اتباعِ سنت، طریقِ صحابہ اور محبتِ رسول ﷺ کے حقیقی تقاضے
اشاعت اول: اتوار، 3 نومبر 2019، بمطابق 5 ربیع الاول 1441 ھ
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔ (الأحزاب: 21) وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی: قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ۔ (آل عمران: 31) وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ۔ (الأنبياء: 107)
وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: أَنَا رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ۔ وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: الدِّينُ النَّصِيحَةُ۔
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
بزرگو اور دوستو! ایک انتہائی اہم بات عرض کرنا چاہتا ہوں جس پر ہماری پوری زندگی کا مدار ہے۔ لیکن پہلے سے ہم نیت کر لیں کہ ہم حق کو تسلیم کریں گے اور جذباتیت میں نہیں پھنسیں گے۔ بعض دفعہ شیطان کا کام یہ ہوتا ہے کہ انسان کو جذباتیت میں لا کر حقیقت سے دور کر دیتے ہیں۔ ہمارے پاس الحمدللہ رہنمائی کا پورا سلسلہ موجود ہے۔ مسلمانوں کو اللہ پاک نے ہدایت سے محروم نہیں فرمایا ہے۔ ایک پورا انتظام موجود ہے، اگر اس انتظام کو ہم سمجھیں تو سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں کوئی مشکل بات نہیں رہتی۔ بس یہی والی بات ہے کہ جذباتیت سے ہم نکل جائیں۔
جذبات کوئی غلط چیز بھی نہیں ہے، یہ بہت مؤثر طاقت ہے۔ لیکن اس کے لیے رستہ شریعت دیتا ہے۔ اگر جذبات کی طاقت کو غلط جگہ استعمال کیا گیا تو بجائے فائدہ کے نقصان ہو سکتا ہے۔ لہٰذا شریعت سے پوچھ کر، شریعت سے معلوم کر کے ہم اپنے جذبات کو اگر بنائیں گے تو یہ ہمارے لیے بہت بڑی طاقت ہے۔
اب ذرا میں مختصر طور پر اپنے مطلب کی طرف آتا ہوں۔ سب سے پہلی بات، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ تمہارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا، جب تک کہ مجھے اپنے والدین سے، اپنی اولاد سے بلکہ سارے لوگوں سے زیادہ محبوب نہ سمجھو گے۔ اس نے ہماری ایک direction کو طے کر دیا کہ محبت جو آپ ﷺ کی ہے وہ سب سے زیادہ ہونی چاہیے۔ بلکہ ایک موقع پر تو آپ عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تمہارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک مجھے اپنے آپ سے بھی زیادہ محبوب نہیں سمجھو گے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ﷺ کے ساتھ محبت سب سے زیادہ ہونی چاہیے، اپنے آپ سے بھی زیادہ ہونی چاہیے۔ اب اپنے آپ سے زیادہ محبت کا مطلب کیا ہو گا؟ مثلاً ایک طرف میرے نفس کی خواہش ہے، ایک طرف آپ ﷺ کا طریقہ ہے۔ تو مجھے کونسی طرف جانا چاہیے؟ ظاہر ہے آپ ﷺ کے طریقے کی طرف جانا چاہیے، مجھے اپنے نفس سے نکلنا چاہیے، مجھے اپنے نفس کی بات نہیں ماننی چاہیے۔
چونکہ آپ ﷺ کی ہر چیز اللہ کے لیے تھی، اور ہر کام اللہ کے لیے فرماتے تھے، اور ہر کام اللہ پاک کی طرف سے فرماتے تھے۔ خود اللہ پاک نے قرآن پاک میں فرمایا کہ نہیں کرتے کوئی بات آپ ﷺ مگر وہ جو اس کو وحی کی جاتی ہے۔ اس کا مطلب آپ ﷺ اپنی طرف سے کوئی بات نہیں فرماتے، پس آپ ﷺ کی ہر بات کی اللہ پاک نے ذمہ داری لی۔
تو آپ ﷺ کے ساتھ محبت، یہ اللہ کے ساتھ محبت ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت انسان اس وقت تک صحیح معنوں میں کر ہی نہیں سکتا جب تک آپ ﷺ کی پہچان موجود نہ ہو۔ اس کا اللہ پاک نے فرمایا بھی ہے: قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ۔ (آل عمران: 31) اے میرے حبیب اپنی امت سے کہہ دیں، اگر تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کرنا چاہتے ہو تو میری اتباع کر لو، میں ان کو محبوب بنا دوں گا۔ یعنی گویا کہ جو اللہ کے ساتھ محبت کرنا چاہتے ہیں تو طریقہ آپ ﷺ سے سیکھیں۔ طریقہ آپ ﷺ سے سیکھیں کہ آپ ﷺ نے کیسے محبت کی ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ۔ اسی طریقے سے ہم کریں گے تو کام بنے گا۔
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہماری رہنمائی موجود ہے پہلے سے۔ پھر ذرا کچھ ایک بہت اہم بات عرض کرنا چاہتا ہوں۔ ذرا تھوڑا سا آگے آگے بڑھتے ہیں آہستہ آہستہ۔ پہلی بات: آپ ﷺ نے فرمایا گزشتہ امتوں میں، یہود میں 71 فرقے تھے، نصاریٰ میں 72 ہو گئے اور میری امت میں عنقریب 73 ہو جائیں گے۔ ان میں صرف ایک نجات پائے گا۔ تو آپ ﷺ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ وہ کون ہوں گے؟ فرمایا: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي۔ جس پر میں چل رہا ہوں، جس پر میرے صحابہ چل رہے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ﷺ کا طریقہ اور صحابہ کا طریقہ یہ معیار ہیں۔ جس کو ہم سنت کہتے ہیں اور طریقِ صحابہ کہتے ہیں۔ اور ان دونوں کا مجموعہ جو کیا ہے، اہل سنت والجماعت ہے۔ یعنی اہل سنت والجماعت، جماعتِ صحابہ ہے۔ یعنی جماعتِ صحابہ کے طریقے پہ چلنا سنت کے لیے، یہ کیا ہے؟ اہل سنت والجماعت۔
