اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلیٰ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ
اَمَّا بَعْدُ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
آج کل ہمارے ہاں حضرت کاکا صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ کے بارے میں جو کتاب لکھی گئی ہے، یعنی ’’مقاماتِ قطبیہ مقالاتِ قدسیہ‘‘، اس کی تعلیم ہوتی ہے۔ آج ان شاء اللّٰہ مقالاتِ قدسیہ میں سے مقالۂ چہارم کی تعلیم ہو گی، جو اللّٰہ تعالیٰ کی معرفت کے بارے میں ہے۔
متن:
مقالۂ چہارم
اللّٰہ تعالیٰ کی معرفت کے بارے میں
یہ بات جان لینی چاہئے کہ معرفت مؤمن کی روح کا جوہر ہے، جس کسی کو معرفت حاصل نہیں وہ خود موجود نہیں۔ صانع یعنی بنانے والے کی پہچان اور معرفت مصنوع سے حاصل ہوتی ہے۔
تشریح:
مصنوع کو دیکھ کر انسان صانع کو پہچانتا ہے کہ صانع کیسا ہے۔ شاگرد کو دیکھ کر استاد کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا استاد کیسا ہے، فیکٹری کی پراڈکٹ کو دیکھ کر اس فیکٹری کے بارے میں پتا چلتا ہے، اسی طرح مصنوع کی معرفت سے صانع کی معرفت پیدا ہوتی ہے۔
متن:
پہلی معرفت یہ ہے کہ تمام چیزوں اور ساری کائنات کو مغلوب، عاجز اور محکوم پہچان جائے
تشریح:
یعنی مصنوع صانع کے سامنے کچھ نہیں ہے۔
متن:
اور اپنی نیت سب سے قطع کرے اور یہ جان لے کہ اللّٰہ تعالیٰ ایک ہے اور اُس کی ذات و صفات قدیم ہیں۔ (اللّٰہ تعالیٰ کی ذات بھی قدیم ہے اور صفات بھی قدیم ہیں کیونکہ) ﴿لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَيْءٌ وَّ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ﴾ (الشوریٰ: 11) ”اُس کی مثل کی مانند کوئی چیز نہیں اور وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے“ اور صانع کی معرفت کا دوسرا راستہ یہ ہے، جیسا کہا گیا ہے: "مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ" ”جس نے اپنے نفس کو پہچانا اُس نے اپنے رب کو پہچانا“ اللّٰہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اپنی قدرت کو آسمانوں اور کائنات میں ظاہر فرمایا، اور وہ قدرتِ کاملہ یہ ہے کہ کائنات کی اشیاء کو ہست و نیست اور موجود و فنا کرتا ہے، اور مخلوقات کے حالات کو تغیر دیتا ہے، دن رات کا پیدا کرنا اور اُن میں کمی بیشی کرنا
تشریح:
اللّٰہ جل شانہ نے اپنے کلام پاک میں فرمایا ہے: ﴿اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ﴾ (آل عمران: 190)
ترجمہ: ’’بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات دن کے باری باری آنے جانے میں ان عقل والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں‘‘۔
