نظامِ عقل، تفکر اور اللہ کی پہچان

جون 6، 2021 اور 30 نومبر، 2022 کے بیانات سے اقتباس اشاعت دوم: 6 جون، 2022

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      انبیاء کرام علیہم السلام کی سچائی اور ان پر ایمان لانے کی دلیل

·       فرشتوں کا سوال اور حضرت آدم علیہ السلام کی علم کے باعث فضیلت

·       عقلی محبت اور طبعی محبت کا فرق

·       انسانی دماغ اور حواس کی حد (Limitations) اور اس میں تکوینی و تشریعی حکمتیں

·       انسان کے تین بنیادی نظام (نفس، قلب اور عقل)

·       کائنات کی تخلیق میں غور و فکر (تفکر) کی اہمیت

·       Concept (فہم) درست ہونے سے فیصلوں کی درستی

·      • ذکر کے ساتھ فکر کا باہمی ربط اور اس کے فوائد

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ

أَمَّا بَعْدُ!

فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

فَانظُرْ إِلٰى اٰثَارِ رَحْمَتِ اللَّهِ كَيْفَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ إِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْيِي الْمَوْتٰى ۖ وَهُوَ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ.

وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: اَلَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلٰى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُوْنَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ.

وَقَالَ اللَّهُ تَعَالٰى: أَوَلَمْ يَنظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ.

وَقَالَ اللَّهُ تَعَالٰى: أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهَادًا. وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا. وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا. وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا. وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ لِبَاسًا. وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا. وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا. وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَهَّاجًا. وَأَنزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَاءً ثَجَّاجًا. لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَنَبَاتًا. وَجَنّٰتٍ أَلْفَافًا.

وَقَالَ اللَّهُ تَعَالٰى: قُتِلَ الْإِنسَانُ مَا أَكْفَرَهُ. مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهُ. مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ. ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ. ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ. ثُمَّ إِذَا شَاءَ أَنشَرَهُ. كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَا أَمَرَهُ. فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ إِلَىٰ طَعَامِهٖ. أَنَّا صَبَبْنَا الْمَاءَ صَبًّا. ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا. فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا. وَعِنَبًا وَقَضْبًا. وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا. وَحَدَآئِقَ غُلْبًا. وَفَاكِهَةً وَأَبًّا. مَّتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ.

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي نُزُوْلِ:"إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ"، وَيْلٌ لِّمَنْ قَرَأَهَا وَلَمْ يَتَفَكَّرْ فِيهَا.

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ قَوْمًا تَفَكَّرُوْا فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: تَفَكَّرُوْا فِيْ خَلْقِ اللَّهِ وَلَا تَتَفَكَّرُوا فِي اللَّهِ، فَإِنَّكُمْ لَمْ تَقْدِرُوْا قَدْرَهُ.

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ

معزز خواتین و حضرات! انسان اشرف المخلوقات ہے۔ اللہ پاک نے انسان کے اندر بڑی صلاحیتیں رکھی ہیں۔ انسان کو اللہ جل شانہ نے تین نظاموں کا مجموعہ بنایا ہوا ہے۔ یعنی اس کے اندر تین نظام چل رہے ہیں بیک وقت؛ ایک دل کا نظام ہے، ایک عقل کا نظام ہے اور ایک نفس کا نظام ہے۔ نفس کا نظام خواہشات اور احساسات و ادراکات کا ہے، اور قلب کا جو نظام ہے وہ ایمان اور کفر، جذبات، ان کا ہے۔ اور عقل کا نظام سوچ، بچار، علم اور اس قسم کی چیزوں کا ہے، تو حساب کتاب کا۔

اب یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے ان تینوں نظاموں کے بارے میں بات فرمائی ہے۔ قلب کے بارے میں بھی بات ہوئی ہے، وہ "اصلاح الباطن" میں بڑی تفصیل سے گزری ہے۔

نفس کے بارے میں بھی بات ہو چکی ہے: قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا. اور آج کی بات ہے وہ عقل کے بارے میں ہے، فکر و سوچ کے بارے میں ہے۔اصل میں آپ ذرا غور سے دیکھیں ابھی میں نے اکثر بیانوں میں قرآن پاک کی آیتیں ہوتی ہیں اور احادیث شریفہ بھی، لیکن اس میں دیکھیں اس میں مسلسل آیاتِ مبارکہ کی تلاوت کی گئی ہے۔ یعنی قرآن پاک میں کافی نظیریں ملتی ہیں اس بات کو اجاگر کرنے کے لیے کہ انسان کو صحیح فکر کرنی چاہیے، صحیح سوچ اپنانی چاہیے۔

دیکھیں ایک چیز ہوتی ہے جس کو انگریزی میں کہتے ہیں"Concept" اور عربی میں کہتے ہیں "فہم" اس کی جمع مفاہیم ہے۔ تو اگر فہم درست نہ ہو، Concept کلیئر نہ ہو، تو Decision غلط ہوتے ہیں، فیصلے غلط ہوتے ہیں۔ اور انسان کی زندگی فیصلوں پہ چلتی ہے، ہر وقت اس کو کوئی نہ کوئی فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ تو صحیح فیصلے اگر کوئی کرتا ہے تو اس کو اس کا فائدہ ہوتا ہے، اور اگر غلط فیصلے کرتا ہے تو اس کو اس کا نقصان ہوتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں گاڑیوں میں لوگ چلتے ہیں، بعض دفعہ ایک معمولی غلط فیصلہ ہوتا ہے ایکسیڈنٹ کا باعث بن جاتا ہے۔ بہت بڑا نقصان ہو جاتا ہے، اپنا بھی نقصان ہو جاتا ہے دوسروں کا بھی نقصان ہو جاتا ہے۔تو اس طرح صحیح سوچ اور صحیح فکر اگر کسی کو اللہ پاک نصیب فرمائے تو یہ بڑے خوش نصیب آدمی ہیں۔ اب ہم اس وقت بھی سفر پر ہیں۔ یعنی ہر شخص مسافر ہے۔ تو اس سفر میں ہمیں مختلف حالات پیش آ رہے ہیں اور ہر ایک حالت میں ہمیں فیصلہ کرنا ہے۔ تو ہمیں صحیح بات اگر مل جائے، تو ہمارے فیصلے صحیح ہوں گے۔ اب یہاں پر دیکھیں نا جو آیاتِ کریمہ تلاوت کی گئی ہیں، تو ہم اس میں غور کریں کہ اللہ پاک ہم سے کیا چاہتا ہے؟ تو سب سے پہلے ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ فکر کیا چیز ہے؟ تاکہ ہم معلوم کر لیں کہ اللہ پاک نے جس چیز کے بارے میں فرمایا ہے وہ کون سی چیز ہے؟