اس کی وجہ کیا ہے؟ بہت اہم بات ہے۔ اللہ جل شانہ کا کلام ہے، اللہ جل شانہ کے کلام میں اجمال ہے۔ یہ کلام امتی کے لیے مجمل ہے اور آپ ﷺ کے لیے مفصل ہے۔ یعنی آپ ﷺ کے اوپر ساری تفصیلات کھلی ہوئی ہیں۔ لیکن امتی کے لیے اس میں اجمال ہے، امتی اس میں صحیح بات تک فوری نہیں پہنچ سکتا۔ تو اس کے لیے پھر آپ ﷺ کی سنت سے رہنمائی حاصل کرنی ہوتی ہے۔ آپ حضرات دیکھیں، قرآن پاک میں سب سے بڑی دو چیزیں ہیں جس کا بار بار حکم آتا ہے۔ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ، وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ۔ (البقرة: 43) کتنی مرتبہ اس کا حکم آیا ہوا ہے، لیکن کہیں پر بھی تفصیل نہیں ہے۔ نماز کی تفصیل نہیں ہے۔ کیا آپ نماز قرآن پاک سے سیکھ سکتے ہیں؟ کہ کیسے نماز پڑھیں؟ نہیں۔ اس کے لیے کیا طریقہ ہوگا؟ آپ ﷺ کو دیکھنا پڑے گا۔ آپ ﷺ نے خود فرمایا: صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي۔ اس طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھو۔
پس آپ ﷺ کی نماز کیا ہے؟ یہ وحی ہے، وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ پر عمل ہے۔ پس آپ ﷺ کے طریقے کو ہم اپنائیں گے تو پھر قرآن پر عمل ہوگا۔ تو قرآن میں اجمال ہے، اور احادیث شریفہ میں تفصیل ہے۔
لیکن یہ جو احادیث شریفہ کی تفصیل ہے، اس کی مزید تفصیل صحابہ کرام کی زندگی سے ہے۔ کیسے؟ وہ بتاتا ہوں، بہت اہم بات عرض کر رہا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ﷺ ایک شخصیت ہیں۔ آپ ﷺ مرد ہیں، عورت نہیں۔ آپ ﷺ شہری ہیں، دیہاتی نہیں۔ آپ ﷺ اعلیٰ خاندان کے ہیں، کم خاندان کے نہیں۔ آپ ﷺ کا ظاہر ہے مطلب جو مقام تھا، اس کی طرح کسی اور کا ہے نہیں۔ اب آپ ﷺ کی شخصیت کی طرح کوئی اور ہے ہی نہیں۔
لہٰذا اس رہنمائی کو پہنچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پوری ایک جماعت صحابہ کو مبعوث فرمایا۔ جس میں ہر قسم کے حضرات ہیں۔ جس میں شہری بھی ہیں، دیہاتی بھی ہیں۔ جس میں عورتیں بھی ہیں، مرد بھی ہیں۔ جس میں کالے بھی ہیں، گورے بھی ہیں۔ جس میں بہت ذہین لوگ بھی ہیں، جو بہت سادہ لوگ بھی ہیں۔ جن میں علماء بھی ہیں، عوام بھی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ صحابہ کرام میں ہر ترتیب، ہر طبقے کی موجود ہے۔
پس ہر شخص کے لیے رہنمائی صحابہ کرام کی زندگی میں موجود ہے۔ اگر کوئی شخص آپ ﷺ کے کسی طریقے کو اپنانا چاہتا ہے، تو اگر وہ غریب ہے تو غریب صحابی کو دیکھے کہ اس نے کیسے اس پر عمل کیا۔ اگر وہ مالدار ہے تو مالدار صحابی کو دیکھے کہ اس نے کیسے عمل کیا۔ اگر وہ شہری ہے تو شہری صحابی کو دیکھے کہ اس نے کیسے عمل کیا۔ اگر وہ دیہاتی ہے تو دیہاتی صحابی کو دیکھے کہ اس نے کیسے عمل کیا۔ اگر وہ عالم ہے تو عالم صحابی کو دیکھے کہ اس نے کیسے عمل کیا۔ اگر وہ عوام میں سے ہے تو عوامی صحابی کو دیکھے کہ اس نے کیسے عمل کیا۔
یعنی ہر شخص کے لیے ہر نمونے کا صحابی موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے، جیسے آپ ﷺ نے فرمایا: أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ۔ میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں، ان میں سے جس کے پیچھے بھی جاؤ گے تو ہدایت پا لو گے۔ تو ہر شخص اپنے اپنے طبقے کے نمونے والے صحابی کو follow کرے۔ کوئی پریشانی نہیں۔
تو اب ذرا ایک بات سمجھ میں آ گئی مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي کی۔ یعنی جس طریقے پر میں ہوں، جس طریقے پر میرے صحابہ ہیں، اس طریقے پر چلنے میں کامیابی ہے۔ اس کا مطلب ہے سنت کی عملی تشریح صحابہ کرام کی زندگی ہے۔ سنت کی عملی تشریح جو ہے وہ صحابہ کرام کی زندگی ہے۔
اب میں ایک ایک چیز کو اس پر منطبق کر سکتا ہوں۔ مثلاً نماز ہی کو لے لوں۔ نماز صحابہ نے کیسے پڑھی ہے؟ صحابہ نے کیسے سیکھی ہے؟ آپ کہہ سکتے ہیں، پڑھی تو آپ ﷺ نے، صحابہ نے کیسے سیکھی ہے؟ اور پھر کیسے آگے سکھائی ہے؟ تبلیغ کیسے ہوتی ہے؟ تدریس کیسے ہوتی ہے؟ سیاست کیسے ہوتی ہے؟ اس طریقے سے تجارت کیسے ہوتی ہے؟ یہ ساری چیزیں صحابہ کرام نے عملاً دکھائی ہیں۔
