اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلیٰ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ
اَمَّا بَعْدُ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
آج کل ہمارے ہاں حضرت کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے حضرت حلیم گل بابا رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’مقاماتِ قطبیہ و مقالاتِ قدسیہ‘‘ سے تعلیم ہوتی ہے۔ گزشتہ ہفتے وصول اور کشف کا بیان شروع ہوا تھا۔ آج ان شاء اللہ اس کے کشف والے حصہ کے بارے میں بیان ہو گا۔
متن:
کشف کے بیان میں
اسی شیخ شرف منیری رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوب میں آیا ہے کہ حقیقتِ کشف یہ ہے کہ پردے سے باہر ہو کر ظاہر ہو جائے۔ صاحب کشف کوئی ایسی چیز معلوم کر لیتا ہے کہ اُس سے پہلے کسی نے معلوم نہ کی ہو چنانچہ قرآن کریم میں کہا گیا ہے کہ ﴿فَکَشَفْنَا عَنْکَ غِطَاءَکَ…﴾ (ق: 22) یعنی تمہاری نگاہ سے پردہ اُٹھایا، یہاں تک کہ تمہاری نگاہ کو وہ چیز ظاہر ہوئی جس کو تو پہلے نہیں دیکھتا تھا اور تیری نگاہ سے اوجھل تھی۔ اور حجاب کا مفہوم اور مراد وہ مانع اور پردہ ہے جو بندہ کی نگاہ کو حضرت رب العزت کے جمال سے محجوب و ممنوع کرتا ہے اور وہ حجاب یہ تمام مختلف عالم ہیں، جیسا کہ عالمِ دنیا اور عالمِ آخرت اور ایک روایت میں اسی (80) ہزار عالم کہتے ہیں۔ اور انسان کی فطرت میں یہ اسی ہزار عالم موجود ہیں، اور ہر عالم کے مطابق انسان کی ایک آنکھ ہوتی ہے، کہ اُس عالم کو اُسی آنکھ سے دیکھا کرتا ہے۔ اور کشف کی حالت میں یہ اسی ہزار عالم (80000) دو عالم میں سماتے ہیں، جن سے نور و ظلمت مراد ہے یعنی ملک و ملکوت۔ اور اس کو غیب و شہادت بھی کہتے ہیں اور جسمانی و روحانی بھی کہتے ہیں اور دُنیا و آخرت بھی کہلاتے ہیں۔ یہ سب ایک ہیں، مگر ان کی عبارتیں مختلف ہیں۔ پس جب سالکِ صادق ارادت کے جذبہ کے ساتھ طبیعت کے اسفل السافلین سے قدم شریعت کے اعلی علیین میں رکھے اور صدق کے قدموں سے قانون شرع کے مطابق جادۂ طریقت پر چلتا جائے تو جس حجاب سے بھی آگے بڑھ کر گزر جاتا ہے تو اُن اسی ہزار حجابوں میں سے اُس مقام کی مناسبت سے اُس کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور اُس مقام کے حالات اُس کی نگاہ میں آ جاتے ہیں۔ سب سے پہلے اُس کی عقل کی آنکھ کھل جاتی ہے اور حجاب کے اُٹھنے اور ہٹ جانے کے اندازے پر اُس کو معقول معنیٰ دکھائے جاتے ہیں، اور معقولات کے اسرار و رموز اس پر کھل جاتے ہیں، اس کو کشف نظری کہتے ہیں۔ اس پر زیادہ اعتماد نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ جو کچھ نظر آ جائے وہ قدم میں نہیں آتا، اور اعتماد کے شایان نہیں ہوتا۔ مصرع
نے ہر چہ تو بینی بخشد اے دل
’’اے دل تو جو کچھ دیکھتا ہے وہ تم کو نہیں بخش دیتے‘‘۔
حکماء اور فلاسفر اس مقام پر رہ گئے اور اس مقام کو مقام حقیقی تک رسائی تصور کر لیا۔ مگر جب ایک صادق سالک اس کشف معقولات سے آگے گذر جائے تو پھر کشف دلی ظاہر ہو جاتا ہے اور اُس کو کشف شہودی کہتے ہیں، اس وقت مختلف انوار کشف ہوتے ہیں۔ اس کے بعد مکاشفات سری پیش آتے ہیں اور اُس کو کشف اِلہامی کہتے ہیں۔ پس اُس کو وجود کی آفرینش اور تخلیق کی حکمت ہر چیز ظاہر ہو جاتی ہے۔ یہ اُن الفاظ کے معانی ہیں جو کہا ہے۔ رباعی۔
اے کرد غمت غارت ہوش و دل ما
درد تو شدہ خانہ فروش دل ما
سرے کہ مقدسان ازاں بے خبرند
عشق تو فروگرفت بگوش دل ما
’’کہ تیرے غم نے میرے ہوش اور دل کو غارت کر کے لوٹ لیا، اور تمہارے درد نے ہمارے دل کے گھر کو ویران کر دیا۔ وہ راز جس سے مقدس ہستیاں آگاہ تک نہیں، تمہارے عشق نے آ کر سب کا سب چپکے سے ہمارے دل کےکان میں کہا‘‘۔
اس کے بعد مکاشفات روحی آتے ہیں جن کو مکاشفات روحانی کہتے ہیں۔ اور اس مقام میں جنت، دوزخ، فرشتے، ان کے ساتھ باتیں کرنا، اور ان کی باتیں سننا ظاہر ہوتا ہے۔ اور جب روح بالکل صاف ہو جاتی ہے اور کدورات جسمانی سے بالکل پاک ہو جاتی ہے تو ایک لامتناہی عالم کا کشف حاصل ہو جاتا ہے اور ازل و ابد کا دائرہ اُسے نصیب ہو جاتا ہے، اس مقام پر زمان و مکان کے حجابات اُٹھ جاتے ہیں، یہاں تک کہ مستقبل میں جو ہونے والا ہو وہ حال میں جان لیتا ہے۔ چنانچہ حارث رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ "کَأَنِّيْ أَنْظُرُ إِلٰی أَھْلِ الْجَنَّۃِ وِ إِلٰی أَھْلِ النَّارِ" (المعجم الکبیر للطبراني بمعناہ، باب: الحاء، الحارث بن مالک الأنصاري، رقم الحدیث: 3367) ”گویا کہ میں اہل جنت اور اھل دوزخ کو دیکھ رہا ہوں“ پس دُنیاوی مکان کا حجاب اُٹھ جاتا ہے اور زمان و مکان اُخروی ظاہر ہو جاتے ہیں۔ یہی مقام ہوتا ہے جہاں حجاب و پردہ اُٹھ جاتا ہے۔ پیچھے سے بھی ایسا دیکھ پاتے ہیں جیسا کہ آگے سے دیکھ لیتے ہیں۔ اور جس کو لوگ کشف و کرامت کہتے ہیں، اسی مقام میں ہوتے ہیں۔ دلوں کی بات جاننا اور دوراں کے مختلف کاموں کی اطلاع، پانی، آگ، ہوا اور ساری زمین پر چلنا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس قسم کی کرامات پر اعتماد نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ایسی کرامات اہلِ دین اور غیر اہل دین دونوں کو حاصل ہوتی ہیں۔ جب مجاہدہ سے اپنی روح کو صاف کیا جائے، تو اس قسم کی کرامات ظاہر ہوتی ہیں۔ ابن صیاد سے رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کہ "مَا تَرٰی؟ قَالَ أَرَی الْعَرْشَ عَلَی الْمَاءِ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ ذٰلِکَ عَرْشُ إِبْلِیْسَ" (مرعاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح بمعناہ، رقم الصفحۃ: 149/1، إدارۃ البحوث العلمیۃ، بنارس، الھند) ”تم کیا دیکھتے ہو؟ تو ابن صیاد نے جواب دیا کہ میں پانی پر تخت کو دیکھتا ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ یہ ابلیس کا تخت ہے“ اور اسی قسم کی باتیں دجال کو بھی حاصل ہوں گی۔ حدیث میں آیا ہے کہ آدمی کو قتل کرے گا پھر اُس کو زندہ کرے گا۔ ہاں جس کو حقیقت میں کرامت کہتے ہیں اہل دین کے علاوہ اور کسی کو حاصل نہیں۔
فائدہ:
جو کچھ ولی سے صادر ہوتا ہے اُس کو کرامت کہتے ہیں اور جو غیر ولی سے صادر ہوتا ہے اُس کو سحر، جادو اور استدراج وغیرہ کہتے ہیں۔ اور ولی کی تعریف کے لئے دیکھئے باب کرامات و خرق عادات، شیخ المشائخ قطب مدار شیخ رحمکار صاحب، مندرجہ کتاب ہٰذا حصّہ اوّل یعنی مقامات قطبیہ مؤلف۔
کشف روحی کے بعد مکاشفات خفی ظاہر ہوتے ہیں، کیونکہ روح کافر اور مسلمان دونوں کی ہوتی ہے، لیکن خفی خاص الخواص کے سوا کسی کی نہیں جو کہ روح حضرتی ہے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ہے ﴿کَتَبَ فِيْ قُلُوْبِھِمُ الْإِیْمَانَ وَ أَیَّدَھُمْ بُرُوْحٍ مِّنْہُ…﴾ (المجادلۃ: 22) ”ان کے دلوں میں ایمان کو لکھ دیا اور روح سے اُن کی امداد فرمائی“ اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں فرمایا کہ ﴿وَ أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ رُوْحًا مِّنْ أَمْرِنَا…﴾ (الشوریٰ: 52) ”تمہاری طرف ہم نے اپنے امر سے روح کو بھیج دیا“ ﴿وَمَا کُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْکِتَابُ وَ لَا الْإِیْمَانُ وَ لٰکِنْ جَعَلْنَاہُ نُوْرًا نَّھْدِيْ بِہٖ مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا…﴾ (الشوریٰ: 52) ”آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ ایمان کو جانتے تھے، لیکن ہم نے اپنے نور کو بنایا جس سے ہمارے بندوں کو جن کو ہم چاہیں، ہدایت بخشتے ہیں“ یعنی ہم روحِ نورانی و حضرتی اپنے بندوں کو عطا کرتے ہیں تاکہ اُس کے ذریعہ اُس راستے کو پا لیں جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے عالَم صفات کی جانب جاتا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رستم کو رستم کا گھوڑا لے جاتا ہے۔ اسی طرح روح نورانی اور حضرتی اللہ تعالیٰ کے عالم صفات کا ادراک کرتی ہے۔
