نعتیں

بیانات

حضرت سید شبیر احمد کاکا خیل (دامت برکاتہم)



بِسْمِ الله الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

عارفانہ شاعری کی مجالس

تاریخ و کلام نمبر عارفانہ شاعری سنیں یا ڈاؤنلوڈ کریں
20180116_01 اس میں گم ہو جانا وصال ہے بس
یہ فنا ہے یہی کمال ہے بس
20180116_02 نہ عشق سے ہو متاب گرچہ مجاز ہو
حقیقت واسطے یہ کارساز ہو
20180116_03 کوئی کام زیادہ لب سینے سے مؤثر نہیں سوجھا
خاموشی سے میرے دل نے کوئی بہتر نہیں سوجا
20180116_04 نظر جب تیز ہو جائے عیوب اپنے نظر آئیں
فکر ہو یہ کہ جو ہے یہ تو اب پھر ہم کدھر جائیں
20180116_05 اپنی جب جاہ پہ نظر ہو معرفت کیسی
جس میں وہ یاد ہی نہ ہو وہ عبادت کیسی
20180116_06 ابھی احساسِ الفت سے نہ دل مغرور ہو جائے
یہ منزل وہ ہے جتنی طے ہو اُتنی دور ہو جائے
20180116_07 اپنے مٹنے سے جو ملتا ہے اِس کی کیا بات ہے
دل پہ ایک آرا سا چلتا ہے اِس کی کیا بات ہے
20180116_08 بات کرنے سے بات بنتی ہے کام کرنے سے کام ہوتا ہے
یہ بھی تب ہو کام کرنے میں دیکھنا جب انتظام ہوتا ہے
20180116_09 ہم عاجلہ کی محبت کے بہت شائق ہیں
چیزیں دنیا کی نظر میں جو اتنے فائق ہیں
20180116_10 وہ نعمت ہاتھ سے جائے گی جس نعمت کو ٹھکرائے گا
تب عقل اُس کو آئے گی جب ٹھوکر ایسی کھائے گا
20180116_11 نفس کے ہاتھوں سے مجبور ہوئے جاتے ہیں
جو حقیقت ہے اِس سے دور ہوئے جاتے ہیں
20180116_12 عشق نہ ہو پاک اِسے عشق بتانا کیسے
اور ایسے عشق کے اشعار سنانا کیسے
20180116_13 نفس کے ماننے سے کہاں تھی مجھے فرصت یا رب
اس لئے ہو نہ سکی تیری اطاعت یا رب
20180116_14 اپنی دنیا میں دست بکار دل بیار اچھا ہے
واسطے اس کے خوب سمجھ دل کا سنگھار اچھا ہے
20180116_15 اک دن ملی حمام میں مٹی ایک خوشبودار
محبوب کے ہاتھوں سے نرم نرم مزیدار
20180116_16 کام بگڑے ہو اگر اپنی خوبیوں پہ نظر
اور سنورے ہو اگر اپنی خامیوں پہ نظر
20180116_17 اہلِ حق حق کو پھر دبائے کیوں
ایسی بات اپنے منہ پہ لائے کیوں
20180116_18 کیا حسنِ فانی ہے جمالِ یار کے سامنے
دوسروں کا پیار کیا ہے اُس کے پیار کے سامنے
20180116_19 میرے الفاظِ قلم کو اچھی آواز دیدے
فسق کا نہ ہو جو ہے روح کا وہ ساز دیدے
20180116_20 حُسن کو عشق کی آنکھوں سے دیکھ تب تجھے حُسن بھی ہمراز کرے
نہ میسر اِس کی طاقت ہے جس کو نام سے اُس کے اِسکا آغاز کرے
20180116_21 نفس کو چھید بھی نہیں دینا اِس کو سوراخ وہ بنا دے گا
ایک چنگاری بھی نہیں چھوڑنا تیرا خرمن وہ سب جلا دے گا
20180116_22 دو ہی ہیں کام کہ جس کے لئے آئے ہوئے ہیں
ایک عبادت ایک معرفت یہ بتائے ہوئے ہیں
20180116_23 عقل جب بن جائے سِرّ اور قلب روح پھر دیکھے تُو
جذب کا جو سُکر ہے اِس سے نکل آئے صحو
20180116_24 عارفانہ شاعری کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں
20180123_01 عارفانہ شاعری ایک مؤثر ذریعہ ہے سمجھانے کا
20180123_02 نہ میں رات نہ رات کا عاشق کہ کروں میں خواب کی باتیں
میں ہوں آفتاب کے ساتھ بس کروں آفتاب کی باتیں
20180123_03 فراق و وصل کی کیا بات رضائے دوست ہو طلب
تمنا غیر کی ہووے کیا ہے بات عجب
20180123_04 وصالِ یار کی چاہت میں جو تعجیل ہوئی مجھ سے
کیا الفت کا سامنے غیر کے اظہار ہوا رسوا
20180123_05 رونے سے اگر ہوتا عرفی مجھے وصال
رونا مجھے قبول تھا اس کے لئے صد سال
20180123_06 ہے عاشق و معشوق میں جو راز درمیاں
اس کی خبر کراماً کاتبین کو کہاں
20180123_07 اس میں گم ہو جانا وصال ہے بس
یہ فنا ہے یہی کمال ہے بس
20180123_08 نہ عشق سے ہو متاب گرچہ مجاز ہو
حقیقت واسطے یہ کارساز ہو
20180123_09 وہ نعمت ہاتھ سے جائے گی جس نعمت کو ٹھکرائے گا
تب عقل اُس کو آئے گی جب ٹھوکر ایسی کھائے گا
20180123_10 عشق نہ ہو پاک اِسے عشق بتانا کیسے
اور ایسے عشق کے اشعار سنانا کیسے
20180123_11 اہلِ حق حق کو پھر دبائے کیوں
ایسی بات اپنے منہ پہ لائے کیوں
