، ایک basic procedure دیتے ہیں۔ اس کے بارے میں نگرانی بھی اس کی کی جاتی ہے کہ اس پہ عمل ہوتا ہے یا نہیں، کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ یا خود اپنے آپ کو مارے یا دوسروں کو مارے۔ ظاہر ہے اس کی باقاعدہ نگرانی بھی کی جاتی ہے۔ اسی طریقے سے کچھ چیزیں ہوتی ہیں جو simple، عوام کے سمجھ میں آ سکتی ہوں۔ اور ہر وہ آدمی عوام ہے-یہ بھی یاد رکھیے- جو اس فن کو نہیں جانتا ہو۔ مثلا ڈاکٹروں کے لیے سارے لوگ عوام ہیں جو ڈاکٹر نہیں ہیں۔ ہے نا ڈاکٹر صاحب؟ چاہے وہ بہت بڑا engineer کیوں نہ ہو۔ وہ عوام ہے یا نہیں ہے؟ اسی طریقے سے کسی بھی فن کو لے لو، اس کے لیے باقی لوگ جو ہوتے ہیں وہ عوام ہوتے ہیں۔ اس فن کے علاوہ جو لوگ ہوتے ہیں وہ سارے عوام ہوتے ہیں۔ اس میں یہ تخصیص نہیں ہوتی ہے کہ وہ فلاں تو یہ اتنا بڑا scholar ہے۔ بھئی scholar ہے لیکن اس میدان میں scholar ہے نا۔ اس میدان میں scholar ہے، اس میں تو عوام ہے۔ ٹھیک ہے؟ تو عوام کے لئے جو فارمولے ہوتے ہیں وہ سب کے اوپر لاگو ہوتا ہے۔
تو اب اس فن میں جو ڈاکٹر بھی آئے گا تو وہ عوام ہوں گے۔ ظاہر ہے جب اس اصلاح والی line پہ کوئی آئے گا تو جب تک وہ اس کا وہ نہیں بنے گا، اس وقت تک وہ عوام کے زمرے میں آئے گا یا نہیں آئے گا؟ اسی طرح کوئی بھی ہو۔ یہ تو ڈاکٹروں کی میں نے مثال اس لیے دی کہ ڈاکٹر کی بات discuss ہو رہی تھی۔ ورنہ سب لوگ جتنے بھی فن کے ماہر ہیں، ماہرین ہیں، وہ دوسرے فن میں عوام ہوتے ہیں۔ physicist جو ہوتا ہے وہ chemistry میں عوام ہوتا ہے۔ اور chemist جو ہوتا ہے وہ physics کے معاملے میں عوام میں آتا ہے۔ جب آپس میں ان کا مقابلہ ہوتا ہے، تو پھر وہ کہتے ہیں بھئی تم کیا جانو یہ chemistry کا field ہے اس میں میرا field ہے تمہارا field نہیں ہے۔ اس میں آپ کی بات ہے اور وہ ٹھیک کہتا ہوتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ کیونکہ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ان کی سمجھ میں نہیں آتی، کیوں؟ details کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ ٹھیک ہے نا؟ اور یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ details کی ضرورت کب پیش آتی ہے۔ یہ کوئی پتہ نہیں ہوتا۔ جیسے اس ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ آپ کو میں بتا دوں گا لیکن اس میں یہ مسائل ہیں۔ تو جہاں پر بھی مسئلہ ہو مسائل ہوتا ہے پھر آپ اس کو simplify کرتے ہیں۔ لیکن وہ جو simplified version ہوتا ہے وہ جو ہوتا ہے وہ ماہرین ہی تیار کرتے ہیں اور اس کی نگرانی بھی کی جاتی ہے۔ ٹھیک ہے؟
تو یہاں پر بھی یہ والی بات ہے کہ جو شخص بھی اس راستے پہ آنا چاہتا ہے، وہ اس کے ماہر کے پاس جائے گا۔ وہ اس کے ماہر کے پاس جائے گا۔ جب ماہر کے پاس جائے گا، تو کیا کرے گا؟ دو باتیں اس کے ساتھ لازمی ہوں گی۔ ایک تو اس کو اپنی حالت کی اطلاع کروائے گا۔ میری کیا حالت ہے۔ وہ دوسرا شخص اس کے حال کے مطابق تجویز کرے گا۔ دو باتیں ہو گئیں؟ اب کیا بات ہے، وہ پھر دیکھے گا کہ وہ اس کے اوپر عمل کرے گا تجویز پر۔ عمل کرے گا پھر اس سے کچھ احوال پیدا ہوں گے پھر اس کو اطلاع کرے گا۔ اور اسی طریقے سے interaction ہو گی۔ اور یہ interaction کا procedure وہ ماہر بتائے گا۔ یہ نہیں کہ وہ اس کے گھر کے سامنے بیٹھ جائے کہ پانچ منٹ کے بعد میرا یہ حال ہے۔ دس منٹ کے بعد میرا یہ حال ہے۔
جب بھی کسی سے کوئی چیز لی جاتی ہے تو اس کی شرط پہ لی جاتی ہے، اپنی شرط پہ نہیں۔ جب بھی کسی بھی ڈاکٹر سے آپ کوئی چیز لیتے ہو، تو کیا ڈاکٹر کی شرط پہ لیتے ہو یا اپنی شرط پہ لیتے ہو؟ وہ ڈاکٹر کہتا ہے میں اس وقت فارغ ہوں۔ یہ میرا private time ہے، آپ جا سکتے ہو اس کے پاس؟ نہیں جا سکتے۔ ظاہر ہے وہ اس کا private time ہے، ٹھیک ہے، ظاہر ہے اس نے private کام کو بھی تو کرنا ہے نا۔ تو ایسی صورت میں وہ وہ آپ کو entertain نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں میرے clinic کا time ہے اس میں آپ آئیں گے۔ پہلے appointment لیں گے۔ کیونکہ مجھ سے دوسرے لوگ بھی میرے پاس آتے ہیں۔ اب وہ کہے نہیں جی میرا کام بڑا اہم ہے۔ کہتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والا تو کون ہے؟ تیرا کام بڑا اہم ہے باقی لوگوں کا کام آپ کو کیا پتا؟ کہ کس کا کیا کام ہے۔ تو اس کا یہ ہے کہ جس سے بھی لیا جاتا ہے، اس کی شرط پہ لیا جاتا ہے۔ اپنی شرط پہ نہیں لیا جاتا۔ جو اپنے شرط پہ لینا چاہتا ہے وہ محروم رہتا ہے۔ ہمیشہ کا قانون ہے۔ جو اپنی شرط پہ لینا چاہتا ہے وہ محروم رہتا ہے۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے ہارون الرشید نے کہا میرے شہزادوں کو آپ پڑھائیں۔ اس نے کہا ٹھیک ہے۔ آپ تشریف لائیں ہمارے ہاں۔ فرمایا ممکن نہیں۔ میں تو مدینہ منورہ سے نکلتا نہیں۔ اچھا، تو پھر آپ کے درس میں بھیج دیں لیکن ان کو آپ علیحدہ پڑھائیں۔ فرمایا ممکن نہیں۔ علم کے لحاظ سے سب برابر ہیں۔ اگر یہ سب کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں تو بیٹھ جائیں، نہیں تو میرے پاس وقت نہیں۔ ان کے لیے علیحدہ وقت میرے پاس نہیں ہے۔ صاف انکار کر دیا۔ بادشاہ کو مجبور ہونا پڑا کہ اپنے شہزادوں کو امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے درس میں بغیر کسی امتیاز کے بٹھائے۔ کیونکہ اس کو پتہ تھا کہ انہوں نے نہیں ماننا۔ ٹھیک ہے نا؟