کہتے ہیں کہ خفی دونوں جہانوں کا واسطہ اور ذریعہ ہے، ایک تو صفات خداوندی دوسرا عالمِ روحانیت، تاکہ دل اللہ تعالیٰ کے مکاشفات کے قابل ہو جائے۔ اور اس کے برعکس عالم روحانیت کو اخلاق بخشتا ہے اور "تَخَلَّقُوْا بِأَخْلَاقِ اللہِ" (بیان تلبیس الجھمیۃ فی تأسیس بدعہم الکلامیۃ، الفرق بین العلو و الاستواء، رقم الصفحۃ: 518/6، مجمع الملک فہد) ”اللہ تعالیٰ کے اخلاق پر اپنے اخلاق سنوارو“ کے مقام سے مشرف ہو جاتے ہیں، اس کو کشف صفاتی کہتے ہیں۔ اور اگر سالک کو اس صفتِ عالمی کا کشف ہو تو اُس کو علم من لدن حاصل ہوتا ہے۔ اور اگر صفتِ سمیعی یعنی سننے سے حاصل ہو تو اس کو خطاب و کلام کا سننا حاصل ہوتا ہے۔ اور اگر بصیری یعنی دیکھنے کی صفت سے کشف حاصل ہو تو اُس کو رؤیت اور مشاہدہ حاصل ہوتا ہے۔ اور اگر صفتِ جمالی سے مکشوف ہو جائے تو اُس کو ذوقِ شہود اور جمال حضرتی ظاہر ہوتا ہے۔ اور اگر صفت جلالی سے ظاہر ہو جائے تو فنا حقیقی حاصل ہو جائے۔ اور اگر صفتِ وحدانیت سے کشف ہو جائے، تو وحدت ظاہر ہوتی ہے۔ باقی صفات کو بھی اسی پر قیاس کریں۔ کسی نے اس مقام کی طرف ان شعروں میں اشارہ کیا ہے۔ بیت
تا بر سر کوئے عشق تو منزل ماست
سر دو جہان بہ جمہ کشف دل ماست
و انجا کہ قدم دل مقبل ماست
مطلوب ہمہ جہان حاصل ماست
’’جب تمہارے عشق کے کوچے کو ہم نے اپنی منزل بنایا، تو دونوں جہانوں کے اسرار ہمارے دل پر منکشف ہوئے، جس جگہ ہمارے آگے جانے والے دل کے قدم ہیں، تو تمام جہان کا مطلوب ہمیں حاصل ہے‘‘۔
تشریح:
یہاں چونکہ کشف کا بیان ہے، تو کشف کا ایک عمومی معنی ہے، جو عوام کے ذہنوں میں آتا ہے۔ دوسرا کشف کا وہ معنی ہے، جس میں اللہ جل شانہ اپنی طرف سے اپنے بندوں کو کچھ ایسی چیزیں دکھاتے ہیں، جن کی ان کو مختلف صورتوں میں ضرورت ہوتی ہے۔ یہ صحیح کشف ہوتا ہے۔ یہ جو کشف ہے کہ بعد میں کیا ہونے والا ہے یا اس وقت فلاں جگہ پر کیا ہونے والا ہے یا فلاں کے دل میں کیا ہے، یہ چیزیں عوام کو بھی مشق وغیرہ سے حاصل ہو سکتی ہیں۔ حقیقت کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ مطلوب کشف یہ ہے، جو آپ کے راستے میں مفید ثابت ہو، یعنی آپ کو آگے لے جا سکے، جو آپ کو منزلِ مقصود کے قریب لے جا سکے۔ یہ اصل کشف ہے۔ حضرت نے یہاں اس حوالے سے بات کی ہے کہ مختلف طریقوں سے یہ جو کشف حاصل ہوتا ہے، اس میں کیا کیا چیزیں ہوتی ہیں۔ چنانچہ فرمایا کہ کشف کا عام معنی یہ ہے کہ پردے سے کوئی چیز باہر آ جائے۔ مثلاً: یہ دیوار پردہ ہے، اس کے پیچھے کی چیز مجھے نظر آ جائے۔ عمومی طور پر اس کو کشف کہتے ہیں۔ چنانچہ اگر اس کو generalize کیا جائے، تو یوں کہیں گے کہ جو چیز جس وجہ سے بھی چُھپی ہوئی ہے، وہ وجہ ہٹ جائے اور آپ کو وہ چیز نظر آ جائے۔ مثلاً: دنیا کی محبت میں حق آپ سے چُھپ جائے اور آپ کو نظر نہ آ رہا ہو، تو وہ دنیا کی محبت ہٹ جائے اور وہ حق آپ کو نظر آ جائے۔ سبحان اللہ! یہ مطلوب کشف ہے۔ یہ آپ کو فائدہ ہو گیا۔ کیونکہ آپ کو حق نظر آ گیا۔ بس یہی چیز مطلوب ہوتی ہے۔ لیکن یہ بھی ابتدائی باتیں ہیں۔ گویا جن رکاوٹوں کی وجہ سے ہم محروم ہوتے ہیں، ان رکاوٹوں کو جیسے جیسے ہم دور کرتے ہیں، تو ہماری محرومی کم ہوتی جاتی ہے اور ہم آگے بڑھتے ہیں اور ہمیں سمجھ بھی آنے لگتی ہے اور ہمارا راستہ بھی طے ہوتا جاتا ہے۔ تو یہ حضرت نے راستے کے بارے میں فرمایا ہے۔
متن:
صاحب کشف کوئی ایسی چیز معلوم کر لیتا ہے کہ اُس سے پہلے کسی نے معلوم نہ کی ہو۔
تشریح:
یعنی اسے کسی ایسی بات کا پتا چل جائے، جو اس کے لئے مفید ہو۔
متن:
چنانچہ قرآن کریم میں کہا گیا ہے کہ ﴿فَکَشَفْنَا عَنْکَ غِطَاءَکَ…﴾ (ق: 22) یعنی تمہاری نگاہ سے پردہ اُٹھایا، یہاں تک کہ تمہاری نگاہ کو وہ چیز ظاہر ہوئی جس کو تو پہلے نہیں دیکھتا تھا۔
تشریح:
میرے خیال میں اس کو سمجھنا ذرا مشکل ہو گا۔ فرمایا کہ جس کو میں نے پہلے نہیں دیکھا، مثلاً: ایک ایسا شخص ہے، جس کو پتا ہے، جیسے کسی کی دنیا سے محبت پہلے ختم ہوئی ہو، تو اس کو پہلے سے معلوم ہو گیا۔ لیکن میری دنیا سے محبت ابھی باقی ہے، اس لئے مجھے پتا نہیں ہے۔ چنانچہ جب میری بھی دنیا سے محبت ختم ہو جائے گی، تو مجھے بھی حق نظر آ جائے گا۔
متن:
اور حجاب کا مفہوم اور مراد وہ مانع اور پردہ ہے۔
تشریح:
حجاب سے مراد وہ چیز ہے، جو رکاوٹ بنتی ہے، جو مانع ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:
متن:
جو بندہ کی نگاہ کو حضرت رب العزت کے جمال سے محجوب و ممنوع کرتا ہے۔
تشریح:
یعنی اللہ جل شانہ کی حقانیت، جلال و جمال، جس سے انسان محجوب ہو جاتا ہے، اس کو انسان محسوس نہ کر سکے۔ در اصل یہ باتیں اتنی آسانی کے ساتھ ہماری سمجھ میں نہیں آئیں گی۔ کیونکہ بڑی موٹی موٹی باتیں سمجھ میں نہیں آتیں، یہ تو باریک باتیں ہیں۔ مثلاً: پہلے بھی میں یہ عرض کر چکا ہوں کہ: ﴿بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰى﴾ (الاعلیٰ: 16-17)
ترجمہ: ’’لیکن تم لوگ دنیوی زندگی کو مقدم رکھتے ہو، حالانکہ آخرت کہیں زیادہ بہتر اور کہیں زیادہ پائیدار ہے‘‘۔
پس جو اللہ نے فرمایا، وہی سچ ہے، وہی حق ہے۔ مان لیا، جان لیا، پہچان لیا۔ لیکن یہ میرا علم ہے، ابھی مجھ پہ یہ بات منکشف نہیں ہوئی۔ علماً مجھے پتا چل گیا، کتاب میں آ گیا، قرآن میں دیکھ لیا، سن بھی لیا، پڑھ بھی لیا، سر بھی دھن لیا، لیکن ابھی منکشف نہیں ہوا۔ جب یہ منکشف ہو گا، تو یہ مجھ میں تبدیلی لائے گا، مجھے پتا چلے گا۔ مثلاً: یہی بات کہ تم دنیوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت اچھی بھی ہے اور باقی رہنے والی بھی ہے، علمی لحاظ سے تو یہ بات یہاں تک ہے کہ اگر میں کسی بھی مسلمان سے پوچھوں اور کہوں کہ آخرت اچھی ہے یا دنیا؟ تو وہ کہے گا کہ آخرت۔ جب پوچھیں کہ آخرت باقی ہے یا دنیا؟ تو کھے گا: آخرت۔ پھر پوچھیں کہ آخرت کی تکلیف زیادہ ہے یا دنیا کی؟ کہے گا: آخرت کی۔ پوچھیں کہ آخرت کی نعمتیں زیادہ ہیں یا دنیا کی؟ کھے گا: آخرت کی۔ ان ساری باتیں کا جواب آخرت ہی میں ملے گا، لیکن میرے چوبیس گھنٹے میں کتنا وقت آخرت کے لئے لگتا ہے اور کتنا دنیا کے لئے لگتا ہے، یہ چیز فیصلہ کرے گی کہ مجھے یہ بات کہاں تک سمجھ آئی ہے۔ کیونکہ اللہ پاک نے فرمایا: ﴿بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا﴾ (الاعلیٰ: 16) یہ ترجیح کی بات ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ تمہیں معلوم نہیں ہے۔ علم کا حجاب نہیں ہے، حجاب ترجیح کا ہے۔ چنانچہ جب ترجیح کا یہ حجاب اٹھے گا، تو یہی کشف ہے اور یہ صحیح کشف ہے۔ اصل میں یہی فرق ہوتا ہے۔ پچھلا جو ہفتہ گزرا ہے، اس میں حضرت کی کتاب ’’مثنوی مولانا روم‘‘ سے جو ہمارا درس ہوا تھا، اس میں الحمد للہ اسی قسم کی بہت ساری باتیں کھولی تھیں۔ جو بھی حضرات اِس درس کو سن رہے ہیں، ان سے میں عرض کروں گا کہ اُس کو بھی ڈاؤن لوڈ کر کے سن لیں۔ اس میں حضرت نے بڑی گُر کی بات فرمائی تھی۔ فرمایا: علم ظن سے اچھا ہے اور یقین علم سے اچھا ہے۔ مثلاً: مجھے کسی بات کا گمان ہے، لیکن وہ مستند بات نہیں ہے۔ جب مجھے علم حاصل ہو گیا یعنی قرآن سے پتا چل گیا، حدیث سے پتا چل گیا یا بزرگوں سے پتا چل گیا، تو یہ علم ہو گیا، لہٰذا وہ بات مستند ہو گئی، لیکن جب تک مجھے اس پہ یقین نہیں ہو گا، اس وقت تک اس علم نے میرے یقین کو متاثر نہیں کیا ہو گا۔ اس وقت تک یہ محض علمی بات ہے۔ اس علمی بات میں یہودی، عیسائی اور مسلمان سب برابر ہو سکتے ہیں۔ وہ لوگ بھی یونیورسٹیوں میں قرآن پاک کے درس دیتے ہیں، بڑی بڑی کتابیں لکھتے ہیں۔ لہٰذا علم تو ان کو ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے: ﴿یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ﴾ (البقرۃ: 146)
