اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ منبر کے قریب ہو جاؤ، ہم لوگ حاضر ہو گئے۔ جب حضور ﷺ نے منبر کے پہلے درجہ پر قدم مبارک رکھا تو فرمایا "آمین"۔ جب دوسرے پر قدم رکھا تو فرمایا "آمین"۔ جب تیسرے پر قدم رکھا تو پھر فرمایا "آمین"۔ جب آپ خطبہ سے فارغ ہو کر نیچے اترے تو ہم نے عرض کیا کہ ہم نے آج آپ ﷺ سے منبر پر چڑھتے ہوئے ایسی بات سنی جو پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اس وقت جبریل علیہ السلام میرے سامنے آئے تھے، جب پہلے درجہ پر میں نے قدم رکھا تو انہوں نے کہا ہلاک ہو جائے وہ شخص جس نے رمضان المبارک کا مہینہ پایا پھر اس کی مغفرت نہ ہوئی، میں نے کہا آمین۔ پھر جب میں دوسرے درجہ پر چڑھا تو انہوں نے کہا ہلاک ہو وہ شخص جس کے سامنے آپ کا ذکر مبارک ہو اور وہ درود نہ بھیجے، میں نے کہا آمین۔ جب میں تیسرے درجہ پر چڑھا تو انہوں نے کہا ہلاک ہو وہ شخص جس کے سامنے اس کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچ جائے اور اس کو جنت میں داخل نہ کرائے، میں نے کہا آمین۔"
اس حدیث پاک میں جبریل علیہ السلام نے تین بد دعائیں دی ہیں اور حضور ﷺ نے تینوں پر آمین فرمائی ہے۔ اول تو حضرت جبریل علیہ السلام جیسے مقرب فرشتے کی بد دعائیں کیا کم تھیں، پھر آپ ﷺ کی آمین نے تو جتنی سخت بد دعا بنا دی وہ ظاہر ہے۔ اللہ ہی اپنے فضل سے ہم لوگوں کو ان تینوں چیزوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، ان برائیوں سے محفوظ رکھے، ورنہ ہلاکت میں کیا تردد ہے۔
در منثور کی بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خود جبریل علیہ السلام نے حضور ﷺ سے کہا کہ آمین کہو، تو حضور ﷺ نے فرمایا آمین۔ جس سے اور بھی زیادہ اہتمام معلوم ہوتا ہے۔
اول وہ شخص کہ جس پر رمضان المبارک گزر جائے، اس کی بخشش نہ ہو، یعنی رمضان المبارک جیسا خیر و برکت کا زمانہ بھی غفلت اور معاصی میں گزر جائے، کہ رمضان المبارک میں مغفرت اور اللہ جل شانہٗ کی رحمت بارش کی طرح برستی ہے۔ پس جس شخص پر رمضان المبارک کا مہینہ بھی اس طرح گزر جائے کہ ان کی بد اعمالیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے وہ مغفرت سے محروم رہے، تو اس کی مغفرت کے لیے اور کون سا وقت ہو گا؟ اور اس کی ہلاکت میں کیا تامل ہے؟ اور مغفرت کی صورت یہ ہے کہ رمضان المبارک کے جو کام ہیں، یعنی روزہ، تراویح، ان کو نہایت اہتمام سے کرنے کے بعد، ہر وقت کثرت کے ساتھ اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار کرے۔
میں آپ کو ایک بات بتا دوں، یہ ہماری کمزوریاں ہیں۔ ہماری کمزوریوں میں سب سے بڑی کمزوری ہماری بزرگی کا ہوتا ہے۔ ہم اپنے آپ کو بزرگ سمجھتے ہیں۔ بزرگ جب سمجھتے ہیں تو اس میں یہ ہوتا ہے کہ گناہوں سے معافی تو پہلے سے Understood ہے نا کہ وہ تو ہو چکی ہے۔ اب صرف مقامات حاصل کرنے کی ہمت ہے کہ جتنا کوئی مقامات حاصل کرے۔