تبلیغ کا ایک نمونہ بتاتا ہوں۔ بہت عجیب بات عرض کر رہا ہوں۔ حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ، آپ ﷺ کے نواسے، ابھی بچے ہیں، لیکن ہیں صحابی۔ بیٹھے ہوئے ہیں، پاس ہی ایک بڑی عمر کا صاحب ہیں، وہ وضو کر رہے ہیں لیکن غلط کر رہے ہیں۔ وضو کر رہے ہیں لیکن صحیح طریقے سے نہیں کر رہے ہیں۔
اب حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو کیسے سمجھاتے ہیں؟ کہتے ہیں چاچا جان! کبھی کبھی میں غلطی کر لیتا ہوں وضو میں، اگر آپ میرا وضو دیکھ لیں تو اچھی بات نہیں ہے؟ کہ میں کیسے وضو کرتا ہوں؟ ہاں ٹھیک ہے بیٹا کر لو، میں دیکھ لیتا ہوں۔ اچھا، وضو کرنا شروع کر لیا، پورا وضو کر لیا اس کے سامنے۔ بڑے صاحب نے کہا بیٹا وضو آپ کا ٹھیک ہے میرا غلط ہے، آئندہ میں ٹھیک وضو کروں گا۔
اب ذرا تبلیغ کا انداز ہم دیکھ لیں آج کل کیسا ہے۔ اگر میرے سامنے کوئی غلط وضو کرے تو میں کیا کہوں گا؟ وضو کرنے کا طریقہ بھی نہیں آتا! اتنے بڑے ہو گئے، کمال ہے! کسی سے پوچھتے بھی نہیں ہو! یہ کیا طریقہ ہے؟ اس طرح چپاک سے زبانی مار دیا۔ سب لوگوں کے پاس، پہنچ۔ اب نتیجہ کیا ہو گا؟ وہ کہے گا تم میرے گور میں جاتے ہو؟ جاؤ اپنا کام کرو۔ لڑائی شروع ہو گئی۔
بھئی ایک اچھی چیز سے لڑائی شروع ہو گئی۔ مسئلہ کیا ہوا تھا؟ مسئلہ یہ کہ میں نے اپنے نفس کو دبایا نہیں۔ میں نے اپنے نفس کے مطابق تبلیغ کی۔ اس میں سب سے پہلا بنیادی نقطہ یہ تھا کہ میں نے اس سے اپنے آپ کو اچھا سمجھا۔ میں نے اس سے اپنے آپ کو اچھا سمجھا، اس کو حقیر سمجھا۔ اس وجہ سے میرے سمجھانے میں وہ ساری حقارت موجود تھی، میرے ایک ایک لفظ میں تلخی موجود تھی۔ تو تلخی نے تو تلخی کو پیدا کرنا تھا نا؟ نتیجتاً لڑائی کا شکار ہو گئے ہم۔ بس یہی مسئلہ ہے۔ اب دیکھو نا ایک بچہ صحابی ہے، لیکن اس نے کس طریقے سے سکھایا۔
اس طریقے سے، یعنی صحابہ کرام نے ہمیں اختلاف کرنا بھی سکھایا۔ اختلاف کرنا بھی سکھایا، کیسے سکھایا؟ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ساتھ دے رہے ہیں اور امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کھانا کھا رہے ہیں۔ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ساتھ دے رہے ہیں، امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کھانا کھا رہے ہیں۔ پوچھا گیا کیوں؟ فرمایا حق میں ان کے ساتھ دیکھتا ہوں، کھانا میں آپ کے ساتھ دیکھتا ہوں۔ بس، بات سمجھ گئے، بالکل واضح واضح بات فرما دی۔
اب یہ جو ہے نا اب صحابہ کرام آپس میں اختلاف بھی کرتے تھے لیکن ما شاء اللہ، وہ تمام باتیں اپنی اپنی جگہ پر ہوتی تھیں۔ یعنی آپ اندازہ کر لیں میں آپ کو دکھا سکتا ہوں، خلفائے راشدین؛ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ایک بات پر متفق ہیں، اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دوسری بات کر رہے ہیں۔ یا زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ تیسری بات کر رہے ہیں۔ یا کوئی اور صحابی دوسری بات کر رہے ہیں، اور آپس میں الجھ نہیں رہے۔ یعنی اپنی بات کر بھی رہے ہیں لیکن دوسرے کو غلط نہیں کہہ رہے۔
یہ دوسرے کو غلط کہنے کا رواج شروع ہوا ہے خوارج سے۔ دوسرے کو غلط کہنے کا رواج جو ہے وہ شروع ہوا کہاں سے ہوا ہے؟ خوارج سے شروع ہوا ہے۔ خوارج نے پہلے کہا کہ بس صرف ہم ہی جانتے ہیں۔ صرف ہم ہی جانتے ہیں کوئی اور نہیں جانتا۔ نتیجہ کیا ہوا؟ فتنے کا بازار شروع ہو گیا۔
جن کے بارے میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، ایک وقت ایسا آئے گا، ایسے لوگ ہوں گے، جو دین پر ایسے چل کے دکھائیں گے، ویسے عام طور پر اعمال کے لحاظ سے، کہ آپ اپنے آپ کو ان کے مقابلے میں ہیچ سمجھو گے۔ صحابہ سے فرمایا۔ آپ اپنے آپ کو ان کے مقابلے میں ہیچ سمجھو گے۔ لیکن وہ دین سے ایسے نکل چکے ہوں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔
کیا بات ہے؟ انہوں نے نعرہ کیا لگایا تھا؟ نعرہ یہ لگایا تھا، ہمارے لیے قرآن ہی کافی ہے۔ ہمارے لیے قرآن ہی کافی ہے۔ قرآن اللہ کی کتاب ہے، ہدایت کی کتاب ہے اس سے کون اختلاف کر سکتا ہے؟ ایسے تو کوئی اختلاف نہیں کر سکتا۔ لیکن آیا یہ ہدایت کی کتاب اور یہ اللہ کی کتاب مجھے ہدایت اپنے طور پر دے گا یا کوئی مجھے اس کو سکھائے گا؟
حضرت علی كَرَّمَ اللّٰهُ وَجْهَهُ نے ان کو سکھانے کے لیے فرمایا: اپنے ہاتھ پہ قرآن رکھا، اور کہا: يَا مُصْحَفُ كَلِّمِ النَّاسَ، يَا مُصْحَفُ كَلِّمِ النَّاسَ۔ اے قرآن لوگوں سے بات کر! اے قرآن لوگوں سے بات کر!