ترجمہ: ’’وہ اس کو اتنی اچھی طرح پہچانتے ہیں، جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں‘‘۔
لیکن وہ جاننا اتنا ہے کہ نفس درمیان میں پہاڑ کی طرح کھڑا ہے اور ایسا کھڑا ہے کہ ان کو ایمان بھی نہیں لانے دیتا۔ حالانکہ یقین کا مرحلہ ایمان کے بعد شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ بہت سارے مؤمنین کو ایمان حاصل ہوتا ہے، مگر یقین حاصل نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ یقین کا تذکرہ اخیر میں آتا ہے۔ سورت بقرہ کے ابتدائی رکوع میں یقین کا تذکرہ اخیر میں آیا ہے۔ پہلے ایمان بالغیب ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اَلَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَمَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَۚ﴾ (البقرۃ: 3-4)
ترجمہ: ’’جو بے دیکھی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا، اس میں سے (اللہ کی خوشنودی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔ اور جو اس (وحی) پر بھی ایمان لاتے ہیں، جو آپ پر اتاری گئی اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری گئی‘‘۔
یہاں تک ایمان کا مسئلہ ہے۔ اس کے بعد ہے: ﴿وَبِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ﴾ (البقرۃ: 4)
ترجمہ: ’’اور آخرت پر وہ مکمل یقین رکھتے ہیں‘‘۔
یہ وہی بات ہے۔ جیسے فرمایا: ﴿بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا٘ۖ 0 وَالْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی﴾ (الاعلٰی: 17-18)
ترجمہ: ’’لیکن تم لوگ دنیوی زندگی کو مقدم رکھتے ہو، حالانکہ آخرت کہیں زیادہ بہتر اور کہیں زیادہ پائیدار ہے‘‘۔
لہٰذا جب تک مجھے آخرت پر یقین کا درجہ حاصل نہیں ہو گا، میں اس کے لئے دنیا میں قربانی کے لئے تیار نہیں ہوں گا۔ گویا عاجلہ اور اٰجلہ والا معاملہ ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یقین کا مرحلہ کیسے آئے گا؟ یقین چونکہ عقل کی چیز ہے، لہٰذا بے انتہا ذکر و فکر کرنے کے بعد عقل آتی ہے یعنی صحیح عقل ٹھکانے آ جاتی ہے۔ اور پھر یقین حاصل ہو گا۔ اور جب یقین حاصل ہو گا، تو اس وقت عمل کی بھی توفیق حاصل ہو جائے گی۔ بہر حال! جو حجابات اللہ جل شانہ کی معرفت میں رکاوٹ بن جائیں، ان کے متعلق فرمایا:
متن:
اور وہ حجاب یہ تمام مختلف عالم ہیں۔ (یعنی مختلف عالم حجابات یعنی مختلف رکاوٹیں ہیں۔) جیسا کہ عالمِ دنیا اور عالمِ آخرت (دنیا اور آخرت بذات خود) اور ایک روایت میں اسی (80) ہزار عالم کہتے ہیں۔
تشریح:
یہاں اسّی ہزار فرمایا ہے۔ یہ تو انسان کے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھلتا ہے، جس پر جتنا کھل جائے۔
متن:
اور انسان کی فطرت میں یہ اسی ہزار عالم موجود ہیں، اور ہر عالم کے مطابق انسان کی ایک آنکھ ہوتی ہے،
تشریح:
یعنی جتنا کھلتا ہے، اتنی وہ آنکھ active ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اسی آنکھ سے وہ دیکھ سکتا ہے۔ فی الحال ہماری یہ آنکھ active ہے۔ پھر اس کے بعد ممکن ہے کہ ہماری دل کی آنکھ active ہو جائے، عقل کی آنکھ active ہو جائے، پھر اس سے آگے کوئی اور آنکھ active ہو جائے، روح کی آنکھ active ہو جائے۔ اس طرح کی ہماری مختلف آنکھیں ہیں۔ چنانچہ اس سے پھر انسان ترقی کرتا رہتا ہے اور آگے بڑھتا ہے۔
متن:
اور کشف کی حالت میں یہ اسی ہزار عالم (80000) دو عالم میں سماتے ہیں، جن سے نور و ظلمت مراد ہے۔
تشریح:
یعنی جو جو آنکھ کھلتی ہے، اس کی ظلمت ختم ہوتی ہے اور اس کا نور ملتا ہے۔ گویا نور کی وجہ سے ظلمت Step by step ختم ہوتی ہے۔ ہر چیز کی اپنی ظلمت ہے، جیسے دنیا کی اپنی ظلمت ہے۔ جاہ کی اپنی ظلمت ہے۔ مال کی اپنی ظلمت ہے۔ لذات کی اپنی ظلمت ہے۔ جب یہ ظلمات ختم ہوتے ہیں، تو اس کے بعد پھر انوارات شروع ہوتے ہیں۔ اور ایک وقت میں انوارات بھی حجابات بن جاتے ہیں۔ گویا یہ سارا حجابات کا سلسلہ ہے۔
متن:
یعنی ملک و ملکوت۔ اور اس کو غیب و شہادت بھی کہتے ہیں اور جسمانی و روحانی بھی کہتے ہیں۔
تشریح:
کیونکہ انسان کا جسم بھی ہے، روح بھی ہے۔ انسان ان دو چیزوں کا مجموعہ ہے۔
متن:
اور دُنیا و آخرت بھی کہلاتے ہیں۔ یہ سب ایک ہیں، مگر ان کی عبارتیں مختلف ہیں۔ پس جب سالکِ صادق ارادت کے جذبہ کے ساتھ طبیعت کے اسفل السافلین
تشریح:
اسفلُ السافلین سے مراد نفس ہے۔ جب تک انسان نفس کے پیچھے جائے گا، تو ہمیشہ اسفلُ السافلین کی طرف اس کا سفر ہو گا۔ اور جب وہ روح کی طرف جائے گا، تو علیّین کی طرف اس کا سفر ہو گا۔ اس میں طریقہ یہی ہے، معیار ہمارے پاس شریعت ہے۔ یعنی نفس مجھے شریعت پر عمل کرنے سے روکے گا۔ یا دوسرے لفظوں میں نفس کی برائیوں سے مجھے شریعت روکے گی۔ کیونکہ مجھے نفس کی برائیاں خود معلوم نہیں ہو سکتیں، مجھے تو نفس کے بارے میں تفصیلات کا علم نہیں ہے۔ میں اس سے آگاہ نہیں ہوں، میں ظلمات میں ہوں۔
حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس پہ بڑی تفصیل کے ساتھ کلام فرمایا ہے کہ ’’اَللہُ مَوْجُوْدٌ‘‘ یعنی اصل وجود اللہ جل شانہ کا ہے۔ اس کے مقابلہ میں سب عدمات ہیں، باقی سب کچھ عدم ہے۔ اور عدم شر ہی شر ہے اور وجود خیر ہی خیر ہے۔ اس لئے عدم پہ وجود کا جتنا پرتو پڑتا ہے، وہ اتنا خیر بن جاتا ہے، اور جو رہ جاتا ہے، وہ شر ہی رہ جاتا ہے۔ چنانچہ اگر میں شریعت پر عمل کرتا ہوں، تو گویا خیر مجھ پر پڑتی ہے، اس لئے اتنا اتنا میں شر سے بچ رہا ہوں۔ اور جتنا جتنا میں شریعت کی مخالفت کرتا ہوں، شریعت کو چُھوڑ رہا ہوں، اتنا اتنا میں شر کی طرف جا رہا ہوں۔ پس نور اور ظلمت یہ دو چیزیں ہیں۔ جیسے: ﴿اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ وَالَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓـٴُُـھُمُ الطَّاغُوْتُۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ﴾ (البقرہ: 257)
ترجمہ: ’’اللہ ایمان والوں کا رکھوالا ہے، وہ انہیں اندھیریوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے، اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، ان کے رکھوالے وہ شیطان ہیں، جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیریوں میں لے جاتے ہیں‘‘۔
یعنی اللہ جل شانہ مومنین کا دوست ہے۔ مومنین کا دوست اس لئے ہے کہ مومنین ہی اللہ کی بات مان سکتے ہیں۔ مومنین کو پتا ہے کہ اللہ ہے۔ لیکن چونکہ ان کو بھی راستہ طے کرنا ہے، لہٰذا اللہ کی دوستی اس بات میں ہے کہ ان کو ظلمات سے نور کی طرف نکالتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مومنین کو شریعت کے ذریعے سے ہدایت فرماتے ہیں، پھر مومنین شریعت پر جتنے جتنے چلتے ہیں، اتنا اتنا وہ اللہ جل شانہ کی ہدایت سے نور کی طرف جا رہے ہیں۔ اور جتنا جتنا وہ شریعت پر نہیں چلتے، اتنا وہ ظلمات کی طرف جا رہے ہیں۔ پس ظلمات کی طرف وہ لگے ہیں، جو ایمان والے نہیں ہیں: ﴿وَالَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓـٴُُـھُمُ الطَّاغُوْتُۙ﴾ لہٰذا طاغوت یعنی شیاطین ان کو نور سے ظلمات کی طرف لے جا رہے ہیں۔ بس یہ سلسلہ چل رہا ہے۔