حالانکہ زور کس چیز پر دیا گیا ہے؟ گناہوں سے بچنے کی اور اس کی معافی مانگنے کی۔
اچھا جب انسان استغفار کرتا ہے نا، تو اگر اس کے گناہ نہ ہوں تو وہی اس کے لیے ذکر بن جاتا ہے۔ تو لہٰذا اس میں خیر ہی خیر ہے۔
بلکہ یہاں تک بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کسی کا کوئی رشتہ دار فوت ہو جائے، تو ظاہر ہے سب کہتے ہیں اللہ اس کی مغفرت کرے، تو جو ان کو بھی بزرگ سمجھتے ہو نا اپنے اس رشتہ دار کو بھی جو فوت ہو گیا ہے، تو وہ ناراض ہوتے ہیں کہ دیکھو اس نے کہا کہ اس کی مغفرت ہو جائے۔ حالانکہ اس کے لیے بہت بڑی دعا ہے۔ کسی میت کے لیے یہ دعا کرنا کہ اللہ اس کی مغفرت فرمائے، بہت بڑی دعا ہے۔ اس کے لیے وہ سمجھتے ہیں کہ بھئی وہ تو جنت کے اعلیٰ مقامات میں... اور یہ... یہ دعائیں کی جائیں، باقی چیزیں تو پہلے سے حاصل ہیں۔
یہ اصل میں ہماری غلط فہمیاں ہیں۔ اور اس کی وجہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کو نہ جاننا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا ادراک نہ ہونا ہے۔
جن کو بھی اللہ تعالیٰ کی عظمت کا ادراک ہے ان کو اپنے حسنات بھی سیئات نظر آتے ہیں۔ پکی بات ہے۔ ان کو اپنے حسنات بھی... یعنی جو اللہ کے نزدیک حسنات ہوتے ہیں، لیکن اس کو سیئات... اس پہ روتے رہتے ہیں، توبہ کرتے رہتے ہیں۔
اور جو غافل لوگ ہوتے ہیں ان کو اپنے سیئات بھی حسنات نظر آتے ہیں۔
تو گویا کہ یوں سمجھ لیں کہ جو اپنے لیے کسی مقام کا خیال رکھتے ہیں وہ غافل ہیں۔ وہ غافل ہیں۔ غفلت کی وجہ سے وہ کر رہے ہیں اس طرح۔
تو ہمارے حضرت سید تسلیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ، اللہ حضرت کے درجات بہت بلند فرمائے، ایک دفعہ مجھے فرمایا کہ: "الحمد للہ! اللہ پاک نے غفلت سے نکال دیا، اب اللہ کرے کہ ہم اس کا حق بھی ادا کریں۔"
اب دیکھیں کیسی عجیب بات ہے۔ کیا فرمایا؟ اللہ کا شکر ہے کہ اللہ نے ہمیں غفلت سے نکال دیا۔ یعنی غفلت سے نکالنا بہت بڑی بات ہے، لیکن آدمی سمجھتا ہے بھئی یہ تو... کیا بات ہے۔ غفلت سے نکل جانا یہ بڑی بات ہے کہ انسان کو صحیح چیز نظر آنے لگے۔ جو چیز جیسی ہے اس طرح نظر آنے لگے۔ ورنہ غفلت میں ایسا نہیں ہوتا۔ غفلت میں آنکھوں پہ پردے پڑے ہوتے ہیں۔ تو اس وجہ سے انسان کو صحیح حقیقت نظر نہیں آتی، اس کو محسوس نہیں ہوتا۔
تو سب سے پہلا کام تو یہی کرنا ہوتا ہے کہ بھئی انسان غفلت سے نکل آئے۔ اور جب غفلت سے نکل آئے تو سب سے پہلی چیز جو مانگتا ہے وہ کس چیز کو مانگتا ہے؟ "اے اللہ مجھے معاف کر دے۔"
اب میں آپ کو اس کی سند بتاتا ہوں۔ لیلۃ القدر مانگنے کے لیے بہترین رات ہے نا؟ کیونکہ اس میں انسان کے دعائیں قبول ہونے کا بہت زیادہ امکان ہوتا ہے۔
اچھا پوچھنے والی کون ہے آپ ﷺ سے؟ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔ صحابیات میں بہت اونچی مقام رکھنے والی ہماری ماں۔ پوچھنے والی کون ہیں؟ اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔ بتانے والے کون ہیں؟ آپ ﷺ۔