کائنات کی تخلیق ذرا بڑا شعبہ ہے، اس میں بہت باریکی آتی ہے، اس کے اندر جا کے انسان بہت ساری چیزوں کو دیکھتا ہے اور اس سے اللّٰہ تعالیٰ کی معرفت کا اندازہ زیادہ تفصیل کے ساتھ ہوتا ہے، لیکن دنوں کا الٹ پھیر تو سب کو نظر آتا ہے۔ یہ تو روز مرہ کا مشاہدہ ہے، آدمی دیکھتا ہے کہ دن آتا ہے اور پھر رات آتی ہے، پھر دن آتا ہے، پھر رات آتی ہے۔ اور پھر دن اور رات چھوٹے بڑے ہوتے رہتے ہیں۔ گرمی سردی آتی رہتی ہے، اس طرح موسم بدلتے رہتے ہیں۔ یہ ساری چیزیں زمین کی سورج کے گرد حرکت کے ذریعے سے ہوتی ہیں۔ زمین کی دو قسم کی حرکتیں ہیں: ایک محوری حرکت ہے اور دوسری دوری حرکت ہے۔ محوری حرکت سے دن رات پیدا ہوتے ہیں اور دوری حرکت سے موسم پیدا ہوتے ہیں۔ چونکہ محوری حرکت ٹیڑھی ہے، سیدھی نہیں ہے، اس لئے موسم کبھی گرم ہوتا ہے، کبھی سرد ہوتا ہے، کبھی خزاں، کبھی بہار۔ اور دن کبھی چھوٹے، کبھی بڑے ہوتے ہیں۔ نمازوں کے اوقات آگے پیچھے ہوتے ہیں۔ اگر زمین سیدھی ہوتی، تو پھر یہ سب کچھ ایک ہی طرح ہوتا۔ صرف ایک ٹیڑھ سے اللّٰہ نے سارا نظام بنا دیا۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ صرف ایک ٹیڑھ یہ سب کچھ ہوا، یہ ایک ٹیڑھ نہ ہوتی، زمین سیدھی ہوتی، تو یہ تمام نظام نہ بدلتے۔ ہم گرمی میں تنگ ہوتے ہیں، لیکن اگر گرمی نہ ہوتی، تو ہمیں آم نہ ملتا، ککڑی نہ ملتی۔ چنانچہ کچھ موسم کچھ پھلوں کے لئے، کچھ موسم کچھ پھلوں کے لئے۔ سخت سردی بعض پھلوں کے لئے اور سخت گرمی بعض پھلوں کے لئے۔ ہر چیز کا اپنا اپنا طریقہ ہے، الگ الگ زمین ہے۔ جیسے گندگی کے ڈھیر کو اللّٰہ تعالیٰ پودوں کے لئے کھاد بنا دیتا ہے، جو ہماری زندگی کا ذریعہ ہے۔ بلکہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ درخت اور ہم انسان ایک دوسرے کے لئے جی رہے ہیں۔ یعنی ہمارا input ان کا output ہے اور ہمارا ouput ان کا input ہے۔ یعنی ہم صحیح کھانا کھاتے ہیں، اس سے جو بول و براز اور Carbon Dioxide بنتا ہے، وہ درختوں کی خوراک ہے۔ اور ان کا جو output ہے، آکسیجن ہے، پھل پھول ہیں، وہ ہماری خوراک ہیں۔ لہٰذا ہم ایک دوسرے کے لئے جی رہے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کے فضلے کو ہمارے لئے خوراک بنا دیا اور ہمارے فضلے کو ان کے لئے خوارک بنا دیا۔ وہ بھی خوش اور ہم بھی خوش۔ لہٰذا جو لوگ درختوں کو کاٹ رہے ہیں اور دوبارہ نہیں بو رہے، وہ ایسے ہی ہیں، جیسے اگر کسی کے خادم خدمت نہ کریں، تو وہ ان کو مار رہا ہو۔ چنانچہ ہم ناعاقبت اندیش لوگ ہیں، حبِ عاجلہ میں مبتلا ہیں، ہم فوری چیز کو لیتے ہیں اور جو بعد میں آنے والی چیز ہے، اس کو چھوڑتے ہیں۔ سائنس میں بھی ہمارے ساتھ یہ معاملہ ہے اور مذہب میں بھی ہمارے ساتھ یہ معاملہ ہے، ہر جگہ یہی حال ہے۔ کیونکہ انسان ناعاقبت اندیش ہے: ﴿اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ 0 وَّاِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌ 0 وَّاِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ﴾ (العادیات: 6-8)
ترجمہ: ’’بیشک انسان اپنے پروردگار کا بڑا نا شکرا ہے۔ اور وہ خود اس بات کا گواہ ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ وہ مال کی محبت میں بہت پکا ہے‘‘۔
ایسی پکی لکیریں اللّٰہ تعالیٰ نے کھینچی ہیں کہ ان میں سے کسی سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ بہر حال! یہ اللّٰہ تعالیٰ نے معرفت کے راستے بنائے ہیں۔
متن:
اور مخلوقات کے حالات کو تغیر دیتا ہے، دن رات کا پیدا کرنا اور اُن میں کمی بیشی کرنا اور فراخی و تنگی کو اپنی مخلوقات کے درمیان پیدا کرنا اور حکومت کا لینا اور دینا، اور جو کچھ دنیا کے حالات ہیں، وہ آفاق میں ظاہر کر لیتا ہے تاکہ مُوحِّدین اور توحید پرست لوگ اُن نشانیوں کو دیکھ کر معرفت حاصل کریں۔ جیسا کہ فرمایا گیا ہے: ﴿سَنُرِیْھِمْ اٰیَاتِنَا فِي الْآفَاقِ…﴾ (فصلت: 53) ”ہم اپنی معرفت کی نشانیاں زمانے اور دنیا میں ظاہر کریں گے“ چونکہ آفاق کا یہ راستہ عارف کے واسطے بہت دراز اور طویل تھا اس لئے ایک چھوٹا اور مختصر راستہ بھی بتلا دیا اور فرمایا: ﴿وَفِيْ أَنْفُسِکُمْ أَفَلَا تُبْصِرُوْنَ﴾ (الذٰاریات: 21) ”تمہارے خود اپنے نفسوں میں دکھایا گیا ہے، کیا تم غور و فکر نہیں کرتے“ آدمی کے نفس کو موجودات کی مثال پر بنایا ہے۔
تشریح:
یعنی کائنات میں جو کچھ ہے، وہ سارا material انسان کے اندر آ گیا، انسان کا نفس ایسا جامع بنایا گیا ہے کہ وہ ساری چیزوں کا نچوڑ ہے۔ اسی لئے شاہ ولی اللّٰہ رحمۃ اللّٰہ علیہ نے فرمایا کہ نفس کلیہ کی سب سے قریب ترین مثال انسان ہے۔
متن:
اور اس کو اپنی معرفت کے لئے ایک سیڑھی بنا رکھا ہے تاکہ اپنے نفس کو پہچان جائے، تو اُس سے صانع کو خود بخود پہچان جائے گا، اور وہ معرفت خود اپنے نفس کی تغییرِ احوال ہے، مثلًا بیماری، تندرستی، نیند، بیداری، موت، زندگی، غمی اور شادی اور "فِی الْآفَاقِ" کے معنیٰ یہ ہیں کہ سب مخلوق کی تغییر و تبدیلی ان کے اختیار و ارادہ کے بغیر اس بات کی دلیل ہے کہ ایک مدبر اور قادر موجود ہے جس کے قبضۂ قدرت میں یہ ساری کائنات محکوم و مجبور اور اسیر و پابند ہے۔
اصحاب طریقت معرفت کی راہ میں ہمیشہ اپنے آپ سے ابتدا کرتے ہیں اور اپنی فطرت سے ابتداء کرتے ہیں،
تشریح:
اصحابِ طریقت قدرتی راستہ اختیار کرتے ہیں، آسان راستہ اختیار کرتے ہیں، قریبی راستہ اختیار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے مشائخ دیہاتی زبان میں بات کرتے ہیں، بہت آسان زبان میں بات کرتے ہیں، بڑی بات کو ایسی آسان زبان میں بیان کریں گے کہ آپ حیران ہو جائیں گے۔ حضرت امروٹی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے تھے کہ تم دودھ کو بلو بلو کے سرخ کر دو، اس سے مکھن نہیں نکلے گا، بس تھوڑی سی جھاگ ڈال دو، اس سے مکھن نکل سکتا ہے۔ بغیر جھاگ کے دودھ میں سے محنت سے بھی مکھن نہیں نکلتا۔ گویا انسان کے اندر جو صفات ہیں، ان میں نکھار کسی شیخ کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ یہ جھاگ شیخ کی صحبت ہے۔ ویسے اپنے طور پہ آپ بے شک کتنی محنت کر لیں، کرتے رہیں، لیکن مکھن نہیں نکل سکتا۔ آج ہی مجھے ایک صاحب نے رائیونڈ سے ٹیلی فون کیا۔ کہتا ہے کہ میں دو سال پہلے آپ سے بیعت ہوا تھا، اس کے بعد پھر آپ سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ میں نے کہا: ابھی جو آپ نے فون کیا ہے، یہ کہاں سے کیا ہے؟ پہلے بھی فون ہو سکتا تھا۔ رابطہ کیوں نہیں ہو سکتا تھا؟ یہ کہو کہ رابطہ کیا نہیں۔ ’’نہیں ہو سکا‘‘ کہہ کر اپنے آپ کو بچا رہے ہیں۔ بہر حال! کہتا ہے کہ آپ سے رابطہ نہیں ہو سکا، تو میں نے اپنی طرف سے کچھ ذکر شروع کیا، تو اس سے یہ ہو گیا، پھر یہ ہو گیا۔ اب میں کیا کروں؟ میں نے کہا: تین دن مسلسل صلوٰۃُ التوبہ پڑھو، اس کے بعد مجھے فون کرو، پھر بتاؤں گا۔ آپ نے پہلے رابطہ کیوں نہیں کیا، اپنی مرضی کیوں چلائی؟ بیعت ہونے کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ میں اب صرف ان سے پوچھوں گا، اپنے آپ سے بھی نہیں پوچھوں گا۔ میں نے کہا: یا تو پھر بھگتو اور اگر ٹھیک ہونا ہے، تو تین دن صلوٰۃُ التوبہ پڑھو، اور اس کے بعد مجھ سے رابطہ کرو، پھر بتاؤں گا۔ لوگ ان چیزوں کو کھیل سمجھتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمیں سب پتا ہے، بس ٹھیک ہے، کوئی بات نہیں ہے۔ ہمیں ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ‘‘ معلوم ہے۔ درود شریف ہمیں پتا ہے، قرآن شریف بھی جانتے ہیں۔ بھائی! بڑے بڑے علماء علم کے لحاظ سے اپنے سے کم درجہ کے لوگوں کے پاس گئے ہیں، تب ان کا کام ہوا ہے۔ اور کمال کی بات یہ ہے کہ عالم جب غیر عالم کے پاس جاتا ہے، تو اس کی اصلاح زیادہ ہوتی ہے۔ کیونکہ اصلاح کا سب سے بڑا factor تکبر کو دور کرنا ہے، تو جب تک یہ عالم کے پاس جاتا ہے، اس کا تکبر نہیں ٹوٹتا، وہ اپنی جگہ پہ رہتا ہے کہ میں بڑا عالم ہوں، یہ میری شان ہے۔ اس لئے شان نہیں ٹوٹتی، وہ اپنی جگہ بحال رہتی ہے۔ لہٰذا اس کو توڑنے کے لئے زیادہ محنت کرنا پڑے گی۔ اور جو اپنے سے کم علم والے کے پاس چلے جائیں، ان کو دو چیزیں حاصل ہیں: ایک معرفت حاصل ہے اور ایک تکبر سے بچ جاتا ہے۔ معرفت اس کو اس چیز کی حاصل ہے کہ یہ چیز اور ہے اور یہ چیز اور ہے۔ جیسے کام انجینئرنگ کا ہو اور آپ ڈاکٹر کے پاس جائیں، یا کام ڈاکٹر کا ہو، آپ انجینئر کے پاس جائیں۔ اسی طرح علم کی بات اور ہے، تربیت کی بات اور ہے، اس لئے ماننا چاہئے، کیونکہ اتنا بھی علم نہیں ہے، تو پھر وہ عالم کس بات کا ہے۔ اس کو معرفت نہیں حاصل، تبھی تو وہ ادھر ڈھونڈ رہا ہے۔ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ سیدھے آدمی تھے، دھڑلے سے بات کہتے تھے۔ کسی نے میرے بارے میں کہا کہ وہ عالم نہیں ہیں۔ انہوں نے فرمایا: کیوں، آپ نے ان سے بخاری شریف پڑھنی ہے۔ اگر وہ پڑھانا شروع کر دیں، تو ہم بھی درخواست کریں گے کہ آپ بخاری شریف نہ پڑھائیں۔ گویا یہ مرض ہوتا ہے، جب تک وہ مرض نہیں نکلتا، اس وقت تک اصلاح نہیں ہو گی۔ عالم کی اصلاح غیرِ عالم سے صحیح ہوتی ہے۔ یہ بات مجھے حلیمی صاحب نے بتائی تھی۔ مفتی عبد القدوس ہاشمی صاحب، قاضی حسین صاحب کے بڑے بھائی تھے۔ یہ مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ سے بیعت ہوئے، چونکہ جب مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ تشریف لائے تھے، تو میں بھی گیا تھا۔ ان سے ملاقات ہوئی، تو ان کے ہاتھ پر بیعت ہوئے۔ میں نے ذرا خوشخبری کے طور پہ حلیمی صاحب کو بتایا کہ مفتی عبد القدوس صاحب مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ سے بیعت ہوئے۔ فرمایا: کیا ہوا! اپنی چیز اپنی جگہ پر ہے۔ جب تک یہ غیر عالم سے بیعت نہیں ہوں گے، ان کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ واقعتاً ہم نے دیکھا ہے، جیسے حضرت تھانوی رحمۃ اللّٰہ علیہ، حضرت گنگوہی رحمۃ اللّٰہ علیہ، مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللّٰہ علیہ، یہ علم کے pillars ہیں۔ یہ pillars گئے ہیں حاجی امداد اللّٰہ مہاجر مکی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی خدمت میں جو کہ اصطلاحی عالم نہیں تھے۔ گویا انہوں نے اپنی شان توڑی۔ جب شان توڑی، تو اللّٰہ تعالیٰ نے پھر اچھی طرح جوڑی۔ یہ بات لوگوں کو سمجھ نہیں آتی۔ تو یہاں پر بھی اس قسم کی بات ہے۔
متن:
اصحاب طریقت معرفت کی راہ میں ہمیشہ اپنے آپ سے ابتدا کرتے ہیں اور اپنی فطرت سے ابتداء کرتے ہیں، اور تمام کثیف و لطیف اور خشک و تر اشیاء اپنے نفس سے طلب کرتے ہیں اور اپنے خالِق و صانع خدا کی نشانیاں اور دلیل اپنے نفس میں پا لیتے ہیں، ﴿إِنَّ فِيْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِاُوْلِي الْأَلْبَابِ﴾ (الزمر: 21) یعنی اس بات میں اہل دانش و خرد کے لئے لمحہ فکریہ اور درس عبرت موجود ہے۔ اور بعض لوگوں کو اللّٰہ تعالیٰ غور و فکر اور نظر کرنے کا کام حوالے کرتا ہے، تاکہ فکر و نظر کے بعد موجودات کے حالات کو دیکھ کر اُس کو پہچان جائیں، جیسا کہ فرمایا ہے: ﴿قُلِ انْظُرْوْا مَا ذَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ…﴾ (یونس: 101) ”کہہ دیجیے کہ جو کچھ زمینوں اور آسمانوں میں ہے اُن کو نظر کرو اور دیکھو“ اور بعض لوگوں کو مجاہدات و ریاضت کے راستے معرفت کی منزل تک پہنچایا جاتا ہے ﴿وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا﴾ (العنکبوت: 69) یعنی جو کوئی ہمارے بارے میں کوشش اور مجاہدہ کریں تو اُن کو ہم خود ضرور اپنی معرفت کے راستے کی ہدایت و رہنمائی کرتے ہیں، اور بعض کو بغیر کسی سبب اور وسیلہ کے اچانک ہدایت کا نور اُن کے دل میں داخل کیا جاتا ہے اور معرفت کا دروازہ اُن کے لئے کھول دیا جاتا ہے۔
تشریح:
جن کا کام مجاہدہ کے ذریعے سے ہوا، میں ان کی مثال دیتا ہوں۔ حضرت شیخ شاہ عبد الرحیم سہانپوری رحمۃ اللّٰہ علیہ انگریز فوج میں سپاہی تھے، وہاں سے استعفیٰ دے دیا اور حضرت مولانا عبد الغفور سوات بابا جی رحمۃ اللّٰہ علیہ سے بیعت ہوئے۔ حضرت نے ان سے فرمایا کہ جاؤ، سوات کی فلاں وادی میں فلاں چشمہ کے پاس بیٹھ جاؤ، جو کچھ اللّٰہ دے، اس کو کھاؤ، پیو اور اللّٰہ کی عبادت کرو۔ اور جب تک میں نہ بلاؤں، اس وقت تک نہ آنا۔ حضرت نے اپنے خیال میں چھ مہینے کے لئے بھیج دیا، تقریباً سال ہو گیا، حضرت کو لوگوں نے یاد دلایا کہ حضرت! آپ نے ایک صاحب کو بھیجا تھا۔ فرمایا: وہ کدھر ہے۔ بتایا گیا کہ فلاں جگہ ہے۔ فرمایا: اوہ! اچھا اچھا، جاؤ، ان کو لے آؤ۔ جب وہاں بلانے کے لئے گئے، تو بیچارے بہت لاغر اور بیمار بھی ہو گئے تھے، کیونکہ گھاس کھا کر پانی پی کر اسی سے گزارا کرتے رہے، کافی کمزور ہو گئے۔ ان کو لے آئے، حضرت حکیم بھی تھے، خود علاج کیا۔ جب اللّٰہ تعالیٰ نے صحت عطا فرمائی، تو خلافت دے دی اور فرمایا: جاؤ، علماء آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ اور پھر یہ ہوا کہ جب یہ تشریف لائے، تو ان کے سلسلہ میں بہت علماء بیعت ہوئے۔ اب یہ کون سی چیز تھی، کوئی شیخ الحدیث تو نہیں تھے، محض ایک سپاہی تھے۔ ان کو بیعت کر لیا، اور اس کے بعد ان کو کچھ درس تو نہیں پڑھایا۔ مجاہدہ کرایا اور مجاہدہ کے بعد آئے، تو جیسے ان کو صحت ہوئی، خلافت ان کے حوالہ کی اور پھر علماء ان سے فیض اٹھا رہے ہیں۔ بس مجاہدہ نے معرفت کے سمندر کے ساتھ ملا دیا۔ اللّٰہ پاک فرماتے ہیں: ﴿وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا﴾ (العنکبوت: 69)