وجہ کیا تھی، اس کی اصلاح کرنی ضروری تھی کہ بھئی یہ والی بات کہ جب بھی آپ مانگیں گے تو کسی سے بھی مانگیں گے، تو اس کی شرط پر مانگیں گے، اپنی شرط پر نہیں۔ جب آپ نے اپنی شرائط طے کروانی شروع کر دیں تو پھر اس کا ہے محرومی کا دن شروع ہو گیا۔ کیوں؟ ایسے مصلح کے اوپر آپ جبر اگر کریں گے تو اس کا دل آپ کے ساتھ نہیں ہو گا۔ اور یہ کام ذہن کا ہے نہیں۔ جب دل آپ کے ساتھ نہیں ہو گا، ذہن کا ہے نہیں، تو آپ اس کا زیادہ سے زیادہ ذہن کو تو کنٹرول کر سکتے ہیں دل کو تو نہیں کنٹرول کر سکتے۔ دل کے بارے میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ارشاد فرمایا یا اللہ میں جہاں تک میرے اختیار میں ہے سب بیویوں کے درمیان عدل کرتا ہوں لیکن دل کا معاملہ تیرے سپرد ہے، اے اللہ اس پہ میرا قابو نہیں ہے۔ دل کس کی طرف جھکتا ہے؟ یہ تو تیرے قبضے میں ہے، یہ تو اس میں میں کچھ نہیں کر سکتا۔ یہ میرے لیے غیر اختیاری ہے۔ لیکن معاملہ سب کے ساتھ اختیاری طور پہ جو ہوگا، وہ سب کے ساتھ برابر ہوگا۔ کلیہ بتا دیا یا نہیں بتایا؟
تو یہ معاملہ جو ذہن کا ہے نہیں۔ تو اب مجھے بتا دیں کہ آپ اس کا دل اب جب تک آپ نے نہ لیا ہو، اس وقت تک آپ کو کیسے فائدہ ہوگا؟ دل آپ اس کا تب لے سکیں گے جب اس کے اصولوں پہ چلیں گے۔ جب اس کے طریقے پہ چلیں گے، جب وہ جیسے بتائیں گے اس طریقے پہ کریں گے، تو پھر وہ ہوگا۔ تو یہ باتیں بہت ضروری ہیں۔ بعض چیزیں اس میں ایسی ہوتی ہیں کہ وظیفہ ایک ہوتا ہے۔ لیکن دیتے وقت جو دینے والے کی قلبی کیفیت ہے وہ اس کے ساتھ ساتھ ٹرانسفر ہو رہی ہوتی ہے۔ اب بتا دو۔ اس کے پھر کوئی کیا کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ جو اس کی قلبی کیفیت ٹرانسفر ہو رہی ہے۔ جو اس کو enhance کر رہی ہے یا پھر گرا رہی ہے، تو ایسی صورت میں تو پھر ظاہر ہے نتیجہ تو مختلف آئے گا نا۔ نتیجہ مختلف آئے گا۔ تو لہٰذا جب دل لینے والی بات ہے، تو پھر انہی کے اصولوں پہ کرنا ہو گا۔ جیسے اصول وہ طے کر لیں، اسی طریقے اور وہ اصول بے شک آپ کو کتنے ہی کمزور نظر کیوں نہ آئیں۔ لیکن ملے گا انہی اصولوں پر۔ کیوں؟ اللہ تعالیٰ کی مدد اس میں شامل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد اس میں شامل ہوتی ہے۔
اگر طریقے سے کام کیا جائے، تو لاکھوں کا کام بن سکتا ہے۔ بے طریقے کا کام کیا جائے، تو دو کا بھی نہیں بن سکتا۔ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پہ نوے لاکھ لوگ مسلمان ہوئے تھے نا۔ نوے لاکھ لوگوں تک آج کل کے دور میں بات پہنچانا مشکل ہے۔ آج کل کے دور میں، صرف بات پہنچانا، اب مجھے بتائیں نوے لاکھ لوگوں کو کیسے بات پہنچائیں گے؟ سب کو جمع کرنا ممکن ہے؟ آپ ان کو کسی ریڈیو کے سامنے بٹھا سکتے ہیں سب کو؟ سب کو ٹی وی کے سامنے بٹھا سکتے ہیں؟ نوے لاکھ لوگوں کو؟ بھئی کیا ہے؟ چوں چوں کا مربہ ہے، پتا نہیں کوئی کہاں ہے کوئی کہاں ہے۔ کیسے آپ کریں گے؟ آج کل کے دور میں ممکن نہیں ہے۔ تو اس دور کے اندر کیسے ممکن ہو گیا؟ مجھے بتا دیں آپ۔ یہ کیسے ممکن ہوا؟ اللہ کی مدد تھی نا۔ تو اللہ کی مدد کے بغیر یہ کام نہیں ہو سکتے، اور جب اللہ کی مدد ہوتی ہے تو پھر ایسے ہوتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جتنے بھی غزوات ہوئے ہیں دونوں طرف سے صرف چودہ سو لوگ کام آئے ہیں۔ ان میں مسلمان جو شہید ہوئے وہ بھی شامل ہیں، جو کفار مر گئے وہ بھی شامل ہیں۔ چودہ سو کے loss پر اتنی بڑی achievement، کوئی تصور کر سکتا ہے؟ اندازہ کریں۔ انقلاب آ گیا اور ایسا انقلاب جس نے دنیا کو ہلا دیا۔ لیکن وہ صرف چودہ سو آدمی کام آئے جس میں مسلمان بھی شہید ہوئے اور جو کافر ہیں وہ بھی۔ اتنی بڑی اللہ تعالیٰ کی مدد اس میں شامل تھی۔ تو اس کا یہ ہوا کہ یہ بنیادی بات ہے کہ جو برکت ہے نا برکت، وہ بہت بڑی چیز ہوتی ہے۔ لیکن وہ تب ہی ہوتی ہے جب ان اصولوں کا اتباع کیا جائے۔