تو "تفکر" اور "فکر" کے جو معنی ہیں، وہ یہ ہیں کہ انسان کو جو علمی یا عملی مفید باتیں معلوم ہوں، ان میں یہ غور کرتا رہے۔ تاکہ اس کے ذریعے سے نئے حالات کے مطابق نئی باتیں معلوم ہو جائیں۔ اور علمی اور عملی ترقی ہو۔ اور جو ضرر رساں امور ہیں، ان میں بھی غور کرتا رہے تاکہ ان سے آئندہ بچا رہے۔ اور اگر گزشتہ زمانے میں کوئی خلافِ شریعت کام سرزد ہو چکا ہو تو اس کا تدارک کر سکے۔

حق تعالیٰ شانہ نے ارشاد فرمایا کہ:

"وہ لوگ یاد کرتے ہیں اللہ کو کھڑے، بیٹھے، کروٹ پہ لیٹے اور سوچتے ہیں آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں"۔

اور ارشاد فرمایا حق تعالیٰ شانہ نے کہ:

" کیا ان لوگوں نے آسمان اور زمین کے عالم میں غور نہیں کیا؟"

دیکھیں سب سے بڑی بات ایمان کی بات ہے۔ ہدایت کا پہلا step، ایمان۔ تو اب ایمان جو ہے وہ غیب پر ہے۔ لیکن غیب ایسا نہیں ہے کہ اس کو انسان جان نہ سکے، کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں اشارے موجود ہوتے ہیں۔ مثلاً دیکھیں بجلی کو کوئی نہیں دیکھتا، بجلی کو کوئی دیکھ ہی نہیں سکتا۔ لیکن بجلی سے کون انکار کر سکتا ہے؟ کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ بچے بھی کہتے ہیں جی بجلی چلی گئی، بجلی آ گئی۔ ان سے پوچھیں بجلی کیسے چلی گئی؟ تو وہ بلب کی طرف اشارہ کر لیتے ہیں کہ بلب بجھ گیا یا پنکھا بند ہو گیا، کہتے ہیں بجلی چلی گئی۔ حالانکہ انہوں نے نہ بجلی دیکھی ہے نہ بجلی دیکھ سکتے ہیں، ان کے بڑے نہیں دیکھ سکتے چھوٹے کیا دیکھ سکیں گے۔ تو وہ اندازہ کس چیز سے لگا رہے ہیں؟ یہ جو بجلی سے چلنے والی چیزیں ہیں اس سے اندازہ لگا رہے ہیں کہ بجلی موجود ہے، بجلی موجود نہیں ہے۔

تو اس طریقے سے نشانیاں موجود ہیں کائنات کی۔ اب اتنا بڑا آسمان ہے، پھر وسیع زمین ہے۔ ہوائیں چل رہی ہیں، دریا موجود ہیں، سمندر موجود ہیں، بارشیں ہو رہی ہیں، اور اس طریقے سے پتھر ہیں، اور مٹی ہے، اور اس طریقے سے مختلف قسم کے جانور ہیں۔ یہ ساری چیزیں کیا ویسے ہی آ گئی ہیں؟ ان کو کسی نے پیدا نہیں کیا؟ Cause and effect والی جو بات ہے، کہ ہر چیز کے لیے کوئی ذریعہ ہوتا ہے۔ تو اب دیکھیں یہ جو ذریعہ ہے ہم لوگ اس کو دیکھ سکتے ہیں، محسوس کر سکتے ہیں۔ تو ہمیں ان چیزوں سے اندازہ لگانا چاہیے۔ اب اتنی بڑی بڑی نشانیاں موجود ہیں ان بڑی نشانیوں میں ہم غور کر لیں اور صحیح اس تک پہنچ جائیں۔ تو جب ہم ان تمام چیزوں کے اندر غور کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اس کا پیدا کرنے والا کوئی ہے۔ تو باقی چیزیں اگر ہمیں فی الحال معلوم نہ بھی ہوں، تو کم از کم پیدا کرنے والے پہ ایمان آ گیا، پتہ چل گیا کہ ہمیں کسی نے پیدا کیا ہے۔ اور وہ ذات بڑی قدرت والی ہے۔تو اب ان کی بات ہم تک کیسے پہنچ سکے؟ اس کے لیے اس نے انتظام کیا ہے، اور وہ انتظام اس طرح کیا ہے کہ کتابوں کا سلسلہ شروع کیا ہے، اور پیغمبروں کا سلسلہ شروع کیا ہے، اور ختم بھی ہوا۔ تو اس کے ذریعے سے ہمیں وہاں کی معلومات آتی ہیں۔ اب اس کو سمجھنے کے لیے کس چیز کی ضرورت ہے؟ تو اس کو سمجھنے کے لیے اس چیز کی ضرورت ہے کہ جس ہستی کو ہم پیغمبر کہتے ہیں وہ ہستی ایسی ہے کہ جس نے عمر بھر میں کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اس کا کردار بالکل صاف، اور ماضی بالکل روشن ہے۔ کوئی کافر بھی اس پر یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ اس نے جھوٹ بولا ہو۔ قیصر نے جب ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت جو کافر تھے، ان سے پوچھا کہ "کیا اس نے کبھی جھوٹ بولا ہے؟" تو اس نے کہا کہ" نہیں"۔ اس نے کہا: "جو بندوں کے سامنے جھوٹ نہیں بولتا وہ خدا پہ جھوٹ کیسے بولے گا؟" اب دیکھیں یہ بات ہے بہت بڑی نشانی ہے۔ تو پیغمبر کو اللہ پاک اتنا پاک و صاف پیدا کر لیتا ہے کہ لوگوں کو اس پہ یقین آتا ہے، جو طالب ہوتے ہیں، جو سمجھدار ہوتے ہیں۔ کہ اتنا سچا ہے تو یہ جھوٹ تو نہیں بول سکتا۔ باقی اللہ پاک کی ذات پہ تو یقین نشانیوں سے آ جاتا ہے، لیکن اس کی بات کیا ہے؟ اس کے لیے پیغمبر کی ضرورت ہے۔ وہ نشانیوں سے آپ معلوم نہیں کر سکتے۔مثال کے طور پر قرآن، آپ کون سی نشانیوں سے معلوم کریں گے کہ قرآن کے یہ الفاظ ہیں؟ اس کے لیے تو پیغمبر پر ایمان کی ضرورت ہے۔ جب تک پیغمبر پر ایمان نہیں ہو گا تو آپ قرآن پر ایمان نہیں لا سکتے۔ تو اس کے لیے پیغمبر کا ہونا ضروری ہے۔ تو ظاہر ہے آپ نے اللہ پر یقین کیا نشانیوں سے۔ پیغمبر پر یقین کیا اس کے کردار کی وجہ سے۔ اور جب وہ سچا ہے تو اس نے جو بتایا وہ سچ ہے۔ اس نے جس کتاب کے بارے میں بتایا وہ سچ ہے۔ اس نے اس کتاب کی تشریح کے بارے میں جو بتایا وہ سچ ہے۔ پھر ان کے جو ساتھی ہیں انہوں نے ان کے پیچھے ایسا کردار اپنایا کہ وہ بذات خود ایک دوسرا ثبوت ہے۔ تو ان کے طریقوں کو اپنانے کے لیے ہمیں مکلف بنا دیا۔