تو خوارج ہنسنے لگے کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ آپ کیا کہہ رہے ہیں، قرآن کیسے بات کرے گا؟ انہوں نے کہا آپ کا دعویٰ ہے قرآن ہمارے لیے کافی ہے تو پھر آپ سے بات کرے نا؟ ہمیں معلوم ہے کہ قرآن کہاں اترا؟ کیسے اترا؟ کس چیز کے لیے اترا؟ اس کی کیا کیا تفصیلات ہیں؟ آپ کو کیا پتا، آپ تو ادھر تھے نہیں۔ تو آپ کو تو ہم سے پوچھنا پڑے گا کہ قرآن کا مطلب کیا ہے؟ قرآن کا مطلب کیا ہے؟
یہ بہت بڑی بات ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کے پاس بھیجا اور ان سے فرمایا کہ ان کے ساتھ قرآن پہ بات نہ کرو، ان سے احادیث پر بات کرو، چونکہ قرآن میں تو اپنے مطلب چلائیں گے۔ احادیث شریفہ میں پابند ہوں گے، یہ اپنی بات نہیں کر سکیں گے۔ لہٰذا ان کے ساتھ حدیث شریف پہ بات کرو۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن ہدایت کی کتاب ہے لیکن اس ہدایت کو حاصل کرنے کے لیے ہم سنت کے محتاج ہیں۔ ہم سنت کے محتاج ہیں۔ پھر اس سنت کو سمجھنے کے لیے ہم صحابہ کرام کے طریقے کے محتاج ہیں۔ صحابہ کرام نے اس کو کیسے سمجھا؟ اس کے ہم محتاج ہیں۔
تو یہ تین چیزیں ہمارے پاس آ گئیں۔ پہلا قرآن ہے جس میں اجمال ہے۔ اس کے بعد سنت ہے اس میں تفصیل ہے۔ پھر اس تفصیل کی تشریح جو ہے وہ صحابہ کرام کی زندگی ہے۔ صحابہ کرام کی زندگی ہے۔ لہٰذا ہم اہلِ سنت والجماعت، قرآن کو سمجھنے کے لیے سنت اور صحابہ کرام کے طریقے کو لیتے ہیں۔ اسی سے ہمارا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔
اب میں آپ کو آج کل کی بات بتاتا ہوں۔ مثلاً لڑائی ہو رہی ہے۔ عید میلاد النبی ہونی چاہیے، نہیں ہونی چاہیے؟ اختلاف ہو گیا۔ چلو جی اختلاف اچھی بات ہے، اختلاف میں کوئی بری برائی کی بات نہیں ہے۔ لیکن اختلاف میں صحابہ کرام کی طرح اختلاف ہو۔ لڑائی کی صورت نہ ہو۔ کیا ہو؟ یہ ہو کہ بھئی طریقہ کون سا صحیح ہے؟ بس میں اس کو کرتا ہوں۔
اب ہمارے پاس کیا دلیل ہو سکتی ہے؟ ہم کہہ سکتے ہیں چونکہ آپ ﷺ نے فرمایا: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي، مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي۔ جس پر میں چلوں جس پر میرے صحابہ چلے ہیں۔ اب جو کام بھی آپ ﷺ کے وقت میں ہو سکتا تھا، اور دین کے لیے نہیں ہوا، اب اس کو دین کے طور پہ کیا جائے گا تو کیا ٹھیک ہو گا وہ؟ ہم اپنے دل سے پوچھیں؟ صحابہ کے وقت میں ہو سکتا تھا، ایک تو یہ کہ ہو نہیں سکتا ہو...
مثلاً جہاز اس وقت تھا نہیں تو جہاز میں کوئی بیٹھ ہی نہیں سکتا تھا، لہٰذا وہ جہاز والی بات ہی ختم ہو گئی۔ لیکن کیا آپ ﷺ کا یوم ولادت آپ ﷺ کی زندگی میں نہیں آیا تھا؟ آیا تھا نا؟ کئی بار آیا تھا۔ آپ ﷺ کے گویا کہ جو دورِ نبوت ہے، 23 سال، اس میں 23 دفعہ آیا ہوا ہے۔ کیا آپ ﷺ نے ایک دفعہ منایا؟ دیکھ لیں۔ موجود ہے، سیرت کی کتابیں موجود ہیں، ایک دفعہ منایا ہو؟
اچھا پھر اس کے بعد صحابہ کرام تقریباً سو صدی ہجری تک تو موجود تھے نا؟ تو اس وقت کسی صحابی نے منایا ہے؟ نہیں منایا۔ تابعین میں کسی نے منایا ہے؟ نہیں منایا۔ تبع تابعین میں کسی نے منایا ہے؟ نہیں منایا۔ پھر مجھے بتاؤ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي پر عمل کریں گے تو کیسے کریں گے؟ یہ تو ایک بات ہو گئی۔ یہ ایک بات کو ایک طرف رکھ لو۔
دوسری بات، کیا اس کا مطلب ہے کہ حضور ﷺ کے ساتھ محبت نہیں ہونی چاہیے؟ نہیں! چونکہ اس کا تو آپ ﷺ نے خود ارشاد فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے خود ارشاد فرمایا ہے کہ میرے ساتھ تمہیں تمام لوگوں سے زیادہ محبت ہونی چاہیے، بلکہ اپنے آپ سے بھی زیادہ محبت ہونی چاہیے۔ تو اب ان دونوں باتوں کو کیسے جمع کر لیں؟
ان دونوں باتوں کو جمع کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی محبت کے لیے کوئی ایک دن مخصوص نہیں ہے۔ بلکہ ہر دن آپ ﷺ کے ساتھ محبت کرنی چاہیے۔ سال کے 365 دن آپ ﷺ کے ساتھ محبت کرنا چاہیے اور وہ محبت کیسے ہو؟ وہی طریقہ ہو، آپ ﷺ کے طریقے کو اپنا لیں۔ آپ ﷺ کی سیرت کو سمجھیں، آپ ﷺ کی نسبتوں کو سمجھیں، آپ ﷺ کی ہر نسبت کے ساتھ محبت کریں۔
دیکھو قرآن اللہ کی کتاب ہے، اس کے ساتھ محبت کریں۔ آپ ﷺ کی سنتیں ہیں، اس کے ساتھ محبت کریں۔ صحابہ کرام آپ ﷺ کے اصحاب ہیں، ان کے ساتھ محبت کریں۔ اہلِ بیت آپ ﷺ کے گھر والے ہیں، ان کے ساتھ محبت کر لیں۔ امہات المؤمنین آپ ﷺ کی ازواج مطہرات ہیں، ان کے ساتھ، ان کا ادب اور احترام کریں۔ اس طریقے سے آپ ﷺ کے جتنے بھی کام ہیں ان سب کے ساتھ محبت کریں۔ یہ ہے آپ ﷺ کی محبت۔ آپ ﷺ کے ساتھ محبت۔ اور یہ ہر وقت میں ہونا ضروری ہے۔ ہر وقت میں ہونا ضروری ہے۔