20180123_12 کیا حسنِ فانی ہے جمالِ یار کے سامنے
دوسروں کا پیار کیا ہے اُس کے پیار کے سامنے
20180123_13 تصور میں خدا کے ڈوب جانا اس کا پانا ہے
اسے پانا کہاں ممکن ہے دل کو یہ بتانا ہے
20180123_14 بہر سُو جلوہ ٔ دیدار دیدم
بہر چیزے جمالِ یار دیدم
20180123_15 ذکر سے مست دل تو صورت ِعرفان ہوجائے
ہو کیا اس وقت ذات بحت جب مہمان ہوجائے
20180123_16 نفس کو چھید بھی نہیں دینا اِس کو سوراخ وہ بنا دے گا
ایک چنگاری بھی نہیں چھوڑنا تیرا خرمن وہ سب جلا دے گا
20180123_17 دو ہی ہیں کام کہ جس کے لئے آئے ہوئے ہیں
ایک عبادت ایک معرفت یہ بتائے ہوئے ہیں
20180123_18 عقل جب بن جائے سِرّ اور قلب روح پھر دیکھے تُو
جذب کا جو سُکر ہے اِس سے نکل آئے صحو
20180123_19 دل میں چینل ہے اک الہام ربانی کیلئے
دوسرا چینل ہے وساوس شیطانی کے لئے
20180130_01 راہِ حقیقت
20180130_02 برائے تربیت مسلم جواں کو ضرورت آج خانقاہوں کی ہے
خدا سے فیصلے کروانے واسطے جو نکلی دل سے ہو اُن آہوں کی ہے
20180130_03 یہ دنیائے مختصرایمان کی قیمت کیا دے
منحصر اُس پہ پے ہے اُس کو یہاں صورت کیا دے
20180130_04 چھوڑی رسم شبیری لیا موبائیل ہم نے
کھڑے کئے اس سے کتنے ہیں مسائل ہم نے
20180130_05 تیار مسجد کے لئے ہیں سر کٹانے کے لئے
کیا خوب کہ آئیں اس میں سر بھی جھکانے کے لئے
20180130_06 جو عشق میں اس کی مرمٹا وہ زندہ جاوید ہوگیا
جو نفس کے جال میں پھنس گیا وہ اپنے آپ کو کھو گیا
20180130_07 کاش جذبات اپنے قربان ہم سنت پہ کریں
عقل بنے سِر فیصلے ہم شریعت پہ کریں
20180130_08 طریق جذب سے سالک کو میسر ہو یہ حال
سر کرنا ممکن اس سے ہو جائے سلوک کے جبال
20180130_09 نفس پہ تھوڑا سا بوجھ ڈال دے تُو، اس سے تُو نفس کو ہی آرام دیدو
نفرتیں دل میں کچھ دبا لینا، خوب مخاطب کو احترام دیدو
20180130_10 ساتھ قسموں کے بعد اللہ نے ایک بات کہی
نفس کو الہام کیا فجور اور تقویٰ بھی
20180206_00 عارفانہ شاعری کی ضرورت کیوں ہے؟
20180206_01 ہم کیا احوال ہمارے کیا سراپا ہے نیاز
وہی قریب کیا جائے جو سمجھے یہ راز
20180206_02 لایعنی باتوں میں اب وقت نہ گذاریں ہم بس
جس کا فائدہ ہو صرف اس کو ہی سوچیں ہم بس
20180206_03 عشق کا نور منور کرے دل کے خانے
عقل پھر اس سے بنالے نور کے تانے بانے
20180206_04 کہاں مصنوعی چیزوں کی آسانی
کہاں قدرت کی وسعت مہربانی
20180206_05 آخری رات اس سفر کی ہے اللہ کرے یہ آخری نہیں ہو
دل کی دنیا اس سے بدل جائے یہ اثر ویسے ظاہری نہیں ہو
20180206_06 طریق جذب سے سالک کو میسر ہو یہ حال
سر کرنا ممکن اس سے ہو جائے سلوک کے جبال
20180206_07 سات قسموں کے بعد اللہ نے ایک بات کہی
نفس کو الہام کیا فجور اور تقویٰ بھی
20180206_08 کوئی دکھ جب کبھی بھی اس طرف سے آتا ہے
کتنا پیارا ہے وہ اس سے ہی جو دلواتا ہے
20180206_09 میرا فائدہ ہو آپ کا نقصان
واسطے آپ کے کیوں نہ ہوں میں پریشان
20180206_10 نفس کی جو کمزوریاں ہیں اس سے بچ
اور اس کی جو خرمستیاں ہیں اس سے بچ
20180206_11 گیر پہ گیر بدلتے جانا ، یوں حق کی راہ پہ چڑھتے جانا
راہِ حق میں کوئی مشکل آئے جب ، واسطے اس کے اسکو سہتے جانا
20180206_12 خود کو پاکوں پہ کر قیاس نہیں
پاس تیرے گر ان کا اخلاص نہیں
20180206_13 گو پھول پھل بہت ہیں مگر دل کی آنکھ سے دیکھ
کچھ بھی نہیں رہے گا نہ یہ دشت اور نہ چمن
20180206_14 دلِ مجذوب کے جذبے کی رسائی جو ہے
درست پر آرام سے نہ بیٹھے یہ ناکافی جو ہے
20180206_15 تدبیر سے تقدیر بدلتا نہیں مگر
پر ہم پہ ہے واجب کہ ہو تدبیر پہ بھی نظر
20180206_16 شکر اس پر کہ ہے انسان بنایا مجھ کو
اور پھر امت میں محمد کی اٹھایا مجھ کو
20180206_17 مجاز کے عشق میں بے پر اڑانا
کبھی کبھی نہیں اکثر اڑانا
20180206_18 لامعبود الا اللہ ، اس سے سب کی ابتدا
لا مقصود الا اللہ ، متوسط کا نعرہ
20180206_19 یہ اچھلنا یہ کودنا یہ بزرگی تو نہیں
بزرگ سمجھنا اپنے آپ کو بندگی تو نہیں