اور ایک دفعہ ایسا ہوا کہ وہ پہلی دفعہ جو مجھ سے لوگ بیعت تھے، تو ان کو جب پتہ چلا کہ سلسلے کا فروغ ہو گیا اور بہت سارے لوگ بیعت ہو گئے نا تو ان کے ساتھ بڑی فکر ہو گئی۔ تو مجھے انہوں نے اطلاع پہنچائی کہ اب تو ہماری باری نہیں آئے گی۔ اب تو ہماری باری کیسے آئے گی؟ ظاہر ہے اتنے سارے لوگ ہو گئے۔ تو میں نے ان کو ایک جواب دے دیا۔ میں نے کہا دیکھو اگر کسی افسر کو ایک mess میں سو آدمیوں کو کھانا مہیا کرنے پہ مقرر کیا گیا ہو۔ اور سو پیکٹس اس کے لئے ان کو ملتے ہوں۔ اب اگر وہ افسر ترقی کر لے اور اس کو ہزار کے mess پر نگران بنا دیا جائے۔ اور ہزار لوگوں کے پیکٹس اس کو مہیا کئے جائیں، کچھ مسئلہ ہو گا؟ کچھ مسئلہ ہو گا؟ بہت صحیح بات ہے۔ تو آپ اس کی فکر نہ کریں کہ لوگ زیادہ ہو گئے۔ اپنا تعلق مضبوط کریں۔ وہ آپ کے اپنے دل میں ہے۔ آپ کے مسئلے کا حل آپ کے دل میں موجود ہے۔ آپ کے مسئلے کا حل آپ کے دل میں موجود ہے۔ شیخ کا معاملہ تو اللہ کے سامنے ہے وہ تو سب کے لیے ہے۔ اس میں مسئلہ نہیں ہے۔
اس کے الطاف شہیدی تو ہیں مائل سب پر تجھ سے کیا بیر تھا گر تو کسی قابل ہوتا
وہ تو اللہ کے ظاہر ہے وہ تو سب کے اوپر مائل ہے۔ وہ کیا بات ہے کہ تجھے نہیں ملا اور باقی، نہیں نہیں اگر، اگر تجھ میں کوئی بات ہوتی تو ضرور تجھے بھی ملتا۔ نہیں ملا تو کچھ نہ کچھ مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کو تلاش کرو۔ اور وہ مسئلہ اختیاری ہو گا، یہ بھی یاد رکھیے۔ وہ مسئلہ اختیاری ہو گا۔ وہ غیر اختیاری نہیں ہو گا۔ کوئی درمیانی گڑبڑ ہو گی، وہ اختیاری گڑبڑ ہو گی۔ جو کہ مسئلہ بن رہا ہے۔ اس مسئلے کو تلاش کر لو، بس اس مسئلے پہ قابو پا لو، آپ کو بھی مل جائے گا، سب کو ملتا ہے۔ دینے والا تو اللہ ہے انسان تو نہیں ہے۔
تو یہ والی میں یہ بات عرض کرتا ہوں یہ باتیں اس لیے ضروری ہیں کہ آج کل ان چیزوں کے بارے میں ایسے اشکالات ہوتے ہیں کہ شیطان پھر ان کو بہت دور لے جاتا ہے۔ مایوس کر دیتا ہے اور یہ بالخصوص اس لائن کا جو مایوس ہوتا ہے پھر کہیں نہیں چلتا۔ کیونکہ ایک انسان ہے، بھئی میں ادھر پہنچ گیا وہاں بھی میرا کام نہیں ہو گیا، تو پھر اس کے بعد کہاں ہو گا؟ لہٰذا ایسا مایوس ہو جاتا ہے بیچارہ، جس کو چکنا گھڑا کہتے ہیں نا، چکنا گھڑا بن جاتا ہے پھر اس کے اوپر کوئی چیز اثر نہیں کرتی۔ وہ کہتا ہے بس ٹھیک ہے جی رلتے رہو، تم ہو ہی اس طرح، تمہاری قسمت ہی ایسی ہے۔ اب جب اس کے ذہن میں یہ بات آ جائے پھر اس کو اس کی اصلاح کی امید کیا کی جائے۔ مایوس۔ مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ مایوسی جو ہے کفر کے قریب کر دیتی ہے۔ مایوس نہیں ہونا چاہیے، عمل کرنا چاہیے لیکن اصولوں کے ساتھ، تو یہ اصول آپ کے سامنے آ گئے ہیں۔ تو یہ دو باتیں تو یہاں پہ طے ہو گئیں اطلاع اور اتباع۔
تیسری بات بھی حضرت نے مختلف اوقات میں کی ہے لیکن جب آئے گا تو آئے گا لیکن میں اس کے ضمن میں کر لیتا ہوں۔ تیسری بات یہ ہے اعتقاد، یہ اعتقاد کہ میرا شیخ میرے لیے سب سے زیادہ مفید ہے۔ بے شک کوئی بہت بڑا شیخ کیوں نہ ہو دوسرا، آپ اس کی بڑائی سے انکار نہ کریں کیونکہ وہ اللہ کی دین ہے۔ اس کی بڑائی سے انکار نہ کریں لیکن کہیں میرے لیے میرا شیخ سب سے بڑا ہے۔ یہی سب سے بڑی چیز ہے۔
ایک دفعہ حضرت میخبند بابا جی رحمۃ اللہ علیہ بہت بڑی نسبت والے تھے تقریباً 140 سال کی عمر میں فوت ہوئے، پہاڑ میں رہتے تھے بہت اونچی نسبت تھی، سادات میں سے تھے۔ اور قادری سلسلہ نقشبندی سلسلے کے بہت بڑے شیخ تھے۔ ان کی خدمت میں ہم گئے۔ اب ظاہر ہے ان کے جو احوال تھے حالات تھے متاثر ہونا تو ضروری تھا۔ متاثر ہو گیا نا میں بھی متاثر ہو گیا کہ بھئی اتنا بڑا عمر کا اور پتہ نہیں کتنے بزرگوں سے ملا ہے اور کیا کیا کیا ہوا ہے اور پہاڑ میں ابھی تک رہتا ہے اور اللہ پاک نے ان کو کیا کیا کچھ دیا ہوا ہے یہ ذہن کا اثر تو ہونا تھا نا۔ ہو گیا۔ اب بچانے والا بھی تو ہے نا۔ اللہ بچاتا ہے۔ لیکن انسان اگر بچنا چاہے تو۔ اللہ بچاتا ہے۔ حضرت کی مجلس میں میں بیٹھا ہوں۔ مجھے کشف نہیں ہوتا۔ یقین جانیے میں آپ کو لکھ کے دے سکتا ہوں مجھے کشف نہیں ہوتا۔ بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے وہ بتاتے ہیں کہ ان کو کشف ہے، کشف مجھے نہیں ہوتا۔ کیونکہ کشف کوئی مقصود چیز ہے نہیں۔ اس کے لیے نہ رویا جائے نہ اس کے لیے بولا جائے۔ ٹھیک ہے، جس کو دیتے ہیں تو ویسے ہی دے دیتے ہیں بغیر بولنے کے بغیر رونے کے دے دیتا ہے، اور جس کو نہیں دیتا وہ تو رونے کے ساتھ بولنے کے ساتھ بھی نہیں دیتا، ٹھیک ہے نا؟ تو یہ کوئی ایسی چیز نہیں جس کے بارے میں فکر کی جائے۔ تو مجھے کشف نہیں ہوتا۔
لیکن اس وقت مجھے جو محسوس ہوا وہ صرف محسوسات کے دائرے کی بات ہے۔ مجھے میں اس کو کشف بھی نہیں کہہ سکتا میں اس کو صرف محسوسات کہہ سکتا ہوں۔ محسوس یہ ہو گیا کہ جیسے میرے ارد گرد پورا ایک دائرہ ہے۔ اپنے شیخ کا مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا۔ جس سے میں نکل نہیں سکتا۔ اب یہ میں محسوسات ہی کہوں گا نا اس کے بارے میں مجھے کیا پتہ کہ یہ کیا چیز تھی۔ اللہ کو پتہ اللہ کو علم۔ تو میں اس سے نہیں نکل سکتا۔ اس وجہ سے میری طبیعت پہ زبردست قسم کا انقباض طاری ہو گیا۔ جس کو تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی محسوس کر لیا۔ تو بعد میں مجھ سے پوچھا آپ کی طبیعت پہ میں انقباض دیکھ رہا تھا۔ کیا وجہ تھی؟ میں نے کہا حضرت بس کوئی بات تھی۔ میں نے ان کو نہیں بتایا کیونکہ ان کے تو شیخ تھے نا۔ میخبند بابا جی ان کے شیخ تھے، میں نے کہا ان کو ذرا بات ایسا محسوس نہ ہو، لہذا میں نے ان کو یہ بات نہیں بتائی، میں نے کہا بس ایسی کوئی بات تھی۔