پوچھنا کیا تھا؟ "یا رسول اللہ ﷺ! لیلۃ القدر میں ہم کون سی دعا مانگیں؟"
کیا فرمایا؟اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَدیکھو اس کے ساتھ ایک اور بات بھی ہے، تو معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے۔فَاعْفُ عَنِّي یا عفواپس مجھے بھی معاف کر دے اے معاف کرنے والے۔
تو کون سی دعا تعلیم فرمائی؟ یہ نہیں کہ مجھے جنت کے اعلیٰ مقامات... جنت مانگنے کا الگ حکم ہے رمضان شریف میں، لیکن لیلۃ القدر کی بات کر رہا ہوں۔ لیلۃ القدر کی بات کر رہا ہوں، لیلۃ القدر میں کون سی دعا فرمایا؟ واہ جی واہ کیا بات ہے۔ کہ "مجھے معاف کر دے۔"
اب اگر آپ کسی کو یہ کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو معاف کر دے، اس پہ محسوس کرے کہ مجھے کیوں اس طرح کہا؟ تو بیچارے کو غفلت ہے، بیچارے کو غفلت ہے۔
اگر غفلت نہ ہو تو یہ حدیث شریف اس کو یاد رہے گا، اس کو پتہ ہو گا کہ اگر عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آپ ﷺ نے یہ فرمایا ہے تو میں کون ہوں کہ میں اس سے اب زیادہ کی بات کروں۔ ٹھیک ہے نا؟
اب جب آپ اللہ تعالیٰ کے مرضی کے مطابق، اللہ کے رسول ﷺ کی مرضی کے مطابق یہ چیز اپنے آپ کو مان لیں کہ میں گنہگار ہوں اور میرے لیے توبہ و استغفار سب سے بڑی چیز ہے، تو اللہ تعالیٰ آپ کو مقامات بھی دیں گے اس کے ساتھ کیونکہ وہ اپنا ہاتھ اوپر رکھتا ہے، سمجھ میں آ گئی نا بات؟ وہ اپنا ہاتھ اوپر رکھتا ہے۔
تو بس سارے مسائل آپ کے حل ہو جائیں گے۔ دوسری طرف آپ کا حق وہ نہیں ہے، گناہ آپ کے ہیں اور آپ مانگ رہے ہیں اونچی چیزیں، تو وہ چانس آپ نے Miss کر دیا جو چیز آپ کو مانگنی چاہیے تھی۔
یعنی گویا کہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے آپ بنیاد تو نہ بنائیں اور اس کے اوپر مکان تعمیر کر لیں، تو اس کی کیا حالت ہو گی؟ بنیاد نہ ہو کسی مکان کی اور آپ مکان بنا دیں۔ کیا بات ہوئی۔
ابھی کراچی میں ایک اولڈ بلڈنگ گری ہے، تو اس پہ کیا Finding تھی؟ وہ یہی تھی کہ اس کی بنیاد کمزور تھی۔ یہ بحریہ ٹاؤن میں بہت سارے مکانات کی یہ حالت ہے نا کہ وہ بنیاد کمزور ہوتی ہے وہ زمین... تو اب وہ کافی کوشش کرتے ہیں کہ اس میں وہ ڈالتے ہیں وہ کیا ہوتا ہے، وہ سریا ڈالتے ہیں اور یہ، اس کو مضبوط کرتے ہیں، کیوں کئی مکان گر گئے تھے، دھنس گئے تھے۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو بنیادیں مضبوط کرنی چاہئیں۔ اصل چیز یہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرما دے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَآ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ۔دیکھیں اخیر میں دعا کیا ہوئی؟ وَتُبْ عَلَيْنَآ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ ٹھیک ہے؟