حضرت شاہ صاحب دامت برکاتہم کا کلام، مکمل سی ڈی1 ڈونلوڈ کریں ......       Download

حضرت شاہ صاحب دامت برکاتہم کا کلام، مکمل سی ڈی2 ڈونلوڈ کریں ......       Download



عنوان صنفِ کلام آواز پلیئر
دن میں تو رات میں تو ، چاند ستاروں میں ہے تو حمد باری تعالیٰ قصور صاف
دن میں تو رات میں تو ، چاند ستاروں میں ہے تو حمد باری تعالیٰ قاری نور اللہ
ہم آلے ان کے ہاتھ میں وہ کام کراۓ جاتے ہیں حمد باری تعالیٰ مولانا جواد
ہم ہیں ٹھکرائے ہوئے حمد باری تعالیٰ مولانا جواد
یاد دل میں بسی ایسی تری حمد باری تعالیٰ قصور صاف
یاد دل میں بسی ایسی تری حمد باری تعالیٰ قاری نور اللہ
میں مدینہ بفضلِ خدا آگیا نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم قاری نور اللہ
تن من میرا اب آپ پر فدا ہو یا رسول ﷺ نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم قاری نور اللہ
دل ہے گھبرایا سا ہمت ہی نہیں نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم قاری نور اللہ
کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول کی ۔ ﷺ نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم قاری نور اللہ
اے دل ذرا خیال مدینے کا سفر ہے نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم مولانا جواد
ہے کام مشکلوں میں نعتِ رسول مشکل ۔ ﷺ نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم قصور صاف
قرب کے سارے مراحل ہیں آپ کے قدموں میں ۔ ﷺ نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سید اجمل شاہ
بلغ العلیٰ بکمالہٖ ۔ ﷺ نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سید اجمل شاہ
اپنے آقا کی تعریف کیسے کروں، اس کے کرنے کو میری زباں ہی نہیں نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم حافظ صاحب
اپنے محبوب کے محبوب کو میں یاد کروں ۔ ﷺ نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم قاری نور اللہ
اڑا دل دیکھنے کو گنبدِ خضرا مدینے میں نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم قصور صاف
امت کا درد اصل میں حبِ رسول ہے ۔ ﷺ نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم قصور صاف
چھایا ہوا فضائے مدینہ میں ادب ہے نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم قاری نور اللہ
چھایا ہوا فضائے مدینہ میں ادب ہے نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم مولانا جواد
حبیبِ خدا کا سلام اللہ اللہ ۔ ﷺ نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سید اجمل شاہ
خاتم الانبیا مصطفیٰ پر سلام ۔ ﷺ نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم قاری نور اللہ
خدا نے نعت کی توفیق بخشی آج مجھے نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم قاری نور اللہ
خوب گنبدِ خضرا کا نظارہ یہاں ملے نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سید اجمل شاہ
دل میں نقشہ سا مدینے کا ابھر جائے ہے نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم قصور صاف
دل میں نقشہ سا مدینے کا ابھر جائے ہے نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم مولانا جواد
حسن میں یکتا ہے تو عالی نسب ۔ ﷺ نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم مولانا جواد
رسول پاک کی تعریف کس زباں سے کروں ۔ ﷺ نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم مولانا جواد