تو گویا کہ ہر چیز دوسری سے جڑی ہوئی ہے اور ہم جو مطلوبہ چیز ہے اس تک پہنچ سکتے ہیں۔

تو ارشاد فرمایا اللہ جل شانہ نے کہ :

"کیا ان لوگوں نے آسمان اور زمین کے عالم میں غور نہیں کیا؟"

اور فرمایا ہے کہ:

" کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا؟ اور پہاڑوں کو زمین کی میخیں نہیں بنایا؟ اور تم کو ہم نے جوڑا جوڑا بنایا۔ اور تمہاری نیند کو آرام کی چیز بنایا، اور رات کو پردے کی چیز بنایا، اور دن کو تمہارے لیے روزگار بنایا۔ اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنا دیے۔ اور ایک چراغ یعنی سورج بنایا۔ اور بھرے بادلوں سے خوب پانی برسایا، تاکہ اس کے ذریعے سے اناج اور سبزہ اور گنجان باغ پیدا کرے۔"

اور ارشاد فرمایا کہ:

" انسان کو خدا کی مار ہو وہ کیسا ناشکرا ہے! خدا نے اس کو کس چیز سے بنایا ہے؟ اس کو ایک بوند سے بنایا ہے، اور اس کو بنایا پھر اس کے اعضاء میں اندازہ رکھا ہے، پھر اس کے واسطے راستہ آسان کر دیا۔"

یعنی آپ اندازہ کر دیں، جس راستے پہ انسان پیدا ہوتا ہے وہ کافی تنگ ہوتا ہے۔ لیکن دیکھیں اللہ پاک نے اس کے لیے راستہ آسان کر دیا۔

" پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں رکھوایا، پھر جب چاہے گا اس کو قبر سے زندہ کر کے اٹھائے گا۔ ہرگز شکر ادا نہ کیا جو اس کو حکم کیا اس کو پورا نہ کیا۔ پس انسان کو غور کرنا چاہیے اپنے کھانے میں کہ ہم نے پانی برسایا پھر زمین کو پھاڑا، پھر اس میں غلہ اگایا۔ اور انگور، اور ترکاری، اور زیتون، اور کھجوریں، اور گنجان باغ، اور میوہ، اور چارہ، یہ سب چیزیں پیدا کیں تمہارے نفع کے لیے اور بعض تمہارے مویشی کے واسطے۔"

مطلب یہ ہے کہ یہ سب اللہ جل شانہ نے اس میں گویا کہ اپنی قدرتوں کا بھی اظہار فرما دیا۔ اور ساتھ ساتھ احسان بھی بتا دیا کہ ہم نے تمہارے لیے کیا کیا کیا۔

صحیح بات میں عرض کرتا ہوں کہ کسی کو اگر، یعنی ہو سمجھ، تو اللہ جل شانہ نے انسان کو پیدا کرنے کے لیے جو بنایا، وہ بذاتِ خود انسان کی شرافت کا معراج ہے، اور شکر کرنے کا بڑا موقع ہے۔

جب اللہ پاک نے فرمایا:" إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً"

جب اللہ پاک نے انسان کو پیدا کرنے کے لیے ارادہ فرمایا کہ میں اس کو خلیفہ بنانا چاہتا ہوں، زمین میں۔ تو ملائکہ کو ان کی تمام باتوں کا علم نہیں تھا، تو انہوں نے حیرت کا اظہار کیا۔

"قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ"

مطلب یہ ہے کہ یہ تو فساد مچائے گا دنیا میں۔ اور خون بہائے گا۔ تو اللہ پاک نے فرمایا کہ تم وہ نہیں جانتے جو میں جانتا ہوں۔

" قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ"

اب یہ ہے کہ، فرشتوں کے ساتھ یہ بات ہو گئی۔ پھر اللہ پاک نے دو طریقے سے ان کو جواب دیا ہے۔ ایک حاکمانہ انداز میں اور ایک حکیمانہ انداز میں۔ حاکمانہ انداز میں تو فرمایا: "قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ"

"بے شک میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔" یہ حاکمانہ انداز ہے۔ بس وہ تو فوراً چپ ہو گئے۔حکیمانہ انداز میں پھر اللہ پاک نے ان کے سامنے: "وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنبِئُونِي بِأَسْمَآءِ هٰؤُلَآءِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ" یعنی اس وقت فرشتوں سے اور آدم علیہ السلام، ان دونوں کے سامنے کچھ چیزیں رکھ دیں، نام رکھ دیے، علم کی باتیں تھیں۔ اب فرشتوں کو ان چیزوں کے ساتھ مناسبت نہیں تھی، تو ان کو معلوم نہیں ہوئی۔ آدم علیہ السلام کو اسی کے لیے پیدا کیا گیا تھا، اس کو مناسبت تھی، لہٰذا اس نے فوراً بتا دی۔