ترجمہ: ’’اور جن لوگوں نے ہماری خاطر کوشش کی ہے، ہم انہیں ضرور بالضرور اپنے راستوں پر پہنچائیں گے‘‘۔
متن:
﴿فُھُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّہٖ…﴾ (الزمر: 22) یعنی وہ اپنے رب کی طرف سے نورِ ہدایت پر ہے۔ اور بعض کو معرفت کی حقیقت سے بے نصیب اور محجوب رکھا جاتا ہے۔ اور فرمایا کہ ﴿مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ…﴾ (الزمر: 67) "أَيْ مَا عَرَفُوا اللّٰہَ حَقَّ مَعْرِفَتِہٖ" ”اللّٰہ تعالیٰ کی قدر جیسا کہ اس کی قدر اور حق ہے انہوں نے نہیں کی، یعنی جیسا کہ مناسب اور لازم ہے کہ اس کی معرفت کو نہ جان سکے“ اور بعض لوگوں کو مکمل اور حتمی طور پر اپنی معرفت سے محروم اور بے نصیب کیا گیا ہے
تشریح:
یعنی دو میں اپنا تصرف ظاہر کیا اور دو میں اسباب کے ذریعے سے کروا دیا۔ کچھ کو مجاہدہ کے ذریعے سے کرا دیا اور کچھ کو چیزوں کے اندر غور کرنے سے معرفت دے دی۔ گویا یہ چار طریقے بتا دیئے گئے۔
متن:
اور فرمایا گیا کہ ﴿خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ…﴾ (البقرۃ: 7) ”اللّٰہ تعالیٰ نے اُن کے دلوں پر مہر لگائی ہے تاکہ یہ لوگ اللّٰہ تعالیٰ کی معرفت حاصل نہ کر سکیں“ ابیات۔
چوں جمالش صد ہزاراں روے داشت
بود در ہر ذرہ دیدار دیگر
لا جرم ہر ذرہ را بنمود یار
از جمال خویش رخسار دیگر
چوں یک ست اصلی وعدہ از بران
تا بود ہر دم گرفتار دیگر
’’چونکہ اُس کے جمال کے لاکھوں رُخ تھے (یعنی ہر رنگ میں اس کا جمال موجود تھا) اور ہر ایک ذرے میں جُدا جُدا جمال اور اس کی جلوہ نمائی تھی، لہٰذا محبوب نے ہر ایک ذرے کی جلوہ نمائی فرمائی‘‘ (یعنی یہاں ہر ایک چیز میں ظاہر ہوئے) (اور اپنے جمال کے جلوؤں میں دوسرے چہرے اور گال دکھا دیے)۔ اصل اور حقیقت ایک ہے اور اُس کی تعداد زیادہ ہے تاکہ ہر وقت دوسری قسم کے جمال کا اسیر ہو۔
تشریح:
’’اور اپنے جمال کے جلوؤں میں دوسرے چہرے اور گال دکھا دیئے‘‘۔ یعنی ہر ایک کو مختلف رنگ دیکھا دیئے، حالانکہ حقیقت ایک ہے۔ جیسے: سورج کی روشنی مختلف چمکیلے آئینوں میں نظر آنے لگے، تو کسی میں سفید، کسی میں سبز، کسی میں زرد، کسی میں کوئی اور رنگ آتا ہے اور وہ سب رنگ ایک سما سا باندھ لیتے ہیں۔ سورج کی روشنی، بادلوں کے جلو میں نمی اور خشکی کے درمیان جو تفاوت ہوتا ہے، اس کے اندر سے گزر کے جب اپنا چہرہ دیکھاتی ہے، تو قوسِ قزح بن جاتی ہے، سات رنگ ظاہر ہو جاتے ہیں، حالانکہ وہ بھی سورج کی روشنی ہوتی ہے، کوئی اور چیز نہیں ہوتی۔ اسی طرح اللّٰہ جل شانہ اپنی قدرت کو مختلف طریقوں سے دکھاتا ہے، اپنے جمال کو مختلف طریقوں سے دکھاتا ہے۔ کوئی کس طریقے سے اس کی طرف آتا ہے، کوئی کس طریقے سے آتا ہے۔ لیکن حقیقت ایک ہے، کیونکہ ذات ایک ہے۔ البتہ میں ایک بات عرض کرنا چاہوں گا، کیونکہ لوگوں کے ذہنوں میں سوال اٹھ رہے ہوں گے۔ جیسے اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰی سَمْعِهِمْؕ وَعَلٰۤی اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ٘ وَّلَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠﴾ (البقرہ: 7)