سایۂ جنت مدینے کی فضاؤں کو سلام نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ؟؟؟
عجب نہیں ہے یہ وہ میرے خیالوں میں ہے نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم قصور صاف
دل میں ہو عشق رسول اور سنت پر ہو عمل ۔ ﷺ نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سید اجمل شاہ
قریب رب نے آپ کے قدموں میں پہنچا ہی دیا ۔ ﷺ نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم قاری نور اللہ
کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول کی ۔ ﷺ نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سید منصور بخاری
کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول کی ۔ ﷺ نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم قصور صاف
کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول کی ۔ ﷺ نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ؟؟؟
و صلی اللہ علیٰ نور نعت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سید اجمل شاہ
کہاں ہم اور کہاں یہ گھر خدایا سوئے حرم قاری نور اللہ
انتظار سوئے حرم سید اجمل شاہ
کہاں ہم اور کہاں یہ سوئے حرم قاری نور اللہ
الٰہی بندہ تو خالص اپنا بنانا دعائیہ کلام قاری نور اللہ
خدا کے لئے میں خدا چاہتا ہوں دعائیہ کلام سید اجمل شاہ
اپنے محبوب کی یا رب تو محبت دے دے دعائیہ کلام قصور صاف
اٹھا دیجیۓ ہاتھ دعائیہ کلام قاری نور اللہ
ذکر سے تیرے زباں میری ہمیشہ رہے تر دعائیہ کلام مولانا جواد
قلب میرا ہو سلیم ایسا بنا نا مجھ کو دعائیہ کلام قصور صاف
قلب میرا ہو سلیم دعائیہ کلام قاری نور اللہ
کاش میں ایسا رہوں اس کےلئے زندہ رہوں دعائیہ کلام مولانا جواد
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دیں دعائیہ کلام قصور صاف
نہ آہ چاہتا ہوں نہ واہ چاہتا ہوں دعائیہ کلام قصور صاف
نہ تسخیر ارض و سما چاہیۓ دعائیہ کلام مولانا جواد
نہ تسخیر و ارض و سما چاہیئے دعائیہ کلام سید اجمل شاہ
بس وہی چاہیے جامِ عشق سید اجمل شاہ
اس پہ واروں میں زندگی جامِ عشق قصور صاف
اس کا بنے اگر نہیں تو کیا کرے جامِ عشق قصور صاف
اس کے وعدوں پہ یقین کرتے ہوۓ جامِ عشق قصور صاف
اس کے وعدوں پہ یقین کرتے ہوۓ جامِ عشق مولانا جواد
اف کیا خوب نظارہ ہوگا جامِ عشق قصور صاف
میں عشق کے پیغام پہ معمور ہوا ہوں جامِ عشق قصور صاف
ان کی نظروں کی جب جامِ عشق قصور صاف
ایسا حاضر ان کی دربار میں ہو جامِ عشق قصور صاف
پگھلنا ہے مقدر میں جامِ عشق مولانا جواد
پگھلنا ہے مقدر میں جامِ عشق قصور صاف
ترا بن جاؤں میں اور تو مرا یہ چاہوں جامِ عشق مولانا جواد
جاتی نہیں ہے میرے دل کی تشنگی جامِ عشق مولانا جواد
وہ دانا ہے جو تیرا دیوانہ بن جائے جامِ عشق سید اجمل شاہ
سجن کی دنیا جامِ عشق سید اجمل شاہ
عشاق کے لئے ہے یہ پیغام محبت جامِ عشق مولانا جواد
عشق اک آگ ہے جس دل میں جلے جامِ عشق حافظ صاحب
عقل والوں کی رسائی جامِ عشق سید اجمل شاہ
کیسے کہوں کہ اس نے بلا یا نہیں مجھے جامِ عشق قصور صاف
کیسے کہوں کہ اس نے بلا یا نہیں مجھے جامِ عشق مولانا جواد
میں عشق کے پیغام پہ معمور ہوا ہوں جامِ عشق قاری نور اللہ
نہ ہوں منزلوں کی تلاش میں جامِ عشق حافظ صاحب
یہ ہنسنا یہ رونا خدا کے لیۓ ہو جامِ عشق قصور صاف
یہ ہنسنا یہ رونا خدا کے لیۓ ہو جامِ عشق قاری نور اللہ