تو اللہ پاک نے فرمایا: "میں نہیں کہتا تھا کہ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے؟" تو فوراً فرشتوں نے کہا: "قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ"

تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ پاک نے بہت غیرت فرمائی ہے انسان کے اوپر، فرشتوں کے سامنے۔ اس وجہ سے انسان کو تو بہت ہی زیادہ محبت ہونی چاہیے اللہ کے ساتھ۔ تو یہ بھی ایک قسم کاعقل کا استعمال ہے۔ اب یہ جو محبت پیدا ہو گی، اس وجہ سے، اس کو "عقلی محبت" کہتے ہیں۔ یعنی وہ محبت جو سوچ سے پیدا ہوتی ہے، اور علم سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ محبت بڑی پائیدار ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی بنیادیں مضبوط ہیں۔ ٹھیک ہے، مطلب یہ ہے کہ ممکن ہے اتنا فعال نہ ہو، لیکن بنیاد مضبوط ہوتی ہے لہٰذا یہ زائل نہیں ہوتی۔ جبکہ طبعی محبت جو ہوتی ہے وہ زائل ہو سکتی ہے۔ فعال زیادہ ہوتی ہے لیکن وہ زائل بھی ہو سکتی ہے۔ تو یہاں پر جو محبت ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ، اس بنیاد پر وہ عقلی محبت قائم ہو سکتی ہے۔

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ :"جب یہ آیت إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ نازل ہوئی، تو فرمایا کہ ہلاکت ہے اس شخص کے واسطے جس نے اس کو پڑھا اور ان چیزوں میں غور نہیں کیا۔"

اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ایک جماعت نے اللہ تعالیٰ کے متعلق غور کیا۔ اس پر رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ :"تم اللہ کی مخلوق میں غور کرو، اور ذاتِ خداوندی میں غور نہ کیا کرو۔ کیونکہ اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔"

اللہ جل شانہ نے جس چیز کو جس مقصد کے لیے پیدا کیا ہے، اسی کے لیے استعمال کرنا عین حکمت ہے۔ اور جس چیز کے لیے پیدا نہیں کیا، اس کے لیے استعمال کرنا جہالت ہے، بیوقوفی ہے۔ اب مثال کے طور پر ہم لوگ ایک کمپیوٹر جس کی جتنی طاقت ہے، اگر اس سے زیادہ چیز، مطلب اس پر مسئلہ ڈال دیں، جس کی اس میں طاقت نہیں ہے تو کمپیوٹر Hang ہو جائے گا۔ یعنی بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے نا کہ Softwares جو لوگ بناتے ہیں، تو اس میں جو لوگ اس کو خراب کرتے ہیں تو اس میں بڑے Calling ہو رہی ہوتی ہے۔ وہ اتنی تعداد میں ہو جاتی ہے کہ وہ کمپیوٹر برداشت نہیں کر سکتا تو پروگرام نہیں چلتا، تو پھر وہ جو Software والے ہوتے ہیں، اس کو ٹھیک کرنے کے لیے اس کو ختم کرتے ہیں۔ تو یہ چیز ہے کہ اس کی Limit ہے۔ اس Limit سے زیادہ اگر اس پہ بوجھ ڈال دیا تو Hang ہو جائے گا۔

تو اسی طرح ہمارے دماغ کی بھی ایک Limit ہے۔ آپ ﷺ نے جو فرمایا: تم اس کا اندازہ نہیں کر سکتے، یہ Limit کو بتا رہے ہیں۔ کہ ہم وہ چیز کر نہیں سکتے۔ لہٰذا جو چیز ہم کر نہیں سکتے، اس کو کرنا چاہیں گے تو اس سے پاگل پن پیدا ہوتا ہے، دماغ خراب ہوتا ہے۔ تو ایسا کام انسان کیوں کرے جس سے انسان کو نقصان ہو؟ ہاں! البتہ اللہ کے صفات میں غور کرو، قدرتوں میں غور کرو، اس سے تمہیں اللہ کی پہچان حاصل ہو گی۔

تو ہمارا مقصد تو یہی ہے نا کہ ہم اللہ پاک کو پہچانیں۔ اللہ پاک کو دیکھنے کے ہم مکلف نہیں ہیں کیونکہ ہم دیکھ نہیں سکتے۔ موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ" لَن تَرَانِي"" تم مجھے نہیں دیکھ سکتے"۔ تو موسیٰ علیہ السلام اگر نہیں دیکھ سکتے تو کوئی اور کیا دیکھ سکے گا؟ تو اس کی کوشش نہیں کرنی چاہیے کہ ہم خدا کو دیکھیں یا خدا کے بارے میں سوچیں کہ وہ کیسے ہیں؟ نہیں۔ وہ ہمیں نہیں معلوم۔ نہیں ہو سکتا۔ البتہ اللہ کی موجودگی کا ہمیں پتہ ہے، اللہ پاک کےایک ہونے کا ہمیں پتہ ہے، اللہ پاک کی قدرتوں کا پتہ ہے، اللہ جل شانہ سنتے ہیں، پتہ ہے۔ اللہ پاک دیکھتے ہیں، پتہ ہے۔ یعنی جو چیزیں ہمیں قدرتیں اور صفات معلوم ہیں اس کے ذریعے سے ہم اللہ پاک کے ساتھ تعلق بنا سکتے ہیں۔

اب دیکھیں سورہ فاتحہ میں جو ہمیں بتایا گیا ہے، اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ. تو ہمیں کون سی چیز سمجھائی گئی؟ اللہ پاک کی دو صفات: الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ. پھر مٰلِكِ يَوْمِ الدِّينِ، یہ تیسری صفت، قدرت کی کہ اللہ پاک یوم الدین کے مالک ہیں۔ حکومت اس کی ہو گی۔ تو جب یہ والی بات ہے کہ جس کے پاس ہم جا رہے ہیں، حکومت اس کی ہو گی، تو ہمیں ابھی سے معاملہ اس کے ساتھ صحیح کرنا چاہیے۔ تو إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ، یہ اس کی کوشش ہے۔ اور پھر اس کا طریقہ ہم اللہ پاک سے مانگتے ہیں: اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ. صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔

تو اس طرح گویا کہ ہم لوگ اللہ جل شانہ کے ساتھ تعلق قائم کر سکتے ہیں۔

ارشاد فرمایا ہے حق تعالیٰ نے کہ :

"دیکھو تو رحمتِ خداوندی کی نشانیوں کی طرف، مردہ ہونے کے بعد کس طرح زندہ کرتا ہے؟ بلا شبہ وہ مردوں کو زندہ کرنے والا ہے، ہر چیز پر قادر ہے۔"

اور نیز ارشاد فرمایا اللہ جل وعلا نے کہ:

" بیشک اس میں غور کرنے والوں کے واسطے نشانیاں ہیں۔"

اور ارشاد فرمایا:

کیا وہ لوگ اپنے اندر غور نہیں کرتے؟ وَفِي أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ. اور ارشاد فرمایا:

کیا وہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟

اب دیکھیں قرآن اتنا جامع کتاب ہے، تو اس میں غور نہیں کرتے؟ اور ارشاد فرمایا کہ:

" بابرکت کتاب ہے جس کو ہم نے آپ پر نازل کیا ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں کو سمجھیں، ان میں غور کریں، تاکہ سمجھدار لوگ نصیحت حاصل کریں۔"

اور ارشاد فرمایا کہ

"اس میں عبرت ہے افہام کے لیے۔"

اور نیز ارشاد فرمایا کہ :

"انبیاء اور امم سابقین کے قصوں میں سمجھدار لوگوں کے واسطے بڑی عبرت ہے۔"

اور ارشاد فرمایا کہ :

"بے شک اس میں نشانی ہے اس قوم کے لیے جو سمجھتی ہو۔"

تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم لوگوں کو یہ خیال رکھنا چاہیے کہ اللہ پاک نے جو چیزیں اس مقصد کے لیے ہمیں پہنچائی ہیں، اس سے ہم فائدہ اٹھائیں۔ سب سے پہلی بات؛ ہم اپنے اندر غور کریں۔ ہمارے اندر کیا عجیب و عجیب نظام ہیں؟ ایک Eye Specialist مجھے کہہ رہا تھا، کہ میں جب آنکھ کے آپریشن کرتا ہوں تو میں حیران ہو جاتا ہوں، کہ کیا اللہ پاک نے نظام بنایا ہوا ہے! اب دیکھیں اس کے اندر لاکھوں کیمرے لگے ہوئے ہیں، ایک آنکھ کے اندر، اور لاکھوں Rods ہیں دائیں بائیں، اچھا صفت یہ ہے کہ جو کیمرے لگے ہیں Cones جو ہیں، اس سے ہم مکمل تصویر لے سکتے ہیں، صحیح تصویر جس میں پہچان ہوتی ہے۔ اور جو Rods ہیں اس میں نامکمل تصویر ہوتی ہے، موجودگی کا احساس ہوتا ہے لیکن وضاحت نہیں ہوتی۔ اب دیکھیں مجھے ڈیسک نظر آ رہا ہے، محسوس ہو رہا ہے، اپنے ہاتھ کا بھی پتہ چل رہا ہے، لیکن میں اگر انگلیاں گننا چاہوں اس کا تو نہیں گن سکتا۔ اس میز کے اوپر کیا چیز پڑی ہوئی ہے؟ نہیں کر سکتا۔ موجودگی کا پتہ ہو گا کہ کوئی چیز پڑی ہوئی ہے، لیکن معلوم نہیں کر سکتا۔ اس طرح نیچے اگر دیکھوں،تو اوپر میرے لیے جو صورتحال ہو گی وہ ایسی ہو گی کہ موجودگی کا احساس ہو گا لیکن پتہ نہیں چلے گا کہ کیا ہے۔اب دیکھو اس میں کیا حکمت ہے؟ اسی کے اندر ہے۔ اب نامحرم سے بچنا ہو، اس کو دیکھنے سے بچنا ہو، اور راستے پہ چلنا بھی ہو تاکہ گر نہ جائیں۔ تو اس کے لیے موجودگی کا احساس ضروری ہے۔ پہچاننے کا احساس ضروری نہیں ہے۔ جب تک میرا اس سے کوئی کام نہ ہو۔ تو اگر میں نگاہ نیچے کر کے چلوں تو مجھے راستے کا پتہ چل رہا ہو گا کہ کوئی چیز آ رہی ہے سامنے، میں اس سے بچ سکوں گا۔ لیکن وہ جو فتنہ ہے وہ پہچاننے میں ہے، وہ دیکھنے میں ہے، وہ صحیح صورت میں ہے، وہ مجھے پتہ نہیں چلے گا، لہٰذا میں اس سے بچوں گا۔ دائیں بائیں جو چیزیں ہیں، اس کی موجودگی کا احساس ہو گا، لیکن میں اس سے متاثر نہیں ہوں گا، کیونکہ ظاہر ہے مجھے اس کی صحیح تصویر نہیں معلوم ہو رہی۔ تو یہ اللہ پاک نے نظام بنا دیا کہ اس میں تکوینی کے ساتھ تشریعی کا انتظام بھی ہے۔

اس طرح آواز جو ہے، اس کے لیے اللہ پاک نے نظام ایسا بنایا ہے کہ یہ مڑ کے بھی آ جاتی ہے۔ نگاہ مڑ کے نہیں آتی۔ مطلب یہ ہے کہ ایک دیوار کے پیچھے کوئی بول رہا ہو اور دائیں بائیں کوئی راستہ ہو تو اس کے ذریعے سے آواز مجھ تک پہنچ جائے گی۔ لہٰذا اگر کسی غیر محرم سے میں بات کرنا چاہتا ہوں تو بات تو پہنچ جائے گی لیکن دیکھ نہیں سکوں گا۔ تو دیکھو اللہ پاک نے کیسے اچھے انتظام کیے ہیں۔ اچھا یہ دیکھیں چاند ہے چاند، اس کی سطح کھردری ہے۔ تو کھردری سطح کا کیا فائدہ ہے؟ دیکھو نا مطلب یہ ہے کہ اکثر تو لوگ کہتے ہیں بھئی جو ہموار ہوتا ہے، اس کا فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن یہاں اس کا نقصان ہوتا۔ کیونکہ اگر چاند کی سطح ہموار ہوتی تو یہ آئینے کی صورت بن جاتی۔ اور آئینے میں کیا ہوتا ہے؟ اس میں روشنی منعکس ہوتی ہے، پوری کی پوری روشنی منعکس ہوتی ہے۔ اب سورج کی روشنی منعکس ہوتی تو باقاعدہ جس طرح آئینے میں سورج منعکس ہوتا ہے تو بالکل پوری لائٹ اس کے اوپر پڑتی ہے۔ تو کچھ لوگوں کو اندھیرا ہوتا، ان کو تو کچھ بھی نظر نہ آتا، اور کچھ لوگوں کو سورج نظر آتا، سو ہی نہ سکتے۔