خیر، رات کو میں نے خواب دیکھا کہ ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب بہت زیادہ عمر کے ہیں۔ بہت زیادہ عمر کے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے علاج آ گیا۔ یہ علاج تھا کہ چونکہ میں ان کی عمر سے متاثر تھا تو اللہ پاک نے مجھے دکھا دیا کہ تو اس کو نہ دیکھ تیرے لیے تیرا شیخ بہت اونچی عمر کا ہے۔ تجھے سب کچھ یہاں سے ملے گا۔ تجھے سب کچھ یہاں سے ملے گا۔ تجھے سب کچھ یہاں سے ملے گا تو کیوں، دینے والا تو خدا ہے نا۔ بھئی ایک کھڑکی یہ بھی کھڑکی ہے وہ بھی کھڑکی ہے۔ اس کھڑکی سے دینے والا بھی خدا اس کھڑکی سے دینے والا بھی خدا، تو تمہیں کسی بھی کھڑکی کے سامنے کھڑا کیا جائے بس تم اس کھڑکی کے سامنے کھڑے ہو جاؤ نا تمہارا کام تو کھڑا ہونا ہے اس کے بعد وہ دینے والا تو خدا ہے نا۔ اب ادھر کا آدمی جو بیٹھا ہوا ہے وہ بھی خدا نے بٹھایا ہے، اس آدمی کو بھی خدا نے بٹھایا ہے، دینے والا تو خدا ہے۔ تو مانگنا تو خدا سے ہے نا۔ چاہے وہ کسی بھی ذریعے سے آپ کو دلوا دے، لیکن مانگنا تو خدا سے ہے نا۔ تو یہ بات سمجھ میں آ گئی نا۔
تو یہ بات یہ ہے کہ یہ جب لوگ اس اس قسم کی بات کرتے ہیں اوہ فلاں شیخ، افوہ، آپ حضرات جانتے ہوں گے، حدیث شریف میں، احادیث شریف کا جو رجال کا جو فن ہے۔ اس میں ایک اصطلاح ہوتی ہے۔ اور وہ اصطلاح ہوتی ہے مدلس کی۔ تدلیس۔ وہ اصطلاح یہ کہلاتی ہے کہ کوئی اپنے استاد پر شرمائے۔ اس کا نام نہ لے اور اس کے استاد یا اس سے بڑے کا نام لے کہ میں نے اس سے سنا ہے۔ اگر یہ کسی پہ ثابت ہو جائے تو اس کو حدیث کے فن میں کہتے ہیں یہ مدلس ہے۔ اس کی حدیث کمزور ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اس کو اپنے شیخ کا نام ظاہر کرنے پہ شرم آ رہا ہے۔ یہ کمزوری ہے۔ میں آپ، میں نے آپ کو حدیث کے فن کی دلیل دی ہے۔ جو ظاہر سے تعلق رکھتی ہے۔ ٹھیک ہے نا، تو اس میں ، تو اس کا ہے جو اپنے شیخ پہ شرمائے کہ میرا شیخ چھوٹا ہے۔ اور دوسرے کا تو وہ مدلس ہے طریقت میں۔ اس کا کچھ بھی نہیں ہو گا۔ وہ مدلس ہے۔ اس کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔
کیونکہ ملتا ہر ایک کو اس اعتقاد کے مطابق ہے۔ تو اس کا اعتقاد اس کے ساتھ کیا ہے۔ جس کا اعتقاد جس درجے کا ہوگا اس درجے کا اس کو ملے گا۔ لہذا کہتے ہیں ہمارے اکابر نے لکھا ہے کہ اپنے شیخ کو تمام مشائخ سے اپنے لیے زیادہ مفید سمجھو۔ آپ کو اسی کے مطابق ملے گا۔ آپ نے ان کے ساتھ جو اعتقاد منسوب کیا ہے وہی اسی اعتقاد کے مطابق ملے گا کیونکہ دینے والا خدا ہے۔ آپ کا اعتقاد یہ tap کو کھولنے کی بات ہے۔ آپ اپنا tap کو جتنا کھولیں گے تو اتنا پانی آئے گا۔ ٹھیک ہے نا۔ پانی تو نل کے ذریعے سے ٹینکی سے آ رہا ہے۔ tap میں تو نہیں ہے tap تو خالی ہے۔ جب تک وہ نلکے کے ساتھ وابستہ نہ ہو تو tap میں کیسے پانی آئے گا۔ آئے گا تو نل کے ذریعے سے ٹینک سے آئے گا۔ تو کھولیں گے آپ تو وہ جو آپ کا اعتقاد ہے وہ کھولنا ہے۔ اس کے ساتھ رابطہ اطلاع اتباع اعتقاد۔ ٹھیک ہے نا یہ کیا چیز ہے یہ آپ کا کھولنا ہے۔
تو جب یہ والی بات سمجھ میں آ گئی تو اس کے بعد پھر چوتھی بات ہے انقیاد۔ اپنے آپ کو شیخ کے ساتھ مقید رکھنا۔ بس اسی کا ہو کے رہ جانا۔ کسی اور کے ساتھ اس سلسلے میں رابطہ نہ کرنا۔ یعنی اس روحانی علاج کے لیے کسی اور کے ساتھ رابطہ نہ کرنا۔ ٹھیک ہے آپ سب کو بڑا سمجھیں سب کی عزت کر لیں مسئلے مسائل سب سے پوچھیں۔ مسئلوں پہ کوئی پابندی نہیں ہے۔ اگر میں مثال کے طور پر میں نماز سیکھنا چاہتا ہوں آپ ایک بچے سے بھی سیکھ سکتا ہوں۔ اس پہ کوئی پابندی نہیں ہے۔ لیکن اگر ایک شخص ایک عام شیخ سے بیعت ہے۔ ایک آدمی ایک عام شخص سے بیعت ہے۔ وہ اس وقت کے قطب الاقطاب سے بھی اپنا حال ظاہر نہیں کر سکتا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا۔ وہاں اس کو نقصان ہو جائے گا۔
مسئلہ ہر ایک سے پوچھ سکتا ہے۔ ظاہر جو مسائل ہوتے ہیں وہ ہر ایک سے پوچھے جا سکتے ہیں کہ اس کے اوپر کوئی پابندی نہیں۔ استاذ آپ کے ہزار سے بھی زیادہ ہو جائے تو کوئی پرواہ نہیں شیخ ایک ہونا چاہیے۔ استاذ اور شیخ میں فرق ہے۔ استاذ آپ کو جو چیز سکھاتا ہے ظاہر کا اس کا check ظاہر کا ہے لہذا اس میں کوئی فرق نہیں۔ لیکن یہ جو شیخ والا معاملہ ہے یہ آپ کے دل کے تاروں کو چھیڑ رہا ہے۔ یہ والا معاملہ گڑبڑ ہے۔ اگر یہ آپ نے کئی لوگوں کو لگا دیا ایک اس طرف کھینچے گا دوسرا اس طرف کھینچے گا درمیان میں آپ کا حشر ہو جائے گا۔ پھر کیا کرو گے۔ تو اپنا دل کو expose نہ کرو سب کے سامنے۔ دل کو expose نہ کرو۔ یہ معاملہ جدا ہے. ہاں! علمی line وہ آپ کا کھلا ہے۔ اور یہ معاملہ بہت کم لوگوں کو سمجھ میں آتا ہے۔ بہت کم لوگوں کو سمجھ میں آتا ہے۔