عارفانہ کلام حضرت سید شبیر احمد کاکاخيل دامت برکاتہم



آواز سید عامر عثمان صاحب


نمبر شمار کلام پلیئر
1 اب منیٰ کو ہے
2 اپنے اصولِ تصوف
3 اپنے آقا کی تعریف
4 اپنے محبوب کے دربار میں
5 اپنے محبوب کی یا رب
6 اپنی عادت ہی نہیں
7 اف یاں رہنے کا
8 اک عشق کی ترتیب
9 اک عشق کی منزل
10 اک لوٹ کا سماں
11 اے دل ذرا خیال
12 اے دل کوچۂ عشق میں
13 اے دل کوئی
14 ایک رمضان کی خوشی
15 آپ بیٹھے ہوئے ہونگے اور
16 آخری عشرۂ رمضاں
17 بارش ہے رحمتوں کی
18 پلا ساقی ہم کو
19 پھر پیش کروں
20 پیار کے رستے کا
21 تجھے پتہ ہے
22 تعلق میں خدا کی
23 تیرا احسان الہٰی
24 جان لے جان ہی سے
25 جذب سے رو بہ
26 جذب سے وہ
27 جس نے دیا ہے جام مجھے
28 جمعہ کی رات ہے
29 جو بات ہو سچی
30 جو نہ چاہے تو
31 چاہتے گر کامیابی ہو
32 چلنے والے ہیں ہم مدینے سے
33 حسن حسنِ ازل کا ہے
34 حیرت ہے نفس کی ا صلاح سے
35 خاتم الانبیاء
36 خدا کرے کوئی ایسا
37 خلق میں اشرف
38 در دولت پہ اس کے
39 در مزارِ رومی
40 دل اس کی محبت میں
41 دل تو اب تیرا ہی
42 دل سے مشغول میں
43 دل کی دنیا کا کوئی
44 دل مرا حسن کا دیوانہ
45 دل میں شوق ابھرا جو
46 دن میں تو رات میں تو
47 دو گے کیا اس کو
48 دوہی ہیں کام
49 دین میں آسانی ہی آسانی ہے
50 دین و دنیا کا ہو بھلا کیسے
51 ربیع الاول
52 رسول پاک کی تعریف
53 روزے چاہے کہ تو
54 زباں میٹھی سی ہوتی ہے
55 زور ایمان کا کسی طرح
56 سرورِ عشق سے مسرور
57 سفید بال ہوئے جاتے ہیں
58 شب برات
59 شرابِ عشق سے بھرپور
60 شروع اب ہوا ہے
61 طفیل کعبہ الہٰی
62 طواف کیا ہے
63 عشق قرآن سے کرو
64 عشق کی دنیا کی
65 عشق میں زور ہو
66 غزل کی دنیا میں
67 فطرت کے نظاروں میں
68 قلم قریب ہو
69 کاش کعبہ کی حقیقت
70 کتنی بڑی نعمت ہے
71 کس طرح دل کو پیش کردوں
72 کسی کے قلب و جگر کا
73 کلامِ الہٰی
74 کلام ربی
75 کہاں کم مایا شبیر اور
76 کیا خوب مزیدار
77 گرمیٔ عشق سے
78 گزرے بھلی اک بار ہی
79 لیلۃ القدر
80 مدینہ کو میں الوداع
81 مرے اشعار سے کوئی
82 مشاہدہ مشاہدہ
83 ملے دنیا کتنی اس سے
84 میں بکھربکھر کے سمٹ گیا
85 میں تلاوت اگر قرآن کی
86 میں کہاں؟ یہ کہاں؟
87 نظریں گستاخ اٹھ سکیں نہ
88 نعمتیں جو بھی ملیں
89 نفس کو کہنا
90 نفس کی اصلاح کا
91 نفس نہ چاہے
92 نمی دانم چہ منزل بود
93 نورِ تقویٰ
94 نورِرمضاں
95 ہوئے نصیب کسی کو
96 ہے قرب کعبے کا
97 ہیں حرم کے واسطے
98 وقت آرام کا نہیں ہے
99 یاالہی تو اپنا شوقِ ملاقات
100 یہ چھوٹے چھوٹے مقناطیس