ایک بات اور عرض کرتا ہوں۔ اس وقت ہمارے ہاں افراط تفریط ہے۔ افراط تفریط کس کو کہتے ہیں؟ یعنی کسی وقت کسی جگہ پر حد سے زیادہ، کسی جگہ پر حد سے کم۔ اس کو افراط تفریط کہتے ہیں۔ اور درمیان والی چیز کو "اعتدال" کہتے ہیں۔
اچھا افراط تفریط کیسا ہے؟ مثلاً کچھ لوگوں نے آپ ﷺ کی محبت کو لے لیا، اور آپ ﷺ کی محبت کے گن گانے لگے۔ لیکن آپ ﷺ کی سنت کو نہیں لیا، آپ ﷺ کی سنتوں کی پرواہ نہیں کی۔ یہ کیا چیز ہے؟ ٹھیک بات ہے؟ یہ بات غلط ہے۔ یہ محبت جھوٹی محبت ہے، یہ محبت سچی محبت نہیں ہے۔
کیوں؟ اگر سچی محبت ہوتی تو کیا آپ ﷺ کے طریقے سے انکار کرتے؟ آپ ﷺ کے طریقے کو چھوڑنے کی جرأت کرتے؟ آپ ﷺ کے طریقوں کی مخالفت کرتے؟ نہیں ہو سکتا۔ اس کا مطلب ہے کہ سچی محبت نہیں ہے۔
ایک بات، دوسری طرف دیکھو، جنہوں نے آپ ﷺ کی سنتوں کو اختیار کیا، وہاں پر کچھ ایسے لوگ پیدا ہو گئے، جن کے سامنے آپ ﷺ کی محبت کی بات کی جائے تو ماتھے پہ بل پڑ جاتے ہیں۔ کیا یہ بات ٹھیک ہے؟ یہ بات غلط ہے۔
کیسے ماتھے پہ بل پڑ جاتے ہیں؟ میں آپ کو صاف صاف بتاتا ہوں۔ میں کسی سے شرماتا نہیں ہوں، حق کی بات ہے ظاہر ہے کرنی پڑتی ہے۔ کیسے ماتھے پہ بل پڑے؟ نعت شریف کیا ہوتا ہے؟ آپ ﷺ کی تعریف۔ آپ ﷺ کی تعریف کیا آپ ﷺ نے خود سنی ہے؟ سنی ہے۔ بلکہ آپ ﷺ نے خود ان کے لیے منبر رکھا ہے۔ پھر فرمایا: پڑھو، روح القدس کے ذریعے اللہ تمہاری مدد فرمائے، پڑھو۔ اور پھر آپ ﷺ سنتے رہے۔
تو اس کا مطلب ہے نعت شریف سننا یہ آپ ﷺ کی سنت ہے۔ نعت شریف پڑھنا صحابہ کی سنت۔ نعت شریف سننا آپ ﷺ کی سنت۔ اب اگر میں نعت کی بات کر لوں اور کسی کے ماتھے پہ بل پڑ جائے تو یہ کیا چیز ہے پھر؟ غلط بات ہے۔ غلط بات ہے نا؟
اچھا اب یہ بتاتا ہوں کہ بل کیوں پڑتا ہے؟ وہ بھی بتاتا ہوں۔ کوئی صاحب ہے، وہ نعت غلط طریقے سے پڑھتا ہے۔ اس کے اندر گانے کا انداز پیدا کرتا ہے۔ یا اس کے اندر شرکیہ الفاظ لاتا ہے، اس کی مخالفت تو ہونی چاہیے۔ وہ تو دین نہیں ہے نا۔ وہ تو دین نہیں ہے نا، لہٰذا اس کی تو مخالفت ہونی چاہیے۔ اس کے لیے تو ماتھے پہ بل پڑنا چاہیے۔
لیکن کیا اس کی وجہ سے میں صحیح نعتوں کے مخالف ہو سکتا ہوں؟ میرے سامنے اگر کوئی غلط طریقے سے نماز پڑھتا ہو، کیا اس کی وجہ سے میں صحیح طریقے سے نماز پڑھنے والے کو روک سکتا ہوں؟ اس کا مخالف ہو سکتا ہوں؟ یہ تو ایک عجیب بات ہے، بھئی قصور کوئی کرے اور سزا آپ کسی اور کو دے دیں۔
جو غلط کرے اس کو غلط کہو، جو صحیح کرے اس کو صحیح کہو۔ انصاف کا تقاضا تو یہ ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نعت شریف، اس کو غلط نہیں کہنا چاہیے۔ البتہ نعت شریف غلط پڑھنے والوں کو غلط کہنا چاہیے۔ نعت شریف غلط پڑھنے والوں کو غلط نہیں کہنا چاہیے۔ میں آپ کو بتا دوں میرے پاس ایک کتاب ہے۔
میرے خیال میں قاری صاحب کو پتہ ہوگا۔ عربی میں ہے۔ جس میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نعت ہے، عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ہے، عثمان رضی اللہ عنہ کی ہے، علی رضی اللہ عنہ کی ہے، فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی ہے، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ہے۔ اچھا اس طرح حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ تو خیر دربار رسول کے نعت خوان ہیں۔ اور پھر اس کے بعد کعب رضی اللہ عنہ کی ہے، عباس رضی اللہ عنہ کا قصیدہ ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا قصیدہ ہے۔ اس طریقے سے کیا کیا میں آپ کو بتاؤں حضرت زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔ یہ سب حضرات بڑے بڑے اکابر ہیں۔ انہوں نے جو کام کیا اس کو ہم غلط کہہ سکتے ہیں؟
ان کو ہم غلط نہیں کہہ سکتے۔ ہاں یہ بات، آج اس نعت کو بھی، جو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لکھی ہے، اگر کوئی گانے کی طرز پہ پڑھے گا، سب سے پہلے مخالفت کرنے والا میں ہوں گا۔ اگر کوئی گانے کی طرز پہ پڑھے گا، سب سے پہلے مخالفت کرنے والا میں ہوں گا۔ کیوں کہ اس نے، نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ، ایسا کیا جیسے ٹوائلٹ میں کوئی قرآن پڑھتا ہے۔ جو ٹوائلٹ میں قرآن پڑھتا ہے، اس کی مخالفت ہونی چاہیے نہیں ہونی چاہیے؟ قرآن اپنی جگہ پر حق ہے، لیکن ٹوائلٹ میں پڑھنے کے لیے تو نہیں ہے نا۔
یعنی ایسے بدبخت لوگ بھی موجود ہیں اس دنیا میں اس وقت، بدبخت لوگ، جو اپنے کانوں کے اندر وہ جو Headphones رکھ کے، گانا سن سن کے نعت لکھتے ہیں۔ گانا سن سن کے نعت لکھتے ہیں۔ ایسے خبیث لوگوں کی نعتیں سننی چاہیے؟ یہ خبیث لوگ ہیں، ان کے دل خبیث ہیں، ان کے دماغ خبیث ہیں۔ اتنی عظیم چیز کو یہ خراب کر رہے ہیں۔ تو یہ اصل میں بات یہ ہے کہ یہ، اس کی مخالفت ہونی چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بہت ہی خطرناک بات ہے۔