ترجمہ: ’’اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے اور ان کے لئے زبردست عذاب ہے‘‘۔
جس کا حوالہ بھی ادھر دیا گیا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اللّٰہ پاک نے ان کے دلوں پہ مہر لگا دی ہے، تو ان سے کیسے حساب لے سکتے ہیں۔ یہ سوال ذہن میں اٹھتا ہے، حالانکہ میں نے آپ کو بتا دیا تھا کہ دل میں دو چینل ہیں: ایک شیطان کی طرف سے ہے اور ایک اللّٰہ کی طرف سے ہے۔ قانون یہ ہے کہ جس چینل کو استعمال کیا جائے گا، اس چینل کے لئے اس کی استعداد بڑھ جائے گی اور دوسرے کے لئے کم ہو جائے گی۔ اب دونوں پچاس فیصد کھلے ہیں، اگر کسی نے شیطانی چینل استعمال کیا، تو وہ ٪51 ہو گیا اور یہ ٪49 ہو گیا، پھر اس نے کیا، تو %52 اور %48 ہو گیا، پھر کیا تو %53 اور %47 ہو گیا، بڑھتے بڑھتے شیطانی چینل ٪100 کھل گیا اور رحمانی چینل ٪0 ہو گیا۔ اب اس کو ہدایت نہیں مل سکے گی، کیونکہ اللّٰہ کی طرف جو راستہ تھا، وہ اس نے مسدود کر دیا۔ جیسے ہم بٹن دباتے ہیں، تو اگر اس کے اندر سرکٹ complete نہ ہو، تو ہم پنکھا نہیں چلا سکتے۔ اگر یہ پنکھا اس کے ساتھ connect نہ ہوتا، پنکھے کا سرکٹ خراب ہوتا، تو ہم بٹن دباتے، تو پنکھا نہ چلتا۔ لہٰذا پنکھا چلایا اس سرکٹ نے ہے، لیکن ذریعہ ہم بن گئے ارادہ کے لحاظ سے۔ لہٰذا لوگ کہتے ہیں کہ فلاں نے پنکھا چلا دیا، یہ نہیں دیکھتے کہ فلاں سرکٹ نے پنکھا چلا دیا۔ وہ حجاب میں ہے، وہ ہمیں نظر نہیں آتی، لیکن یہ انگلی نظر آتی ہے۔ اسی طرح اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت نظر نہیں آتی اور انسان کا ارادہ نظر آتا ہے، اسی طرف اس کی نسبت کی جاتی ہے۔ چنانچہ جس طرح یہ سرکٹ نے کیا، اسی طرح وہ بھی اللّٰہ نے کیا، لیکن ارادہ اس کا استعمال ہوا۔ اسی طرح ارادہ شیطان کے چینل کو استعمال کرنے کا انسان سے ہوا، لیکن چونکہ یہ نظام اللّٰہ پاک نے بنایا ہے، لہٰذا یہ کام اللّٰہ نے کیا، اس لئے اپنی طرف نسبت کر دی: ﴿خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰى سَمْعِهِمْ﴾ (البقرہ: 7) کہ اللّٰہ پاک نے ان کے دلوں پہ مہر لگا دی۔ یہ بالکل اسی طرح کی بات ہے۔ اور کچھ لوگوں میں طلب ایسی ہوتی ہے کہ ان کو اللّٰہ پاک بغیر کسی سبب کے دے دیتے ہیں۔ جیسے سورۂ نور میں ہے: ﴿اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّلَا غَرْبِیَّةٍۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ یَّہۡدِی اللّٰہُ لِنُوۡرِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَیَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ ؕ وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ﴾ (النور: 35)