ابھی میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ ہمارے یہاں پر plumbing کا مسئلہ ہے۔ تو ابھی ہم تلاش میں ہیں کہ یہ کس نے یہ کام کیا ہے کہ جس نے یہ کام کیا ہے اسی سے اس کو ٹھیک کروایا جائے۔ کیونکہ پھر یہ ہوگا کہ باقی لوگوں کو تو ساری چیزیں ڈھونڈنی پڑیں گی نا۔ کہ بھئی کہاں کہاں پر کون سے وہ لیکن جس نے وہ کام کیا اس کو پتہ ہوتا ہے کہ میں نے کون سا کام کدھر کیا ہے۔ وہ میں نے ہرنیا کا آپریشن کیا ہوا تھا تو اس کے ساتھ کچھ مسائل پیدا ہو رہے تھے تو ڈاکٹر آپ کے پرنسپل جو تھے، پروفیسر اقبال صاحب ان سے کروایا تھا۔ تو ان کے پاس یا تو میں نے ان سے کہا کہ یہ مسئلہ ہے کہتے ہیں i know it better میں نے خود کیا ہے مجھے پتہ ہے اس کے اندر میں نے کیا کیا ہے۔ اب دیکھ لیں اس کو دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں ہے اس کو کہتے ہیں میں نے مجھے پتہ ہے کہ اس کے اندر میں نے کیا کیا ہے۔ بس چپ ہو جاؤ آپ۔ سب کچھ ٹھیک ہے۔ اب وہ اتنے confidence سے کون کہہ سکتا تھا۔ کوئی اور سرجن کہہ سکتا تھا۔ بے شک اس سے بڑا سرجن ہو۔ وہ کہہ سکتا تھا؟ وہ نہیں کہہ سکتا تھا کیونکہ اس کو پتہ ہی نہیں تھا وہ تو اس نے پھر دوبارہ دیکھنا تھا۔ چاہے وہ ultrasound کے ذریعے دیکھے چاہے وہ کسی اور ذریعے سے دیکھے۔ چاہے دوبارہ operation کر کے دیکھے لیکن بہرحال وہ تو نہیں کر سکتا تھا۔
وہ میں نے اس کو بتایا وہ ڈاکٹر ہاشمی صاحب کو اپنے بیٹے کا ہرنیا کا آپریشن کروانا تھا۔ تو یہ ایسا عجیب آدمی تھا چھوٹا سا تھا میرا خیال میں تین سال کا یہ تین تین سیڑھیوں سے اے ہوں کر کے چھلانگ مار لیتا تھا۔ تو یہ اس کا مشغلہ تھا احمد کی بات کر رہا ہوں یہ اس طرح کرتا تھا۔ تو اس پر ہمیں بڑا مشکل تھا کہ ہرنیا کا operation ہے اور اس میں تو بڑی احتیاط ہوتی ہے پھر اس کے بعد post operation بڑی احتیاط ہوتی ہے۔ اور اس کا یہ operation کریں گے بچہ ہے اس نے تو چھلانگ لگانی ہے۔ یہ کیا کرے گا۔ تو ڈاکٹر ہاشمی صاحب سے میں نے کہا۔ میں نے کہا یہ میرا بچہ ہے یہ تو تین سیڑھیوں سے چھلانگ لگاتا ہے۔ تو اگر اس کا آپ نے آپریشن کیا اور اس کے بعد اس نے سیڑھیوں سے چھلانگ لگائی تو کیا ہوگا۔ کہتے ہیں مجھے بچوں کا پتہ ہے میں بچوں کا آپریشن جب کرتا ہوں میں تمام چیزوں کا خیال رکھتا ہوں۔ یہ بے شک اگلے دن چھلانگ لگائے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ ٹھیک ہے جی الحمدللہ تو ٹھیک ہی ہو گیا۔
تو میں عرض کرتا ہوں یہ ہوتے ہیں ہر چیز کا جو ماہر ہوتا ہے۔ وہ اس چیز کو جانتا ہے کہ میں علاج کس کا کر رہا ہوں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ میں نے اس میں کیا کیا ہوا ہے۔ آپ دیکھ لیں ایک ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں وہ آپ کا family doctor ہے۔ آپ اسی کے پاس جاتے ہیں اور آپ اس سے سب کچھ آپ اس سے دوائیاں وغیرہ کراتے ہیں علاج وغیرہ کرواتے رہتے ہیں۔ اب کسی وقت آپ کو کوئی مسئلہ ہوا تو آپ کسی بھی ڈاکٹر سے ٹیلیفون پر مشورہ لے کر وہ علاج نہیں کروا سکتے advisable نہیں ہے۔ جب تک وہ check نہ کرے۔ لیکن جو آپ کا فیملی ڈاکٹر ہے اس سے کروا سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ آپ کی رگ رگ کو جانتا ہوتا ہے کہ آپ کے ساتھ کیا کیا مسائل ہیں۔ آپ نے کہہ دیا جی اب تو میرا یہ مسئلہ ہے انہوں نے کہا نہیں نہیں اس کے ساتھ یہ کر لو بس یہ دوائی دو اس کو یہ ٹھیک ہو جائے گا۔ کبھی کہتے ہیں نہیں اس کو دوائی دینے کی ضرورت ہی نہیں۔ یہ ویسے مسئلہ ہے۔ کیوں؟ اس کو اتنا سارا ڈیٹا آپ نے دے دیا ہے۔ اتنی ساری انفارمیشن آپ کی اس کے پاس ہے کہ وہ آپ کو دوبارہ تازہ انفارمیشن کی اس کو ضرورت نہیں ہے۔ وہ بس ٹھیک ہے اپنے علم کو اور بصیرت کے ذریعے سے اس نئے situation کے اندر وہ فورا فیصلہ کر سکتا ہے۔
یہی ایک شیخ کا بھی ہوتا ہے کہ جس شیخ کے ساتھ آپ کا مستقل تعلق ہوتا ہے۔ وہ بعض دفعہ آپ اس کے سامنے گزریں گے نا تو اس کو پتا چل جائے گا اس کے ساتھ کیا ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ کیا مسئلہ ہے۔ وہ آپ کے احوال کھول دیں گے ان کے اوپر۔ تو اس کا یہ ہوا کہ یہ یہ چیز لازمی ہو گئی کہ شیخ ایک ہونا چاہیے۔ استاد کئی ہو سکتے ہیں۔ یہ بات بہت ہی زیادہ ضروری ہے۔
تو چار چیزیں حضرت خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے۔ ایک بیت میں فرمایا۔
چار حق مرشد کے ہیں رکھ ان کو یاد اطلاع و اتباع و اعتقاد و انقیاد