اب تو ایسا وقت آ گیا ہے، ایسا محرومی کا دور آ گیا ہے، ایسا محرومی کا دور آ گیا ہے، کہ مسجد میں آواز ہوتی ہے، اور فلاں گانے کی طرز پر نعت پڑھی جائے گی۔ محفلوں کے اندر یہ آواز لگائی جاتی ہے۔ کتابیں موجود ہیں، کتابیں موجود ہیں جس میں کہتے ہیں فلاں گانے کی طرز پر نعت۔ Screen لگا دیتے ہیں، اللہ بچائے، اللہ بچائے۔
اس وجہ سے میں کہتا ہوں، اس دور کے اندر فتنے ہیں۔ میں نے آپ سے عرض کیا نا کہ افراط تفریط ہے۔ افراط تفریط ہے۔ لہٰذا حد سے نکلنا بری بات ہے، حد سے کم ہونا یہ بھی غلط بات ہے۔ ہمیں اعتدال پہ آنا چاہیے۔ نعت شریف ما شاء اللہ ہماری جان ہے۔ نعت شریف آپ ﷺ کی محبت کا اظہار ہے۔
میں آپ کے سامنے ابھی ایک نعت سناؤں گا ان شاء اللہ، اور ساتھ ساتھ تشریح بھی کروں گا۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ ایسی چیزوں کا اب سمجھانا ضروری ہو گیا ہے۔ اس وقت اس کا دور ہے۔ تو بہرحال میں ایک نعت سناتا ہوں، اس کے ساتھ تشریح کروں گا، اس میں ایک بہت بڑا پیغام ہے۔ اور وہ پیغام الحمدللہ اگر کوئی سمجھ لے، تو شاید ان کی زندگی بدل جائے۔ اللہ تعالیٰ میری بھی زندگی بدل دے۔
یہ کراچی کے ایک حافظ صاحب نے پڑھی ہے اور بہت عمدہ پڑھی ہے ما شاء اللہ۔
نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے
یہی تو بات ہے ایسی کہ جو سب کو سکھانی ہے
نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے
کیا اس میں کوئی شک ہے؟ نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے۔ اور اسی پیغام کو لے کر ہم پورے عالم کے اندر پھریں، تو یہ بہت بڑی کامیابی کا دورہ ہو گا، کہ آپ ﷺ کی اتباع میں دونوں جہان کی کامیابی ہے۔
میں آپ کو اس کا چھوٹا سا واقعہ بتاتا ہوں، آپ حیران ہو جائیں گے۔ میرے پاس تحقیق موجود ہے کہ ایک پروفیسر صاحب نے بھیجی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق اس پر ہوئی کہ انسان غلط فیصلے کب کرتا ہے؟ پتا چلا کہ دو بجے اور تین بجے کے درمیان جو فیصلے ہوئے، زیادہ تر غلط ہوئے۔ دو بجے اور تین بجے کے درمیان دنیا کے اندر، پورے انہوں نے پورے Data collect کیا۔ دو بجے اور تین بجے کے درمیان جو فیصلے ہوئے ہیں وہ زیادہ تر غلط ہوئے ہیں۔ پھر انہوں نے کہا اچھا دو بج کر پندرہ منٹ سے لے کر دو بج کر پینتیس منٹ تک جو ہوئے ہیں اس میں زیادہ غلط فیصلے ہوئے۔ انہوں نے پوری تحقیق کر دی۔ اخیر میں انہوں نے پتا چلایا کہ انسان کا جو ذہن ہے، یہ سات گھنٹے تک Active رہتا ہے۔ لہٰذا اگر سات گھنٹے یہ کام کر لے، پھر اس کے بعد اگر تھوڑا سا آرام کر لے، تو پھر یہ Recharge ہو جاتا ہے اور پھر صحیح فیصلے کرتا ہے۔
تو اس سے پتہ چل گیا کہ قیلولہ کی جو سنت ہے، قیلولہ کی جو سنت ہے، اس کا جو ہے نا کیا ہے۔ ابھی بھی چائنا والے لوگ جو ہیں، ان کا باقاعدہ یہ Culture کا حصہ ہے۔ وہ جب بھی کام کرتے ہیں، تو عین بالکل جب ظہر کے وقت کھانا کھا لیتے ہیں، کھانے کے بعد وہ اپنی کرسی پر ہی سو جاتے ہیں۔ آدھا گھنٹہ سوتے ہیں، پھر اس کے بعد اپنا مگ اٹھا کے وہ چائے پیتے ہیں، پھر اس کے بعد وہ کام شروع کر لیتے ہیں۔
ہمارے گھر میں بھی دو کرسیاں موجود ہیں انگریزوں کے دور کی، جس کو کہتے ہیں آرام کرسی۔ آرام کرسی ہوتی تھی اس پہ اس طرح لیٹ جاتے تھے، یہ اس وقت دفتروں میں۔
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ہماری ایک ضرورت ہے۔ تو سنت کے اندر یہ موجود ہے۔ اور ہم لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس طرح میں نے ما شاء اللہ بعض ڈاکٹروں کو یہ کہا کہ آپ اپنے اپنے فن میں تحقیق کر لیں۔ Dentist نے تحقیق کر لی، مجھے بڑے اچھے Reports مل گئے کہ جو سنت طریقے ہیں اسی میں کامیابی ہے۔ اس پر الحمدللہ کام جاری ہے۔
تو مقصد میرا یہ ہے کہ آپ ﷺ کی سنت پر جو ہم عمل کریں گے، اس میں دونوں جہانوں کی کامیابی ہے۔ ہاں البتہ یہ الگ بات ہے کہ مسلمان کو بار بار تجربے نہیں کرنا چاہیے۔ مسلمان کو تو اول تو اپنے ایمان سے ہی بات جاننی چاہیے کہ آپ ﷺ کی سنت میں کامیابی ہے۔ لیکن اگر تجربے کر بھی لے تو دو تین سے زیادہ آگے نہیں جانا چاہیے کیونکہ ان کو تو پہلے سے پتا ہے۔ یہ تو ما شاء اللہ دوسرے لوگوں نے تحقیق کر لی، ورنہ مسلمانوں کی کیا ضرورت ہے، مسلمان کو تو پہلے سے پتا ہے کہ نبی ﷺ کے طریقے سے اچھا طریقہ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ تو بہرحال یہ کہ یہ اسی موضوع پہ تھا۔
صحابہ نے جو سیکھا آپ سے کر کے وہ دکھلایا
تبھی تو مشعلِ راہ ان کی ساری زندگانی ہے
نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے
یہ وہی بات ہے جو جو آپ ﷺ نے فرمایا: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي۔ یعنی جس پہ آپ ﷺ نے عمل کیا اور جو صحابہ کرام کا طریقہ ہے، اسی میں کامیابی ہے۔
جو پیکر تھے سراپا صدق کے، صدیق کہلائے