ترجمہ: ’’اللہ تمام آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اس کے نور کی مثال کچھ یوں ہے جیسے ایک طاق ہو، جس میں چراغ رکھا ہو، چراغ ایک شیشے میں ہو، شیشہ ایسا ہو جیسے ایک ستارا، موتی کی طرح چمکتا ہوا، وہ چراغ ایسے برکت والے درخت یعنی زیتون سے روشن کیا جائے جو نہ (صرف) مشرقی ہو، نہ (صرف) مغربی، ایسا لگتا ہو کہ اس کا تیل خود ہی روشنی دے دے گا۔ چاہے اسے آگ نہ بھی لگے، نور بالائے نور، اللہ اپنے نور تک جسے چاہتا ہے، پہنچا دیتا ہے، اور اللہ لوگوں کے فائدے کے لیے تمثیلیں بیان کرتا ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے‘‘۔
چنانچہ بعض لوگ اس طرح ہوتے ہیں کہ ان کو صرف دکھانے کی دیر ہوتی ہے۔ کیونکہ ان کے اندر اتنی صفائی ہوتی ہے کہ یہ ہو جاتا ہے۔
متن:
اور یہ فرق و تفاوت ظاہر کرتا ہے کہ عقل سے معرفت حاصل نہیں ہوتی۔ اور اس کے لئے اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے ہدایت ضروری ہے، کیونکہ بہت سارے کافروں کو انبیاء کرام علیہم السلام دعوت دیا کرتے تھے اور وہ معرفت کی کیفیت پہچانتے تھے، مگر وہ معرفت کی نعمت حاصل نہ کر سکے۔
تشریح:
جیسے عتبہ جانتا تھا۔ اسی طرح قبیلہ بنو ثقیف کا ایک شخص تھا، جو منع کرتا تھا کہ حضور کے مقابلہ میں نہ آؤ، لیکن لوگ آئے۔
متن:
پس اس سے ثابت ہو گیا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی معرفت محض اس کی ہدایت سے حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا: "عَرَفْتُ اللّٰہَ بِاللّٰہِ وَعَرَفْنَا مَا دُوْنَ اللّٰہِ بِنُوْرِ اللّٰہِ" (لم أجد ہذا القول) ”میں نے اللّٰہ تعالیٰ کو اللّٰہ ہی سے پہچانا، اور ما سوی اللّٰہ کو اللّٰہ تعالیٰ کے عطا کردہ نورِ ہدایت سے پہچانا“۔ جناب نوری صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی ذات پر کیا چیز دلالت کرتی ہے؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ ''اللّٰہ''۔
تشریح:
جیسے محاورہ ہے: آفتاب دلیلِ آفتاب است۔ کہ سورج سورج کے لئے دلیل ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کی مخلوق اگر ایسی ہے، تو اللّٰہ پاک خود کیسے ہوں گے۔ سورج نظر آ رہا ہو اور کوئی کہے کہ آپ کے پاس کیا دلیل ہے کہ سورج موجود ہے۔ آپ اس کو کیا کہیں گے؟ کتاب پڑھائیں گے؟ اس کو کہیں گے کہ سورج کو پہچانتے ہو؟ جانتے ہو کہ سورج کیا ہوتا ہے؟ کیسا ہوتا ہے؟ یہ سامنے دیکھو، یہ کیا ہے؟ بس کہنے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللّٰہ علیہ مدینہ منورہ میں مسجدِ نبوی میں درس دے رہے تھے، تو ایک شامی عالم ان کے پاس آئے اور ان سے حیات و ممات کے بارے میں پوچھنے لگے۔ انہوں نے سوال کیا کہ حضرت! ممات کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ حضرت نے کوئی جواب نہیں دیا۔ فرمایا: روضۂ اقدس کی طرف دیکھو۔ بس دیکھا، تو ساری چیزیں مان گئے۔ کہتے ہیں کہ بس ٹھیک ہے۔ سب کچھ ختم ہو گیا، اور کوئی بات ہی نہیں کی۔ یہی آفتاب دلیلِ آفتاب است ہے۔ اللّٰہ جل شانہ ہم سب کو ہدایت عطا فرما دے۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