تو اللہ پاک نے ایسا انتظام کیا کہ چاندنی بنا دی اس سے، پیاری روشنی، چاندنی۔ تو وہ کس وجہ سے؟ ایک ایسی چیز سے جس کو لوگ اچھا نہیں سمجھتے یعنی کھردری سطح سے۔ تو گویا کہ اللہ پاک نے اپنی حکمت سے جو چیزیں بنائی ہیں اس میں بڑی حکمتیں ہیں اور بہت بڑی سمجھ کی باتیں ہیں۔ تو ہمیں اس میں غور کرنا چاہیے تو ان شاء اللہ العزیز ہمیں اللہ پاک اس کے بارے میں جو علم ہے اس سے آگاہی نصیب فرمائیں گے اور ہم لوگ اس سے فائدہ حاصل کر سکیں گے۔

عقل والوں کے لیے باتیں چل رہی ہیں جن میں ابھی مثالیں دی جا رہی ہیں۔

قَالَ اللَّهُ تَعَالٰی:

أَفَلَا يَنظُرُوْنَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ وَإِلَى السَّمَآءِ كَيْفَ رُفِعَتْ وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ

نیز فرمایا: ”یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے عجیب پیدا کئے گئے ہیں اور آسمان کی طرف کہ کیسا بلند کیا گیا ہے اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح کھڑے کئے گئے ہیں اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی، تو تم نصیحت کرتے رہو کہ تم نصیحت کرنے والے ہی ہو۔“

علامہ قتادہ رحمۃ اللہ علیہ "أَفَلَا يَنْظُرُوْنَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ" کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: جب اللہ تعالیٰ نے جنت کی چیزوں کے اوصاف بیان فرمائے تو گمراہ لوگوں کو تعجب ہوا۔ اور انہوں نے اس کی تکذیب کی تو اس پر اللہ جل شانہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ یا جب ”سُرُرٌ مَّرْفُوعَةٌ“ نازل ہوئی تو لوگوں نے اعتراض کیا کہ ان بلند تختوں پر ہم کیسے بیٹھیں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

کہ مطلب یہاں پر جو ہو رہا ہے اس کو تم نہیں دیکھتے ہو؟

یعنی اونٹ پر غور کرنے کو کہا گیا "إِلَى الْإِبِلِ" کے ذریعے سے۔ جواس اونٹ پر غور کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کو بھی آسانی سے سمجھ سکے گا، اونٹ کتنا عظیم الجثہ جانور ہے اور اس اونٹ سے عربوں کی مناسبت بھی بہت تھی عموماً غریب سے غریب آدمی بھی اس کو پالتا تھا، تو کہا جا رہا ہے اونٹ بھی تو اونچا جانور ہے مگر اس پر چڑھنے کے لئے سیڑھی لگانا نہیں پڑتی۔ قدرت نے اس کے پاؤں میں دو گھٹنے دے دیئے یعنی ہر پاؤں میں دو گھٹنے بنا دیئے کہ وہ اس کو طے کر کے بیٹھ جاتا ہے اس وجہ سے اس پر چڑھنا اور اترنا آسان ہو جاتا ہے اسی پر جنت کو بھی قیاس کرلو۔

"وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ" : پانی کو زمین پر بہایا گیا تو وہ ہلنے لگی تو اس پر پہاڑوں کو کھڑا کر دیا گیا تا کہ وہ جم جائے اس میں منافع بھی رکھ دیئے۔

اصل میں Gravitational balance کسی بھی چیز کو آپ balance کرنا چاہیں تو اس میں یہ والی بات ہوتی ہے کہ کس طرح اس کے weight distribute کرتے ہیں اس کے اوپر، جب وہ moving body ہو۔ تو ظاہر ہے زمین تو دونوں طرح سے حرکت کر رہی ہے۔ تو اس کے اوپر یہ پہاڑ رکھ دیے گئے تو اس سے اس کی جو ڈولنے والی بات تھی وہ کافی کم ہو گئی۔ یعنی ایک باقاعدہ ایک طریقہ کار کے مطابق ہو گئی۔ویسے زمین کی حرکتوں کے بارے میں کل بھی میں بات کر رہا تھا۔ یہ دو حرکتیں سمجھی جاتی ہیں حالانکہ پانچ ہیں۔ شاید اس سے بھی زیادہ ہوں لیکن سائنسدانوں نے ابھی تک پانچ دریافت کی ہیں۔ اور وہ یہ ہیں کہ ایک تو یہ سورج کے گرد ہے، دوسری محور کے گرد ہے۔ تیسری یہ کہ جو محور ہے، یہ 23.5 درجے پہ ہمیشہ نہیں رہے گا بلکہ یہ بھی vary کرتا ہے۔ یعنی بڑھتا ہے بڑھتا ہے، پھر کم ہوتا ہے کم ہوتا ہے ایک پورا ایک چکر لگاتا ہے۔ تو ایک تو یہ ہے، پھر یہ ہے کہ یہ جو محور ہے، یہ کسی خاص direction میں جھکا ہوا ہے، تو یہ direction ہمیشہ نہیں رہے گی بلکہ وہ direction change ہوتی ہے جیسے ایک قیف ہوتا ہے نا... مثال کے طور پر اس طرح ہے تو اس طرح، اس طرح، اس طرح، اس طرح change ہو رہا ہے۔ پھر یہ جو changeہے، یہ بھی smooth نہیں ہے، بلکہ اس طرح زنجیر دار ہے۔ اور ہر زنجیر کی کڑی جو ہے نا19 سال پر منحصر ہے، یعنی 19سال میں ایک کڑی پوری کرتی ہے۔تو یہ سب اس کو balance کرنے کی وجہ سے ہوا ہے اور یہ پہاڑوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ کیونکہ پہاڑوں کا جو weight ہے یعنی وہ جیسے weighting function ہوتا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ اس کو ہم اس کے ذریعے سے balance کر سکتے ہیں۔ تو یہ balance کیا گیا ہے۔