جو عشق و سوز سے پُر ہے، یہی ان کی کہانی ہے
نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے
آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ ابوبکر کا مقام اس لیے زیادہ نہیں ہے کہ وہ کچھ زیادہ اعمال آپ سے کر رہے ہیں، وہ ان کے دل کے اندر ایک چیز ہے۔ جس کی وجہ سے ان کا مقام زیادہ ہے۔ تو کون سی چیز ہوتی ہے دل کے اندر؟ وہ محبت، سوز و گداز، جو آپ ﷺ کی محبت اور اللہ کی محبت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دل میں تھی، اب اس نے ان کو بہت اونچا مقام دیا تھا۔
فراست سے کہ جن کا کام ہر اک پُر تھا، تھے عمر
تھی دور اندیشی ان کی جو وہ دشمن نے بھی مانی ہے
نبی کی اتباع میں۔۔۔
آج کل بھی ناروے کے اندر اور سویڈن کے اندر بعض قوانین ہیں جن کو "Umar Laws" کہتے ہیں۔ یعنی عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے لیے ہیں۔ فرانس کے ایک وزیر نے ان قوانین کا اجراء کیا تو ہمارے کچھ اشخاص ان کے ساتھ ملے تھے۔ اور ان سے خوشامدی طور پہ کہا تھا کہ آپ کے ان قوانین سے بہت ہمیں مزہ آیا، علم حاصل ہوا۔
تو انہوں نے کہا، آپ کو آپ کے اپنے خلیفہ عمر کا نام یاد ہے؟ تو انہوں نے کہا، جی انہوں نے کہا یہ انہی کے اصول میں نے Apply کیے ہیں۔ تھوڑے سے ان کے اصول Apply کیے ہیں۔ تو یہ ان کے منہ پہ طمانچہ تھا کہ تمہیں معلوم نہیں، ہمیں معلوم ہے۔ تو اصل بات یہ ہے کہ ہم لوگوں نے اس کی قدر نہیں کی، ان لوگوں نے اس کی قدر کی۔
حیا اور جود کے پیکر مجھے عثمان یاد آئے
وفا کے سامنے ان کی جھکی جو حکمرانی ہے
یہ آخری بات شاید آپ کو سمجھ نہ آئی ہو۔ جود و سخا کے تو پیکر تھے، وہ تو سب لوگ جانتے ہیں۔ لیکن یہ جو آخری شعر ہے کہ وفا کی وجہ سے ان کی حکمرانی جھکی ہوئی تھی، وہ کیا بات ہے؟
اصل میں آپ ﷺ کی دو احادیث شریفہ عثمان رضی اللہ عنہ کو یاد تھیں۔ ایک حدیث شریف یہ تھی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: تجھے ایک قمیص پہنائی جائے گی، اور بعض لوگ تم سے پھر اتروانا چاہیں گے تو اس کو اتارنا نہیں ہے۔ تو انہوں نے جانا کہ یہ خلافت ہے، اور لوگ مجھ سے جو ہٹانا چاہتے ہیں، مطلب خلافت سے مجھے ہٹانا چاہتے ہیں تو مجھے ان کی بات نہیں ماننی۔ یہ ایک بات تھی۔
دوسری بات یہ کہ آپ ﷺ سے ایک اور حدیث شریف سنی تھی کہ میری امت کے اندر جب تلوار چل پڑے گی، پھر رکے گی نہیں۔ پھر قیامت تک چلتی رہے گی۔ تو انہوں نے اپنی طرف سے کوئی دفاع میں تلوار نہیں چلائی، تاکہ میں ابتدا کرنے والوں میں نہ ہوں۔
حالانکہ وہ تو خلیفہ تھے، ان کے پاس طاقت تھی۔ وہ طاقت کے ساتھ چند لوگوں کی جو شرارت تھی وہ ختم کر سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے باقی لوگوں کو بھی روکا۔ حسنین کریمین کو بھی روکا تھا۔ انہوں نے اجازت مانگی تھی کہ چاچا جان دفاع کے لیے اجازت دے دیں، تو ہم جو ہے نا آپ کی طرف سے قتال کرتے ہیں۔ فرمایا نہیں، میں نے آپ ﷺ سے سنا ہے کہ اس امت میں جب تلوار چل پڑے گی، پھر رکے گی نہیں۔ تو میں اس کا ابتدا کرنے والوں میں نہیں ہونا چاہتا۔
اب جان دے دی، شہادت قبول کر لی، لیکن ان دو احادیث شریفہ کے خلاف نہیں گئے۔ اگر خلافت چھوڑ دیتے، پھر بھی شہید نہ ہوتے، اور اگر تلوار چلاتے، پھر بھی شہید نہیں ہوتے۔ تو ان دو احادیث شریفہ کے ساتھ وفا کرتے ہوئے اپنی جان جانِ آفرین کو پیش کر دی۔
نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے
شجاعت علم میں آگے علی کا نام رہتا ہے
قلم ہے ہاتھ میں دشمن پہ تلوار بھی چلانی ہے
نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے
یعنی یہ دو چیزیں بظاہر ملتی نہیں ہیں کہ کوئی صاحبِ قلم بھی ہو اور صاحبِ سیف بھی ہو۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے، جو صاحبِ قلم ہوتا ہے وہ صاحبِ سیف نہیں ہوتا، جو صاحبِ سیف ہوتا ہے وہ صاحبِ قلم نہیں ہوتا عموماً۔ لیکن علی رضی اللہ عنہ میں دو چیزیں جمع ہو گئی تھیں۔ آپ ﷺ نے ان کو بَابُ الْعِلْمِ فرمایا تھا، اور دوسری طرف یہ ہے کہ آپ ﷺ کے دور میں جتنی شجاعت کی کہانیاں ہیں وہ کس کی ہیں؟ زیادہ تر علی كَرَّمَ اللّٰهُ وَجْهَهُ کی ہیں۔ خیبر کا واقعہ، دوسرے واقعات، مرحب کے ساتھ جو لڑائی۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں چیزیں ان میں جمع ہو گئی تھیں، عدل اور اس کی شجاعت، یہ ساری چیزیں جمع ہو گئی تھیں۔
ایک دفعہ کچھ لوگوں نے کہا کہ تین خلفاء جو تھے ان کا دور یعنی اس میں امن کا تھا، اور آپ کا دور اس میں فتنہ بہت زیادہ ہے، کیوں ہے؟ تو علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا، میں ان کا مشیر تھا، تم میرے مشیر ہو۔ میں ان کا مشیر تھا تو اس وقت امن تھا، تم میرے مشیر ہو تو اس وقت فتنہ ہے۔ تو بات اس طرح ہے۔
صحابہ اہل بیت و امہات المومنین سب کی