یعنی چار چیزوں کو یاد رکھنا چاہیے۔ ایک اطلاع ہے، آپ اطلاع کریں گے۔ ایک اتباع ہے، جو بتائیں گے اس کو فالو کریں گے۔ تیسرا اعتقاد ہے کہ یہ میرے لیے سب سے زیادہ مفید ہے، افضل نہ کہو۔ افضل اللہ کا معاملہ ہے۔ اس کا تو اس شخص کو بھی پتہ نہیں، جس کو افضل کہتے ہیں اس کو بھی پتہ نہیں۔ اور جس پر ترجیح دے رہے ہو، اس کو بھی پتہ نہیں۔ آپ کو بھی پتہ نہیں۔ یہ صرف اللہ کو پتہ ہے۔ لہذا افضل کا معاملہ تو ہم اللہ کے حوالے کرتے ہیں، افضل نہیں۔ لیکن مفید۔ مفید اور چیز ہوتی ہے، افضل اور چیز ہوتی ہے۔ ایک چھوٹا ڈاکٹر آپ کے لیے مفید ہو گا، دوسرا اس سے افضل ہو گا۔ ٹھیک ہے نا؟ تو افضل نہ کہیں، آپ میرے لیے مفید کہہ لیں۔ سب سے زیادہ مفید آپ کے لیے وہی ہے۔ اور جب وہ مفید ہے تو آپ اسی کے ساتھ لگے رہنا ہے۔ اسی کے ساتھ۔ بس اسی کے ذریعے سے اللہ پاک آپ کی مدد کرے گا۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ اللہ تعالی ہم سب پر رحم فرمائے۔
اگر کوئی سوال جواب ہو تو کر لیں پھر اس کے بعد ان شاء اللہ دعا کر لیتے ہیں۔ relevant question. ادھر ادھر کی نہیں کیونکہ وہ پھر پھر اس کا ہے کہ وقت دوسری چیزوں میں لگ جائے گا۔ اس سے متعلقہ کوئی سوال ہو۔ میری بات سمجھ آ گئی؟ وہ تینوں چیزیں سمجھ میں آ گئیں تین جو کلیات تھے؟ وہ سمجھ میں آ گئی یہ بات؟ کوئی سوال ہے؟
سوال: عام طور پہ یہ بیعت ہوتے ہیں، تو وہ اکثر یہ جو لوگ ہیں نا، وہ کہتے ہیں جی کہ آپ نے دوسری طرف دیکھنا نہیں ہے، کسی سے پوچھنا نہیں ہے، مطلب یہ ہے کہ اگر آپ نے سوچا بھی کسی اور کا تو وہ شرک میں آ جائے گا، یا اس طرح سے ہے۔ (سخت سخت الفاظ بولتے ہیں) پہلی اٹیمپٹ میں۔
جواب: یہ آپ نے اچھا سوال کیا، اس میں واقعی ایک طرف میرا دھیان نہیں رہا۔ اگرچہ آپ نے وہ سوال نہیں کیا، لیکن اس سے میرا دھیان ایک خاص بات کی طرف چلا گیا۔ تو وہ میں عرض کرتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ یہ میں نے آپ کو ساری انتظامی باتیں بتائی ہیں۔ انتظامی باتیں ہیں۔ انتظامی باتیں یہ ہیں کہ اس طریقے سے آپ زیادہ بہتر طریقے سے حاصل کر سکتے ہیں۔ ٹھیک ہے نا؟ اب اگر اس کے اوپر کوئی عمل نہیں کرتا تو وہ کتنا deviation کر رہا ہے اس کی وجہ سے اس کو اتنا نقصان ہو سکتا ہے۔ ٹھیک ہے۔
باتیں بعض دفعہ عوام کے لیے سخت بنا دیتے ہیں تاکہ عوام چونکہ عوام کو آپ کو پتا ہے نا وہ ہمارے مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ نماز کے اندر آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ملنے کے لیے کچھ گنجائشیں ہیں۔ یعنی انسان ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے، آگے پیچھے ہو سکتا ہے، اس کی کچھ گنجائش ہے، اس کے کچھ طریقے ہیں۔ لیکن اگر ہم عوام کو یہ بات بتائیں تو وہ نماز کو کبڈی بنا لیں گے۔ تو کبڈی بناتے ہیں نہیں بناتے پھر؟ جو لوگ عوام ہیں اور ان چیزوں میں درمیان میں مداخلت کرتے ہیں پھر وہ نماز کو کبڈی بناتے ہیں نہیں بناتے؟ تو یہی بات ہے کہ عوام کو آپ strict rules بتاتے ہیں۔ اس میں بعض لوگوں سے ذرا تشدد بھی ہو جاتا ہے، کہ وہ ذرا تھوڑی سی سختی کے ساتھ بتا دیتے ہیں تاکہ وہ ذرا prohibited area میں نہ چلے جائیں۔prohibited area میں نہ چلے جائیں تاکہ یہ ہے کہ نقصان نہ ہو۔ اس وجہ سے الفاظ بعض دفعہ سخت ہو جاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف انتظامی بات ہے۔ جس طریقے سے میں نے بتا دی۔
البتہ اس میں ایک اور انتظامی بات ہے۔ ایک شخص ہے کسی بزرگ سے بیعت ہوا۔ لیکن اب اس کے ساتھ اس کا کوئی رابطہ ہے نہیں۔ اور ہو نہیں سکتا یا فوت ہو گئے، یا فوت نہیں ہوئے بہت کمزور ہیں، اس کے ساتھ رابطہ نہیں ہو سکتا، کمزور نہیں لیکن ایسی جگہ پر ہیں جہاں اس کے ساتھ رابطہ نہیں ہو سکتا۔ مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں تصوف ہی کے اندر ایک provision ہے۔ اور وہ provision یہ ہے شیخِ تعلیم کی، کہ اس وقت آپ جب دیکھتے ہیں کہ بھئی اب میرا ان سے رابطہ نہیں ہو سکتا، تو آپ کسی اور شیخ کو جس کے ساتھ آپ یہ commitment کر سکتے ہیں اور آپ ان کے ساتھ اس طریقے سے چار چیزیں arrange کر سکتے ہیں، اطلاع، اتباع، اعتقاد و انقیاد۔
تو پھر صرف اسی کو کر لو، پھر وہی آپ کا شیخ کی طرح ہو جائے گا، بے شک آپ نے بیعت نہ کی ہو۔ لیکن پھر یہ نہیں ہے کہ آپ کبھی ادھر، کبھی ادھر، یہ والی بات نہیں ہوگی پھر۔ پھر اس کے ساتھ ایسا معاملہ کریں گے۔ لیکن یہ rare case ہوتا ہے، یہ ایک جس کو ہے عام قاعدہ نہیں ہے۔ عام قاعدہ اگر اس کو بنا لیں گے تو پھر وہی مسئلہ ہو جائے گا۔ تو بعض صورتوں میں بعض کے مشائخ کے ساتھ رابطہ نہیں ہو سکتا جیسے مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم بہت بڑے شیخ ہیں۔ بہت بڑے شیخ ہیں اس کو چار سال پہلے ہم بھی گئے تھے حضرت کے ساتھ ملنے کے لیے الحمد للہ ہم بھی حاضر ہو گئے تھے۔ ہمارے سب کے بزرگ ہیں ہماری دعاؤں کی جگہ ہیں۔ لیکن حضرت آج کل اس دور میں ہیں کہ وہ تربیت والی بات وہ اس کے لیے رابطہ رکھنا حضرت کے ساتھ بڑا مشکل ہے کیونکہ بہت معذور ہیں بہت زیادہ عمر کے لحاظ سے ہیں۔ لہذا ان کی تمام چیزیں جو ہیں نا وہ موقوف ہیں۔ اور ان کے ساتھ رابطہ رکھنا بڑا مشکل ہے۔ اس وجہ سے بہت سارے جو حضرت سے بیعت شدہ حضرات تھے ان کا میرے ساتھ رابطہ ہے۔ لیکن میں نے ان کو صاف بتایا کہ شیخ ان کو مانو لیکن تعلق میرے ساتھ ایسے رکھو جیسے شیخ کے ساتھ ہوتا ہے۔ پھر گڑبڑ نہیں کرنا، کہ کبھی ادھر کبھی ادھر یہ والا مسئلہ نہیں ہو گا پھر۔ رہنا ہے تو پھر یہاں ٹھیک طریقے سے رہنا ہے۔ تو ان میں سے بعض لوگوں کو بہت فائدہ ہوا الحمد للہ۔ بہت زیادہ فائدہ ہوا الحمد للہ۔ کیونکہ دینے والا اللہ ہے۔ تو ان کو بڑا فائدہ ہوا ہے، ایسی چیزیں تو ممکن ہیں، اس کو شیخِ تعلیم کہتے ہیں۔ لیکن یہ rare case ہے، یہ general case نہیں ہے۔