تو مطلب ظاہر ہے گویا کہ ان چیزوں کے ذریعے سے ان کی جو حرکات ہیں اس کے اوپر جو ہے نا فرق پڑتا ہے۔

"وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ ": کہ زمین کو کس طرح بچھایا گیا

اب بچھایا گیا یہ بذات خود یعنی بڑی بات ہے، دیکھو نا یہ ایک اصل میں sphere ہے۔ اور sphere کو ہم سمجھتے ہیں کیا؟ Flat۔ وہ اتنا ایسا وہ ہے کہ فاصلہ اس کے حساب سے ہے کہ ہمیں flat نظر آتا ہے حالانکہ یہ sphere ہے۔

تو بالکل مطلب ظاہر ہے یہ جو بہت ساری باتیں ہیں جو کہ اب کوئی اس کے لیے اچنبھے کی بات نہیں ہے آج کل بھی ایسے لوگ ہیں جو ان چیزوں کو نہیں مانتے، مثلاً کچھ لوگ کہتے ہیں نہیں، زمین چپٹی ہے، زمین گول نہیں ہے۔ ابھی تک ایسے لوگ ہیں، میری ان سے ڈسکشن بھی ہو چکی ہے۔ وہ دلائل باقاعدہ دیتے ہیں۔ تو ان سے میں نے کہا کہ مولانا تقی عثمانی صاحب کی جو کتاب ہے، "دنیا میرے آگے" اس کو آپ ذرا پڑھیں۔ تو مولانا چلے ہیں کراچی سے، کراچی سے Europe چلے ہیں۔ Europe سے America چلے ہیں۔ America سے West coast چلے ہیں۔ West coast سے غالباً شاید Australia آئے ہیں۔ Australia سے پھر Hong Kong آئے ہیں، Hong Kong سے پھر کراچی آئے ہیں۔ اور ان کا یہ سارا سفر West میں ہے، یعنی West کی طرف جا رہے ہیں مسلسل West کی طرف جا رہے ہیں۔ تو اگر یہ زمین گول نہ ہوتی تو مسلسل آپ West کی طرف جائیں پھر ادھر واپس آ سکتے ہیں؟ پھر کیسے واپس آئیں گے؟

تو اب یہ بہت بڑا ثبوت ہے کہ اس کو یعنی وہ اپنے سفر باقاعدہ لکھتے ہیں کہ وہ اس طرح میں فلاں جگہ سے گیا پھر فلاں جگہ گیا پھر فلاں جگہ گیا۔ تو ظاہر ہے وہ اس میں آگیا۔ تو یہ آج کل ایسی کوئی بات نہیں، پچیس ہزار میل ہی سفر طے کرنا ہے نا، یہ سفر طے کر لو آپ کو خود ہی اندازہ ہو جائے گا کہ آپ جہاں سے اڑے ہیں وہیں واپس آ جائیں گے۔ تو یہ اللہ پاک نے زمین کو کیسے بچھایا ہوا ہے؟ دیکھو نا اس پہ کیسے عجیب بات ہے، ہے کیسا اور نظر کیسا آتا ہے؟

"فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ" کہ ان چیزوں پر غور کرو، آپ ﷺ کو تسلی ہے کہ آپ ﷺ کے ذمے تبلیغ و نصیحت کرنا ہے، ان کا حساب کتاب اور جزا و سزا سب ہمارا کام ہے۔

یہ اصل میں ایک بات اور بھی ہے۔ بعض حضرات کہتے ہیں نا کہ ہماری آواز بہت سارے لوگوں تک نہیں پہنچتی، تو ہمیں ذرا TikTok کے طور پر کچھ کرنا چاہیے۔ مطلب وہ جیسے مطلب ہوتے ہیں نا۔

تو آپ ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ اس کی پروا نہ کریں کہ لوگ مانتے ہیں یا نہیں مانتے، سنتے ہیں نہیں سنتے، آپ اپنا کام کیے جائیں۔ تو ہمارا کام ہے سنت کے مطابق کام کرنا۔ یعنی جو usual طریقے ہیں اس کے مطابق کام کرنا۔ اس کے بعد اگر طلب کسی میں ہو، تو وہ خود بخود آ جائیں گے۔اور جب طلب نہیں ہو تو بالکل ۔۔مجھے بتاؤ اس پڑوس میں کتنے لوگ آتے ہیں؟ ان کو کیا پتا نہیں ہے؟ سب کچھ کا پتا ہے نا۔ لیکن دور دور سے لوگ آتے ہیں، پڑوس کے لوگ نہیں آتے۔ بلکہ بعض رشتہ دار نہیں آتے، تو کیا کیا جائے؟ ان کو کون سا TikTok بتا دیا جائے؟ ظاہر ہے ان کو بتانے کا کوئی اور طریقہ ہے؟ وہ تو صرف وہی طریقہ ہے نا کہ وہ کہہ دیں جی ہمارے لیے بس ہماری مرضی کے کام کرو، تو پھر ہم آئیں گے۔ تو پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ "فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ"۔ بس آپ کے ذمے تبلیغ واجب ہے، تبلیغ و نصیحت کرنا۔ اس کے بعد کوئی مانتا ہے نہیں مانتا، کوئی آتا ہے نہیں سنتا، یہ بات تیرے ذمے نہیں ہے۔یہ ہمارے لیے بات ہےکہ الحمد للہ، اللہ کا شکر ہے جو طالبین ہیں ان کو کسی نہ کسی طریقے سے اطلاع ہو ہی جاتی ہے۔ پھر صرف ہم نہیں ہیں، دنیا میں بہت سارے لوگ دین کا کام کر رہے ہیں۔ اب سارے لوگوں کا ہماری طرف آنا بھی ضروری نہیں ہے۔ جہاں جن کو فائدہ ہوتا ہو، مطلب ظاہر ہے وہاں چلے جائیں۔ ان کو وہاں فائدہ ہوتا ہے تو بڑی اچھی بات ہے۔ کیونکہ یہ تو مشترکہ کام ہے ۔ یہ تو سب جگہوں پہ جو جو بھی اللہ کے لیے بات کرتا ہے، تو ظاہر ہے کہ ان کا کام ہے کہ ان کے ساتھ رابطہ کریں۔ فائدہ اٹھائیں۔