محبت دل میں ہو نسبت رسول کی جس نے پانی ہے
یہ بہت ہی اہم بات ہے، اگر کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی نسبت پانی ہے تو آپ ﷺ کی نسبتوں کے ساتھ محبت کرے۔ آپ ﷺ کی نسبتیں کیا ہیں؟ صحابہ کرام کے ساتھ محبت کر لے، اہلِ بیت کے ساتھ محبت کر لے، اور امہات المؤمنین کا احترام کر لے، ان کے ساتھ ماؤں کی طرح محبت کر لے۔ اصل بات یہی ہے۔
ہم لوگ کیا کرتے ہیں؟ اپنی مرضی چلاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں ہم آپ ﷺ کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔ نہیں، صحابہ کرام کے ساتھ اس لیے محبت ہے کہ آپ ﷺ کے اصحاب ہیں۔ اہلِ بیت کے ساتھ اس لیے محبت ہے کہ آپ ﷺ کے گھر والے ہیں۔
آپ اندازہ کر لیں، یہ جو ہے نا، یہ ہشام بن عبدالملک کا دور تھا، اور خانہ کعبہ کا وہ طواف کر رہے تھے، تو دیکھا کہ حجر اسود پہ بڑا رش ہے، تو ہشام بن عبدالملک ادھر نہیں جا سکا۔ تو ایک صاحب آئے، تو سارے لوگ ہٹ گئے، اور ان کو حجر اسود کا بوسہ دینے دیا، اور پھر اس کے بعد جو ہے نا لوگ حجر اسود کا بوسہ لینے لگے۔
تو ہشام بن عبدالملک سے کسی نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ تو ہشام بن عبدالملک نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ۔ تو اس کے ساتھ اسی کا ایک شاعر کھڑا تھا، اس نے کہا اچھا آپ کو نہیں پتہ؟ مجھے پتہ ہے۔ اس نے تقریباً فی البدیہہ تیس اشعار حضرت زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ کے حق میں پڑھے، جو اس وقت زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ انہوں نے کہا آپ ان کو نہیں جانتے؟ ان کا مجھے پتہ ہے۔
تو پوری امت کتنی محبت کرتی تھی، مطلب ظاہر ہے اہلِ بیت کے ساتھ۔ اصل بات یہ ہے کہ واقعتاً اہلِ بیت کے ساتھ محبت، اللہ تعالیٰ نے اہلِ بیت کو محبت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ اور صحابہ کرام کو پیروی کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ صحابہ کرام کی پیروی کریں، اہلِ بیت کے ساتھ محبت کر لیں اور ماؤں کا احترام کر لیں۔ ان شاء اللہ الْعَزِیز ہم کامیاب ہو جائیں گے۔
نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے
یہ در وہ ہے کہ جس در کی، کی جبرائیل نے دربانی
شبیرؔ بن اک خدا کے، آپ کی عظمت کس نے جانی ہے
نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے
تو میں عرض کر رہا تھا کہ اس قسم کی اگر نعتیں ہوں، تو اس سے ایمان بڑھتا ہے۔ میں کیوں ان باتوں پہ زیادہ زور لگاتا ہوں؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ کہ ایک دفعہ میری ڈیوٹی لگائی گئی تھی، ایک اس طرح نعتوں کی محفل تھی، ایک مسجد میں۔ دو نعت خوان تھے کہ آپ نے ان کو کھانا کھلانا ہے۔ تو میں اسی وجہ سے کھڑا تھا ورنہ میں نعت، گانے کی طرز پہ سنوں میرے سر میں درد ہو جاتا ہے۔ تو وہ سارے گانے کی طرز پہ نعتیں تھیں۔ اب میرے تو سر میں درد ہو ہی رہا تھا لیکن میں اٹھ تو نہیں سکتا کیونکہ ظاہر ہے میں ان کے لیے انتظار کر رہا تھا۔
جب مجلس ختم ہوئی تو میں ان کو لے جانے لگا، گھر پہ لے گیا، ان کو کھانا کھلانے لگا، کھانا کھلاتے کھلاتے میں نے کہا، میں نے کہا خدا کے لیے اتنا عظیم کام ہے نعت پڑھنا، جس کے ذریعے سے انسان ولی اللہ بن جاتا ہے، آپ اس کو گانے کی طرز پہ کیوں پڑھتے ہیں؟ آپ اس کو سادہ طریقے سے پڑھیں، جو جیسا طریقہ ہے نعت کا، تو آپ پڑھیں۔
تو دونوں کی زبانوں سے جو بات نکلی وہ بتاتا ہوں۔ بیک وقت، وہ یہ تھی، آج کل تو نعتیں ایسی ہی ہیں، آج کل تو ہمیں یہی پڑھنی پڑتی ہیں، آج کل تو لوگ یہی چاہتے ہیں۔
اس وقت جب میں نے یہ سنا تو میں بہت حیران ہو گیا۔ اس وقت میں نے تہیہ کر لیا کہ میں ان شاء اللہ ایسی نعتوں کو جمع کروں گا جو گانے کی طرز پہ نہیں ہوں گی، اور اس میں صحیح نعتیں ہوں گی۔ تقریباً اس وقت میرے پاس ہزار سے زیادہ نعتیں ایسی ہوں گی جو گانے کی طرز پہ نہیں ہیں، اور ما شاء اللہ صحیح طریقے سے پڑھی بھی گئی ہیں۔
مقصد میرا یہ ہے کہ یہ تو آپ ﷺ کی محبت کے حاصل کرنے کا ایک راستہ ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت کو پڑھنا، آپ ﷺ کی نعتوں کو سننا، آپ ﷺ کی باتوں کو سننا، یہ تو آپ ﷺ کی محبت کے حصول کا ایک طریقہ ہے۔ تو اس کو تو ختم نہیں ہونا چاہیے، لیکن اس کو صحیح ہونا چاہیے۔
بہرحال میں عرض کر رہا تھا کہ ان چیزوں پہ اب ذرا ہم سوچیں تو بہت ساری باتیں ہماری سمجھ میں آ جائیں گی، ایک بات یہ کہ آیا وہ کام آپ ﷺ کے دور میں ہوا تھا؟ نعت خوانی کا میں نے کہہ دیا ہوا تھا نا؟ اور صحابہ نے بھی کیا تھا، لہٰذا جائز ہے۔ لیکن جو نہیں ہوئے تھے اور آج دین کے طور پر ہو رہے ہیں، تو ظاہر ہے اس کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