عارفانہ کلام حضرت سید شبیر احمد کاکاخيل دامت برکاتہم



آواز حافظ صاحب


نمبر شمار کلام پلیئر
1 آپ بیٹھے ہوئے ہونگے اور
2 اپنے آقا کی تعریف
3 اڑا دل دیکھنے کو
4 پیر کے دن
5 تجھ پر فدا ہو جاں مری
6 تجھ کو کیا معلوم
7 تجھے پتہ ہے کہاں ہے جانا
8 تصوف کے سلسلے
9 تیرھویں ذی الحج کو منیٰ میں ٹھہرنا
10 تیرھویں کی رمی
11 ٹھیک
12 جائے نظر
13 جان لو یہ فقط اشعار نہیں
14 جنجال
15 جہد کن در بیخودی
16 جو کہ مجذوب متمکن تھے
17 چشتی سلسلہ کی غزل
18 داستان بے بسی
19 دل بیتاب سنبھلتا ہی نہیں
20 دل سے دیکھا اسے
21 دل مبتلائے یار کو
22 ذکر کرنا
23 ربیع الاول
24 زخمی پاؤں سے حج
25 سہروردی نسبت کی غزل
26 شیخ کامل
27 طلبِ محبت
28 طواف زیارت
29 عشق آگ ہے
30 عقل اور جذبات
31 فنا فی الرسول
32 فنا فی الشیخ
33 قادری نسبت کی غزل ھو
34 قربانی
35 کمال عشق
36 کمال یہ ہے
37 کیا حد ہے تباہی
38 کیا سے کیا ہوگیا
39 کیسے کہوں کہ اس نے
40 مجذوب
41 مزدلفہ روانگی
42 مقامِ توبہ
43 منٰی میں قیام اور رمی جمار
44 میں تھکن سے گو کہ ہوں
45 نبی کی اِتباع میں
46 نقشبندی نسبت کی غزل
47 نہ ہوں منزلوں کی تلاش میں
48 ہم فکر آگہی سے
49 ہیں حرم کے واسطے


عارفانہ کلام حضرت سید شبیر احمد کاکاخيل دامت برکاتہم



آواز مولانا افتخار الحسن صاحب


نمبر شمار کلام پلیئر
1 اب تیرے بھروسے پہ
2 اپنے محبوب کی یا رب
3 اپنے محبوب کی یا رب ۔ نعت فیصل آباد
4 تکالیف یہاں کوئی کتنی اٹھائے
5 حاضر ترے قدموں میں
6 خدا کے لئے ہو
7 ذکر ایسا ہو کہ
8 قلب میرا ہو سلیم
9 قلب میرا ہو سلیم 2
10 یاد دل میں بسی
11 یاد دل میں بسی ۔ حمد فیصل آباد
12 یہ مناظر یہ آوازیں