سوال: بعض مشائخ کو جو چاروں سلسلوں سے خلافت عطا ہوتی ہے، تو وہ کس طریقے سے ہوتی ہے؟
جواب: ہاں یہ اصل میں حضرت یہ بھی عملی سوال ہے۔ دیکھیں جو طریقت ہے نا یہ یوں سمجھ لیجیے کہ set of rules ہیں، procedures ہیں۔ جیسے homeopathy ہے، حکمت ہے، allopathy ہے، acupuncture ہے، یہ مختلف ڈاکٹری کے لائن کے طریقے ہیں۔ اب ایک آدمی بیک وقت حکیم بھی ہو۔ اور allopathy کا بھی ماہر ہو۔ ہو سکتا ہے، نہیں ہو سکتا؟ ہو سکتا ہے نا۔ تو اگر ایسا ہو سکتا ہے تو عین ممکن ہے کہ وہ شخص جس کو حکمت سے زیادہ فائدہ ہو، یہ بات بالکل طے شدہ ہے ڈاکٹر حضرات بیٹھے ہوئے ہیں ناراض نہ ہو جائیں لیکن بہرحال یہ میں عرض کرتا ہوں کہ جتنے بھی جو میڈیکل کے لائن کی باتیں ہیں اس میں یہ بات ہوتی ہے کہ بعض چیزوں میں بعض آگے ہوتے ہیں۔ مثلا بعض چیزوں میں حکمت زیادہ آگے ہے۔ بعض چیزوں میں ڈاکٹری کی لائن زیادہ آگے ہے۔ اب حکمت والوں کے پاس جراحت والی لائن نہیں ہے سرجری کی، وہ ان کے پاس ہے ہی نہیں۔ تو سرجری میں تو ایلوپیتھی کے پاس ہی آئیں گے۔ ہاں لیکن بہرحال یہ کہ بعض چیزیں ایسی ہیں، بعض امراض، بعض چیزیں، مفردات جس کو ہم کہتے ہیں، اس میں حکمت والے بہت آگے ہیں، ابھی تک آگے ہیں، اور جرمنی میں اب اس کے اوپر پوری ریسرچ ہو رہی ہے۔ وہ اس معاملے میں کافی آگے جا رہے ہیں، ممکن ہے کہ وہ ایک نئے قسم کی چیز ڈیویلپ ہی کر لیں۔ فارمیسی نہیں ہے، فارمیسی تو ان لوگوں نے بنا ہی لی۔
اب یہ میں عرض کرتا ہوں کہ یہ جو ایک چیز ہے کہ ایک شخص حکیم بھی ہو اور ڈاکٹر بھی ہو، تو وہ جب ضرورت سمجھے تو حکمت کے ذریعے علاج کر لے، جب ضرورت سمجھے تو ڈاکٹری۔ یہ نہیں کہ mix کر لے اس کو۔ لیکن یہ کر لے کہ جس چیز کا بھی کرے گا تو اسی کے اصولوں کے مطابق کرے گا۔ ڈاکٹری علاج ڈاکٹری اصولوں کے مطابق کرے گا، حکیمی کا علاج حکیمی کے اصولوں کے مطابق کرے گا، یہی بات ہے نا؟ اسی طریقے چشتیہ کے اپنے اصول ہیں، نقشبندیہ کے اپنے اصول ہیں۔ قادریہ کے اپنے اصول ہیں، سہروردیہ کے اپنے اصول ہیں۔ تو جس شیخ کو اللہ تعالیٰ نے چاروں نسبتیں عطا کی ہوں تو پھر اس میں یہ ہوتا ہے کہ جو شخص بھی ان کے پاس آتا ہے تو دیکھتا ہے یہ چشتی طریقے سے زیادہ بہتر چل سکتا ہے، تو اس کو چشتیت میں لگا دیتے ہیں۔ اور جو نقشبندیت میں زیادہ بہتر چل سکتا ہے اس کو نقشبندیت میں لگا دیتے ہیں۔ اس کو نقشبندیت میں لگا دیتے ہیں، جو قادریت میں زیادہ بہتر چل سکتا ہے وہ قادریت میں، کیونکہ یہ مزاجوں کی بات ہے۔ بعض لوگوں کا مزاج چشتیت کے ساتھ زیادہ compatible ہوتا ہے، بعض کا قادریت کے ساتھ زیادہ compatible ہوتا ہے، بعض کا نقشبندیت کے ساتھ زیادہ compatible ہوتا ہے، تو یہ تو بڑی اللہ تعالی کی نعمت ہے کہ چاروں چیزیں موجود ہوں تو جس کے لیے جو راس آئے وہی کر لیں۔ وہ تو زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ تو اس وجہ سے یہ جو چاروں نسبتیں جن کی اکٹھی ہوں تو ان سے علاج کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ دیکھتا ہے، اب ہمارے ہاں الحمد للہ چاروں اکٹھی ہیں تو ہم نے درمیان میں دو تقسیمیں کی ہیں۔ موٹی تقسیم، بہت موٹی تقسیم۔ عورتیں تو ساری نقشبندی سلسلے پہ چلتی ہیں۔ عورتیں ہماری جتنی بھی ہوتی ہیں وہ سب نقشبندی سلسلے پہ چلتی ہیں۔ مردوں میں پھر فرق ہوتا ہے، مردوں میں کوئی چشتی ہے تو کوئی نقشبندی ہے تو کوئی قادری ہے کوئی کیا ہے۔ وہ اس میں پھر وہ ہم لوگ درمیان میں وہ کر لیتے ہیں فرق۔ لیکن عورتوں کے درمیان میں اکثر ہم فرق نہیں کرتے، عورتیں جتنی بھی آتی ہیں ان کو نقشبندی سلسلے پہ چلاتے ہیں۔ ہاں تین عورتیں ایسی ہیں جن کی ابتدا چشتیت سے ہوئی تھی پھر بعد میں نقشبندی پہ چلایا گیا۔ تو ایسا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی rare cases آتے ہیں، اس طرح special cases آتے ہیں۔ لیکن بہرحال یہ ہے کہ یہ general اصول اس کا یہی ہے۔
سوال: یہ اس کے لیے کتنا time margin ہوتا ہے کہ اس طرح ہے تو اتنے عرصے بعد دوبارہ test کیا جائے کہ واقعی وہ ہو گیا ہے؟