متن:
پس جب سالکِ صادق ارادت کے جذبہ کے ساتھ طبیعت کے اسفل السافلین سے قدم شریعت کے اعلی علیین میں رکھے اور صدق کے قدموں سے قانون شرع کے مطابق جادۂ طریقت پر چلتا جائے۔
تشریح:
صدق اصل میں دل کی گواہی کو کہتے ہیں کہ یہ سچ ہے۔ کیونکہ یہاں انسان اپنے جسم کے پیروں سے نہیں چلتا، بلکہ دل کے قدموں سے چلتا ہے۔ یہ راستہ جسم کا نہیں ہے، روحانی راستہ ہے۔ اور روحانی راستہ میں تو روحانی قدم ہی ہوں گے۔ اور روحانی قدم دل میں ہی ہوں گے۔ لہٰذا انسان دل کے قدموں سے ہی چلتا ہے۔
جادۂ طریقت میں طریقت سے مراد یہ ہے کہ جیسے میں نے عرض کیا کہ شریعت اللہ جل شانہ کا انتخاب ہے کہ ہمیں کرنا کیا ہے۔ اور طریقت میں حجابات کا خاتمہ ہے۔ یعنی نفس، عقل اور قلب کی صفائی، یہ جادۂ طریقت ہے۔ یعنی نفس، قلب اور عقل کی صفائی کے ساتھ شریعت پر چلتا جائے۔ کیونکہ میں اگر شریعت پر چلتا ہوں، مثلاً: نماز پڑھتا ہوں، تو یہ شریعت ہے، لیکن اگر میرا قلب، قلبِ مطمئن نہیں ہے، قلبِ سلیم نہیں ہے، تو میرا قلب دنیا میں ہو گا، کیونکہ ممکن ہے کہ میں نماز دنیا کے لئے پڑھوں، اس سے میں کوئی دنیوی فائدہ حاصل کروں۔ اور اگر میری عقل سلیم نہیں ہے، تو عین ممکن ہے کہ میں نماز کو اپنی طرف سے کسی اور طریقے سے پڑھوں، درمیان میں کوئی اور تبدیلی کر لوں۔ اور اگر میرا نفس مطمئنہ نہیں ہے، تو ممکن ہے کہ میں اس میں سستی کروں اور سستی کی وجہ سے کچھ چیزوں کو چھوڑ دوں۔ اللہ کا شکر اور اس کا فضل و کرم ہے کہ مجھے یہ چیزیں اتنی واضح نظر آتی ہیں کہ میں حیران ہوتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ ہم سب کو سمجھ میں آ جائیں۔ مثلاً: میں آپ کو ایک بات عرض کرتا ہوں، جو اکثر عرض کرتا رہتا ہوں۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جو میں آج ہی بتا رہا ہوں۔ مثلاً: نماز میں قومہ پورا نہ کرنا، جلسہ پورا نہ کرنا، جس کو نماز میں چوری کہا گیا ہے، اسے calculate کر لیں کہ آپ اس سے کتنا وقت بچاتے ہیں، چار منٹ کی نماز میں آپ ایک منٹ سے زیادہ نہیں بچاتے۔ اور پھر ایک منٹ بچا کر آپ اس کا کرتے کیا ہیں؟ کیا آپ سونے کی کان میں لگے ہیں کہ ایک ایک کدال سے دو دو تین تین تولے سونا نکال رہے ہیں؟ تو آپ ان منٹوں کا کیا کر رہے ہیں، کس لئے استعمال کر رہے ہیں اور کس لئے بچا رہے ہیں، لیکن آپ کی نماز جیسی دولت اس سے ضائع ہو رہی ہے۔ جس کو بدترین چوری کہا گیا ہے۔ ’’اَلدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادِۃِ‘‘ (الترمذی، حدیث: 3371)
’’ترجمہ: ’’دعا عبادت کا مغز ہے‘‘۔
گویا دعا اصل عبادت ہے، لیکن اس کے ساتھ ہم کیا کرتے ہیں اور کیسے دعا کرتے ہیں؟ کبھی ذرا نماز کے بعد مسجد میں ایک سائیڈ پہ، ایک کونہ پہ کھڑے ہو جائیں اور دعا کرنے والوں کو دیکھیں کہ وہ کیسے دعا کرتے ہیں، اور پھر percentage نکالیں کہ کتنے لوگوں کی دعائیں دعائیں ہیں اور کتنوں کی دعائیں محض ایک تماشا ہے۔ بالکل اس طرح ہوتا ہے۔ کون سی دعا ہے؟ کس سے آپ مانگ رہے ہیں؟ کس کے سامنے ہیں؟ یہ بات اس لئے عرض کر رہا ہوں کہ میں شریعت پہ تو چل رہا ہوں، لیکن جادۂ طریقت پہ نہیں چل رہا۔ نماز پڑھ رہا ہوں، لیکن میری نماز نماز نہیں بنی ہوئی۔ کیوں نہیں بنی ہوئی۔ اس لئے کہ میری طریقت ٹھیک نہیں ہے۔ چیز میں نے بہت اونچی اٹھائی ہوئی ہے، لیکن سنبھالنے کا طریقہ نہیں آتا۔ بس یہی بات ہے۔ سنبھالنے کا طریقہ طریقت بتاتی ہے کہ آپ سجدہ کیسے کریں، آپ قومہ کیسے کریں، جلسہ کیسے کریں، قیام کیسے کریں، تلاوت کیسے کریں، اللہ کی طرف متوجہ کیسے ہوں۔ سہروردی سلسلے کے بارے میں میری ایک غزل کا ایک شعر ہے:
ہو جذب حاصل، ہو شیخ کامل تو دریا کا ملے ساحل
شبیر اس در پہ سر رکھنے کا کچھ سامان ہو جائے
گویا اس کے لئے تین چیزیں ہیں: جذب حاصل ہو، یعنی دنیا کی محبت ختم ہو، اللہ کی محبت حاصل ہو۔ یہی جذب ہے۔ اور شیخ کامل ہو، تاکہ آپ کو آپ کی نفسانی خواہشات سے بچا سکے۔ پھر آپ کو دریا کا ساحل ملے گا گویا کہ آپ صحیح جگہ پہ پہنچیں گے۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ اللہ کے سامنے سر رکھنا آ جائے گا۔ عبادت کرنا آ جائے گی۔ جیسے فرمایا: ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ﴾ (الذّٰریٰت: 56)
ترجمہ: ’’اور میں نے جنات اور انسانوں کو اس کے سوا کسی اور کام کے لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری عبادت کریں‘‘۔
یعنی شیخ کامل ہو گا، تو اپنے مقصد کو پا لو گے یعنی اللہ کے ساتھ ملنا آ جائے گا، اللہ کے سامنے کھڑا ہونا آ جائے گا، اللہ کے سامنے سجدہ کرنا آ جائے گا، اللہ کے سامنے رکوع کرنا آ جائے گا۔ کیونکہ جب تک آپ اللہ پاک کے سامنے اپنے آپ کو نہیں پاؤ گے، اس وقت تک آپ نماز کیسے پڑھو گے۔ کیونکہ نماز کا تعلق اللہ کے ساتھ ہے، نماز کا تعلق دنیا کے ساتھ نہیں ہے۔ جتنا آپ اللہ کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، اتنی ہی آپ کی نماز بنی ہوئی ہے۔ اور یہی جادۂ طریقت ہے۔
یہی حضرت نے فرمایا کہ صدق کے قدموں سے قانونِ شرع کے مطابق (کوئی اور قانون نہیں) جادۂ طریقت پر چلتا جائے، تو جس حجاب سے بھی آگے بڑھ کر گزر جاتا ہے، تو اُن اسّی ہزار حجابوں میں سے اُس مقام کی مناسبت سے اُس کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ یعنی مقامات کھلنے کا راستہ یہی ہے، اور کوئی نہیں ہے۔ ایک آدمی کہتا ہے: اس کے لئے میں یہ کروں گا، اس کے لئے یہ کروں گا، اس کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ راستہ سارا یہی ہے۔ جیسے: نماز کو ہی لے لیں، ہر آدمی نماز پڑھنے کا مکلف ہے، پڑھنی چاہئے، لیکن نہیں پڑھتا۔ لیکن جو پڑھتے ہیں، وہ کیسے پڑھتے ہیں، میں نے آج جن چیزوں کی طرف indication کی ہے، وہ اتنی common چیزیں ہیں کہ کوئی آدمی بھی ان کو دیکھ سکتا ہے، ان میں کوئی ایسی بات نہیں ہے، جو چُھپی ہوئی ہو اور نظر نہ آ سکے۔ لیکن ہم نے نماز کو کیسے سمجھا ہوا ہے، بس اس چیز کو جاننا چاہئے۔
متن:
صدق کے قدموں سے قانون شرع کے مطابق جادۂ طریقت پر چلتا جائے تو جس حجاب سے بھی آگے بڑھ کر گزر جاتا ہے تو اُن اسی ہزار حجابوں میں سے اُس مقام کی مناسبت سے اُس کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور اُس مقام کے حالات اُس کی نگاہ میں آ جاتے ہیں۔
تشریح:
یعنی وہ اس کا عارف بن جاتا ہے، اس کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے۔ جتنا جتنا انسان لاہور کی طرف جا رہا ہے اور مختلف مقامات سے گزر رہا ہے، وہ اتنا اتنا عارف بنتا جا رہا ہے۔ روات آگیا، تو روات کا پتا چل گیا، آگے گوجر خان آ گیا، پھر گجرات آ گیا، پھر جہلم آ گیا، پھر گجرات آ گیا، پھر گوجرانوالہ آ گیا۔ اس کو ان ساری چیزوں کی معلومات ہو رہی ہیں۔ اسی طرح سے جتنی جتنی اس راستے میں اس کی آنکھ کھل جائے گی، اتنے اتنے حالات سے اس کو آگاہی ہو گی، اس کو اتنی اتنی معرفت حاصل ہو گی۔
متن:
حجاب کے اُٹھنے اور ہٹ جانے کے اندازے پر اُس کو معقول معنیٰ دکھائے جاتے ہیں، اور معقولات کے اسرار و رموز اس پر کھل جاتے ہیں،
تشریح:
ایک وہ شخص ہے، جو دنیا کا طالب ہے، اس کے اوپر اس کے درجہ میں باتیں کھلیں گی۔ اور ایک اللہ کا طالب ہے، شریعت پر چلتا ہے، اس کے اوپر اس حالت کے مطابق باتیں کھلیں گی۔ یہ جو کانفرنسز ہوتی ہیں، ان کانفرنسز میں بڑے اونچے اونچے الفاظ بولے جاتے ہیں، گویا اپنے علم کو expose کیا جاتا ہے اور بڑے طریقوں کے ساتھ بات کی جاتی ہے، multimedia اور اس طرح کے دیگر ذائع ہوتے ہیں۔ لیکن جب علم کی بات آتی ہے، تو پتا چلتا ہے کہ بالکل بھی معلوم نہیں ہے، یہ تو صرف باتیں ہیں۔ اس سے پتا چلا کہ جب تک دل کی آنکھیں نہ کھلی ہوں، صرف معقولات کافی نہیں ہوتیں۔ اس کے لئے انسان کو وہ راستہ اپنانا پڑتا ہے، جس سے وہ چیزیں نظر آنے لگیں۔
متن:
اس کو کشف نظری کہتے ہیں۔ اس پر زیادہ اعتماد نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ جو کچھ نظر آ جائے وہ قدم میں نہیں آتا، اور اعتماد کے شایان نہیں ہوتا۔ مصرع
نے ہر چہ تو بینی بخشد اے دل
’’اے دل تو جو کچھ دیکھتا ہے وہ تم کو نہیں بخش دیتے‘‘۔
حکماء اور فلاسفر اس مقام پر رہ گئے
تشریح:
انہوں نے فلسفوں کے اندر خود کو پھنسایا ہوا ہے۔ میں اگر فلسفیانہ تصوف کے بارے میں بات کروں گا، تو یہی چیز ہے۔ وہ کہیں گے: نماز کا فلسفہ۔ خدا کے بندے! نماز کا کیا فلسفہ ہوتا ہے۔ کہتے ہیں: حج کا فلسفہ، فلاں چیز کا فلسفہ۔ حالانکہ یہ فلسفے نہیں ہیں۔ فلسفہ تو آپ کا ذہنی تخیل ہے۔ اس کی کیا حیثیت ہے۔ اور نماز ذہنی تخیل سے نہیں بنی، نماز تو آفاقی ہے، اوپر سے آئی ہے۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ فلسفہ اور سائنس یہ evolve ہوتے ہیں۔ یونانی فلاسفروں کے فلسفہ کو آج کل کوئی پڑھتا ہے، تو ہنسی آتی ہے کہ یہ کیا باتیں کر رہے تھے۔ کیونکہ revolution ہو گیا، development ہو گئی، advancement آ گئی۔ اس لئے اب اس پہ لوگ ہنستے ہیں۔ جب کہ آپ ﷺ کے وقت میں جو نماز تھی، آج بھی نماز وہی ہے۔ ممکن ہے کہ دنیا کی چیزیں مجھے اُس نماز سے محروم کر دیں، جو آپ ﷺ کے وقت میں تھی، گویا وہ مجھے زیادہ بہتر چیز نہیں دے رہی۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس latest چاہئے۔ اور دین جو ابتدا میں آیا، وہی چاہئے۔ دین میں ہم بالکل ابتدا کو دیکھیں گے۔ جیسے آپ ﷺ نے فرمایا: ’’خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ، ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ، ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ‘‘ (بخاری شریف، حدیث نمبر: 2221)
ترجمہ: ’’لوگوں میں سے بہترین میرے دور کے لوگ ہیں، پھر وہ جو ان کے ساتھ (کے دورکے) ہوں گے، پھر وہ جو ان کے ساتھ (کے دور کے) ہوں گے‘‘۔
جابر ابن حیان جو کمیسٹری جانتا تھا، آج کل کا کیمسٹ اس سے بہت زیادہ جانتا ہے۔ جابر ابن حیان بزرگ بہت بڑے ہوں گے، لیکن یہ ان سے زیادہ سائنسدان ہے۔ ہم ان کی بزرگی کو مانیں گے، لیکن ان کی کمیسٹری کو تو نہیں مانتے۔ ہاں ہم ان کو credit دیں گے کہ انہوں نے اس وقت میں بہت کچھ کیا۔ لیکن میں اُس وقت کی سائنس پہ مطمئن نہیں ہو سکتا، اس سے اتفاق نہیں کر سکتا۔ اس وقت کی کیمسٹری پر کفایت نہیں کر سکتا۔ اسی طرح Mathematics کو لے لیں، اس دور کی جو Mathematics تھی۔ یا ابنُ الہیثم کی جو فزکس تھی، He was great scientist of that time لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اسی کے فزکس پہ مطمئن رہوں۔ دنیا اس سے بہت آگے نکل گئی ہے۔ اس کے جو concepts ہیں، اس کے اوپر آگے پتا نہیں کہ کتنے ہو چکے ہیں۔ مسئلہ کہاں سے کہاں چلا گیا ہے۔ لہٰذا جو چیزیں By evolution ہیں، ان کا نظام الگ ہے۔ جو چیزیں وحی کے ذریعے سے آئی ہیں، ان کا نظام ابتدا سے ہی مکمل ہوتا ہے۔ اور پھر دوسری چیزوں کے ساتھ مل کے dilute ہوتا رہتا ہے۔ جب کہ evolution میں چیزیں ترقی کرتی رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے خلاف ہمارا دشمن جو کام کر رہا ہے، وہ یہی کر رہا ہے کہ ہم evolution کے اوپر depend کرنے لگیں، revealing کے اوپر depend نہ کریں۔ بس ان کی پوری محنت یہی ہے۔ لہٰذا اپنے آپ کو اس چیز سے بچانا پڑے گا۔ چنانچہ یہاں یہی فرمایا کہ حکماء اور فلاسفر اس مقام پر رہ گئے، اس سے آگے نہیں جا سکے۔ میرے پاس ایک صاحب آئے تھے۔ کہنے لگے کہ میں ایک صاحب سے ملا ہوں، جس نے فلسفیانہ تصوف کے حوالے سے باتیں کیں۔ اور کہا کہ اس نے مجھے ایک بہت اچھی بات بتائی، اس نے مجھے بتایا کہ Top priority آپ اللہ کو دیں۔ حالانکہ تصوف theory نہیں ہے، practice ہے۔ تو یہ جو کہنے والا ہے، کیا اس نے Top priority اللہ کو دی؟ جو Clean shave ہے، جو نماز کی کوئی پروا نہیں کرتا، اس کے گھر کے اندر بت پڑے ہوئے ہیں، وہ کہتا ہے کہ Top priority اللہ کو دیں۔ تو یہ بات فلسفہ ہے یا دین ہے؟ یہ محض فلسفہ ہے۔ باتوں سے تو دین نہیں آتا۔ باتیں اتنی کرتے ہیں کہ جیسے پتا نہیں کہ کہاں پہنچ گئے، مگر عمل کو دیکھو، تو جیسے بالکل پتا ہی نہیں۔ اس کے مقابلہ میں ایک جاہل آدمی، جو کچھ بھی نہیں جانتا، لیکن یہ جانتا ہے کہ میرے اللہ کا حکم یہ ہے اور اس کے اوپر وہ چل رہا ہے، تو وہ اچھا ہے یا فلاسفر اچھا ہے؟ ظاہر ہے کہ وہ اچھا ہے۔ موٹی موٹی باتوں سے بات نہیں بنتی۔
عمل سے زندگی بنتی ہے، جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری
لہٰذا عمل کرنا پڑتا ہے۔ concept آپ کا وہی زندہ ہے، جس پہ آپ چل رہے ہیں۔ آپ جس چیز کو عملاً present کر رہے ہیں، اصل میں آپ کی achievement وہ ہے۔ جس کی آپ بات کر رہے ہیں، وہ آپ کی achievement نہیں ہے۔
اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا یہ غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا
در اصل حکماء اور فلاسفر یہی باتیں کرتے ہیں۔ باتوں میں رہ جاتے ہیں۔ بے شک باتیں صحیح کرتے ہوں، لیکن اس صحیح بات سے عمل صحیح نہیں ہوتا۔
متن:
اور اس مقام کو مقام حقیقی تک رسائی تصور کر لیا۔
تشریح:
جیسے آج کل کے علماء نے صبر ص ب ر سمجھ لیا اور سمجھتے ہیں کہ بس مجھے پتا چل گیا کہ صبر یہ ہے، لہٰذا میں صابر ہو گیا۔ کمال ہے۔ اگر میں ٹی بی کے بارے میں پوری کتاب پڑھ لوں، تو کیا میری ٹی بی ٹھیک ہو جائے گی؟ کتابوں سے تو ٹھیک نہیں ہوتی، اس کے لئے مجھے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑے گا، علاج کرانا پڑے گا، دوائی کھانی پڑے گی، اس کے لئے regularity ہے، سارا کچھ ہے، اس کے بعد میری ٹی بی جائے گا۔ چنانچہ لوگوں نے ایک practical چیز کو theoretical چیز بنا دیا، اور سمجھ لیا کہ بس یہ چیز حاصل ہو گئی۔ جب کہ حاصل نہیں ہوئی، کیونکہ یہ theory نہیں ہے، practice ہے۔
متن:
مگر جب ایک صادق سالک اس کشف معقولات سے آگے گذر جائے (یعنی جب Conceptual stoppage سے آگے گزر جائے) تو پھر کشف دلی ظاہر ہو جاتا ہے اور اُس کو کشف شہودی کہتے ہیں،
تشریح:
یعنی ان کو ادراک کی صورت میں چیزوں کی سمجھ آ جاتی ہے، جس کو ہم ادراکِ حقیقی کہتے ہیں۔ یہ کشفِ شہودی کہلاتا ہے۔ یعنی مجھے بالکل پتا چل گیا کہ اللہ کے سامنے اس طرح کھڑا ہونا جیسے بڑی ہستی کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، اس سے کیا ہوتا ہے۔ جب یہ سمجھ میں آ جائے، تو کشفِ شہودی حاصل ہو گیا۔
متن:
اس وقت مختلف انوار کشف ہوتے ہیں۔ اس کے بعد مکاشفات سری پیش آتے ہیں۔
تشریح:
سر یعنی مخفی۔ گویا پہلے معقولات ہیں، اس کے بعد دل ہے، اور اس کے بعد سر ہے۔ یعنی قلب ہے، روح ہے، سر ہے۔
متن:
اور اُس کو کشف اِلہامی کہتے ہیں۔
تشریح:
یعنی چیزیں آپ کو الہام ہوتی جائیں گی۔ گویا جو چیزیں موجود ہیں، ان کو سمجھنا کشفِ شہودی ہے۔ اور جو اس کے بعد مزید آپ کو اللہ کی طرف سے آتا ہے، یہ کشفِ الہامی ہے۔ یہ وحی بھی ہوتا ہے، الہام بھی ہوتا ہے، القا بھی ہوتا ہے۔
متن:
پس اُس کو وجود کی آفرینش اور تخلیق کی حکمت ہر چیز ظاہر ہو جاتی ہے۔
تشریح:
اللہ جل شانہ اس کو سمجھاتا رہتا ہے۔ ایک hotline سی بن جاتی ہے، جس سے وہ چلتا رہتا ہے۔ ایک مخفی طریقے سے جو اس کو خود بھی پتا نہیں ہوتا کہ کیسے آ رہا ہے، لیکن آ جاتا ہے۔ مثلاً: دروازہ بند ہے، انسان اندر نہیں آ سکتا، انسان کے لئے دروازہ بند ہے، لیکن جنات کے لئے بند نہیں ہے، جنات آ سکتے ہیں۔ لیکن جنات کے لئے جو barrier ہوتا ہے، وہ لگا دیا جائے، تو وہ بھی نہیں آ سکیں گے۔ جس کو حصار کہتے ہیں۔ لیکن فرشتے آ سکیں گے، گویا الہام اپنے راستے سے آتا ہے، وہ آپ کے مجوزہ راستے سے نہیں آتا۔
متن:
پس اُس کو وجود کی آفرینش اور تخلیق کی حکمت ہر چیز ظاہر ہو جاتی ہے۔ یہ اُن الفاظ کے معانی ہیں جو کہا ہے۔ رباعی۔
اے کرد غمت غارت ہوش و دل ما
درد تو شدہ خانہ فروش دل ما
سرے کہ مقدسان ازاں بے خبرند
عشق تو فروگرفت بگوش دل ما
’’کہ تیرے غم نے میرے ہوش اور دل کو غارت کر کے لوٹ لیا، اور تمہارے درد نے ہمارے دل کے گھر کو ویران کر دیا۔ وہ راز جس سے مقدس ہستیاں آگاہ تک نہیں، تمہارے عشق نے آ کر سب کا سب چپکے سے ہمارے دل کےکان میں کہا‘‘۔
تشریح:
یہ وہ الہامات ہیں، جو انسان کو آتے رہتے ہیں، کتابوں میں نہیں ملا کرتے۔ کیونکہ یہ چیزیں کتابوں کی نہیں ہیں۔ ہر شخص کا اللہ کے ساتھ جتنا نظام بنا ہوا ہے، اس کے مطابق خاموشی کے ساتھ اس تک یہ الہامات آتے رہتے ہیں۔
متن:
اس کے بعد مکاشفات روحی آتے ہیں۔
تشریح:
یعنی اس کے بعد جب دل جاگ گیا ہے اور اس کے بعد روح بھی بیدار ہونے لگ گئی ہے اور اس کی آنکھ بھی کھل گئی، تو اس کے بعد مکاشفاتِ روحانی آ جاتے ہیں اور اس مقام میں جنت، دوزخ اور فرشتوں کے ساتھ باتیں کرنا، ان کی باتیں سننا، یہ ہونے لگ جاتا ہے۔ ایسے وقت میں در اصل انسان ملاءِ اعلیٰ تک پہنچ جاتا ہے۔ گویا کہ یہاں حضرت نے مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی بات کو اور شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی بات کو اپنے انداز میں کہہ دیا ہے کہ جب سالک مقامِ قلب میں آتا ہے اور روح اور نفس اس میں گھتم گتھا ہوتے ہیں اور پھر وہ ریاضت و سلوک کے ذریعے سے روح کو نفس سے چُھڑا لیتا ہے، تو روح ملاءِ اعلیٰ میں پہنچ جاتی ہے۔ جب روح ملاءِ اعلیٰ میں پہنچ جاتی ہے، تو ملاءِ اعلیٰ کی باتیں اس پہ کھلنے لگتی ہیں۔ چونکہ وہاں پر سب ہیں، ارواح بھی ہیں، فرشتے بھی ہیں، جنت اور دوزخ بھی ہے اور تجلیِٔ اعظم بھی وہاں پر ہے۔ لہذا اس کے اوپر اگر جنت کے احوال کھل جائیں، تو سبحان اللہ! بالکل ممکن ہے۔ اس کے اوپر اگر دوزخ کے احوال کھل جائیں، تو بالکل ممکن ہے۔ اس کے اوپر اگر فرشتوں کے احوال کھل جائیں، تو بالکل ممکن ہے۔ اگر ارواح سے کسی روح کا فیض اس کو ملنا شروع ہو گیا، تو یہ بھی بالکل ممکن ہے۔ یہ ساری چیزیں ممکن ہیں۔ عالمِ ارواح، ملائکہ اور جنت، دوزخ، فرشتے، یہ سب ان کے ساتھ ہیں۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کو اس طرح پتا چل گیا، بلکہ اصل میں ان چیزوں کا متاثر کرنے کا اپنا ایک طریقہ ہے۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے ’’الطافُ القدس‘‘ میں اس کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔
متن:
اور جب روح بالکل صاف ہو جاتی ہے اور کدورات جسمانی سے بالکل پاک ہو جاتی ہے (یعنی روح نفس سے چھوٹ جاتی ہے) تو ایک لامتناہی عالم کا کشف حاصل ہو جاتا ہے اور ازل و ابد کا دائرہ اُسے نصیب ہو جاتا ہے، اس مقام پر زمان و مکان کے حجابات اُٹھ جاتے ہیں۔
تشریح:
در اصل چونکہ روٹ ایک ہے، منبع ایک ہے، اس لئے اولیاء اللہ نے مختلف انداز میں جو باتیں کی ہیں، وہ سب ایک ہی ہوتی ہیں۔ یہی باتیں حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے انداز میں کی ہیں۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے انداز میں کی ہیں۔ مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ اپنے انداز میں کرتے ہیں۔ اور حضرت اس کو اپنے انداز میں کر رہے ہیں۔ مگر باتیں وہی ہیں، باتوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔
متن:
یہاں تک کہ مستقبل میں جو ہونے والا ہو وہ حال میں جان لیتا ہے۔ چنانچہ حارث رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ "کَأَنِّيْ أَنْظُرُ إِلٰی أَھْلِ الْجَنَّۃِ وِ إِلٰی أَھْلِ النَّارِ" (المعجم الکبیر للطبراني بمعناہ، باب: الحاء، الحارث بن مالک الأنصاري، رقم الحدیث: 3367) ”گویا کہ میں اہل جنت اور اھل دوزخ کو دیکھ رہا ہوں“ پس دُنیاوی مکان کا حجاب اُٹھ جاتا ہے
تشریح:
گویا ہوتا تو ادھر ہی ہے، لیکن تعلق اوپر ملاءِ اعلیٰ کے ساتھ ہے۔ چونکہ ملاءِ اعلیٰ کے لئے یہ دنیا بہت ہی چھوٹی سی چیز ہے۔ ملاءِ اعلی کے لئے اس کی حیثیت کیا ہے۔ universe میں دنیا کی کوئی حیثیت نہیں ہے، ملاءِ اعلیٰ تو اس سے بھی اوپر کی چیز ہے۔ ہماری یہ دنیا سورج کا 1/7 لاکھ حصہ ہے۔ اور سورج چھوٹے درجہ کا ستارہ ہے، کوئی بڑے درجہ کا نہیں ہے۔ ایسے ستارے بھی ہیں، جن میں ایک ارب سورج سما سکتے ہیں۔ اور پھر ہماری کہکشاں میں اربوں ستارے ہیں، پھر اربوں کہکشائیں ہیں، تو کہاں ہے ہماری زمین؟ کتنی ہے؟ لہٰذا universe میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے، تو ملاءِ اعلیٰ کے سامنے اس کی کیا حیثیت ہو گی۔ یہ ہے مکان کا حجاب اٹھ جانا۔ چاند پہ پہنچ جاؤ، تو خانہ کعبہ کی طرف کیسے رخ کرو گے؟ بس زمین کی طرف دیکھو، تو خانہ کعبہ ادھر ہی ہے۔ اسی طرح اگر اس سے اوپر چلے جائیں، تو پھر کیا ہے۔ لہٰذا مکان کا حجاب تو اٹھ گیا۔ وہ چیز تو رہی نہیں۔ سمت کا بھی پتا نہیں ہے، کیونکہ سمت کا تعلق ہمارے طلوع و غروب کے ساتھ ہے۔ جب طلوع و غروب ہی نہیں رہا، تو پھر کیا رہ گیا۔
متن:
یہی مقام ہوتا ہے جہاں حجاب و پردہ اُٹھ جاتا ہے۔ پیچھے سے بھی ایسا دیکھ پاتے ہیں جیسا کہ آگے سے دیکھ لیتے ہیں۔ اور جس کو لوگ کشف و کرامت کہتے ہیں، اسی مقام میں ہوتے ہیں۔ دلوں کی بات جاننا اور دوراں کے مختلف کاموں کی اطلاع، پانی، آگ، ہوا اور ساری زمین پر چلنا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس قسم کی کرامات پر اعتماد نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ایسی کرامات اہلِ دین اور غیر اہل دین دونوں کو حاصل ہوتی ہیں۔
تشریح:
یعنی ان میں فرق کرنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ اہلِ حق کی کرامت غیر اہلِ حق کی طرح ہوتی ہے۔ دو طرح اس پہ بات کرنی چاہئے۔ ایک یہ کہ کرامت کو اتنا degrade بھی نہیں کرنا چاہئے کہ اس کو استدراج کے ساتھ ملا دو، کیوں استدراج گمراہ لوگوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ اور کرامت غیب کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے: ’’کَرَامَاتُ الْاَوْلِیَآءِ حَقٌّ‘‘۔ کہ اولیاء اللہ کی کرامتیں حق ہیں۔ لیکن کرامت کو مقصود بھی نہیں بنانا چاہئے کہ جب تک کرامت حاصل نہ ہو، تو گویا آپ کامیاب نہیں ہیں۔ چنانچہ اجر اور آخرت کے لحاظ سے دیکھو گے، تو کرامت مقصود نہیں ہے۔ لیکن استدراج کے لحاظ سے دیکھو گے، تو کرامت اللہ والوں کے ساتھ نسبت رکھتی ہے اور استدراج گمراہوں کے ساتھ نسبت رکھتا ہے۔ اس لئے نسبت کا خیال رکھنا پڑے گا۔ لہٰذا اس میں balance رکھنا چاہئے۔ بعض لوگ بالکل ہی اس کو صفر سے ضرب دیتے ہیں، وہ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ صفر سے ضرب نہیں دینا چاہئے، لیکن اس کو مقصود بھی نہیں بنانا چاہئے۔ دنیا کے مقابلہ میں تو یہ اونچی ہے، لیکن دین کے کسی کام کے مقابلہ میں اس کو نہیں لا سکتے، کیونکہ اس کو مقصودات میں نہیں لا سکتے۔ مثلاً: آپ نماز اس نیت سے نہیں پڑھ سکتے کہ آپ کو کرامت حاصل ہو جائے۔ نماز بہت اونچی چیز ہے، اس کو آپ کرامت کے لئے نہیں پڑھ سکتے، وہ تو اللہ کے لئے ہے۔ کیونکہ اللہ کی ذات بہت بڑی ہے۔ جیسے فرمایا: ﴿وَلَذِکْرُ اللہِ اَکْبَرُ﴾ (العنکبوت: 45)