تو اس طریقے سے ان شاء اللہ العزیز بات وہ سب تک پہنچ جائے گی۔ اور اس وقت میں آپ کو کیا بتاؤں؟اب یہ موبائل ہیں،اس کے فائدے ہیں لیکن اس کے نقصانات کے مقابلے میں فائدے اونٹ کے منہ میں زیرہ ہیں۔اتنے کم فائدے ہیں یعنی اس کے نقصانات کے مقابلے میں کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ اب ہم لوگ اس میں بتی کے پیچھے لگ جائیں نا کہ جیسے لوگ کرتے ہیں اس طرح ہم بھی کریں، یقین جانیے یہ بھی بڑے حوصلے کی بات ہے کہ ہم کہیں بھئی ہم ظاہر ہو جائیں۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔

مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے ایک صاحب نے جو ان کے class fellow تھے شاید مدرسے کے، وہ بڑے مشہور آدمی تھے۔ تو حضرت کو ایک دفعہ ملاقات ہوئی تو حضرت سے کہا کہ حضرت میں تو بس چاہتا ہوں کہ میری آواز پوری دنیا کے آخری کونے تک پہنچ جائے مطلب میں جو بات کر رہا ہوں، یعنی ان کو تبلیغ کا یا اس کا مطلب پورا وہ تھا نا۔ -اللہ اکبر -حضرت نے عجیب جواب دیا۔ فرمایا میری تو خواہش ہے کہ جب میں مر جاؤں تو کسی کو پتا بھی نہ ہو کہ زکریا بھی دنیا میں تھا۔ یہ کون کہہ رہا ہے؟ مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔ کہ کسی کو پتا بھی نہ لگے کہ زکریا بھی دنیا میں تھا۔

اب ذرا نتیجے کو دیکھیں۔ اس عالم کے میں بارے میں بتا رہا ہوں لیکن اس کا نام مجھے نہیں معلوم۔ اور مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ پاک نے ایسی چیز دے دی کہ ایک دفعہ ایک صاحب نے خط لکھا۔ ان کا address نہیں معلوم تھا اور سعودی عرب میں address یعنی post box نمبر معلوم نہ ہو تو خط نہیں پہنچ سکتا۔ وہاں post box نمبر کے حساب سے جاتا ہے۔ اس کو post box نمبر معلوم نہیں تھا صرف اس پہ لکھا: شیخ الحدیث مدینۃ المنورہ ۔ اور وہ حضرت کو پہنچ گیا۔ اب بتاؤ! کہ وہاں کے جو ڈاک کے لوگ تھے وہ بھی شیخ الحدیث کس کو سمجھ رہے تھے؟ ان کو سمجھ رہے تھے۔

تو یہ پھر اللہ پاک کے کام ہیں کہ اللہ پاک آپ سے کتنا کام لیتے ہیں اور آپ کو کہاں تک آپ کی آواز پہنچاتے ہیں اور کیا کرتے ہیں لوگوں کو متوجہ کرتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ ہمارے پاس بھی بعض ایسے لوگ اتنے دور دراز سےآ جاتے ہیں، یہ China سے اور پتا نہیں France سے اور بعض دفعہ Norway سے اور پتا نہیں یعنی کیا وہ کچھ contact کا پتا بھی نہیں ہوتا لیکن بس وہ ان کو کسی طریقے سے معلوم ہو جاتا ہے اور پہنچ جاتے ہیں۔ اللہ پاک نے جتنا نصیب ان کا لکھا ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ ان کو دے دیتے ہیں۔

بس سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اللہ پاک ہمیں صحیح طریقے سے دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور نہ صرف اپنی طرف رکھیں بلکہ جتنوں تک ہم پہنچا سکتے ہیں، "وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ"، مطلب یہ ہے کہ ان تک ہم پہنچائیں، جتنا ہو سکتا ہے۔ اور سنت طریقے پر جتنا ہو سکتا ہے۔ اور پھر یہ ہے کہ بس اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرمائے۔ اور اس پر راضی ہو جائے اور ایسے راضی ہو کہ پھر ناراض نہ ہو۔

اللہ جل شانہ ہمیں صحیح فکر کی توفیق عطا فرمائے۔ کیونکہ جب ہم صحیح فکر حاصل کر کے صحیح علم کے ساتھ عمل کریں گے، تو اس عمل کے اندر ماشاء اللہ اخلاص بھی صحیح ہو گا اور ساتھ ساتھ اس عمل کو ہم صحیح طور پہ کر بھی سکیں گے۔ تو یہ بات ہے کہ اپنے Concepts کو، مفاہیم کو درست کرنے کے لیے فکر کی ضرورت ہے اور فکر کو پیدا کرنے کے لیے ذکر کی ضرورت ہے۔ صحیح فکر کو پیدا کرنے کے لیے ذکر کی ضرورت ہے۔یعنی صرف ذکر جب ہم کرتے ہیں، اس سے دل تو صاف ہوتا ہے، لیکن دماغ کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ دماغ کا مسئلہ فکر کے ذریعے سے حل ہوتا ہے۔ لہٰذا ذکر کے ساتھ فکر شامل کرنا ہوتا ہے۔ تو یہاں پر یہ فرمایا: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ. الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلٰى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ. تو ذکر اور فکر جب جمع ہو جائے تو پھر ماشاءاللہ یہ عقل کے لیے مفید ہے۔

تو اللہ پاک ہم سب کو ہر چیز کو اس جگہ پہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے، اور جس کام کے لیے وہ ہے، اس کے لیے استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.


نظامِ عقل، تفکر اور اللہ کی پہچان - اصلاحی جوڑ