جواب: ماشاءاللہ۔ بہت اچھا سوال ہے۔ practical سوال ہے۔ unless and until emergency ہو۔ emergency تو ایسی چیز ہوتی ہے جیسے doctor۔ یہ ڈاکٹروں کے ہاں emergency ہوتی ہے تو اس کے لیے تمام قوانین و قواعد معطل کر دیے جاتے ہیں۔ special case ہوتا ہے۔ تو ایک دفعہ ایک مریض کو heart attack ہونے والا تھا، ہمارے دفتر کا۔ تو بظاہر symptoms جو تھے نا وہ heart attack کے نہیں تھے۔ اس کو صرف گرمی لگ رہی تھی۔ لیکن جب doctor کے پاس گیا، اس نے stethoscope سے دیکھ لیا اور تھوڑا سا check کر لیا، ecg وغیرہ لے لیا، تو پتہ چلا یہ تو heart attack آنے والا ہے۔ تو اس کو instructions دیے۔ اس نے کہا گاڑی میں لے جاؤ۔ اور کسی اشارے کی پرواہ نہ کرو۔ اشارے پہ جو پولیس والے روکتے ہیں، کسی اشارے کی پرواہ نہ کرو۔ جتنی زیادہ سے زیادہ speed سے، محفوظ طریقے سے جا سکتے ہو، محفوظ طریقے سے زیادہ سے زیادہ speed کے ساتھ جاؤ، ہسپتال، فلاں ہسپتال پہنچنے کی کوشش کرو۔ ادھر سے انہوں نے ہسپتال کو فون کر لیا کہ میں آ رہا ہوں اور یہ فلاں فلاں چیزیں یہ ہے کہ emergency والا room وہ چیزیں اس میں تیار ہونی چاہیے۔ ادھر سے یہ گاڑی پہ چلا۔ ادھر سے وہ پہنچے۔ اور جاتے ہی اس کو heart attack severe ہو گیا۔ جس سے وہ ڈر رہا تھا۔ بس انہوں نے پھر وہ shock واک لگا دیے، غالبا تیسرے shock پر وہ آیا تھا۔
اب دیکھیں۔ تو اس وقت emergency میں کیا اپ کہہ سکتے ہیں ایک مہینے کے بعد مجھے دکھا دینا؟ یوں emergency والی بات تھی نا؟ تو emergency جب ہو تو اس کا تو یہ بات ہے کہ وہ تو پھر telephone کے ذریعے سے، message کے ذریعے سے، کسی بھی طریقے سے انسان معلوم کر سکتا ہے۔ لیکن ویسے بہتر یہ ہے کہ مہینے کے بعد اطلاع کر دیا کرے۔ بہتر یہ ہوتا ہے۔ تھوڑا سا ذرا حالات اکٹھے ہو جائیں اور progress نظر آجائے۔ جیسے اب جب یہ جو ہوتے ہیں یہ جو thyroid hormones وغیرہ اب اس کی جب دوائی لیتے ہیں تو وہ بھی چھ ہفتے کے بعد اس کا وہ کرتے ہیں test کرتے ہیں کہ اچھا چھ ہفتے کے بعد یہ ذرا تھوڑا سا reasonable format میں آ چکا ہو گا تو پھر اس کو دیکھتے ہیں۔ تو اسی طریقے سے ہم مہینے کا ذرا خیال رکھتے ہیں۔ ابتدا میں چلے کا ہوتا ہے، پھر بعد میں مہینے کا ہوتا ہے۔
یہ بھی مسئلہ ہے کہ جب اجتماعی بات ہو رہی ہو، متعدی بات، اس وقت اذان کا جواب اس کے لیے موقوف کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی شرعی مسئلہ ہے۔ لیکن اپنی انفرادی کام ہو جیسے میں ذکر کر رہا ہوں انفرادی طور پر، یا تلاوت کر رہا ہوں انفرادی طور پر، یا کتاب دیکھ رہا ہوں انفرادی طور پر، اس وقت مجھے اذان کا جواب دینا چاہیے کیونکہ اس پہ اذان کا جواب جو ہے وہ کیا ہے؟ priority والا ہے۔ اس وجہ سے اس کو priority ہوگی۔ لیکن یہ جو اجتماعی چیزیں ہوتی ہیں، جیسے کوئی lecture دے رہا ہو، کوئی سمجھا رہا ہو کسی کو، تو ایسی چیزوں میں اس کی وہ گنجائش ہوتی ہے کہ وہ اس کا کر لے۔ یہ بات ہمیں مولانا ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے حرم شریف میں سمجھائی تھی۔ حرم شریف کی اذان ہو رہی تھی۔ حضرت نے اپنی بات جاری رکھی۔ فرمایا میں نے قصدا بات جاری رکھی تاکہ آپ لوگوں کو مسئلہ معلوم ہو جائے۔
یہ باتیں میں کیوں کرتا ہوں؟ یہ بھی ایک بات ہوتی ہے۔ شیطان ہمارے پیچھے لگا ہوتا ہے۔ جن کے ساتھ اصلاح کا تعلق ہوتا ہے ان کی معمولی معمولی باتیں شیطان بہت بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ دیکھیں نا یہ وجہ ہے، دیکھیں نا یہ اس نے تو یہ کیا، اس نے تو یہ کیا۔ عوام متاثر بھی چھوٹی چھوٹی چیزوں سے ہوتے ہیں اور بد اعتقاد بھی چھوٹی چھوٹی چیزوں سے ہوتے ہیں۔ ان کا معاملہ اس طرح ہی ہوتا ہے۔ بس پَل میں ایک اور پل میں دوسرا۔ یہ والا مسئلہ ہوتا ہے۔ تو شیطان کے راستے کو روکا جاتا ہے۔ تو اگر یہ مسئلہ میں آپ کو نہ بتاتا تو بعض لوگوں کے ذہنوں میں آ سکتا تھا کمال ہے اذان ہو رہی ہے، اذان کا جواب نہیں دے رہے ہیں۔ یہ کیسی بات ہے؟ اور مشائخ کو اس طرح بتانا چاہیے۔
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک دفعہ اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ ایک یا دو صحابی گزر گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دے کر اس کو واپس بلایا۔ فرمایا یہ تمہاری فلاں ماں ہے۔ اس صحابی نے کہا یا رسول اللہ کیا مجھے آپ کے اوپر بد اعتمادی ہو سکتی تھی؟ بدگمانی ہو سکتی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس لیے میں نے کیا کہ شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے اور وہ کسی بھی وقت انسان کو وہ کر سکتا ہے۔ تو اس سے پتہ چلا کہ مشائخ کو بھی اس چیز کی حفاظت کرنی چاہیے کہ اگر کسی کو غلط فہمی ہو سکتی ہو اور اس کو دور کیا جا سکتا ہو، اس کو وقت پہ دور کر لے تاکہ یہ ہے کہ ان کو نقصان نہ ہو۔ کیونکہ بنیادی کام تو نقصان سے بچانا اور فائدہ پہنچانا ہے نا؟ تو اگر کسی وجہ سے نقصان ہو رہا ہے تو اس کو کیوں نہ دور کیا جائے؟ اتنا مستغنی بھی تو نہیں ہونا چاہیے نا؟