ترجمہ: ’’اور اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے‘‘۔
اس لئے جو چیز آپ نے اللہ کے لئے کرنی ہے، وہ کرامت کے لئے نہیں کر سکتے۔ اگر آپ اس کے لئے کریں گے، تو یہ دنیا بن جائے گی۔ لہٰذا اس کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کرنا ہے۔ تو یہ جو باتیں حضرت نے لکھی ہیں، ان کو اگر غیر محتاط انداز میں پڑھا جائے، تو آدمی گڑبڑ کر لے گا۔
متن:
جب مجاہدہ سے اپنی روح کو صاف کیا جائے، تو اس قسم کی کرامات ظاہر ہوتی ہیں۔
تشریح:
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بات کی ہے اور حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہ بات کی ہے۔ میں ذرا مناسب الفاظ ڈھونڈ رہا ہوں کہ میں کس طریقے سے وہ بات کروں۔ جب انسان مجاہدہ کرتا ہے، تو اپنے نفس کو دباتا ہے۔ نفس کو دبانے سے انسان اوپر جائے گا۔ یہ مقام عروج کہلاتا ہے۔ عروج کی حالت میں کرامات ہوتی ہیں۔ اور جب انسان کو کام کرنے کے لئے پھر نیچے لایا جاتا ہے، تو اس کو نزول کہتے ہیں۔ اور جتنا عروج ہوتا ہے، اتنا ہی نزول ہوتا ہے۔ نزول میں پھر کرامات نہیں ہوتیں، اس میں کام ہوتا ہے۔ جس کسی کے لئے جتنا کام مقرر ہے، وہ اتنا کام کرتا ہے۔ چنانچہ یہاں مجاہدہ کی بات اس لئے کی ہے کہ انسان نفس کو جو کہ رکاوٹ ہے، مجاہدہ کے ذریعے سے جب چھوڑتا ہے، تو اس کو عروج حاصل ہوتا ہے۔ یعنی نفس نے جس روح کو اوپر جانے سے پکڑا ہے، جیسے حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مقامِ قلب میں روح اور نفس گتھم گتھا ہوتے ہیں، لہٰذا جس وقت ریاضت سے آپ روح کو چھڑائیں گے، تو روح اوپر جائے گی۔ کیونکہ اس کا فطری میلان اوپر کی طرف ہے اور نفس کا فطری میلان نیچے کی طرف ہے۔ جب انسان اوپر جاتا ہے، تو یہ عروج ہے۔ عروج کی حالت میں کرامات ہوتی ہیں۔ اور جس وقت پھر دوبارہ مخلوق کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے۔ ﴿قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ﴾ (الکہف: 110) اس وقت پھر کام کرتا ہے اور اوپر سے لیتا ہے، نیچے والوں کو دیتا ہے۔ جس کام کے لئے آیا ہے، وہ کام کرتا ہے۔ آپ ﷺ کو دیکھیں! کیسے سادہ زندگی گزاری ہے، چٹائی پر بیٹھے ہیں، بوریے پر بیٹھے ہیں، پیوند لگے ہوئے ہیں۔ یہ ساری چیزیں نزول ہے۔ لیکن اگر آپ ﷺ اپنے عروج کے مطابق معاملہ فرماتے، تو کوئی بھی آپ سے فائدہ حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ یہی بات حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے قصیدہ میں بیان فرمائی ہے۔ مشہور قصیدہ ہے۔ فرمایا: یا رسول اللہ! اگر آپ اپنی شان کے مطابق رہتے، تو آپ ہماری بیٹیوں کے ساتھ کیسے شادی کرتے۔ یعنی ایک تو آپ ﷺ کی یہ شان ہے کہ جنت سے پانی آ رہا ہے۔ لیکن پھر پوچھتے ہیں کہ کچھ کھانے کو ہے۔ پس اگر ہے، تو کھا لیا۔ نہیں، تو روزہ رکھ لیا۔ صحابہ کرام آپ ﷺ سے کہتے ہیں: یا رسول اللہ! دیکھیں، ہم نے اپنے پیٹ کے اوپر پتھر باندھے ہوئے ہیں۔ آپ ﷺ اپنا پیٹ دکھاتے ہیں کہ دو پتھر باندھے ہوئے ہیں۔ یہ نزول ہے۔ اگر عروج کو دیکھیں، تو جنت سے کھانا آ سکتا تھا۔ لیکن یہ نزول تھا۔ در اصل یہی امت کے لئے سبق تھا۔ یہی نزول کافروں کو سمجھ نہیں آیا، جس کی وجہ سے بعض محروم ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ یہ کیسے پیغمبر ہیں، جو بازاروں میں پھرتے ہیں اور کھانا کھاتے ہیں اور شادی کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ نزول عروج سے افضل ہوتا ہے۔ لیکن سمجھ ہو، تو افضل نظر آئے۔ اور یہ مجاہدہ سے حاصل ہوتا ہے۔
متن:
ابن صیاد سے رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کہ "مَا تَرٰی؟ قَالَ أَرَی الْعَرْشَ عَلَی الْمَاءِ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ ذٰلِکَ عَرْشُ إِبْلِیْسَ" (مرعاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح بمعناہ، رقم الصفحۃ: 149/1، إدارۃ البحوث العلمیۃ، بنارس، الھند)
تشریح:
ابنِ صیاد یہودی تھا، اس سے پوچھا کہ تجھے کیا نظر آ رہا ہے؟ اس نے کہا کہ میں پانی کے اوپر ایک تخت کو دیکھ رہا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ ابلیس کا تخت ہے۔ یعنی تیرا کشف ابلیس تک ہے یعنی تم ابلیس کی طرف جا رہے ہو۔
متن:
اور اسی قسم کی باتیں دجال کو بھی حاصل ہوں گی۔ حدیث میں آیا ہے کہ آدمی کو قتل کرے گا پھر اُس کو زندہ کرے گا۔ ہاں جس کو حقیقت میں کرامت کہتے ہیں اہل دین کے علاوہ اور کسی کو حاصل نہیں۔
تشریح:
قلب کی صفائی سے جو عروج کسی ولی کو حاصل ہوتا ہے، جو کہ کرامت ہوتی ہے، وہ صرف اس کی شان کو دیکھانے کے لئے ہوتا ہے، تاکہ لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ اس کے تعلق کا اظہار کر دیتا ہے۔ لیکن اصل ولی کا نزول ہوتا ہے۔ آج کل ہمارے ہاں یہ بڑا مسئلہ ہے کہ ہم جب اولیاء اللہ کی کرامات بتاتے ہیں، تو کرامات پر ہی رک جاتے ہیں، کرامات ہی بتاتے ہیں کہ انہوں نے یہ کیا اور یہ کیا۔ اور پھر بات ختم۔ حالانکہ اولیاء اللہ کی کرامات صرف ان کی recognition کے لئے ہیں۔ recognize تو آپ کر چکے ہیں۔ اب اس کے بعد مزید کیا ہے، کیا اسی پر رہنا ہے؟ یہ بالکل وہی بات ہے، جیسے حکماء اور فلسفی فلسفہ میں پھنس گئے، اسی طرح یہ لوگ کرامات میں پھنس گئے۔ یعنی انہی تک رہ گئے، اس سے آگے نہیں گئے۔ تو یہ بھی ایک حجاب بن گیا۔ میں خود کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے عرس میں جاتا رہا ہوں۔ میں چونکہ زیادہ عرس پہ نہیں جاتا، کیونکہ آج کل کے عرسوں میں وہ چیز نہیں ہوتی جو کہ ہونی چاہئے، اور خرافات زیادہ تر غالب ہوتی ہیں۔ میلہ اور عرس میں آج کل کوئی فرق نہیں ہے۔ آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ اب سرکس ہوتی ہیں اور سرکس میں ڈانس ہوتے ہیں، چنانچہ اگر کسی ولی اللہ کے عرس پر آپ یہ کام کرتے ہیں، تو ولی اللہ کا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ اس کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارے زیارت کاکا صاحب میں بھی 16 رجب سے 24 رجب تک عرس ہوتا ہے۔ آج کل تو خیر اتنا زیادہ نہیں ہوتا، پہلے بہت زیادہ ہوتا تھا اور باقاعدہ لوگ جاتے تھے۔ جب سے مجھے سمجھ آئی ہے، تو اس کے بعد سے میں نے جانا چھوڑ دیا۔ بچپن میں جاتے تھے، کیونکہ بچپن میں والدین جاتے تھے، ان کے ساتھ ہم جاتے تھے۔ لیکن پھر نہیں گئے۔ ایک دفعہ زیارت کاکا صاحب کے منتظمین میں سے ایک صاحب نے مجھے کہا کہ آپ مہمان خصوصی کے طور پر آئیں، آپ کو ضرور آنا ہے۔ تو میں اس لئے گیا کہ شاید کچھ اللہ کی بات کرنے کا موقع مل جائے، کچھ بتانے کا طریقہ ہو جائے۔ ظاہر ہے کہ یہ اچھا ہے۔ بہر حال! میں چلا گیا۔ جب میں وہاں پہنچا، تو وہاں پر خیبر ٹی وی والے آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہمیں انٹرویو دے دیں۔ میں نے کہا: میں تو ٹی وی کو انٹرویو نہیں دیتا۔ کہتے ہیں: ہم نے تو آپ کو اسی لئے بلایا ہے۔ میں نے کہا: آپ پہلے کہہ دیتے، تو میں نہ آتا۔ آپ لوگوں نے بتایا نہیں، لہٰذا میں تو اس کا پابند نہیں ہوں۔ پروڈیوسر بڑا ہوشیار تھا، اس نے فوراً کہا: شاہ صاحب! فکر نہ کریں، کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ ہم کمیرہ کے سامنے چراغ رکھ دیں اور آپ سے باتیں پوچھیں۔ لوگوں کو چراغ نظر آئے گا، آپ نظر نہیں آئیں گے۔ میں نے کہا: ایسا ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہ تو آڈیو ہو گیا۔ بہر حال! انہوں نے اس طرح میرا انٹرویو لیا۔ پھر اس کے بعد ہماری مسجد میں بیانات شروع ہو گئے۔ اور جتنے بیانات ہو رہے تھے، سارے کے سارے کرامات پر ہی ہو رہے ہیں۔ میں نے ناظم سے کہا کہ میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ آپ تو مہمانِ خصوصی ہیں۔ سب سے اخیر میں بات کریں گے۔ میں نے کہا: ہاں! لیکن مہمانِ خصوصی ضرورت کے مطابق درمیان میں بھی بات کر سکتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے۔ انہوں نے اعلان کیا، تو میں بیان کے لئے چلا گیا۔ میں نے کہا: یہاں مسجد میں میرے سامنے جتنے بھی حضرات بیٹھے ہوئے ہیں، یہ سب کاکا صاحب کے معتقد ہیں، لہٰذا یہ کاکا صاحب کو مانتے ہیں۔ اور کرامت اس لئے ہوتی ہے تاکہ لوگ ان کو مانیں۔ اس لئے کرامت سے جو مقصد ہے، وہ تو حاصل ہے۔ اب بتائیں کہ آپ کرامات کو کس لئے بتا رہے ہیں؟ اس کا مقصد بتائیں؟ جو چیز اس سے حاصل ہونی تھی، وہ پہلے سے حاصل ہے۔ سارے معتقد بیٹھے ہوئے ہیں، ان میں کوئی بھی مخالف آدمی نہیں ہے، جس کو ہم convince کرنا چاہتے ہوں۔ ہاں! اولیاء اللہ سے یہ چیز حاصل کرنی ہے کہ انہوں نے کیسے زندگی گزاری۔ ان کی تعلیمات کیا تھیں، ہم کس طرح ان کی طرح بن سکتے ہیں، یہ کوئی بتانے والا ہو۔ یہاں تو مجھے کوئی ایک بھی نہیں ملا جو یہ بتا رہا ہو۔ اس لئے یہاں جمع ہونے کا جو اصل مقصد ہے، وہ تو ہو نہیں رہا، تو پھر کس لئے جمع ہوئے ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ میں حضرت کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات میں سے ایک بات کر لیتا ہوں۔ میں نے کہا: حضرت کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے ان کے بیٹے حلیم گل بابا رحمۃ اللہ علیہ نے پوچھا کہ بابا! آپ کا پیر کون ہے؟ فرمایا: بیٹا! میں نے بزرگی بزرگوں کے لئے چُھوڑی ہے، علم میں نے علماء کے لئے چُھوڑا ہے، سلوک سالکوں کے لئے واگزار کر دیا ہے۔ تصوف صوفیوں کو دے دیا ہے، میں صرف اللہ کا بندہ ہوں۔ اللہ جل شانہ نے جو بندگی کی زنجیر میرے گلے میں ڈالی ہے، میں چاہتا ہوں کہ موت تک یہ میرے گلے میں رہے۔ بس میرا یہ مقصد ہے۔ میں نے کہا: دیکھیں! ہمیں کاکا صاحب نے کیا message دیا ہے۔ بس یہ message ہے۔ پھر میں نے کہا کہ کاکا صاحب میں جو اصل چیز تھی، وہ عاجزی تھی۔ آج کل کاکا خیلوں میں کیا عاجزی ہے؟ یہ وہ چیز ہے، جو missing ہے۔ اگر ہم میں یہ چیز نہیں ہے، تو ہم کیسے کاکا خیل ہیں۔ یہ چیز ہم میں ہونی چاہئے۔ کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی صفتِ اعلیٰ یہی چیز تھی۔ جب کہ وہ ہم میں نہیں ہے، تو پھر ہم کیسے اپنے آپ کو کاکا خیل کہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ لوگوں کو یہ بات سمجھ میں آ گئی۔ اس کے بعد پھر جتنے بھی مقررین آ رہے تھے، کچھ نہ کچھ تعلیمات کے بارے میں بھی بتا رہے تھے۔ تو کچھ نہ کچھ سلسلہ بن گیا۔ بلکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم خانقاہ میں آپ کے پاس آئیں گے، وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کی باتیں کیں۔ بہر حال! میرا مقصد یہ ہے کہ یہ بنیادی بات ہے، یہ حاصل کرنی چاہئے۔
متن:
جو کچھ ولی سے صادر ہوتا ہے اُس کو کرامت کہتے ہیں اور جو غیر ولی سے صادر ہوتا ہے اُس کو سحر، جادو اور استدراج وغیرہ کہتے ہیں۔ اور ولی کی تعریف کے لئے دیکھئے باب کرامات و خرق عادات، شیخ المشائخ قطب مدار شیخ رحمکار صاحب، مندرجہ کتاب ہٰذا حصّہ اوّل یعنی مقامات قطبیہ مؤلف۔
کشف روحی کے بعد مکاشفات خفی ظاہر ہوتے ہیں۔
تشریح:
گویا یہ سارے لطائف چل رہے ہیں۔ یہ مجھے بہت پہلے بتایا گیا کہ روحانی پرواز کے راستے لطائف ہیں۔ جتنے کسی کے لطائف جاندار ہوں گے، اس کی روحانی پرواز زیادہ ہو گی۔ اس لئے یہ محنت جاری رکھنی چاہئے، قلب لطیفہ ہے، روح لطیفہ ہے، سِر لطیفہ ہے، خفی لطیفہ ہے، اخفیٰ لطیفہ ہے۔ پھر اور مقامات ہیں۔ یہاں پر اس سے اگلا خفی بتایا ہے۔
کیونکہ روح کافر اور مسلمان دونوں کی ہوتی ہے، لیکن خفی خاص الخواص کے سوا کسی کی نہیں۔
تشریح:
گویا کرامات تک کافر اور مسلمان دونوں کی بات آ گئی یعنی کفار کا استدراج ہے اور مسلمان کی کرامات ہیں۔ لہٰذا ان کے درمیان اشتباہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کے بعد اشتباہ ختم ہو جاتا ہے۔ اور وہ ہے:
متن:
لیکن خفی خاص الخواص کے سوا کسی کی نہیں جو کہ روح حضرتی ہے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ہے ﴿کَتَبَ فِيْ قُلُوْبِھِمُ الْإِیْمَانَ وَ أَیَّدَھُمْ بُرُوْحٍ مِّنْہُ…﴾ (المجادلۃ: 22) ”ان کے دلوں میں ایمان کو لکھ دیا اور روح سے اُن کی امداد فرمائی“ اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں فرمایا کہ ﴿وَ أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ رُوْحًا مِّنْ أَمْرِنَا…﴾ (الشوریٰ: 52) ”تمہاری طرف ہم نے اپنے امر سے روح کو بھیج دیا“ ﴿وَمَا کُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْکِتَابُ وَ لَا الْإِیْمَانُ وَ لٰکِنْ جَعَلْنَاہُ نُوْرًا نَّھْدِيْ بِہٖ مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا…﴾ (الشوریٰ: 52) ”آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ ایمان کو جانتے تھے، لیکن ہم نے اپنے نور کو بنایا جس سے ہمارے بندوں کو جن کو ہم چاہیں، ہدایت بخشتے ہیں“ یعنی ہم روحِ نورانی و حضرتی اپنے بندوں کو عطا کرتے ہیں تاکہ اُس کے ذریعہ اُس راستے کو پا لیں جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے عالَم صفات کی جانب جاتا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رستم کو رستم کا گھوڑا لے جاتا ہے۔ اسی طرح روح نورانی اور حضرتی اللہ تعالیٰ کے عالم صفات کا ادراک کرتی ہے۔
کہتے ہیں کہ خفی دونوں جہانوں کا واسطہ اور ذریعہ ہے، ایک تو صفات خداوندی دوسرا عالمِ روحانیت، تاکہ دل اللہ تعالیٰ کے مکاشفات کے قابل ہو جائے۔ اور اس کے برعکس عالم روحانیت کو اخلاق بخشتا ہے اور "تَخَلَّقُوْا بِأَخْلَاقِ اللہِ" (بیان تلبیس الجھمیۃ فی تأسیس بدعہم الکلامیۃ، الفرق بین العلو و الاستواء، رقم الصفحۃ: 518/6، مجمع الملک فہد) ”اللہ تعالیٰ کے اخلاق پر اپنے اخلاق سنوارو“ کے مقام سے مشرف ہو جاتے ہیں، اس کو کشف صفاتی کہتے ہیں۔ اور اگر سالک کو اس صفتِ عالمی کا کشف ہو تو اُس کو علم من لدن حاصل ہوتا ہے۔ اور اگر صفتِ سمیعی یعنی سننے سے حاصل ہو تو اس کو خطاب و کلام کا سننا حاصل ہوتا ہے۔ اور اگر بصیری یعنی دیکھنے کی صفت سے کشف حاصل ہو تو اُس کو رؤیت اور مشاہدہ حاصل ہوتا ہے۔ اور اگر صفتِ جمالی سے مکشوف ہو جائے تو اُس کو ذوقِ شہود اور جمال حضرتی ظاہر ہوتا ہے۔ اور اگر صفت جلالی سے ظاہر ہو جائے تو فنا حقیقی حاصل ہو جائے۔ اور اگر صفتِ وحدانیت سے کشف ہو جائے، تو وحدت ظاہر ہوتی ہے۔ باقی صفات کو بھی اسی پر قیاس کریں۔ کسی نے اس مقام کی طرف ان شعروں میں اشارہ کیا ہے۔ بیت
تا بر سر کوئے عشق تو منزل ماست
سر دو جہان بہ جمہ کشف دل ماست
و انجا کہ قدم دل مقبل ماست
مطلوب ہمہ جہان حاصل ماست
’’جب تمہارے عشق کے کوچے کو ہم نے اپنی منزل بنایا، تو دونوں جہانوں کے اسرار ہمارے دل پر منکشف ہوئے، جس جگہ ہمارے آگے جانے والے دل کے قدم ہیں، تو تمام جہان کا مطلوب ہمیں حاصل ہے‘‘۔
اللہ جل شانہ ہم سب کو صحیح سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